Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَخْنَسِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ فَرَضَ اللَّهُ تَعَالَى الصَّلاَةَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ صلى الله عليه وسلم فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا وَفِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ وَفِي الْخَوْفِ رَكْعَةً .
Narrated Ibn 'Abbas:Allah, the Exalted, prescribed prayer for you, through the tongue of your Prophet (ﷺ), four rak'ahs while resident, two rak'ahs while travelling and one rak'ah in time of danger
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اللہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے تم پر حضر میں چار رکعتیں فرض کی ہیں اور سفر میں دو رکعتیں، اور خوف میں ایک رکعت۔
Narrated by Urwah b. Ruwaim
حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ، رُوَيْمٍ حَدَّثَنِي الأَنْصَارِيُّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِجَعْفَرٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ فَذَكَرَ نَحْوَهُمْ قَالَ فِي السَّجْدَةِ الثَّانِيَةِ مِنَ الرَّكْعَةِ الأُولَى كَمَا قَالَ فِي حَدِيثِ مَهْدِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ .
Narrated 'Urwah b. Ruwaim:That an al-Ansari narrated to him: The Messenger of Allah (ﷺ) said to Ja'far. He then narrated the tradition in like manner. This version has the words: "In the second prostration of the first rak'ah" in addition to the words transmitted by Mahdi b. Maimun (in the previous tradition)
عروہ بن رویم کہتے ہیں کہ مجھ سے انصاری نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جعفر سے یہی حدیث بیان فرمائی، پھر انہوں نے انہی لوگوں کی طرح ذکر کیا، البتہ اس میں ہے: پہلی رکعت کے دوسرے سجدہ میں بھی یہی کہا جیسے مہدی بن میمون کی حدیث میں ہے۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ سَأَلْتُ أَنَسًا عَنْ قِرَاءَةِ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم فَقَالَ كَانَ يَمُدُّ مَدًّا .
Qatadah said:I asked Anas about the recitation of the Qur'an by the Prophet (ﷺ). He said: He used to express all the long accents clearly
قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم مد کو کھینچتے تھے۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ جَاءَ سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ إِلَى مَجْلِسِنَا قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا خَرَصْتُمْ فَخُذُوا وَدَعُوا الثُّلُثَ فَإِنْ لَمْ تَدَعُوا أَوْ تَجِدُوا الثُّلُثَ فَدَعُوا الرُّبُعَ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ الْخَارِصُ يَدَعُ الثُّلُثَ لِلْحِرْفَةِ .
AbdurRahman ibn Mas'ud said:Sahl ibn Abu Hathmah came to our gathering. He said: The Messenger of Allah (ﷺ) commanding us said: When you estimate take them leaving a third, and if you do not leave or find a third, leave a quarter
عبدالرحمٰن بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ ہماری مجلس میں تشریف لائے، انہوں نے کہا: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ جب تم پھلوں کا تخمینہ کر لو تب انہیں کاٹو اور ایک تہائی چھوڑ دیا کرو اگر تم ایک تہائی نہ چھوڑ سکو تو ایک چوتھائی ہی چھوڑ دیا کرو ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اندازہ لگانے والا ایک تہائی بیج بونے وغیرہ جیسے کاموں کے لیے چھوڑ دے گا، اس کی زکاۃ نہیں لے گا۔
Narrated by Abdullah ibn Abbas
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ - حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنِي خُصَيْفُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَزَرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ يَا أَبَا الْعَبَّاسِ عَجِبْتُ لاِخْتِلاَفِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي إِهْلاَلِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ أَوْجَبَ . فَقَالَ إِنِّي لأَعْلَمُ النَّاسِ بِذَلِكَ إِنَّهَا إِنَّمَا كَانَتْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَجَّةٌ وَاحِدَةٌ فَمِنْ هُنَاكَ اخْتَلَفُوا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَاجًّا فَلَمَّا صَلَّى فِي مَسْجِدِهِ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْهِ أَوْجَبَ فِي مَجْلِسِهِ فَأَهَلَّ بِالْحَجِّ حِينَ فَرَغَ مِنْ رَكْعَتَيْهِ فَسَمِعَ ذَلِكَ مِنْهُ أَقْوَامٌ فَحَفِظْتُهُ عَنْهُ ثُمَّ رَكِبَ فَلَمَّا اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ أَهَلَّ وَأَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْهُ أَقْوَامٌ وَذَلِكَ أَنَّ النَّاسَ إِنَّمَا كَانُوا يَأْتُونَ أَرْسَالاً فَسَمِعُوهُ حِينَ اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ يُهِلُّ فَقَالُوا إِنَّمَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ ثُمَّ مَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا عَلاَ عَلَى شَرَفِ الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ وَأَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْهُ أَقْوَامٌ فَقَالُوا إِنَّمَا أَهَلَّ حِينَ عَلاَ عَلَى شَرَفِ الْبَيْدَاءِ وَايْمُ اللَّهِ لَقَدْ أَوْجَبَ فِي مُصَلاَّهُ وَأَهَلَّ حِينَ اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ وَأَهَلَّ حِينَ عَلاَ عَلَى شَرَفِ الْبَيْدَاءِ . قَالَ سَعِيدٌ فَمَنْ أَخَذَ بِقَوْلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَهَلَّ فِي مُصَلاَّهُ إِذَا فَرَغَ مِنْ رَكْعَتَيْهِ .
