بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Abu Dawood
5
23 hadith
Narrated by Aisha, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ رَجُلٍ، عِنْدَهُ رَضِيٍّ أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَا مِنِ امْرِئٍ تَكُونُ لَهُ صَلاَةٌ بِلَيْلٍ يَغْلِبُهُ عَلَيْهَا نَوْمٌ إِلاَّ كُتِبَ لَهُ أَجْرُ صَلاَتِهِ وَكَانَ نَوْمُهُ عَلَيْهِ صَدَقَةً ‏"‏ ‏.‏
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: The Prophet (ﷺ) said: Any person who offers prayer at night regularly but (on a certain night) he is dominated by sleep will be given the reward of praying. His sleep will be almsgiving
سعید بن جبیر نے ایک ایسے شخص سے جو ان کے نزدیک پسندیدہ ہے روایت کی ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص جو رات کو تہجد پڑھتا ہو اور کسی رات اس پر نیند غالب آ جائے ( اور وہ نہ اٹھ سکے ) تو اس کے لیے نماز کا ثواب لکھا جائے گا، اس کی نیند اس پر صدقہ ہو گی ۔
Narrated by Sa'd ibn AbuWaqqas
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ مِخْرَاقٍ، عَنْ أَبِي نُعَامَةَ، عَنِ ابْنٍ لِسَعْدٍ، أَنَّهُ قَالَ سَمِعَنِي أَبِي، وَأَنَا أَقُولُ اللَّهُمَّ، إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَنَعِيمَهَا وَبَهْجَتَهَا وَكَذَا وَكَذَا وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ وَسَلاَسِلِهَا وَأَغْلاَلِهَا وَكَذَا وَكَذَا فَقَالَ يَا بُنَىَّ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ سَيَكُونُ قَوْمٌ يَعْتَدُونَ فِي الدُّعَاءِ ‏"‏ ‏.‏ فَإِيَّاكَ أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ إِنْ أُعْطِيتَ الْجَنَّةَ أُعْطِيتَهَا وَمَا فِيهَا مِنَ الْخَيْرِ وَإِنْ أُعِذْتَ مِنَ النَّارِ أُعِذْتَ مِنْهَا وَمَا فِيهَا مِنَ الشَّرِّ ‏.‏
Narrated Sa'd ibn AbuWaqqas: Ibn Sa'd said: My father (Sa'd ibn AbuWaqqas) heard me say: O Allah, I ask Thee for Paradise, its blessings, its pleasure and such-and-such, and such-and-such; I seek refuge in Thee from Hell, from its chains, from its collars, and from such-and-such, and from such-and-such. He said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: There will be people who will exaggerate in supplication. You should not be one of them. If you are granted Paradise, you will be granted all what is good therein; if you are protected from Hell, you will be protected from what is evil therein
سعد رضی اللہ عنہ کے ایک بیٹے سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میرے والد نے مجھے کہتے سنا: اے اللہ! میں تجھ سے جنت کا اور اس کی نعمتوں، لذتوں اور فلاں فلاں چیزوں کا سوال کرتا ہوں اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں جہنم سے، اس کی زنجیروں سے، اس کے طوقوں سے اور فلاں فلاں بلاؤں سے، تو انہوں نے مجھ سے کہا: میرے بیٹے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: عنقریب کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو دعاؤں میں مبالغہ اور حد سے تجاوز کریں گے، لہٰذا تم بچو کہ کہیں تم بھی ان میں سے نہ ہو جاؤ جب تمہیں جنت ملے گی تو اس کی ساری نعمتیں خود ہی مل جائیں گی اور اگر تم جہنم سے بچا لیے گئے تو اس کی تمام بلاؤں سے خودبخود بچا لئے جاؤ گے ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الدَّرَابَجِرْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا بَكْرٌ، - هُوَ ابْنُ وَائِلٍ - عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَوْ قَالَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ بَكْرٍ الْكُوفِيِّ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى هُوَ بَكْرُ بْنُ وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ أَنَّ الزُّهْرِيَّ، حَدَّثَهُمْ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ صُعَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَطِيبًا فَأَمَرَ بِصَدَقَةِ الْفِطْرِ صَاعِ تَمْرٍ أَوْ صَاعِ شَعِيرٍ عَنْ كُلِّ رَأْسٍ زَادَ عَلِيٌّ فِي حَدِيثِهِ أَوْ صَاعِ بُرٍّ أَوْ قَمْحٍ بَيْنَ اثْنَيْنِ - ثُمَّ اتَّفَقَا - عَنِ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ وَالْحُرِّ وَالْعَبْدِ ‏.‏
Abd Allah bin Tha'labah ibn Su'ayr reported on the authority of his father:The Messenger of Allah (ﷺ) stood and gave a sermon; he commanded to give sadaqah, at the end of Ramadan when the fasting is closed, one sa' of dried dates or of barley payable by every person. The narrator Ali added in his version: "or one sa' of wheat to be taken from every two." Both the chains of narrators are then agreed upon the version: "payable by young and old, freeman and slave
