Narrated by Abdullah ibn Abbas
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، نَحْوَهُ قَالاَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كِنَانَةَ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ، أَرْسَلَنِي الْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ - قَالَ عُثْمَانُ ابْنُ عُقْبَةَ وَكَانَ أَمِيرَ الْمَدِينَةِ - إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَسْأَلُهُ عَنْ صَلاَةِ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الاِسْتِسْقَاءِ فَقَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُتَبَذِّلاً مُتَوَاضِعًا مُتَضَرِّعًا حَتَّى أَتَى الْمُصَلَّى - زَادَ عُثْمَانُ فَرَقِيَ عَلَى الْمِنْبَرِ ثُمَّ اتَّفَقَا - وَلَمْ يَخْطُبْ خُطَبَكُمْ هَذِهِ وَلَكِنْ لَمْ يَزَلْ فِي الدُّعَاءِ وَالتَّضَرُّعِ وَالتَّكْبِيرِ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَمَا يُصَلِّي فِي الْعِيدِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَالإِخْبَارُ لِلنُّفَيْلِيِّ وَالصَّوَابُ ابْنُ عُتْبَةَ .
Narrated Abdullah ibn Abbas: Ishaq ibn Abdullah ibn Kinanah reported: Al-Walid ibn Utbah or (according to the version of Uthman) al-Walid ibn Uqbah, the then governor of Medina, sent me to Ibn Abbas to ask him about the prayer for rain offered by the Messenger of Allah (ﷺ). He said: The Messenger of Allah (ﷺ) went out wearing old clothes in a humble and lowly manner until he reached the place of prayer. He then ascended the pulpit, but he did not deliver the sermon as you deliver (usually). He remained engaged in making supplication, showing humbleness (to Allah) and uttering the takbir (Allah is most great). He then offered two rak'ahs of prayer as done on the 'Id (festival). Abu Dawud said: This is the version of al-Nufail. What is correct is Ibn Utbah's
ہشام بن اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ کہتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے خبر دی ہے کہ مجھے ولید بن عتبہ نے ( عثمان کی روایت میں ولید بن عقبہ ہے، جو مدینہ کے حاکم تھے ) ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا کہ میں جا کر ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز استسقا کے بارے پوچھوں تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھٹے پرانے لباس میں عاجزی کے ساتھ گریہ وزاری کرتے ہوئے عید گاہ تک تشریف لائے، عثمان بن ابی شیبہ کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ آپ منبر پر چڑھے، آگے دونوں راوی روایت میں متفق ہیں: آپ نے تمہارے ان خطبوں کی طرح خطبہ نہیں دیا، بلکہ آپ برابر دعا، گریہ وزاری اور تکبیر میں لگے رہے، پھر دو رکعتیں پڑھیں جیسے عید میں دو رکعتیں پڑھتے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: روایت نفیلی کی ہے اور صحیح ولید بن عقبہ ہے۔
Narrated by Anas b. Malik
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، سَمِعَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا وَالْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ .
Narrated Anas b. Malik :I prayed along with the Messenger of Allah (ﷺ) four rak'ahs at the noon prayer at Medina and two rak'ahs at the afternoon prayer in Dhu al-Hulaifah
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینے میں ظہر چار رکعت پڑھی اور ذو الحلیفہ میں عصر دو رکعت ۱؎۔
Narrated by Aishah
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي عَطَاءٌ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَكُنْ عَلَى شَىْءٍ مِنَ النَّوَافِلِ أَشَدَّ مُعَاهَدَةً مِنْهُ عَلَى الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ .
Narrated 'Aishah:The Messenger of Allah (ﷺ) was more particular about observing the supererogatory rak'ahs before the dawn prayer than about observing any of the other supererogatory prayers
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی اور نفل کا اتنا خیال نہیں رکھتے تھے جتنا صبح سے پہلے کی دونوں کی رکعتوں کا رکھتے تھے۔
Narrated by AbuDharr
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ صُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَمَضَانَ فَلَمْ يَقُمْ بِنَا شَيْئًا مِنَ الشَّهْرِ حَتَّى بَقِيَ سَبْعٌ فَقَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ فَلَمَّا كَانَتِ السَّادِسَةُ لَمْ يَقُمْ بِنَا فَلَمَّا كَانَتِ الْخَامِسَةُ قَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ شَطْرُ اللَّيْلِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ نَفَّلْتَنَا قِيَامَ هَذِهِ اللَّيْلَةِ . قَالَ فَقَالَ " إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا صَلَّى مَعَ الإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ حُسِبَ لَهُ قِيَامُ لَيْلَةٍ " . قَالَ فَلَمَّا كَانَتِ الرَّابِعَةُ لَمْ يَقُمْ فَلَمَّا كَانَتِ الثَّالِثَةُ جَمَعَ أَهْلَهُ وَنِسَاءَهُ وَالنَّاسَ فَقَامَ بِنَا حَتَّى خَشِينَا أَنْ يَفُوتَنَا الْفَلاَحُ . قَالَ قُلْتُ مَا الْفَلاَحُ قَالَ السُّحُورُ ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِنَا بَقِيَّةَ الشَّهْرِ .