Narrated Abdullah ibn Abbas: Sa'id ibn Jubayr said: I said to Abdullah ibn Abbas: AbulAbbas, I am surprised to see the difference of opinion amongst the companions of the Apostle (ﷺ) about the wearing of ihram by the Messenger of Allah (ﷺ) when he made it obligatory. He replied: I am aware of it more than the people. The Messenger of Allah (ﷺ) performed only one hajj. Hence the people differed among themselves. The Messenger of Allah (ﷺ) came out (from Medina) with the intention of performing hajj. When he offered two rak'ahs of prayer in the mosque at Dhul-Hulayfah, he made it obligatory by wearing it. At the same meeting, he raised his voice in the talbiyah for hajj, when he finished his two rak'ahs. Some people heard it and I retained it from him. He then rode (on the she-camel), and when it (the she-camel) stood up, with him on its back, he raised his voice in the talbiyah and some people heard it at that moment. This is because the people were coming in groups, so they heard him raising his voice calling the talbiyah when his she-camel stood up with him on its back, and they thought that the Messenger of Allah (ﷺ) had raised his voice in the talbiyah when his she-camel stood up with him on its back. The Messenger of Allah (ﷺ) proceeded further; when he ascended the height of al-Bayda' he raised his voice in the talbiyah. Some people heard it at that moment. They thought that he had raised his voice in the talbiyah when he ascended the height of al-Bayda'. I swear by Allah, he raised his voice in the talbiyah at the place where he prayed, and he raised his voice in the talbiyah when his she-camel stood up with him on its back, and he raised his voice in the talbiyah when he ascended the height of al-Bayda'. Sa'id (ibn Jubayr) said; He who follows the view of Ibn Abbas raises his voice in talbiyah (and ihram) at the place of is prayer after he finishes two rak'ahs of his prayer
سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: ابوالعباس! مجھے تعجب ہے کہ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام باندھنے کے سلسلے میں اختلاف رکھتے ہیں کہ آپ نے احرام کب باندھا؟ تو انہوں نے کہا: اس بات کو لوگوں میں سب سے زیادہ میں جانتا ہوں، چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی حج کیا تھا اسی وجہ سے لوگوں نے اختلاف کیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج کی نیت کر کے مدینہ سے نکلے، جب ذی الحلیفہ کی اپنی مسجد میں آپ نے اپنی دو رکعتیں ادا کیں تو اسی مجلس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا اور دو رکعتوں سے فارغ ہونے کے بعد حج کا تلبیہ پڑھا، لوگوں نے اس کو سنا اور میں نے اس کو یاد رکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہو گئی تو آپ نے تلبیہ پڑھا، بعض لوگوں نے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلبیہ پڑھتے ہوئے پایا، اور یہ اس وجہ سے کہ لوگ الگ الگ ٹکڑیوں میں آپ کے پاس آتے تھے، تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی آپ کو لے کر اٹھی تو انہوں نے آپ کو تلبیہ پکارتے ہوئے سنا تو کہا: آپ نے تلبیہ اس وقت کہا ہے جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر کھڑی ہوئی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے، جب مقام بیداء کی اونچائی پر چڑھے تو تلبیہ کہا تو بعض لوگوں نے اس وقت اسے سنا تو انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت تلبیہ کہا ہے جب آپ بیداء کی اونچائی پر چڑھے حالانکہ اللہ کی قسم آپ نے وہیں تلبیہ کہا تھا جہاں آپ نے نماز پڑھی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تلبیہ کہا جب اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی ہوئی اور پھر آپ نے بیداء کی اونچائی چڑھتے وقت تلبیہ کہا۔ سعید کہتے ہیں: جس نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بات کو لیا تو اس نے اس جگہ پر جہاں اس نے نماز پڑھی اپنی دونوں رکعتوں سے فارغ ہونے کے بعد تلبیہ کہا۔
Narrated by Abdullah ibn Umar
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، حَدَّثَنِي الثِّقَةُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " آمِرُوا النِّسَاءَ فِي بَنَاتِهِنَّ " .