ثعلبہ بن صعیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر میں ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو ہر شخص کی جانب سے نکالنے کا حکم دیا۔ علی بن حسین نے اپنی روایت میں «أو صاع بر أو قمح بين اثنين» کا اضافہ کیا ہے ( یعنی دو آدمیوں کی طرف سے گیہوں کا ایک صاع نکالنے کا ) ، پھر دونوں کی روایتیں متفق ہیں: چھوٹے بڑے آزاد اور غلام ہر ایک کی طرف سے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ أَقْبَلْنَا مُهِلِّينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْحَجِّ مُفْرَدًا وَأَقْبَلَتْ عَائِشَةُ مُهِلَّةً بِعُمْرَةٍ حَتَّى إِذَا كَانَتْ بِسَرِفَ عَرَكَتْ حَتَّى إِذَا قَدِمْنَا طُفْنَا بِالْكَعْبَةِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُحِلَّ مِنَّا مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْىٌ قَالَ فَقُلْنَا حِلُّ مَاذَا فَقَالَ ‏"‏ الْحِلُّ كُلُّهُ ‏"‏ ‏.‏ فَوَاقَعْنَا النِّسَاءَ وَتَطَيَّبْنَا بِالطِّيبِ وَلَبِسْنَا ثِيَابَنَا وَلَيْسَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلاَّ أَرْبَعُ لَيَالٍ ثُمَّ أَهْلَلْنَا يَوْمَ التَّرْوِيَةِ ثُمَّ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى عَائِشَةَ فَوَجَدَهَا تَبْكِي فَقَالَ ‏"‏ مَا شَأْنُكِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ شَأْنِي أَنِّي قَدْ حِضْتُ وَقَدْ حَلَّ النَّاسُ وَلَمْ أَحْلِلْ وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَالنَّاسُ يَذْهَبُونَ إِلَى الْحَجِّ الآنَ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ فَاغْتَسِلِي ثُمَّ أَهِلِّي بِالْحَجِّ ‏"‏ ‏.‏ فَفَعَلَتْ ‏.‏ وَوَقَفَتِ الْمَوَاقِفَ حَتَّى إِذَا طَهُرَتْ طَافَتْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ قَدْ حَلَلْتِ مِنْ حَجِّكِ وَعُمْرَتِكِ جَمِيعًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي أَنِّي لَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ حِينَ حَجَجْتُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَاذْهَبْ بِهَا يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَأَعْمِرْهَا مِنَ التَّنْعِيمِ ‏"‏ ‏.‏ وَذَلِكَ لَيْلَةَ الْحَصْبَةِ ‏.‏
Jabir said “We went out along with the Messenger of Allah(ﷺ) raising our voices in talbiyah for Hakk alone(Ifrad) while A’ishah raised her voice in talbiyah for an ‘Umrah. When she reached Sarif, she menstruated. When we came to (Makkah) we circumambulated the Ka’bah and ran between al Safa’ and al Marwah. The Messenger of Allah(ﷺ) then commanded us that those who had not brought sacrificial animals withthem should put off their ihram (after ‘Umrah). We asked “Which acts are lawful(and which not)? He replied All acts are lawful (that are permissible usually). We had therefore intercourse with our wives, used perfumes, put on our clothes. There remained only four days to perform Hajj at ‘Arafah. We then raised our voice in talbiyah (wearing Ihram for Hajj) on the eighth of Dhu al Hijjah. The Messenger of Allah(ﷺ) entered upon A’ishah and found her weeping. He said What is the matter with you? My problem is that I have menstruated, while the people have put on their ihram but I have not done so, nor did I go round the House(the Ka’bah). Now the people are proceeding for Hajj. He said This is a thing destined by Allah to the daughters of Adam. Take a bath, then raise your voice in talbiyah for Hajj(i.e, wear ihram for Hajj). She took a abtah and performed all the rites of the Hajj(lit. she stayed at all those places where the pilgrims stay). When she was purified, she circumambulated the House (the Ka’bah), and ran between al Safa’ and al Marwah. He (the Prophet) said “Now you have performed both your Hajj and your ‘Umrah. She said Messenger of Allah, I have some misgiving in my mind that I did not go round the Ka’bah when I performed Hajj (in the beginning). He said ‘Abd al Rahman (her brother), take her and have her perform ‘Umrah from Al Tan’im. This happened on the night of Al Hasbah(i.e., the fourteenth of Dhu Al Hijjah)
