بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Abu Dawood
5
26 hadith
Narrated by Sa'id b. Jubair
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَاهُ مُرْسَلٌ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ حُمَيْدٍ يَقُولُ سَمِعْتُ يَعْقُوبَ يَقُولُ كُلُّ شَىْءٍ حَدَّثْتُكُمْ عَنْ جَعْفَرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَهُوَ مُسْنَدٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
Narrated Sa'id b. Jubair: This tradition from the Prophet (ﷺ) without mentioning the name of the Companion in the chain (in the mursal form). Abu dawud said: I heard Muhammad b. Humaid say: I heard Ya'qub say: Anything I narrated to you from Ja'far on the authority of Sa'id b. Jubair from the Prophet (ﷺ) is directly coming from Ibn Abbas from the Prophet (ﷺ)
اس طریق سے بھی سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث مرسلاً روایت کی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے محمد بن حمید کو کہتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں نے یعقوب کو کہتے ہوئے سنا کہ وہ تمام روایتیں جن کو میں نے تم لوگوں سے «جعفر عن سعيد بن جبير عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم» کے طریق سے بیان کیا ہے، وہ مسند ہیں، سعید نے یہ روایتیں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، اور ابن عباس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہیں۔
Narrated by Al-Bara' ibn Azib
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ طَلْحَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ زَيِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Al-Bara' ibn Azib: The Prophet (ﷺ) said: Beautify the Qur'an with your voices
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن کو اپنی آواز سے زینت دو ۱؎ ۔
Narrated by Awf ibn Malik
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ الأَنْطَاكِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - يَعْنِي الْقَطَّانَ - عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ أَبِي عَرِيبٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَسْجِدَ وَبِيَدِهِ عَصًا وَقَدْ عَلَّقَ رَجُلٌ مِنَّا قِنًا حَشَفًا فَطَعَنَ بِالْعَصَا فِي ذَلِكَ الْقِنْوِ وَقَالَ ‏"‏ لَوْ شَاءَ رَبُّ هَذِهِ الصَّدَقَةِ تَصَدَّقَ بِأَطْيَبَ مِنْهَا ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ ‏"‏ إِنَّ رَبَّ هَذِهِ الصَّدَقَةِ يَأْكُلُ الْحَشَفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Awf ibn Malik: The Messenger of Allah (ﷺ) entered upon us in the mosque, and he had a stick in his hand. A man hung there a bunch of hashaf. He struck the bunch with the stick, and said: If the owner of this sadaqah (alms) wishes to give a better one than it, he would give. The owner of this sadaqah will eat hashaf on the Day of Judgment
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار ہمارے پاس مسجد میں تشریف لائے، آپ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی، ایک شخص نے خراب قسم کی کھجور کا خوشہ لٹکا رکھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خوشہ میں چھڑی چبھوئی اور فرمایا: اس کا صدقہ دینے والا شخص اگر چاہتا تو اس سے بہتر دے سکتا تھا ، پھر فرمایا: یہ صدقہ دینے والا قیامت کے روز «حشف» ( خراب قسم کی کھجور ) کھائے گا ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا وَصَلَّى الْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ بَاتَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ حَتَّى أَصْبَحَ فَلَمَّا رَكِبَ رَاحِلَتَهُ وَاسْتَوَتْ بِهِ أَهَلَّ ‏.‏
Anas said :Messenger of Allah (SWAS) prayed four rak’ahs at Madinah and prayed two rak’ahs of afternoon prayer at Dhu-al Hulaifah. He then passed the night at Dhu-al Hulaifah till the morning came. When he rode on his mount and it stood up on its back, he raised his voice in talbiyah
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں ظہر چار رکعت اور ذی الحلیفہ میں عصر دو رکعت ادا کی، پھر ذی الحلیفہ میں رات گزاری یہاں تک کہ صبح ہو گئی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر بیٹھے اور وہ آپ کو لے کر سیدھی ہو گئی تو آپ نے تلبیہ پڑھا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، قَالاَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا وَالْبِكْرُ تُسْتَأْذَنُ فِي نَفْسِهَا وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا ‏"‏ ‏.‏ وَهَذَا لَفْظُ الْقَعْنَبِيِّ ‏.‏