Narrated AbuDharr: We fasted with the Messenger of Allah (ﷺ) during Ramadan, but he did not make us get up at night for prayer at any time during the month till seven nights remained; then he made us get up for prayer till a third of the night had passed. When the sixth remaining night came, he did not make us get up for prayer. When the fifth remaining night came, he made us stand in prayer till a half of the night had gone. So I said: Messenger of Allah, I wish you had led us in supererogatory prayers during the whole of tonight. He said: When a man prays with an imam till he goes he is reckoned as having spent a whole night in prayer. On the fourth remaining night he did not make us get up. When the third remaining night came, he gathered his family, his wives, and the people and prayed with us till we were afraid we should miss the falah (success). I said: What is falah? He said: The meal before daybreak. Then he did not make us get up for prayer during the remainder of the month
سیدنا ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے، آپ ﷺ نے ہمارے ساتھ کوئی قیام نہ کیا، حتیٰ کہ مہینے میں ایک ہفتہ باقی رہ گیا، تو آپ ﷺ نے ہمیں قیام کروایا، حتیٰ کہ تہائی رات ہو گئی۔ جب (آخر سے) چھٹی رات آئی تو آپ ﷺ نے قیام نہ کرایا۔ جب پانچویں رات آئی تو ہمیں قیام کروایا، حتیٰ کہ آدھی رات گزر گئی۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کاش آپ ہمیں بقیہ رات بھی اس کا قیام کروا دیتے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”انسان جب امام کے ساتھ نماز پڑھتا ہے اور اس کے فارغ ہونے تک اس کے ساتھ رہتا ہے تو اس کے لیے پوری رات کا قیام شمار کیا جاتا ہے۔“ جب چوتھی رات آئی تو آپ ﷺ نے قیام نہ کرایا۔ جب تیسری رات آئی تو آپ ﷺ نے اپنے اقارب، بیویوں اور دوسرے لوگوں کو جمع فرمایا اور ہمیں قیام کرایا، یہاں تک کہ ہمیں فکر ہوئی کہ کہیں ہماری ”فلاح“ ہی نہ رہ جائے۔ (جبیر نے کہا) میں نے پوچھا کہ ”فلاح“ سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا ”سحری“ پھر بقیہ راتوں میں آپ ﷺ نے ہم کو قیام نہیں کرایا۔
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو صَخْرٍ، عَنِ ابْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَاهُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ كَانَ زَيْدٌ الإِمَامَ فَلَمْ يَسْجُدْ فِيهَا .
This tradition has also been transmitted by Zaid b. Thabit through a different chain of narrators to the same effect. Abu Dawud said:Zaid was imam (in a prayer) and he did not make prostration
اس سند سے بھی زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً آئی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: زید امام تھے لیکن انہوں نے اس میں سجدہ نہیں کیا۔
Narrated by Ubadah ibn as-Samit
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ بَنِي كِنَانَةَ يُدْعَى الْمُخْدَجِيَّ سَمِعَ رَجُلاً، بِالشَّامِ يُدْعَى أَبَا مُحَمَّدٍ يَقُولُ إِنَّ الْوِتْرَ وَاجِبٌ . قَالَ الْمُخْدَجِيُّ فَرُحْتُ إِلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ عُبَادَةُ كَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " خَمْسُ صَلَوَاتٍ كَتَبَهُنَّ اللَّهُ عَلَى الْعِبَادِ فَمَنْ جَاءَ بِهِنَّ لَمْ يُضَيِّعْ مِنْهُنَّ شَيْئًا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهِنَّ كَانَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ وَمَنْ لَمْ يَأْتِ بِهِنَّ فَلَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ وَإِنْ شَاءَ أَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ " .
Narrated Ubadah ibn as-Samit: Ibn Muhayriz said: A man from Banu Kinanah, named al-Makhdaji, heard a person called AbuMuhammad in Syria, saying: The witr is a duty (wajib). Al-Makhdaji said: So I went to Ubadah ibn as-Samit and informed him. Ubadah said: AbuMuhammad told a lie. I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: There are five prayers which Allah has prescribed on His servants. If anyone offers them, not losing any of them, and not treating them lightly, Allah guarantees that He will admit him to Paradise. If anyone does not offer them, Allah does not take any responsibility for such a person. He may either punish him or admit him to Paradise
ابن محیریز کہتے ہیں کہ بنو کنانہ کے ایک شخص نے جسے مخدجی کہا جاتا تھا، شام کے ایک شخص سے سنا جسے ابومحمد کہا جاتا تھا وہ کہہ رہا تھا: وتر واجب ہے، مخدجی نے کہا: میں یہ سن کر عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے بیان کیا تو عبادہ نے کہا: ابو محمد نے غلط کہا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: پانچ نمازیں ہیں جو اللہ نے بندوں پر فرض کی ہیں، پس جس شخص نے ان کو اس طرح ادا کیا ہو گا کہ ان کو ہلکا سمجھ کر ان میں کچھ بھی کمی نہ کی ہو گی تو اس کے لیے اللہ کے پاس جنت میں داخل کرنے کا عہد ہو گا، اور جو شخص ان کو ادا نہ کرے گا تو اس کے لیے اللہ کے پاس کوئی عہد نہیں، اللہ چاہے تو اسے عذاب دے اور چاہے تو اسے جنت میں داخل کرے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ بْنِ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ الْوَسْقُ سِتُّونَ صَاعًا مَخْتُومًا بِالْحَجَّاجِيِّ .
Ibrahim said The wasq contained sixty sa’s stamped with the stamp of Al Hajjaj
ابراہیم کہتے ہیں ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے، جس پر حجاجی مہر لگی ہوتی ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ زَادَ " سِقَاؤُهَا تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ " . وَلَمْ يَقُلْ " خُذْهَا " . فِي ضَالَّةِ الشَّاءِ وَقَالَ فِي اللُّقَطَةِ " عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلاَّ فَشَأْنَكَ بِهَا " . وَلَمْ يَذْكُرِ " اسْتَنْفِقْ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ وَسُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ رَبِيعَةَ مِثْلَهُ لَمْ يَقُولُوا " خُذْهَا " .