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج افراد کا احرام باندھ کر آئے، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا عمرے کا احرام باندھ کر آئیں، جب وہ مقام سرف میں پہنچیں تو انہیں حیض آ گیا یہاں تک کہ جب ہم لوگ مکہ پہنچے تو ہم نے کعبۃ اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم میں سے جن کے پاس ہدی نہ ہو وہ احرام کھول دیں، ہم نے کہا: کیا کیا چیزیں حلال ہوں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر چیز حلال ہے ، چنانچہ ہم نے عورتوں سے صحبت کی، خوشبو لگائی، اپنے کپڑے پہنے حالانکہ عرفہ میں صرف چار راتیں باقی تھیں، پھر ہم نے یوم الترویہ ( آٹھویں ذی الحجہ ) کو احرام باندھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے تو انہیں روتے پایا، پوچھا: کیا بات ہے؟ ، وہ بولیں: مجھے حیض آ گیا لوگوں نے احرام کھول دیا لیکن میں نے نہیں کھولا اور نہ میں بیت اللہ کا طواف ہی کر سکی ہوں، اب لوگ حج کے لیے جا رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ( حیض ) ایسی چیز ہے جسے اللہ نے آدم کی بیٹیوں کے لیے لکھ دیا ہے لہٰذا تم غسل کر لو پھر حج کا احرام باندھ لو ، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، اور سارے ارکان ادا کئے جب حیض سے پاک ہو گئیں تو بیت اللہ کا طواف کیا، اور صفا و مروہ کی سعی کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب تم حج اور عمرہ دونوں سے حلال ہو گئیں ، وہ بولیں: اللہ کے رسول! میرے دل میں خیال آتا ہے کہ میں بیت اللہ کا طواف ( قدوم ) نہیں کر سکی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عبدالرحمٰن! انہیں لے جاؤ، اور تنعیم سے عمرہ کرا لاؤ ، یہ واقعہ حصبہ ۱؎ کی رات کا تھا۔
Narrated by Jabir ibn Abdullah
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ جِبْرِيلَ الْبَغْدَادِيُّ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ مُسْلِمِ بْنِ رُومَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ أَعْطَى فِي صَدَاقِ امْرَأَةٍ مِلْءَ كَفَّيْهِ سَوِيقًا أَوْ تَمْرًا فَقَدِ اسْتَحَلَّ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ صَالِحِ بْنِ رُومَانَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ مَوْقُوفًا وَرَوَاهُ أَبُو عَاصِمٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ رُومَانَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كُنَّا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَسْتَمْتِعُ بِالْقُبْضَةِ مِنَ الطَّعَامِ عَلَى مَعْنَى الْمُتْعَةِ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَلَى مَعْنَى أَبِي عَاصِمٍ ‏.‏
Narrated Jabir ibn Abdullah: The Prophet (ﷺ) said: If anyone gives as a dower to his wife two handfuls of flour or dates he has made her lawful for him. AbuDawud said: This tradition has been narrated by Abdur Rahman ibn Mahdi, from Salih ibn Ruman, from Abu al-Zubayr on the authority of Jabir as his own statement (not going back to the Prophet). It has also been transmitted by AbuAsim from Salih ibn Ruman , from AbuzZubayr on the authority of Jabir who said: During the lifetime of the Messenger of Allah (ﷺ) we used to contract temporary marriage for a handful of grain. Abu Dawud said: This tradition has also been transmitted by Ibn Juraij from Abu al-Zubair on the authority of Jabir similar to the one narrated by Abu 'Asim
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی عورت کو مہر میں مٹھی بھر ستو یا کھجور دیا تو اس نے ( اس عورت کو اپنے لیے ) حلال کر لیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عبدالرحمٰن بن مہدی نے صالح بن رومان سے انہوں نے ابوزبیر سے انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے موقوفاً روایت کیا ہے اور اسے ابوعاصم نے صالح بن رومان سے، صالح نے ابو الزبیر سے، ابو الزبیر نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اس میں ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک مٹھی اناج دے کر متعہ کرتے تھے ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن جریج نے ابو الزبیر سے انہوں نے جابر سے ابوعاصم کی روایت کے ہم معنی روایت کیا ہے۔
Narrated by Abdullah ibn Abbas
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَسْلَمَتِ امْرَأَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَتَزَوَّجَتْ فَجَاءَ زَوْجُهَا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ كُنْتُ أَسْلَمْتُ وَعَلِمَتْ بِإِسْلاَمِي فَانْتَزَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ زَوْجِهَا الآخَرِ وَرَدَّهَا إِلَى زَوْجِهَا الأَوَّلِ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Abbas: A woman embraced Islam during the time of the Messenger of Allah (ﷺ); she then married. Her (former) husband then came to the Prophet (ﷺ) and said: Messenger of Allah, I have already embraced Islam, and she had the knowledge about my Islam. The Messenger of Allah (ﷺ) took her away from her latter husband and restored her to her former husband
