Narrated by Anas
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، وَهَارُونُ بْنُ عَبَّادٍ الأَزْدِيُّ، أَنَّ إِسْمَاعِيلَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَهُمْ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَسْجِدَ وَحَبْلٌ مَمْدُودٌ بَيْنَ سَارِيَتَيْنِ فَقَالَ " مَا هَذَا الْحَبْلُ " . فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ حَمْنَةُ بِنْتُ جَحْشٍ تُصَلِّي فَإِذَا أَعْيَتْ تَعَلَّقَتْ بِهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لِتُصَلِّ مَا أَطَاقَتْ فَإِذَا أَعْيَتْ فَلْتَجْلِسْ " . قَالَ زِيَادٌ فَقَالَ " مَا هَذَا " . فَقَالُوا لِزَيْنَبَ تُصَلِّي فَإِذَا كَسِلَتْ أَوْ فَتَرَتْ أَمْسَكَتْ بِهِ . فَقَالَ " حُلُّوهُ " . فَقَالَ " لِيُصَلِّ أَحَدُكُمْ نَشَاطَهُ فَإِذَا كَسِلَ أَوْ فَتَرَ فَلْيَقْعُدْ " .
Narrated Anas: The Messenger of Allah (ﷺ) entered the mosque (and saw that) a rope tied between two pillars. He asked: What is this rope (for) ? The people told him: This is (for) Hamnah b. Jahsh who prays (here). When she is tired, she reclines on it. The Messenger of Allah (ﷺ) said: She should pray as much as she has strength. When she is tired, she should sit down. This version of Ziyad has: He said: What is this ? The people told him: This is for Zainab who prays. When she becomes lazy, or is tired, she holds it. He said: Undo it. One of you should pray in good spirits. When he is lazy or tired, he should sit down
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے دیکھا کہ دو ستونوں کے درمیان ایک رسی بندھی ہوئی ہے، پوچھا: یہ رسی کیسی بندھی ہے؟ ، عرض کیا گیا: یہ حمنہ بنت حجش رضی اللہ عنہا کی ہے، وہ نماز پڑھتی ہیں اور جب تھک جاتی ہیں تو اسی رسی سے لٹک جاتی ہیں، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جتنی طاقت ہو اتنی ہی نماز پڑھا کریں، اور جب تھک جائیں تو بیٹھ جائیں ۔ زیاد کی روایت میں یوں ہے: آپ نے پوچھا یہ رسی کیسی ہے؟ لوگوں نے کہا: زینب رضی اللہ عنہا کی ہے، وہ نماز پڑھا کرتی ہیں، جب سست ہو جاتی ہیں یا تھک جاتی ہیں تو اس کو تھام لیتی ہیں، آپ نے فرمایا: اسے کھول دو، تم میں سے ہر ایک کو اسی وقت تک نماز پڑھنا چاہیئے جب تک «نشاط» رہے، جب سستی آنے لگے یا تھک جائے تو بیٹھ جائے ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ عِنْدَ أَضَاةِ بَنِي غِفَارٍ فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَ أُمَّتَكَ عَلَى حَرْفٍ . قَالَ " أَسْأَلُ اللَّهَ مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ إِنَّ أُمَّتِي لاَ تُطِيقُ ذَلِكَ " . ثُمَّ أَتَاهُ ثَانِيَةً فَذَكَرَ نَحْوَ هَذَا حَتَّى بَلَغَ سَبْعَةَ أَحْرُفٍ قَالَ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَ أُمَّتَكَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَأَيُّمَا حَرْفٍ قَرَءُوا عَلَيْهِ فَقَدْ أَصَابُوا .
