بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Abu Dawood
5
23 hadith
Narrated by Aishah, wife of Prophet (ﷺ)
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلاَةِ فَلْيَرْقُدْ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ النَّوْمُ فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا صَلَّى وَهُوَ نَاعِسٌ لَعَلَّهُ يَذْهَبُ يَسْتَغْفِرُ فَيَسُبَّ نَفْسَهُ ‏"‏ ‏.‏
Narrated 'Aishah, wife of Prophet (ﷺ):When one of you dozes in prayer he should sleep till his sleep is gone, for when one of you prays while he is dozing, perhaps he might curse himself if he begs pardon of Allah
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی نماز میں اونگھنے لگے تو سو جائے یہاں تک کہ اس کی نیند چلی جائے، کیونکہ اگر وہ اونگھتے ہوئے نماز پڑھے گا تو شاید وہ استغفار کرنے چلے لیکن خود کو وہ بد دعا کر بیٹھے ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ إِنَّمَا هَذِهِ الأَحْرُفُ فِي الأَمْرِ الْوَاحِدِ لَيْسَ تَخْتَلِفُ فِي حَلاَلٍ وَلاَ حَرَامٍ ‏.‏
Al-Zuhri said:These modes of reading aimed at the same point, not different in respect of lawful and unlawful
زہری کہتے ہیں کہ یہ حروف ( اگرچہ بظاہر مختلف ہوں ) ایک ہی معاملہ سے تعلق رکھتے ہیں، ان میں حلال و حرام میں اختلاف نہیں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ، - يَعْنِي ابْنَ قَيْسٍ - عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ كُنَّا نُخْرِجُ إِذْ كَانَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم زَكَاةَ الْفِطْرِ عَنْ كُلِّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ حُرٍّ أَوْ مَمْلُوكٍ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ فَلَمْ نَزَلْ نُخْرِجُهُ حَتَّى قَدِمَ مُعَاوِيَةُ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا فَكَلَّمَ النَّاسَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَكَانَ فِيمَا كَلَّمَ بِهِ النَّاسَ أَنْ قَالَ إِنِّي أَرَى أَنَّ مُدَّيْنِ مِنْ سَمْرَاءِ الشَّامِ تَعْدِلُ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ فَأَخَذَ النَّاسُ بِذَلِكَ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَأَمَّا أَنَا فَلاَ أَزَالُ أُخْرِجُهُ أَبَدًا مَا عِشْتُ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ ابْنُ عُلَيَّةَ وَعَبْدَةُ وَغَيْرُهُمَا عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ عَنْ عِيَاضٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ بِمَعْنَاهُ وَذَكَرَ رَجُلٌ وَاحِدٌ فِيهِ عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ أَوْ صَاعَ حِنْطَةٍ ‏.‏ وَلَيْسَ بِمَحْفُوظٍ ‏.‏
Abu sa’id al-khudri said :When the Messenger of Allah(May peace be upon him) lived among us, we use to bring forth zakat, on closing the fast of Ramadan one sa’ of grain or of cheese, or of barley, or of dried dates, or of raisens, payable by every young and old freeman and slave. We continued to pay this till mu-awayah came to perform Haj or Umra and he spoke to the people on the pulpit. What he said to the people was : I think that Mudds of the wheat of syrria is equivalent to one sa’ of dried dates. So the people adopted it. Abu sa’id said : But I continued to pay one sa’ of wheat as long as I lived on. Abu Dawud said : this tradition has also been transmitted by Abu sa’id through a different chain of narrators to the same effect. A man has narrated in this version from Ibn-Ulayyah one sa’ of wheat. But this version is not guarded
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان باحیات تھے، ہم لوگ صدقہ فطر ہر چھوٹے اور بڑے، آزاد اور غلام کی طرف سے غلہ یا پنیر یا جو یا کھجور یا کشمش سے ایک صاع نکالتے تھے، پھر ہم اسی طرح نکالتے رہے یہاں تک کہ معاویہ رضی اللہ عنہ حج یا عمرہ کرنے آئے تو انہوں نے منبر پر چڑھ کر لوگوں سے کچھ باتیں کیں، ان میں ان کی یہ بات بھی شامل تھی: میری رائے میں اس گیہوں کے جو شام سے آتا ہے دو مد ایک صاع کھجور کے برابر ہیں، پھر لوگوں نے یہی اختیار کر لیا، اور ابوسعید نے کہا: لیکن میں جب تک زندہ رہوں گا برابر ایک ہی صاع نکالتا رہوں گا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: اسے ابن علیہ اور عبدہ وغیرہ نے ابن اسحاق سے، ابی اسحاق نے عبداللہ بن عبداللہ بن عثمان بن حکیم بن حزام سے، عبداللہ بن عبداللہ نے عیاض سے اور عیاض نے ابوسعید سے اسی مفہوم کے ساتھ نقل کیا ہے، ایک شخص نے ابن علیہ سے «أو صاعًا من حنطة» بھی نقل کیا ہے لیکن یہ غیر محفوظ ہے۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْىٌ فَلْيُهِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ ثُمَّ لاَ يَحِلُّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا ‏"‏ ‏.