The above mentioned tradition has also been transmitted by Malik through a different chain of narrators to the same effect. This version adds:They have their stomachs: They can go down to water and eat trees. He did not say about the stray sheep: take it. About a find he said : Make it known for a year; if it’s owner comes, (give it to him), otherwise use it yourself. This version has not the word : “ spend it”. Abu Dawud said : This tradition has been narrated by al-Thawri, Sulaiman bin Bilal, and Hammad bin Salamah on the authority of Rabi ‘ ah in a similar manner. They did not mention the word “take it”
اس سند سے بھی مالک سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی روایت مروی ہے البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے کہ: وہ اپنی سیرابی کے لیے پانی پر آ جاتا ہے اور درخت کھا لیتا ہے ، اس روایت میں گمشدہ بکری کے سلسلے میں «خذها» ( اسے پکڑ لو ) کا لفظ نہیں ہے، البتہ لقطہٰ کے سلسلے میں فرمایا: ایک سال تک اس کی تشہیر کرو، اگر اس کا مالک آ جائے تو بہتر ہے ورنہ تم خود اس کو استعمال کر لو ، اس میں «استنفق»کا لفظ نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ثوری، سلیمان بن بلال اور حماد بن سلمہ نے اسے ربیعہ سے اسی طرح روایت کیا ہے لیکن ان لوگوں نے «خذها» کا لفظ نہیں کہا ہے۔
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ نَحْوَهُ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ " بَرِيدًا " .
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (SWAS) as saying :He then reported the same tradition as mentioned above but he mentioned (in this version) the word “mail post”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، پھر انہوں نے اسی جیسی روایت ذکر کی البتہ اس میں ( دن رات کی مسافت کے بجائے ) «بريدا» کہا ہے ۱؎۔
Narrated by Ma'qil ibn Yasar
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا مُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدِ ابْنُ أُخْتِ، مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ عَنْ مَنْصُورٍ، - يَعْنِي ابْنَ زَاذَانَ - عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنِّي أَصَبْتُ امْرَأَةً ذَاتَ حَسَبٍ وَجَمَالٍ وَإِنَّهَا لاَ تَلِدُ أَفَأَتَزَوَّجُهَا قَالَ " لاَ " . ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ فَنَهَاهُ ثُمَّ أَتَاهُ الثَّالِثَةَ فَقَالَ " تَزَوَّجُوا الْوَدُودَ الْوَلُودَ فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الأُمَمَ " .
Narrated Ma'qil ibn Yasar: A man came to the Prophet (ﷺ) and said: I have found a woman of rank and beauty, but she does not give birth to children. Should I marry her? He said: No. He came again to him, but he prohibited him. He came to him third time, and he (the Prophet) said: Marry women who are loving and very prolific, for I shall outnumber the peoples by you
معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا: مجھے ایک عورت ملی ہے جو اچھے خاندان والی ہے، خوبصورت ہے لیکن اس سے اولاد نہیں ہوتی تو کیا میں اس سے شادی کر لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ، پھر وہ آپ کے پاس دوسری بار آیا تو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو منع فرمایا، پھر تیسری بار آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خوب محبت کرنے والی اور خوب جننے والی عورت سے شادی کرو، کیونکہ ( بروز قیامت ) میں تمہاری کثرت کی وجہ سے دوسری امتوں پر فخر کروں گا ۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ لْيُمْسِكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ ثُمَّ تَطْهُرَ ثُمَّ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَ بَعْدَ ذَلِكَ وَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ " .
‘Abd Allah bin Umar said that he divorced his wife while she was menstruating during the time of the Apostle of Allaah(ﷺ). So ‘Umar bin Al Khattab asked the Apostle of Allaah(ﷺ) about this matter. The Apostle of Allaah(ﷺ) said “Order him, he must take her back and keep her back till she is purified, then has another menstrual period and is purified. Thereafter if he desires he may divorce her before having intercourse with her, for that is the period of waiting which Allaah the Glorified has commanded for the divorce of women.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی، تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے حکم دو کہ وہ اپنی بیوی سے رجوع کر لے، پھر اسے روکے رکھے یہاں تک کہ وہ حیض سے پاک ہو جائے، پھر حیض آ جائے، پھر پاک ہو جائے، پھر اس کے بعد اگر چاہے تو رکھے، ورنہ چھونے سے پہلے طلاق دیدے، یہی وہ عدت ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو طلاق دینے کے سلسلے میں حکم دیا ہے ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، أَنَّ عِكْرِمَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ أُثْبِتَتْ لِلْحُبْلَى وَالْمُرْضِعِ .
Ibn ‘Abbas said “The verse concerning the payment of ransom stands valid for pregnant and sucking woman.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں اس آیت کا حکم حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کے حق میں باقی رکھا گیا ہے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عَامِرٌ، قَالَ أَتَى رَجُلٌ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو وَعِنْدَهُ الْقَوْمُ حَتَّى جَلَسَ عِنْدَهُ فَقَالَ أَخْبِرْنِي بِشَىْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ " .
‘Amir said “A man came to ‘Abd Allaah bin ‘Amr while the people were with him. He sat with him and said “Tell me anything that you heard from the Apostle of Allaah(ﷺ)”. He said “I hears the Apostle of Allaah(ﷺ) say “A Muslim is he from whose tongue and hand the Muslims remain safe and an emigrant is he who abandons what Allaah has prohibited.””
عامر شعبی کہتے ہیں کہ ایک آدمی عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، ان کے پاس کچھ لوگ بیٹھے تھے یہاں تک کہ وہ بھی آ کر آپ کے پاس بیٹھ گیا اور کہنے لگا: مجھے کوئی ایسی بات بتائیے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے مسلمان محفوظ رہیں، اور مہاجر وہ ہے جو اللہ کی منع کردہ چیزوں کو چھوڑ دے ۔
Narrated by Aishah
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ، حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ، عَنِ ابْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ بِكَبْشٍ أَقْرَنَ يَطَأُ فِي سَوَادٍ وَيَنْظُرُ فِي سَوَادٍ وَيَبْرُكُ فِي سَوَادٍ فَأُتِيَ بِهِ فَضَحَّى بِهِ فَقَالَ " يَا عَائِشَةُ هَلُمِّي الْمُدْيَةَ " . ثُمَّ قَالَ " اشْحَذِيهَا بِحَجَرٍ " . فَفَعَلَتْ فَأَخَذَهَا وَأَخَذَ الْكَبْشَ فَأَضْجَعَهُ وَذَبَحَهُ وَقَالَ " بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَمِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ " . ثُمَّ ضَحَّى بِهِ صلى الله عليه وسلم .