Ubayy b. Ka'b said:The Prophet (ﷺ) was present at the pool of Banu Ghifar, Gabriel came to him and said: "Allah has commanded you to make your community read (the Qur'an) in one harf. He (the Prophet) said: 'I beg Allah His pardon and forgiveness; my community has not strength to do so'. He then came for the second time and told him the same thing till he reached up to seven harfs. Finally, he said: 'Allah has commanded you to make your community read (the Qur'an) in seven harfs; in whichever mode they read, that will be correct
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنی غفار کے تالاب کے پاس تھے کہ آپ کے پاس جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے اور فرمایا: اللہ عزوجل آپ کو حکم دے رہا ہے کہ آپ اپنی امت کو ایک حرف پر قرآن پڑھائیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ سے اس کی بخشش اور مغفرت مانگتا ہوں، میری امت اتنی طاقت نہیں رکھتی ہے ، پھر دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اسی طرح سے کہا، یہاں تک کہ معاملہ سات حرفوں تک پہنچ گیا، تو انہوں نے کہا: اللہ آپ کو حکم دے رہا ہے کہ آپ اپنی امت کو سات حرفوں پر پڑھائیں، لہٰذا اب وہ جس حرف پر بھی پڑھیں گے وہ صحیح ہو گا ۔
Narrated by Abu Sa'id al-Khudri
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، سَمِعَ عِيَاضًا، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ لاَ أُخْرِجُ أَبَدًا إِلاَّ صَاعًا إِنَّا كُنَّا نُخْرِجُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَاعَ تَمْرٍ أَوْ شَعِيرٍ أَوْ أَقِطٍ أَوْ زَبِيبٍ هَذَا حَدِيثُ يَحْيَى زَادَ سُفْيَانُ أَوْ صَاعًا مِنْ دَقِيقٍ قَالَ حَامِدٌ فَأَنْكَرُوا عَلَيْهِ فَتَرَكَهُ سُفْيَانُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ فَهَذِهِ الزِّيَادَةُ وَهَمٌ مِنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ .
Narrated Abu Sa'id al-Khudri: I shall always pay one sa'. We used to pay during the lifetime of the Messenger of Allah (ﷺ) one sa' of dried dates or of barley, or of cheese, or of raisins. This is the version of Yahya. Sufyan added in his version: "or one sa' of flour." The narrator Hamid (ibn Yahya) said: The people objected to this (addition); Sufyan then left it. Abu Dawud said: This addition is a misunderstanding on the part of Ibn Uyainah
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ہمیشہ ایک ہی صاع نکالوں گا، ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کھجور، یا جو، یا پنیر، یا انگور کا ایک ہی صاع نکالتے تھے۔ یہ یحییٰ کی روایت ہے، سفیان کی روایت میں اتنا اضافہ ہے: یا ایک صاع آٹے کا، حامد کہتے ہیں: لوگوں نے اس زیادتی پر نکیر کی، تو سفیان نے اسے چھوڑ دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ زیادتی ابن عیینہ کا وہم ہے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلاَ نَرَى إِلاَّ أَنَّهُ الْحَجُّ فَلَمَّا قَدِمْنَا تَطَوَّفْنَا بِالْبَيْتِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْىَ أَنْ يُحِلَّ فَأَحَلَّ مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْىَ .
A’ishah said “We went out with the Messenger of Allah(ﷺ) and we thought it nothing but a Hajj. When we came, we circumambulated the House (the Ka’bah). The Messenger of Allah(ﷺ) then commanded those who did not bring the sacrificial animals with them to take off their ihram. Therefore those who did not bring the sacrificial animals with them took off their ihram
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، ہمارے پیش نظر صرف حج تھا، جب ہم ( مکہ ) آئے تو ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جو اپنے ساتھ ہدی نہ لایا ہو وہ حلال ہو جائے ۱؎، چنانچہ وہ تمام لوگ حلال ہو گئے جو ہدی لے کر نہیں آئے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ النَّجَاشِيَّ، زَوَّجَ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى صَدَاقٍ أَرْبَعَةِ آلاَفِ دِرْهَمٍ وَكَتَبَ بِذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَبِلَ .
Az-Zuhri said:The Negus married Umm Habibah daughter of Abu Sufyan to the Messenger of Allah (ﷺ) for a dower of four thousand dirhams. He wrote it to the Messenger of Allah (ﷺ) who accepted it
ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ نجاشی ( شاہ حبشہ ) نے ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہما کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چار ہزار درہم کے عوض کر دیا اور یہ بات آپ کو لکھ بھیجی تو آپ نے قبول فرما لیا
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَعْتِقَ، مَمْلُوكَيْنِ لَهَا زَوْجٌ قَالَ فَسَأَلَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَأَمَرَهَا أَنْ تَبْدَأَ بِالرَّجُلِ قَبْلَ الْمَرْأَةِ . قَالَ نَصْرٌ أَخْبَرَنِي أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ .
Al-Qasim said:Aisha intended to set free two slaves of her who were spouses. She, therefore, asked the Prophet (ﷺ) about this matter. He commanded to begin with the man before the woman. The narrator Nasr said: Abu 'Ali al-Hanafi reported it to me on the authority of Ubaydullah
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے لونڈی غلام کے ایک جوڑے کو آزاد کرنا چاہا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے حکم دیا کہ وہ عورت سے پہلے مرد کو آزاد کریں۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، - يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ - عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ قَالَ أَنَسٌ مَا كُنَّا نَدَعُ الْحِجَامَةَ لِلصَّائِمِ إِلاَّ كَرَاهِيَةَ الْجَهْدِ .
Narrated Anas:We would not allow a man who was fasting to get himself cupped due to abomination of hardship
ثابت کہتے ہیں کہ انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم روزے دار کو صرف مشقت کے پیش نظر سینگی ( پچھنا ) نہیں لگانے دیتے تھے۔
Narrated by AbuSalam
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سَلاَّمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي سَلاَّمٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ : أَغَرْنَا عَلَى حَىٍّ مِنْ جُهَيْنَةَ فَطَلَبَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ رَجُلاً مِنْهُمْ فَضَرَبَهُ فَأَخْطَأَهُ وَأَصَابَ نَفْسَهُ بِالسَّيْفِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم : " أَخُوكُمْ يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ " . فَابْتَدَرَهُ النَّاسُ فَوَجَدُوهُ قَدْ مَاتَ، فَلَفَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِثِيَابِهِ وَدِمَائِهِ وَصَلَّى عَلَيْهِ وَدَفَنَهُ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَشَهِيدٌ هُوَ قَالَ : " نَعَمْ، وَأَنَا لَهُ شَهِيدٌ " .
Narrated AbuSalam: AbuSalam reported on the authority of a man from the companion of the Prophet (ﷺ). He said: We attacked a tribe of Juhaynah. A man from the Muslims pursued a man of them, and struck him but missed him. He struck himself with the sword. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Your brother, O group of Muslims. The people hastened towards him, but found him dead. The Messenger of Allah (ﷺ) wrapped him with his clothes and his blood, and offered (funeral) prayer for him and buried him. They said: Messenger of Allah, is he a martyr? He said: Yes, and I am witness to him
ابو سلام ایک صحابی سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم نے جہینہ کے ایک قبیلہ پر شب خون مارا تو ایک مسلمان نے ایک آدمی کو مارنے کا قصد کیا، اس نے اسے تلوار سے مارا لیکن تلوار نے خطا کی اور اچٹ کر اسی کو لگ گئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں کی جماعت! اپنے مسلمان بھائی کی خبر لو ، لوگ تیزی سے اس کی طرف دوڑے، تو اسے مردہ پایا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اسی کے کپڑوں اور زخموں میں لپیٹا، اس پر نماز جنازہ پڑھی اور اسے دفن کر دیا، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا وہ شہید ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں اور میں اس کا گواہ ہوں ۔
Narrated by Mujja'ah ibn Mirarah al-Yamani
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْقُرَشِيُّ، قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ - يَعْنِي ابْنَ عِيسَى - كُنَّا نَقُولُ إِنَّهُ مِنَ الأَبْدَالِ قَبْلَ أَنْ نَسْمَعَ أَنَّ الأَبْدَالَ مِنَ الْمَوَالِي قَالَ حَدَّثَنِي الدَّخِيلُ بْنُ إِيَاسِ بْنِ نُوحِ بْنِ مُجَّاعَةَ عَنْ هِلاَلِ بْنِ سِرَاجِ بْنِ مُجَّاعَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ مُجَّاعَةَ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَطْلُبُ دِيَةَ أَخِيهِ قَتَلَتْهُ بَنُو سَدُوسٍ مِنْ بَنِي ذُهْلٍ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لَوْ كُنْتُ جَاعِلاً لِمُشْرِكٍ دِيَةً جَعَلْتُ لأَخِيكَ وَلَكِنْ سَأُعْطِيكَ مِنْهُ عُقْبَى " . فَكَتَبَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِمِائَةٍ مِنَ الإِبِلِ مِنْ أَوَّلِ خُمُسٍ يَخْرُجُ مِنْ مُشْرِكِي بَنِي ذُهْلٍ فَأَخَذَ طَائِفَةً مِنْهَا وَأَسْلَمَتْ بَنُو ذُهْلٍ فَطَلَبَهَا بَعْدُ مُجَّاعَةُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ وَأَتَاهُ بِكِتَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَكَتَبَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ بِاثْنَىْ عَشَرَ أَلْفَ صَاعٍ مِنْ صَدَقَةِ الْيَمَامَةِ أَرْبَعَةِ آلاَفٍ بُرًّا وَأَرْبَعَةِ آلاَفٍ شَعِيرًا وَأَرْبَعَةِ آلاَفٍ تَمْرًا وَكَانَ فِي كِتَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لِمُجَّاعَةَ " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا كِتَابٌ مِنْ مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ لِمُجَّاعَةَ بْنِ مُرَارَةَ مِنْ بَنِي سُلْمَى إِنِّي أَعْطَيْتُهُ مِائَةً مِنَ الإِبِلِ مِنْ أَوَّلِ خُمُسٍ يَخْرُجُ مِنْ مُشْرِكِي بَنِي ذُهْلٍ عُقْبَةً مِنْ أَخِيهِ " .
