بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Abu Dawood
4
27 hadith
Narrated by Abd Allah b. Unais
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى خَالِدِ بْنِ سُفْيَانَ الْهُذَلِيِّ - وَكَانَ نَحْوَ عُرَنَةَ وَعَرَفَاتٍ - فَقَالَ ‏ "‏ اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَرَأَيْتُهُ وَحَضَرَتْ صَلاَةُ الْعَصْرِ فَقُلْتُ إِنِّي لأَخَافُ أَنْ يَكُونَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ مَا إِنْ أُؤَخِّرُ الصَّلاَةَ فَانْطَلَقْتُ أَمْشِي وَأَنَا أُصَلِّي أُومِئُ إِيمَاءً نَحْوَهُ فَلَمَّا دَنَوْتُ مِنْهُ قَالَ لِي مَنْ أَنْتَ قُلْتُ رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَجْمَعُ لِهَذَا الرَّجُلِ فَجِئْتُكَ فِي ذَاكَ ‏.‏ قَالَ إِنِّي لَفِي ذَاكَ فَمَشَيْتُ مَعَهُ سَاعَةً حَتَّى إِذَا أَمْكَنَنِي عَلَوْتُهُ بِسَيْفِي حَتَّى بَرَدَ ‏.‏
Narrated 'Abd Allah b. Unais:The Messenger of Allah (ﷺ) sent me to Khalid b. Sufyan al-Hudhail. This was towards 'Uranah and 'Arafat. He (the Prophet) said: Go and kill him. I saw him when the time of the afternoon prayer had come. I said: I am afraid if a fight takes place between me and him (Khalid b. Sufyan), that might delay the prayer. I proceeded walking towards him while I was praying by making a sign. When I reached near him, he said to me: Who are you ? I replied: A man from the Arabs; it came to me that you were gathering (any army) for this man (i.e. Prophet). Hence I came to you in connection with this matter. He said: I am (engaged) in this (work). I then walked along with him for a while ; when it became convenient for me, I dominated him with my sword until he became cold (dead)
عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن سفیان ہذلی کی طرف بھیجا اور وہ عرنہ و عرفات کی جانب تھا تو فرمایا: جاؤ اور اسے قتل کر دو ، عبداللہ کہتے ہیں: میں نے اسے دیکھ لیا عصر کا وقت ہو گیا تھا تو میں نے ( اپنے جی میں ) کہا اگر میں رک کر نماز میں لگتا ہوں تو اس کے اور میرے درمیان فاصلہ ہو جائے گا، چنانچہ میں اشاروں سے نماز پڑھتے ہوئے مسلسل اس کی جانب چلتا رہا، جب میں اس کے قریب پہنچا تو اس نے مجھ سے پوچھا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: عرب کا ایک شخص، مجھے معلوم ہوا ہے کہ اس شخص ( یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے مقابلے ) کے لیے تم ( لوگوں کو ) جمع کر رہے ہو ۱؎ تو میں اسی سلسلے میں تمہارے پاس آیا ہوں، اس نے کہا: ہاں میں اسی کوشش میں ہوں، چنانچہ میں تھوڑی دیر اس کے ساتھ چلتا رہا، جب مجھے مناسب موقع مل گیا تو میں نے اس پر تلوار سے وار کر دیا اور وہ ٹھنڈا ہو گیا۔
Narrated by Abdullah ibn Abbas
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَرْجَرَائِيُّ، حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُطِيلُ الْقِرَاءَةَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ حَتَّى يَتَفَرَّقَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ نَصْرٌ الْمُجَدَّرُ عَنْ يَعْقُوبَ الْقُمِّيِّ وَأَسْنَدَهُ مِثْلَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعِ حَدَّثَنَا نَصْرٌ الْمُجَدَّرُ عَنْ يَعْقُوبَ مِثْلَهُ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Messenger of Allah (ﷺ) used to prolong the recitation of the Qur'an in the two rak'ahs after the sunset prayer until the people praying in the mosque dispersed. Abu Dawud said: This has been reported by Nasr al-Mujaddir from Ya'qub al-Qummi with the same chain of narrators. Abu Dawud said: Muhammad b. 'Isa b. al-tabba' transmitted from Nasr al-Mujaddir from Ya'qub in like manner
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کے بعد کی دونوں رکعتوں میں لمبی قرآت فرماتے یہاں تک کہ مسجد کے لوگ متفرق ہو جاتے ( یعنی سنتیں پڑھ پڑھ کر چلے جاتے ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نصر مجدر نے یعقوب قمی سے اسی کے مثل روایت کی ہے اور اسے مسند قرار دیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہم سے اسے محمد بن عیسی بن طباع نے بیان کیا ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سے نصر مجدر نے بیان کیا ہے وہ یعقوب سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَهُوَ عَلَى نَاقَةٍ يَقْرَأُ بِسُورَةِ الْفَتْحِ وَهُوَ يُرَجِّعُ ‏.‏
