Narrated by Umar bin Al-Khattab
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ، ح وَحَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، - الْمَعْنَى - عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ، وَعُبَيْدَ اللَّهِ، أَخْبَرَاهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدٍ قَالاَ عَنِ ابْنِ وَهْبِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ نَامَ عَنْ حِزْبِهِ أَوْ عَنْ شَىْءٍ مِنْهُ فَقَرَأَهُ مَا بَيْنَ صَلاَةِ الْفَجْرِ وَصَلاَةِ الظُّهْرِ كُتِبَ لَهُ كَأَنَّمَا قَرَأَهُ مِنَ اللَّيْلِ " .
Narrated 'Umar bin Al-Khattab:The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: He who misses him daily round of recital or part of it due to sleep and he recites it between the dawn and the noon prayers, will be reckoned as if he recited it at night
عبدالرحمٰن بن عبدالقاری کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جو شخص اپنا پورا وظیفہ یا اس کا کچھ حصہ پڑھے بغیر سو جائے پھر اسے صبح اٹھ کر فجر اور ظہر کے درمیان میں پڑھ لے تو اسے اسی طرح لکھا جائے گا گویا اس نے اسے رات ہی کو پڑھا ہے ۔
Narrated by An-Nu'man ibn Bashir
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ يُسَيْعٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ { قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ } " .
Narrated An-Nu'man ibn Bashir: The Prophet (ﷺ) said: Supplication (du'a') is itself the worship. (He then recited:) "And your Lord said: Call on Me, I will answer you" (xI)
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دعا عبادت ہے ۱؎، تمہارا رب فرماتا ہے: مجھ سے دعا کرو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا ( سورۃ غافر: ۶۰ ) ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، - قَالَ مُسَدَّدٌ عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي صُعَيْرٍ، - عَنْ أَبِيهِ، - وَقَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ثَعْلَبَةَ أَوْ ثَعْلَبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي صُعَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ، - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " صَاعٌ مِنْ بُرٍّ أَوْ قَمْحٍ عَلَى كُلِّ اثْنَيْنِ صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى أَمَّا غَنِيُّكُمْ فَيُزَكِّيهِ اللَّهُ وَأَمَّا فَقِيرُكُمْ فَيَرُدُّ اللَّهُ عَلَيْهِ أَكْثَرَ مِمَّا أَعْطَاهُ " . زَادَ سُلَيْمَانُ فِي حَدِيثِهِ غَنِيٍّ أَوْ فَقِيرٍ .
Abd Allah b. Tha'labah or Tha'labah bin 'Abd Allah bin Abu Su'air reported on his father's authority that the Messenger of Allah (ﷺ) said:One sa' of wheat is to be taken from every two, young or old, freeman or slave, male or female. Those of you who are rich will be purified by Allah, and those of you who are poor will have more than they gave returned by Him to them. Sulayman added in his version: "rich or poor
عبداللہ بن ابوصعیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گیہوں کا ایک صاع ہر دو آدمیوں پر لازم ہے ( ہر ایک کی طرف سے آدھا صاع ) چھوٹے ہوں یا بڑے، آزاد ہوں یا غلام، مرد ہوں یا عورت، رہا تم میں جو غنی ہے، اللہ اسے پاک کر دے گا، اور جو فقیر ہے اللہ اسے اس سے زیادہ لوٹا دے گا، جتنا اس نے دیا ہے ۔ سلیمان نے اپنی روایت میں «غنيٍ أو فقيرٍ» کے الفاظ کا اضافہ کیا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَمَا سُقْتُ الْهَدْىَ " . قَالَ مُحَمَّدٌ أَحْسِبُهُ قَالَ " وَلَحَلَلْتُ مَعَ الَّذِينَ أَحَلُّوا مِنَ الْعُمْرَةِ " . قَالَ أَرَادَ أَنْ يَكُونَ أَمْرُ النَّاسِ وَاحِدًا .
