Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الأَغَرِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الآخِرُ فَيَقُولُ مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ " .
Narrated Abu Hurairah:The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: Our Lord who is blessed and exalted descends every night to the lowest heaven when the last one-third of the night remains, and says: Who supplicated Me so that I may answer him ? Who asks of Me so that I may give to him ? Who asks My forgiveness so that I may forgive him ?
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارا رب ہر رات جس وقت رات کا آخری ایک تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے، آسمان دنیا پر اترتا ہے ۱؎، پھر فرماتا ہے: کون مجھ سے دعا کرتا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں؟ کون مجھ سے مانگتا ہے کہ میں اسے دوں؟ کون مجھ سے مغفرت طلب کرتا ہے کہ میں اس کی مغفرت کر دوں؟ ۔
Narrated by Fudalah ibn Ubayd,
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ، حُمَيْدُ بْنُ هَانِئٍ أَنَّ أَبَا عَلِيٍّ، عَمْرَو بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ، صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً يَدْعُو فِي صَلاَتِهِ لَمْ يُمَجِّدِ اللَّهَ تَعَالَى وَلَمْ يُصَلِّ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " عَجِلَ هَذَا " . ثُمَّ دَعَاهُ فَقَالَ لَهُ أَوْ لِغَيْرِهِ " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَأْ بِتَحْمِيدِ رَبِّهِ جَلَّ وَعَزَّ وَالثَّنَاءِ عَلَيْهِ ثُمَّ يُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ يَدْعُو بَعْدُ بِمَا شَاءَ " .
Narrated Fudalah ibn Ubayd,: The Messenger of Allah (ﷺ) heard a person supplicating during prayer. He did not mention the greatness of Allah, nor did he invoke blessings on the Prophet (ﷺ). The Messenger of Allah (ﷺ) said: He made haste. He then called him and said either to him or to any other person: If any of you prays, he should mention the exaltation of his Lord in the beginning and praise Him; he should then invoke blessings on the Prophet (ﷺ); thereafter he should supplicate Allah for anything he wishes
صحابی رسول فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز میں دعا کرتے سنا، اس نے نہ تو اللہ تعالیٰ کی بزرگی بیان کی اور نہ ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود ( نماز ) بھیجا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص نے جلد بازی سے کام لیا ، پھر اسے بلایا اور اس سے یا کسی اور سے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو پہلے اپنے رب کی حمد و ثنا بیان کرے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود ( نماز ) بھیجے، اس کے بعد جو چاہے دعا مانگے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ وَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ثَعْلَبَةَ قَالَ ابْنُ صَالِحٍ قَالَ الْعَدَوِيُّ وَإِنَّمَا هُوَ الْعُذْرِيُّ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم النَّاسَ قَبْلَ الْفِطْرِ بِيَوْمَيْنِ بِمَعْنَى حَدِيثِ الْمُقْرِئِ .
Abd Allah b. Tha’labah said (the narrator Ahmad b. salih said :He, i.e “Abd al-Razzaq, said : He is ‘Adawl. Abu Dawud said : Ahmed b. Salih said : He is ‘Adhri): The Messenger of Allah (May peace be upon him) delivered a speech before the closing fast (‘Id) by two days. He then transmitted the tradition like that of al Muqri (‘Abd Allah b. Yazid)
عبدالرزاق کہتے ہیں ابن جریج نے ہمیں خبر دی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ابن شہاب نے اپنی روایت میں عبداللہ بن ثعلبہ ( جزم کے ساتھ بغیر شک کے ) کہا ۱؎۔ احمد بن صالح کہتے ہیں کہ عبدالرزاق نے عبداللہ بن ثعلبہ کے تعلق سے کہا ہے کہ وہ عدوی ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ احمد بن صالح نے عبداللہ صالح کو عذری کہا ہے ۲؎، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دو دن پہلے لوگوں کو خطبہ دیا، یہ خطبہ مقری ( عبداللہ بن یزید ) کی روایت کے مفہوم پر مشتمل تھا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، قَالَ دَخَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى عَائِشَةَ بِبَعْضِ هَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ عِنْدَ قَوْلِهِ " وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ " . " ثُمَّ حُجِّي وَاصْنَعِي مَا يَصْنَعُ الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لاَ تَطُوفِي بِالْبَيْتِ وَلاَ تُصَلِّي " .