Narrated Mujja'ah ibn Mirarah al-Yamani: Mujja'ah went to the Prophet (ﷺ) asking him for the blood-money of his brother whom Banu Sadus from Banu Dhuhl had killed. The Prophet (ﷺ) said: Had I appointed blood-money for a polytheist, I should have appointed it for your brother. But I shall give you compensation for him. So the Prophet (ﷺ) wrote (a document) for him that he should be given a hundred camels which were to be acquired from the fifth taken from the polytheists of Banu Dhuhl. So he took a part of them, for Banu Dhuhl embraced Islam. He then asked AbuBakr for them later on, and brought to him the document of the Prophet (ﷺ). So AbuBakr wrote for him that he should be given one thousand two hundred sa's from the sadaqah of al-Yamamah; four thousand (sa's) of wheat, four thousand (sa's) of barley, and four thousand (sa's) of dates. The text of the document written by the Prophet (ﷺ) for Mujja'ah was as follows: "In the name of Allah, the Beneficent, the Merciful. This document is from Muhammad, the Prophet, to Mujja'ah ibn Mirarah of Banu Sulma. I have given him one hundred camels from the first fifth acquired from the polytheist of Banu Dhuhl as a compensation for his brother
مجاعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے بھائی کی دیت مانگنے آئے جسے بنو ذہل میں سے بنی سدوس نے قتل کر ڈالا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں کسی مشرک کی دیت دلاتا تو تمہارے بھائی کی دیت دلاتا، لیکن میں اس کا بدلہ تمہیں دلائے دیتا ہوں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو ذہل کے مشرکین سے پہلے پہل حاصل ہونے والے خمس میں سے سو اونٹ اسے دینے کے لیے لکھ دیا۔ مجاعہ رضی اللہ عنہ کو ان اونٹوں میں سے کچھ اونٹ بنو ذہل کے مسلمان ہو جانے کے بعد ملے، اور مجاعہ رضی اللہ عنہ نے اپنے باقی اونٹوں کو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ان کے خلیفہ ہونے کے بعد طلب کئے اور انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کتاب ( تحریر ) دکھائی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجاعہ رضی اللہ عنہ کے یمامہ کے صدقے میں سے بارہ ہزار صاع دینے کے لیے لکھ دیا، چار ہزار صاع گیہوں کے، چار ہزار صاع جو کے اور چار ہزار صاع کھجور کے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجاعہ کو جو کتاب ( تحریر ) لکھ کر دی تھی اس کا مضمون یہ تھا: شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے، یہ کتاب محمد نبی کی جانب سے مجاعہ بن مرارہ کے لیے ہے جو بنو سلمی میں سے ہیں، میں نے اسے بنی ذہل کے مشرکوں سے حاصل ہونے والے پہلے خمس میں سے سو اونٹ اس کے مقتول بھائی کے عوض میں دیا ۱؎ ۔
Narrated by Aisha, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ، قَالَتْ كُفِّنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي ثَلاَثَةِ أَثْوَابٍ يَمَانِيَةٍ بِيضٍ لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلاَ عِمَامَةٌ .