Abd Allah b. Mughaffal said:On the day of the Conquest of Mecca I saw the Messenger of Allah (ﷺ) riding his she-camel reciting Surah al-Fath repeating each verse several times
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے روز ایک اونٹنی پر سوار دیکھا، آپ سورۃ الفتح پڑھ رہے تھے اور ( ایک ایک آیت ) کئی بار دہرا رہے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْجُعْرُورِ وَلَوْنِ الْحُبَيْقِ أَنْ يُؤْخَذَا فِي الصَّدَقَةِ ‏.‏ قَالَ الزُّهْرِيُّ لَوْنَيْنِ مِنْ تَمْرِ الْمَدِينَةِ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَأَسْنَدَهُ أَيْضًا أَبُو الْوَلِيدِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ كَثِيرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ ‏.‏
Abu Umamah bin Sahl reported on the authority of his father:The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited to accept ja'rur and habiq dates as zakat. Az-Zuhri said: These are two kinds of the dates of Medina. Abu Dawud said: This has also been transmited by Abu al-Walid from Sulaiman bin Kathir from Az-Zuhri
سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «جعرور» اور «لون الحبیق» کو زکاۃ میں لینے سے منع ۱؎ فرمایا، زہری کہتے ہیں: یہ دونوں مدینے کی کھجور کی قسمیں ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابوالولید نے بھی سلیمان بن کثیر سے انہوں نے زہری سے روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَأَيْتُكَ تَصْنَعُ أَرْبَعًا لَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِكَ يَصْنَعُهَا ‏.‏ قَالَ مَا هُنَّ يَا ابْنَ جُرَيْجٍ قَالَ رَأَيْتُكَ لاَ تَمَسُّ مِنَ الأَرْكَانِ إِلاَّ الْيَمَانِيَيْنِ وَرَأَيْتُكَ تَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ وَرَأَيْتُكَ تَصْبُغُ بِالصُّفْرَةِ وَرَأَيْتُكَ إِذَا كُنْتَ بِمَكَّةَ أَهَلَّ النَّاسُ إِذَا رَأَوُا الْهِلاَلَ وَلَمْ تُهِلَّ أَنْتَ حَتَّى كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ ‏.‏ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَمَّا الأَرْكَانُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَمَسُّ إِلاَّ الْيَمَانِيَيْنِ وَأَمَّا النِّعَالُ السِّبْتِيَّةُ فِإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَلْبَسُ النِّعَالَ الَّتِي لَيْسَ فِيهَا شَعْرٌ وَيَتَوَضَّأُ فِيهَا فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَلْبَسَهَا وَأَمَّا الصُّفْرَةُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصْبُغُ بِهَا فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَصْبُغَ بِهَا وَأَمَّا الإِهْلاَلُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُهِلُّ حَتَّى تَنْبَعِثَ بِهِ رَاحِلَتُهُ ‏.‏
Ubayd ibn Jurayj said to Abdullah ibn Umar:AbuAbdurRahman, I saw you doing things which I did not see being done by your companions. He asked: What are they, Ibn Jurayj? He replied: I saw you touching only the two Yamani corners; and I saw you wearing shoes having no hair; I saw you dyeing in yellow colour; and I saw you wearing ihram on the eighth of Dhul-Hijjah, whereas the people had worn ihram when they sighted the moon. Abdullah ibn Umar replied: As regards the corners, I have not seen the Messenger of Allah (ﷺ) touching anything (in the Ka'bah) but the two Yamani corners. As for the tanned leather shoes, I have seen the Messenger of Allah (ﷺ) wearing tanned leather shoes, and he would wear them after ablution. Therefore I like to wear them. As regards wearing yellow, I have seen the Messenger of Allah (ﷺ) wearing yellow, so I like to wear with it. As regards shouting the talbiyah, I have seen the Messenger of Allah (ﷺ) raising his voice in talbiyah when his she-camel stood up with him on its back
