حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، - يَعْنِي ابْنَ بِلاَلٍ - عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ إِلَى الْمُصَلَّى يَسْتَسْقِي وَأَنَّهُ لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ ثُمَّ حَوَّلَ رِدَاءَهُ .
Abd Allah b. Zaid said:The Messenger of Allah (pbuh)went out to the place of prayer to pray for rain. When he wanted to make supplication, he faced the qiblah and turned around his cloak
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید گاہ کی طرف بارش طلب کرنے کی غرض سے نکلے، جب آپ نے دعا کرنے کا ارادہ کیا تو قبلہ رخ ہوئے پھر اپنی چادر پلٹی۔
Narrated by Uqbah ibn Amir
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا عُشَّانَةَ الْمَعَافِرِيَّ، حَدَّثَهُ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " يَعْجَبُ رَبُّكُمْ مِنْ رَاعِي غَنَمٍ فِي رَأْسِ شَظِيَّةٍ بِجَبَلٍ يُؤَذِّنُ بِالصَّلاَةِ وَيُصَلِّي فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي هَذَا يُؤَذِّنُ وَيُقِيمُ الصَّلاَةَ يَخَافُ مِنِّي فَقَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِي وَأَدْخَلْتُهُ الْجَنَّةَ " .
Narrated Uqbah ibn Amir: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Allah is pleased with a shepherd of goats who calls to prayer at the peak of a mountain, and offers prayer, Allah, the Exalted, says: Look at this servant of Mine; he calls to prayer and offers it and he fears Me. So I forgive him and admit him to paradise
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: تمہارا رب بکری کے اس چرواہے سے خوش ہوتا ہے جو کسی پہاڑ کی چوٹی میں رہ کر نماز کے لیے اذان دیتا ۱؎ اور نماز ادا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: دیکھو میرے اس بندے کو، یہ اذان دے رہا ہے اور نماز قائم کر رہا ہے، مجھ سے ڈرتا ہے، میں نے اپنے بندے کو بخش دیا اور اسے جنت میں داخل کر دیا ۔
Narrated by Aishah
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُخَفِّفُ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلاَةِ الْفَجْرِ حَتَّى إِنِّي لأَقُولُ هَلْ قَرَأَ فِيهِمَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ
Narrated 'Aishah:The Prophet (ﷺ) would pray two rak'ahs before the dawn prayer lightly so much so that I would say: Did he recite Surah al-Fatihah in them
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے پہلے کی دونوں رکعتیں ہلکی پڑھتے تھے، یہاں تک کہ میں کہتی: کیا آپ نے ان میں سورۃ فاتحہ پڑھی ہے؟
Narrated by Aishah
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، وَدَاوُدُ بْنُ أُمَيَّةَ، أَنَّ سُفْيَانَ، أَخْبَرَهُمْ عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، - وَقَالَ دَاوُدُ عَنِ ابْنِ عُبَيْدِ بْنِ نِسْطَاسٍ، - عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ أَحْيَا اللَّيْلَ وَشَدَّ الْمِئْزَرَ وَأَيْقَظَ أَهْلَهُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَأَبُو يَعْفُورٍ اسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ نِسْطَاسٍ .
Narrated 'Aishah: When the last ten days of Ramadan came, the Prophet (ﷺ) kept vigil and prayed during the whole night, and tied the wrapper tightly, and awakened his family (to pray during the night). Abu Dawud said: The name of Abu Ya'fur is 'Abd al-Rahman b. 'Ubaid b. Nistas
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم راتوں کو جاگتے اور ( عبادت کے لیے ) کمربستہ ہو جاتے اور اپنے گھر والوں کو بھی بیدار کرتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابویعفور کا نام عبدالرحمٰن بن عبید بن نسطاس ہے۔
Narrated by Abd Allah (b. Mas'ud)
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَرَأَ سُورَةَ النَّجْمِ فَسَجَدَ فِيهَا وَمَا بَقِيَ أَحَدٌ مِنَ الْقَوْمِ إِلاَّ سَجَدَ فَأَخَذَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ كَفًّا مِنْ حَصًى أَوْ تُرَابٍ فَرَفَعَهُ إِلَى وَجْهِهِ وَقَالَ يَكْفِينِي هَذَا . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ قُتِلَ كَافِرًا .
Narrated 'Abd Allah (b. Mas'ud):The Messenger of Allah (ﷺ) recited Surah al-Najm and prostrated himself. No one remained there who did not prostrate (along with him). A man from the people took a handful of pebbles or dust and raised it to his face saying: This is enough for me. 'Abd Allah (b. Mas'ud) said: I later saw him killed as an infidel
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ النجم پڑھی اور اس میں سجدہ کیا اور لوگوں میں سے کوئی بھی ایسا نہ رہا جس نے سجدہ نہ کیا ہو، البتہ ایک شخص نے تھوڑی سی ریت یا مٹی مٹھی میں لی اور اسے اپنے منہ ( یعنی پیشانی ) تک اٹھایا اور کہنے لگا: میرے لیے اتنا ہی کافی ہے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اس کے بعد اسے دیکھا کہ وہ حالت کفر میں قتل کیا گیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ سَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنْ صَلاَةِ اللَّيْلِ فَقَالَ بِأُصْبُعَيْهِ هَكَذَا مَثْنَى مَثْنَى وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ .
Ibn 'Umar said:A man who lived in the desert asked the Messenger of Allah (ﷺ) about the prayer at night. He made a sign with his two fingers-in this way in pairs. The witr consists of one rak'ah towards the end in night
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ دیہات کے ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تہجد کی نماز کے بارے میں پوچھا تو آپ نے اپنی دونوں انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اس طرح دو دو رکعتیں ہیں اور آخر رات میں وتر ایک رکعت ہے ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا صُرَدُ بْنُ أَبِي الْمَنَازِلِ، قَالَ سَمِعْتُ حَبِيبًا الْمَالِكِيَّ، قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ يَا أَبَا نُجَيْدٍ إِنَّكُمْ لَتُحَدِّثُونَنَا بِأَحَادِيثَ مَا نَجِدُ لَهَا أَصْلاً فِي الْقُرْآنِ . فَغَضِبَ عِمْرَانُ وَقَالَ لِلرَّجُلِ أَوَجَدْتُمْ فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمٌ وَمِنْ كُلِّ كَذَا وَكَذَا شَاةً شَاةٌ وَمِنْ كُلِّ كَذَا وَكَذَا بَعِيرًا كَذَا وَكَذَا أَوَجَدْتُمْ هَذَا فِي الْقُرْآنِ قَالَ لاَ . قَالَ فَعَنْ مَنْ أَخَذْتُمْ هَذَا أَخَذْتُمُوهُ عَنَّا وَأَخَذْنَاهُ عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَذَكَرَ أَشْيَاءَ نَحْوَ هَذَا .