Narrated Abdullah ibn Umar: The Prophet (ﷺ) said: Consult women about (the marriage of) their daughters
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتوں سے ان کی بیٹیوں کے بارے میں مشورہ لو ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، أَنَّ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ الْمُخْتَارِ، حَدَّثَهُمْ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنِي مُحَدِّثٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِنَحْوِ حَدِيثِ سُفْيَانَ .
A tradition similar to that of Sufyan has been transmitted by ‘Ikrimah from the Prophet(ﷺ) through a different chain of narrators
اس سند سے بھی عکرمہ سے سے سفیان کی حدیث ( نمبر: ۲۲۲۱ ) کی طرح روایت ہے۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ " . قَالَ أَحْمَدُ فَهِمْتُ إِسْنَادَهُ مِنَ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ وَأَفْهَمَنِي الْحَدِيثَ رَجُلٌ إِلَى جَنْبِهِ أُرَاهُ ابْنَ أَخِيهِ .
Narrated Abu Hurairah: The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: If anyone does not abandon falsehood and action is accordance with it, Allah has no need that he should abandon his food and drink. The narrator Ahmad (b. Yunus) said: I learnt the chain of narrators from Ibn Abi Dhi'b, and a man by his side made me understand the tradition. I think he was his cousin
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ( روزے کی حالت میں ) جھوٹ بولنا، اور برے عمل کرنا نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو حاجت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے ۔
Narrated by Abdullah ibn Amr ibn al-'As
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ - ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنِ ابْنِ شُفَىٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ : " لِلْغَازِي أَجْرُهُ، وَلِلْجَاعِلِ أَجْرُهُ وَأَجْرُ الْغَازِي " .
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-'As: The Prophet (ﷺ) said: The warrior gets his reward, and the one who equips him gets his own reward and that of the warrior
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہاد کرنے والے کو اس کے جہاد کا اجر ملے گا اور مجاہد کو تیار کرنے والے کو تیار کرنے اور غزوہ کرنے دونوں کا اجر ملے گا ۔
Narrated by Samurah ibn Jundub
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " كُلُّ غُلاَمٍ رَهِينَةٌ بِعَقِيقَتِهِ تُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ السَّابِعِ وَيُحْلَقُ رَأْسُهُ وَيُدَمَّى " . فَكَانَ قَتَادَةُ إِذَا سُئِلَ عَنِ الدَّمِ كَيْفَ يُصْنَعُ بِهِ قَالَ إِذَا ذَبَحْتَ الْعَقِيقَةَ أَخَذْتَ مِنْهَا صُوفَةً وَاسْتَقْبَلْتَ بِهِ أَوْدَاجَهَا ثُمَّ تُوضَعُ عَلَى يَافُوخِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَسِيلَ عَلَى رَأْسِهِ مِثْلُ الْخَيْطِ ثُمَّ يُغْسَلُ رَأْسُهُ بَعْدُ وَيُحْلَقُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَذَا وَهَمٌ مِنْ هَمَّامٍ " وَيُدَمَّى " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ خُولِفَ هَمَّامٌ فِي هَذَا الْكَلاَمِ وَهُوَ وَهَمٌ مِنْ هَمَّامٍ وَإِنَّمَا قَالُوا " يُسَمَّى " . فَقَالَ هَمَّامٌ " يُدَمَّى " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَلَيْسَ يُؤْخَذُ بِهَذَا .
