Narrated by Aisha, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَيْسٍ، يَقُولُ قَالَتْ عَائِشَةُ رضى الله عنها لاَ تَدَعْ قِيَامَ اللَّيْلِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ لاَ يَدَعُهُ وَكَانَ إِذَا مَرِضَ أَوْ كَسِلَ صَلَّى قَاعِدًا .
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: Do not give up prayer at night, for the Messenger of Allah (ﷺ) would not leave it. Whenever he fell ill or lethargic, he would offer it sitting
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں تہجد ( قیام اللیل ) نہ چھوڑو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے نہیں چھوڑتے تھے، جب آپ بیمار یا سست ہوتے تو بیٹھ کر پڑھتے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مَالِكٍ، وَحَيْوَةُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَىْءٍ مَا أَذِنَ لِنَبِيٍّ حَسَنِ الصَّوْتِ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ يَجْهَرُ بِهِ " .
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:Allah has not listened to anything as He does to a Prophet chanting the Qur'an with a loud voice
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کسی کی اتنی نہیں سنتا جتنی ایک خوش الحان رسول کی سنتا ہے جب کہ وہ قرآن کو خوش الحانی سے بلند آواز سے پڑھ رہا ہو ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، وَبِشْرَ بْنَ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَاهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، ح وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ فَرَضَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ تَمْرٍ عَلَى الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ وَالْحُرِّ وَالْمَمْلُوكِ زَادَ مُوسَى وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى . قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ فِيهِ أَيُّوبُ وَعَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِي الْعُمَرِيَّ - فِي حَدِيثِهِمَا عَنْ نَافِعٍ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى . أَيْضًا .
Ibn ‘Umar said :The Messenger of Allah(ﷺ) prescribed sadaqah at the end of Ramadan one sa’ of barley and dried dates, payable by young and old freeman and slave. The version of Musa adds : “ male and female”. Abu Dawud said : the words “male and female” narrated, by Ayyub and ‘Abd Allah al Umar were narrated in their version on the authority of Nafi’
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر جو یا کھجور میں سے ہر چھوٹے بڑے اور آزاد اور غلام پر ایک صاع فرض کیا ہے۔ موسیٰ کی روایت میں «والذكر والأنثى» بھی ہے یعنی مرد اور عورت پر بھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس میں ایوب اور عبداللہ یعنی عمری نے اپنی اپنی روایتوں میں نافع سے «ذكر أو أنثى» کے الفاظ ( نکرہ کے ساتھ ) ذکر کئے ہیں۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُوَافِينَ هِلاَلَ ذِي الْحِجَّةِ فَلَمَّا كَانَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ قَالَ " مَنْ شَاءَ أَنْ يُهِلَّ بِحَجٍّ فَلْيُهِلَّ وَمَنْ شَاءَ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهِلَّ بِعُمْرَةٍ " . قَالَ مُوسَى فِي حَدِيثِ وُهَيْبٍ " فَإِنِّي لَوْلاَ أَنِّي أَهْدَيْتُ لأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ " . وَقَالَ فِي حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ " وَأَمَّا أَنَا فَأُهِلُّ بِالْحَجِّ فَإِنَّ مَعِيَ الْهَدْىَ " . ثُمَّ اتَّفَقُوا فَكُنْتُ فِيمَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَلَمَّا كَانَ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ حِضْتُ فَدَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا أَبْكِي فَقَالَ " مَا يُبْكِيكِ " . قُلْتُ وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ خَرَجْتُ الْعَامَ . قَالَ " ارْفُضِي عُمْرَتَكِ وَانْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي " . قَالَ مُوسَى " وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ " . وَقَالَ سُلَيْمَانُ " وَاصْنَعِي مَا يَصْنَعُ الْمُسْلِمُونَ فِي حَجِّهِمْ " . فَلَمَّا كَانَ لَيْلَةُ الصَّدَرِ أَمَرَ - يَعْنِي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَذَهَبَ بِهَا إِلَى التَّنْعِيمِ . زَادَ مُوسَى فَأَهَلَّتْ بِعُمْرَةٍ مَكَانَ عُمْرَتِهَا وَطَافَتْ بِالْبَيْتِ فَقَضَى اللَّهُ عُمْرَتَهَا وَحَجَّهَا . قَالَ هِشَامٌ وَلَمْ يَكُنْ فِي شَىْءٍ مِنْ ذَلِكَ هَدْىٌ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ زَادَ مُوسَى فِي حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْبَطْحَاءِ طَهُرَتْ عَائِشَةُ رضى الله عنها .