Ibn ‘Abbas reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying “A woman without a husband has more right to her person than her guardian and a virgin’s permission must be asked, her permission being her silence. These are the words of Al Qa’nabi
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ثیبہ ۱؎ اپنے نفس کا اپنے ولی سے زیادہ حقدار ہے اور کنواری لڑکی سے اس کے بارے میں اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی ہی اس کی اجازت ہے ۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ سَهْلٍ الأَنْصَارِيَّةِ، أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ إِلَى الصُّبْحِ فَوَجَدَ حَبِيبَةَ بِنْتَ سَهْلٍ عِنْدَ بَابِهِ فِي الْغَلَسِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ هَذِهِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَتْ أَنَا حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَا شَأْنُكِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ لاَ أَنَا وَلاَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ ‏.‏ لِزَوْجِهَا فَلَمَّا جَاءَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هَذِهِ حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ ‏"‏ ‏.‏ وَذَكَرَتْ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَذْكُرَ وَقَالَتْ حَبِيبَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُلُّ مَا أَعْطَانِي عِنْدِي ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ ‏"‏ خُذْ مِنْهَا ‏"‏ ‏.‏ فَأَخَذَ مِنْهَا وَجَلَسَتْ هِيَ فِي أَهْلِهَا ‏.‏
Amrah, daughter of 'Abd al-Rahman ibn Sa'd ibn Zurarah, reported on the authority of Habibah, daughter of Sahl al-Ansariyyah:She (Habibah) was the wife of Thabit ibn Qays ibn Shimmas. The Messenger of Allah (ﷺ) came out one morning and found Habibah by his door. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Who is this? She replied: I am Habibah, daughter of Sahl. He asked: What is your case? She replied: I and Thabit ibn Qays, referring to her husband, cannot live together. When Thabit ibn Qays came, the Messenger of Allah (ﷺ) said to him: This is Habibah, daughter of Sahl, and she has mentioned (about you) what Allah wished to mention. Habibah said: Messenger of Allah, all that he gave me is with me. The Messenger of Allah (ﷺ) said to Thabit ibn Qays: Take it from her. So he took it from her, and she lived among her people (relatives)
حبیبہ بنت سہل انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، ایک بار کیا ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر پڑھنے کے لیے نکلے تو آپ نے حبیبہ بنت سہل کو اندھیرے میں اپنے دروازے پر پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کون ہے؟ بولیں: میں حبیبہ بنت سہل ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا بات ہے؟ وہ اپنے شوہر ثابت بن قیس کے متعلق بولیں کہ میرا ان کے ساتھ گزارا نہیں ہو سکتا، پھر جب ثابت بن قیس آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: یہ حبیبہ بنت سہل ہیں انہوں نے مجھ سے بہت سی باتیں جنہیں اللہ نے چاہا ذکر کی ہیں ، حبیبہ کہنے لگیں: اللہ کے رسول! انہوں نے جو کچھ مجھے ( مہر وغیرہ ) دیا تھا وہ سب میرے پاس ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت بن قیس سے کہا: اس ( مال ) میں سے لے لو ، تو انہوں نے اس میں سے لے لیا اور وہ اپنے گھر والوں کے پاس بیٹھی رہیں ۱؎۔
Narrated by A Companion of the Prophet
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَىٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ بَعْضِ، أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ النَّاسَ فِي سَفَرِهِ عَامَ الْفَتْحِ بِالْفِطْرِ وَقَالَ ‏ "‏ تَقَوَّوْا لِعَدُوِّكُمْ ‏"‏ ‏.‏ وَصَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ الَّذِي حَدَّثَنِي لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْعَرْجِ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ وَهُوَ صَائِمٌ مِنَ الْعَطَشِ أَوْ مِنَ الْحَرِّ ‏.‏
Narrated A Companion of the Prophet: AbuBakr ibn AbdurRahman reported on the authority of a Companion of the Prophet (ﷺ): I saw the Prophet (ﷺ) commanding the people while he was travelling on the occasion of the conquest of Mecca not to observe fast. He said: Be strong for your enemy. The Messenger of Allah (ﷺ) fasted himself. Narrated AbuBakr: A man who narrated his tradition to me said: I have seen the Messenger of Allah (ﷺ) in al-Arj pouring water over his head while he was fasting, either because of thirst or because of heat