A’ishah reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying “If I had known beforehand about my affair what I have come to know later, I would not have brought the sacrificial animals with me. The narrator Muhammad(bin Yahya) said “ I think he(’Uthman bin ‘Umar) said and I would have taken off my ihram with those who have put their ihram after performing ‘Umrah. He said “By this he intended that all the people might have performed equal rites(of Hajj)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر مجھے پہلے یہ بات معلوم ہو گئی ہوتی جواب معلوم ہوئی ہے تو میں ہدی نہ لاتا ، محمد بن یحییٰ ذہلی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اور میں ان لوگوں کے ساتھ حلال ہو جاتا جو عمرہ کے بعد حلال ہو گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ سب لوگوں کا معاملہ یکساں ہو ۱؎۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، وَحُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَى عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ وَعَلَيْهِ رَدْعُ زَعْفَرَانٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَهْيَمْ " . فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً . قَالَ " مَا أَصْدَقْتَهَا " . قَالَ وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ . قَالَ " أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ " .
Narrated Anas:The Messenger of Allah (ﷺ) saw the trace of yellow on 'Abd al-Rahman b. 'Awf. The Prophet (ﷺ) said: What is this ? He replied: Messenger of Allah, I have married a woman. He asked: How much dower did you give her ? He said: A nawat weight of gold. He said: Hold a wedding feast, even if only with a sheep
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے جسم پر زعفران کا اثر دیکھا تو پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے ایک عورت سے شادی کر لی ہے، پوچھا: اسے کتنا مہر دیا ہے؟ جواب دیا: گٹھلی ( نواۃ ۱؎ ) کے برابر سونا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ولیمہ کرو چاہے ایک بکری سے ہی کیوں نہ ہو ۲؎ ۔
Narrated by Abdullah ibn Abbas
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلاً، جَاءَ مُسْلِمًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ جَاءَتِ امْرَأَتُهُ مُسْلِمَةً بَعْدَهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا قَدْ كَانَتْ أَسْلَمَتْ مَعِي . فَرَدَّهَا عَلَيْهِ .
Narrated Abdullah ibn Abbas: A man came after embracing Islam during the time of the Messenger of Allah (ﷺ). Afterwards his wife came after embracing Islam. He said: Messenger of Allah, she embraced Islam along with me; so restore her to me
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص مسلمان ہو کر آیا پھر اس کے بعد اس کی بیوی بھی مسلمان ہو کر آ گئی، تو اس نے کہا: اللہ کے رسول! یہ میرے ساتھ ہی مسلمان ہوئی ہے تو آپ اسے میرے پاس لوٹا دیجئیے۔
Narrated by A man from the Companions
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَصْحَابِهِ عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يُفْطِرُ مَنْ قَاءَ وَلاَ مَنِ احْتَلَمَ وَلاَ مَنِ احْتَجَمَ " .
Narrated A man from the Companions: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Neither vomiting, nor emission, nor cupping breaks the fast of the one who is fasting
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے قے کی اس کا روزہ نہیں ٹوٹتا، اور نہ اس شخص کا جس کو احتلام ہو گیا، اور نہ اس شخص کا جس نے پچھنا لگایا ۔
Narrated by Sahl ibn Sa'd
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم : " ثِنْتَانِ لاَ تُرَدَّانِ، أَوْ قَلَّمَا تُرَدَّانِ : الدُّعَاءُ عِنْدَ النِّدَاءِ، وَعِنْدَ الْبَأْسِ حِينَ يُلْحِمُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا " . قَالَ مُوسَى : وَحَدَّثَنِي رِزْقُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ : وَوَقْتَ الْمَطَرِ .