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: The Messenger of Allah (ﷺ) was shrouded in three garments of white Yemeni stuff, among which was neither a shirt nor a turban
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین سفید یمنی کپڑوں میں دفنائے گئے، ان میں نہ قمیص تھی نہ عمامہ ۱؎۔
Narrated by Uqbah ibn Amir al-Juhani
حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم : إِنَّ أُخْتِي نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِيَ إِلَى الْبَيْتِ . فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ لاَ يَصْنَعُ بِمَشْىِ أُخْتِكَ إِلَى الْبَيْتِ شَيْئًا " .
Narrated Uqbah ibn Amir al-Juhani: Uqbah said to the Prophet (ﷺ): My sister has taken a vow that she will walk to the House of Allah (the Ka'bah). Thereupon he said: Allah will not do anything of the walking of your sister to the House of Allah (i.e. the Ka'bah)
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میری بہن نے بیت اللہ پیدل جانے کی نذر مانی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری بہن کے پیدل بیت اللہ جانے کا اللہ کوئی ثواب نہ دے گا ۔
Narrated by Abdullah ibn Mas'ud
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ اشْتَرَكْتُ أَنَا وَعَمَّارٌ، وَسَعْدٌ، فِيمَا نُصِيبُ يَوْمَ بَدْرٍ قَالَ فَجَاءَ سَعْدٌ بِأَسِيرَيْنِ وَلَمْ أَجِئْ أَنَا وَعَمَّارٌ بِشَىْءٍ .
Narrated Abdullah ibn Mas'ud: I Ammar, and Sa'd became partners in what we would receive on the day of Badr. Sa'd then brought two prisoners, but I and Ammar did not bring anything
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں، عمار اور سعد تینوں نے بدر کے دن حاصل ہونے والے مال غنیمت میں حصے کا معاملہ کیا تو سعد دو قیدی لے کر آئے اور میں اور عمار کچھ نہ لائے۔
Narrated by Iyas ibn Abd
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ عَبْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعِ فَضْلِ الْمَاءِ .
Narrated Iyas ibn Abd: The Messenger of Allah (ﷺ) forbade the sale of excess water
ایاس بن عبد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاضل ( پینے کے ) پانی کے بیچنے سے منع فرمایا ہے۔
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ كَعْبٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا تَدَارَأْتُمْ فِي طَرِيقٍ فَاجْعَلُوهُ سَبْعَةَ أَذْرُعٍ " .
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: If you dispute over a pathway, leave the margin of seven yards
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی راستہ کے متعلق جھگڑو تو سات ہاتھ راستہ چھوڑ دو ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَغْلِقْ بَابَكَ وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لاَ يَفْتَحُ بَابًا مُغْلَقًا وَأَطْفِ مِصْبَاحَكَ وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ وَخَمِّرْ إِنَاءَكَ وَلَوْ بِعُودٍ تَعْرُضُهُ عَلَيْهِ وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ وَأَوْكِ سِقَاءَكَ وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ " .
Jabir reported the Prophet (ﷺ) as saying:Shut your door and make mention of Allah's name, for the devil does not open a door which has been shut; extinguish your lamp and make mention of Allah's name, cover up your vessel even by a piece of wood that you just put on it and make mention of Allah's name, and tie up your water-skin mentioning Allah's name
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا نام لے کر اپنے دروازے بند کرو کیونکہ شیطان بند دروازوں کو نہیں کھولتا، اللہ کا نام لے کر اپنے چراغ بجھاؤ، اللہ کا نام لے کر اپنے برتنوں کو ڈھانپو خواہ کسی لکڑی ہی سے ہو جسے تم اس پر چوڑائی میں رکھ دو، اور اللہ کا نام لے کر مشکیزے کا منہ باندھو ۔
Narrated by at-Talabb ibn Tha'labah at-Tamimi
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا غَالِبُ بْنُ حَجْرَةَ، حَدَّثَنِي مِلْقَامُ بْنُ تَلِبٍّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ صَحِبْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ أَسْمَعْ لِحَشَرَةِ الأَرْضِ تَحْرِيمًا .