Narrated 'Aishah:The Prophet (Saws) ordered a horned ram with black legs, black belly and black round the eyes, and it was brought from him to sacrifice. He said: 'Aishah, get the knife then he said: Sharpen it with a stone. So I did. He took it, then take the ram he placed it on the ground and slaughtered it. He then said: In the name of Allah. O Allah, accept it for Muhammad, Muhammad's family and Muhammad's people. Then he sacrificed it
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ دار مینڈھا لانے کا حکم دیا جس کی آنکھ سیاہ ہو، سینہ، پیٹ اور پاؤں بھی سیاہ ہوں، پھر اس کی قربانی کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ چھری لاؤ ، پھر فرمایا: اسے پتھر پر تیز کرو ، تو میں نے چھری تیز کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہاتھ میں لیا اور مینڈھے کو پکڑ کر لٹایا اور ذبح کرنے کا ارادہ کیا اور کہا:«بسم الله اللهم تقبل من محمد وآل محمد ومن أمة محمد» اللہ کے نام سے ذبح کرتا ہوں، اے اللہ! محمد، آل محمد اور امت محمد کی جانب سے اسے قبول فرما پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قربانی کی۔
Narrated by Adi b. Hatim
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قُلْتُ إِنَّا نَصِيدُ بِهَذِهِ الْكِلاَبِ فَقَالَ لِي " إِذَا أَرْسَلْتَ كِلاَبَكَ الْمُعَلَّمَةَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكَ وَإِنْ قَتَلَ إِلاَّ أَنْ يَأْكُلَ الْكَلْبُ فَإِنْ أَكَلَ الْكَلْبُ فَلاَ تَأْكُلْ فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا أَمْسَكَهُ عَلَى نَفْسِهِ " .
Narrated 'Adi b. Hatim:I asked the Messenger of Allah. I said: We hunt with these dogs. He replied: When you set off your dog and mention Allah's name over it, eat what it catches for you, even if it kills it, except that the dog has eaten (any of it); if the dog has eaten (any of it), do not eat, for Im afraid it has caught it only for itself
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ہم ان کتوں سے شکار کرتے ہیں ( آپ کیا فرماتے ہیں؟ ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جب تم اپنے سدھائے ہوئے کتوں کو اللہ کا نام لے کر شکار پر چھوڑو تو وہ جو شکار تمہارے لیے پکڑ کر رکھیں انہیں کھاؤ گرچہ وہ انہیں مار ڈالیں سوائے ان کے جنہیں کتا کھا لے، اگر کتا اس میں سے کھا لے تو پھر نہ کھاؤ کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ اس نے اسے اپنے لیے پکڑا ہو ۔
Narrated by AbuSa'id al-Khudri
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لأَنْ يَتَصَدَّقَ الْمَرْءُ فِي حَيَاتِهِ بِدِرْهَمٍ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِمِائَةٍ عِنْدَ مَوْتِهِ " .
Narrated AbuSa'id al-Khudri: The Prophet (ﷺ) said: A man giving a dirham as sadaqah (charity) during his life is better than giving one hundred dirhams as sadaqah (charity) at the moment of his death
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کا اپنی زندگی میں ( جب تندرست ہو ) ایک درہم خیرات کر دینا اس سے بہتر ہے کہ مرتے وقت سو درہم خیرات کرے ۔
Narrated by Al-Bara' ibn Azib
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَسْتَفْتُونَكَ فِي الْكَلاَلَةِ فَمَا الْكَلاَلَةُ قَالَ " تُجْزِيكَ آيَةُ الصَّيْفِ " . فَقُلْتُ لأَبِي إِسْحَاقَ هُوَ مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَدَعْ وَلَدًا وَلاَ وَالِدًا قَالَ كَذَلِكَ ظَنُّوا أَنَّهُ كَذَلِكَ .
Narrated Al-Bara' ibn Azib: A man came to the Prophet (ﷺ) and said: Messenger of Allah, they ask thee for a legal decision about a kalalah. What is meant by kalalah? He replied: The verse revealed in summer is sufficient for you. I asked AbuIshaq: Does it mean a person who dies and leaves neither children nor father? He said: This is so. The people think it is so
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول!«يستفتونك في الكلالة» میں کلالہ سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: آیت «صيف» ۱؎ تمہارے لیے کافی ہے۔ ابوبکر کہتے ہیں: میں نے ابواسحاق سے کہا: کلالہ وہی ہے نا جو نہ اولاد چھوڑے نہ والد؟ انہوں نے کہا: ہاں، لوگوں نے ایسا ہی سمجھا ہے۔
Narrated by Aisha, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَامِرٍ الْمُرِّيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِالأَمِيرِ خَيْرًا جَعَلَ لَهُ وَزِيرَ صِدْقٍ إِنْ نَسِيَ ذَكَّرَهُ وَإِنْ ذَكَرَ أَعَانَهُ وَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِهِ غَيْرَ ذَلِكَ جَعَلَ لَهُ وَزِيرَ سُوءٍ إِنْ نَسِيَ لَمْ يُذَكِّرْهُ وَإِنْ ذَكَرَ لَمْ يُعِنْهُ " .