Narrated Sahl ibn Sa'd: The Prophet (ﷺ) said: Two (prayers) are not rejected, or seldom rejected: Prayer at the time of the call to prayer, and (the prayer) at the time of fighting, when the people grapple with each other. Musa said: Rizq ibn Sa'id ibn AbdurRahman reported from AbuHazim on the authority of Sahl ibn Sa'd from the Prophet (ﷺ) as saying: And while it is raining
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو ( وقت کی ) دعائیں رد نہیں کی جاتیں، یا کم ہی رد کی جاتی ہیں: ایک اذان کے بعد کی دعا، دوسرے لڑائی کے وقت کی، جب دونوں لشکر ایک دوسرے سے بھڑ جائیں ۔ موسیٰ کہتے ہیں: مجھ سے رزق بن سعید بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا وہ ابوحازم سے روایت کرتے ہیں وہ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا: اور بارش کے وقت کی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، قَالَ كَانَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم سَهْمٌ يُدْعَى الصَّفِيَّ إِنْ شَاءَ عَبْدًا وَإِنْ شَاءَ أَمَةً وَإِنْ شَاءَ فَرَسًا يَخْتَارُهُ قَبْلَ الْخُمُسِ .
‘Amir Al Sha’bi said “The Prophet (ﷺ) had a special portion in the booty called safi. This would be a slave if he desired or a slave girl if he desired or a horse if he desired. He would choose it before taking out the fifth.”
عامر شعبی کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک حصہ تھا، جس کو «صفي» کہا جاتا تھا آپ اگر کوئی غلام، لونڈی یا کوئی گھوڑا لینا چاہتے تو مال غنیمت میں سے خمس سے پہلے لے لیتے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، مِثْلَهُ زَادَ مِنْ كُرْسُفٍ . قَالَ فَذُكِرَ لِعَائِشَةَ قَوْلُهُمْ فِي ثَوْبَيْنِ وَبُرْدِ حِبَرَةٍ فَقَالَتْ قَدْ أُتِيَ بِالْبُرْدِ وَلَكِنَّهُمْ رَدُّوهُ وَلَمْ يُكَفِّنُوهُ فِيهِ .
A similar tradition has been transmitted by 'Aishah through a different chain of narrators. This version adds:"of cotton". The narrator said: Aisha was told that the people said that he was shrouded in two garments and one cloak. She replied: A cloak was brought but they returned it and did not shroud him in it
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی کے ہم مثل مروی ہے البتہ اتنا زیادہ ہے کہ وہ کپڑے روئی کے تھے۔ پھر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ بات ذکر کی گئی کہ لوگوں کا کہنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کفن میں دو سفید کپڑے اور دھاری دار یمنی چادر تھی، تو انہوں نے کہا: چادر لائی گئی تھی لیکن لوگوں نے اسے لوٹا دیا تھا، اس میں آپ کو کفنایا نہیں تھا۔
Narrated by Jabir ibn Abdullah
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ أَخْبَرَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، : أَنَّ رَجُلاً، قَامَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي نَذَرْتُ لِلَّهِ إِنْ فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكَ مَكَّةَ أَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ رَكْعَتَيْنِ . قَالَ : " صَلِّ هَا هُنَا " ثُمَّ أَعَادَ عَلَيْهِ فَقَالَ : " صَلِّ هَا هُنَا " ثُمَّ أَعَادَ عَلَيْهِ فَقَالَ : " شَأْنَكَ إِذًا " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ : رُوِيَ نَحْوُهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
Narrated Jabir ibn Abdullah: A man stood on the day of Conquest (of Mecca) and said: Messenger of Allah, I have vowed to Allah that if He grants conquest of Mecca at your hands, I shall pray two rak'ahs in Jerusalem. He replied: Pray here. He repeated (his statement) to him and he said: Pray here. He again repeated (his statement) to him. He (the Prophet) replied: Pursue your own course, then. Abu Dawud said: A similar tradition has been narrated by 'Abd al-Rahman b. 'Awf from the Prophet (ﷺ)
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میں نے اللہ سے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ نے آپ کو مکہ پر فتح نصیب کیا تو میں بیت المقدس میں دو رکعت ادا کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یہیں پڑھ لو ( یعنی مسجد الحرام میں اس لیے کہ اس سے افضل ہے اور سہل تر ہے ) ، اس نے پھر وہی بات دہرائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: یہیں پڑھ لو پھر اس نے ( سہ بارہ ) وہی بات پوچھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب تمہاری مرضی ( چاہو تو یہاں پڑھ لو اور بیت المقدس جانا چاہو تو وہاں چلے جاؤ ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح سے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ مَا كُنَّا نَرَى بِالْمُزَارَعَةِ بَأْسًا حَتَّى سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْهَا . فَذَكَرْتُهُ لِطَاوُسٍ فَقَالَ قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَنْهَ عَنْهَا وَلَكِنْ قَالَ " لأَنْ يَمْنَحَ أَحَدُكُمْ أَرْضَهُ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا خَرَاجًا مَعْلُومًا " .