Ai’shah said :We went out along with The Messenger of Allah (SWAS) when the moon of the month of Dhu al-Hijja was going to appear shortly. When he reached Dhu al-Hulaifah he said : Anyone who wants to perform Hajj should raise his voice in Talbiyah for Hajj (after wearing Ihram); and he who wants to perform `Umrah should raise his voice in talbiyah for an `Umrah. The narrator Musa in the version of Wuhaib reported him (the Prophet) as saying if there were no sacrificial animals with me, I would raise my voice in talbiyah for an `Umrah. But according to the version of Hammad bin Salamah, he said as for myself, I shall raise my voice in talbiyah for Hajj because I have sacrificial animal with me. The agreed version goes I (Ai’shah) was one of those persons who wore Ihram for an ‘Umrah. But on my way (to Makkah) I menstruated. The Messenger of Allah (SWAS) entered upon me while I was weeping. He asked why are you weeping? I wished I would not come out (for Hajj) this year. He said give up your `Umrah; untie your hair and comb. The version of Musa said and raise your voice in talbiyah for Hajj (after wearing Ihram). Sulaiman’s version goes and do as all the Muslims do during their Hajj. When the night for performing the obligatory circumambulation (tawaf al-Ziyarah) came, the Messenger of Allah (SWAS) commanded `Abd al-Rahman. He took her to al-Tan’im (instead of the words “her ‘Umrah”). She went round the Ka’bah. Allah thus completed both her ‘Umrah and Hajj. Hisham said : No sacrificial animal was offered during all this time. In the version of Hammad bin Salamah, the narrator Musa added when the night of al-Batha came Ai’ shah was purified
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب ذی الحجہ کا چاند نکلنے کو ہوا تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، جب آپ ذی الحلیفہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو حج کا احرام باندھنا چاہے وہ حج کا احرام باندھے، اور جو عمرہ کا احرام باندھنا چاہے وہ عمرہ کا باندھے ۔ موسیٰ نے وہیب والی روایت میں کہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں ہدی نہ لے چلتا تو میں بھی عمرہ کا احرام باندھتا ۔ اور حماد بن سلمہ کی حدیث میں ہے: رہا میں تو میں حج کا احرام باندھتا ہوں کیونکہ میرے ساتھ ہدی ہے ۔ آگے دونوں راوی متفق ہیں ( ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ) میں عمرے کا احرام باندھنے والوں میں تھی، آپ ابھی راستہ ہی میں تھے کہ مجھے حیض آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، میں رو رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیوں رو رہی ہو؟ ، میں نے عرض کیا: میری خواہش یہ ہو رہی ہے کہ میں اس سال نہ نکلتی ( تو بہتر ہوتا ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا عمرہ چھوڑ دو، سر کھول لو اور کنگھی کر لو ۔ موسیٰ کی روایت میں ہے: اور حج کا احرام باندھ لو ، اور سلیمان کی روایت میں ہے: اور وہ تمام کام کرو جو مسلمان اپنے حج میں کرتے ہیں ۔ تو جب طواف زیارت کی رات ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن کو حکم دیا چنانچہ وہ انہیں مقام تنعیم لے کر گئے۔ موسیٰ نے یہ اضافہ کیا ہے کہ انہوں نے اپنے اس عمرے کے عوض ( جو ان سے چھوٹ گیا تھا ) دوسرے عمرے کا احرام باندھا اور بیت اللہ کا طواف کیا، اس طرح اللہ نے ان کے عمرے اور حج دونوں کو پورا کر دیا۔ ہشام کہتے ہیں: اور اس میں ان پر اس سے کوئی ہدی لازم نہیں ہوئی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: موسیٰ نے حماد بن سلمہ کی حدیث میں یہ اضافہ کیا ہے کہ جب بطحاء ۱؎ کی رات آئی تو عائشہ رضی اللہ عنہا حیض سے پاک ہو گئیں۔
Narrated by Maymunah, daughter of Kardam
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ مِقْسَمٍ الثَّقَفِيُّ، - مِنْ أَهْلِ الطَّائِفِ - حَدَّثَتْنِي سَارَّةُ بِنْتُ مِقْسَمٍ، أَنَّهَا سَمِعَتْ مَيْمُونَةَ بِنْتَ كَرْدَمٍ، قَالَتْ خَرَجْتُ مَعَ أَبِي فِي حَجَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَدَنَا إِلَيْهِ أَبِي وَهُوَ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ فَوَقَفَ لَهُ وَاسْتَمَعَ مِنْهُ وَمَعَهُ دِرَّةٌ كَدِرَّةِ الْكُتَّابِ فَسَمِعْتُ الأَعْرَابَ وَالنَّاسَ وَهُمْ يَقُولُونَ الطَّبْطَبِيَّةَ الطَّبْطَبِيَّةَ الطَّبْطَبِيَّةَ فَدَنَا إِلَيْهِ أَبِي فَأَخَذَ بِقَدَمِهِ فَأَقَرَّ لَهُ وَوَقَفَ عَلَيْهِ وَاسْتَمَعَ مِنْهُ فَقَالَ إِنِّي حَضَرْتُ جَيْشَ عِثْرَانَ - قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى جَيْشَ غِثْرَانَ - فَقَالَ طَارِقُ بْنُ الْمُرَقَّعِ مَنْ يُعْطِينِي رُمْحًا بِثَوَابِهِ قُلْتُ وَمَا ثَوَابُهُ قَالَ أُزَوِّجُهُ أَوَّلَ بِنْتٍ تَكُونُ لِي . فَأَعْطَيْتُهُ رُمْحِي ثُمَّ غِبْتُ عَنْهُ حَتَّى عَلِمْتُ أَنَّهُ قَدْ وُلِدَ لَهُ جَارِيَةٌ وَبَلَغَتْ ثُمَّ جِئْتُهُ فَقُلْتُ لَهُ أَهْلِي جَهِّزْهُنَّ إِلَىَّ . فَحَلَفَ أَنْ لاَ يَفْعَلَ حَتَّى أُصْدِقَهُ صَدَاقًا جَدِيدًا غَيْرَ الَّذِي كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ وَحَلَفْتُ لاَ أُصْدِقُ غَيْرَ الَّذِي أَعْطَيْتُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَبِقَرْنِ أَىِّ النِّسَاءِ هِيَ الْيَوْمَ " . قَالَ قَدْ رَأَتِ الْقَتِيرَ . قَالَ " أَرَى أَنْ تَتْرُكَهَا " . قَالَ فَرَاعَنِي ذَلِكَ وَنَظَرْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ مِنِّي قَالَ " لاَ تَأْثَمُ وَلاَ يَأْثَمُ صَاحِبُكَ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ الْقَتِيرُ الشَّيْبُ .
