Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، - يَعْنِي الْمَرْوَزِيَّ - حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ سِمَاكٍ الْحَنَفِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ أَوَّلُ الْمُزَّمِّلِ كَانُوا يَقُومُونَ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِمْ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ حَتَّى نَزَلَ آخِرُهَا وَكَانَ بَيْنَ أَوَّلِهَا وَآخِرِهَا سَنَةٌ .
Narrated Ibn 'Abbas:When the opening verses of Surah Al-muzammil was revealed, the Companions would pray as long as they would pray during Ramadan until its last verses were revealed. The period between the revelation of its opening and the last verses was one year
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب سورۃ مزمل کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں تو لوگ رات کو ( نماز میں ) کھڑے رہتے جتنا کہ رمضان میں کھڑے رہتے ہیں، یہاں تک کہ سورۃ کا آخری حصہ نازل ہوا، ان دونوں کے درمیان ایک سال کا وقفہ ہے۔
Narrated by AbuLubabah
حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْوَرْدِ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، يَقُولُ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ مَرَّ بِنَا أَبُو لُبَابَةَ فَاتَّبَعْنَاهُ حَتَّى دَخَلَ بَيْتَهُ فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ فَإِذَا رَجُلٌ رَثُّ الْبَيْتِ رَثُّ الْهَيْئَةِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ " . قَالَ فَقُلْتُ لاِبْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ أَرَأَيْتَ إِذَا لَمْ يَكُنْ حَسَنَ الصَّوْتِ قَالَ يُحَسِّنُهُ مَا اسْتَطَاعَ .
Narrated AbuLubabah: Ubaydullah ibn Yazid said: AbuLubabah passed by us and we followed him till he entered his house, and we also entered it. There was a man in a rusty house and in shabby condition. I heard him say: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: He is not one of us who does not chant the Qur'an. I (the narrator AbdulJabbar) said to Ibn AbuMulaykah: AbuMuhammad, what do you think if a person does not have pleasant voice? He said: He should recite with pleasant voice as much as possible
عبیداللہ بن ابی یزید کہتے ہیں ہمارے پاس سے ابولبابہ رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا تو ہم ان کے پیچھے ہو لیے یہاں تک کہ وہ اپنے گھر کے اندر داخل ہو گئے تو ہم بھی داخل ہو گئے تو دیکھا کہ ایک شخص بیٹھا ہوا ہے۔ بوسیدہ سا گھر ہے اور وہ بھی خستہ حال ہے، میں نے سنا: وہ کہہ رہا تھا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ہے: جو قرآن کو خوش الحانی سے نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔ عبدالجبار کہتے ہیں: میں نے ابن ابی ملیکہ سے کہا: اے ابو محمد! اگر کسی کی آواز اچھی نہ ہو تو کیا کرے؟ انہوں نے جواب دیا: جہاں تک ہو سکے اسے اچھی بنائے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، - وَقَرَأَهُ عَلَى مَالِكٍ أَيْضًا - عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَضَ زَكَاةَ الْفِطْرِ - قَالَ فِيهِ فِيمَا قَرَأَهُ عَلَىَّ مَالِكٌ - زَكَاةُ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعٌ مِنْ شَعِيرٍ عَلَى كُلِّ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى مِنَ الْمُسْلِمِينَ .
Ibn ‘Umar said :The Messenger of Allah(ﷺ) prescribed as zakat payable by slave and freeman, male and female, among the muslims on closing the fast of Ramadan one sa of dried dates or one sa’ of barley. (This tradition was read out byu ‘Abd Allah b. Maslamah to Malik)
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر کھجور سے ایک صاع اور جو سے ایک صاع فرض کیا ہے، جو مسلمانوں میں سے ہر آزاد اور غلام پر، مرد اور عورت پر ( فرض ) ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ ضُبَاعَةَ بِنْتَ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ أَأَشْتَرِطُ قَالَ " نَعَمْ " . قَالَتْ فَكَيْفَ أَقُولُ قَالَ " قُولِي لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ وَمَحِلِّي مِنَ الأَرْضِ حَيْثُ حَبَسْتَنِي " .