Habib al-Maliki said:A man said to Imran ibn Husayn: AbuNujayd, you narrate to us traditions whose basis we do not find in the Qur'an. Thereupon, Imran got angry and said to the man: Do you find in the Qur'an that one dirham is due on forty dirhams (as Zakat), and one goat is due on such-and-such number of goats, and one camel will be due on such-and-such number of camels? He replied: No. He said: From whom did you take it? You took it from us, from the Messenger of Allah (ﷺ). He mentioned many similar things
حبیب مالکی کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے کہا: ابونجید! آپ ہم لوگوں سے بعض ایسی حدیثیں بیان کرتے ہیں جن کی کوئی اصل ہمیں قرآن میں نہیں ملتی، عمران رضی اللہ عنہ غضب ناک ہو گئے، اور اس شخص سے یوں گویا ہوئے: کیا قرآن میں تمہیں یہ ملتا ہے کہ ہر چالیس درہم میں ایک درہم ( زکاۃ ) ہے یا اتنی اتنی بکریوں میں ایک بکری زکاۃ ہے یا اتنے اونٹوں میں ایک اونٹ زکاۃ ہے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ نے پوچھا: پھر تم نے یہ کہاں سے لیا؟ تم نے ہم سے لیا اور ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے، اس کے بعد ایسی ہی چند اور باتیں ذکر کیں ۱؎۔
Narrated by Zayd ibn Khalid al-Juhani
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ، - يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ - عَنْ سَالِمِ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ عَنِ اللُّقَطَةِ فَقَالَ " عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ جَاءَ بَاغِيهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ وَإِلاَّ فَاعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا ثُمَّ كُلْهَا فَإِنْ جَاءَ بَاغِيهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ " .
Narrated Zayd ibn Khalid al-Juhani: The Messenger of Allah (ﷺ) was asked about a find. He said: Make it known for a year. If its seeker comes, deliver it to him, otherwise note its container and its string. Then use it; if its seeker comes, deliver it to him
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لقطہٰ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: تم ایک سال تک اس کی تشہیر کرو، اگر اس کا ڈھونڈنے والا آ جائے تو اسے اس کے حوالہ کر دو ورنہ اس کی تھیلی اور سر بندھن کی پہچان رکھو اور پھر اسے کھا جاؤ، اب اگر اس کا ڈھونڈھنے والا آ جائے تو اسے ( اس کی قیمت ) ادا کر دو ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهَنَّادٌ، أَنَّ أَبَا مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعًا، حَدَّثَاهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُسَافِرَ سَفَرًا فَوْقَ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ فَصَاعِدًا إِلاَّ وَمَعَهَا أَبُوهَا أَوْ أَخُوهَا أَوْ زَوْجُهَا أَوِ ابْنُهَا أَوْ ذُو مَحْرَمٍ مِنْهَا " .
Abu Sa’id reported The Apostel of Allah (SWAS) as saying:A woman who believes in Allah and the Last Day must not make a journey of more than three days unless she is accompanied by her father or her brother, or her husband or her son or her relative who is within the prohibited degree
ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی عورت کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو یہ حلال نہیں کہ وہ تین یا اس سے زیادہ دنوں کی مسافت کا سفر کرے سوائے اس صورت کے کہ اس کے ساتھ اس کا باپ ہو یا اس کا بھائی یا اس کا شوہر یا اس کا بیٹا یا اس کا کوئی محرم ۱؎ ۔
Narrated by Abdullah ibn Amr ibn al-'As
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الأَخْنَسِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ مَرْثَدَ بْنَ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيَّ، كَانَ يَحْمِلُ الأُسَارَى بِمَكَّةَ وَكَانَ بِمَكَّةَ بَغِيٌّ يُقَالُ لَهَا عَنَاقُ وَكَانَتْ صَدِيقَتَهُ قَالَ جِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْكِحُ عَنَاقَ قَالَ فَسَكَتَ عَنِّي فَنَزَلَتْ { وَالزَّانِيَةُ لاَ يَنْكِحُهَا إِلاَّ زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ } فَدَعَانِي فَقَرَأَهَا عَلَىَّ وَقَالَ " لاَ تَنْكِحْهَا " .
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-'As: Marthad ibn AbuMarthad al-Ghanawi used to take prisoners (of war) from Mecca (to Medina). At Mecca there was a prostitute called Inaq who had illicit relations with him. (Marthad said:) I came to the Prophet (ﷺ) and said to him: May I marry Inaq, Messenger of Allah? The narrator said: He kept silence towards me. Then the verse was revealed:"....and the adulteress none shall marry save and adulterer or an idolater." He called me and recited this (verse) to me, and said: Do not marry her
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ مرثد بن ابی مرثد غنوی رضی اللہ عنہ قیدیوں کو مکہ سے اٹھا لایا کرتے تھے، مکہ میں عناق نامی ایک بدکار عورت تھی جو ان کی آشنا تھی، مرثد رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں عناق سے شادی کر لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے تو آیت کریمہ«والزانية لا ينكحها إلا زان أو مشرك» نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور اسے پڑھ کر سنایا اور فرمایا: تم اس سے شادی نہ کرنا ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، طَلَّقَ امْرَأَةً لَهُ وَهِيَ حَائِضٌ تَطْلِيقَةً بِمَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ .
The aforesaid tradition has also been transmitted by Nafi’ through a different chain of narrators. This version says Ibn ‘Umar divorced a wife of his while she was menstruating pronouncing one divorce. He then narrated the rest of the tradition similar to the one narrated by Malik
نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی ایک عورت کو حالت حیض میں ایک طلاق دے دی، آگے مالک کی حدیث کے ہم معنی روایت ہے۔
Narrated by Abdullah ibn Abbas
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، { وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ } قَالَ كَانَتْ رُخْصَةً لِلشَّيْخِ الْكَبِيرِ وَالْمَرْأَةِ الْكَبِيرَةِ وَهُمَا يُطِيقَانِ الصِّيَامَ أَنْ يُفْطِرَا وَيُطْعِمَا مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا وَالْحُبْلَى وَالْمُرْضِعُ إِذَا خَافَتَا - قَالَ أَبُو دَاوُدَ يَعْنِي عَلَى أَوْلاَدِهِمَا - أَفْطَرَتَا وَأَطْعَمَتَا .
Narrated Abdullah ibn Abbas: Explaining the verse; "For those who can do it (with hard-ship) is a ransom, the feeding of one, that is indigent," he said: This was a concession granted to the aged man and woman who were able to keep fast; they were allowed to leave the fast and instead feed an indigent person for each fast; (and a concession) to pregnant and suckling woman when they apprehended harm (to themselves)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان: «وعلى الذين يطيقونه فدية طَعام مسكين» زیادہ بوڑھے مرد و عورت ( جو کہ روزے رکھنے کی طاقت رکھتے ہیں ) کے لیے رخصت ہے کہ روزے نہ رکھیں، بلکہ ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں، اور حاملہ نیز دودھ پلانے والی عورت بچے کے نقصان کا خوف کریں تو روزے نہ رکھیں، فدیہ دیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یعنی مرضعہ اور حاملہ کو اپنے بچوں کے نقصان کا خوف ہو تو وہ بھی روزے نہ رکھیں اور ہر روزے کے بدلہ ایک مسکین کو کھانا کھلائیں۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " سَتَكُونُ هِجْرَةٌ بَعْدَ هِجْرَةٍ فَخِيَارُ أَهْلِ الأَرْضِ أَلْزَمُهُمْ مُهَاجَرَ إِبْرَاهِيمَ وَيَبْقَى فِي الأَرْضِ شِرَارُ أَهْلِهَا تَلْفِظُهُمْ أَرَضُوهُمْ تَقْذَرُهُمْ نَفْسُ اللَّهِ وَتَحْشُرُهُمُ النَّارُ مَعَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ " .
‘Abd Allaah bin ‘Amr said “ I heard the Apostle of Allaah(ﷺ) say “There will be emigration after emigration and the people who are best will be those who cleave most closely to places which Abraham migrated. The worst of its people will remain in the earth cast out by their lands, abhorred by Allaah, collected along with apes and swine by fire.””