The aforesaid tradition has also been transmitted by Jabir through a different chain of narrators. This version has The Prophet(ﷺ) said “Raise your voice in talbiyah for Hajj and then perform Hajj, and do so all the pilgrims do, except that you should not circumambulate the Hose(the Ka’bah) and should not pray
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے آگے اسی قصہ کا کچھ حصہ مروی ہے، اس میں ہے کہ اپنے قول «وأهلي بالحج» یعنی حج کا احرام باندھ لو کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر حج کرو اور وہ تمام کام کرو جو ایک حاجی کرتا ہے البتہ تم بیت اللہ کا طواف نہ کرنا اور نماز نہ پڑھنا ۔
Narrated by Sahl b. Sa'd al-Sa'idi
حَدَّثَنِي الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ وَهَبْتُ نَفْسِي لَكَ . فَقَامَتْ قِيَامًا طَوِيلاً فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ زَوِّجْنِيهَا إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَىْءٍ تُصْدِقُهَا إِيَّاهُ " . فَقَالَ مَا عِنْدِي إِلاَّ إِزَارِي هَذَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّكَ إِنْ أَعْطَيْتَهَا إِزَارَكَ جَلَسْتَ وَلاَ إِزَارَ لَكَ فَالْتَمِسْ شَيْئًا " . قَالَ لاَ أَجِدُ شَيْئًا . قَالَ " فَالْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ " . فَالْتَمَسَ فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَهَلْ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَىْءٌ " . قَالَ نَعَمْ سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا . لِسُوَرٍ سَمَّاهَا . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قَدْ زَوَّجْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ " .
Narrated Sahl b. Sa'd al-Sa'idi :A woman came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: Messenger of Allah, I have offered myself to you. When she stood for a long time, a man got up and said: Messenger of Allah, marry her to me if you have no need for her. The Messenger of Allah (ﷺ) asked: Have you anything to give her as dower ? He replied: I have nothing by this lower garment of mine. The Messenger of Allah (ﷺ) said: If you give your lower garment, you will sit while you have no lower garment. So look for something else. He said: I do not find anything. He said: Look for something, even though it should be an iron ring. The man sought it but found nothing. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Do you know anything from the Qur'an ? He said: Yes, I know surah so and so, which he named. The Messenger of Allah (ﷺ) said: I have given you her in marriage for the part of the Qur'an which you know
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک عورت حاضر ہوئی اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اپنے آپ کو آپ کے لیے ہبہ کر دیا ہے، پھر وہ کافی دیر کھڑی رہی ( اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا ) تو ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! اگر آپ کو حاجت نہیں تو اس سے میرا نکاح کرا دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس اسے مہر میں ادا کرنے کے لیے کچھ ہے؟ وہ بولا: میرے اس تہبند کے علاوہ میرے پاس کچھ بھی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اپنا ازار اسے ( مہر میں ) دے دو گے تو تمہارے پاس تو ازار بھی نہیں رہے گا، لہٰذا کوئی اور چیز تلاش کرو ، وہ بولا: اور تو کچھ بھی نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تلاش کرو چاہے لوہے کی انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو ، تو اس نے تلاش کیا لیکن اسے کچھ نہ ملا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تجھے کچھ قرآن یاد ہے؟ کہنے لگا: ہاں فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں، ان کا نام لے کر اس نے بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: جو کچھ تجھے قرآن یاد ہے اسی کے ( یاد کرانے کے ) بدلے میں نے اس کے ساتھ تیرا نکاح کر دیا ۱؎ ۔
Narrated by Abdullah ibn Abbas
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ، ح وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - الْمَعْنَى - كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ رَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ابْنَتَهُ زَيْنَبَ عَلَى أَبِي الْعَاصِي بِالنِّكَاحِ الأَوَّلِ لَمْ يُحْدِثْ شَيْئًا . قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو فِي حَدِيثِهِ بَعْدَ سِتِّ سِنِينَ وَقَالَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ بَعْدَ سَنَتَيْنِ .
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Messenger of Allah (ﷺ) restored his daughter Zaynab to Abul'As on the basis of the previous marriage, and he did not do anything afresh. Muhammad b. 'Amr said in his version: After six years. Al-Hasan b. 'Ali said: After two years
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی زینب رضی اللہ عنہا کو ابوالعاص کے پاس پہلے نکاح پر واپس بھیج دیا اور نئے سرے سے کوئی نکاح نہیں پڑھایا۔ محمد بن عمرو کی روایت میں ہے چھ سال کے بعد ایسا کیا اور حسن بن علی نے کہا: دو سال کے بعد
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي مُعَاذٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ كَانَ يَكْتَحِلُ وَهُوَ صَائِمٌ .