Narrated Samurah ibn Jundub: The Prophet (ﷺ) said: A boy is in pledge for his Aqiqah. Sacrifice is made for him on the seventh day, his head is shaved and is smeared with blood. When Qatadah was asked about smearing with blood, how that should be done, he said: When you cut the head (i.e. throat) of the animal (meant for Aqiqah), you may take a few hair of it, place them on its veins, and then place them in the middle of the head of the infant, so that the blood flows on the hair (of the infant) like a threat. Then its head may be washed and shaved off. Abu Dawud said: In narrating the word "is smeared with blood" (yudamma) there is a misunderstanding on the part of Hammam. Abu Dawud said: Hammam has been opposed in narrating the words "is smeared with blood". This is misunderstanding of Hammam. They narrated he word "he is given a name (yusamma) and Hammam narrated it "is smeared with blood" (yudamma). Abu Dawud said: This tradition is not followed
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر لڑکا اپنے عقیقہ کے بدلے میں گروی ہے ساتویں دن اس کی طرف سے ذبح کیا جائے اور اس کا سر مونڈا جائے اور عقیقہ کا خون اس کے سر پر لگایا جائے ۱؎ ۔ قتادہ سے جب پوچھا جاتا کہ کس طرح خون لگایا جائے؟ تو کہتے: جب عقیقے کا جانور ذبح کرنے لگو تو اس کے بالوں کا ایک گچھا لے کر اس کی رگوں پر رکھ دو، پھر وہ گچھا لڑکے کی چندیا پر رکھ دیا جائے، یہاں تک کہ خون دھاگے کی طرح اس کے سر سے بہنے لگے پھر اس کے بعد اس کا سر دھو دیا جائے اور سر مونڈ دیا جائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «يدمى» ہمام کا وہم ہے، اصل میں «ويسمى» تھا جسے ہمام نے «يدمى» کر دیا، ابوداؤد کہتے ہیں: اس پر عمل نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ قُلْتُ أَلاَ تَتَّقِينَ اللَّهَ أَلَمْ تَسْمَعْنَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَا فَهُوَ صَدَقَةٌ وَإِنَّمَا هَذَا الْمَالُ لآلِ مُحَمَّدٍ لِنَائِبَتِهِمْ وَلِضَيْفِهِمْ فَإِذَا مِتُّ فَهُوَ إِلَى مَنْ وَلِيَ الأَمْرَ مِنْ بَعْدِي " .
A similar tradition has been narrated by Ibn Shihab through a different chain of narrators. This version says:I said: Do you not fear Allah ? Did you not hear the Messenger of Allah (ﷺ) say: We are not inherited. Whatever we leave is sadaqah (alms). This property belongs to the family of Muhammad for their emergent needs and their guest. When I die, it will go to him who becomes ruler after me
اس سند سے بھی ابن شہاب زہری سے یہی حدیث اسی طریق سے مروی ہے، اس میں ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ( دیگر امہات المؤمنین سے ) کہا: تم اللہ سے ڈرتی نہیں، کیا تم لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا ہے کہ آپ فرماتے تھے: ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا ہے، ہم جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے، اور یہ مال آل محمد کی ضروریات اور ان کے مہمانوں کے لیے ہے، اور جب میرا انتقال ہو جائے گا تو یہ مال اس شخص کی نگرانی و تحویل میں رہے گا جو میرے بعد معاملہ کا والی ہو گا ( مسلمانوں کا خلیفہ ہو گا ) ۔
Narrated by Jabir b. 'Abd Allah
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَيَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ، أَنَّ اللَّيْثَ، حَدَّثَهُمْ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ مِنْ قَتْلَى أُحُدٍ وَيَقُولُ " أَيُّهُمَا أَكْثَرُ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ " . فَإِذَا أُشِيرَ لَهُ إِلَى أَحَدِهِمَا قَدَّمَهُ فِي اللَّحْدِ وَقَالَ " أَنَا شَهِيدٌ عَلَى هَؤُلاَءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . وَأَمَرَ بِدَفْنِهِمْ بِدِمَائِهِمْ وَلَمْ يُغَسَّلُوا .