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: عنقریب ہجرت کے بعد ہجرت ہو گی تو زمین والوں میں بہتر وہ لوگ ہوں گے جو ابراہیم علیہ السلام کی ہجرت گاہ ( شام ) کو لازم پکڑیں گے، اور زمین میں ان کے بدترین لوگ رہ جائیں گے، ان کی سر زمین انہیں باہر پھینک دے گی ۱؎ اور اللہ کی ذات ان سے گھن کرے گی اور آگ انہیں بندروں اور سوروں کے ساتھ اکٹھا کرے گی ۲؎ ۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَحَرَ سَبْعَ بَدَنَاتٍ بِيَدِهِ قِيَامًا وَضَحَّى بِالْمَدِينَةِ بِكَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ .
Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) sacrificed seven camels standing with his own hand, and sacrificed at Medina two horned rams which were white with black markings
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے سات اونٹ کھڑے کر کے نحر کئے اور مدینہ میں دو سینگ دار مینڈھوں کی قربانی کی جن کا رنگ سیاہ اور سفید تھا ( یعنی ابلق تھے سفید کھال کے اندر سیاہ دھاریاں تھیں ) ۔
Narrated by Adi b. Hatim
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا رَمَيْتَ بِسَهْمِكَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَوَجَدْتَهُ مِنَ الْغَدِ وَلَمْ تَجِدْهُ فِي مَاءٍ وَلاَ فِيهِ أَثَرٌ غَيْرَ سَهْمِكَ فَكُلْ وَإِذَا اخْتَلَطَ بِكِلاَبِكَ كَلْبٌ مِنْ غَيْرِهَا فَلاَ تَأْكُلْ لاَ تَدْرِي لَعَلَّهُ قَتَلَهُ الَّذِي لَيْسَ مِنْهَا " .
Narrated 'Adi b. Hatim:The Prophet (ﷺ) as saying: When you shoot your arrow and mention Allah's name, and you find it (the game) after a day, and you do not find it in water, and you find in it only the mark of you arrow, eat (it). But if another dog joins your dogs, do not eat it, for you do not know maybe the one which was not yours has killed it
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم بسم اللہ کہہ کر تیر چلاؤ، پھر اس شکار کو دوسرے روز پاؤ ( یعنی شکار تیر کی چوٹ کھا کر نکل گیا پھر دوسرے روز ملا ) اور وہ تمہیں پانی میں نہ ملا ہو ۱؎، اور نہ تمہارے تیر کے زخم کے سوا اور کوئی نشان ہو تو اسے کھاؤ، اور جب تمہارے کتے کے ساتھ دوسرا کتا بھی شامل ہو گیا ہو ( یعنی دونوں نے مل کر شکار مارا ہو ) تو پھر اس کو مت کھاؤ، کیونکہ تمہیں معلوم نہیں کہ اس جانور کو کس نے قتل کیا ہے؟ ہو سکتا ہے کہ دوسرے کتے نے اسے قتل کیا ہو ۔
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُدَّانِيُّ، حَدَّثَنَا الأَشْعَثُ بْنُ جَابِرٍ، حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ وَالْمَرْأَةَ بِطَاعَةِ اللَّهِ سِتِّينَ سَنَةً ثُمَّ يَحْضُرُهُمَا الْمَوْتُ فَيُضَارَّانِ فِي الْوَصِيَّةِ فَتَجِبُ لَهُمَا النَّارُ " . قَالَ وَقَرَأَ عَلَىَّ أَبُو هُرَيْرَةَ مِنْ هَا هُنَا { مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَى بِهَا أَوْ دَيْنٍ غَيْرَ مُضَارٍّ } حَتَّى بَلَغَ { ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ } . قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا - يَعْنِي الأَشْعَثَ بْنَ جَابِرٍ - جَدُّ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ .
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: A man or a woman acts in obedience to Allah for sixty years, then when they are about to die they cause injury by their will, so they must go to Hell. Then AbuHurayrah recited: "After a legacy which you bequeath or a debt, causing no injury...that will be the mighty success. Abu Dawud said: Al-Ash'ath b. Jabir is the grandfather of Nasr b. 'Ali
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مرد اور عورت دونوں ساٹھ برس تک اللہ کی اطاعت کے کام میں لگے رہتے ہیں، پھر جب انہیں موت آنے لگتی ہے، تو وہ غلط وصیت کر کے وارثوں کو نقصان پہنچاتے ہیں ( کسی کو محروم کر دیتے ہیں، کسی کا حق کم کر دیتے ہیں ) تو ان کے لیے جہنم واجب ہو جاتی ہے ۔ شہر بن حوشب کہتے ہیں: اس موقع پر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے آیت کریمہ «من بعد وصية يوصى بها أو دين غير مضار» پڑھی یہاں تک کہ «ذلك الفوز العظيم» پر پہنچے۔ یعنی ( اس وصیت کے بعد جو کی جائے اور قرض کے بعد جب کہ اوروں کا نقصان نہ کیا گیا ہو، یہ مقرر کیا ہوا اللہ کی طرف سے ہے، اور اللہ تعالیٰ دانا ہے بردبار، یہ حدیں اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی ہیں، اور جو اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرے گا اسے اللہ تعالیٰ جنتوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ ( سورۃ النساء: ۱۱، ۱۲ ) ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ یعنی اشعت بن جابر، نصر بن علی کے دادا ہیں۔
Narrated by Huzail b. Shurahbil al-Awadi
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ الأَوْدِيِّ، عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ الأَوْدِيِّ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ وَسَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ فَسَأَلَهُمَا عَنِ ابْنَةٍ وَابْنَةِ ابْنٍ وَأُخْتٍ، لأَبٍ وَأُمٍّ فَقَالاَ لاِبْنَتِهِ النِّصْفُ وَلِلأُخْتِ مِنَ الأَبِ وَالأُمِّ النِّصْفُ وَلَمْ يُوَرِّثَا ابْنَةَ الاِبْنِ شَيْئًا وَأْتِ ابْنَ مَسْعُودٍ فَإِنَّهُ سَيُتَابِعُنَا فَأَتَاهُ الرَّجُلُ فَسَأَلَهُ وَأَخْبَرَهُ بِقَوْلِهِمَا فَقَالَ لَقَدْ ضَلَلْتُ إِذًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُهْتَدِينَ وَلَكِنِّي سَأَقْضِي فِيهَا بِقَضَاءِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لاِبْنَتِهِ النِّصْفُ وَلاِبْنَةِ الاِبْنِ سَهْمٌ تَكْمِلَةُ الثُّلُثَيْنِ وَمَا بَقِيَ فَلِلأُخْتِ مِنَ الأَبِ وَالأُمِّ .