‏ فَقَدِمْتُ مَكَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَلاَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ انْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ وَدَعِي الْعُمْرَةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَفَعَلْتُ فَلَمَّا قَضَيْنَا الْحَجَّ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ إِلَى التَّنْعِيمِ فَاعْتَمَرْتُ فَقَالَ ‏"‏ هَذِهِ مَكَانَ عُمْرَتِكِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَطَافَ الَّذِينَ أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ حَلُّوا ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى لِحَجِّهِمْ وَأَمَّا الَّذِينَ كَانُوا جَمَعُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَإِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ وَمَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ نَحْوَهُ لَمْ يَذْكُرُوا طَوَافَ الَّذِينَ أَهَلُّوا بِعُمْرَةٍ وَطَوَافَ الَّذِينَ جَمَعُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ ‏.‏
Ai’shah the wife of the Prophet (SWAS) said :We went out with the Messenger of Allah (SWAS) at the farewell pilgrimage and raised the voice in talbiyah for an ‘Umrah. The Apostel of Allah (SWAS) said those who have brought the sacrificial animals with them should raise their voices in talbiyah for Hajj along with an ‘Umrah and they should not put off their Ihram till they do so after performing them both. I came to Makkah while I was menstruating and I did not go round the House (the Ka’bah) or run between al-Safa and al-Marwah. I complained about this to the Messenger of Allah (SWAS) he said: Undo your hair, comb it and raise your voice in talbiyah for Hajj and let `Umrah go. She said I did so. When we performed Hajj, the Messenger of Allah (SWAS) sent me along with `Abd al-Rahman bin Abu Bakr to al-Ta’nim and I performed `Umrah. He said, this is `Umrah in place of the one you had missed. She said those who had raised their voices in talbiyah for `Umrah put off Ihram after circumambulating the House (the Ka’bah) and after running between al-Safa and al-Marwa. Then they performed another circumambulation for their Hajj after they returned from Mina but those who combined Hajj and `Umrah performed only one circumambulation
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حجۃ الوداع میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے تو ہم نے عمرے کا احرام باندھا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے ساتھ ہدی ہو تو وہ عمرے کے ساتھ حج کا احرام باندھ لے پھر وہ حلال نہیں ہو گا جب تک کہ ان دونوں سے ایک ساتھ حلال نہ ہو جائے ، چنانچہ میں مکہ آئی، میں حائضہ تھی، میں نے بیت اللہ کا طواف نہیں کیا اور نہ صفا و مروہ کے درمیان سعی کی، لہٰذا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا: اپنا سر کھول لو، کنگھی کر لو، حج کا احرام باندھ لو، اور عمرے کو ترک کر دو ، میں نے ایسا ہی کیا، جب میں نے حج ادا کر لیا تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( میرے بھائی ) عبدالرحمٰن بن ابی بکر کے ساتھ مقام تنعیم بھیجا ( تو میں وہاں سے احرام باندھ کر آئی اور ) میں نے عمرہ ادا کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تمہارے عمرے کی جگہ پر ہے ، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: چنانچہ جنہوں نے عمرے کا احرام باندھ رکھا تھا انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی، پھر ان لوگوں نے احرام کھول دیا، پھر جب منیٰ سے لوٹ کر آئے تو حج کا ایک اور طواف کیا، اور رہے وہ لوگ جنہوں نے حج و عمرہ دونوں کو جمع کیا تھا تو انہوں نے ایک ہی طواف کیا ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابراہیم بن سعد اور معمر نے ابن شہاب سے اسی طرح روایت کیا ہے انہوں نے ان لوگوں کے طواف کا جنہوں نے عمرہ کے طواف کا احرام باندھا، اور ان لوگوں کے طواف کا جنہوں نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا ذکر نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي الْعَجْفَاءِ السُّلَمِيِّ، قَالَ خَطَبَنَا عُمَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ فَقَالَ أَلاَ لاَ تُغَالُوا بِصُدُقِ النِّسَاءِ فَإِنَّهَا لَوْ كَانَتْ مَكْرُمَةً فِي الدُّنْيَا أَوْ تَقْوَى عِنْدَ اللَّهِ لَكَانَ أَوْلاَكُمْ بِهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَا أَصْدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ وَلاَ أُصْدِقَتِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنَاتِهِ أَكْثَرَ مِنْ ثِنْتَىْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً ‏.‏
AbulAjfa' as-Sulami said:Umar (Allah be pleased with him) delivered a speech to us and said: Do not go to extremes in giving women their dower, for if it represented honour in this world and piety in Allah's sight, the one of you most entitled to do so would have been the Prophet (ﷺ). The Messenger of Allah (ﷺ) did not marry any of his wives or gave any of his daughters in marriage for more than twelve uqiyahs