عبید بن جریج سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: ابوعبدالرحمٰن! میں نے آپ کو چار کام ایسے کرتے دیکھا ہے جنہیں میں نے آپ کے اصحاب میں سے کسی کو کرتے نہیں دیکھا ہے؟ انہوں نے پوچھا: وہ کیا ہیں ابن جریج؟ وہ بولے: میں نے دیکھا کہ آپ صرف رکن یمانی اور حجر اسود کو چھوتے ہیں، اور دیکھا کہ آپ ایسی جوتیاں پہنتے ہیں جن کے چمڑے میں بال نہیں ہوتے، اور دیکھا آپ زرد خضاب لگاتے ہیں، اور دیکھا کہ جب آپ مکہ میں تھے تو لوگوں نے چاند دیکھتے ہی احرام باندھ لیا لیکن آپ نے یوم الترویہ ( آٹھویں ذی الحجہ ) کے آنے تک احرام نہیں باندھا، تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رہی رکن یمانی اور حجر اسود کی بات تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف انہیں دو کو چھوتے دیکھا ہے، اور رہی بغیر بال کی جوتیوں کی بات تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی جوتیاں پہنتے دیکھی ہیں جن میں بال نہیں تھے اور آپ ان میں وضو کرتے تھے، لہٰذا میں بھی انہی کو پہننا پسند کرتا ہوں، اور رہی زرد خضاب کی بات تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زرد رنگ کا خضاب لگاتے دیکھا ہے، لہٰذا میں بھی اسی کو پسند کرتا ہوں، اور احرام کے بارے میں یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت تک لبیک پکارتے نہیں دیکھا جب تک کہ آپ کی سواری آپ کو لے کر چلنے کے لیے کھڑی نہ ہو جاتی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْحَدِيثِ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ لَمْ يَذْكُرِ ابْنَ عَبَّاسٍ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ النَّاسُ مُرْسَلاً مَعْرُوفٌ ‏.‏
The above tradition has been transmitted by ‘Ikrimah from the Prophet (ﷺ). Abu Dawud said “He (Muhammad bin ‘Ubaid) did not mention the name of Ibn ‘Abbas in the chain of this tradition. The people have also narrated it mursal (without the mention of the name of Ibn ‘Abbas) in a similar way. Its transmission in the mursal form is well known
اس سند سے عکرمہ سے یہ حدیث مرسلاً مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: اس روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں ہے، اس روایت کا اسی طرح لوگوں کا مرسلاً روایت کرنا ہی معروف ہے۔
Narrated by Thawban
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا طَلاَقًا فِي غَيْرِ مَا بَأْسٍ فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Thawban: The Prophet (ﷺ) said: If any woman asks her husband for divorce without some strong reason, the odour of Paradise will be forbidden to her
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس عورت نے اپنے شوہر سے بغیر کسی ایسی تکلیف کے جو اسے طلاق لینے پر مجبور کرے طلاق کا مطالبہ کیا تو اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے ۔
Narrated by Amir ibn Rabi'ah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَسْتَاكُ وَهُوَ صَائِمٌ ‏.‏ زَادَ مُسَدَّدٌ مَا لاَ أَعُدُّ وَلاَ أُحْصِي ‏.‏
Narrated Amir ibn Rabi'ah: I have seen the Messenger of Allah (ﷺ) using a tooth-stick while he was fasting. Musaddad added in his version: "more often than I could count
عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو روزے کی حالت میں مسواک کرتے دیکھا، جسے میں نہ گن سکتا ہوں، نہ شمار کر سکتا ہوں
Narrated by Abdullah ibn Amr ibn al-'As
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ ‏:‏ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏:‏ جِئْتُ أُبَايِعُكَ عَلَى الْهِجْرَةِ وَتَرَكْتُ أَبَوَىَّ يَبْكِيَانِ ‏.‏ فَقَالَ ‏:‏ ‏ "‏ ارْجِعْ عَلَيْهِمَا فَأَضْحِكْهُمَا كَمَا أَبْكَيْتَهُمَا ‏"‏ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-'As: A man came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: I came to you to take the oath of allegiance to you on emigration, and I left my parents weeping. He (the Prophet) said: Return to them and make them laugh as you made them weep
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: میں آپ سے ہجرت پر بیعت کرنے کے لیے آیا ہوں، اور میں نے اپنے ماں باپ کو روتے ہوئے چھوڑا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کے پاس واپس جاؤ، اور انہیں ہنساؤ جیسا کہ رلایا ہے ۱؎ ۔
Narrated by Salman b. 'Amir al-Dabbi
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنِ الرَّبَابِ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَعَ الْغُلاَمِ عَقِيقَتُهُ فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا وَأَمِيطُوا عَنْهُ الأَذَى ‏"‏ ‏.‏