Narrated Jabir b. 'Abd Allah :The Messenger of Allah (ﷺ) combined two persons from among the martyrs of Uhud (in one garment), and said: Which of the two has learnt the Qur'an more ? When one of them was pointed to him, he advanced him in the grave, saying: I shall be witness to all these (martyrs) on the Day of Judgement. He then ordered them to be buried without being washed
عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک کہتے ہیں کہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احد کے مقتولین میں سے دو دو آدمیوں کو ایک ساتھ دفن کرتے تھے اور پوچھتے تھے کہ ان میں قرآن کس کو زیادہ یاد ہے؟ تو جس کے بارے میں اشارہ کر دیا جاتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے قبر میں ( لٹانے میں ) آگے کرتے اور فرماتے: میں ان سب پر قیامت کے دن گواہ رہوں گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کے خون سمیت دفنانے کا حکم دیا، اور انہیں غسل نہیں دیا۔
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِمَعْنَاهُ وَإِسْنَادِهِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ شَبُّويَةَ، يَقُولُ قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ - يَعْنِي فِي هَذَا الْحَدِيثِ - حَدَّثَ أَبُو سَلَمَةَ، فَدَلَّ ذَلِكَ عَلَى أَنَّ الزُّهْرِيَّ، لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ : وَتَصْدِيقُ ذَلِكَ مَا حَدَّثَنَا أَيُّوبُ - يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ - قَالَ أَبُو دَاوُدَ سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يَقُولُ : أَفْسَدُوا عَلَيْنَا هَذَا الْحَدِيثَ . قِيلَ لَهُ : وَصَحَّ إِفْسَادُهُ عِنْدَكَ وَهَلْ رَوَاهُ غَيْرُ ابْنِ أَبِي أُوَيْسٍ قَالَ : أَيُّوبُ كَانَ أَمْثَلَ مِنْهُ . يَعْنِي أَيُّوبَ بْنَ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ، وَقَدْ رَوَاهُ أَيُّوبُ .
The tradition mentioned above has also been transmitted by al-Zuhri through a different chain of narrators to the same effect. Abu Dawud said:I heard Ahmad b. Shabbuyah say: Ibn al-Mubarak said about this tradition that Abu Salamah had transmitted it. This indicates that al-Zuhri did not hear it from Abu Salamah. Ahmad b. Muhammad said: This is verified by what Ayyub b. Sulaiman narrated to us. Abu Dawud said: I heard Ahmad b. Hanbal say: I have corrupted this tradition for us. He was asked: Do you think that it is correct that this tradition has been corrupted? Has any person other than Ibn Abi Uwais transmitted it ? He replied: Ayyub was similar to him in respect of reliability, and Ayyub transmitted it
اس سند سے بھی ابن شہاب سے اسی مفہوم کی حدیث اسی طریق سے مروی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں میں نے احمد بن شبویہ کو کہتے سنا: ابن مبارک نے کہا ہے ( یعنی اس حدیث کے بارے میں ) کہ ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے، تو اس سے معلوم ہوا کہ زہری نے اسے ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا ہے۔ احمد بن محمد کہتے ہیں: اس کی تصدیق وہ روایت کر رہی ہے جسے ہم سے ایوب یعنی ابن سلیمان نے بیان کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ لوگوں نے اس حدیث کو ہم پر فاسد کر دیا ہے ان سے پوچھا گیا: کیا آپ کے نزدیک اس حدیث کا فاسد ہونا صحیح ہے؟ اور کیا ابن اویس کے علاوہ کسی اور نے بھی اسے روایت کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ایوب یعنی ایوب بن سلیمان بن بلال ان سے قوی و بہتر راوی ہیں اور اسے ایوب نے روایت کیا ہے۔
Narrated by Jabir bin ‘Abdullah
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، وَسَعِيدِ بْنِ مِينَاءَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْمُعَاوَمَةِ وَقَالَ أَحَدُهُمَا بَيْعِ السِّنِينَ .