Ubaid Allah b. Abu Bakr b. Anas reported on the authority of Anas b. Malik that he used to apply collyrium when he was fasting
عبیداللہ بن ابی بکر بن انس کہتے ہیں کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سرمہ لگاتے تھے اور روزے سے ہوتے تھے۔
Narrated by Utbah ibn AbdusSulami
حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ، عَنِ الْهَيْثَمِ بْنِ حُمَيْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا خُشَيْشُ بْنُ أَصْرَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، جَمِيعًا عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ نَصْرٍ الْكِنَانِيِّ، عَنْ رَجُلٍوَقَالَ أَبُو تَوْبَةَ : عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ شَيْخٍ، مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ، - وَهَذَا لَفْظُهُ - أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ : " لاَ تَقُصُّوا نَوَاصِيَ الْخَيْلِ وَلاَ مَعَارِفَهَا وَلاَ أَذْنَابَهَا، فَإِنَّ أَذْنَابَهَا مَذَابُّهَا، وَمَعَارِفَهَا دِفَاؤُهَا، وَنَوَاصِيهَا مَعْقُودٌ فِيهَا الْخَيْرُ " .
Narrated Utbah ibn AbdusSulami: Utbah heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Do not cut the forelocks, manes, or tails of horse, for their tails are their means of driving flies, their manes provide them with warmth, and blessing is tide to their forelocks
عتبہ بن عبدسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: گھوڑوں کی پیشانی کے بال نہ کاٹو، اور نہ ایال یعنی گردن کے بال کاٹو، اور نہ دم کے بال کاٹو، اس لیے کہ ان کے دم ان کے لیے مورچھل ہیں، اور ان کے ایال ( گردن کے بال ) گرمی حاصل کرنے کے لیے ہیں اور ان کی پیشانی میں خیر بندھا ہوا ہے ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْوَاحِدِ - عَنْ سَعِيدٍ، - يَعْنِي ابْنَ بَشِيرٍ - عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا غَزَا كَانَ لَهُ سَهْمٌ صَافٍ يَأْخُذُهُ مِنْ حَيْثُ شَاءَهُ فَكَانَتْ صَفِيَّةُ مِنْ ذَلِكَ السَّهْمِ وَكَانَ إِذَا لَمْ يَغْزُ بِنَفْسِهِ ضُرِبَ لَهُ بِسَهْمِهِ وَلَمْ يُخَيَّرْ .
Qatadah said “When the Apostle of Allaah(ﷺ) participated in battle there was for him a special portion which he took from where he desired. Safiyyah was from that portion. But when he did not participate himself in his battle, a portion was taken out for him, but he had no choice.”
قتادہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب خود لڑائی میں شریک ہوتے تو ایک حصہ چھانٹ کر جہاں سے چاہتے لے لیتے، ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا ( جو جنگ خیبر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملیں ) اسی حصے میں سے آئیں اور جب آپ لڑائی میں شریک نہ ہوتے تو ایک حصہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے لگایا جاتا اور اس میں آپ کو انتخاب کا اختیار نہ ہوتا کہ جو چاہیں چھانٹ کر لے لیں۔
Narrated by Ali ibn AbuTalib
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ هَاشِمٍ أَبُو مَالِكٍ الْجَنْبِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ لاَ تَغَالِ لِي فِي كَفَنٍ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ تَغَالَوْا فِي الْكَفَنِ فَإِنَّهُ يُسْلَبُهُ سَلْبًا سَرِيعًا " .
Narrated Ali ibn AbuTalib: Do not be extravagant in shrouding, for I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Do not be extravagant in shrouding, for it will be quickly decayed
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کفن میں میرے لیے قیمتی کپڑا استعمال نہ کرنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ فرما رہے تھے: کفن میں غلو نہ کرو کیونکہ جلد ہی وہ اس سے چھین لیا جائے گا ۔
Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، : أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ، اسْتَفْتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ : إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا نَذْرٌ لَمْ تَقْضِهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اقْضِهِ عَنْهَا " .