Ibn `Abbas said:Duba`ah, daughter of al-Zubair bin `Abd al-Muttalib, came to the Messenger of Allah(SWAS) and said Messenger of Allah (SWAS) I want to perform Hajj; may I make a provision? He said Yes. She asked how should I say? He replied : Say “ Labbaik Allahumma Labbaik (I am at Thy service, Oh Allah, I am at Thy service). The place where I took off Ihram will be where Thou restrainest me.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: اللہ کے رسول! میں حج میں شرط لگانا چاہتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، ( لگا سکتی ہو ) ، انہوں نے کہا: تو میں کیسے کہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو! «لبيك اللهم لبيك، ومحلي من الأرض حيث حبستني» حاضر ہوں اے اللہ حاضر ہوں، اور میرے احرام کھولنے کی جگہ وہی ہے جہاں تو مجھے روک دے ۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَمُجَمِّعٍ، ابْنَىْ يَزِيدَ الأَنْصَارِيَّيْنِ عَنْ خَنْسَاءَ بِنْتِ خِدَامٍ الأَنْصَارِيَّةِ، أَنَّ أَبَاهَا، زَوَّجَهَا وَهِيَ ثَيِّبٌ فَكَرِهَتْ ذَلِكَ فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَرَدَّ نِكَاحَهَا .
Khansa’ daughter of Khidham al-Ansariyyah reports that when her father married her when she had previously been married and she disapproved of that she went to the Apostle of Allaah(ﷺ) and mentioned it to him. He (the Prophet) revoked her marriage
خنسا بنت خذام انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے والد نے ان کا نکاح کر دیا اور وہ ثیبہ تھیں تو انہوں نے اسے ناپسند کیا چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئیں اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے ان کا نکاح رد کر دیا۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ عِدَّةُ الْمُخْتَلِعَةِ حَيْضَةٌ .
Ibn ‘Umar said “The waiting period of a woman who separates herself from her husband for compensation is a menstrual period.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ خلع کرانے والی عورت کی عدت ایک حیض ہے۔
Narrated by Shaddad ibn Aws
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو قِلاَبَةَ الْجَرْمِيُّ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ شَدَّادَ بْنَ أَوْسٍ بَيْنَمَا هُوَ يَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
Narrated Shaddad ibn Aws: The tradition mentioned above (No. 2361) has also been transmitted by Shaddad ibn Aws through a different chain of narrators. This version adds: While Shaddad ibn Aws was walking along with the Prophet (ﷺ)....The narrator then transmitted the rest of the tradition to the same effect
ابوقلابہ جرمی نے خبر دی ہے کہ شداد بن اوس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہے تھے کہ اسی دوران ( آپ نے فرمایا ) ، آگے راوی نے اس سے پہلی والی حدیث کی طرح بیان کیا۔
Narrated by Anas ibn Malik
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي نُشْبَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم : " ثَلاَثَةٌ مِنْ أَصْلِ الإِيمَانِ : الْكَفُّ عَمَّنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَلاَ تُكَفِّرْهُ بِذَنْبٍ وَلاَ تُخْرِجْهُ مِنَ الإِسْلاَمِ بِعَمَلٍ، وَالْجِهَادُ مَاضٍ مُنْذُ بَعَثَنِيَ اللَّهُ إِلَى أَنْ يُقَاتِلَ آخِرُ أُمَّتِي الدَّجَّالَ لاَ يُبْطِلُهُ جَوْرُ جَائِرٍ وَلاَ عَدْلُ عَادِلٍ، وَالإِيمَانُ بِالأَقْدَارِ " .
Narrated Anas ibn Malik: The Prophet (ﷺ) said: Three things are the roots of faith: to refrain from (killing) a person who utters, "There is no god but Allah" and not to declare him unbeliever whatever sin he commits, and not to excommunicate him from Islam for his any action; and jihad will be performed continuously since the day Allah sent me as a prophet until the day the last member of my community will fight with the Dajjal (Antichrist). The tyranny of any tyrant and the justice of any just (ruler) will not invalidate it. One must have faith in Divine decree
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین باتیں ایمان کی اصل ہیں: ۱- جو لا الہٰ الا اللہ کہے اس ( کے قتل اور ایذاء ) سے رک جانا، اور کسی گناہ کے سبب اس کی تکفیر نہ کرنا، نہ اس کے کسی عمل سے اسلام سے اسے خارج کرنا۔ ۲- جہاد جاری رہے گا جس دن سے اللہ نے مجھے نبی بنا کر بھیجا ہے یہاں تک کہ میری امت کا آخری شخص دجال سے لڑے گا، کسی بھی ظالم کا ظلم، یا عادل کا عدل اسے باطل نہیں کر سکتا۔ ۳- تقدیر پر ایمان لانا ۔
Narrated by Buraydah ibn al-Hasib
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي بُرَيْدَةَ، يَقُولُ كُنَّا فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا وُلِدَ لأَحَدِنَا غُلاَمٌ ذَبَحَ شَاةً وَلَطَخَ رَأْسَهُ بِدَمِهَا فَلَمَّا جَاءَ اللَّهُ بِالإِسْلاَمِ كُنَّا نَذْبَحُ شَاةً وَنَحْلِقُ رَأْسَهُ وَنَلْطَخُهُ بِزَعْفَرَانٍ .