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: The Messenger of Allah (ﷺ) said: When Allah has a good purpose for a ruler, He appoints for him a sincere minister who reminds him if he forgets and helps him if he remembers; but when Allah has a different purpose from that for him. He appoints for him an evil minister who does not remind him if he forgets and does not help him if he remembers
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ جب کسی حاکم کی بھلائی چاہتا ہے تو اسے سچا وزیر عنایت فرماتا ہے، اگر وہ بھول جاتا ہے تو وہ اسے یاد دلاتا ہے، اور اگر اسے یاد رہتا ہے تو وہ اس کی مدد کرتا ہے، اور جب اللہ کسی حاکم کی بھلائی نہیں چاہتا ہے تو اس کو برا وزیر دے دیتا ہے، اگر وہ بھول جاتا ہے تو وہ یاد نہیں دلاتا، اور اگر یاد رکھتا ہے تو وہ اس کی مدد نہیں کرتا ۔
Narrated by Aishah
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، - قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ بَشَّارٍ - عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْخَزَّازِ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لأَعْلَمُ أَشَدَّ آيَةٍ فِي الْقُرْآنِ قَالَ " أَيَّةُ آيَةٍ يَا عَائِشَةُ " . قَالَتْ قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى { مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ } قَالَ " أَمَا عَلِمْتِ يَا عَائِشَةُ أَنَّ الْمُؤْمِنَ تُصِيبُهُ النَّكْبَةُ أَوِ الشَّوْكَةُ فَيُكَافَأُ بِأَسْوَإِ عَمَلِهِ وَمَنْ حُوسِبَ عُذِّبَ " . قَالَتْ أَلَيْسَ اللَّهُ يَقُولُ { فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا } قَالَ " ذَاكُمُ الْعَرْضُ يَا عَائِشَةُ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ عُذِّبَ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ بَشَّارٍ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ .
Narrated 'Aishah: I said: Messenger of Allah, I know the severest verse in the Qur'an. He asked: What is that verse. A'ishah? She replied: Allah's words: "If anyone does evil, he will be requited for it." He said: Do you know A'ishah, that when a believer is afflicted with a calamity or a thorn, it serves as an atonement for his evil deed. He who is called to account will be punished. She said: Does Allah not say: "He truly will recieve an easy reckoning." He said: This is the presentation, A'ishah. If anyone criticized in reckoning, he will be punished. Abu Dawud said: This is the version of Ibn Bashshar. He said: Ibn Abi Mulaikah narrated to us
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں قرآن مجید کی سب سے سخت آیت کو جانتی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ کون سی آیت ہے اے عائشہ! ، انہوں نے کہا: اللہ کا یہ فرمان «من يعمل سوءا يجز به» جو شخص کوئی بھی برائی کرے گا اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا ( سورۃ النساء: ۱۲۳ ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ تمہیں معلوم نہیں جب کسی مومن کو کوئی مصیبت یا تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اس کے برے عمل کا بدلہ ہو جاتی ہے، البتہ جس سے محاسبہ ہو اس کو عذاب ہو گا ۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرماتا ہے «فسوف يحاسب حسابا يسيرا» اس کا حساب تو بڑی آسانی سے لیا جائے گا ( سورۃ الانشقاق: ۸ ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے مراد صرف اعمال کی پیشی ہے، اے عائشہ! حساب کے سلسلے میں جس سے جرح کر لیا گیا عذاب میں دھر لیا گیا ۔
Narrated by Jabir ibn Abdullah
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ هَاشِمٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نِسْطَاسٍ، مِنْ آلِ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَحْلِفُ أَحَدٌ عِنْدَ مِنْبَرِي هَذَا عَلَى يَمِينٍ آثِمَةٍ وَلَوْ عَلَى سِوَاكٍ أَخْضَرَ إِلاَّ تَبَوَّأَ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " . أَوْ " وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ " .
Narrated Jabir ibn Abdullah: The Prophet (ﷺ) said: One should not take a false oath at this pulpit of mine even on a green tooth-stick; otherwise he will make his abode in Hell, or Hell will be certain for him
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص میرے منبر کے پاس جھوٹی قسم کھائے گا اگرچہ ایک تازی مسواک کے لیے کھائے تو سمجھ لو اس نے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لیا یا یہ کہا: جہنم اس پر واجب ہو گئی ۱؎ ۔
Narrated by Al-Nu'man b. Bashir
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ " وَبَيْنَهُمَا مُشَبَّهَاتٌ لا يَعْلَمُهَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ فَمَنِ اتَّقَى الشُّبُهَاتِ اسْتَبْرَأَ عِرْضَهُ وَدِينَهُ وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ وَقَعَ فِي الْحَرَامِ " .
Narrated Al-Nu'man b. Bashir:I heard Messenger of Allah (ﷺ) say: But between them are certain doubtful things which many people do not recognize. He who guards against doubtful things keeps his religion and his honor blameless, but he who falls into doubtful things falls into what is unlawful
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ یہی حدیث بیان فرما رہے تھے اور فرما رہے تھے: ان دونوں کے درمیان کچھ شبہے کی چیزیں ہیں جنہیں بہت سے لوگ نہیں جانتے، جو شبہوں سے بچا وہ اپنے دین اور اپنی عزت و آبرو کو بچا لے گیا، اور جو شبہوں میں پڑا وہ حرام میں پھنس گیا ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ، عَنْ عَمِّهِ، أَنَّهُ مَرَّ بِقَوْمٍ فَأَتَوْهُ فَقَالُوا إِنَّكَ جِئْتَ مِنْ عِنْدِ هَذَا الرَّجُلِ بِخَيْرٍ فَارْقِ لَنَا هَذَا الرَّجُلَ . فَأَتَوْهُ بِرَجُلٍ مَعْتُوهٍ فِي الْقُيُودِ فَرَقَاهُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ غُدْوَةً وَعَشِيَّةً كُلَّمَا خَتَمَهَا جَمَعَ بُزَاقَهُ ثُمَّ تَفَلَ فَكَأَنَّمَا أُنْشِطَ مِنْ عِقَالٍ فَأَعْطُوهُ شَيْئًا فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَهُ لَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " كُلْ فَلَعَمْرِي لَمَنْ أَكَلَ بِرُقْيَةٍ بَاطِلٍ لَقَدْ أَكَلْتَ بِرُقْيَةٍ حَقٍّ " .