Narrated Maymunah, daughter of Kardam: I went out along with my father during the hajj performed by the Messenger of Allah (ﷺ). I saw the Messenger of Allah (ﷺ). My father came near him; he was riding his she-camel. He stopped there and listened to him. He had a whip like the whip of the teachers. I heard the Bedouin and the people saying: Keep away from the whip. My father came up to him. He caught hold of his foot and acknowledged him (his Prophethood). He stopped and listened to him. He then said: I participated in the army of Athran (in the pre-Islamic days). The narrator, Ibn al-Muthanna, said: Army of Gathran. Tariq ibn al-Muraqqa' said: Who will give me a lance and get a reward? I asked: What is its reward? He replied: I shall marry him to my first daughter born to me. So I gave him my lance and then disappeared from him till I knew that a daughter was born to him and she came of age. I then came to him and said: Send my wife to me. He swore that he would not do that until I fixed a dower afresh other than that agreed between me and him, and I swore that I should not give him the dower other than that I had given him before. The Messenger of Allah (ﷺ) said: How old is she now? He said: She has grown old. He said: I think you should leave her. He said: This put awe and fear into me, and I looked at the Messenger of Allah (ﷺ). When he felt this in me, he said: You will not be sinful, nor will your companion be sinful. Abu Dawud said: Qatir means old age
سارہ بنت مقسم نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے میمونہ بنت کردم رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج میں اپنے والد کے ساتھ نکلی، میرے والد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچے، آپ اپنی اونٹنی پر سوار تھے تو وہ آپ کے پاس کھڑے ہو گئے، اور آپ کی باتیں سننے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس معلموں کے درے کی طرح ایک درہ تھا، میں نے بدوؤں نیز دیگر لوگوں کو کہتے ہوئے سنا کہ تھپتھپانے سے بچو، تھپتھپانے سے بچو تھپتھپانے سے بچو ۱؎۔ میرے والد نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب جا کر آپ کا پیر پکڑ لیا اور آپ کے رسول ہونے کا اقرار کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ٹھہرے رہے اور آپ کی بات کو غور سے سنا، پھر کہا کہ میں لشکر عثران ( یہ جاہلیت کی جنگ ہے ) میں حاضر تھا، ( ابن مثنی کی روایت میں جیش عثران کے بجائے جیش غثران ہے ) تو طارق بن مرقع نے کہا: مجھے اس کے عوض میں نیزہ کون دیتا ہے؟ میں نے پوچھا: اس کا عوض کیا ہو گا؟ کہا: میری جو پہلی بیٹی ہو گی اس کے ساتھ اس کا نکاح کر دوں گا، چنانچہ میں نے اپنا نیزہ اسے دے دیا اور غائب ہو گیا، جب مجھے پتہ چلا کہ اس کی بیٹی ہو گئی اور جوان ہو گئی ہے تو میں اس کے پاس پہنچ گیا اور اس سے کہا کہ میری بیوی کو میرے ساتھ رخصت کرو تو وہ قسم کھا کر کہنے لگا کہ وہ ایسا نہیں کر سکتا، جب تک کہ میں اسے مہر جدید ادا نہ کر دوں اس عہد و پیمان کے علاوہ جو میرے اور اس کے درمیان ہوا تھا، میں نے بھی قسم کھا لی کہ جو میں اسے دے چکا ہوں اس کے علاوہ کوئی اور مہر نہیں دے سکتا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اب وہ کن عورتوں کی عمر میں ہے ( یعنی اس کی عمر اس وقت کیا ہے ) ، اس نے کہا: وہ بڑھاپے کو پہنچ گئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری رائے ہے کہ تم اسے جانے دو ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بات نے مجھے گھبرا دیا میں آپ کی جانب دیکھنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری جب یہ حالت دیکھی تو فرمایا: ( گھبراؤ مت ) نہ تم گنہگار ہو گے اور نہ ہی تمہارا ساتھی ۲؎ گنہگار ہو گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: روایت میں وارد لفظ «قتیر» کا مطلب بڑھاپا ہے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ زَوْجَ، بَرِيرَةَ كَانَ عَبْدًا أَسْوَدَ يُسَمَّى مُغِيثًا فَخَيَّرَهَا - يَعْنِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم - وَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ .
Ibn ‘Abbas said “The husband of Barirah was a black slave called Mughith. The Prophet (ﷺ) gave her choice and commanded her to observe the waiting period.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر ایک کالے کلوٹے غلام تھے جن کا نام مغیث رضی اللہ عنہ تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ( مغیث کے ساتھ رہنے یا نہ رہنے کا ) اختیار دیا اور ( نہ رہنے کی صورت میں ) انہیں عدت گزارنے کا حکم فرمایا۔
Narrated by Thawban, the client of the Prophet (ﷺ)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ، ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ - عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي مَكْحُولٌ، أَنَّ شَيْخًا، مِنَ الْحَىِّ - قَالَ عُثْمَانُ فِي حَدِيثِهِ مُصَدَّقٌ - أَخْبَرَهُ أَنَّ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ " .
Narrated Thawban, the client of the Prophet (ﷺ):The Prophet (ﷺ) as saying: A man who cups and a man who gets himself cupped break their fast
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مولیٰ ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سینگی ( پچھنا ) لگانے والے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا ۔
Narrated by Jabir ibn Abdullah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ أَرَادَ أَنْ يَغْزُوَ فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ، إِنَّ مِنْ إِخْوَانِكُمْ قَوْمًا لَيْسَ لَهُمْ مَالٌ وَلاَ عَشِيرَةٌ فَلْيَضُمَّ أَحَدُكُمْ إِلَيْهِ الرَّجُلَيْنِ أَوِ الثَّلاَثَةَ فَمَا لأَحَدِنَا مِنْ ظَهْرٍ يَحْمِلُهُ إِلاَّ عُقْبَةٌ كَعُقْبَةِ " . يَعْنِي أَحَدِهِمْ . فَضَمَمْتُ إِلَىَّ اثْنَيْنِ أَوْ ثَلاَثَةً، قَالَ : مَا لِي إِلاَّ عُقْبَةٌ كَعُقْبَةِ أَحَدِهِمْ مِنْ جَمَلِي .