ابوبکر بن عبدالرحمٰن ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے فتح مکہ کے سال اپنے سفر میں لوگوں کو روزہ توڑ دینے کا حکم دیا، اور فرمایا: اپنے دشمن ( سے لڑنے ) کے لیے طاقت حاصل کرو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود روزہ رکھا۔ ابوبکر کہتے ہیں: مجھ سے بیان کرنے والے نے کہا کہ میں نے مقام عرج میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سر پر پیاس سے یا گرمی کی وجہ سے پانی ڈالتے ہوئے دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ ‏:‏ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏:‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُجَاهِدُ قَالَ ‏:‏ ‏"‏ أَلَكَ أَبَوَانِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏:‏ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏:‏ ‏"‏ فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ ‏:‏ أَبُو الْعَبَّاسِ هَذَا الشَّاعِرُ اسْمُهُ السَّائِبُ بْنُ فَرُّوخَ ‏.‏
‘Abd Allah bin ‘Amr said “A man came to the Prophet(ﷺ) and said “Apostle of Allaah(ﷺ), May I take part in jihad?” He asked “Do you have parents?” He replied “Yes”. So, strive for them.” Abu Dawud said:The name of the narrator Abu al-'Abbas, a poet, is al-Sa'ib b. Farrukh
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا : اللہ کے رسول ! میں جہاد کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیا تمہارے ماں باپ زندہ ہیں ؟ “ اس نے کہا : ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” انہیں دونوں میں جہاد کرو ۱؎ “ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ ابو العباس شاعر ہیں جن کا نام سائب بن فروخ ہے ۔
Narrated by Al-Hasan
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ إِمَاطَةُ الأَذَى حَلْقُ الرَّأْسِ ‏.‏
Narrated Al-Hasan:To remove the injury is the shaving of the head
حسن سے روایت ہے، وہ کہتے تھے تکلیف اور نجاست دور کرنے سے مراد سر مونڈنا ہے۔
Narrated by Jubair b. Mu'tim
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَخْبَرَنِي جُبَيْرُ بْنُ مُطْعِمٍ، قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ وَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَهْمَ ذِي الْقُرْبَى فِي بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ وَتَرَكَ بَنِي نَوْفَلٍ وَبَنِي عَبْدِ شَمْسٍ فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ حَتَّى أَتَيْنَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَؤُلاَءِ بَنُو هَاشِمٍ لاَ نُنْكِرُ فَضْلَهُمْ لِلْمَوْضِعِ الَّذِي وَضَعَكَ اللَّهُ بِهِ مِنْهُمْ فَمَا بَالُ إِخْوَانِنَا بَنِي الْمُطَّلِبِ أَعْطَيْتَهُمْ وَتَرَكْتَنَا وَقَرَابَتُنَا وَاحِدَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَنَا وَبَنُو الْمُطَّلِبِ لاَ نَفْتَرِقُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلاَ إِسْلاَمٍ وَإِنَّمَا نَحْنُ وَهُمْ شَىْءٌ وَاحِدٌ ‏"‏ ‏.‏ وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ ‏.‏
Narrated Jubair b. Mu'tim:On the day of Khaibar the Messenger of Allah (ﷺ) divided the portion to his relatives among the Banu Hashim and Banu 'Abd al-Muttalib, and omitted Banu Nawfal and Banu 'Abd Shams. So I and 'Utham b. 'Affan went to the Prophet (ﷺ) and we said: Messenger of Allah, these are Banu Hashim whose superiority we do not deny because if the position in which Allah has placed you in relation to them ; but tell us about Banu 'Abd al-Muttalib to whom you have given something while omitting us though our relationship is the same as theirs. The Messenger of Allah (ﷺ) said: There is no distinction between us and Banu 'Abd al-Muttalib in pre-Islamic days and in Islam. We and they are one, and he (ﷺ) intertwined his fingers
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب خیبر کی جنگ ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت میں سے قرابت داروں کا حصہ بنو ہاشم اور بنو مطلب میں تقسیم کیا، اور بنو نوفل اور بنو عبد شمس کو چھوڑ دیا، تو میں اور عثمان رضی اللہ عنہ دونوں چل کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ بنو ہاشم ہیں، ہم ان کی فضیلت کا انکار نہیں کرتے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو انہیں میں سے کیا ہے، لیکن ہمارے بھائی بنو مطلب کا کیا معاملہ ہے؟ کہ آپ نے ان کو دیا اور ہم کو نہیں دیا، جب کہ آپ سے ہماری اور ان کی قرابت داری یکساں ہے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم اور بنو مطلب دونوں جدا نہیں ہوئے نہ جاہلیت میں اور نہ اسلام میں، ہم اور وہ ایک چیز ہیں ۱؎ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست کیا ( گویا دکھایا کہ اس طرح ) ۔