Kharijah b. al-Salt quoted his paternal uncle as saying that he passed by a clan (of the Arab) who came to him and said:You have brought what is good from this man. Then they brought a lunatic in chains. He recited Surat al-Fatihah over him three days, morning and evening. When he finished, he collected his saliva and then spat it out, (he felt relief) as if he were set free from a bond. They gave him something (as wages). He then came to the Prophet (ﷺ) and mentioned it to him. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Accept it, for by my life, some accept it for a worthless charm, but you have done so far a genuine one
خارجہ بن صلت کے چچا علاقہ بن صحار تمیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کا گزر ایک قوم کے پاس سے ہوا تو وہ لوگ ان کے پاس آئے اور کہا کہ آپ آدمی ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس سے بھلائی لے کر آئے ہیں، تو ہمارے اس آدمی کو ذرا جھاڑ پھونک دیں، پھر وہ لوگ رسیوں میں بندھے ہوئے ایک پاگل لے کر آئے، تو انہوں نے اس پر تین دن تک صبح و شام سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کیا، جب وہ اسے ختم کرتے تو ( منہ میں ) تھوک جمع کرتے پھر تھو تھو کرتے، پھر وہ شخص ایسا ہو گیا، گویا اس کی گرہیں کھل گئیں، ان لوگوں نے ان کو کچھ دیا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ سے اس کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( بے دھڑک ) کھاؤ، قسم ہے ( یعنی اس ذات کی جس کے اختیار میں میری زندگی ہے ) لوگ تو جھوٹا منتر پڑھ کر کھاتے ہیں، آپ تو سچا منتر پڑھ کر کھا رہے ہیں ۔
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا مُلاَزِمُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ نَجْدَةَ، عَنْ جَدِّهِ، يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ - وَهُوَ أَبُو كَثِيرٍ - قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ طَلَبَ قَضَاءَ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى يَنَالَهُ ثُمَّ غَلَبَ عَدْلُهُ جَوْرَهُ فَلَهُ الْجَنَّةُ وَمَنْ غَلَبَ جَوْرُهُ عَدْلَهُ فَلَهُ النَّارُ " .
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: If anyone seeks the office of judge among Muslims till he gets it and his justice prevails over his tyranny, he will go to Paradise; but the man whose tyranny prevails over his justice will go to Hell
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مسلمانوں کے منصب قضاء کی درخواست کرے یہاں تک کہ وہ اسے پا لے پھر اس کے ظلم پر اس کا عدل غالب آ جائے تو اس کے لیے جنت ہے، اور جس کا ظلم اس کے عدل پر غالب آ جائے تو اس کے لیے جہنم ہے ۔
Narrated by Zayd ibn Thabit
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ، - يَعْنِي ابْنَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ - قَالَ قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَتَعَلَّمْتُ لَهُ كِتَابَ يَهُودَ وَقَالَ " إِنِّي وَاللَّهِ مَا آمَنُ يَهُودَ عَلَى كِتَابِي " . فَتَعَلَّمْتُهُ فَلَمْ يَمُرَّ بِي إِلاَّ نِصْفُ شَهْرٍ حَتَّى حَذَقْتُهُ فَكُنْتُ أَكْتُبُ لَهُ إِذَا كَتَبَ وَأَقْرَأُ لَهُ إِذَا كُتِبَ إِلَيْهِ .
Narrated Zayd ibn Thabit: The Messenger of Allah (ﷺ) ordered me (to learn the writing of the Jews), so I learnt for him the writing of the Jews. He said: I swear by Allah, I do not trust Jews in respect of writing for me. So I learnt it, and only a fortnight passed before I mastered it. I would write for him when he wrote (to them), and read to him when something was written to him
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تو میں نے آپ کی خاطر یہودیوں کی تحریر سیکھ لی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم اللہ کی میں اپنی خط و کتابت کے سلسلہ میں یہودیوں سے مامون نہیں ہوں تو میں اسے سیکھنے لگا، ابھی آدھا مہینہ بھی نہیں گزرا تھا کہ میں نے اس میں مہارت حاصل کر لی، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ لکھوانا ہوتا تو میں ہی لکھتا اور جب کہیں سے کوئی مکتوب آتا تو اسے میں ہی پڑھتا۔
Narrated by Anas ibn Malik
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كُنْتُ سَاقِيَ الْقَوْمِ حَيْثُ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ فِي مَنْزِلِ أَبِي طَلْحَةَ وَمَا شَرَابُنَا يَوْمَئِذٍ إِلاَّ الْفَضِيخُ فَدَخَلَ عَلَيْنَا رَجُلٌ فَقَالَ إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ وَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْنَا هَذَا مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
Narrated Anas ibn Malik: I was serving wine to the people in the house of AbuTalhah when it was prohibited and that day our wine was made from unripe dates. A man entered upon us and said: The wine has been prohibited, and the herald of the Messenger of Allah (ﷺ) made an announcement. We then said: This is the herald of the Messenger of Allah (ﷺ)
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ شراب کی حرمت کے وقت میں ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے گھر لوگوں کو شراب پلا رہا تھا، ہماری شراب اس روز کھجور ہی سے تیار کی گئی تھی، اتنے میں ایک شخص ہمارے پاس آیا اور اس نے کہا کہ شراب حرام کر دی گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے بھی آواز لگائی تو ہم نے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منادی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ دُعِيَ فَلْيُجِبْ فَإِنْ شَاءَ طَعِمَ وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ " .
Jabir reported the Messenger of Allah(ﷺ) as sayings:when one of you is invited to a meal, he must accept. If he wishes he may eat, but if he wishes(to leave), he may leave
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کو دعوت دی جائے اسے دعوت قبول کرنی چاہیئے پھر اگر چاہے تو کھائے اور چاہے تو نہ کھائے ۔
Narrated by Abu Kabshah al-Ansari
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، وَكَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ ابْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي كَبْشَةَ الأَنْمَارِيِّ، - قَالَ كَثِيرٌ إِنَّهُ حَدَّثَهُ - أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَحْتَجِمُ عَلَى هَامَتِهِ وَبَيْنَ كَتِفَيْهِ وَهُوَ يَقُولُ " مَنْ أَهْرَاقَ مِنْ هَذِهِ الدِّمَاءِ فَلاَ يَضُرُّهُ أَنْ لاَ يَتَدَاوَى بِشَىْءٍ لِشَىْءٍ " .