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک عورت مسلمان ہو گئی اور اس نے نکاح بھی کر لیا، اس کے بعد اس کا شوہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میں اسلام لے آیا تھا اور اسے میرے اسلام لانے کا علم تھا چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے شوہر سے اسے چھین کر اس کے پہلے شوہر کو لوٹا دیا۔
Narrated by Ma'bad b. Hudhah
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ النُّعْمَانِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ هَوْذَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ أَمَرَ بِالإِثْمِدِ الْمُرَوَّحِ عِنْدَ النَّوْمِ وَقَالَ ‏ "‏ لِيَتَّقِهِ الصَّائِمُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ لِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ هُوَ حَدِيثٌ مُنْكَرٌ يَعْنِي حَدِيثَ الْكَحْلِ ‏.‏
Narrated Ma'bad b. Hudhah: The Prophet (ﷺ) commanded to apply collyrium mixed with musk at the time of sleep. He said: A man who is fasting should abstain from it. Abu Dawud said: Yahya b. Ma'in said to me: This tradition about the use of collyrium is munkar (i.e. contradicts the sound traditions on the subject)
معبد بن ہوذہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشک ملا ہوا سرمہ سوتے وقت لگانے کا حکم دیا اور فرمایا: روزہ دار اس سے پرہیز کرے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھ سے یحییٰ بن معین نے کہا کہ یہ یعنی سرمہ والی حدیث منکر ہے۔
Narrated by Mu'adh ibn Jabal
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ أَبُو مَرْوَانَ، وَابْنُ الْمُصَفَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنِ ابْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، يَرُدُّ إِلَى مَكْحُولٍ إِلَى مَالِكِ بْنِ يُخَامِرَ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، حَدَّثَهُمْ أَنَّهُ، سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏:‏ ‏"‏ مَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فُوَاقَ نَاقَةٍ فَقَدْ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ، وَمَنْ سَأَلَ اللَّهَ الْقَتْلَ مِنْ نَفْسِهِ صَادِقًا ثُمَّ مَاتَ أَوْ قُتِلَ فَإِنَّ لَهُ أَجْرَ شَهِيدٍ ‏"‏ ‏.‏ زَادَ ابْنُ الْمُصَفَّى مِنْ هُنَا ‏:‏ ‏"‏ وَمَنْ جُرِحَ جُرْحًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ نُكِبَ نَكْبَةً فَإِنَّهَا تَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَغْزَرِ مَا كَانَتْ، لَوْنُهَا لَوْنُ الزَّعْفَرَانِ، وَرِيحُهَا رِيحُ الْمِسْكِ، وَمَنْ خَرَجَ بِهِ خُرَاجٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَإِنَّ عَلَيْهِ طَابَعَ الشُّهَدَاءِ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Mu'adh ibn Jabal: The Messenger of Allah (ﷺ) said: If anyone fights in Allah's path as long as the time between two milkings of a she-camel, Paradise will be assured for him. If anyone sincerely asks Allah for being killed and then dies or is killed, there will be a reward of a martyr for him. Ibn al-Musaffa added from here: If anyone is wounded in Allah's path, or suffers a misfortune, it will come on the Day of resurrection as copious as possible, its colour saffron, and its odour musk; and if anyone suffers from ulcers while in Allah's path, he will have on him the stamp of the martyrs
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے اللہ کے راستہ میں اونٹنی دوہنے والے کے دو بار چھاتی پکڑنے کے درمیان کے مختصر عرصہ کے بقدر بھی جہاد کیا اس کے لیے جنت واجب ہو گئی، اور جس شخص نے اللہ سے سچے دل کے ساتھ شہادت مانگی پھر اس کا انتقال ہو گیا، یا قتل کر دیا گیا تو اس کے لیے شہید کا اجر ہے، اور جو اللہ کی راہ میں زخمی ہوا یا کوئی چوٹ پہنچایا ۱؎ گیا تو وہ زخم قیامت کے دن اس سے زیادہ کامل شکل میں ہو کر آئے گا جتنا وہ تھا، اس کا رنگ زعفران کا اور بو مشک کی ہو گی اور جسے اللہ کے راستے میں پھنسیاں ( دانے ) نکل آئیں تو اس پر شہداء کی مہر لگی ہو گی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، وَأَزْهَرُ، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، قَالَ سَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ سَهْمِ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم وَالصَّفِيِّ قَالَ كَانَ يُضْرَبُ لَهُ بِسَهْمٍ مَعَ الْمُسْلِمِينَ وَإِنْ لَمْ يَشْهَدْ وَالصَّفِيُّ يُؤْخَذُ لَهُ رَأْسٌ مِنَ الْخُمُسِ قَبْلَ كُلِّ شَىْءٍ ‏.‏
Ibn ‘Awn said “I asked Muhammad about the portion of the prophet(ﷺ) and safi. He replied “A portion was taken for him along with the Muslims, even if he did not attend (the battle) and safi (special portion) was taken from the fifth before everything.”