Narrated by Aisha, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، تَقُولُ لَمَّا أَرَادُوا غَسْلَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالُوا وَاللَّهِ مَا نَدْرِي أَنُجَرِّدُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ ثِيَابِهِ كَمَا نُجَرِّدُ مَوْتَانَا أَمْ نُغَسِّلُهُ وَعَلَيْهِ ثِيَابُهُ فَلَمَّا اخْتَلَفُوا أَلْقَى اللَّهُ عَلَيْهِمُ النَّوْمَ حَتَّى مَا مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلاَّ وَذَقْنُهُ فِي صَدْرِهِ ثُمَّ كَلَّمَهُمْ مُكَلِّمٌ مِنْ نَاحِيَةِ الْبَيْتِ لاَ يَدْرُونَ مَنْ هُوَ أَنِ اغْسِلُوا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَعَلَيْهِ ثِيَابُهُ فَقَامُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَغَسَلُوهُ وَعَلَيْهِ قَمِيصُهُ يَصُبُّونَ الْمَاءَ فَوْقَ الْقَمِيصِ وَيُدَلِّكُونَهُ بِالْقَمِيصِ دُونَ أَيْدِيهِمْ وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَقُولُ لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا غَسَّلَهُ إِلاَّ نِسَاؤُهُ ‏.‏
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: By Allah, we did not know whether we should take off the clothes of the Messenger of Allah (ﷺ) as we took off the clothes of our dead, or wash him while his clothes were on him. When they (the people) differed among themselves, Allah cast slumber over them until every one of them had put his chin on his chest. Then a speaker spoke from a side of the house, and they did not know who he was: Wash the Prophet (ﷺ) while his clothes are on him. So they stood round the Prophet (ﷺ) and washed him while he had his shirt on him. They poured water on his shirt, and rubbed him with his shirt and not with their hands. Aisha used to say: If I had known beforehand about my affair what I found out later, none would have washed him except his wives
عباد بن عبداللہ بن زبیر کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا کہ جب لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دینے کا ارادہ کیا تو کہنے لگے: قسم اللہ کی! ہمیں نہیں معلوم کہ ہم جس طرح اپنے مردوں کے کپڑے اتارتے ہیں آپ کے بھی اتار دیں، یا اسے آپ کے بدن پر رہنے دیں اور اوپر سے غسل دے دیں، تو جب لوگوں میں اختلاف ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر نیند طاری کر دی یہاں تک کہ ان میں سے کوئی آدمی ایسا نہیں تھا جس کی ٹھڈی اس کے سینہ سے نہ لگ گئی ہو، اس وقت گھر کے ایک گوشے سے کسی آواز دینے والے کی آواز آئی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے اپنے پہنے ہوئے کپڑوں ہی میں غسل دو، آواز دینے والا کون تھا کوئی بھی نہ جان سکا، ( یہ سن کر ) لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اٹھ کر آئے اور آپ کو کرتے کے اوپر سے غسل دیا لوگ قمیص کے اوپر سے پانی ڈالتے تھے اور قمیص سمیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم مبارک ملتے تھے نہ کہ اپنے ہاتھوں سے۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں: اگر مجھے پہلے یاد آ جاتا جو بعد میں یاد آیا، تو آپ کی بیویاں ہی آپ کو غسل دیتیں۔
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ كَتَبَ إِلَىَّ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ، مَوْلَى لِبَنِي ضَمْرَةَ - وَكَانَ أَيَّمَا رَجُلٍ - أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الرُّعَيْنِيَّ أَخْبَرَهُ بِإِسْنَادِ يَحْيَى وَمَعْنَاهُ ‏.‏
The tradition mentioned above has also been transmitted by Abu Sa'id al-Ru'aini with the same chain as narrated by Yahya (b. Sa'id) and to the same effect
عبدالرزاق کہتے ہیں: ہم سے ابن جریج نے بیان کیا ہے کہ یحییٰ بن سعید نے مجھے لکھا کہ مجھے بنو ضمرہ کے غلام عبیداللہ بن زحر نے یا کوئی بھی رہے ہوں خبر دی کہ انہیں ابوسعید رعینی نے یحییٰ کی سند سے اسی مفہوم کی حدیث کی خبر دی ہے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْحَدِيثِ زَادَ وَاشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ أَنْ يَشْتَمِلَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ يَضَعُ طَرَفَىِ الثَّوْبِ عَلَى عَاتِقِهِ الأَيْسَرِ وَيُبْرِزُ شِقَّهُ الأَيْمَنَ وَالْمُنَابَذَةُ أَنْ يَقُولَ إِذَا نَبَذْتُ إِلَيْكَ هَذَا الثَّوْبَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ وَالْمُلاَمَسَةُ أَنْ يَمَسَّهُ بِيَدِهِ وَلاَ يَنْشُرُهُ وَلاَ يُقَلِّبُهُ فَإِذَا مَسَّهُ وَجَبَ الْبَيْعُ ‏.‏
The tradition mentioned above has also been reported by Abu Sa'id al-Khudri from the Prophet (ﷺ) through a different chain of narrators. This version adds:"Wearing the samma' means that a man puts his garment over his left shoulder and keeps his right side uncovered. Munabadhah means that a man says (to another): If I throw this garment to you, the sale will be certain. Mulamasah means that a man touches it (another's garment) with his hand and neither he unfolds it nor turns it over. When he touched it, the sale becomes binding