ابوعجفاء سلمی کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے، اللہ ان پر رحم کرے، ہمیں خطاب فرمایا اور کہا: خبردار! عورتوں کے مہر بڑھا چڑھا کر مت باندھو اس لیے کہ اگر یہ ( مہر کی زیادتی ) دنیا میں باعث شرف اور اللہ کے یہاں تقویٰ اور پرہیزگاری کا ذریعہ ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے زیادہ حقدار تھے، آپ نے تو اپنی کسی بھی بیوی اور بیٹی کا بارہ اوقیہ ( چار سو اسی درہم ) سے زیادہ مہر نہیں رکھا۔
حَدَّثَنَا ابْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ زَوْجَ، بَرِيرَةَ كَانَ حُرًّا حِينَ أُعْتِقَتْ وَأَنَّهَا خُيِّرَتْ فَقَالَتْ مَا أُحِبُّ أَنْ أَكُونَ مَعَهُ وَإِنَّ لِي كَذَا وَكَذَا ‏.‏
A’ishah said “Barirah’s husband was a free man when she was emancipated. She was given choice. She said “I do not like to remain with him. I have such and such (grievances)”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جس وقت بریرہ رضی اللہ عنہا آزاد ہوئی اس وقت اس کا شوہر آزاد ۱؎ تھا، اسے اختیار دیا گیا، تو اس نے کہا کہ اگر مجھے اتنا اتنا مال بھی مل جائے تب بھی میں اس کے ساتھ رہنا پسند نہ کروں گی۔
Narrated by Abdullah ibn Abbas
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم احْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ مُحْرِمٌ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Messenger of Allah (ﷺ) had himself cupped when he was fasting and wearing ihram (pilgrim garb)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی ( پچھنا ) لگوایا، آپ روزے سے تھے اور احرام باندھے ہوئے تھے ۱؎۔
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ أُقَيْشٍ، كَانَ لَهُ رِبًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَكَرِهَ أَنْ يُسْلِمَ حَتَّى يَأْخُذَهُ فَجَاءَ يَوْمَ أُحُدٍ ‏.‏ فَقَالَ ‏:‏ أَيْنَ بَنُو عَمِّي قَالُوا ‏:‏ بِأُحُدٍ ‏.‏ قَالَ ‏:‏ أَيْنَ فُلاَنٌ قَالُوا ‏:‏ بِأُحُدٍ ‏.‏ قَالَ ‏:‏ أَيْنَ فُلاَنٌ قَالُوا ‏:‏ بِأُحُدٍ ‏.‏ فَلَبِسَ لأْمَتَهُ وَرَكِبَ فَرَسَهُ ثُمَّ تَوَجَّهَ قِبَلَهُمْ، فَلَمَّا رَآهُ الْمُسْلِمُونَ قَالُوا ‏:‏ إِلَيْكَ عَنَّا يَا عَمْرُو ‏.‏ قَالَ ‏:‏ إِنِّي قَدْ آمَنْتُ ‏.‏ فَقَاتَلَ حَتَّى جُرِحَ، فَحُمِلَ إِلَى أَهْلِهِ جَرِيحًا، فَجَاءَهُ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فَقَالَ لأُخْتِهِ ‏:‏ سَلِيهِ حَمِيَّةً لِقَوْمِكَ أَوْ غَضَبًا لَهُمْ أَمْ غَضَبًا لِلَّهِ فَقَالَ ‏:‏ بَلْ غَضَبًا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ فَمَاتَ ‏.‏ فَدَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَا صَلَّى لِلَّهِ صَلاَةً ‏.‏
Narrated AbuHurayrah: Amr ibn Uqaysh had given usurious loans in pre-Islamic period; so he disliked to embrace Islam until he took them. He came on the day of Uhud and asked: Where are my cousins? They (the people) replied: At Uhud. He asked: Where is so-and-so? They said: At Uhud. He asked: Where is so-and-so? They said: At Uhud. He then put on his coat of mail and rode his horse; he then proceeded towards them. When the Muslims saw him, they said: Keep away, Amir. He said: I have become a believer. He fought until he was wounded. He was then taken to his family wounded. Sa'd ibn Mu'adh came to his sister: Ask him (whether he fought) out of partisanship, out of anger for them, or out of anger for Allah. He said: Out of anger of Allah and His Apostle. He then died and entered Paradise. He did not offer any prayer for Allah
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عمرو بن اقیش رضی اللہ عنہ کا جاہلیت میں کچھ سود ( وصول کرنا ) رہ گیا تھا انہوں نے اسے بغیر وصول کئے اسلام قبول کرنا اچھا نہ سمجھا، چنانچہ ( جب وصول کر چکے تو ) وہ احد کے دن آئے اور پوچھا: میرے چچازاد بھائی کہاں ہیں؟ لوگوں نے کہا: احد میں ہیں، کہا: فلاں کہاں ہے؟ لوگوں نے کہا: احد میں، کہا: فلاں کہاں ہے؟ لوگوں نے کہا: احد میں، پھر انہوں نے اپنی زرہ پہنی اور گھوڑے پر سوار ہوئے، پھر ان کی جانب چلے، جب مسلمانوں نے انہیں دیکھا تو کہا: عمرو ہم سے دور رہو، انہوں نے کہا: میں ایمان لا چکا ہوں، پھر وہ لڑے یہاں تک کہ زخمی ہو گئے اور اپنے خاندان میں زخم خوردہ اٹھا کر لائے گئے، ان کے پاس سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ آئے اور ان کی بہن سے کہا: اپنے بھائی سے پوچھو: اپنی قوم کی غیرت یا ان کی خاطر غصہ سے لڑے یا اللہ کے واسطہ غضب ناک ہو کر، انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ میں اللہ اور اس کے رسول کے واسطہ غضب ناک ہو کر لڑا، پھر ان کا انتقال ہو گیا اور وہ جنت میں داخل ہو گئے، حالانکہ انہوں نے اللہ کے لیے ایک نماز بھی نہیں پڑھی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ، - يَعْنِي الْجُرَيْرِيَّ - عَنْ أَبِي الْوَرْدِ، عَنِ ابْنِ أَعْبُدَ، قَالَ قَالَ لِي عَلِيٌّ رضى الله عنه أَلاَ أُحَدِّثُكَ عَنِّي وَعَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَانَتْ مِنْ أَحَبِّ أَهْلِهِ إِلَيْهِ قُلْتُ بَلَى ‏.