Narrated Salman b. 'Amir al-Dabbi:The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: Along with a boy there is an 'Aqiqah, so shed blood on his behalf, and remove injury from him
سلمان بن عامر ضبی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لڑکے کی پیدائش کے ساتھ اس کا عقیقہ ہے تو اس کی جانب سے خون بہاؤ، اور اس سے تکلیف اور نجاست کو دور کرو ( یعنی سر کے بال مونڈو اور غسل دو ) ۔
Narrated by Jubair b. Mu'tim
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، حَدَّثَنَا جُبَيْرُ بْنُ مُطْعِمٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَقْسِمْ لِبَنِي عَبْدِ شَمْسٍ وَلاَ لِبَنِي نَوْفَلٍ مِنَ الْخُمُسِ شَيْئًا كَمَا قَسَمَ لِبَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ ‏.‏ قَالَ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَقْسِمُ الْخُمُسَ نَحْوَ قَسْمِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يُعْطِي قُرْبَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَمَا كَانَ يُعْطِيهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ عُمَرُ يُعْطِيهِمْ وَمَنْ كَانَ بَعْدَهُ مِنْهُمْ ‏.‏
Narrated Jubair b. Mu'tim:The Messenger of Allah (ﷺ) did not divide the fifth among the Banu 'Abd Shams and Banu Nawfal as he divided among the Banu Hashim and Banu 'Abd al-Muttalib. He said: Abu Bakr used to divide (the fifth) like the division of the Messenger of Allah (ﷺ), except that he did not give the relatives of the Messenger of Allah as the Messenger of Allah (ﷺ) himself gave them. 'Umar used to give them (from the fifth) and those who followed him
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبد شمس اور بنو نوفل کو خمس میں سے کچھ نہیں دیا، جب کہ بنو ہاشم اور بنو مطلب میں تقسیم کیا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی خمس اسی طرح تقسیم کیا کرتے تھے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تقسیم کیا کرتے تھے، مگر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ داروں کو نہ دیتے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو دیا کرتے تھے، البتہ عمر رضی اللہ عنہ انہیں دیا کرتے تھے اور عمر رضی اللہ عنہ کے بعد جو خلیفہ ہوئے وہ بھی دیا کرتے تھے ۱؎۔
Narrated by Ali ibn AbuTalib
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أُخْبِرْتُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ تُبْرِزْ فَخِذَكَ وَلاَ تَنْظُرَنَّ إِلَى فَخِذِ حَىٍّ وَلاَ مَيِّتٍ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Ali ibn AbuTalib: The Prophet (ﷺ) said: Do not unveil your thigh, and do not look at the thigh of the living and the dead
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی ران کو مت کھولو اور کسی زندہ و مردہ کی ران کو ہرگز نہ دیکھو ۔
Narrated by Uqbah ibn Amir
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، قَالَ أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيُّ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَالِكٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ أَخْبَرَهُ ‏:‏ أَنَّهُ، سَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنْ أُخْتٍ لَهُ نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ حَافِيَةً غَيْرَ مُخْتَمِرَةٍ فَقَالَ ‏:‏ ‏ "‏ مُرُوهَا فَلْتَخْتَمِرْ وَلْتَرْكَبْ، وَلْتَصُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Uqbah ibn Amir: Uqbah consulted the Prophet (ﷺ) about his sister who took a vow to perform hajj barefooted and bareheaded. So he said: Command her to cover her head and to ride, and to fast three days
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی ایک بہن کے بارے میں پوچھا جس نے نذر مانی تھی کہ وہ ننگے پیر اور ننگے سر حج کرے گی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے حکم دو کہ اپنا سر ڈھانپ لے اور سواری پر سوار ہو اور ( بطور کفارہ ) تین دن کے روزے رکھے ۔
Narrated by Abu Sa’id Al Khudri
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، - وَهَذَا لَفْظُهُ - قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعَتَيْنِ وَعَنْ لِبْسَتَيْنِ أَمَّا الْبَيْعَتَانِ فَالْمُلاَمَسَةُ وَالْمُنَابَذَةُ وَأَمَّا اللِّبْسَتَانِ فَاشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ كَاشِفًا عَنْ فَرْجِهِ أَوْ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَىْءٌ ‏.‏