Narrated at-Talabb ibn Tha'labah at-Tamimi: I accompanied the Messenger of Allah (ﷺ), but I did not hear about the prohibition of (eating) insects and little creatures of land
تلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہا لیکن میں نے کیڑے مکوڑوں کی حرمت کے متعلق نہیں سنا۔
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالاَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عُرْوَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، - قَالَ ابْنُ نُفَيْلٍ ابْنُ قُشَيْرٍ أَبُو مَهَلٍ الْجُعْفِيُّ - حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي رَهْطٍ مِنْ مُزَيْنَةَ فَبَايَعْنَاهُ وَإِنَّ قَمِيصَهُ لَمُطْلَقُ الأَزْرَارِ - قَالَ - فَبَايَعْتُهُ ثُمَّ أَدْخَلْتُ يَدِي فِي جَيْبِ قَمِيصِهِ فَمَسِسْتُ الْخَاتَمَ . قَالَ عُرْوَةُ فَمَا رَأَيْتُ مُعَاوِيَةَ وَلاَ ابْنَهُ قَطُّ إِلاَّ مُطْلِقِي أَزْرَارِهِمَا فِي شِتَاءٍ وَلاَ حَرٍّ وَلاَ يُزَرِّرَانِ أَزْرَارَهُمَا أَبَدًا .
Mu'awiyah b. Qurrah quoted his father as saying:I came to the Messenger of Allah (ﷺ) with a company of Muzainah and we swore allegiance to him. The buttons of his shirt were open. I swore allegiance to him and I put my hand inside the collar of his shirt and felt the seal. 'Urwah said: I always saw Mu'awiyah and his son opening their buttons of the collar during winter and summer. They never closed their buttons
قرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں قبیلہ مزینہ کی ایک جماعت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا پھر ہم نے آپ سے بیعت کی، آپ کچھ قمیص کے بٹن کھلے ہوئے تھے، میں نے آپ سے بیعت کی پھر اپنا ہاتھ آپ کی قمیص کے گریبان میں داخل کیا اور مہر نبوت کو چھوا۔ عروہ کہتے ہیں: میں نے معاویہ اور ان کے بیٹے کی قمیص کے بٹن جاڑا ہو یا گرمی ہمیشہ کھلے دیکھے، یہ دونوں کبھی بٹن لگاتے ہی نہیں تھے اپنے گریبان ہمیشہ کھلے رکھتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ { وَاللاَّتِي يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِسَائِكُمْ فَاسْتَشْهِدُوا عَلَيْهِنَّ أَرْبَعَةً مِنْكُمْ فَإِنْ شَهِدُوا فَأَمْسِكُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ حَتَّى يَتَوَفَّاهُنَّ الْمَوْتُ أَوْ يَجْعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلاً } وَذَكَرَ الرَّجُلَ بَعْدَ الْمَرْأَةِ ثُمَّ جَمَعَهُمَا فَقَالَ { وَاللَّذَانِ يَأْتِيَانِهَا مِنْكُمْ فَآذُوهُمَا فَإِنْ تَابَا وَأَصْلَحَا فَأَعْرِضُوا عَنْهُمَا } فَنَسَخَ ذَلِكَ بِآيَةِ الْجَلْدِ فَقَالَ { الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ } .
Ibn ‘Abbas said:The Qur’anic verse goes: “If any of your woman are guilty of lewdness, take the evidence of four (reliable) witnesses from amongst you against them, and if they testify, Confine them to houses until death do chain them or Allah ordains for them some (other) way. Allah then mentioned man after woman and combined them in another verse : “If two men among you are guilty of lewdness, punish them both. If they repent and amend, leave them alone. This command was abrogated by the verse relating to flogging : “The woman and the man guilty of adultery or fornication – flog each of them with one hundred stripes
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «واللاتي يأتين الفاحشة من نسائكم فاستشهدوا عليهن أربعة منكم فإن شهدوا فأمسكوهن في البيوت حتى يتوفاهن الموت أو يجعل الله لهن سبيلا» تمہاری عورتوں میں سے جو بےحیائی کا کام کریں ان پر اپنے میں سے چار گواہ طلب کرو، اگر وہ گواہی دیں تو ان عورتوں کو گھروں میں قید رکھو یہاں تک کہ موت ان کی عمریں پوری کر دے یا اللہ ان کے لیے کوئی اور راستہ نکال دے ( سورۃ النساء: ۱۵ ) اور مرد کا ذکر عورت کے بعد کیا، پھر ان دونوں کا ایک ساتھ ذکر کیا فرمایا: «واللذان يأتيانها منكم فآذوهما فإن تابا وأصلحا فأعرضوا عنهما» تم میں دونوں جو ایسا کر لیں انہیں ایذا دو اور اگر وہ توبہ اور اصلاح کر لیں تو ان سے منہ پھیر لو ( سورۃ النساء: ۱۶ ) ، پھر یہ «جَلْد» والی آیت «الزانية والزاني فاجلدوا كل واحد منهما مائة جلدة» زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والے