‏ قَالَ إِنَّهَا جَرَّتْ بِالرَّحَى حَتَّى أَثَّرَ فِي يَدِهَا وَاسْتَقَتْ بِالْقِرْبَةِ حَتَّى أَثَّرَ فِي نَحْرِهَا وَكَنَسَتِ الْبَيْتَ حَتَّى اغْبَرَّتْ ثِيَابُهَا فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَدَمٌ فَقُلْتُ لَوْ أَتَيْتِ أَبَاكِ فَسَأَلْتِيهِ خَادِمًا فَأَتَتْهُ فَوَجَدَتْ عِنْدَهُ حُدَّاثًا فَرَجَعَتْ فَأَتَاهَا مِنَ الْغَدِ فَقَالَ ‏"‏ مَا كَانَ حَاجَتُكِ ‏"‏ ‏.‏ فَسَكَتَتْ فَقُلْتُ أَنَا أُحَدِّثُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ جَرَّتْ بِالرَّحَى حَتَّى أَثَّرَتْ فِي يَدِهَا وَحَمَلَتْ بِالْقِرْبَةِ حَتَّى أَثَّرَتْ فِي نَحْرِهَا فَلَمَّا أَنْ جَاءَكَ الْخَدَمُ أَمَرْتُهَا أَنْ تَأْتِيَكَ فَتَسْتَخْدِمَكَ خَادِمًا يَقِيهَا حَرَّ مَا هِيَ فِيهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اتَّقِي اللَّهَ يَا فَاطِمَةُ وَأَدِّي فَرِيضَةَ رَبِّكِ وَاعْمَلِي عَمَلَ أَهْلِكِ فَإِذَا أَخَذْتِ مَضْجَعَكِ فَسَبِّحِي ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ وَاحْمَدِي ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ وَكَبِّرِي أَرْبَعًا وَثَلاَثِينَ فَتِلْكَ مِائَةٌ فَهِيَ خَيْرٌ لَكِ مِنْ خَادِمٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ رَضِيتُ عَنِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَعَنْ رَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
Ibn A’bud said, ‘Ali said to me “May I not narrate you about me and Fathimah daughter of the Apostle of Allaah(ﷺ)? She was most favorite to him of his family.” I said “Yes”. He said “She pulled the grinding stone with her hand so much that it affected her hand, she carried water in a water bag so much so that it affected the upper portion of her chest, she swept the house so much so that her clothes became dirty. The Prophet (ﷺ) acquired some slaves”. So I said “Would that you go to your father and ask him for a slave. She then came to him and found some people with him talking to him. She therefore returned. Next day she came again. He asked (her), what was your need? But she kept silence. So I said, I inform you, Apostle of Allaah(ﷺ). She pulled grinding stone so much that it affected her hand, she carried water bag so much so that it affected the upper portion of her chest. When the slaves were brought to you I asked her to come to you and to ask you for a slave to save her from the exertion she is suffering.” He said “Fear Allaah, Fathimah and perform the duty of your Lord and do the work of your family.” When you go to bed say “Glory be to Allaah” thirty three times, “Praise be to Allaah” thirty three times, “Allaah is Most Great” thirty four times. This is hundred times. That will be better for you than a servant. She said “I am pleased with Allaah, Most High and with his Apostle (ﷺ).”
ابن اعبد کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: کیا میں تمہیں اپنے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی جو آپ کو اپنے تمام کنبے والوں میں سب سے زیادہ محبوب اور پیاری تھیں کے متعلق نہ بتاؤں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، ضرور بتائیے، آپ نے کہا: فاطمہ رضی اللہ عنہا نے چکی پیسی یہاں تک کہ ان کے ہاتھوں میں نشان پڑ گئے، اور پانی بھربھر کر مشک لاتیں جس سے ان کے سینے میں درد ہونے لگا اور گھر میں جھاڑو دیتیں جس سے ان کے کپڑے خاک آلود ہو جاتے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ غلام اور لونڈیاں آئیں تو میں نے ان سے کہا: اچھا ہوتا کہ تم اپنے ابا جان کے پاس جاتی، اور ان سے اپنے لیے ایک خادمہ مانگ لیتی، چنانچہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو دیکھا کہ وہاں کچھ لوگ آپ سے گفتگو کر رہے ہیں تو لوٹ آئیں، دوسرے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے آئے اور پوچھا: تم کس ضرورت سے آئی تھیں؟ ، وہ چپ رہیں تو میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں آپ کو بتاتا ہوں، چکی پیستے پیستے ان کے ہاتھ میں نشان ( گٹھا ) پڑ گیا، مشک ڈھوتے ڈھوتے سینے میں درد رہنے لگا اب آپ کے پاس خادم آئے ہیں تو میں نے ان سے کہا کہ وہ آپ کے پاس جائیں، اور آپ سے ایک خادم مانگ کر لائیں، جس کے ذریعہ اس شدت و تکلیف سے انہیں نجات ملے جس سے وہ دو چار ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فاطمہ! اللہ سے ڈرو اور اپنے رب کے فرائض ادا کرتی رہو، اور اپنے گھر کے کام کیا کرو، اور جب سونے چلو تو ( ۳۳ ) بار سبحان اللہ، ( ۳۳ ) بار الحمدللہ، اور ( ۳۴ ) بار اللہ اکبر کہہ لیا کرو، یہ کل سو ہوئے یہ تمہارے لیے خادمہ سے بہتر ہیں ۱؎ ۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے خوش ہوں۔
Narrated by Aishah
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ أُدْرِجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي ثَوْبٍ حِبَرَةٍ ثُمَّ أُخِّرَ عَنْهُ ‏.‏