Narrated Abu Sa’id Al Khudri :The Prophet (ﷺ) forbade two types of business transactions and two ways of dressing. The two types of business transactions are mulamasah and munabadhah. As regards the two ways of dressing, they are the wrapping of the samma', and that when a man wraps himself up in a single garment while sitting in such a way that he does not cover his private parts or there is no garment on his private parts
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کی بیع سے اور دو قسم کے پہناؤں سے روکا ہے، رہے دو بیع تو وہ ملامسہ ۱؎ اور منابذہ ۲؎ ہیں، اور رہے دونوں پہناوے تو ایک اشتمال صماء ۳؎ ہے اور دوسرا احتباء ہے، اور احتباء یہ ہے کہ ایک کپڑا اوڑھ کے گوٹ مار کر اس طرح سے بیٹھے کہ شرمگاہ کھلی رہے، یا شرمگاہ پر کوئی کپڑا نہ رہے۔
Narrated by Abdullah ibn Umar
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ رَجُلٍ، نَجْرَانِيٍّ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلاً، أَسْلَفَ رَجُلاً فِي نَخْلٍ فَلَمْ تُخْرِجْ تِلْكَ السَّنَةَ شَيْئًا فَاخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ بِمَ تَسْتَحِلُّ مَالَهُ ارْدُدْ عَلَيْهِ مَالَهُ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ لاَ تُسْلِفُوا فِي النَّخْلِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاَحُهُ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Umar: A man paid in advance for a palm-tree. It did not bear fruit that year. They brought their case for decision to the Prophet (ﷺ). He said: for which do you make his property lawful? He then said: Do not pay in advance for a palm-tree till they (the fruits) were clearly in good condition
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ایک شخص سے کھجور کے ایک خاص درخت کے پھل کی بیع سلف کی، تو اس سال اس درخت میں کچھ بھی پھل نہ آیا تو وہ دونوں اپنا جھگڑا لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیچنے والے سے فرمایا: تم کس چیز کے بدلے اس کا مال اپنے لیے حلال کرنے پر تلے ہوئے ہو؟ اس کا مال اسے لوٹا دو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھجوروں میں جب تک وہ قابل استعمال نہ ہو جائیں سلف نہ کرو ۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي كُرْدُوسٌ، عَنِ الأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ كِنْدَةَ وَرَجُلاً مِنْ حَضْرَمَوْتَ اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي أَرْضٍ مِنَ الْيَمَنِ فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَرْضِي اغْتَصَبَنِيهَا أَبُو هَذَا وَهِيَ فِي يَدِهِ ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ هَلْ لَكَ بَيِّنَةٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ وَلَكِنْ أُحَلِّفُهُ وَاللَّهِ مَا يَعْلَمُ أَنَّهَا أَرْضِي اغْتَصَبَنِيهَا أَبُوهُ ‏.‏ فَتَهَيَّأَ الْكِنْدِيُّ يَعْنِي لِلْيَمِينِ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ ‏.‏
Al-Ash’ath b. Qais said:A men from Kindah and a men from Hadramawt came to the Holy Prophet(ﷺ)with their dispute about a land in the Yemen. The Hadrami said: Messenger of Allah, the this (man)had usurped land belonging to me, and it is his possession. He asked: Have you any proof ?He replied:No, but I can have him swear on oath. Allah knows that it is my land, and father seized it from me. The Kindi was prepared to take oath. He then narrated the rest of the tradition
اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک کندی اور ایک حضرمی یمن کی ایک زمین کے سلسلے میں جھگڑتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، حضرمی نے کہا: اللہ کے رسول! اس ( کندی ) کے باپ نے مجھ سے میری زمین غصب کر لی ہے اور وہ زمین اس کے قبضے میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس کوئی گواہ ہے حضرمی نے کہا: نہیں لیکن میں اس کو اس بات پر قسم دلاؤں گا کہ وہ نہیں جانتا کہ میری زمین کو اس کے باپ نے مجھ سے غصب کر لیا ہے؟ تو وہ کندی قسم کے لیے آمادہ ہو گیا، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی ( جو گزر چکی نمبر: ۳۲۴۴ ) ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ اخْتِنَاثِ الأَسْقِيَةِ ‏.‏