Narrated Huzail b. Shurahbil al-Awadi:A man came to Abu Musa al-Ash'ari and Salman b. Rabi'ah, and asked about a case where there were a daughter, a son's daughter and full sister. They replied: The daughter gets half and the full gets half. The son's daughter gets nothing. Go to Ibn Mas'ud and you will find that he agrees with me. So the man came to him and informed him about their opinion. He said: I would then be in error and not be one of those who are rightly guided. But I decide concerning the matter as the Messenger of Allah (ﷺ) did: The daughter gets half, and the son's daughter gets a share which complete thirds (i.e. gets a sixth), and what remain to the full sister
ہزیل بن شرحبیل اودی کہتے ہیں ایک شخص ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور سلیمان بن ربیعہ کے پاس آیا اور ان دونوں سے یہ مسئلہ پوچھا کہ ایک بیٹی ہو اور ایک پوتی اور ایک سگی بہن ( یعنی ایک شخص ان کو وارث چھوڑ کر مرے ) تو اس کی میراث کیسے بٹے گی؟ ان دونوں نے جواب دیا کہ بیٹی کو آدھا اور سگی بہن کو آدھا ملے گا، اور انہوں نے پوتی کو کسی چیز کا وارث نہیں کیا ( اور ان دونوں نے پوچھنے والے سے کہا ) تم عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی جا کر پوچھو تو وہ بھی اس مسئلہ میں ہماری موافقت کریں گے، تو وہ شخص ان کے پاس آیا اور ان سے پوچھا اور انہیں ان دونوں کی بات بتائی تو انہوں نے کہا: تب تو میں بھٹکا ہوا ہوں گا اور راہ یاب لوگوں میں سے نہ ہوں گا، لیکن میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کروں گا، اور وہ یہ کہ بیٹی کا آدھا ہو گا اور پوتی کا چھٹا حصہ ہو گا دو تہائی پورا کرنے کے لیے ( یعنی جب ایک بیٹی نے آدھا پایا تو چھٹا حصہ پوتی کو دے کر دو تہائی پورا کر دیں گے ) اور جو باقی رہے گا وہ سگی بہن کا ہو گا۔
Narrated by Al-Miqdam ibn Ma'dikarib
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، سُلَيْمَانَ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْمِقْدَامِ، عَنْ جَدِّهِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ضَرَبَ عَلَى مَنْكِبِهِ ثُمَّ قَالَ لَهُ " أَفْلَحْتَ يَا قُدَيْمُ إِنْ مُتَّ وَلَمْ تَكُنْ أَمِيرًا وَلاَ كَاتِبًا وَلاَ عَرِيفًا " .
Narrated Al-Miqdam ibn Ma'dikarib: The Messenger of Allah (ﷺ) struck him on his shoulders and then said: You will attain success, Qudaym, if you die without having been a ruler, a secretary, or a chief
مقدام بن معد یکرب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے کندھے پر مارا پھر ان سے فرمایا: قدیم! ( مقدام کی تصغیر ہے ) اگر تم امیر، منشی اور عریف ہوئے بغیر مر گئے تو تم نے نجات پا لی ۲؎
Narrated by Usamah b. Zaid
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَعُودُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَىٍّ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ عَرَفَ فِيهِ الْمَوْتَ قَالَ " قَدْ كُنْتُ أَنْهَاكَ عَنْ حُبِّ يَهُودَ " . قَالَ فَقَدْ أَبْغَضَهُمْ أَسْعَدُ بْنُ زُرَارَةَ فَمَهْ فَلَمَّا مَاتَ أَتَاهُ ابْنُهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَىٍّ قَدْ مَاتَ فَأَعْطِنِي قَمِيصَكَ أُكَفِّنْهُ فِيهِ . فَنَزَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَمِيصَهُ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ .
Narrated Usamah b. Zaid:The Messenger of Allah (ﷺ) went out to visit 'Abd Allah b. Ubayy during his illness of which he died. When he entered upon him, he realised death on him. He said: I used to forbid you from the love of Jews. He ('Abd Allah) said: As'ad b. Zurarah hated them. So what (the benefited) ? When he died, his son came and said: Prophet of Allah, 'Abd Allah b. Ubayy has died, give me your shirt, so that I shroud him in it. The Messenger of Allah (ﷺ) took off his shirt and gave it to him
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ابی کے مرض الموت میں اس کی عیادت کے لیے نکلے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس پہنچے تو اس کی موت کو بھانپ لیا، فرمایا: میں تجھے یہود کی دوستی سے منع کرتا تھا ، اس نے کہا: عبداللہ بن زرارہ نے ان سے بغض رکھا تو کیا پایا، جب عبداللہ بن ابی مر گیا تو اس کے لڑکے ( عبداللہ ) آپ کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! عبداللہ بن ابی مر گیا، آپ مجھے اپنی قمیص دے دیجئیے تاکہ اس میں میں اسے کفنا دوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی قمیص اتار کر دے دی۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ حَلَفَ فَقَالَ فِي حَلِفِهِ وَاللاَّتِ فَلْيَقُلْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَمَنْ قَالَ لِصَاحِبِهِ تَعَالَ أُقَامِرْكَ فَلْيَتَصَدَّقْ بِشَىْءٍ " .
Narrated Abu Hurairah:The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: If anyone swears on oath is the course which he says: "By al-Lat" he should say: There is no god but Allah, and that if anyone says to his friend: Come and let me play for money with you, he should give something in charity (sadaqah)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی قسم کھائے اور اپنی قسم میں یوں کہے کہ میں لات کی قسم کھاتا ہوں تو چاہیئے کہ وہ «لا إله إلا الله» کہے، اور جو کوئی اپنے دوست سے کہے کہ آؤ ہم تم جوا کھیلیں تو اس کو چاہیئے کہ کچھ نہ کچھ صدقہ کرے ( تاکہ شرک اور کلمہ شرک کا کفارہ ہو جائے ) ۔
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ أَبِي خَيْرَةَ، يَقُولُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، مُنْذُ أَرْبَعِينَ سَنَةً عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ح وَحَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ دَاوُدَ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِنْدٍ - وَهَذَا لَفْظُهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي خَيْرَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لاَ يَبْقَى أَحَدٌ إِلاَّ أَكَلَ الرِّبَا فَإِنْ لَمْ يَأْكُلْهُ أَصَابَهُ مِنْ بُخَارِهِ " . قَالَ ابْنُ عِيسَى " أَصَابَهُ مِنْ غُبَارِهِ " .
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: A time is certainly coming to mankind when only the receiver of usury will remain, and if he does not receive it, some of its vapour will reach him. Ibn Isa said: Some of its dust will reach him
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک زمانہ ایسا آئے گا جس میں سود کھانے سے کوئی بچ نہ سکے گا اور اگر نہ کھائے گا تو اس کی بھاپ کچھ نہ کچھ اس پر پڑ کر ہی رہے گی ۱؎ ۔ ابن عیسیٰ کی روایت میں «أصابه من بخاره» کی جگہ«أصابه من غباره» ہے، یعنی اس کی گرد کچھ نہ کچھ اس پر پڑ کر ہی رہے گی۔
Narrated by Rafi' ibn Khadij
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، أَخْبَرَنَا أَبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، - يَعْنِي ابْنَ قَارِظٍ - عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " كَسْبُ الْحَجَّامِ خَبِيثٌ وَثَمَنُ الْكَلْبِ خَبِيثٌ وَمَهْرُ الْبَغِيِّ خَبِيثٌ " .
Narrated Rafi' ibn Khadij: The Prophet (ﷺ) said: The earnings of a cupper are impure, the price paid for a dog is impure, and the hire paid to a prostitute is impure
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سینگی ( پچھنا ) لگانے والے کی کمائی بری ( غیر شریفانہ ) ہے ۱؎ کتے کی قیمت ناپاک ہے اور زانیہ عورت کی کمائی ناپاک ( یعنی حرام ) ہے ۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي يَحْيَى الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَبِي الزَّرْقَاءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ { وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ } إِلَى قَوْلِهِ { الْفَاسِقُونَ } هَؤُلاَءِ الآيَاتُ الثَّلاَثُ نَزَلَتْ فِي الْيَهُودِ خَاصَّةً فِي قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرِ .
Ibn 'Abbas said:"If any do fail to judge (by the light of) what Allah has revealed, they are (no better than) unbelievers" up to "wrongdoers." These three verses were revealed about the Jews, particularly about Quraizah and al-Nadir
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں آیت کریمہ «ومن لم يحكم بما أنزل الله فأولئك هم الكافرون» جو اللہ کے حکم کے موافق فیصلہ نہ کریں وہ کافر ہیں اللہ تعالیٰ کے قول «الفاسقون» سورة المائدة: ( ۴۴، ۴۵، ۴۷ ) تک، یہ تینوں آیتیں یہودیوں کے متعلق اور بطور خاص بنی قریظہ اور بنی نضیر کی شان میں نازل ہوئیں۔
Narrated by Abdullah ibn Amr ibn al-'As
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الأَخْنَسِ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُغِيثٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ كُنْتُ أَكْتُبُ كُلَّ شَىْءٍ أَسْمَعُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أُرِيدُ حِفْظَهُ فَنَهَتْنِي قُرَيْشٌ وَقَالُوا أَتَكْتُبُ كُلَّ شَىْءٍ تَسْمَعُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَشَرٌ يَتَكَلَّمُ فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَا فَأَمْسَكْتُ عَنِ الْكِتَابِ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَوْمَأَ بِأُصْبُعِهِ إِلَى فِيهِ فَقَالَ " اكْتُبْ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا يَخْرُجُ مِنْهُ إِلاَّ حَقٌّ " .
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-'As: I used to write everything which I heard from the Messenger of Allah (ﷺ). I intended (by it) to memorise it. The Quraysh prohibited me saying: Do you write everything that you hear from him while the Messenger of Allah (ﷺ) is a human being: he speaks in anger and pleasure? So I stopped writing, and mentioned it to the Messenger of Allah (ﷺ). He signalled with his finger to him mouth and said: Write, by Him in Whose hand my soul lies, only right comes out from it
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میں ہر اس حدیث کو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنتا یاد رکھنے کے لیے لکھ لیتا، تو قریش کے لوگوں نے مجھے لکھنے سے منع کر دیا، اور کہا: کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہر سنی ہوئی بات کو لکھ لیتے ہو؟ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بشر ہیں، غصے اور خوشی دونوں حالتوں میں باتیں کرتے ہیں، تو میں نے لکھنا چھوڑ دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی سے اپنے منہ کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: لکھا کرو، قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس سے حق بات کے سوا کچھ نہیں نکلتا ۔
Narrated by Abdullah ibn Umar
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ، مَوْلاَهُمْ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْغَافِقِيِّ أَنَّهُمَا سَمِعَا ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَعَنَ اللَّهُ الْخَمْرَ وَشَارِبَهَا وَسَاقِيَهَا وَبَائِعَهَا وَمُبْتَاعَهَا وَعَاصِرَهَا وَمُعْتَصِرَهَا وَحَامِلَهَا وَالْمَحْمُولَةَ إِلَيْهِ " .
Narrated Abdullah ibn Umar: The Prophet (ﷺ) said: Allah has cursed wine, its drinker, its server, its seller, its buyer, its presser, the one for whom it is pressed, the one who conveys it, and the one to whom it is conveyed
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شراب کے پینے اور پلانے والے، اس کے بیچنے اور خریدنے والے، اس کے نچوڑنے اور نچوڑوانے والے، اسے لے جانے والے اور جس کے لیے لے جائی جائے سب پر اللہ کی لعنت ہو ۔
Narrated by Abdullah ibn Umar
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا دُرُسْتُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ طَارِقٍ، عَنْ طَارِقٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ دُعِيَ فَلَمْ يُجِبْ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَمَنْ دَخَلَ عَلَى غَيْرِ دَعْوَةٍ دَخَلَ سَارِقًا وَخَرَجَ مُغِيرًا " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ أَبَانُ بْنُ طَارِقٍ مَجْهُولٌ .
Narrated Abdullah ibn Umar: The Prophet (ﷺ) said: He who does not accept an invitation which he receives has disobeyed Allah and His Apostle, and he who enters without invitation enters as a thief and goes out as a raider. Abu Dawud said: Aban bin Tariq is unknown
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے دعوت دی گئی اور اس نے قبول نہیں کیا تو اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی، اور جو بغیر دعوت کے گیا تو وہ چور بن کر داخل ہوا اور لوٹ مار کر نکلا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابان بن طارق مجہول راوی ہیں۔
Narrated by Anas ibn Malik
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، - يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ - حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم احْتَجَمَ ثَلاَثًا فِي الأَخْدَعَيْنِ وَالْكَاهِلِ . قَالَ مَعْمَرٌ احْتَجَمْتُ فَذَهَبَ عَقْلِي حَتَّى كُنْتُ أُلَقَّنُ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ فِي صَلاَتِي . وَكَانَ احْتَجَمَ عَلَى هَامَتِهِ .
Narrated Anas ibn Malik: The Prophet (ﷺ) had himself cupped three times in the veins at the sides of the neck and on the shoulder. Ma'mar said: I got myself cupped, and I lost my memory so much so that I was instructed Surat al-Fatihah by others in my prayer. He had himself cupped at the top of his head
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گردن کے دونوں پٹھوں میں اور دونوں کندھوں کے بیچ میں تین پچھنے لگوائے۔ ایک بوڑھے کا بیان ہے: میں نے پچھنا لگوائے تو میری عقل جاتی رہی یہاں تک کہ میں نماز میں سورۃ فاتحہ لوگوں کے بتانے سے پڑھتا، بوڑھے نے پچھنا اپنے سر پر لگوایا تھا۔
Narrated by Mu'awiyah b. al-Hakam al-Sulami
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ الْحَجَّاجِ الصَّوَّافِ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمِنَّا رِجَالٌ يَخُطُّونَ . قَالَ " كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ فَذَاكَ " .
Narrated Mu'awiyah b. al-Hakam al-Sulami:I said: Messenger of Allah! among us there are men who practice divination by drawing lines. He said: There was a Prophet who drew lines, so if anyone does it as he drew lines, that is right
معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو خط کھینچتے ہیں، آپ نے فرمایا: انبیاء میں ایک نبی تھے جو خط کھینچتے تھے تو جس کا خط ان کے خط کے موافق ہوا تو وہ ٹھیک ہے ۔
Narrated by Aisha, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى أَبُو الأَصْبَغِ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ - عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ وَقَعَتْ جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ بْنِ الْمُصْطَلِقِ فِي سَهْمِ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ أَوِ ابْنِ عَمٍّ لَهُ فَكَاتَبَتْ عَلَى نَفْسِهَا وَكَانَتِ امْرَأَةً مَلاَّحَةً تَأْخُذُهَا الْعَيْنُ - قَالَتْ عَائِشَةُ رضى الله عنها - فَجَاءَتْ تَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي كِتَابَتِهَا فَلَمَّا قَامَتْ عَلَى الْبَابِ فَرَأَيْتُهَا كَرِهْتُ مَكَانَهَا وَعَرَفْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَيَرَى مِنْهَا مِثْلَ الَّذِي رَأَيْتُ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ وَإِنَّمَا كَانَ مِنْ أَمْرِي مَا لاَ يَخْفَى عَلَيْكَ وَإِنِّي وَقَعْتُ فِي سَهْمِ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ وَإِنِّي كَاتَبْتُ عَلَى نَفْسِي فَجِئْتُكَ أَسْأَلُكَ فِي كِتَابَتِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَهَلْ لَكِ إِلَى مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ " . قَالَتْ وَمَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " أُؤَدِّي عَنْكِ كِتَابَتَكِ وَأَتَزَوَّجُكِ " . قَالَتْ قَدْ فَعَلْتُ قَالَتْ فَتَسَامَعَ - تَعْنِي النَّاسَ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ تَزَوَّجَ جُوَيْرِيَةَ فَأَرْسَلُوا مَا فِي أَيْدِيهِمْ مِنَ السَّبْىِ فَأَعْتَقُوهُمْ وَقَالُوا أَصْهَارُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَمَا رَأَيْنَا امْرَأَةً كَانَتْ أَعْظَمَ بَرَكَةً عَلَى قَوْمِهَا مِنْهَا أُعْتِقَ فِي سَبَبِهَا مِائَةُ أَهْلِ بَيْتٍ مِنْ بَنِي الْمُصْطَلِقِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا حُجَّةٌ فِي أَنَّ الْوَلِيَّ هُوَ يُزَوِّجُ نَفْسَهُ .