Narrated 'Aishah:That the Messenger of Allah (ﷺ) was shrouded in a garment of Yemeni stuff, it was then removed from him
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یمنی دھاری دار چادر میں لپیٹے گئے، پھر وہ چادر نکال لی گئی ( اور سفید چادر رکھی گئی ) ۔
Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي الأَحْوَلُ، أَنَّ طَاوُسًا، أَخْبَرَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏:‏ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَرَّ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ بِإِنْسَانٍ يَقُودُهُ بِخِزَامَةٍ فِي أَنْفِهِ، فَقَطَعَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ وَأَمَرَهُ أَنْ يَقُودَهُ بِيَدِهِ ‏.‏
Narrated Ibn 'Abbas:The Prophet (ﷺ) while going round the Ka'bah passed a man who was led with a ring of bridle in his nose. The Prophet (ﷺ) cut it off with his hand and ordered to lead him by catching his hand
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کا طواف کرتے ہوئے ایک ایسے انسان کے پاس سے گزرے جس کی ناک میں ناتھ ڈال کر لے جایا جا رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس کی ناتھ کاٹ دی، اور حکم دیا کہ اس کا ہاتھ پکڑ کر لے جاؤ۔
Narrated by Hakim ibn Hizam
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي أَبُو حُصَيْنٍ، عَنْ شَيْخٍ، مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ مَعَهُ بِدِينَارٍ يَشْتَرِي لَهُ أُضْحِيَةً فَاشْتَرَاهَا بِدِينَارٍ وَبَاعَهَا بِدِينَارَيْنِ فَرَجَعَ فَاشْتَرَى لَهُ أُضْحِيَةً بِدِينَارٍ وَجَاءَ بِدِينَارٍ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَتَصَدَّقَ بِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَدَعَا لَهُ أَنْ يُبَارَكَ لَهُ فِي تِجَارَتِهِ ‏.‏
Narrated Hakim ibn Hizam: The Messenger of Allah (ﷺ) sent with him a dinar to buy a sacrificial animal for him. He bought a sheep for a dinar, sold it for two and then returned and bought a sacrificial animal for a dinar for him and brought the (extra) dinar to the Prophet (ﷺ). The Prophet (ﷺ) gave it as alms (sadaqah) and invoked blessing on him in his trading
حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک دینار دے کر بھیجا کہ وہ آپ کے لیے ایک قربانی کا جانور خرید لیں، انہوں نے قربانی کا جانور ایک دینار میں خریدا اور اسے دو دینار میں بیچ دیا پھر لوٹ کر قربانی کا ایک جانور ایک دینار میں خریدا اور ایک دینار بچا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے صدقہ کر دیا اور ان کے لیے ان کی تجارت میں برکت کی دعا کی۔
Narrated by Buhaisah
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ، عَنْ سَيَّارِ بْنِ مَنْظُورٍ، - رَجُلٍ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ - عَنْ أَبِيهِ، عَنِ امْرَأَةٍ، يُقَالُ لَهَا بُهَيْسَةُ عَنْ أَبِيهَا، قَالَتِ اسْتَأْذَنَ أَبِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَدَخَلَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَمِيصِهِ فَجَعَلَ يُقَبِّلُ وَيَلْتَزِمُ ثُمَّ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا الشَّىْءُ الَّذِي لاَ يَحِلُّ مَنْعُهُ قَالَ ‏"‏ الْمَاءُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا الشَّىْءُ الَّذِي لاَ يَحِلُّ مَنْعُهُ قَالَ ‏"‏ الْمِلْحُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا الشَّىْءُ الَّذِي لاَ يَحِلُّ مَنْعُهُ قَالَ ‏"‏ أَنْ تَفْعَلَ الْخَيْرَ خَيْرٌ لَكَ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Buhaisah:On the authority of her father: My father asked the Prophet (ﷺ) for permission (to kiss his body). (When he was given permission), lifting his shirt he approached his body, and began to kiss and stick to him. He then asked: Prophet of Allah, what is the thing withholding of which is not lawful ? He replied: Water. He asked: Prophet of Allah, what is the thing withholding of which is not lawful ? He replied: Salt. He again asked: Prophet of Allah, what is the thing withholding of which is not lawful ? He said: That you do a good work is better for you
بہیسہ نامی خاتون اپنے والد سے روایت کرتی ہیں کہ میرے والد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہونے کی اجازت مانگی، ( اجازت ملی ) پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کرتہ اٹھا کر آپ کو بوسہ دینے اور آپ سے لپٹنے لگے پھر پوچھا: اللہ کے نبی! وہ کون سی چیز ہے جس کے دینے سے انکار کرنا جائز نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی پھر پوچھا: اللہ کے نبی! ( اور ) کون سی چیز ہے جس کا روکنا درست نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نمک پھر پوچھا: اللہ کے نبی! ( اور ) کون سی چیز ہے جس کا روکنا درست نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جتنی بھی تو نیکی کرے ( یعنی جو چیزیں بھی دے سکتا ہے دے ) تیرے لیے بہتر ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، وَمُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، - قَالَ ابْنُ قُدَامَةَ - حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، - قَالَ ابْنُ قُدَامَةَ - إِنَّ أَخَاهُ أَوْ عَمَّهُ وَقَالَ مُؤَمَّلٌ - إِنَّهُ قَامَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَخْطُبُ فَقَالَ جِيرَانِي بِمَا أَخَذُوا ‏.‏ فَأَعْرَضَ عَنْهُ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ ذَكَرَ شَيْئًا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ خَلُّوا لَهُ عَنْ جِيرَانِهِ ‏"‏ ‏.‏ لَمْ يَذْكُرْ مُؤَمَّلٌ وَهُوَ يَخْطُبُ ‏.‏