Amr ibn Dinar said:I heard Ibn Umar say: We did not see any harm in sharecropping till I heard Rafi' ibn Khadij say: The Messenger of Allah (ﷺ) has forbidden it. So I mentioned it to Tawus. He said: Ibn Abbas told me that the Messenger of Allah (ﷺ) had not forbidden it, but said: It is better for one of you to lend to his brother than to take a prescribed sum from him
عمرو بن دینار کہتے ہیں میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ ہم مزارعت میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے یہاں تک کہ میں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، میں نے طاؤس سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے نہیں روکا ہے بلکہ یہ فرمایا ہے کہ تم میں سے کوئی کسی کو اپنی زمین یونہی بغیر کسی معاوضہ کے دیدے تو یہ کوئی متعین محصول ( لگان ) لگا کر دینے سے بہتر ہے۔
Narrated by Jabir ibn Abdullah
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو تَوْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عِيسَى، وَقَالَ، إِبْرَاهِيمُ أَخْبَرَنَا عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَالسِّنَّوْرِ .
Narrated Jabir ibn Abdullah: The Prophet (ﷺ) forbade payment for dog and cat
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے اور بلی کی قیمت ( لینے ) سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبَةً فِي جِدَارِهِ فَلاَ يَمْنَعْهُ " . فَنَكَسُوا فَقَالَ مَا لِي أَرَاكُمْ قَدْ أَعْرَضْتُمْ لأُلْقِيَنَّهَا بَيْنَ أَكْتَافِكُمْ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَذَا حَدِيثُ ابْنِ أَبِي خَلَفٍ وَهُوَ أَتَمُّ .
Abu Hurairah reported the Holy Prophet(ﷺ) as saying:When one of you asks permission for inserting a wooden peg in his wall, he should not prevent him. So they (the people) lowered down their heads. Then he (Abu Hurairah) said: What is the matter ? I am seeing you are neglecting (to hear this tradition), I shall spread it among you. Abu Dawud said:This is the tradition of Ibn Abi Khalaf is more perfect
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے اس کی دیوار میں لکڑی گاڑنے کی اجازت طلب کرے تو وہ اسے نہ روکے یہ سن کر لوگوں نے سر جھکا لیا تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا بات ہے جو میں تمہیں اس حدیث سے اعراض کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں، میں تو اسے تمہارے شانوں کے درمیان ڈال ہی کر رہوں گا ( یعنی اسے تم سے بیان کر کے ہی چھوڑوں گا ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ابن ابی خلف کی حدیث ہے اور زیادہ کامل ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْخَبَرِ وَلَيْسَ بِتَمَامِهِ قَالَ " فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لاَ يَفْتَحُ بَابًا غَلَقًا وَلاَ يَحُلُّ وِكَاءً وَلاَ يَكْشِفُ إِنَاءً وَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ تُضْرِمُ عَلَى النَّاسِ بَيْتَهُمْ " . أَوْ " بُيُوتَهُمْ " .