Narrated Jabir bin ‘Abdullah :The Prophet (ﷺ) forbade sale of fruits for a number of years. One of the two narrators (Abu al-Zubair and Sa'id b. Mina') mentioned the words "sale for years" (bai' al-sinin instead of al-mu'awamah)
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاومہ ( کئی سالوں کے لیے درخت کا پھل بیچنے ) سے روکا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ان میں سے ایک ( یعنی ابو الزبیر ) نے ( معاومہ کی جگہ ) «بيع السنين» کہا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، وَابْنُ، مَهْدِيٍّ قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ، وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنِ ابْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ، بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ عِنْدَ قَوْمٍ مَا هُوَ عِنْدَهُمْ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ الصَّوَابُ ابْنُ أَبِي الْمُجَالِدِ وَشُعْبَةُ أَخْطَأَ فِيهِ .
The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibn Abi al-Mujahid through a different chain of narrators. This version has:"to those people who did not possess these things." Abu Dawud said: What is correct is Ibn Abi al-Mujahid. Shu'bah made a mistake in it
عبداللہ بن ابی مجالد (اور عبدالرحمٰن نے ابن ابی مجالد کہا ہے) سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ ایسے لوگوں سے سلم کرتے تھے، جن کے پاس ( بروقت ) یہ مال نہ ہوتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن ابی مجالد صحیح ہے، اور شعبہ سے اس میں غلطی ہوئی ہے۔
Narrated by Abdullah ibn Abbas
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ - يَعْنِي لِرَجُلٍ حَلَّفَهُ - " احْلِفْ بِاللَّهِ الَّذِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ مَا لَهُ عِنْدَكَ شَىْءٌ " . يَعْنِي لِلْمُدَّعِي . قَالَ أَبُو دَاوُدَ أَبُو يَحْيَى اسْمُهُ زِيَادٌ كُوفِيٌّ ثِقَةٌ .
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Holy Prophet (ﷺ) said to a man whom he asked to take an oath: Swear by Allah except whom there is no god that you have nothing belonging to him, i.e. the plaintiff
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے قسم کھلائی تو یوں فرمایا: اس اللہ کی قسم کھاؤ جس کے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں کہ تیرے پاس اس ( یعنی مدعی کی ) کی کوئی چیز نہیں ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابویحییٰ کا نام زیاد کوفی ہے اور وہ ثقہ ہیں۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ، أَنَّ عَلِيًّا، دَعَا بِمَاءٍ فَشَرِبَهُ وَهُوَ قَائِمٌ ثُمَّ قَالَ إِنَّ رِجَالاً يَكْرَهُ أَحَدُهُمْ أَنْ يَفْعَلَ هَذَا وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَفْعَلُ مِثْلَ مَا رَأَيْتُمُونِي أَفْعَلُهُ .
Nazzal b. Samurah said :‘Ali asked for water and he drank it while standing. He then said: some people disapprove of doing this (drinking while standing ), but I saw the Messenger of Allah (ﷺ) doing as I have done
نزال بن سبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے پانی منگوایا اور اسے کھڑے ہو کر پیا اور کہا: بعض لوگ ایسا کرنے کو مکروہ اور ناپسند سمجھتے ہیں حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی کرتے دیکھا ہے جیسے تم لوگوں نے مجھے کرتے دیکھا ہے ۱؎۔
Narrated by Abdullah ibn Umar
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَكْلِ الْجَلاَّلَةِ وَأَلْبَانِهَا .
Narrated Abdullah ibn Umar: The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited eating the animal which feeds on filth and drinking its milk
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاست خور جانور کے گوشت کھانے اور اس کا دودھ پینے سے منع فرمایا۔
Narrated by Abdullah ibn Amr ibn al-'As
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُزَابَةَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، - يَعْنِي ابْنَ مَنْصُورٍ - حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم رَجُلٌ عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَحْمَرَانِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَيْهِ .
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-'As: A man wearing two red garments passed the Prophet (ﷺ) and gave him a greeting, but he did not respond to his greeting
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک شخص گزرا جس کے جسم پر دو سرخ کپڑے تھے، اس نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے اسے جواب نہیں دیا۔
Narrated by AbuRimthah
حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَنَا وَأَبِي فَقَالَ لِرَجُلٍ أَوْ لأَبِيهِ " مَنْ هَذَا " . قَالَ ابْنِي . قَالَ " لاَ تَجْنِي عَلَيْهِ " . وَكَانَ قَدْ لَطَخَ لِحْيَتَهُ بِالْحِنَّاءِ .