Bahz ibn Hakim reported from his grandfather:(Ibn Qudamah's version has: His grandfather's brother or uncle reported:) - the narrator Mu'ammal said: - He (his grandfather Mu'awiyah) got up before the Holy Prophet (ﷺ) who was giving sermon: and he said: Why have your companions arrested my neighbours? He turned away from him twice. He (his grandfather Mu'awiyah) then mentioned something. The Holy Prophet (ﷺ) then said: Let his neighbours go. (Mu'ammal did not mention the words "He was giving sermon)
معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ابن قدامہ کی روایت میں ہے کہ ان کے بھائی یا ان کے چچا اور مومل کی روایت میں ہے وہ خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے ہوئے اور آپ خطبہ دے رہے تھے تو یہ کہنے لگے: کس وجہ سے میرے پڑوسیوں کو پکڑ لیا گیا ہے؟ تو آپ نے ان سے دو مرتبہ منہ پھیر لیا پھر انہوں نے کچھ ذکر کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے پڑوسیوں کو چھوڑ دو اور مومل نے یہ ذکر نہیں کیا ہے کہ آپ خطبہ دے رہے تھے۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، - مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ - قَالَ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى أَبِي فَنَزَلَ عَلَيْهِ فَقَدَّمَ إِلَيْهِ طَعَامًا فَذَكَرَ حَيْسًا أَتَاهُ بِهِ ثُمَّ أَتَاهُ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ فَنَاوَلَ مَنْ عَلَى يَمِينِهِ وَأَكَلَ تَمْرًا فَجَعَلَ يُلْقِي النَّوَى عَلَى ظَهْرِ أُصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى فَلَمَّا قَامَ قَامَ أَبِي فَأَخَذَ بِلِجَامِ دَابَّتِهِ فَقَالَ ادْعُ اللَّهَ لِي ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ وَاغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ ‏"‏ ‏.‏
’Abd Allah b. Busr from Banu Sulaim said:The Messenger of Allah (ﷺ) came to my father and he was a guest with him. He offered food to him and brought hais. He then brought a drink which he drank and he gave it to the one on his right. He ate dried dates and began to put the kernels on the back of his ring finger and middle finger. When he got up, my father also got up, and held the rein of his mount. He said : Pray to Allah for me. He said : O Allah, bless them in what you provided them, and have mercy on them
عبداللہ بن بسر جو بنی سلیم سے تعلق رکھتے ہیں کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے والد کے پاس تشریف لائے اور ان کے پاس قیام کیا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کیا، پھر انہوں نے حیس ۱؎ کا ذکر کیا جسے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئے پھر وہ آپ کے پاس پانی لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا پھر جو آپ کے داہنے تھا اسے دیدیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوریں کھائیں اور ان کی گٹھلیاں درمیانی اور شہادت والی انگلیوں کی پشت پر رکھ کر پھینکنے لگے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو میرے والد بھی کھڑے ہوئے اور انہوں نے آپ کی سواری کی لگام پکڑ کر عرض کیا: میرے لیے اللہ سے دعا کر دیجئیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهم بارك لهم فيما رزقتهم واغفر لهم وارحمهم» اے اللہ جو روزی تو نے انہیں دی ہے اس میں برکت عطا فرما، انہیں بخش دے، اور ان پر رحم فرما ۔
Narrated by AbdurRahman ibn Shibl
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، أَنَّ الْحَكَمَ بْنَ نَافِعٍ، حَدَّثَهُمْ حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ زُرْعَةَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي رَاشِدٍ الْحُبْرَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ أَكْلِ لَحْمِ الضَّبِّ ‏.‏
Narrated AbdurRahman ibn Shibl: The Messenger of Allah (ﷺ) forbade to eat the flesh of lizard
عبدالرحمٰن بن شبل اوسی انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گوہ کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ۱؎۔
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ لِبْسَتَيْنِ أَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ مُفْضِيًا بِفَرْجِهِ إِلَى السَّمَاءِ وَيَلْبَسَ ثَوْبَهُ وَأَحَدُ جَانِبَيْهِ خَارِجٌ وَيُلْقِي ثَوْبَهُ عَلَى عَاتِقِهِ ‏.‏