Narrated Jabir ibn Abdullah: Once the Messenger of Allah (ﷺ) intended to go on an expedition. He said: O group of the emigrants (Muhajirun) and the helpers (Ansar), among your brethren there are people who have neither property nor family. So one of you should take with him two or three persons; with me. I also rode on my camel by turns like one of them
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کا ارادہ کیا تو فرمایا: اے مہاجرین اور انصار کی جماعت! تمہارے بھائیوں میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جن کے پاس مال ہے نہ کنبہ، تو ہر ایک تم میں سے اپنے ساتھ دو یا تین آدمیوں کو شریک کر لے، تو ہم میں سے بعض کے پاس سواری نہیں ہوتی سوائے اس کے کہ وہ باری باری سوار ہوں ، تو میں نے اپنے ساتھ دو یا تین آدمیوں کو لے لیا، میں بھی صرف باری سے اپنے اونٹ پر سوار ہوتا تھا، جیسے وہ ہوتے تھے۔
Narrated by AbdulMuttalib ibn Rabi'ah ibn al-Harith
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ الْهَاشِمِيُّ، أَنَّ عَبْدَ الْمُطَّلِبِ بْنَ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ رَبِيعَةَ بْنَ الْحَارِثِ وَعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالاَ لِعَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ وَلِلْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ائْتِيَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُولاَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ بَلَغْنَا مِنَ السِّنِّ مَا تَرَى وَأَحْبَبْنَا أَنْ نَتَزَوَّجَ وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَبَرُّ النَّاسِ وَأَوْصَلُهُمْ وَلَيْسَ عِنْدَ أَبَوَيْنَا مَا يُصْدِقَانِ عَنَّا فَاسْتَعْمِلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَى الصَّدَقَاتِ فَلْنُؤَدِّ إِلَيْكَ مَا يُؤَدِّي الْعُمَّالُ وَلْنُصِبْ مَا كَانَ فِيهَا مِنْ مِرْفَقٍ . قَالَ فَأَتَى إِلَيْنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَنَحْنُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ فَقَالَ لَنَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ وَاللَّهِ لاَ نَسْتَعْمِلُ مِنْكُمْ أَحَدًا عَلَى الصَّدَقَةِ " . فَقَالَ لَهُ رَبِيعَةُ هَذَا مِنْ أَمْرِكَ قَدْ نِلْتَ صِهْرَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ نَحْسُدْكَ عَلَيْهِ . فَأَلْقَى عَلِيٌّ رِدَاءَهُ ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَيْهِ فَقَالَ أَنَا أَبُو حَسَنٍ الْقَرْمُ وَاللَّهِ لاَ أَرِيمُ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَيْكُمَا ابْنَاكُمَا بِجَوَابِ مَا بَعَثْتُمَا بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . قَالَ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَالْفَضْلُ إِلَى بَابِ حُجْرَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى نُوَافِقَ صَلاَةَ الظُّهْرِ قَدْ قَامَتْ فَصَلَّيْنَا مَعَ النَّاسِ ثُمَّ أَسْرَعْتُ أَنَا وَالْفَضْلُ إِلَى بَابِ حُجْرَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَوْمَئِذٍ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فَقُمْنَا بِالْبَابِ حَتَّى أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخَذَ بِأُذُنِي وَأُذُنِ الْفَضْلِ ثُمَّ قَالَ أَخْرِجَا مَا تُصَرِّرَانِ ثُمَّ دَخَلَ فَأَذِنَ لِي وَلِلْفَضْلِ فَدَخَلْنَا فَتَوَاكَلْنَا الْكَلاَمَ قَلِيلاً ثُمَّ كَلَّمْتُهُ أَوْ كَلَّمَهُ الْفَضْلُ - قَدْ شَكَّ فِي ذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ - قَالَ كَلَّمَهُ بِالأَمْرِ الَّذِي أَمَرَنَا بِهِ أَبَوَانَا فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَاعَةً وَرَفَعَ بَصَرَهُ قِبَلَ سَقْفِ الْبَيْتِ حَتَّى طَالَ عَلَيْنَا أَنَّهُ لاَ يَرْجِعُ إِلَيْنَا شَيْئًا حَتَّى رَأَيْنَا زَيْنَبَ تَلْمَعُ مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ بِيَدِهَا تُرِيدُ أَنْ لاَ تَعْجَلاَ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي أَمْرِنَا ثُمَّ خَفَّضَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأْسَهُ فَقَالَ لَنَا " إِنَّ هَذِهِ الصَّدَقَةَ إِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ وَإِنَّهَا لاَ تَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ وَلاَ لآلِ مُحَمَّدٍ ادْعُوا لِي نَوْفَلَ بْنَ الْحَارِثِ " . فَدُعِيَ لَهُ نَوْفَلُ بْنُ الْحَارِثِ فَقَالَ " يَا نَوْفَلُ أَنْكِحْ عَبْدَ الْمُطَّلِبِ " . فَأَنْكَحَنِي نَوْفَلٌ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " ادْعُوا لِي مَحْمِيَةَ بْنَ جَزْءٍ " . وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي زُبَيْدٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْتَعْمَلَهُ عَلَى الأَخْمَاسِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِمَحْمِيَةَ " أَنْكِحِ الْفَضْلَ " . فَأَنْكَحَهُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قُمْ فَأَصْدِقْ عَنْهُمَا مِنَ الْخُمُسِ كَذَا وَكَذَا " . لَمْ يُسَمِّهِ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ .
Narrated AbdulMuttalib ibn Rabi'ah ibn al-Harith: AbdulMuttalib ibn Rabi'ah ibn al-Harith said that his father, Rabi'ah ibn al-Harith, and Abbas ibn al-Muttalib said to AbdulMuttalib ibn Rabi'ah and al-Fadl ibn Abbas: Go to the Messenger of Allah (ﷺ) and tell him: Messenger of Allah, we are now of age as you see, and we wish to marry. Messenger of Allah, you are the kindest of the people and the most skilled in matchmaking. Our fathers have nothing with which to pay our dower. So appoint us collector of sadaqah (zakat), Messenger of Allah, and we shall give you what the other collectors give you, and we shall have the benefit accruing from it. Ali came to us while we were in this condition. He said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: No, I swear by Allah, he will not appoint any of you collector of sadaqah (zakat). Rabi'ah said to him: This is your condition; you have gained your relationship with the Messenger of Allah (ﷺ) by marriage, but we did not grudge you that. Ali then put his cloak on the earth and lay on it. He then said: I am the father of Hasan, the chief. I swear by Allah, I shall not leave this place until your sons come with a reply (to the question) for which you have sent them to the Prophet (ﷺ). AbdulMuttalib said: So I and al-Fadl went towards the door of the apartment of the Prophet (ﷺ). We found that the noon prayer in congregation had already started. So we prayed along with the people. I and al-Fadl then hastened towards the door of the apartment of the Prophet (ﷺ). He was (staying) with Zaynab, daughter of Jahsh, that day. We stood until the Messenger of Allah (ﷺ) came. He caught my ear and the ear of al-Fadl. He then said: Reveal what you conceal in your hearts. He then entered and permitted me and al-Fadl (to enter). So we entered and for a little while we asked each other to talk. I then talked to him, or al-Fadl talked to him (the narrator, Abdullah was not sure). He said: He spoke to him concerning the matter about which our fathers ordered us to ask him. The Messenger of Allah (ﷺ) remained silent for a moment and raised his eyes towards the ceiling of the room. He took so long that we thought he would not give any reply to us. Meanwhile we saw that Zaynab was signalling to us with her hand from behind the veil, asking us not to be in a hurry, and that the Messenger of Allah (ﷺ) was (thinking) about our matter. The Messenger of Allah (ﷺ) then lowered his head and said to us: This sadaqah (zakat) is a dirt of the people. It is legal neither for Muhammad nor for the family of Muhammad. Call Nawfal ibn al-Harith to me. So Nawfal ibn al-Harith was called to him. He said: Nawfal, marry AbdulMuttalib (to your daughter). So Nawfal married me (to his daughter). The Prophet (ﷺ) then said: Call Mahmiyyah ibn Jaz'i to me. He was a man of Banu Zubayd, whom the Messenger of Allah (ﷺ) had appointed collector of the fifths. The Messenger of Allah (ﷺ) said to Mahmiyyah: Marry al-Fadl (to your daughter). So he married him to her. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Stand up and pay the dower from the fifth so-and-so on their behalf. Abdullah ibn al-Harith did not name it (i.e. the amount of the dower)
عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب نے خبر دی کہ ان کے والد ربیعہ بن حارث اور عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہما نے ان سے اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ تم دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور آپ سے عرض کرو کہ اللہ کے رسول! ہم جس عمر کو پہنچ گئے ہیں وہ آپ دیکھ ہی رہے ہیں، اور ہم شادی کرنے کے خواہاں ہیں، اللہ کے رسول! آپ لوگوں میں سب سے زیادہ نیک اور سب سے زیادہ رشتہ و ناتے کا خیال رکھنے والے ہیں، ہمارے والدین کے پاس مہر ادا کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے، اللہ کے رسول! ہمیں صدقہ وصولی کے کام پر لگا دیجئیے جو دوسرے عمال وصول کر کے دیتے ہیں وہ ہم بھی وصول کر کے دیں گے اور جو فائدہ ( یعنی حق محنت ) ہو گا وہ ہم پائیں گے۔ عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم اسی حال میں تھے کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ گئے اور انہوں نے ہم سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: قسم اللہ کی! ہم تم میں سے کسی کو بھی صدقہ کی وصولی کا عامل نہیں بنائیں گے ۱؎ ۔ اس پر ربیعہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ تم اپنی طرف سے کہہ رہے ہو، تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دامادی کا شرف حاصل کیا تو ہم نے تم سے کوئی حسد نہیں کیا، یہ سن کر علی رضی اللہ عنہ اپنی چادر بچھا کر اس پر لیٹ گئے اور کہنے لگے: میں ابوالحسن سردار ہوں ( جیسے اونٹوں میں بڑا اونٹ ہوتا ہے ) قسم اللہ کی! میں یہاں سے نہیں ٹلوں گا جب تک کہ تمہارے دونوں بیٹے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اس بات کا جواب لے کر نہ آ جائیں جس کے لیے تم نے انہیں اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا ہے۔ عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہ دونوں گئے، ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے کے پاس پہنچے ہی تھے کہ ظہر کھڑی ہو گئی ہم نے سب کے ساتھ نماز جماعت سے پڑھی، نماز پڑھ کر میں اور فضل دونوں جلدی سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے کے دروازے کی طرف لپکے، آپ اس دن ام المؤمنین زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کے پاس تھے، اور ہم دروازے پر کھڑے ہو گئے، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے اور ( پیار سے ) میرے اور فضل کے کان پکڑے، اور کہا: بولو بولو، جو دل میں لیے ہو ، یہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں چلے گئے اور مجھے اور فضل کو گھر میں آنے کی اجازت دی، تو ہم اندر چلے گئے، اور ہم نے تھوڑی دیر ایک دوسرے کو بات چھیڑنے کے لیے اشارہ کیا ( تم کہو تم کہو ) پھر میں نے یا فضل نے ( یہ شک حدیث کے راوی عبداللہ کو ہوا ) آپ سے وہی بات کہی جس کا ہمارے والدین نے ہمیں حکم دیا تھا، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گھڑی تک چپ رہے، پھر نگاہیں اٹھا کر گھر کی چھت کی طرف دیر تک تکتے رہے، ہم نے سمجھا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کوئی جواب نہ دیں، یہاں تک کہ ہم نے دیکھا کہ پردے کی آڑ سے ( ام المؤمنین ) زینب رضی اللہ عنہا اشارہ کر رہی ہیں کہ تم جلدی نہ کرو ( گھبراؤ نہیں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے ہی مطلب کی فکر میں ہیں، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کو نیچا کیا، اور فرمایا: یہ صدقہ تو لوگوں ( کے مال ) کا میل ( کچیل ) ہے، اور یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آل ( و اولاد ) کے لیے حلال نہیں ہے، ( یعنی بنو ہاشم کے لیے صدقہ لینا درست نہیں ہے ) نوفل بن حارث کو میرے پاس بلاؤ چنانچہ نوفل بن حارث رضی اللہ عنہ کو آپ کے پاس بلایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نوفل! اپنی بیٹی کا نکاح عبدالمطلب سے کر دو ، تو نوفل نے اپنی بیٹی کا نکاح مجھ سے کر دیا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: محمیہ بن جزء کو میرے پاس بلاؤ ، محمیۃ بن جزء رضی اللہ عنہ بنو زبید کے ایک فرد تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خمس کی وصولی کا عامل بنا رکھا تھا ( وہ آئے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم فضل کا ( اپنی بیٹی سے ) نکاح کر دو ، تو انہوں نے ان کا نکاح کر دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ان سے ) کہا: جاؤ مال خمس میں سے ان دونوں کا مہر اتنا اتنا ادا کر دو ۔ ( ابن شہاب کہتے ہیں ) عبداللہ بن حارث نے مجھ سے مہر کی مقدار بیان نہیں کی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، بِمَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ زَادَ فِي حَدِيثِ حَفْصَةَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ بِنَحْوِ هَذَا وَزَادَتْ فِيهِ " أَوْ سَبْعًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّهُ " .
The above mentioned tradition has also been transmitted by Umm 'Atiyyah through a different chain of narrators. This version has:(Wash her) seven times or more if you think fit
اس سند سے بھی ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مالک کی روایت کے ہم معنی حدیث مروی ہے اور حفصہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں جسے انہوں نے ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے اسی طرح کا اضافہ ہے اور اس میں انہوں نے یہ اضافہ بھی کیا ہے: یا سات بار غسل دینا، یا اس سے زیادہ اگر تم اس کی ضرورت سمجھنا ۔
Narrated by Uqbah bin 'Amir al-Juhani
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ حَدَّثَهُ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ : نَذَرَتْ أُخْتِي أَنْ تَمْشِيَ، إِلَى بَيْتِ اللَّهِ، فَأَمَرَتْنِي أَنْ أَسْتَفْتِيَ لَهَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَفْتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ : " لِتَمْشِ وَلْتَرْكَبْ " .
Narrated 'Uqbah bin 'Amir al-Juhani:My sister took a vow to walk on foot to the House of Allah (i.e. Ka'bah). She asked me to consult the Prophet (ﷺ) about her. So I consulted the Prophet (ﷺ). He said: Let her walk and ride
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میری بہن نے بیت اللہ پیدل جانے کی نذر مانی اور مجھے حکم دیا کہ میں اس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھ کر آؤں ( کہ میں کیا کروں ) تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: چاہیئے کہ پیدل بھی چلے اور سوار بھی ہو ۔
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَفَعَهُ قَالَ " إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ أَنَا ثَالِثُ الشَّرِيكَيْنِ، مَا لَمْ يَخُنْ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ فَإِذَا خَانَهُ خَرَجْتُ مِنْ بَيْنِهِمَا " .
Narrated AbuHurayrah: The Messenger of Allah (ﷺ) having said: Allah, Most High, says: "I make a third with two partners as long as one of them does not cheat the other, but when he cheats him, I depart from them
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں دو شریکوں کا تیسرا ہوں جب تک کہ ان دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے کے ساتھ خیانت نہ کرے، اور جب کوئی اپنے ساتھی کے ساتھ خیانت کرتا ہے تو میں ان کے درمیان سے ہٹ جاتا ہوں ۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَاءِ لِيُمْنَعَ بِهِ الْكَلأُ " .
Narrated Abu Hurairah:The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: Excess water should not be withheld so as to prevent (cattle) by it from grass
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فاضل پانی سے نہ روکا جائے کہ اس کے ذریعہ سے گھاس سے روک دیا جائے ۱؎ ۔
Narrated by Ash-Sharid
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ وَبْرِ بْنِ أَبِي دُلَيْلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَىُّ الْوَاجِدِ يُحِلُّ عِرْضَهُ وَعُقُوبَتَهُ " . قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ يُحِلُّ عِرْضَهُ يُغَلَّظُ لَهُ وَعُقُوبَتَهُ يُحْبَسُ لَهُ .
Narrated Ash-Sharid: The Prophet (ﷺ) said: Delay in payment on the part of one who possesses means makes it lawful to dishonour and punish him. Ibn al-Mubarak said that "dishonour" means that he may be spoken to roughly and "punish" means he may be imprisoned for it
شرید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مالدار آدمی کا ٹال مٹول کرنا اس کی ہتک عزتی اور سزا کو جائز کر دیتا ہے ۔ ابن مبارک کہتے ہیں: ہتک عزتی سے مراد اسے سخت سست کہنا ہے، اور سزا سے مراد اسے قید کرنا ہے۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أُتِيَ بِلَبَنٍ قَدْ شِيبَ بِمَاءٍ وَعَنْ يَمِينِهِ أَعْرَابِيٌّ وَعَنْ يَسَارِهِ أَبُو بَكْرٍ فَشَرِبَ ثُمَّ أَعْطَى الأَعْرَابِيَّ وَقَالَ " الأَيْمَنَ فَالأَيْمَنَ " .