مرد دونوں کو سو سو کوڑے مارو ( سورۃ النور: ۲ ) منسوخ کر دی گئی۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ فَنَزَلَ فِي عُلْوِ الْمَدِينَةِ فِي حَىٍّ يُقَالُ لَهُمْ بَنُو عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَأَقَامَ فِيهِمْ أَرْبَعَ عَشَرَةَ لَيْلَةً ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى بَنِي النَّجَّارِ فَجَاءُوا مُتَقَلِّدِينَ سُيُوفَهُمْ - فَقَالَ أَنَسٌ - فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى رَاحِلَتِهِ وَأَبُو بَكْرٍ رِدْفَهُ وَمَلأُ بَنِي النَّجَّارِ حَوْلَهُ حَتَّى أَلْقَى بِفِنَاءِ أَبِي أَيُّوبَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي حَيْثُ أَدْرَكَتْهُ الصَّلاَةُ وَيُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ وَإِنَّهُ أَمَرَ بِبِنَاءِ الْمَسْجِدِ فَأَرْسَلَ إِلَى بَنِي النَّجَّارِ فَقَالَ " يَا بَنِي النَّجَّارِ ثَامِنُونِي بِحَائِطِكُمْ هَذَا " . فَقَالُوا وَاللَّهِ لاَ نَطْلُبُ ثَمَنَهُ إِلاَّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ . قَالَ أَنَسٌ وَكَانَ فِيهِ مَا أَقُولُ لَكُمْ كَانَتْ فِيهِ قُبُورُ الْمُشْرِكِينَ وَكَانَتْ فِيهِ خِرَبٌ وَكَانَ فِيهِ نَخْلٌ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِقُبُورِ الْمُشْرِكِينَ فَنُبِشَتْ وَبِالْخِرَبِ فَسُوِّيَتْ وَبِالنَّخْلِ فَقُطِعَ فَصَفُّوا النَّخْلَ قِبْلَةَ الْمَسْجِدِ وَجَعَلُوا عِضَادَتَيْهِ حِجَارَةً وَجَعَلُوا يَنْقُلُونَ الصَّخْرَ وَهُمْ يَرْتَجِزُونَ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَعَهُمْ وَهُوَ يَقُولُ اللَّهُمَّ لاَ خَيْرَ إِلاَّ خَيْرُ الآخِرَهْ فَانْصُرِ الأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ
Anas b. Malik reported:Messenger of Allah (ﷺ) came over to Medina and encamped at the upper side of Medina among the tribe known as Banu 'Amr b. 'Awf. He stayed among them for fourteen days. He then sent someone to call Banu al-Najjar. They came to him hanging their swords from the necks. Anas then said: As if I am looking at the Messenger of Allah (ﷺ) sitting on his mount and Abu Bakr seated behind him, and Banu al-Najjar standing around him. He descended in the courtyard of Abu Ayyub. The Messenger of Allah (ﷺ) would say his prayer in the folds of the sheep and goats. He commanded us to build a mosque. He then sent for Banu al-Najjar and said to them: Banu al-Najjar, sell this land of yours to me for some price. They replied: By Allah, we do not want any price (from you) except from Allah. Anas said: I tell what this land contained. It contained the graves of the disbelievers, dung-hills, and some trees of date-palm. The Messenger of Allah (ﷺ) commanded and the graves of the disbelievers were dug open, and the trees of the date-palm were cut off. The wood of the date-palm were erected in front of the mosque ; the door-steps wre built of stone. They were reciting verses carrying the stones. The Prophet (ﷺ) also joined them (in reciting verses) saying: O Allah, there is no good except the good of the Hereafter. So grant you aid to the Ansar and the Muhajirah
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ شہر کے بالائی حصہ میں ایک محلہ میں اترے، جسے بنی عمرو بن عوف کا محلہ کہا جاتا تھا، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم چودہ دن تک قیام پذیر رہے، پھر آپ نے بنو نجار کے لوگوں کو بلوایا تو وہ اپنی تلواریں لٹکائے آئے، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: گویا میں اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں، آپ اپنی اونٹنی پر سوار ہیں اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے سوار ہیں، اور بنو نجار کے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد ہیں یہاں تک کہ آپ ابوایوب رضی اللہ عنہ کے مکان کے صحن میں اترے، جس جگہ نماز کا وقت آ جاتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ لیتے تھے، بکریوں کے باڑے میں بھی نماز پڑھ لیتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد بنانے کا حکم فرمایا اور بنو نجار کے لوگوں کو بلوایا، ( وہ آئے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اے بنو نجار! تم مجھ سے اپنے اس باغ کی قیمت لے لو ، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم اس کی قیمت اللہ ہی سے چاہتے ہیں۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس باغ میں جو چیزیں تھیں وہ میں تمہیں بتاتا ہوں: اس میں مشرکوں کی قبریں تھیں، ویران جگہیں، کھنڈرات اور کھجور کے درخت تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا، مشرکوں کی قبریں کھود کر پھینک دی گئیں، ویران جگہیں اور کھنڈر ہموار کر دیئے گئے، کھجور کے درخت کاٹ ڈالے گئے، ان کی لکڑیاں مسجد کے قبلے کی طرف قطار سے لگا دی گئیں اور اس کے دروازے کی چوکھٹ کے دونوں بازو پتھروں سے بنائے گئے، لوگ پتھر اٹھاتے جاتے تھے اور اشعار پڑھتے جاتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ تھے اور فرماتے تھے: «اللهم لا خير إلا خير الآخره فانصر الأنصار والمهاجره» اے اللہ! بھلائی تو دراصل آخرت کی بھلائی ہے تو تو انصار و مہاجرین کی مدد فرما۔
Narrated by AbuMusa
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، - يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ - حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ غَالِبٍ التَّمَّارِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الأَصَابِعُ سَوَاءٌ عَشْرٌ عَشْرٌ مِنَ الإِبِلِ " .
Narrated AbuMusa: The Prophet (ﷺ) said: The fingers are equal: ten camels for each finger
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انگلیاں سب برابر ہیں، ان کی دیت دس دس اونٹ ہیں ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَسُبُّوا أَصْحَابِي فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنْفَقَ أَحَدُكُمْ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلاَ نَصِيفَهُ " .
Abu Sa’id (al-Khudri) reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying :Do not revile my Companions; by him in whose hand my soul is, if one of you contributed the amount of gold equivalent to Uhud, it would not amount to as much as the mudd of one of them, or half of it
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے صحابہ کو برا بھلا نہ کہو، اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم میں سے کوئی احد ( پہاڑ ) کے برابر سونا خرچ کر دے تو وہ ان کے ایک مد یا نصف مد کے برابر بھی نہ ہو گا ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا بَعَثَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِهِ فِي بَعْضِ أَمْرِهِ قَالَ " بَشِّرُوا وَلاَ تُنَفِّرُوا وَيَسِّرُوا وَلاَ تُعَسِّرُوا " .
Abu Musa reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:Gladden people and do not scare them; make things easy and do not make them difficult
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے صحابہ میں سے کسی کو اپنے کام کے لیے بھیجتے تو فرماتے، خوشخبری دینا، نفرت مت دلانا، آسانی اور نرمی کرنا، دشواری اور مشکل میں نہ ڈالنا۔
Narrated by Abdullah ibn Umar
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَغَيْرُهُمْ، قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْمَاءِ وَمَا يَنُوبُهُ مِنَ الدَّوَابِّ وَالسِّبَاعِ فَقَالَ صلى الله عليه وسلم " إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لَمْ يَحْمِلِ الْخَبَثَ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ الْعَلاَءِ وَقَالَ عُثْمَانُ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهُوَ الصَّوَابُ .
Narrated Abdullah ibn Umar: The Prophet (ﷺ), was asked about water (in desert country) and what is frequented by animals and wild beasts. He replied: When there is enough water to fill two pitchers, it bears no impurity
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس پانی کے بارے میں پوچھا گیا جس پر جانور اور درندے آتے جاتے ہوں ( اس میں سے پیتے اور اس میں پیشاب کرتے ہوں ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب پانی دو قلہ ہو تو وہ نجاست کو دفع کر دے گا ( یعنی نجاست اس پر غالب نہیں آئے گی ) ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ابن العلاء کے الفاظ ہیں، عثمان اور حسن بن علی نے محمد بن جعفر کی جگہ محمد بن عباد بن جعفر کا ذکر کیا ہے، اور یہی درست ہے۔