اس سند سے بھی بواسطہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث مروی ہے البتہ اس میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ اشتمال صماء یہ ہے کہ ایک کپڑا سارے بدن پر لپیٹ لے، اور کپڑے کے دونوں کنارے اپنے بائیں کندھے پر ڈال لے، اور اس کا داہنا پہلو کھلا رہے، اور منابذہ یہ ہے کہ بائع یہ کہے کہ جب میں یہ کپڑا تیری طرف پھینک دوں تو بیع لازم ہو جائے گی، اور ملامسہ یہ ہے کہ ہاتھ سے چھو لے نہ اسے کھولے اور نہ الٹ پلٹ کر دیکھے تو جب اس نے چھو لیا تو بیع لازم ہو گئی۔
Narrated by AbuSa'id al-Khudri
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ خَيْثَمَةَ، عَنْ سَعْدٍ، - يَعْنِي الطَّائِيَّ - عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ أَسْلَفَ فِي شَىْءٍ فَلاَ يَصْرِفْهُ إِلَى غَيْرِهِ ‏"‏ ‏.‏
Narrated AbuSa'id al-Khudri: The Prophet (ﷺ) said: If anyone pays in advance he must not transfer it to someone else before he receives it
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی پہلے قیمت دے کر کوئی چیز خریدے تو وہ چیز کسی اور چیز سے نہ بدلے ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ وَرَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا غَلَبَنِي عَلَى أَرْضٍ كَانَتْ لأَبِي فَقَالَ الْكِنْدِيُّ هِيَ أَرْضِي فِي يَدِي أَزْرَعُهَا لَيْسَ لَهُ فِيهَا حَقٌّ ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِلْحَضْرَمِيِّ ‏"‏ أَلَكَ بَيِّنَةٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَلَكَ يَمِينُهُ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ فَاجِرٌ لَيْسَ يُبَالِي مَا حَلَفَ لَيْسَ يَتَوَرَّعُ مِنْ شَىْءٍ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ لَيْسَ لَكَ مِنْهُ إِلاَّ ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏
‘Alqamah b. Wa’il b. Hujr al-Hadrami said on the authority of the father:A man from Hadramaw and a man from kindah came to the Messenger of Allah (ﷺ). The hadrami said: Messenger of Allah, this (man) has seized land which belonged to my father. Al-Kindi said: That is my land in my possession and I cultivate it; he has no right to it. The Holy prophet (may be peace upon him) said to the Hadrami: Have you any proof? We said : No. he (the Prophet)said: Then he will swear an oath for you . He said: Messenger of Allah, he is a reprobate and he would not care to swear to anything and stick at nothing. He said: That is only your recourse
وائل بن حجر حضرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک حضرمی اور ایک کندی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو حضرمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس شخص نے میرے والد کی زمین مجھ سے چھین لی ہے، کندی نے کہا: یہ تو میری زمین ہے میں اسے جوتتا ہوں اس میں اس کا حق نہیں ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرمی سے فرمایا: کیا تیرے پاس کوئی گواہ ہے؟ اس نے کہا: نہیں، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( کندی سے ) فرمایا: تو تیرے لیے قسم ہے تو حضرمی نے کہا: اللہ کے رسول! یہ تو ایک فاجر شخص ہے اسے قسم کی کیا پرواہ؟ وہ کسی چیز سے پرہیز نہیں کرتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سوائے اس کے اس پر تیرا کوئی حق نہیں ۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، - رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ - عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَعَا بِإِدَاوَةٍ يَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ ‏ "‏ اخْنُثْ فَمَ الإِدَاوَةِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ شَرِبَ مِنْ فِيهَا ‏.‏
A man of the Ansar quoting from his father said that the Prophet (ﷺ) called for a skin-vessel on the day of the battle of Uhud. He then said:Invert the head of the vessel and he drank from its mouth
عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے دن ایک مشکیزہ منگوایا اور فرمایا: مشکیزے کا منہ موڑو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے منہ سے پیا۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ وَأَذِنَ لَنَا فِي لُحُومِ الْخَيْلِ ‏.‏
Jabir b. ‘Abd Allah said:The Messenger of Allah(ﷺ) forbade the flesh of domestic asses on the day of Khaibar, but permitted horse flesh
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن گھریلو گدھوں کے گوشت کھانے سے منع فرمایا اور گھوڑے کے گوشت کی ہمیں اجازت دی۔
Narrated by Al-Bara' bin 'Azib