Narrated Ibn 'Abbas:Sa'd b. 'Ubadah asked the Messenger of Allah (ﷺ): My Mother has died and she could not fulfill her vow which she had taken. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Fulfill it on her behalf
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا اور کہا کہ میری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے اور ان کے ذمہ ایک نذر تھی جسے وہ پوری نہ کر سکیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان کی جانب سے پوری کر دو ۔
Narrated by Sa'd
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِكْرِمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَبِيبَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ كُنَّا نُكْرِي الأَرْضَ بِمَا عَلَى السَّوَاقِي مِنَ الزَّرْعِ وَمَا سَعِدَ بِالْمَاءِ مِنْهَا فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ وَأَمَرَنَا أَنْ نُكْرِيَهَا بِذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ .
Narrated Sa'd: We used to lease land for what grew by the streamlets and for what was watered from them. The Messenger of Allah (ﷺ) forbade us to do that, and commanded us to lease if for gold or silver
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم زمین کو کرایہ پر کھیتی کی نالیوں اور سہولت سے پانی پہنچنے والی جگہوں کی پیداوار کے بدلے دیا کرتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرما دیا اور سونے چاندی ( سکوں ) کے بدلے میں دینے کا حکم دیا۔
Narrated by Abu Mas'ud
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَمَهْرِ الْبَغِيِّ وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ .
Narrated Abu Mas'ud:The Prophet (ﷺ) forbade the price paid for a dog, the hire paid to prostitute, and the gift given to a soothsayer
ابومسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت، زانیہ عورت کی کمائی اور کاہن کی کمائی سے منع فرمایا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ، مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ، مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ يُحَدِّثُ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، أَنَّهُ كَانَتْ لَهُ عَضُدٌ مِنْ نَخْلٍ فِي حَائِطِ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ قَالَ وَمَعَ الرَّجُلِ أَهْلُهُ قَالَ فَكَانَ سَمُرَةُ يَدْخُلُ إِلَى نَخْلِهِ فَيَتَأَذَّى بِهِ وَيَشُقُّ عَلَيْهِ فَطَلَبَ إِلَيْهِ أَنْ يَبِيعَهُ فَأَبَى فَطَلَبَ إِلَيْهِ أَنْ يُنَاقِلَهُ فَأَبَى فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَطَلَبَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَبِيعَهُ فَأَبَى فَطَلَبَ إِلَيْهِ أَنْ يُنَاقِلَهُ فَأَبَى . قَالَ " فَهَبْهُ لَهُ وَلَكَ كَذَا وَكَذَا " . أَمْرًا رَغَّبَهُ فِيهِ فَأَبَى فَقَالَ " أَنْتَ مُضَارٌّ " . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِلأَنْصَارِيِّ " اذْهَبْ فَاقْلَعْ نَخْلَهُ " .
Abu Ja'far Muhammad bin 'Ali reported from Samurah ibn Jundub that he had a row of palm-trees in the garden of a man of the Ansar. The man had his family with him. Samurah used to visit his palm-trees, and the man was annoyed by that and felt it keenly. So he asked him (Samurah) to sell them to him, but he refused. He then asked him to take something else in exchange, but he refused. So he came to the Holy Prophet (ﷺ) and mentioned it to him. The Holy Prophet (ﷺ) asked him to sell it to him, but he refused. He asked him to take something else in exchange, but he refused. He then said:Give it to him and you can have such and such, mentioning something with which he tried to please him, but he refused. He then said: You are a nuisance. The Messenger of Allah (ﷺ) then said to the Ansari: Go and uproot his palm-trees
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک انصاری کے باغ میں ان کے کھجور کے کچھ چھوٹے چھوٹے درخت تھے، اور اس شخص کے ساتھ اس کے اہل و عیال بھی رہتے تھے۔ راوی کا بیان ہے کہ سمرہ رضی اللہ عنہ جب اپنے درختوں کے لیے جاتے تو انصاری کو تکلیف ہوتی اور ان پر شاق گزرتا اس لیے انصاری نے ان سے اسے فروخت کر دینے کا مطالبہ کیا، لیکن انہوں نے انکار کر دیا، پھر اس نے ان سے یہ گزارش کی کہ وہ درخت کا تبادلہ کر لیں وہ اس پر بھی راضی نہیں ہوئے تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے آپ سے اس واقعہ کو بیان کیا، تو آپ نے بھی ان سے فرمایا: اسے بیچ ڈالو پھر بھی وہ نہ مانے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے درخت کے تبادلہ کی پیش کش کی لیکن وہ اپنی بات پر اڑے رہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تم اسے ہبہ کر دو، اس کے عوض فلاں فلاں چیزیں لے لو بہت رغبت دلائی مگر وہ نہ مانے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم «مضار» یعنی ایذا دینے والے ہو تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاری سے فرمایا: جاؤ ان کے درختوں کو اکھیڑ ڈالو ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَسْقَى فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ أَلاَ نَسْقِيكَ نَبِيذًا قَالَ " بَلَى " . قَالَ فَخَرَجَ الرَّجُلُ يَشْتَدُّ فَجَاءَ بِقَدَحٍ فِيهِ نَبِيذٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَلاَّ خَمَّرْتَهُ وَلَوْ أَنْ تَعْرِضَ عَلَيْهِ عُودًا " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ الأَصْمَعِيُّ تَعْرُضُهُ عَلَيْهِ .
Jabir said:We were with Prophet (ﷺ) and he asked for something to drink. A man from the company asked: Should we not give you nabidh (drink made from dates) to drink ? He replied : Yes . The man went quickly and bought a cup of nabidh. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Why did you not cover it up even by putting a piece of wood on it ? Abu Dawud said: Al-Asma'i's version has: "You put it on it
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے آپ نے پانی طلب کیا تو قوم میں سے ایک شخص نے عرض کیا: کیا ہم آپ کو نبیذ نہ پلا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ( کوئی مضائقہ نہیں ) تو وہ نکلا اور دوڑ کر ایک پیالہ نبیذ لے آیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے اسے ڈھک کیوں نہیں لیا؟ ایک لکڑی ہی سے سہی جو اس کے عرض ( چوڑان ) میں رکھ لیتا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اصمعی نے کہا: «تعرضه عليه» یعنی تو اسے اس پر چوڑان میں رکھ لیتا۔
Narrated by Jabir ibn Abdullah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الضَّبُعِ فَقَالَ " هُوَ صَيْدٌ وَيُجْعَلُ فِيهِ كَبْشٌ إِذَا صَادَهُ الْمُحْرِمُ " .
Narrated Jabir ibn Abdullah: I asked the Messenger of Allah (ﷺ) about the hyena. He replied: It is game, and if one who is wearing ihram (pilgrim's robe) hunts it, he should give a sheep as atonement
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لکڑبگھا ( لگڑ بگڑ ) ۱؎ کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: وہ شکار ہے اور جب محرم اس کا شکار کرے تو اسے ایک دنبے کا دم دینا پڑے گا
Narrated by Ibn 'Umar
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلاَءَ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنَّ أَحَدَ جَانِبَىْ إِزَارِي يَسْتَرْخِي إِنِّي لأَتَعَاهَدُ ذَلِكَ مِنْهُ . قَالَ " لَسْتَ مِمَّنْ يَفْعَلُهُ خُيَلاَءَ " .
Narrated Ibn 'Umar:The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: If anyone trails his garment arrogantly, Allah will not look at him on the Day of Resurrection. Then Abu Bakr said: One of the sides of my lower garment trails, but still I remain careful about it. He said: You are not one of those who do so conceitedly
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی غرور اور تکبر سے اپنا کپڑا گھسیٹے گا تو اللہ اسے قیامت کے دن نہیں دیکھے گا یہ سنا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میرے تہبند کا ایک کنارہ لٹکتا رہتا ہے جب کہ میں اس کا بہت خیال رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: تم ان میں سے نہیں ہو جو غرور سے یہ کام کیا کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ، قَالاَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَسَنِ، بِإِسْنَادِ يَحْيَى وَمَعْنَاهُ قَالاَ " جَلْدُ مِائَةٍ وَالرَّجْمُ " .
A similar tradition has been transmitted by al-Hasan through a chain of Yahya and to the same effect. This version adds:They shall receive a hundred lashes and toned to death
اس طریق سے بھی حسن سے یحییٰ والی سند ہی سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں ہے ( جب غیر کنوارا مرد غیر کنواری عورت کے ساتھ زنا کرے تو ) سو کوڑے اور رجم ہے۔
Narrated by Abdullah ibn Abbas
حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الأَصَابِعُ سَوَاءٌ وَالأَسْنَانُ سَوَاءٌ الثَّنِيَّةُ وَالضِّرْسُ سَوَاءٌ هَذِهِ وَهَذِهِ سَوَاءٌ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَاهُ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ عَنْ شُعْبَةَ بِمَعْنَى عَبْدِ الصَّمَدِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَاهُ الدَّارِمِيُّ عَنِ النَّضْرِ .