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: Juwayriyyah, daughter of al-Harith ibn al-Mustaliq, fell to the lot of Thabit ibn Qays ibn Shammas, or to her cousin. She entered into an agreement to purchase her freedom. She was a very beautiful woman, most attractive to the eye. Aisha said: She then came to the Messenger of Allah (ﷺ) asking him for the purchase of her freedom. When she was standing at the door, I looked at her with disapproval. I realised that the Messenger of Allah (ﷺ) would look at her in the same way that I had looked. She said: Messenger of Allah, I am Juwayriyyah, daughter of al-Harith, and something has happened to me, which is not hidden from you. I have fallen to the lot of Thabit ibn Qays ibn Shammas, and I have entered into an agreement to purchase of my freedom. I have come to you to seek assistance for the purchase of my freedom. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Are you inclined to that which is better? She asked: What is that, Messenger of Allah? He replied: I shall pay the price of your freedom on your behalf, and I shall marry you. She said: I shall do this. She (Aisha) said: The people then heard that the Messenger of Allah (ﷺ) had married Juwayriyyah. They released the captives in their possession and set them free, and said: They are the relatives of the Messenger of Allah (ﷺ) by marriage. We did not see any woman greater than Juwayriyyah who brought blessings to her people. One hundred families of Banu al-Mustaliq were set free on account of her. Abu dawud said: This evidence shows that a Muslim ruler may marry a slave woman himself
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ام المؤمنین جویریہ بنت حارث بن مصطلق رضی اللہ عنہا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ یا ان کے چچا زاد بھائی کے حصہ میں آئیں تو جویریہ نے ان سے مکاتبت کر لی، اور وہ ایک خوبصورت عورت تھیں جسے ہر شخص دیکھنے لگتا تھا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے بدل کتابت میں تعاون مانگنے کے لیے آئیں، جب وہ دروازہ پر آ کر کھڑی ہوئیں تو میری نگاہ ان پر پڑی مجھے ان کا آنا اچھا نہ لگا اور میں نے اپنے دل میں کہا کہ عنقریب آپ بھی ان کی وہی ملاحت دیکھیں گے جو میں نے دیکھی ہے، اتنے میں وہ بولیں: اللہ کے رسول! میں جویریہ بنت حارث ہوں، میرا جو حال تھا وہ آپ سے پوشیدہ نہیں ۱؎ ثابت بن قیس کے حصہ میں گئی ہوں، میں نے ان سے مکاتبت کر لی ہے، اور آپ کے پاس اپنے بدل کتابت میں تعاون مانگنے آئی ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس سے بہتر کی رغبت رکھتی ہو؟ وہ بولیں: وہ کیا ہے؟ اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارا بدل کتابت ادا کر دیتا ہوں اور تم سے شادی کر لیتا ہوں وہ بولیں: میں کر چکی ( یعنی مجھے یہ بخوشی منظور ہے ) ۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: پھر جب لوگوں نے ایک دوسرے سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جویریہ سے شادی کر لی ہے تو بنی مصطلق کے جتنے قیدی ان کے ہاتھوں میں تھے سب کو چھوڑ دیا انہیں آزاد کر دیا، اور کہنے لگے کہ یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سسرال والے ہیں، ہم نے کوئی عورت اتنی برکت والی نہیں دیکھی جس کی وجہ سے اس کی قوم کو اتنا زبردست فائدہ ہوا ہو، ان کی وجہ سے بنی مصطلق کے سو قیدی آزاد ہوئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث دلیل ہے اس بات کی کہ ولی خود نکاح کر سکتا ہے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " وَقْتُ الظُّهْرِ مَا لَمْ تَحْضُرِ الْعَصْرُ وَوَقْتُ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ وَوَقْتُ الْمَغْرِبِ مَا لَمْ يَسْقُطْ فَوْرُ الشَّفَقِ وَوَقْتُ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ وَوَقْتُ صَلاَةِ الْفَجْرِ مَا لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ " .
Abd Allah b. 'Amr reported the Prophet (ﷺ) as saying:The time of the Zuhr prayer is as along as the time of the 'Asr prayer has not come; the time of the Asr prayer is as long as the sun has not become yellow ; the time of the Maghrib prayer is as long as the twilight has not ended; the time of the Isha prayer is up to midnight; and the time of the Fajr prayer is as long as the sun has not risen
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ظہر کا وقت اس وقت تک ہے جب تک کہ عصر کا وقت نہ آ جائے، عصر کا وقت اس وقت تک ہے جب تک کہ سورج زرد نہ ہو جائے، مغرب کا وقت اس وقت تک ہے جب تک کہ شفق کی سرخی ختم نہ ہو جائے، عشاء کا وقت آدھی رات تک ہے، اور فجر کا وقت اس وقت تک ہے جب تک کہ سورج نہ نکل آئے ۔
Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَحِقَ الْمُسْلِمُونَ رَجُلاً فِي غُنَيْمَةٍ لَهُ فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ فَقَتَلُوهُ وَأَخَذُوا تِلْكَ الْغُنَيْمَةَ فَنَزَلَتْ { وَلاَ تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلاَمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا } تِلْكَ الْغُنَيْمَةَ .
Narrated Ibn 'Abbas:The Muslims met a man with some sheep of his. He said: Peace be upon you. But they killed him and took those few sheep. Thereupon the following Qur'anic verse was revealed: "...And say to anyone who offers you a salutation: Thou art none of believer, coveting the perishable good of this life." meaning these few sheep
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں مسلمان ایک شخص سے ملے جو اپنی بکریوں کے چھوٹے سے ریوڑ میں تھا اس نے السلام علیکم کہا پھر بھی مسلمانوں نے اسے قتل کر دیا اور وہ ریوڑ لے لیا تو یہ آیت کریمہ: «ولا تقولوا لمن ألقى إليكم السلام لست مؤمنا تبتغون عرض الحياة الدنيا» جو شخص تمہیں سلام کہے اسے یہ نہ کہو کہ تو مسلمان نہیں ہے تم لوگ دنیاوی زندگی کا ساز و سامان یعنی ان بکریوں کو چاہتے ہو ( سورۃ النساء: ۹۴ ) نازل ہوئی۔
Narrated by Jarhad
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ زُرْعَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَرْهَدٍ، عَنْ أَبِيهِ، - قَالَ كَانَ جَرْهَدٌ هَذَا مِنْ أَصْحَابِ الصُّفَّةِ - قَالَ جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عِنْدَنَا وَفَخِذِي مُنْكَشِفَةٌ فَقَالَ " أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْفَخِذَ عَوْرَةٌ " .