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَهُ شَعْرٌ يَبْلُغُ شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ وَرَأَيْتُهُ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ لَمْ أَرَ شَيْئًا قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهُ ‏.‏
Narrated Al-Bara' bin 'Azib:The Messenger of Allah (ﷺ) had hair which reached the lobes of his ears, and I saw him wearing red robe. I did not see anything more beautiful than it
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال آپ کے دونوں کانوں کی لو تک پہنچتے تھے، میں نے آپ کو ایک سرخ جوڑے میں دیکھا اس سے زیادہ خوبصورت میں نے کوئی چیز کبھی نہیں دیکھی۔
Narrated by Abdullah ibn Abbas
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم رَجُلٌ قَدْ خَضَبَ بِالْحِنَّاءِ فَقَالَ ‏"‏ مَا أَحْسَنَ هَذَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَمَرَّ آخَرُ قَدْ خَضَبَ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ فَقَالَ ‏"‏ هَذَا أَحْسَنُ مِنْ هَذَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَمَرَّ آخَرُ قَدْ خَضَبَ بِالصُّفْرَةِ فَقَالَ ‏"‏ هَذَا أَحْسَنُ مِنْ هَذَا كُلِّهِ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Abbas: When a man who had dyed himself with henna passed by the Prophet (ﷺ), he said: How fine this is! When another man who had dyed himself with henna and katam passed by, he said: This is better than that. Then another man who had dyed himself with yellow dye, passed by, he said: This is better than all that
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک شخص گزرا جس نے مہندی کا خضاب لگا رکھا تھا، تو آپ نے فرمایا: یہ کتنا اچھا ہے پھر ایک اور شخص گزرا جس نے مہندی اور کتم کا خضاب لگا رکھا تھا، تو آپ نے فرمایا: یہ اس سے بھی اچھا ہے اتنے میں ایک تیسرا شخص زرد خضاب لگا کے گزرا تو آپ نے فرمایا: یہ ان سب سے اچھا ہے ۔
Narrated by Abdullah ibn Amr ibn al-'As
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ خَبَّابٍ أَبِي الْعَلاَءِ، قَالَ حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ حَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذْ ذَكَرَ الْفِتْنَةَ فَقَالَ ‏"‏ إِذَا رَأَيْتُمُ النَّاسَ قَدْ مَرِجَتْ عُهُودُهُمْ وَخَفَّتْ أَمَانَاتُهُمْ وَكَانُوا هَكَذَا ‏"‏ ‏.‏ وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ قَالَ فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ كَيْفَ أَفْعَلُ عِنْدَ ذَلِكَ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ قَالَ ‏"‏ الْزَمْ بَيْتَكَ وَامْلِكْ عَلَيْكَ لِسَانَكَ وَخُذْ بِمَا تَعْرِفُ وَدَعْ مَا تُنْكِرُ وَعَلَيْكَ بِأَمْرِ خَاصَّةِ نَفْسِكَ وَدَعْ عَنْكَ أَمْرَ الْعَامَّةِ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-'As: When we were around the Messenger of Allah (ﷺ), he mentioned the period of commotion (fitnah) saying: When you see the people that their covenants have been impaired, (the fulfilling of) the guarantees becomes rare, and they become thus (interwining his fingers). I then got up and said: What should I do at that time, may Allah make me ransom for you? He replied: Keep to your house, control your tongue, accept what you approve, abandon what you disapprove, attend to your own affairs, and leave alone the affairs of the generality
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران آپ نے فتنہ کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم لوگوں کو دیکھو کہ ان کے عہد فاسد ہو گئے ہوں، اور ان سے امانتداریاں کم ہو گئیں ہوں اور آپ نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر بتایا کہ ان کا حال اس طرح ہو گیا ہو عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: یہ سن کر میں آپ کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا، اور میں نے عرض کیا: اللہ مجھے آپ پر قربان فرمائے! ایسے وقت میں میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے گھر کو لازم پکڑنا، اور اپنی زبان پر قابو رکھنا، اور جو چیز بھلی لگے اسے اختیار کرنا، اور جو بری ہو اسے چھوڑ دینا، اور صرف اپنی فکر کرنا عام لوگوں کی فکر چھوڑ دینا ۔
Narrated by Ali ibn AbuTalib