Narrated Buraydah ibn al-Hasib: When a boy was born to one of us in the pre-Islamic period, we sacrificed a sheep and smeared his head with its blood; but when Allah brought Islam, we sacrificed a sheep, shaved his head and smeared his head with saffron
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں زمانہ جاہلیت میں جب ہم میں سے کسی کے ہاں لڑکا پیدا ہوتا تو وہ ایک بکری ذبح کرتا اور اس کا خون بچے کے سر میں لگاتا، پھر جب اسلام آیا تو ہم بکری ذبح کرتے اور بچے کا سر مونڈ کر زعفران لگاتے تھے ( خون لگانا موقوف ہو گیا ) ۱؎۔
Narrated by Abd al-Rahman b. Abi Laila
حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا، يَقُولُ وَلاَّنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خُمُسَ الْخُمُسِ فَوَضَعْتُهُ مَوَاضِعَهُ حَيَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَحَيَاةَ أَبِي بَكْرٍ وَحَيَاةَ عُمَرَ فَأُتِيَ بِمَالٍ فَدَعَانِي فَقَالَ خُذْهُ . فَقُلْتُ لاَ أُرِيدُهُ . قَالَ خُذْهُ فَأَنْتُمْ أَحَقُّ بِهِ . قُلْتُ قَدِ اسْتَغْنَيْنَا عَنْهُ فَجَعَلَهُ فِي بَيْتِ الْمَالِ .
Narrated 'Abd al-Rahman b. Abi Laila:I heard 'Ali say: The Messenger of Allah (ﷺ) assigned me the fifth (of the booty). I spent it on its beneficiaries during the lifetime of the Messenger of Allah (ﷺ) and Abu Bakr and of 'Umar. Some property was brought to him ('Umar) and he called me and said: Take it. I said: I dod not want it. He said: Take it ; you have right to it. I said: We do not need it. So he deposited in the government treasury
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خمس کا خمس ( پانچویں حصہ کا پانچواں حصہ ) دیا، تو میں اسے اس کے خرچ کے مد میں صرف کرتا رہا، جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زندہ رہے اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما زندہ رہے پھر ( عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ) ان کے پاس مال آیا تو انہوں نے مجھے بلایا اور کہا: اس کو لے لو، میں نے کہا: میں نہیں لینا چاہتا، انہوں نے کہا: لے لو تم اس کے زیادہ حقدار ہو، میں نے کہا: اب ہمیں اس مال کی حاجت نہیں رہی ( ہمیں اللہ نے اس سے بے نیاز کر دیا ہے ) تو انہوں نے اسے بیت المال میں داخل کر دیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ وَضَفَّرْنَا رَأْسَهَا ثَلاَثَةَ قُرُونٍ ثُمَّ أَلْقَيْنَاهَا خَلْفَهَا مُقَدَّمَ رَأْسِهَا وَقَرْنَيْهَا .
The above mentioned has also been transmitted by Umm 'Atiyyah through a different chain of narrators. This version has:we braided her hair in three plaits and placed them behind her back, one plait of the front side and the two side plaits
ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ہم نے ان کے سر کے بالوں کی تین لٹیں گوندھ دیں اور انہیں سر کے پیچھے ڈال دیں، ایک لٹ آگے کے بالوں کی اور دو لٹیں ادھر ادھر کے بالوں کی۔
Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، : أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لَمَّا بَلَغَهُ أَنَّ أُخْتَ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ مَاشِيَةً قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنْ نَذْرِهَا، مُرْهَا فَلْتَرْكَبْ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ : رَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ نَحْوَهُ وَخَالِدٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ .
Narrated Ibn 'Abbas: That when the Prophet (ﷺ) was informed that the sister of 'Uqbah b. 'Amir had taken a vow to perform Hajj on foot, he said: Allah is not in need of her vow. So ask her to ride. Abu Dawud said: Sa'ib b. 'Arubah has transmitted a similar tradition. Khalid has also transmitted a similar tradition on the authority of 'Ikrimah from the Prophet (ﷺ)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب خبر ملی کہ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی بہن نے پیدل حج کرنے کی نذر مانی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس کی نذر سے بے نیاز ہے، اسے کہو: سوار ہو جائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے سعید بن ابی عروبہ نے اسی طرح اور خالد نے عکرمہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ وَقَالَ حَبَلُ الْحَبَلَةِ أَنْ تُنْتَجَ النَّاقَةُ بَطْنَهَا ثُمَّ تَحْمِلُ الَّتِي نُتِجَتْ .
A similar tradition has also been narrated by Ibn 'Umar from the Prophet (ﷺ) through a different chain of transmitters. He said:Habal al-habalah means that a she-camel delivers an offspring and then the offspring which it delivers becomes pregnant
اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے اس میں ہے «حبل الحبلة» یہ ہے کہ اونٹنی اپنے پیٹ کا بچہ جنے پھر بچہ جو پیدا ہوا تھا حاملہ ہو جائے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ الْحَكَمِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ الْجَوَائِحُ كُلُّ ظَاهِرٍ مُفْسِدٍ مِنْ مَطَرٍ أَوْ بَرْدٍ أَوْ جَرَادٍ أَوْ رِيحٍ أَوْ حَرِيقٍ .
Ata said:Blight means anything which obviously damages (the crop), by rain, hail, locust, blast of wind, or fire
عطاء کہتے ہیں «جائحہ» ہر وہ آفت و مصیبت ہے جو بالکل کھلی ہوئی اور واضح ہو جس کا کوئی انکار نہ کر سکے، جیسے بارش بہت زیادہ ہو گئی ہو، پالا پڑ گیا ہو، ٹڈیاں آ کر صاف کر گئی ہوں، آندھی آ گئی ہو، یا آگ لگ گئی ہو۔
Narrated by Ikrimah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهُ يَعْنِي لاِبْنِ صُورِيَا " أُذَكِّرُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي نَجَّاكُمْ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ وَأَقْطَعَكُمُ الْبَحْرَ وَظَلَّلَ عَلَيْكُمُ الْغَمَامَ وَأَنْزَلَ عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوَى وَأَنْزَلَ عَلَيْكُمُ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى أَتَجِدُونَ فِي كِتَابِكُمُ الرَّجْمَ " . قَالَ ذَكَّرْتَنِي بِعَظِيمٍ وَلاَ يَسَعُنِي أَنْ أَكْذِبَكَ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ .
Narrated Ikrimah: The Holy Prophet (ﷺ) said to Ibn Suriya': I remind you by Allah Who saved you from the people of Pharaoh, made you cover the sea, gave you the shade of clouds, sent down to you manna and quails, sent down you Torah to Moses, do you find stoning (for adultery) in your Book? He said: You have reminded me by the Great. It is not possible for me to belie you. He then transmitted the rest of the tradition
عکرمہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے یعنی ابن صوریا ۱؎ سے فرمایا: میں تمہیں اس اللہ کی یاد دلاتا ہوں جس نے تمہیں آل فرعون سے نجات دی، تمہارے لیے سمندر میں راستہ بنایا، تمہارے اوپر ابر کا سایہ کیا، اور تمہارے اوپر من و سلوی نازل کیا، اور تمہاری کتاب تورات کو موسیٰ علیہ السلام پر نازل کیا، کیا تمہاری کتاب میں رجم ( زانی کو پتھر مارنے ) کا حکم ہے؟ ابن صوریا نے کہا: آپ نے بہت بڑی چیز کا ذکر کیا ہے لہٰذا میرے لیے آپ سے جھوٹ بولنے کی کوئی گنجائش نہیں رہی اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي فُلَيْحٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ دَخَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَرَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ وَهُوَ يُحَوِّلُ الْمَاءَ فِي حَائِطِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنْ كَانَ عِنْدَكَ مَاءٌ بَاتَ هَذِهِ اللَّيْلَةَ فِي شَنٍّ وَإِلاَّ كَرَعْنَا " . قَالَ بَلْ عِنْدِي مَاءٌ بَاتَ فِي شَنٍّ .