Jabir b.’Abd Allah reported the Prophet (ﷺ)as saying this version is not complete ‘’for the devil does not open a shut door, or loosen a water-skin, or uncover a vessel, for a mouse sets a house on fire over its inhabitants’’
اس سند سے بھی جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی ہے لیکن یہ پوری نہیں ہے، اس میں ہے کہ شیطان کسی بند دروازے کو نہیں کھولتا، نہ کسی بندھن کو کھولتا ہے اور نہ کسی برتن کے ڈھکنے کو، اور چوہیا لوگوں کا گھر جلا دیتی ہے، یا کہا ان کے گھروں کو جلا دیتی ہے ۔
Narrated by Abdullah ibn Umar
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ الْكَلْبِيُّ أَبُو ثَوْرٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ نُمَيْلَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ فَسُئِلَ عَنْ أَكْلِ الْقُنْفُذِ، فَتَلاَ { قُلْ لاَ أَجِدُ فِيمَا أُوحِيَ إِلَىَّ مُحَرَّمًا } الآيَةَ قَالَ قَالَ شَيْخٌ عِنْدَهُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " خَبِيثَةٌ مِنَ الْخَبَائِثِ " . فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ إِنْ كَانَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هَذَا فَهُوَ كَمَا قَالَ مَا لَمْ نَدْرِ .
Narrated Abdullah ibn Umar: Numaylah said: I was with Ibn Umar. He was asked about eating hedgehog. He recited: "Say: I find not in the message received by me by inspiration any (meat) forbidden." An old man who was with him said: I heard AbuHurayrah say: It was mentioned to the Messenger of Allah (ﷺ). Noxious of the noxious. Ibn Umar said: If the Messenger of Allah (ﷺ) had said it, it is as he said that we did not know
نمیلہ کہتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھا آپ سے سیہی ۱؎ کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے یہ آیت پڑھی: «قل لا أجد فيما أوحي إلى محرما» اے نبی! آپ کہہ دیجئیے میں اسے اپنی طرف نازل کی گئی وحی میں حرام نہیں پاتا ان کے پاس موجود ایک بوڑھے شخص نے کہا: میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: وہ ناپاک جانوروں میں سے ایک ناپاک جانور ہے ۔ تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا ہے تو بیشک وہ ایسا ہی ہے جو ہمیں معلوم نہیں۔
Narrated by Aishah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ قَالَ عُرْوَةُ قَالَتْ عَائِشَةُ رضى الله عنها بَيْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ فِي بَيْتِنَا فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ قَالَ قَائِلٌ لأَبِي بَكْرٍ رضى الله عنه هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُقْبِلاً مُتَقَنِّعًا فِي سَاعَةٍ لَمْ يَكُنْ يَأْتِينَا فِيهَا فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَأْذَنَ فَأُذِنَ لَهُ فَدَخَلَ .
Narrated 'Aishah:We were seated in our house in the noonday heat. Someone said to Abu Bakr: Here is the Messenger of Allah (ﷺ) coming to us shading his head at the hour when he would not generally come. The Messenger of Allah (ﷺ) then came; he asked for permission and he gave him permission and he entered
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ہم اپنے گھر میں گرمی میں عین دوپہر کے وقت بیٹھے تھے کہ اسی دوران ایک کہنے والے نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سر ڈھانپے ایک ایسے وقت میں تشریف لا رہے ہیں جس میں آپ نہیں آیا کرتے ہیں چنانچہ آپ آئے اور اندر آنے کی اجازت مانگی ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کو اجازت دی تو آپ اندر تشریف لائے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى، - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - عَنْ شِبْلٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ السَّبِيلُ الْحَدُّ قَالَ سُفْيَانُ { فَآذُوهُمَا } الْبِكْرَانِ { فَأَمْسِكُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ } الثَّيِّبَاتِ .