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ عَلِيٍّ، عَلَيْهِ السَّلاَمُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلاَثَةٍ عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَحْتَلِمَ وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يَعْقِلَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَلِيٍّ رضى الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم زَادَ فِيهِ ‏"‏ وَالْخَرِفِ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Ali ibn AbuTalib: The Prophet (ﷺ) said: There are three (persons) whose actions are not recorded: a sleeper till he awakes, a boy till he reaches puberty, and a lunatic till he comes to reason. Abu Dawud said: Ibn Juraij has transmitted it from Al-Qasim b. Yazid on the authority of 'Ali from the Prophet (ﷺ). This version adds: "and an old man who is feeble-minded
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قلم تین آدمیوں سے اٹھا لیا گیا ہے: سوئے ہوئے شخص سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے، بچے سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے، اور دیوانے سے یہاں تک کہ اسے عقل آ جائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن جریج نے قاسم بن یزید سے انہوں نے علی رضی اللہ عنہ سے، علی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کیا ہے، اور اس میں کھوسٹ بوڑھے کا اضافہ ہے۔
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ فِي مَسِيرٍ لَهُ فَنَامُوا عَنْ صَلاَةِ الْفَجْرِ فَاسْتَيْقَظُوا بِحَرِّ الشَّمْسِ فَارْتَفَعُوا قَلِيلاً حَتَّى اسْتَقَلَّتِ الشَّمْسُ ثُمَّ أَمَرَ مُؤَذِّنًا فَأَذَّنَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ ثُمَّ أَقَامَ ثُمَّ صَلَّى الْفَجْرَ ‏.‏
Imran b. Husain said:The Messenger of Allah (ﷺ) was on his journey. They (the people) slept abandoning the Fajr prayer. They awoke by the heat of the sun. Then they travelled a little until the sun rose high. He (the Prophet) commanded the mu'adhdhin (one who called for prayer) to call for prayer. He then offered two rak'ahs of prayer (sunnah prayer) before the (obligatory) fajr prayer. Then he (the mu'adhdhin) announced for saying the prayer in congregation (i.e. he uttered iqamah). Then he led them in the morning prayer
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے کہ لوگ نماز فجر میں سوئے رہ گئے، سورج کی گرمی سے وہ بیدار ہوئے تو تھوڑی دور چلے یہاں تک کہ سورج چڑھ گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مؤذن کو حکم دیا، تو اس نے اذان دی تو آپ نے فجر ( کی فرض نماز ) سے پہلے دو رکعت سنت پڑھی، پھر ( مؤذن نے ) تکبیر کہی اور آپ نے فجر پڑھائی۔
Narrated by Abdullah ibn Abbas
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ بَنِي عَدِيٍّ قُتِلَ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم دِيَتَهُ اثْنَىْ عَشَرَ أَلْفًا ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَذْكُرِ ابْنَ عَبَّاسٍ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Abbas: A man of Banu Adi was killed. The Prophet (ﷺ) fixed his blood-wit at the rate of twelve thousand (dirhams). Abu Dawud said: Ibn 'Uyainah transmitted it from 'Amr, from 'Ikrimah, from the Prophet (ﷺ), and he did not mention Ibn 'Abbas
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بنی عدی کے ایک شخص کو قتل کر دیا گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دیت بارہ ہزار ٹھہرائی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن عیینہ نے عمرو سے، عمرو نے عکرمہ سے اور عکرمہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے اور اس میں انہوں نے ابن عباس کا ذکر نہیں کیا ہے۔
Narrated by Sa'id ibn Zayd ibn Amr ibn Nufayl
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، عَنِ ابْنِ إِدْرِيسَ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ يِسَافٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ، وَسُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ يِسَافٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ الْمَازِنِيِّ، قَالَ ذَكَرَ سُفْيَانُ رَجُلاً فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ الْمَازِنِيِّ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ قَالَ لَمَّا قَدِمَ فُلاَنٌ الْكُوفَةَ أَقَامَ فُلاَنٌ خَطِيبًا فَأَخَذَ بِيَدِي سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ فَقَالَ أَلاَ تَرَى إِلَى هَذَا الظَّالِمِ فَأَشْهَدُ عَلَى التِّسْعَةِ إِنَّهُمْ فِي الْجَنَّةِ وَلَوْ شَهِدْتُ عَلَى الْعَاشِرِ لَمْ إِيثَمْ - قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ وَالْعَرَبُ تَقُولُ آثَمْ - قُلْتُ وَمَنِ التِّسْعَةُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ عَلَى حِرَاءٍ ‏ "‏ اثْبُتْ حِرَاءُ إِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكَ إِلاَّ نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ وَمَنِ التِّسْعَةُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَعَلِيٌّ وَطَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ‏.‏ قُلْتُ وَمَنِ الْعَاشِرُ فَتَلَكَّأَ هُنَيَّةً ثُمَّ قَالَ أَنَا ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ الأَشْجَعِيُّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ هِلاَلِ بْنِ يِسَافٍ عَنِ ابْنِ حَيَّانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ بِإِسْنَادِهِ ‏.‏