Narrated Jarhad: The Messenger of Allah (ﷺ) sat with us and my thigh was uncovered. He said: Do you not know that thigh is a private part ?
زرعہ بن عبدالرحمٰن بن جرہد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں جرہد اصحاب صفہ میں سے تھے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس بیٹھے اور میری ران کھلی ہوئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تجھے معلوم نہیں کہ ران ستر ہے ( اس کو چھپانا چاہیئے ) ۔
Narrated by Umm Salamah, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ بْنِ خَالِدٍ الْحَنَفِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ كَانَ أَحَبَّ الثِّيَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْقَمِيصُ .
Narrated Umm Salamah, Ummul Mu'minin: The clothing which the Messenger of Allah (ﷺ) liked best was shirt
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کپڑوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ قمیص پسند تھی۔
Narrated by Aisha, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَتْنِي كَرِيمَةُ بِنْتُ هَمَّامٍ، أَنَّ امْرَأَةً، أَتَتْ عَائِشَةَ - رضى الله عنها - فَسَأَلَتْهَا عَنْ خِضَابِ الْحِنَّاءِ فَقَالَتْ لاَ بَأْسَ بِهِ وَلَكِنِّي أَكْرَهُهُ كَانَ حَبِيبِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَكْرَهُ رِيحَهُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ تَعْنِي خِضَابَ شَعْرِ الرَّأْسِ .
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: Karimah, daughter of Hammam, told that a woman came to Aisha (Allah be pleased with her) and asked her about dyeing with henna. She replied: There is no harm, but I do not like it. My beloved, the Messenger of Allah (ﷺ), disliked its odour. Abu Dawud said: She meant the colour of hair of the head
کریمہ بنت ہمام کا بیان ہے کہ ایک عورت ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اور ان سے مہندی کے خضاب کے متعلق پوچھا تو آپ نے کہا: اس میں کوئی مضائقہ نہیں، لیکن میں اسے ناپسند کرتی ہوں، میرے محبوب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بو ناپسند فرماتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مراد سر کے بال کا خضاب ہے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، فِي هَذَا الْخَبَرِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَنَقَشَ فِيهِ " مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ " . وَقَالَ " لاَ يَنْقُشْ أَحَدٌ عَلَى نَقْشِ خَاتَمِي هَذَا " . ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ .
The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibn 'Umar through a different chain of narrators from the Prophet (ﷺ). This version adds:He engraved on it "Muhammad, the Messenger of Allah." and said: "No one must engrave anything in the manner of this signet-ring of mine. He then transmitted the rest of the tradition
اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس روایت میں مرفوعاً مروی ہے اس میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «محمد رسول الله» کندہ کرایا، اور فرمایا: کوئی میری اس انگوٹھی کے طرز پر کندہ نہ کرائے پھر راوی نے آگے پوری حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ خَالِدٍ الْيَشْكُرِيِّ، بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ قُلْتُ بَعْدَ السَّيْفِ قَالَ " بَقِيَّةٌ عَلَى أَقْذَاءٍ وَهُدْنَةٌ عَلَى دَخَنٍ " . ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ قَالَ كَانَ قَتَادَةُ يَضَعُهُ عَلَى الرِّدَّةِ الَّتِي فِي زَمَنِ أَبِي بَكْرٍ " عَلَى أَقْذَاءٍ " . يَقُولُ قَذَى . " وَهُدْنَةٌ " . يَقُولُ صُلْحٌ " عَلَى دَخَنٍ " . عَلَى ضَغَائِنَ .
The traditions mentioned above has also been transmitted by Khalid b. Khalid al-Yashkuri through different chain of narrators. This version has:I (Hudhaifah) asked : Will any be spared after the use of the sword ? He replied: There will be remnant with specks in its eye and an illusory truce. He then transmitted the rest of the tradition. Qatadah applied this to the apostasy during the Caliphate of Abu Bakr. The word aqdha' (sing. qadhan) means specks, hudnah means truce and dakhan means malice
خالد بن خالد یشکری سے یہی حدیث مروی ہے اس میں یہ ہے کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے عرض کیا: پھر تلوار کے بعد کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: باقی لوگ رہیں گے مگر دلوں میں ان کے فساد ہو گا، اور ظاہر میں صلح ہو گی پھر آگے انہوں نے پوری حدیث ذکر کی۔ راوی کہتے ہیں: قتادہ اسے ( تلوار کو ) اس فتنہ ارتداد پر محمول کرتے تھے جو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ہوا، اور «اقذاء» کی تفسیر «قذی» سے یعنی غبار اور گندگی سے جو آنکھ یا پینے کی چیز میں پڑ جاتی ہے، اور «ھدنہ» کی تفسیر صلح سے«دخن» کی تفسیر دلوں کے فساد اور کینوں سے کرتے تھے۔
Narrated by Umm Salamah, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمَلِيحِ الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ بَيَانٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ نُفَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الْمَهْدِيُّ مِنْ عِتْرَتِي مِنْ وَلَدِ فَاطِمَةَ " . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ وَسَمِعْتُ أَبَا الْمَلِيحِ يُثْنِي عَلَى عَلِيِّ بْنِ نُفَيْلٍ وَيَذْكُرُ مِنْهُ صَلاَحًا .
Narrated Umm Salamah, Ummul Mu'minin: The Prophet (ﷺ) said: The Mahdi will be of my family, of the descendants of Fatimah. Abdullah ibn Ja'far said: I heard AbulMalih praising Ali ibn Nufayl and describing his good qualities
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: مہدی میری نسل سے فاطمہ کی اولاد میں سے ہوں گے ۔
Narrated by Abdullah ibn Busr
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي بِلاَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " بَيْنَ الْمَلْحَمَةِ وَفَتْحِ الْمَدِينَةِ سِتُّ سِنِينَ وَيَخْرُجُ الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ فِي السَّابِعَةِ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ عِيسَى .
Narrated Abdullah ibn Busr: The Prophet (ﷺ) said: The time between the great war and the conquest of the city (Constantinople) will be six years, and the Dajjal (Antichrist) will come forth in the seventh. Abu Dawud said: This is sounder than the tradition narrated by Isa (bin Yunus)
عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بڑی جنگ اور فتح قسطنطنیہ کے درمیان چھ سال کی مدت ہو گی اور ساتویں سال میں مسیح دجال کا ظہور ہو گا ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ عیسیٰ کی روایت سے زیادہ صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ فَأُتِيَ أَبُو مُوسَى بِرَجُلٍ قَدِ ارْتَدَّ عَنِ الإِسْلاَمِ، فَدَعَاهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً أَوْ قَرِيبًا مِنْهَا فَجَاءَ مُعَاذٌ فَدَعَاهُ فَأَبَى فَضُرِبَ عُنُقُهُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَاهُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ لَمْ يَذْكُرْ الاِسْتِتَابَةَ وَرَوَاهُ ابْنُ فُضَيْلٍ عَنِ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي مُوسَى وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ الاِسْتِتَابَةَ .