Mujahid said:“Apponting a way in the verse (iv.15) means prescribed punishment. Sufiyan said: “Punish them “refers to unmarried, and “confine them to houses” refers to the women who are married
مجاہد کہتے ہیں کہ «سبیل» سے مراد حد ہے۔ سفیان کہتے ہیں: «فآذوهما» سے مراد کنوارا مرد اور کنواری عورت ہے، اور «فأمسكوهن في البيوت» سے مراد غیر کنواری عورتیں ہیں۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ مَوْضِعُ الْمَسْجِدِ حَائِطًا لِبَنِي النَّجَّارِ فِيهِ حَرْثٌ وَنَخْلٌ وَقُبُورُ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " ثَامِنُونِي بِهِ " . فَقَالُوا لاَ نَبْغِي بِهِ ثَمَنًا . فَقُطِعَ النَّخْلُ وَسُوِّيَ الْحَرْثُ وَنُبِشَ قُبُورُ الْمُشْرِكِينَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَقَالَ " فَاغْفِرْ " . مَكَانَ " فَانْصُرْ " . قَالَ مُوسَى وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بِنَحْوِهِ وَكَانَ عَبْدُ الْوَارِثِ يَقُولُ خِرَبٌ وَزَعَمَ عَبْدُ الْوَارِثِ أَنَّهُ أَفَادَ حَمَّادًا هَذَا الْحَدِيثَ .
Anas b. Malik said:The Mosque (of the Prophet) was built in the land of Banu al-Najjar which contained crops, palm trees and graves of the disbelievers. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Sell it to me for some price. They (Banu al-Najjar) replied: We do not want (any price). The palm-trees were cut off, and the crops removed and the graves of the disbelievers dug opened. He then narrated the rest of the tradition. But this version has the word "forgive" in the verse, instead of the word "help". Musa said: 'Abd al-Warith also narrated this tradition in a like manner. The version of 'Abd al-Warith has the word "dung-hill" (instead of crop), and he asserted that he narrated this tradition to Hammad
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مسجد نبوی کی جگہ پر قبیلہ بنو نجار کا ایک باغ تھا، اس میں کچھ کھیت، کچھ کھجور کے درخت اور مشرکوں کی قبریں تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: مجھ سے اس کی قیمت لے لو ، انہوں نے کہا: ہم اس کی قیمت نہیں چاہتے، تو کھجور کے درخت کاٹے گئے، کھیت برابر کئے گئے اور مشرکین کی قبریں کھدوائی گئیں، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی، مگر اس حدیث میں لفظ «فانصر» کی جگہ لفظ «فاغفر» ہے ( یعنی اے اللہ! تو انصار و مہاجرین کو بخش دے ) ۔ موسیٰ نے کہا: ہم سے عبدالوارث نے بھی اسی طرح بیان کیا ہے اور عبدالوارث «خرث» کے بجائے «خرب» ( ویرانے ) کی روایت کرتے ہیں، عبدالوارث کا کہنا ہے کہ انہوں نے ہی حماد سے یہ حدیث بیان کی ہے۔
Narrated by AbuMusa al-Ash'ari
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ غَالِبٍ التَّمَّارِ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ أَوْسٍ، عَنِ الأَشْعَرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الأَصَابِعُ سَوَاءٌ " . قُلْتُ عَشْرٌ عَشْرٌ قَالَ " نَعَمْ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ غَالِبٍ قَالَ سَمِعْتُ مَسْرُوقَ بْنَ أَوْسٍ وَرَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنِي غَالِبٌ التَّمَّارُ بِإِسْنَادِ أَبِي الْوَلِيدِ وَرَوَاهُ حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي صَفِيَّةَ عَنْ غَالِبٍ بِإِسْنَادِ إِسْمَاعِيلَ .