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Prophet (ﷺ) said: The fingers are equal and the teeth are equal. The front tooth and the molar tooth are equal, this and that are equal. Abu Dawud said: Nadr b. Shumail transmitted it from Shu'bah to the same effect as mentioned by 'Abd al-Samad. Abu Dawud said: al-Darimi narrated it to me from al-Nadr
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انگلیاں سب برابر ہیں، دانت سب برابر ہیں، سامنے کے دانت ہوں، یا ڈاڑھ کے سب برابر ہیں، یہ بھی برابر اور وہ بھی برابر ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ - حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ سَمُرَةَ، حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، سُلَيْمَانَ بْنِ سَمُرَةَ عَنْ أَبِيهِ، سَمُرَةَ أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى ابْنِهِ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَأْمُرُنَا بِالْمَسَاجِدِ أَنْ نَصْنَعَهَا فِي دِيَارِنَا وَنُصْلِحَ صَنْعَتَهَا وَنُطَهِّرَهَا .
Samurah reported that he wrote (a letter) to his sons:After (praising Allah and blessing the Prophet) that: The Messenger of Allah (ﷺ) used to command us to build mosques in our localities and keep them well and clean
سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے بیٹے ( سلیمان ) کو لکھا: حمد و صلاۃ کے بعد معلوم ہونا چاہیئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اپنے گھروں اور محلوں میں مسجدیں بنانے اور انہیں درست اور پاک و صاف رکھنے کا حکم دیتے تھے
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، قَالَ حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَمْعَةَ، أَخْبَرَهُ بِهَذَا الْخَبَرِ، قَالَ لَمَّا سَمِعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم صَوْتَ عُمَرَ قَالَ ابْنُ زَمَعَةَ خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى أَطْلَعَ رَأْسَهُ مِنْ حُجْرَتِهِ ثُمَّ قَالَ " لاَ لاَ لاَ لِيُصَلِّ لِلنَّاسِ ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ " . يَقُولُ ذَلِكَ مُغْضَبًا .
The tradition mentioned above has also been transmitted by ‘Abd Allah b. Zam’ah through a different chain. He said:When the Prophet (May peace be upon him) heard ‘Umar’s voice, Ibn Zam’ah said: The Prophet (May peace be upon him) came out until he took out his head of his apartment. He then said : No, no, no; the son of Abu Quhafah should lead the people in prayer. He said it angrily
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے انہیں یہی بات بتائی اور کہا: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کی آواز سنی تو آپ نکلے یہاں تک کہ حجرے سے اپنا سر نکالا، پھر فرمایا: نہیں، نہیں، نہیں، ابن ابی قحافہ ( یعنی ابوبکر ) کو چاہیئے کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ غصے میں فرما رہے تھے۔
Narrated by Jabir ibn Abdullah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، قَالَ سَمِعْتُ شَيْخًا، فِي الْمَسْجِدِ يَقُولُ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ كَانَ فِي كَلاَمِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَرْتِيلٌ أَوْ تَرْسِيلٌ .
Narrated Jabir ibn Abdullah: The Messenger of Allah (ﷺ) spoke in a distinct and leisurely manner
مسعر کہتے ہیں کہ میں نے مسجد میں ایک بزرگ کو کہتے سنا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو میں ترتیل یا ترسیل ہوتی تھی یعنی آپ ٹھہر ٹھہر کر صاف صاف گفتگو کرتے۔
Narrated by AbuSa'id al-Khudri
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ، قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَتَوَضَّأُ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَةَ وَهِيَ بِئْرٌ يُطْرَحُ فِيهَا الْحِيَضُ وَلَحْمُ الْكِلاَبِ وَالنَّتْنُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْمَاءُ طَهُورٌ لاَ يُنَجِّسُهُ شَىْءٌ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ بَعْضُهُمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ رَافِعٍ .
Narrated AbuSa'id al-Khudri: The people asked the Messenger of Allah (ﷺ): Can we perform ablution out of the well of Buda'ah, which is a well into which menstrual clothes, dead dogs and stinking things were thrown? He replied: Water is pure and is not defiled by anything
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: کیا ہم بئر بضاعہ کے پانی سے وضو کر سکتے ہیں، جب کہ وہ ایسا کنواں ہے کہ اس میں حیض کے کپڑے، کتوں کے گوشت اور بدبودار چیزیں ڈالی جاتی ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی پاک ہے، اس کو کوئی چیز نجس نہیں کرتی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: کچھ لوگوں نے عبداللہ بن رافع کی جگہ عبدالرحمٰن بن رافع کہا ہے۔