Abu Burdah said:A man who turned back from Islam was brought to Abu Musa. He invited him to repent for twenty days or about so. Muadh then came and invited him (to embrace Islam) but he refused. So he was beheaded
اس سند سے بھی ابوبردہ رضی اللہ عنہ سے یہی واقعہ مروی ہے، وہ کہتے ہیں ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص کو لے کر آیا گیا جو اسلام سے مرتد گیا تھا، بیس دن تک یا اس کے لگ بھگ وہ اسے اسلام کی دعوت دیتے رہے کہ اسی دوران معاذ رضی اللہ عنہ آ گئے تو آپ نے بھی اسے اسلام کی دعوت دی لیکن اس نے انکار کر دیا تو آپ نے اس کی گردن مار دی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عبدالملک بن عمیر نے ابوبردہ سے روایت کیا ہے لیکن انہوں نے اس میں توبہ کرانے کا ذکر نہیں کیا ہے اور اسے ابن فضیل نے شیبانی سے شیبانی نے سعید بن ابی بردہ سے، ابوبردہ نے اپنے والد ابوبردہ سے اور ابوبردہ نے ابوموسیٰ اشعری سے روایت کیا ہے اور اس میں بھی انہوں نے توبہ کرانے کا ذکر نہیں کیا ہے ۔
Narrated by Wa'il ibn Hujr
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ الْجُشَمِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَوْفٍ، حَدَّثَنَا حَمْزَةُ أَبُو عُمَرَ الْعَائِذِيُّ، حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ، حَدَّثَنِي وَائِلُ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِذْ جِيءَ بِرَجُلٍ قَاتِلٍ فِي عُنُقِهِ النِّسْعَةُ قَالَ فَدَعَا وَلِيَّ الْمَقْتُولِ فَقَالَ " أَتَعْفُو " . قَالَ لاَ . قَالَ " أَفَتَأْخُذُ الدِّيَةَ " . قَالَ لاَ . قَالَ " أَفَتَقْتُلُ " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ " اذْهَبْ بِهِ " . فَلَمَّا وَلَّى قَالَ " أَتَعْفُو " . قَالَ لاَ . قَالَ " أَفَتَأْخُذُ الدِّيَةَ " . قَالَ لاَ . قَالَ " أَفَتَقْتُلُ " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ " اذْهَبْ بِهِ " . فَلَمَّا كَانَ فِي الرَّابِعَةِ قَالَ " أَمَا إِنَّكَ إِنْ عَفَوْتَ عَنْهُ يَبُوءُ بِإِثْمِهِ وَإِثْمِ صَاحِبِهِ " . قَالَ فَعَفَا عَنْهُ . قَالَ فَأَنَا رَأَيْتُهُ يَجُرُّ النِّسْعَةَ .
Narrated Wa'il ibn Hujr: I was with the Prophet (ﷺ) when a man who was a murderer and had a strap round his neck was brought to him. He then called the legal guardian of the victim and asked him: Do you forgive him? He said: No. He asked: Will you accept the blood-money? He said: No. He asked: Will you kill him? He said: Yes. He said: Take him. When he turned his back, he said: Do you forgive him? He said: No. He said: Will you accept the blood-money? He said: No. He said: Will you kill him? He said: Yes. He said: Take him. After repeating all this a fourth time, he said: If you forgive him, he will bear the burden of his own sin and the sin of the victim. He then forgave him. He (the narrator) said: I saw him pulling the strap
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ اتنے میں ایک قاتل لایا گیا، اس کی گردن میں تسمہ تھا آپ نے مقتول کے وارث کو بلوایا، اور اس سے پوچھا: کیا تم معاف کرو گے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو کیا دیت لو گے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو کیا تم قتل کرو گے؟ اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا لے جاؤ اسے چنانچہ جب وہ ( اسے لے کر ) چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تم اسے معاف کرو گے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم دیت لو گے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم قتل کرو گے؟ اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے لے جاؤ چوتھی بار میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو! اگر تم اسے معاف کر دو گے تو یہ اپنا اور مقتول دونوں کا گناہ اپنے سر پر اٹھائے گا یہ سن کر اس نے اسے معاف کر دیا۔ وائل کہتے ہیں: میں نے اسے دیکھا وہ اپنے گلے میں پڑا تسمہ گھسیٹ رہا تھا۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، قَالَ قَدِمْتُ عَلَى أَهْلِي وَقَدْ تَشَقَّقَتْ يَدَاىَ فَخَلَّقُونِي بِزَعْفَرَانٍ فَغَدَوْتُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَىَّ وَقَالَ " اذْهَبْ فَاغْسِلْ هَذَا عَنْكَ " .
‘Ammar b. Yasir said:I came to my family when my hands had cracks. They dyed me with saffron. I then went to Prophet (ﷺ) and saluted him, but he did not return me salutation. He said: Go and wash it away from you
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں اپنے گھر والوں کے پاس آیا، میرے دونوں ہاتھ پھٹ گئے تھے، تو انہوں نے میرے ( ہاتھوں پر ) زعفران مل دیا، صبح کو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور سلام کیا تو آپ نے مجھے جواب نہیں دیا اور فرمایا: جاؤ اسے دھو ڈالو ۔
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، - يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ - عَنْ بِشْرٍ، - يَعْنِي ابْنَ مَنْصُورٍ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَبْنَاءِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَبِيهِ قَالَ - قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ قَالَ " مَلأَهُ اللَّهُ أَمْنًا وَإِيمَانًا " . لَمْ يَذْكُرْ قِصَّةَ " دَعَاهُ اللَّهُ " . زَادَ " وَمَنْ تَرَكَ لُبْسَ ثَوْبِ جَمَالٍ وَهُوَ يَقْدِرُ عَلَيْهِ " . قَالَ بِشْرٌ أَحْسِبُهُ قَالَ " تَوَاضُعًا كَسَاهُ اللَّهُ حُلَّةَ الْكَرَامَةِ وَمَنْ زَوَّجَ لِلَّهِ تَعَالَى تَوَّجَهُ اللَّهُ تَاجَ الْمُلْكِ " .
Suwaid b. Wahb quoted a son of a Companion of the Prophet (ﷺ) who said his father reported the Messenger of Allah (ﷺ) said:He then mentioned a similar tradition described above. This version has: Allah will fill his heart with security and faith. He did not mention the words "Allah will call him". This version further adds: He who gives up wearing beautiful garments when he is able to do so (out of humility, as Bishr's version has) will be clothed by Allah with the robe of honour, and he who marries for Allah's sake will be crowned by Allah with the crown of Kingdom
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے فرزندوں میں سے ایک شخص اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح فرمایا، آپ نے فرمایا: اللہ اسے امن اور ایمان سے بھر دے گا اور اس میں یہ واقعہ مذکور نہیں کہ اللہ اسے بلائے گا، البتہ اتنا اضافہ ہے، اور جو خوب ( تواضع و فروتنی میں ) صورتی کا لباس پہننا ترک کر دے، حالانکہ وہ اس کی قدرت رکھتا ہو، تو اللہ تعالیٰ اسے عزت کا جوڑا پہنائے گا، اور جو اللہ کی خاطر شادی کرائے گا ۱؎ تو اللہ اسے بادشاہت کا تاج پہنائے گا ۔
Narrated by Zayd ibn Arqam
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ هَذِهِ الْحُشُوشَ مُحْتَضَرَةٌ فَإِذَا أَتَى أَحَدُكُمُ الْخَلاَءَ فَلْيَقُلْ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ " .
Narrated Zayd ibn Arqam: The Messenger of Allah (ﷺ) said: These privies are frequented by the jinns and devils. So when anyone amongst you goes there, he should say: "I seek refuge in Allah from male and female devils
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قضائے حاجت ( پیشاب و پاخانہ ) کی یہ جگہیں جن اور شیطان کے موجود رہنے کی جگہیں ہیں، جب تم میں سے کوئی شخص بیت الخلاء میں جائے تو یہ دعا پڑھے «أعوذ بالله من الخبث والخبائث» میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ناپاک جن مردوں اور ناپاک جن عورتوں سے ۔