Narrated AbuMusa al-Ash'ari: The Prophet (ﷺ) said: The fingers are equal. I asked: Ten camels for each? He replied: Yes. Abu Dawud said: Muhammad b. Ja'far transmitted it from Shu'bah, from Ghalib, saying: I heard Masruq b. Aws ; and Isma'il transmitted it, saying: Ghalib al-Tammar transmitted it to me through the chain of Abu al-Walid ; and Hanzlah b. Abi Safiyyah transmitted it from Ghalib through the chain of Isma'il
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انگلیاں تمام برابر ہیں میں نے عرض کیا، کیا ہر انگلی کی دیت دس دس اونٹ ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ الْمَاصِرُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي قُرَّةَ، قَالَ كَانَ حُذَيْفَةُ بِالْمَدَائِنِ فَكَانَ يَذْكُرُ أَشْيَاءَ قَالَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فِي الْغَضَبِ فَيَنْطَلِقُ نَاسٌ مِمَّنْ سَمِعَ ذَلِكَ مِنْ حُذَيْفَةَ فَيَأْتُونَ سَلْمَانَ فَيَذْكُرُونَ لَهُ قَوْلَ حُذَيْفَةَ فَيَقُولُ سَلْمَانُ حُذَيْفَةُ أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُ فَيَرْجِعُونَ إِلَى حُذَيْفَةَ فَيَقُولُونَ لَهُ قَدْ ذَكَرْنَا قَوْلَكَ لِسَلْمَانَ فَمَا صَدَّقَكَ وَلاَ كَذَّبَكَ . فَأَتَى حُذَيْفَةُ سَلْمَانَ وَهُوَ فِي مَبْقَلَةٍ فَقَالَ يَا سَلْمَانُ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تُصَدِّقَنِي بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ سَلْمَانُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَغْضَبُ فَيَقُولُ فِي الْغَضَبِ لِنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ وَيَرْضَى فَيَقُولُ فِي الرِّضَا لِنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ أَمَا تَنْتَهِي حَتَّى تُوَرِّثَ رِجَالاً حُبَّ رِجَالٍ وَرِجَالاً بُغْضَ رِجَالٍ وَحَتَّى تُوقِعَ اخْتِلاَفًا وَفُرْقَةً وَلَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَطَبَ فَقَالَ " أَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي سَبَبْتُهُ سَبَّةً أَوْ لَعَنْتُهُ لَعْنَةً فِي غَضَبِي - فَإِنَّمَا أَنَا مِنْ وَلَدِ آدَمَ أَغْضَبُ كَمَا يَغْضَبُونَ وَإِنَّمَا بَعَثَنِي رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ - فَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ صَلاَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . وَاللَّهِ لَتَنْتَهِيَنَّ أَوْ لأَكْتُبَنَّ إِلَى عُمَرَ .
‘Amr b. Abl Qurrah said :Hudhaifah was in al-Mada’in. He used to mention things which the Messenger of Allah (May peace be upon him) said to some people from among his Companions in anger. The people who heard from Hudhaifah would go to Salman and tell him what Hudhaifah said. Salman would say: Hudhaifah knows best what he says. Then they would come to Hudhaifah and tell him: We mentioned Salman what you said, but he neither testified you nor falsified you. So Hudhaifah came to salman who was in his vegetable farm, and said : Salman, what prevents you from testifying me of what I heard from the Messenger of Allah (May peace be upon him) ? Salman said: The Messenger of Allah (May peace be upon him) sometimes would be angry, and said in anger something to some of his Companions; he would be sometimes pleased and said in pleasure something to some of his Companions. Would you not stop until you create love of some people in the hearts of some people, and hatred of some people in the hearts of some people, and until you generate disagreement and dissension? You know that the Messenger of Allah (May peace be upon him) addressed, saying : If I abused any person of my people, or cursed him in my anger. I am one of the children of Adam : I become angry as they become angry. He (Allah) has sent me as a mercy for all worlds. (O Allah!) make them (Abuse or curse) blessing for them on the day of judgment! I swear by Allah. You should stop (mentioning these traditions), otherwise I shall writ to ‘Umar