Jabir b. ‘abd Allah said:The Prophet (ﷺ) went to visit a man of the Ansar accompanied by one of his Companions who was watering his garden. The Messenger of Allah(ﷺ) said: If you have any water which has remained over night in a skin (we should like it), or shall sip (from a streamlet)
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص ایک انصاری کے پاس آئے وہ اپنے باغ کو پانی دے رہا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارے پاس مشکیزہ میں رات کا باسی پانی ہو تو بہتر ہے، ورنہ ہم منہ لگا کر نہر ہی سے پانی پی لیتے ہیں اس نے کہا: نہیں بلکہ میرے پاس مشکیزہ میں رات کا باسی پانی موجود ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كُنْتُ غُلاَمًا حَزَوَّرًا فَصِدْتُ أَرْنَبًا فَشَوَيْتُهَا فَبَعَثَ مَعِي أَبُو طَلْحَةَ بِعَجُزِهَا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَقَبِلَهَا .
Anas b. Malik said:I was an adolescent boy. I hunted a hare and roasted it. Abu Talha sent its hunch through me to the Prophet (ﷺ), so I brought it to him and he accepted it
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک قریب البلوغ لڑکا تھا، میں نے ایک خرگوش کا شکار کیا اور اسے بھونا پھر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اس کا پچھلا دھڑ مجھ کو دے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا میں اسے لے کر آیا تو آپ نے اسے قبول کیا۔
Narrated by Jabir ibn Abdullah
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدَةَ أَبِي خِدَاشٍ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ، عَنْ جَابِرٍ، - يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمٍ - قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ مُحْتَبٍ بِشَمْلَةٍ وَقَدْ وَقَعَ هُدْبُهَا عَلَى قَدَمَيْهِ .
Narrated Jabir ibn Abdullah: When I came to the Prophet (ﷺ), he was sitting with his hands round his knees wearing the cloak the fringe of which was over his feet
جابر بن سلیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ بحالت احتباء ایک چادر میں لپٹے بیٹھے تھے اور اس کی جھالر آپ کے دونوں پیروں پر تھی۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ قَالَ " مَنْ شَهِدَهَا فَكَرِهَهَا كَانَ كَمَنْ غَابَ عَنْهَا " .
A similar tradition has also been transmitted by ‘Adl from the prophet (ﷺ) though a different chain of narrators. This version has :He who sees it and disapproves of it will be like him who was not present
عدی بن عدی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے اس میں ہے کہ آپ نے فرمایا: جس نے اس کو دیکھا اور ناپسند کیا وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے اسے دیکھا ہی نہیں ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عُرِضَهُ يَوْمَ أُحُدٍ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً فَلَمْ يُجِزْهُ وَعُرِضَهُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَهُوَ ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً فَأَجَازَهُ .
Ibn ‘Umar said:He was presented before the prophet (ﷺ) on the day of Uhd when he was fourteen years old, but he did not allow him (to participate in the battle). He was again presented before him on the day of Khandaq when he was fifteen years old, Then he allowed him
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے غزوہ احد کے دن پیش کئے گئے تو ان کی عمر چودہ سال کی تھی آپ نے انہیں جنگ میں شمولیت کی اجازت نہیں دی، اور غزوہ خندق میں پیش ہوئے تو پندرہ سال کے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ حَرِيزٍ، - يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ - عَنْ يَزِيدَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ ذِي، مِخْبَرِ بْنِ أَخِي النَّجَاشِيِّ فِي هَذَا الْخَبَرِ قَالَ فَأَذَّنَ وَهُوَ غَيْرُ عَجِلٍ .
This tradition has also been transmitted through another chain of narrators by Dhu Mikhbar, the nephew of the Negus. This version adds:"He (Bilal) called for prayer unhurriedly
اس سند سے بھی ذی مخبر سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے انہوں نے بغیر جلد بازی کے ٹھہر ٹھہر کر اذان دی۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَاهُ قَالَ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْفَتْحِ أَوْ فَتْحِ مَكَّةَ عَلَى دَرَجَةِ الْبَيْتِ أَوِ الْكَعْبَةِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ كَذَا رَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ أَيْضًا عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَرَوَاهُ أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو مِثْلَ حَدِيثِ خَالِدٍ وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ يَعْقُوبَ السَّدُوسِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَقَوْلُ زَيْدٍ وَأَبِي مُوسَى مِثْلُ حَدِيثِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَحَدِيثِ عُمَرَ رضى الله عنه .