Abu Sa’id al-Khudri said :The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited drinking by inverting the heads of skin vessels
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزوں کا منہ موڑ کر پینے سے منع فرمایا ہے۔
Narrated by Abdullah ibn Umar
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَهْمٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْجَلاَّلَةِ فِي الإِبِلِ أَنْ يُرْكَبَ عَلَيْهَا أَوْ يُشْرَبَ مِنْ أَلْبَانِهَا ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Umar: The Messenger of Allah (ﷺ) forbade riding the camel which feeds on filth and drinking its milk
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلاظت کھانے والے اونٹ کی سواری کرنے اور اس کا دودھ پینے سے منع فرمایا ہے۔
Narrated by Hurayth ibn al-Abajj as-Sulayhi
حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنِي أَبِي، - قَالَ ابْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ وَقَرَأْتُ فِي أَصْلِ إِسْمَاعِيلَ - قَالَ حَدَّثَنِي ضَمْضَمٌ - يَعْنِي ابْنَ زُرْعَةَ - عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ حُرَيْثِ بْنِ الأَبَحِّ السَّلِيحِيِّ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ بَنِي أَسَدٍ قَالَتْ كُنْتُ يَوْمًا عِنْدَ زَيْنَبَ امْرَأَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ نَصْبُغُ ثِيَابًا لَهَا بِمَغْرَةٍ فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا رَأَى الْمَغْرَةَ رَجَعَ فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِكَ زَيْنَبُ عَلِمَتْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ كَرِهَ مَا فَعَلَتْ فَأَخَذَتْ فَغَسَلَتْ ثِيَابَهَا وَوَارَتْ كُلَّ حُمْرَةٍ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجَعَ فَاطَّلَعَ فَلَمَّا لَمْ يَرَ شَيْئًا دَخَلَ ‏.‏
Narrated Hurayth ibn al-Abajj as-Sulayhi: That a woman of Banu Asad: One day I was with Zaynab, the wife of the Messenger of Allah (ﷺ), and we were dyeing her clothes with red ochre. In the meantime the Messenger of Allah (ﷺ) peeped us. When he saw the red ochre, he returned. When Zaynab saw this, she realised that the Messenger of Allah (ﷺ) disapproved of what she had done. She then took and washed her clothes and concealed all redness. The Messenger of Allah (ﷺ) then returned and peeped, and when he did not see anything, he entered
حریث بن ابح سلیحی کہتے ہیں کہ بنی اسد کی ایک عورت کہتی ہے: میں ایک دن ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا کے پاس تھی اور ہم آپ کے کپڑے گیروے میں رنگ رہے تھے کہ اسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، جب آپ کی نظر گیروے رنگ پر پڑی تو واپس لوٹ گئے، جب زینب رضی اللہ عنہا نے یہ دیکھا تو وہ سمجھ گئیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ناگوار لگا ہے، چنانچہ انہوں نے ان کپڑوں کو دھو دیا اور ساری سرخی چھپا دی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے اور دیکھا جب کوئی چیز نظر نہیں آئی تو اندر تشریف لے گئے۔
Narrated by Abdullah ibn Umar
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُطَرِّفٍ أَبُو سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ وَيُصَفِّرُ لِحْيَتَهُ بِالْوَرْسِ وَالزَّعْفَرَانِ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُ ذَلِكَ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Umar: The Prophet (ﷺ) used to wear tanned leather sandals and dye his beard yellow with wars and saffron, and Ibn 'Umar used to do that too
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھال کی سبتی جوتیاں پہنتے تھے جس پر بال نہیں ہوتے تھے، اور اپنی داڑھی ورس ۱؎ اور زعفران سے رنگتے تھے، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا کرتے تھے۔
Narrated by Abdullah ibn Amr ibn al-'As