ابن عون کہتے ہیں میں نے محمد ( محمد ابن سیرین ) سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے اور «صفي» کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی حصہ لگایا جاتا تھا اگرچہ آپ لڑائی میں شریک نہ ہوتے اور سب سے پہلے خمس میں سے ۱؎ صفی آپ کے لیے لیا جاتا تھا۔
Narrated by Abdullah ibn Abbas
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ يَزِيدَ، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي زِيَادٍ - عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كُفِّنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي ثَلاَثَةِ أَثْوَابٍ نَجْرَانِيَّةٍ الْحُلَّةُ ثَوْبَانِ وَقَمِيصُهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ عُثْمَانُ فِي ثَلاَثَةِ أَثْوَابٍ حُلَّةٍ حَمْرَاءَ وَقَمِيصِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Messenger of Allah (ﷺ) was shrouded in three garments made in Najran: two garments and one shirt in which he died. Abu Dawud said: The narrator 'Uthman said: In three garments: two red garments and a shirt in which he died
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نجران کے بنے ہوئے تین کپڑوں میں کفن دئیے گئے، دو کپڑے ( چادر اور تہہ بند ) اور ایک وہ قمیص جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تھی ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عثمان بن ابی شیبہ کی روایت میں ہے: تین کپڑوں میں کفن دیے گئے، سرخ جوڑا ( یعنی چادر و تہہ بند ) اور ایک وہ قمیص تھی جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انتقال فرمایا تھا۔
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، - الْمَعْنَى - قَالَ حَدَّثَنَا رَوْحٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُوسُفُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، أَنَّهُ سَمِعَ حَفْصَ بْنَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَعَمْرًا، وَقَالَ، عَبَّاسٌ ‏:‏ ابْنَ حَنَّةَ أَخْبَرَاهُ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ رِجَالٍ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْخَبَرِ ‏.‏ زَادَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ وَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْحَقِّ لَوْ صَلَّيْتَ هَا هُنَا لأَجْزَأَ عَنْكَ صَلاَةً فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ ‏:‏ رَوَاهُ الأَنْصَارِيُّ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ فَقَالَ جَعْفَرُ بْنُ عَمْرٍو، وَقَالَ عَمْرُو بْنُ حَيَّةَ وَقَالَ أَخْبَرَاهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَعَنْ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
The tradition mentioned above (No.3299) has also been transmitted by Umar ibn Abd al-Rahman ibn Awf on the authority of his father and the Companions of the Prophet (ﷺ). This version has:"The Prophet (ﷺ) said: By Him Who sent Muhammad with truth, if you prayed here, this would be sufficient for you like the prayer in Jerusalem." Abu Dawud said: This tradition has also been transmitted by al-Ansari, from Ibn-Juraij. He said: Ja'far b. 'Umar and 'Amr b. Hayyah. He said: They transmitted from 'Abd al-Rahman b. 'Awf and from the Companions of the Prophet (ﷺ)
عمر بن عبدالرحمٰن بن عوف نے بعض صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی ہے لیکن اس میں اتنا اضافہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس نے محمد کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اگر تم یہاں ( یعنی مسجد الحرام میں ) نماز پڑھ لیتے تو تمہارے بیت المقدس میں نماز پڑھنے کی جگہ پر کافی ہوتا ( وہاں جانے کی ضرورت نہ رہتی ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے انصاری نے ابن جریج سے روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے حفص بن عمر کے بجائے جعفر بن عمر کہا ہے اور عمرو بن حنۃ کے بجائے عمر بن حیۃ کہا ہے: اور کہا ہے ان دونوں نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کچھ لوگوں سے روایت کیا ہے۔
Narrated by Urwah b. al-Zubair
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، - الْمَعْنَى - عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي الْوَلِيدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ أَنَا وَاللَّهِ، أَعْلَمُ بِالْحَدِيثِ مِنْهُ إِنَّمَا أَتَاهُ رَجُلاَنِ - قَالَ مُسَدَّدٌ مِنَ الأَنْصَارِ ثُمَّ اتَّفَقَا - قَدِ اقْتَتَلاَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنْ كَانَ هَذَا شَأْنَكُمْ فَلاَ تُكْرُوا الْمَزَارِعَ ‏"‏ ‏.‏ زَادَ مُسَدَّدٌ فَسَمِعَ قَوْلَهُ ‏"‏ لاَ تُكْرُوا الْمَزَارِعَ ‏"‏ ‏.‏
Narrated 'Urwah b. al-Zubair: That Zayd ibn Thabit said: May Allah forgive Rafi' ibn Khadij. I swear by Allah, I have more knowledge of Hadith than him. Two persons of the Ansar (according to the version of Musaddad) came to him who were disputing with each other. The Messenger of Allah (ﷺ) said: If this is your position, then do not lease the agricultural land. The version of Musaddad has: So he (Rafi' ibn Khadij) heard his statement: Do not lease agricultural lands