The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibn 'Umar from the Prophet (ﷺ) to the same effect. This version has:The Messenger of Allah (ﷺ) addressed on the day of Conquest, or he said: On the conquest of Mecca on the ladder of the House or of the Ka'bah. Abu Dawud said: In a similar way of Ibn 'Uyainah also transmitted it from 'Ali b. Zaid, from al-Qasim b. Rab'iah, from Ibn 'Umar, from the Prophet (ﷺ) ; and Ayyub al-Sukhtiyani transmitted it from al-Qasim b. Rabi'ah from 'Abd Allah b. 'Amr like the tradition of Khalid. Hammad b. Salamah also transmitted it from 'Ali b. Zaid, from Ya'qub al-Sadusi, on the authority of 'Abd Allah b. 'Amr from the Prophet (ﷺ). The statements of Zaid and of Abu Musa are similar to the tradition of the Prophet (ﷺ) and to the tradition of 'Umar (Allah be pleased with him)
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کرتے ہیں اس میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح کے دن یا فتح مکہ کے دن بیت اللہ یا کعبہ کی سیڑھی پر خطبہ دیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن عیینہ نے بھی اسی طرح علی بن زید سے، علی بن زید نے قاسم بن ربیعہ سے، قاسم نے ابن عمر سے اور ابن عمر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، اور اسے ایوب سختیانی نے قاسم بن ربیعہ سے، قاسم نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے خالد کی حدیث کے مثل روایت کی ہے۔ نیز اسے حماد بن سلمہ نے علی بن زید سے، علی بن زید نے یعقوب سدوسی سے، سدوسی نے عبداللہ بن عمرو سے، اور عبداللہ بن عمرو نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، اور زید اور ابوموسیٰ کا قول نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث اور عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مثل ہے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، حَدَّثَهُمْ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَعِدَ أُحُدًا فَتَبِعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ فَرَجَفَ بِهِمْ فَضَرَبَهُ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِرِجْلِهِ وَقَالَ " اثْبُتْ أُحُدُ نَبِيٌّ وَصِدِّيقٌ وَشَهِيدَانِ " .
Anas b. malik said:The prophet of Allah (ﷺ) ascended Uhud, and Abu Bakr, ’Umar and 'Uthman followed him. It began to shake with them. The prophet of Allah (ﷺ) struck it with his foot and said: Be still, for only a prophet, an ever-truthful and two martyrs are on you
انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم احد پہاڑ پر چڑھے پھر آپ کے پیچھے ابوبکر، عمر، عثمان رضی اللہ عنہم بھی چڑھے، تو وہ ان کے ساتھ ہلنے لگا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے پاؤں سے مارا اور فرمایا: ٹھہر جا اے احد! ( تیرے اوپر ) ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید ہیں ۱؎ ۔
Narrated by Abdullah ibn Umar
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرٍ، حَدَّثَهُمْ عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْخَصِيبِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَامَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ مَجْلِسِهِ فَذَهَبَ لِيَجْلِسَ فِيهِ فَنَهَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَ أَبُو دَاوُدَ أَبُو الْخَصِيبِ اسْمُهُ زِيَادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ .
Narrated Abdullah ibn Umar: A man came to the Prophet (ﷺ), another man got up from his place for him, and when he went to sit in it, the Prophet (ﷺ) forbade him. Abu Dawud said: The name of Abu al-Khusaib is Ziyad b. 'Abd al-Rahman
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو ایک شخص اس کے لیے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تو وہ وہاں بیٹھنے چلا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے روک دیا۔
Narrated by Aisha, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُوضَعُ لَهُ وَضُوءُهُ وَسِوَاكُهُ فَإِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ تَخَلَّى ثُمَّ اسْتَاكَ .
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: Ablution water and tooth-stick were placed by the side of the Prophet (ﷺ). When he got up during the night (for prayer), he relieved himself, then he used the tooth-stick
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وضو کا پانی اور مسواک رکھ دی جاتی تھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اٹھتے تو قضائے حاجت (پیشاب و پاخانہ) کرتے پھر مسواک کرتے۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