Narrated AbuRimthah: I and my father came to the Prophet (ﷺ). He said to a man or to my father: Who is this? He replied: He is my son. He said: Do not commit a crime on him. He had stained his beard with henna
ابورمثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے والد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے آپ نے ایک شخص سے یا میرے والد سے پوچھا: یہ کون ہے؟ وہ بولے: میرا بیٹا ہے، آپ نے فرمایا: یہ تمہارا بوجھ نہیں اٹھائے گا، تم جو کرو گے اس کی باز پرس تم سے ہو گی، آپ نے اپنی داڑھی میں مہندی لگا رکھی تھی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَعَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ رَأَى مُنْكَرًا فَاسْتَطَاعَ أَنْ يُغَيِّرَهُ بِيَدِهِ فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ " . وَقَطَعَ هَنَّادٌ بَقِيَّةَ الْحَدِيثِ - وَفَّاهُ ابْنُ الْعَلاَءِ - " فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ بِلِسَانِهِ فَبِقَلْبِهِ وَذَلِكَ أَضْعَفُ الإِيمَانِ " .
Abu sa’Id al-Khudri said:I head the Messenger of Allah (ﷺ) say: If any one you sees something objectionable, he should change it with his hand if he can change it with his hand. (The narrator Hammad broke the rest of the tradition which was completed by Ibn al-‘Ala’.) But if he cannot (do so), he should do it with his tongue, and if he cannot (do so with) his tongue he should do it in his heart, that being the weakest form of faith
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو کوئی منکر دیکھے، اور اپنے ہاتھ سے اسے روک سکتا ہو تو چاہیئے کہ اسے اپنے ہاتھ سے روک دے، اگر وہ ہاتھ سے نہ روک سکے تو اپنی زبان سے روکے، اور اگر اپنی زبان سے بھی نہ روک سکے تو اپنے دل میں اسے برا جانے اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے ۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَاهُ قَالَ فَتَوَضَّأَ حِينَ ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى بِهِمْ .
This tradition has been transmitted through a different chain by Abu Qatadah to the same effect. This version adds:"He performed ablution when the sun had arisen high and led them in prayer
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کرتے ہیں، اس میں ہے: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا جس وقت سورج چڑھ گیا پھر انہیں نماز پڑھائی ۔
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، نَحْوَهُ وَقَالَ أَيْضًا حَتَّى يَعْقِلَ . وَقَالَ وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يُفِيقَ . قَالَ فَجَعَلَ عُمَرُ يُكَبِّرُ .
A similar tradition has also been transmitted by al-A’mash through a different chain of narrators. He also said :“... . Till he reaches puberty , and a lunatic till he is restored to consciousness.” ‘Umar then began to utter: Allah is most great
اس سند سے اعمش سے اسی جیسی حدیث مروی ہے اس میں بھی «حتى يعقل» ہے اور «عن المجنون حتى يبرأ» کے بجائے «حتى يفيق» ہے، اور «فجعل يكبر» کے بجائے «فجعل عمر يكبر» ہے۔
Narrated by Ata' ibn AbuRabah
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَضَى فِي الدِّيَةِ عَلَى أَهْلِ الإِبِلِ مِائَةً مِنَ الإِبِلِ وَعَلَى أَهْلِ الْبَقَرِ مِائَتَىْ بَقَرَةٍ وَعَلَى أَهْلِ الشَّاءِ أَلْفَىْ شَاةٍ وَعَلَى أَهْلِ الْحُلَلِ مِائَتَىْ حُلَّةٍ وَعَلَى أَهْلِ الْقَمْحِ شَيْئًا لَمْ يَحْفَظْهُ مُحَمَّدٌ .