Narrated AbuHurayrah: The Messenger of Allah (ﷺ) forbade wearing clothes in two styles: that a man sits in a single garment with his hands round his knees and uncover his private parts towards heaven and that he wears his garment while one of his sides is uncovered, and puts the garment on his shoulders
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو قسم کے لباس سے منع فرمایا ہے ایک یہ کہ آدمی اس طرح گوٹ مار کر بیٹھے کہ اس کی شرمگاہ آسمان کی طرف کھلی ہو اس پر کوئی کپڑا نہ ہو، دوسرے یہ کہ اپنا کپڑا سارے بدن پر اس طرح لپیٹ لے کہ ایک طرف کا حصہ کھلا ہو، اور کپڑا اٹھا کر کندھے پر ڈال لیا ہو۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ، قَالَ سَأَلْنَا فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ عَنْ تَعْلِيقِ الْيَدِ، فِي الْعُنُقِ لِلسَّارِقِ أَمِنَ السُّنَّةِ هُوَ قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِسَارِقٍ فَقُطِعَتْ يَدُهُ ثُمَّ أُمِرَ بِهَا فَعُلِّقَتْ فِي عُنُقِهِ ‏.‏
Abd al-Rahman b. Muhariz said: We asked Fadalah b. 'Ubaid about the hanging the (amputated) hand on the neck of a thief whether it was a sunnan. He said: A thief was brought to the Messenger of Allah (ﷺ) and his hand was cut off. Thereafter he commanded for it, and it was hung on his neck
عبدالرحمٰن بن محیریز کہتے ہیں کہ میں نے فضالہ بن عبید سے چور کا ہاتھ کاٹ کر اس کے گلے میں لٹکانے کے متعلق پوچھا کہ کیا یہ مسنون ہے؟ تو آپ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا تو اس کا ہاتھ کاٹا گیا پھر آپ نے اس کے متعلق حکم دیا تو اسے اس کے گلے میں لٹکا دیا گیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، وَمُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، - وَهُوَ أَتَمُّ - قَالاَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ الْمَسْجِدَ كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَبْنِيًّا بِاللَّبِنِ وَالْجَرِيدِ - قَالَ مُجَاهِدٌ وَعَمَدُهُ مِنْ خَشَبِ النَّخْلِ - فَلَمْ يَزِدْ فِيهِ أَبُو بَكْرٍ شَيْئًا وَزَادَ فِيهِ عُمَرُ وَبَنَاهُ عَلَى بِنَائِهِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِاللَّبِنِ وَالْجَرِيدِ وَأَعَادَ عَمَدَهُ - قَالَ مُجَاهِدٌ عُمُدَهُ خَشَبًا - وَغَيَّرَهُ عُثْمَانُ فَزَادَ فِيهِ زِيَادَةً كَثِيرَةً وَبَنَى جِدَارَهُ بِالْحِجَارَةِ الْمَنْقُوشَةِ وَالْقَصَّةِ وَجَعَلَ عَمَدَهُ مِنْ حِجَارَةٍ مَنْقُوشَةٍ وَسَقَّفَهُ بِالسَّاجِ ‏.‏ قَالَ مُجَاهِدٌ وَسَقْفُهُ السَّاجُ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ الْقَصَّةُ الْجِصُّ ‏.‏
Abd Allah b. 'Umar reported:The mosque (of the Prophet) during his lifetime was built with bricks, its roof with branches of the palm-tree, and its pillars with palm-wood, as Mujahid said: Abu Bakr did not add anything to it. But 'Umar added to it; he built as it was built during the lifetime of the Messenger of Allah (ﷺ) with bricks and branches, and he changed its pillars. Mujahid said: Its pillars were made of wood. 'Uthman changed it altogether with increasing addition. He built its walls with decorated stone and lime. And he built the pillars with decorated stone and its roof with teak. Mujahid said: Its roof was made of teak. Abu Dawud said: Al-Qassah means lime used as mortar
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسجد نبوی کچی اینٹوں اور کھجور کی شاخوں سے بنائی گئی تھی، مجاہد کہتے ہیں: اس کے ستون کھجور کی لکڑی کے تھے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کیا، البتہ عمر رضی اللہ عنہ نے اس میں اضافہ کیا، اور اس کی تعمیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بنائی ہوئی بنیادوں کے مطابق کچی اینٹوں اور کھجور کی شاخوں سے کی اور اس کے ستون بھی نئی لکڑی کے لگائے، مجاہد کی روایت میں «عمده خشبا» کے الفاظ ہیں، پھر عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کی عمارت میں تبدیلی کی اور اس میں بہت سارے اضافے کئے، اس کی دیواریں منقش پتھروں اور گچ ( چونا ) سے بنوائیں، اس کے ستون منقش پتھروں کے بنوائے اور اس کی چھت ساگوان کی لکڑی کی بنوائی۔ مجاہد کی روایت میں «وسقفه الساج» کے بجائے «وسقفه بالساج» ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حدیث میں مذکور ( «قصة» ) کے معنی گچ کے ہیں۔
Narrated by Zaid b. Thabit
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، فِي الْمُغَلَّظَةِ أَرْبَعُونَ جَذَعَةً خَلِفَةً وَثَلاَثُونَ حِقَّةً وَثَلاَثُونَ بَنَاتِ لَبُونٍ وَفِي الْخَطَإِ ثَلاَثُونَ حِقَّةً وَثَلاَثُونَ بَنَاتِ لَبُونٍ وَعِشْرُونَ بَنُو لَبُونٍ ذُكُورٍ وَعِشْرُونَ بَنَاتِ مَخَاضٍ ‏.‏
Narrated Zaid b. Thabit:About the bloodwit for quasi-intentional murder..... He then mentioned a similar tradition as mentioned above