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کو معاف فرمائے قسم اللہ کی میں اس حدیث کو ان سے زیادہ جانتا ہوں ( واقعہ یہ ہے کہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس انصار کے دو آدمی آئے، پھر وہ دونوں جھگڑ بیٹھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہیں ایسے ہی ( یعنی لڑتے جھگڑتے ) رہنا ہے تو کھیتوں کو بٹائی پر نہ دیا کرو ۔ مسدد کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے آپ کی اتنی ہی بات سنی کہ زمین بٹائی پر نہ دیا کرو ( موقع و محل اور انداز گفتگو پر دھیان نہیں دیا ) ۔
Narrated by Jabir
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ زَيْدٍ الصَّنْعَانِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْهِرَّةِ ‏.‏
Narrated Jabir:The Prophet (ﷺ) forbade payment for cat
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلی کی قیمت ( لینے ) سے منع فرمایا ہے۔
Narrated by AbuSirmah
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ لُؤْلُؤَةَ، عَنْ أَبِي صِرْمَةَ، - قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ غَيْرُ قُتَيْبَةَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ عَنْ أَبِي صِرْمَةَ صَاحِبِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ مَنْ ضَارَّ أَضَرَّ اللَّهُ بِهِ وَمَنْ شَاقَّ شَاقَّ اللَّهُ عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏
Narrated AbuSirmah: The Prophet (ﷺ) said: If anyone harms (others), Allah will harm him, and if anyone shows hostility to others, Allah will show hostility to him
ابوصرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی کو تکلیف پہنچائی تو اللہ تعالیٰ اسے تکلیف پہنچائے گا، اور جس نے کسی سے دشمنی کی تو اللہ تعالیٰ اس سے دشمنی کرے گا ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَفُضَيْلُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ السُّكَّرِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ شِنْظِيرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، رَفَعَهُ قَالَ ‏"‏ وَاكْفِتُوا صِبْيَانَكُمْ عِنْدَ الْعِشَاءِ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ مُسَدَّدٌ ‏"‏ عِنْدَ الْمَسَاءِ ‏"‏ ‏"‏ فَإِنَّ لِلْجِنِّ انْتِشَارًا وَخَطْفَةً ‏"‏ ‏.‏
Jabir b.Abd Allah reported the Prophet (ﷺ) as saying:Gather your children when darkness spreads, or in the evening (according to Musaddad), for the jinn are abroad and seize them
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عشاء کے وقت اپنے بچوں کو اپنے پاس ہی رکھو ( اور مسدد کی روایت میں ہے: شام کے وقت اپنے بچوں کو اپنے پاس رکھو ) کیونکہ یہ جنوں کے پھیلنے اور ( بچوں کو ) اچک لینے کا وقت ہے ۔
Narrated by Abdullah ibn Abbas
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ صُبَيْحٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي ابْنَ شَرِيكٍ الْمَكِّيَّ - عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَأْكُلُونَ أَشْيَاءَ وَيَتْرُكُونَ أَشْيَاءَ تَقَذُّرًا فَبَعَثَ اللَّهُ تَعَالَى نَبِيَّهُ وَأَنْزَلَ كِتَابَهُ وَأَحَلَّ حَلاَلَهُ وَحَرَّمَ حَرَامَهُ فَمَا أَحَلَّ فَهُوَ حَلاَلٌ وَمَا حَرَّمَ فَهُوَ حَرَامٌ وَمَا سَكَتَ عَنْهُ فَهُوَ عَفْوٌ وَتَلاَ ‏{‏ قُلْ لاَ أَجِدُ فِيمَا أُوحِيَ إِلَىَّ مُحَرَّمًا ‏}‏ إِلَى آخِرِ الآيَةِ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Abbas: The people of pre-Islamic times used to eat some things and leave others alone, considering them unclean. Then Allah sent His Prophet (ﷺ) and sent down His Book, marking some things lawful and others unlawful; so what He made lawful is lawful, what he made unlawful is unlawful, and what he said nothing about is allowable. And he recited: "Say: I find not in the message received by me by inspiration any (meat) forbidden to be eaten by one who wishes to eat it...." up to the end of the verse
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ بعض چیزوں کو کھاتے تھے اور بعض چیزوں کو ناپسندیدہ سمجھ کر چھوڑ دیتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا، اپنی کتاب نازل کی اور حلال و حرام کو بیان فرمایا، تو جو چیز اللہ نے حلال کر دی وہ حلال ہے اور جو چیز حرام کر دی وہ حرام ہے اور جس سے سکوت فرمایا وہ معاف ہے، پھر ابن عباس نے آیت کریمہ: «قل لا أجد فيما أوحي إلى محرما» آپ کہہ دیجئیے میں اپنی طرف نازل کی گئی وحی میں حرام نہیں پاتا اخیر تک پڑھی۔
Narrated by AbuJurayy Jabir ibn Salim al-Hujaymi