Narrated Abu Kabshah al-Ansari: The Messenger of Allah (ﷺ) used to have himself cupped on the top of his head and between his shoulders, and that he used to say: If anyone pours out any of his blood, he will not suffer if he applies no medical treatment for anything
ابوکبشہ انماری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر پر اور اپنے دونوں مونڈھوں کے درمیان سینگی ( پچھنے ) لگواتے اور فرماتے: جو ان جگہوں کا خون نکلوالے تو اسے کسی بیماری کی کوئی دوا نہ کرنے سے کوئی نقصان نہ ہو گا ۔
Narrated by Muhammed b. Ja'far
حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، قَالَ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ عَوْفٌ الْعِيَافَةُ زَجْرُ الطَّيْرِ وَالطَّرْقُ الْخَطُّ يُخَطُّ فِي الأَرْضِ .
Narrated Muhammed b. Ja'far:On the authority of 'Awf: 'Iyafah means to makes the birds fly by threatening them. Tarq means lines drawn on the earth
عوف کہتے ہیں «عيافة» سے مراد پرندہ اڑانا ہے اور «طرق» سے مراد وہ لکیریں ہیں جو زمین پر کھینچی جاتی ہیں ( اور جسے رمل کہتے ہیں ) ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ جَاءَتْ بَرِيرَةُ لِتَسْتَعِينَ فِي كِتَابَتِهَا فَقَالَتْ إِنِّي كَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُوقِيَّةٌ فَأَعِينِينِي . فَقَالَتْ إِنْ أَحَبَّ أَهْلُكِ أَنْ أَعُدَّهَا عَدَّةً وَاحِدَةً وَأُعْتِقَكِ وَيَكُونَ وَلاَؤُكِ لِي فَعَلْتُ . فَذَهَبَتْ إِلَى أَهْلِهَا وَسَاقَ الْحَدِيثَ نَحْوَ الزُّهْرِيِّ زَادَ فِي كَلاَمِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي آخِرِهِ " مَا بَالُ رِجَالٍ يَقُولُ أَحَدُهُمْ أَعْتِقْ يَا فُلاَنُ وَالْوَلاَءُ لِي إِنَّمَا الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " .
Aishah said:Barirah came seeking my help to purchase her freedom. She said: I have arranged with my people to buy my freedom for nine 'uqiyahs: one to be paid annually. So help me. She ('Aishah) said: If your people are willing that I should count them ('uqiyahs) out to them all at one time and set you free and that I shall have the right to inherit from you, I shall do so. She then went to her people. The narrator then transmitted the rest of the tradition like the version of al-Zuhri. He added to the wordings of the Prophet (ﷺ) in the last: What is the matter with people that one of you says: Set free, O so-and-so, and the right of inheritance belongs to me. The right of inheritance belongs to the one who has set a person free
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے بدل کتابت میں تعاون کے لیے ان کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: میں نے اپنے لوگوں سے نو اوقیہ پر مکاتبت کر لی ہے، ہر سال ایک اوقیہ ادا کرنا ہے، لہٰذا آپ میری مدد کیجئے، تو انہوں نے کہا: اگر تمہارے لوگ چاہیں تو میں ایک ہی دفعہ انہیں دے دوں، اور تمہیں آزاد کر دوں البتہ تمہاری ولاء میری ہو گی ؛ چنانچہ وہ اپنے لوگوں کے پاس گئیں پھر راوی پوری حدیث زہری والی روایت کی طرح بیان کی، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کے آخر میں یہ اضافہ کیا کہ: لوگوں کا کیا حال ہے کہ وہ دوسروں سے کہتے ہیں: تم آزاد کر دو اور ولاء میں لوں گا ( کیسی لغو بات ہے ) ولاء تو اس کا حق ہے جو آزاد کرے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا بَدْرُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّ سَائِلاً، سَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا حَتَّى أَمَرَ بِلاَلاً فَأَقَامَ لِلْفَجْرِ حِينَ انْشَقَّ الْفَجْرُ فَصَلَّى حِينَ كَانَ الرَّجُلُ لاَ يَعْرِفُ وَجْهَ صَاحِبِهِ أَوْ إِنَّ الرَّجُلَ لاَ يَعْرِفُ مَنْ إِلَى جَنْبِهِ ثُمَّ أَمَرَ بِلاَلاً فَأَقَامَ الظُّهْرَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ حَتَّى قَالَ الْقَائِلُ انْتَصَفَ النَّهَارُ . وَهُوَ أَعْلَمُ ثُمَّ أَمَرَ بِلاَلاً فَأَقَامَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ مُرْتَفِعَةٌ وَأَمَرَ بِلاَلاً فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ وَأَمَرَ بِلاَلاً فَأَقَامَ الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ صَلَّى الْفَجْرَ وَانْصَرَفَ فَقُلْنَا أَطَلَعَتِ الشَّمْسُ فَأَقَامَ الظُّهْرَ فِي وَقْتِ الْعَصْرِ الَّذِي كَانَ قَبْلَهُ وَصَلَّى الْعَصْرَ وَقَدِ اصْفَرَّتِ الشَّمْسُ - أَوْ قَالَ أَمْسَى - وَصَلَّى الْمَغْرِبَ قَبْلَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ وَصَلَّى الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ ثُمَّ قَالَ " أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ الصَّلاَةِ الْوَقْتُ فِيمَا بَيْنَ هَذَيْنِ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَغْرِبِ بِنَحْوِ هَذَا قَالَ ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ قَالَ بَعْضُهُمْ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ وَقَالَ بَعْضُهُمْ إِلَى شَطْرِهِ . وَكَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