Narrated Ata' ibn AbuRabah: The Messenger of Allah (ﷺ) gave judgment that blood-wit for those who possessed camels should be one hundred camels, and for those who possessed cattle two hundred cows, and for those who possessed sheep one thousand sheep, and for those who possessed suits of clothing two hundred suits, and for those who possessed wheat something which the narrator Muhammad (ibn Ishaq) did not remember
عطا بن ابی رباح سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت کے سلسلے میں فیصلہ فرمایا کہ اونٹ والوں پر سو اونٹ، گائے بیل والوں پر دو سو گائیں، بکری والوں پر دو ہزار بکریاں، اور کپڑے والوں پر دو سو جوڑے کپڑے، اور گیہوں والوں پر بھی کچھ مقرر کیا جو محمد ( محمد بن اسحاق ) کو یاد نہیں رہا۔
حَدَّثَنَا قَطَنُ بْنُ نُسَيْرٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ، ح حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَعْمَشِ، قَالَ جَمَّعْتُ مَعَ الْحَجَّاجِ فَخَطَبَ فَذَكَرَ حَدِيثَ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ قَالَ فِيهَا فَاسْمَعُوا وَأَطِيعُوا لِخَلِيفَةِ اللَّهِ وَصَفِيِّهِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ قَالَ وَلَوْ أَخَذْتُ رَبِيعَةَ بِمُضَرَ وَلَمْ يَذْكُرْ قِصَّةَ الْحَمْرَاءِ .
Sulaiman al-A’mash said:I prayed the Friday prayer with al-Hajjaj and he addressed. He then transmitted the tradition of Abu Bakr b. ‘Ayyash. He said in it: Hear and obey the caliph of Allah and his select ‘Abd al-Malik bin Marwan. He then transmitted the rest of the tradition, and said: If I seized Rabi’ah for Mudar. But he did not mention the story of the clients (i.e. non Arabs)
سلیمان الاعمش کہتے ہیں میں نے حجاج کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھی، اس نے خطبہ دیا، پھر راوی ابوبکر بن عیاش والی روایت ( ۴۶۴۳ ) ذکر کی، اس میں ہے کہ اس نے کہا: سنو اور اللہ کے خلیفہ اور اس کے منتخب عبدالملک بن مروان کی اطاعت کرو، اس کے بعد آگے کی حدیث بیان کی اور کہا: اگر میں مضر کے جرم میں ربیعہ کو پکڑوں ( تو یہ غلط نہ ہو گا ) اور عجمیوں والی بات کا ذکر نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنِي قَيْسٌ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ جَاءَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ فَقَامَ فِي الشَّمْسِ فَأَمَرَ بِهِ فَحُوِّلَ إِلَى الظِّلِّ .
Qais quoted his father as saying that he (his father) came when the Messenger of Allah (ﷺ) was addressing. He stood in the sun. He ordered him (to shift) and he shifted to the shade
ابوحازم البجلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، تو وہ دھوپ میں کھڑے ہو گئے، اس کے بعد ( آپ نے انہیں سایہ میں آنے کے لیے کہا ) تو وہ سائے میں آ گئے ۔
Narrated by Aisha, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَسْتَنُّ وَعِنْدَهُ رَجُلاَنِ أَحَدُهُمَا أَكْبَرُ مِنَ الآخَرِ فَأُوحِيَ إِلَيْهِ فِي فَضْلِ السِّوَاكِ " أَنْ كَبِّرْ " . أَعْطِ السِّوَاكَ أَكْبَرَهُمَا . قَالَ أَحْمَدُ - هُوَ ابْنُ حَزْمٍ - قَالَ لَنَا أَبُو سَعِيدٍ هُوَ ابْنُ الأَعْرَابِيِّ هَذَا مِمَّا تَفَرَّدَ بِهِ أَهْلُ الْمَدِينَةِ .
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: The Messenger of Allah (ﷺ) was using the tooth-stick, when two men, one older than the other, were with him. A revelation came to him about the merit of using the tooth-stick. He was asked to show proper respect and give it to the elder of the two
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمی تھے، ان میں ایک دوسرے سے عمر میں بڑا تھا، اسی وقت اللہ نے مسواک کی فضیلت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل فرمائی اور حکم ہوا کہ آپ اپنی مسواک ان دونوں میں سے بڑے کو دے دیجئیے۔ تخریج دارالدعوہ: تفرد به أبو داود، ( تحفة الأشراف: ۱۷۱۳۲ ) ( صحیح)