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ أَبِي غِفَارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيُّ، - وَأَبُو تَمِيمَةَ اسْمُهُ طَرِيفُ بْنُ مُجَالِدٍ - عَنْ أَبِي جُرَىٍّ، جَابِرِ بْنِ سُلَيْمٍ قَالَ رَأَيْتُ رَجُلاً يَصْدُرُ النَّاسُ عَنْ رَأْيِهِ، لاَ يَقُولُ شَيْئًا إِلاَّ صَدَرُوا عَنْهُ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قُلْتُ عَلَيْكَ السَّلاَمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَرَّتَيْنِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لاَ تَقُلْ عَلَيْكَ السَّلاَمُ ‏.‏ فَإِنَّ عَلَيْكَ السَّلاَمُ تَحِيَّةُ الْمَيِّتِ قُلِ السَّلاَمُ عَلَيْكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ أَنَا رَسُولُ اللَّهِ الَّذِي إِذَا أَصَابَكَ ضُرٌّ فَدَعَوْتَهُ كَشَفَهُ عَنْكَ وَإِنْ أَصَابَكَ عَامُ سَنَةٍ فَدَعَوْتَهُ أَنْبَتَهَا لَكَ وَإِذَا كُنْتَ بِأَرْضٍ قَفْرَاءَ أَوْ فَلاَةٍ فَضَلَّتْ رَاحِلَتُكَ فَدَعَوْتَهُ رَدَّهَا عَلَيْكَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ اعْهَدْ إِلَىَّ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لاَ تَسُبَّنَّ أَحَدًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَمَا سَبَبْتُ بَعْدَهُ حُرًّا وَلاَ عَبْدًا وَلاَ بَعِيرًا وَلاَ شَاةً ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَلاَ تَحْقِرَنَّ شَيْئًا مِنَ الْمَعْرُوفِ وَأَنْ تُكَلِّمَ أَخَاكَ وَأَنْتَ مُنْبَسِطٌ إِلَيْهِ وَجْهُكَ إِنَّ ذَلِكَ مِنَ الْمَعْرُوفِ وَارْفَعْ إِزَارَكَ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ فَإِنْ أَبَيْتَ فَإِلَى الْكَعْبَيْنِ وَإِيَّاكَ وَإِسْبَالَ الإِزَارِ فَإِنَّهَا مِنَ الْمَخِيلَةِ وَإِنَّ اللَّهَ لاَ يُحِبُّ الْمَخِيلَةَ وَإِنِ امْرُؤٌ شَتَمَكَ وَعَيَّرَكَ بِمَا يَعْلَمُ فِيكَ فَلاَ تُعَيِّرْهُ بِمَا تَعْلَمُ فِيهِ فَإِنَّمَا وَبَالُ ذَلِكَ عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏
Narrated AbuJurayy Jabir ibn Salim al-Hujaymi: I saw a man whose opinion was accepted by the people, and whatever he said they submitted to it. I asked: Who is he? They said: This is the Messenger of Allah (ﷺ). I said: On you be peace, Messenger of Allah, twice. He said: Do not say "On you be peace," for "On you be peace" is a greeting for the dead, but say "Peace be upon you". I asked: You are the Messenger of Allah (may peace be upon you)? He said: I am the Messenger of Allah Whom you call when a calamity befalls you and He removes it; when you suffer from drought and you call Him, He grows food for you; and when you are in a desolate land or in a desert and your she-camel strays and you call Him, He returns it to you. I said: Give me some advice. He said: Do not abuse anyone. He said that he did not abuse a freeman, or a slave, or a camel or a sheep thenceforth. He said: Do not look down upon any good work, and when you speak to your brother, show him a cheerful face. This is a good work. Have your lower garment halfway down your shin; if you cannot do it, have it up to the ankles. Beware of trailing the lower garment, for it is conceit and Allah does not like conceit. And if a man abuses and shames you for something which he finds in you, then do not shame him for something which you find in him; he will bear the evil consequences for it
ابوجری جابر بن سلیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ لوگ اس کی رائے کو قبول کرتے ہیں جب بھی وہ کوئی بات کہتا ہے لوگ اسی کو تسلیم کرتے ہیں، میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، میں نے دو مرتبہ کہا: «عليك السلام يا رسول الله» آپ پر سلام ہو اللہ کے رسول آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «عليك السلام»نہ کہو، یہ مردوں کا سلام ہے اس کے بجائے «السلام عليك» کہو۔ میں اس اللہ کا بھیجا رسول ہوں، جس کو تمہیں کوئی ضرر لاحق ہو تو پکارو وہ تم سے اس ضرر کو دور فرما دے گا، جب تم پر کوئی قحط سالی آئے اور تم اسے پکارو تو وہ تمہارے لیے غلہ اگا دے گا، اور جب تم کسی چٹیل زمین میں ہو یا میدان پھر تمہاری اونٹنی گم ہو جائے تو اگر تم اس اللہ سے دعا کرو تو وہ اسے لے آئے گا میں نے کہا: مجھے نصیحت کیجئے آپ نے فرمایا: کسی کو بھی گالی نہ دو ۔ اس کے بعد سے میں نے کسی کو گالی نہیں دی، نہ آزاد کو، نہ غلام کو، نہ اونٹ کو، نہ بکری کو، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی بھی بھلائی کے کام کو معمولی نہ سمجھو، اور اگر تم اپنے بھائی سے خندہ پیشانی سے بات کرو گے تو یہ بھی بھلے کام میں داخل ہے، اور اپنا تہ بند نصف «ساق» ( پنڈلی ) تک اونچی رکھو، اور اگر اتنا نہ ہو سکے تو ٹخنوں تک رکھو، اور تہ بند کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانے سے بچو کیونکہ یہ غرور و تکبر کی بات ہے، اور اللہ غرور پسند نہیں کرتا، اور اگر تمہیں کوئی گالی دے اور تمہارے اس عیب سے تمہیں عار دلائے جسے وہ جانتا ہے تو تم اسے اس کے اس عیب سے عار نہ دلاؤ جسے تم جانتے ہو کیونکہ اس کا وبال اسی پر ہو گا ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ خُذُوا عَنِّي خُذُوا عَنِّي قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلاً الثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ جَلْدُ مِائَةٍ وَرَمْىٌ بِالْحِجَارَةِ وَالْبِكْرُ بِالْبِكْرِ جَلْدُ مِائَةٍ وَنَفْىُ سَنَةٍ ‏"‏ ‏.‏
‘Ubadah b. al-Samit reported the Messenger of Allah(ﷺ) as sayings:Receive my teachings, receive my teachings. Allah has appointed a way for those women. If the parties have been married, they shall receive a hundred lashes and stoned to death. If the parties are unmarried, they shall receive a hundred lashes and banished for a year
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ سے سیکھ لو، مجھ سے سیکھ لو، اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے راہ نکال دی ہے غیر کنوارہ مرد غیر کنواری عورت کے ساتھ زنا کرے تو سو کوڑے اور رجم ہے اور کنوارا مرد کنواری عورت کے ساتھ زنا کرے تو سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے ۔