Anas b. Malik said:The Prophet (ﷺ) was brought milk that was mixed with water. A nomad Arab was on his right and Abu Bakr was on his left. He himself drank and gave it to the nomad Arab, and said: He who is on the right , then he who is on his right then he who is on his right
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ لایا گیا جس میں پانی ملایا گیا تھا، آپ کے دائیں ایک دیہاتی اور بائیں ابوبکر بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ نوش فرمایا پھر دیہاتی کو ( پیالہ ) دے دیا اور فرمایا: دائیں طرف والا زیادہ حقدار ہے پھر وہ جو اس کے دائیں ہو ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ خَالَتَهُ، أَهْدَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَمْنًا وَأَضُبًّا وَأَقِطًا فَأَكَلَ مِنَ السَّمْنِ وَمِنَ الأَقِطِ وَتَرَكَ الأَضُبَّ تَقَذُّرًا وَأُكِلَ عَلَى مَائِدَتِهِ وَلَوْ كَانَ حَرَامًا مَا أُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
Ibn ‘Abbas said that his maternal aunt presented to the Messenger of Allah (ﷺ) clarified butter, lizards and cottage cheese. He ate from clarified butter and cheese, but left the lizard abominably. It was eaten on the food cloth of the Messenger of Allah (ﷺ). Had it been unlawful, it would not have been eaten on the food cloth of the Messenger of Allah (ﷺ)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کی خالہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گھی، گوہ اور پنیر بھیجا، آپ نے گھی اور پنیر کھایا اور گوہ کو گھن محسوس کرتے ہوئے چھوڑ دیا، اور آپ کے دستر خوان پر اسے کھایا گیا، اگر وہ حرام ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر نہیں کھایا جاتا۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ مُسَاوِرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْمِنْبَرِ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ قَدْ أَرْخَى طَرَفَيْهَا بَيْنَ كَتِفَيْهِ .
Amr b. Huraith quoting his father said:I saw the Prophet (ﷺ) on the pulpit and he wore a black turban, and he let both the ends hang between his shoulders
حریث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر دیکھا، آپ کالی پگڑی باندھے ہوئے تھے جس کا کنارہ آپ نے اپنے کندھوں پر لٹکا رکھا تھا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ سُلَيْمَانَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ لَيْلَةٍ صَلاَةَ الْعِشَاءِ فِي آخِرِ حَيَاتِهِ فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ فَقَالَ " أَرَأَيْتُمْ لَيْلَتَكُمْ هَذِهِ فَإِنَّ عَلَى رَأْسِ مِائَةِ سَنَةٍ مِنْهَا لاَ يَبْقَى مِمَّنْ هُوَ عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ أَحَدٌ " . قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَوَهَلَ النَّاسُ فِي مَقَالَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تِلْكَ فِيمَا يَتَحَدَّثُونَ عَنْ هَذِهِ الأَحَادِيثِ عَنْ مِائَةِ سَنَةٍ وَإِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ يَبْقَى مِمَّنْ هُوَ الْيَوْمَ عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ يُرِيدُ أَنْ يَنْخَرِمَ ذَلِكَ الْقَرْنُ .
‘Abd Allah b. ‘Umar said :The Messenger of Allah (ﷺ) led us in the night prayer one night towards the end of his life. When he uttered the salutation, he got up and said : Have you seen this night of yours ? No one of those who are on the surface of the earth will survive at the ends of one hundred years. Ibn ‘Umar said: The people fell into fallacy by this statement of the Messenger of Allah (ﷺ) about the traditions they used to narrate concerning one hundred years. The Messenger of Allah (ﷺ) said: No one of those who are present today on the surface of the earth will survive, meaning when that century comes to and end
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آخری عمر میں ایک رات ہمیں عشاء پڑھائی، پھر جب سلام پھیرا تو کھڑے ہوئے اور فرمایا: تمہیں پتا ہے، آج کی رات کے سو سال بعد اس وقت جتنے آدمی اس روئے زمین پر ہیں ان میں سے کوئی بھی ( زندہ ) باقی نہیں رہے گا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سو سال کے بعد کے متعلق احادیث بیان کرنے میں غلط فہمی کا شکار ہو گئے کہ سو برس بعد قیامت آ جائے گی، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ آج روئے زمین پر جتنے لوگ زندہ ہیں سو سال کے بعد ان میں سے کوئی زندہ نہ رہے گا مطلب یہ تھا کہ یہ نسل ختم ہو جائے گی، اور دوسری نسل آ جائے گی۔
Narrated by Busr ibn Artat
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيِّ، عَنْ شُيَيْمِ بْنِ بَيْتَانَ، وَيَزِيدَ بْنِ صُبْحٍ الأَصْبَحِيِّ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، قَالَ كُنَّا مَعَ بُسْرِ بْنِ أَرْطَاةَ فِي الْبَحْرِ فَأُتِيَ بِسَارِقٍ يُقَالُ لَهُ مِصْدَرٌ قَدْ سَرَقَ بُخْتِيَّةً فَقَالَ قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ تُقْطَعُ الأَيْدِي فِي السَّفَرِ " . وَلَوْلاَ ذَلِكَ لَقَطَعْتُهُ .
Narrated Busr ibn Artat: Junadah ibn AbuUmayyah said: We were with Busr ibn Artat on the sea (on an expedition). A thief called Misdar who had stolen a bukhti she-camel was brought. He said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Hands are not to be cut off during a warlike expedition. Had it not been so, I would have cut it off
جنادہ بن ابی امیہ کہتے ہیں کہ ہم بسر بن ارطاۃ کے ساتھ سمندری سفر پر تھے کہ ان کے پاس ایک چور لایا گیا جس کا نام مصدر تھا اس نے ایک اونٹ چرایا تھا تو آپ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: سفر میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا اگر آپ کا یہ فرمان نہ ہوتا تو میں ضرور اسے کاٹ ڈالتا۔
Narrated by Abdullah ibn Abbas
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي فَزَارَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا أُمِرْتُ بِتَشْيِيدِ الْمَسَاجِدِ " . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَتُزَخْرِفُنَّهَا كَمَا زَخْرَفَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى .
Narrated Abdullah ibn Abbas: I was not commanded to build high mosques. Ibn Abbas said: You will certainly adorn them as the Jews and Christians did
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے مسجدوں کے بلند کرنے کا حکم نہیں دیا گیا ہے ۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: تم مسجدیں اسی طرح سجاؤ گے جس طرح یہود و نصاریٰ سجاتے تھے۔
Narrated by Abd Allah (b. Mas'ud)
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، رضى الله عنه أَنَّهُ قَالَ فِي شِبْهِ الْعَمْدِ أَثَلاَثٌ ثَلاَثٌ وَثَلاَثُونَ حِقَّةً وَثَلاَثٌ وَثَلاَثُونَ جَذَعَةً وَأَرْبَعٌ وَثَلاَثُونَ ثَنِيَّةً إِلَى بَازِلِ عَامِهَا كُلُّهَا خَلِفَةٌ .