عمرو بن ابی قرہ کہتے ہیں کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ مدائن میں تھے اور وہ ان باتوں کا ذکر کیا کرتے تھے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب میں سے بعض لوگوں سے غصہ کی حالت میں فرمائی تھیں، پھر ان میں سے کچھ لوگ جو حذیفہ سے باتیں سنتے چل کر سلمان رضی اللہ عنہ کے پاس آتے اور ان سے حذیفہ رضی اللہ عنہ کی باتوں کا تذکرہ کرتے تو سلمان رضی اللہ عنہ کہتے: حذیفہ ہی اپنی کہی باتوں کو بہتر جانتے ہیں، تو وہ لوگ حذیفہ کے پاس لوٹ کر آتے اور ان سے کہتے: ہم نے آپ کی باتوں کا تذکرہ سلمان سے کیا تو انہوں نے نہ آپ کی تصدیق کی اور نہ تکذیب، یہ سن کر حذیفہ سلمان کے پاس آئے، وہ اپنی ترکاری کے کھیت میں تھے کہنے لگے: اے سلمان! ان باتوں میں میری تصدیق کرنے سے آپ کو کون سی چیز روک رہی ہے جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہیں؟ تو سلمان نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بلاشبہ کبھی غصے میں اپنے بعض اصحاب سے کچھ باتیں کہہ دیتے اور کبھی خوش ہوتے تو خوشی میں اپنے بعض اصحاب سے کچھ باتیں کہہ دیتے، تو کیا آپ اس وقت تک باز نہ آئیں گے جب تک کہ بعض لوگوں کے دلوں میں بعض لوگوں کی محبت اور بعض دوسروں کے دلوں میں بعض کی دشمنی نہ ڈال دیں اور ان کو اختلاف میں مبتلا نہ کر دیں، حالانکہ آپ جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا: میں نے اپنی امت کے کسی فرد کو غصے کی حالت میں اگر برا بھلا کہا یا اسے لعن طعن کی تو میں بھی تو آدم کی اولاد میں سے ہوں، مجھے بھی غصہ آتا ہے جیسے انہیں آتا ہے، لیکن اللہ نے مجھے رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا ہے تو ( اے اللہ ) میرے برا بھلا کہنے اور لعن طعن کو ان لوگوں کے لیے قیامت کے روز رحمت بنا دے اللہ کی قسم یا تو آپ اپنی اس حرکت سے باز آ جائیں ورنہ میں عمر بن الخطاب ( امیر المؤمنین ) کو لکھ بھیجوں گا۔
Narrated by As-Sa'ib
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُهَاجِرِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ قَائِدِ السَّائِبِ، عَنِ السَّائِبِ، قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَجَعَلُوا يُثْنُونَ عَلَىَّ وَيَذْكُرُونِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَنَا أَعْلَمُكُمْ " . يَعْنِي بِهِ . قُلْتُ صَدَقْتَ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي كُنْتَ شَرِيكِي فَنِعْمَ الشَّرِيكُ كُنْتَ لاَ تُدَارِي وَلاَ تُمَارِي .
Narrated As-Sa'ib: I came to the Prophet (ﷺ). The people began to praise me and make a mention of me. The Messenger of Allah (ﷺ) said: I know you, that is, he knew him. I said: My father and mother be sacrificed for you! you were my partner and how good a partner ; you neither disputed nor quarrelled
سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو لوگ میری تعریف اور میرا ذکر کرنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ان کو تم لوگوں سے زیادہ جانتا ہوں میں نے عرض کیا: سچ کہا آپ نے میرے باپ ماں آپ پر قربان ہوں، آپ میرے شریک تھے، تو آپ ایک بہترین شریک تھے، نہ آپ لڑتے تھے اور نہ جھگڑتے تھے۔
Narrated by Abd Allaah b. 'Umar
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، - قَالَ أَبُو كَامِلٍ ابْنُ الزُّبَيْرِ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ عَنِ الْمَاءِ يَكُونُ فِي الْفَلاَةِ . فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
Narrated 'Abd Allaah b. 'Umar:The Messenger of Allaah (sal Allaahu alayhi wa sallam) was asked about water in desert. He then narrated a similar tradition (as mentioned above)
جناب عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے اس پانی کے بارے میں پوچھا گیا جو جنگل میں ہوتا ہے، تو انہوں نے گزشتہ حدیث کی مثل روایت کیا۔