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، أَنَّ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ أَبِي حَازِمٍ، حَدَّثَهُمْ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ كَيْفَ بِكُمْ وَبِزَمَانٍ ‏"‏ ‏.‏ أَوْ ‏"‏ يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَ زَمَانٌ يُغَرْبَلُ النَّاسُ فِيهِ غَرْبَلَةً تَبْقَى حُثَالَةٌ مِنَ النَّاسِ قَدْ مَرِجَتْ عُهُودُهُمْ وَأَمَانَاتُهُمْ وَاخْتَلَفُوا فَكَانُوا هَكَذَا ‏"‏ ‏.‏ وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ فَقَالُوا وَكَيْفَ بِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ تَأْخُذُونَ مَا تَعْرِفُونَ وَتَذَرُونَ مَا تُنْكِرُونَ وَتُقْبِلُونَ عَلَى أَمْرِ خَاصَّتِكُمْ وَتَذَرُونَ أَمْرَ عَامَّتِكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَكَذَا رُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-'As: The Prophet (ﷺ) said: How will you do when that time will come? Or he said: A time will soon come when the people are sifted and only dregs of mankind survive and their covenants and guarantees have been impaired and they have disagreed among themselves and become thus, interwining his fingers. They asked: What do you order us to do, Messenger of Allah? He replied: Accept what you approve, abandon what you disapprove, attend to your own affairs and leave alone the affairs of the generality. Abu dawud said: A similar tradition has been transmitted by 'Abd Allah bin 'Amr from the Prophet (ﷺ) through different chain
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا اس زمانہ میں کیا حال ہو گا؟ یا آپ نے یوں فرمایا: عنقریب ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ لوگ چھن اٹھیں گے، اچھے لوگ سب مر جائیں گے، اور کوڑا کرکٹ یعنی برے لوگ باقی رہ جائیں گے، ان کے عہد و پیمان اور ان کی امانتوں کا معاملہ بگڑ چکا ہو گا ( یعنی لوگ بدعہدی اور امانتوں میں خیانت کریں گے ) آپس میں اختلاف کریں گے اور اس طرح ہو جائیں گے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر بتایا، تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس وقت ہم کیا کریں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بات تمہیں بھلی لگے اسے اختیار کرو، اور جو بری لگے اسے چھوڑ دو، اور خاص کر اپنی فکر کرو، عام لوگوں کی فکر چھوڑ دو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً اس سند کے علاوہ سے بھی مروی ہے۔
Narrated by Ali ibn AbuTalib
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، - الْمَعْنَى - عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، - قَالَ هَنَّادٌ - الْجَنْبِيِّ قَالَ أُتِيَ عُمَرُ بِامْرَأَةٍ قَدْ فَجَرَتْ فَأَمَرَ بِرَجْمِهَا فَمَرَّ عَلِيٌّ رضى الله عنه فَأَخَذَهَا فَخَلَّى سَبِيلَهَا فَأُخْبِرَ عُمَرُ قَالَ ادْعُوا لِي عَلِيًّا ‏.‏ فَجَاءَ عَلِيٌّ رضى الله عنه فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلاَثَةٍ عَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَبْلُغَ وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ وَعَنِ الْمَعْتُوهِ حَتَّى يَبْرَأَ ‏"‏ ‏.‏ وَإِنَّ هَذِهِ مَعْتُوهَةُ بَنِي فُلاَنٍ لَعَلَّ الَّذِي أَتَاهَا أَتَاهَا وَهِيَ فِي بَلاَئِهَا ‏.‏ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ لاَ أَدْرِي ‏.‏ فَقَالَ عَلِيٌّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ وَأَنَا لاَ أَدْرِي ‏.‏
Narrated Ali ibn AbuTalib: AbuZubyan said: A woman who had committed adultery was brought to Umar. He gave orders that she should be stoned. Ali passed by just then. He seized her and let her go. Umar was informed of it. He said: Ask Ali to come to me. Ali came to him and said: Commander of the Faithful, you know that the Messenger of Allah (ﷺ) said: There are three (people) whose actions are not recorded: A boy till he reaches puberty, a sleeper till he awakes, a lunatic till he is restored to reason. This is an idiot (mad) woman belonging to the family of so and so. Someone might have done this action with her when she suffered the fit of lunacy. Umar said: I do not know. Ali said: I do not know