Narrated 'Abd Allah (b. Mas'ud):The bloodwit for unintentional murder which resembles intentional is twenty-five she camels which entered their fourth year, twenty five she-camels which had entered their fifth year, twenty five she-camels which had entered their third year, and twenty five camels which had entered their second year
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں شبہ عمد کی دیت میں تین قسم کے اونٹ ہوں گے، تینتیس حقہ، تینتیس جذعہ اور چونتیس ایسی اونٹنیاں جو چھ برس سے لے کر نو برس تک کی ہوں اور سب گابھن ہوں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَيَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ الرَّمْلِيُّ، أَنَّ اللَّيْثَ، حَدَّثَهُمْ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " لاَ يَدْخُلُ النَّارَ أَحَدٌ مِمَّنْ بَايَعَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ " .
Jabir reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:No one of those who took the oath of allegiance under the tree will go to hell
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہنم میں ان لوگوں میں سے کوئی بھی داخل نہیں ہو گا، جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی ( یعنی صلح حدیبیہ کے وقت بیعت رضوان میں شریک رہے ) ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - الْمَعْنَى - ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْكَلاَمِ الأَوَّلِ إِلَى قَوْلِهِ " وَطَعْمُهَا مُرٌّ " . وَزَادَ ابْنُ مُعَاذٍ قَالَ قَالَ أَنَسٌ وَكُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ مَثَلَ جَلِيسِ الصَّالِحِ وَسَاقَ بَقِيَّةَ الْحَدِيثِ .
The tradition mentioned above has also been transmitted by Abu Musa from the Prophet (ﷺ) through a different chain of narrators up to “and its taste bitter”. Ibn Mu`adh added:Anas said: We used tell one another that a good companion is like... He then transmitted the rest of the tradition
اس سند سے بھی ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے شروع سے «طعمها مر» ( اس کا مزا کڑوا ہے ) تک اسی طرح مرفوعاً مروی ہے، اور ابن معاذ نے یہ اضافہ کیا ہے کہ انس رضی اللہ عنہ نے کہا: اور ہم آپس میں کہتے تھے کہ اچھے ہم نشین کی مثال، پھر راوی نے بقیہ حدیث بیان کی۔
Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ بِتُّ لَيْلَةً عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ مِنْ مَنَامِهِ أَتَى طَهُورَهُ فَأَخَذَ سِوَاكَهُ فَاسْتَاكَ ثُمَّ تَلاَ هَذِهِ الآيَاتِ { إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلاَفِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لآيَاتٍ لأُولِي الأَلْبَابِ } حَتَّى قَارَبَ أَنْ يَخْتِمَ السُّورَةَ أَوْ خَتَمَهَا ثُمَّ تَوَضَّأَ فَأَتَى مُصَلاَّهُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى فِرَاشِهِ فَنَامَ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَفَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى فِرَاشِهِ فَنَامَ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَفَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى فِرَاشِهِ فَنَامَ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَفَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ كُلُّ ذَلِكَ يَسْتَاكُ وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ أَوْتَرَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ حُصَيْنٍ قَالَ فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ وَهُوَ يَقُولُ { إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ } حَتَّى خَتَمَ السُّورَةَ .
Narrated Ibn 'Abbas: I spent a night with the Prophet (sal Allaahu alayhi wa sallam). When he woke up from his sleep (in the latter part of the night for prayer) he came to his ablution water. He took the tooth-stick and used it. He then recited the verse: "Verily in the creation of the heavens and the earth and the alternation of the night and the day are tokens (of His Sovereignty) for men of understanding" (iii-190). He recited these verses up to the end of the chapter or he finished the whole chapter. He then performed ablution and came to the place of prayer. He then said two rak'ahs of prayer. He then lay down on the bed and slept as much as Allaah wished. He then got up and did the same. He then lay down and slept. He then got up and did the same. Every time he used the tooth-stick and offered two rak'ah of prayer. He then offered the prayer known as witr. Abu Dawud said: Fudail on the authority if Husain reported the wording: He then used the tooth-stick and performed ablution while he was reciting the verses: "Verily in the creation of the heaves and the earth..." until he finished the chapter
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گزاری، جب آپ نیند سے بیدار ہوئے تو اپنے وضو کے پانی کے پاس آئے، اپنی مسواک لے کر مسواک کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ «إن في خلق السموات والأرض واختلاف الليل والنهار لآيات لأولي الألباب» ۱؎ کی تلاوت کی یہاں تک کہ سورۃ ختم کے قریب ہو گئی، یا ختم ہو گئی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا پھر اپنے مصلی پر آئے اور دو رکعت نماز پڑھی، پھر واپس اپنے بستر پر جب تک اللہ نے چاہا جا کر سوئے رہے، پھر نیند سے بیدار ہوئے اور اسی طرح کیا ( یعنی مسواک کر کے وضو کیا اور دو رکعت نماز پڑھی ) پھر اپنے بستر پر جا کر سوئے رہے، پھر نیند سے بیدار ہوئے، اور اسی طرح کیا، پھر اپنے بستر پر جا کر سوئے رہے اس کے بعد نیند سے بیدار ہوئے اور اسی طرح کیا، ہر بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کرتے، دو رکعت نماز پڑھتے تھے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر پڑھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن فضیل نے حصین سے روایت کی ہے، اس میں اس طرح ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسواک کی اور وضو کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم آیت کریمہ «إن في خلق السموات والأرض» پڑھ رہے تھے، یہاں تک کہ پوری سورۃ ختم کر دی۔