Narrated Sa'id ibn Zayd ibn Amr ibn Nufayl: Abdullah ibn Zalim al-Mazini said: I heard Sa'id ibn Zayd ibn Amr ibn Nufayl say: When so and so came to Kufah, and made so and so stand to address the people, Sa'id ibn Zayd caught hold of my hand and said: Are you seeing this tyrant? I bear witness to the nine people that they will go to Paradise. If I testify to the tenth too, I shall not be sinful. I asked: Who are the nine? He said: The Messenger of Allah (ﷺ) said when he was on Hira': Be still, Hira', for only a Prophet, or an ever-truthful, or a martyr is on you. I asked: Who are those nine? He said: The Messenger of Allah, AbuBakr, Umar, Uthman, Ali, Talhah, az-Zubayr, Sa'd ibn AbuWaqqas and AbdurRahman ibn Awf. I asked: Who is the tenth? He paused a moment and said: it is I. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by al-Ashja'i, from Sufyan, from Mansur, from Hilal b. Yasaf, from Ibn Hayyan on the authority of 'Abd Allah b. Zalim through his different chain of narrators in a a similar manner
عبداللہ بن ظالم مازنی کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: جب فلاں شخص کوفہ میں آیا تو فلاں شخص خطبہ کے لیے کھڑا ہوا ۱؎، سعید بن زید نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا: ۲؎ کیا تم اس ظالم ۳؎ کو نہیں دیکھتے ۴؎ پھر انہوں نے نو آدمیوں کے بارے میں گواہی دی کہ وہ جنت میں ہیں، اور کہا: اگر میں دسویں شخص ( کے جنت میں داخل ہونے ) کی گواہی دوں تو گنہگار نہ ہوں گا، ( ابن ادریس کہتے ہیں: عرب لوگ ( «إیثم» کے بجائے ) «آثم» کہتے ہیں ) ، میں نے پوچھا: اور وہ نو کون ہیں؟ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اس وقت آپ حراء ( پہاڑی ) پر تھے: حراء ٹھہر جا ( مت ہل ) اس لیے کہ تیرے اوپر نبی ہے یا صدیق ہے یا پھر شہید میں نے عرض کیا: اور نو کون ہیں؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد بن ابی وقاص اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہم، میں نے عرض کیا: اور دسواں آدمی کون ہے؟ تو تھوڑا ہچکچائے پھر کہا: میں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے اشجعی نے سفیان سے، سفیان نے منصور سے، منصور نے ہلال بن یساف سے، ہلال نے ابن حیان سے اور ابن حیان نے عبداللہ بن ظالم سے اسی سند سے روایت کیا ہے۔
Narrated by Jabir ibn Samurah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرْكَانِيُّ، وَهَنَّادٌ، أَنَّ شَرِيكًا، أَخْبَرَهُمْ عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ كُنَّا إِذَا أَتَيْنَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم جَلَسَ أَحَدُنَا حَيْثُ يَنْتَهِي ‏.‏
Narrated Jabir ibn Samurah: When we came to the Prophet (ﷺ), each one would sit down where there was room
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے، تو ہم میں سے جس کو جہاں جگہ ملتی بیٹھ جاتا۔
Narrated by Aisha, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ، عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ عَشْرٌ مِنَ الْفِطْرَةِ قَصُّ الشَّارِبِ وَإِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ وَالسِّوَاكُ وَالاِسْتِنْشَاقُ بِالْمَاءِ وَقَصُّ الأَظْفَارِ وَغَسْلُ الْبَرَاجِمِ وَنَتْفُ الإِبِطِ وَحَلْقُ الْعَانَةِ وَانْتِقَاصُ الْمَاءِ ‏"‏ ‏.‏ يَعْنِي الاِسْتِنْجَاءَ بِالْمَاءِ ‏.‏ قَالَ زَكَرِيَّا قَالَ مُصْعَبٌ وَنَسِيتُ الْعَاشِرَةَ إِلاَّ أَنْ تَكُونَ الْمَضْمَضَةَ ‏.‏
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Ten are the acts according to fitrah (nature): clipping the moustache, letting the beard grow, using the tooth-stick, cleansing the nose (Al-Istinshaq) with water, cutting the nails, washing the finger joints, plucking the hair under the arm-pits, shaving the pubes, and cleansing one's private parts (after easing or urinating) with water. The narrator said: I have forgotten the tenth, but it may have been rinsing the mouth
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دس چیزیں دین فطرت ہیں ۱؎: ۱- مونچھیں کاٹنا، ۲- داڑھی بڑھانا، ۳- مسواک کرنا، ۴- ناک میں پانی ڈالنا، ۵- ناخن کاٹنا، ۶- انگلیوں کے جوڑوں کو دھونا، ۷- بغل کے بال اکھیڑنا، ۸- ناف کے نیچے کے بال مونڈنا ۲؎، ۹ – پانی سے استنجاء کرنا ۔ زکریا کہتے ہیں: مصعب نے کہا: میں دسویں چیز بھول گیا، شاید کلی کرنا ہو۔