ابوظبیان جنی کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت لائی گئی جس نے زنا کا ارتکاب کیا تھا، تو انہوں نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا، علی رضی اللہ عنہ کا وہاں سے گزر ہوا، انہوں نے اسے پکڑا اور چھوڑ دیا، تو عمر کو اس کی خبر دی گئی تو انہوں نے کہا: علی رضی اللہ عنہ کو میرے پاس بلاؤ، چنانچہ علی رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے: امیر المؤمنین! آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: قلم تین شخصوں سے اٹھا لیا گیا ہے: بچہ سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے، سوئے ہوئے شخص سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے، اور دیوانہ سے یہاں تک کہ وہ اچھا ہو جائے اور یہ تو دیوانی اور پاگل ہے، فلاں قوم کی ہے، ہو سکتا ہے اس کے پاس جو آیا ہو اس حالت میں آیا ہو کہ وہ دیوانگی کی شدت میں مبتلاء رہی ہو، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے نہیں معلوم کہ وہ اس وقت دیوانی تھی، اس پر علی رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ نہیں تھی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ نَسِيَ صَلاَةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا لاَ كَفَّارَةَ لَهَا إِلاَّ ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏
Anas b. Malik reported the Prophet (ﷺ) as saying:If any one forgets a prayer or oversleeps, he should observe it when he remembers it ; there is no expiation for it except that
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کوئی نماز بھول جائے تو جب یاد آئے اسے پڑھ لے، یہی اس کا کفارہ ہے اس کے علاوہ اس کا کوئی اور کفارہ نہیں ۔
Narrated by Abdullah ibn Mas'ud
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ خِشْفِ بْنِ مَالِكٍ الطَّائِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ فِي دِيَةِ الْخَطَإِ عِشْرُونَ حِقَّةً وَعِشْرُونَ جَذَعَةً وَعِشْرُونَ بِنْتَ مَخَاضٍ وَعِشْرُونَ بِنْتَ لَبُونٍ وَعِشْرُونَ بَنِي مَخَاضٍ ذُكُرٌ ‏"‏ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ عَبْدِ اللَّهِ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Mas'ud: The Prophet (ﷺ) said: The blood-wit for accidental killing should be twenty she-camels which had entered their fourth year, twenty she-camels which had entered their fifth year, twenty she-camels which had entered their second year, twenty she-camels which had entered their third year, and twenty male camels which had entered their second year. It does not beyond Ibn Mas'ud
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قتل خطا کی دیت میں بیس حقے، بیس جزعے، بیس بنت مخاض، بیس بنت لبون اور بیس ابن مخاض ہیں اور یہی عبداللہ بن مسعود کا قول ہے۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ، عَنْ سَفِينَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ خِلاَفَةُ النُّبُوَّةِ ثَلاَثُونَ سَنَةً ثُمَّ يُؤْتِي اللَّهُ الْمُلْكَ مَنْ يَشَاءُ - أَوْ مُلْكَهُ مَنْ يَشَاءُ - ‏"‏ ‏.‏
Safinah reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:The caliphate of Prophecy will last thirty years; then Allah will give the Kingdom to whom he wishes; or his kingdom to whom he wishes
سفینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خلافت علی منہاج النبوۃ ( نبوت کی خلافت ) تیس سال ہے، پھر اللہ تعالیٰ سلطنت جسے چاہے گا یا اپنی سلطنت جسے چاہے گا، دے گا ۔
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، عَنِ ابْنِ فُضَيْلٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا قَالَ كَأَنَّهُ يُحِبُّ الْجَمَاعَةَ ‏.‏
Al-A`mash said:It seems he liked collective gathering
اعمش سے بھی یہی حدیث مروی ہے البتہ اس میں ہے گویا کہ آپ اجتماعیت کو پسند فرماتے تھے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيدٍ الْكُوفِيُّ الْحَاسِبُ، حَدَّثَنِي كَثِيرٌ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَسْتَاكُ فَيُعْطِينِي السِّوَاكَ لأَغْسِلَهُ فَأَبْدَأُ بِهِ فَأَسْتَاكُ ثُمَّ أَغْسِلُهُ وَأَدْفَعُهُ إِلَيْهِ ‏.‏
Aishah narrated:"The Prophet of Allah (ﷺ) would clean his teeth with the Siwak, then he would give me the Siwak in order to wash it. So I would first use it myself, then wash it and return it
ام المؤمنین کہتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کر کے مجھے دھونے کے لیے دیتے تو میں خود اس سے مسواک شروع کر دیتی پھر اسے دھو کر آپ کو دے دیتی۔