Narrated by Aisha, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِبِنَاءِ الْمَسَاجِدِ فِي الدُّورِ وَأَنْ تُنَظَّفَ وَتُطَيَّبَ ‏.‏
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: The Messenger of Allah (ﷺ) commanded us to build mosques in different localities (i.e. in the locality of each tribe separately) and that they should be kept clean and be perfumed
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر اور محلہ میں مسجدیں بنانے، انہیں پاک صاف رکھنے اور خوشبو سے بسانے کا حکم دیا ہے۔
Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ هَذِهِ وَهَذِهِ سَوَاءٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ يَعْنِي الإِبْهَامَ وَالْخِنْصَرَ ‏.‏
Narrated Ibn 'Abbas:The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: This and that are equal, that is, the thumb and the little finger
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اور یہ برابر ہیں یعنی انگوٹھا اور چھنگلی ( کانی انگلی ) ۔
Narrated by Abdullah ibn Zam'ah
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ، قَالَ لَمَّا اسْتُعِزَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا عِنْدَهُ فِي نَفَرٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ دَعَاهُ بِلاَلٌ إِلَى الصَّلاَةِ فَقَالَ مُرُوا مَنْ يُصَلِّي لِلنَّاسِ ‏.‏ فَخَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَمَعَةَ فَإِذَا عُمَرُ فِي النَّاسِ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ غَائِبًا فَقُلْتُ يَا عُمَرُ قُمْ فَصَلِّ بِالنَّاسِ فَتَقَدَّمَ فَكَبَّرَ فَلَمَّا سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَوْتَهُ وَكَانَ عُمَرُ رَجُلاً مُجْهِرًا قَالَ ‏ "‏ فَأَيْنَ أَبُو بَكْرٍ يَأْبَى اللَّهُ ذَلِكَ وَالْمُسْلِمُونَ يَأْبَى اللَّهُ ذَلِكَ وَالْمُسْلِمُونَ ‏"‏ ‏.‏ فَبَعَثَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَجَاءَ بَعْدَ أَنْ صَلَّى عُمَرُ تِلْكَ الصَّلاَةَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Zam'ah: When the illness of the Messenger of Allah (ﷺ) became serious while I was with him among a group of people, Bilal called him for prayer. He said: Ask someone to lead the people in prayer. So Abdullah ibn Zam'ah went out and found that Umar was present among the people and AbuBakr was not there. I said: Umar, get up and lead the people in prayer. So he came forward and uttered "Allah is Most Great". When the Messenger of Allah (ﷺ) heard his voice, as Umar had a loud voice, he said: Where is AbuBakr? Allah does not allow that, and the Muslims too; Allah does not allow that, and the Muslims too. So he sent for AbuBakr. He came after Umar had led the people in that prayer. He then led the people in prayer
حارث بن ہشام عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری سخت ہوئی اور میں آپ ہی کے پاس مسلمانوں کی ایک جماعت کے ساتھ تھا تو بلال رضی اللہ عنہ نے آپ کو نماز کے لیے بلایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی سے کہو جو لوگوں کو نماز پڑھائے عبداللہ بن زمعہ نکلے تو دیکھا کہ لوگوں میں عمر رضی اللہ عنہ موجود ہیں، ابوبکر رضی اللہ عنہ موقع پر موجود نہ تھے، میں نے کہا: اے عمر! اٹھیے نماز پڑھائیے، تو وہ بڑھے اور انہوں نے اللہ اکبر کہا، وہ بلند آواز شخص تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کی آواز سنی تو فرمایا: ابوبکر کہاں ہیں؟ اللہ کو یہ پسند نہیں اور مسلمانوں کو بھی، اللہ کو یہ پسند نہیں اور مسلمانوں کو بھی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا، وہ عمر کے نماز پڑھا چکنے کے بعد آئے تو انہوں نے لوگوں کو ( پھر سے ) نماز پڑھائی۱؎۔
Narrated by Abdullah ibn Salam
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلاَمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا جَلَسَ يَتَحَدَّثُ يُكْثِرُ أَنْ يَرْفَعَ طَرْفَهُ إِلَى السَّمَاءِ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Salam: When the Messenger of Allah (ﷺ) sat talking (to the people), he would often raise his eyes to the sky
عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب گفتگو کرنے بیٹھتے تو آپ اکثر اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھاتے
Narrated by Abdullah b. 'Umar
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ فَإِنَّهُ لاَ يَنْجُسُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ وَقَفَهُ عَنْ عَاصِمٍ ‏.‏
Narrated 'Abdullah b. 'Umar: The Apostle of Allaah ( sal Allaahu alayhi wa sallam ) said: When there is enough water to fill two pitchers, it does not become impure. Abu Dawud said : Hammad b. Zaid has narrated this tradition on the authority of 'Asim ( without any reference to the Prophet)
جناب عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’پانی دو قلہ (مٹکوں) کے برابر ہو تو ناپاک نہیں ہوتا ۔ “ امام ابوداؤد کہتے ہیں کہ حماد بن زید نے اسے عاصم سے موقوفاً روایت کیا ہے۔