عثمان بن عفان اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ دیت مغلظہ یعنی شبہ عمد میں چالیس گابھن جزعہ ، تیس حقہ اور تیس بنت لبون ہیں ، اور دیت خطا میں تیس حقہ ، تیس بنت لبون ، بیس ابن لبون ، اور بیس بنت مخاض ہیں ۔
Narrated by Umar ibn al-Khattab
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيَّ، أَخْبَرَهُمْ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ، عَنِ الأَقْرَعِ، مُؤَذِّنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ بَعَثَنِي عُمَرُ إِلَى الأُسْقُفِّ فَدَعَوْتُهُ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ وَهَلْ تَجِدُنِي فِي الْكِتَابِ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ كَيْفَ تَجِدُنِي قَالَ أَجِدُكَ قَرْنًا ‏.‏ فَرَفَعَ عَلَيْهِ الدِّرَّةَ فَقَالَ قَرْنُ مَهْ فَقَالَ قَرْنٌ حَدِيدٌ أَمِينٌ شَدِيدٌ ‏.‏ قَالَ كَيْفَ تَجِدُ الَّذِي يَجِيءُ مِنْ بَعْدِي فَقَالَ أَجِدُهُ خَلِيفَةً صَالِحًا غَيْرَ أَنَّهُ يُؤْثِرُ قَرَابَتَهُ ‏.‏ قَالَ عُمَرُ يَرْحَمُ اللَّهُ عُثْمَانَ ثَلاَثًا فَقَالَ كَيْفَ تَجِدُ الَّذِي بَعْدَهُ قَالَ أَجِدُهُ صَدَأَ حَدِيدٍ فَوَضَعَ عُمَرُ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ فَقَالَ يَا دَفْرَاهُ يَا دَفْرَاهُ ‏.‏ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّهُ خَلِيفَةٌ صَالِحٌ وَلَكِنَّهُ يُسْتَخْلَفُ حِينَ يُسْتَخْلَفُ وَالسَّيْفُ مَسْلُولٌ وَالدَّمُ مُهْرَاقٌ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ الدَّفْرُ النَّتْنُ ‏.‏
Narrated Umar ibn al-Khattab: Al-Aqra', the mu'adhdhin (announcer) of Umar ibn al-Khattab said: Umar sent me to a bishop and I called him. Umar said to him: Do you find me in the Book? He said: Yes. He asked: How do you find me? He said: I find you (like a) castle. Then he raised a whip to him, saying: What do you mean by castle? He replied: An iron castle and severely trustworthy. He asked: How do you find the one who will come after me? He said: I find him a pious caliph, except that he will prefer his relatives. Umar said: May Allah have mercy on Uthman: He said it three times. He then asked: How do you find the one who will come after him? He replied: I find him like rusty iron. Umar then put his hand on his head, and said: O filthy! O filthy! He said: Commander of the Faithful! He is a pious caliph, but when he is made caliph, the sword will be unsheathed and blood will be shed. Abu Dawud said: Al-dafr means filth or evil smell
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے مؤذن اقرع کہتے ہیں مجھے عمر نے ایک پادری کے پاس بلانے کے لیے بھیجا، میں اسے بلا لایا، تو عمر نے اس سے کہا: کیا تم کتاب میں مجھے ( میرا حال ) پاتے ہو؟ وہ بولا: ہاں، انہوں نے کہا: کیسا پاتے ہو؟ وہ بولا: میں آپ کو قرن پاتا ہوں، تو انہوں نے اس پر درہ اٹھایا اور کہا: قرن کیا ہے؟ وہ بولا: لوہے کی طرح مضبوط اور سخت امانت دار، انہوں نے کہا: جو میرے بعد آئے گا تم اسے کیسے پاتے ہو؟ وہ بولا: میں اسے نیک خلیفہ پاتا ہوں، سوائے اس کے کہ وہ اپنے رشتہ داروں کو ترجیح دے گا، عمر نے کہا: اللہ عثمان پر رحم کرے، ( تین مرتبہ ) پھر کہا: ان کے بعد والے کو تم کیسے پاتے ہو؟ وہ بولا: وہ تو لوہے کا میل ہے ( یعنی برابر تلوار سے کام رہنے کی وجہ سے ان کا بدن اور ہاتھ گویا دونوں ہی زنگ آلود ہو جائیں گے ) عمر نے اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھا، اور فرمایا: اے گندے! بدبودار ( تو یہ کیا کہتا ہے ) اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! وہ ایک نیک خلیفہ ہو گا لیکن جب وہ خلیفہ بنایا جائے گا تو حال یہ ہو گا کہ تلوار بے نیام ہو گی، خون بہہ رہا ہو گا، ( یعنی اس کی خلافت فتنہ کے وقت ہو گی ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «الدفر» کے معنی «نتن» یعنی بدبو کے ہیں۔
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، وَأَبُو دَاوُدَ قَالاَ حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ وَرْدَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الرَّجُلُ عَلَى دِينِ خَلِيلِهِ فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ مَنْ يُخَالِلُ ‏"‏ ‏.‏
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: A man follows the religion of his friend; so each one should consider whom he makes his friend
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، لہٰذا تم میں سے ہر شخص کو یہ دیکھنا چاہیئے کہ وہ کس سے دوستی کر رہا ہے ۔
Narrated by Ali ibn AbuTalib
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ ابْنِ عَقِيلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، عَنْ عَلِيٍّ، رضى الله عنه قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مِفْتَاحُ الصَّلاَةِ الطُّهُورُ وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Ali ibn AbuTalib: The key to prayer is purification; its beginning is takbir and its end is taslim
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز کی کنجی طہارت، اس کی تحریم تکبیر کہنا، اور تحلیل سلام پھیرنا ہے ۱؎۔