Abu Musa reported:A man asked the Prophet (ﷺ) [about the prayer times] but he did reply to him but he commanded Bilal, who made the announcement for the beginning of the time of the the fair prayer prayer when the dawn broke. He offered (the fair prayer) when a man (due to darkness) could not recognize the face of his companion ; or a man could not know the person who stood by his side. He then commanded Bilal who made announcement for the beginning of the time of the Zuhr prayer when the sun had passed the meridian until some said: Has the noon come ? While he (the Prophet) knew (the time) well. He the commanded Bilal who announced the beginning of the time of the 'Asr prayer when the sun was white and high. When the sunset he commanded Bilal who announced beginning of the time of the Maghrib prayer. When the twilight disappeared he commanded Bilal who announced the beginning of the Isha prayer. Next day he offered the Fajr prayer and returned until we said: Has the sun rise ? He observed the Zuhr prayer at the time he has previously observed the 'Asr prayer. He offered the 'Asr prayer at the time when the sun had become yellow or the evening had come. He offered the Maghrib prayer before the twilight had ended. He observed the Isha prayer when a third of the night had passed. He then asked: Where is the man who was asking me about the time of prayer. (Then replying to him he said): The time (of your prayer) lies within these two limits. Abu Dawud said: Sulaiman b. Musa has narrated this tradition about the time of the Maghrib prayer from Musa from 'Ata on the authority of Jabir from the Prophet (ﷺ). This version adds: He then offered the Isha prayer when a third of the night had passed, as narrated (he said the Isha prayer) when half the night had passed. This tradition has been transmitted by Ibn Buraidah on the authority of his father from the Prophet (ﷺ) in a similar way
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک سائل نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( اوقات نماز کے بارے میں ) پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے فجر کی اقامت اس وقت کہی جب صبح صادق کی پو پھٹ گئی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر اس وقت پڑھی جب آدمی اپنے ساتھ والے کا چہرہ ( اندھیرے کی وجہ سے ) نہیں پہچان سکتا تھا، یا آدمی کے پہلو میں جو شخص ہوتا اسے نہیں پہچان سکتا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال کو حکم دیا تو انہوں نے ظہر کی اقامت اس وقت کہی جب آفتاب ڈھل گیا یہاں تک کہ کہنے والے نے کہا: ( ابھی تو ) ٹھیک دوپہر ہوئی ہے، اور آپ کو خوب معلوم تھا ( کہ زوال ہو چکا ہے ) ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال کو حکم دیا تو انہوں نے عصر کی اقامت کہی، اس وقت سورج بلند و سفید تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال کو حکم دیا تو انہوں نے مغرب کی اقامت سورج ڈوبنے پر کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال کو حکم دیا تو انہوں نے عشاء کی اقامت اس وقت کہی جب شفق غائب ہو گئی، پھر جب دوسرا دن ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر پڑھی اور نماز سے فارغ ہوئے، تو ہم لوگ کہنے لگے: کیا سورج نکل آیا؟ پھر ظہر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت پڑھی جس وقت پہلے روز عصر پڑھی تھی اور عصر اس وقت پڑھی جب سورج زرد ہو گیا یا کہا: شام ہو گئی، اور مغرب شفق غائب ہونے سے پہلے پڑھی، اور عشاء اس وقت پڑھی جب تہائی رات گزر گئی، پھر فرمایا: کہاں ہے وہ شخص جو نماز کے اوقات پوچھ رہا تھا؟ نماز کا وقت ان دونوں کے بیچ میں ہے ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سلیمان بن موسیٰ نے عطاء سے، عطاء نے جابر رضی اللہ عنہ سے، جابر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مغرب کے بارے میں اسی طرح روایت کی ہے، اس میں ہے: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء پڑھی ، بعض نے کہا: تہائی رات میں پڑھی ، بعض نے کہا: آدھی رات میں ، اور اسی طرح یہ حدیث ابن بریدہ نے اپنے والد ( بریدہ ) سے، بریدہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔
Narrated by Laqit ibn Sabirah
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ قَالَ كُنْتُ وَافِدَ بَنِي الْمُنْتَفِقِ - أَوْ فِي وَفْدِ بَنِي الْمُنْتَفِقِ - إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فَقَالَ - يَعْنِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم - " لاَ تَحْسِبَنَّ " . وَلَمْ يَقُلْ لاَ تَحْسَبَنَّ .
Narrated Laqit ibn Sabirah: I came in the deputation of Banu al-Muntafiq to the Messenger of Allah (ﷺ). He then narrated the rest of the tradition. The Prophet (ﷺ) said: la tahsibanna (do not think) and did not say: la tahsabanna (do not think)
لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں بنی منتفق کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تھا، یا بنی منتفق کے وفد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تھا پھر انہوں نے حدیث بیان کی کہ آپ نے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «لا تحسبن» ( سین کے زیر کے ساتھ ) پڑھا اور «لا تحسبن» ( سین کو زبر کے ساتھ ) نہیں پڑھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْحَدِيثِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ الأَوَّلُ أَتَمُّ .
The tradition mentioned above has also been transmitted by Ya'la from the Prophet (ﷺ) through a different chain of narrators. Abu Dawud said:The former is more perfect
اس سند سے بھی صفوان بن یعلیٰ اپنے والد سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کرتے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: پہلی روایت زیادہ کامل ہے۔
Narrated by Umm Khalid, daughter of Sa'd b. al-'As
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ الْجَرَّاحِ الأَذَنِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ خَالِدٍ بِنْتِ خَالِدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أُتِيَ بِكِسْوَةٍ فِيهَا خَمِيصَةٌ صَغِيرَةٌ فَقَالَ " مَنْ تَرَوْنَ أَحَقَّ بِهَذِهِ " . فَسَكَتَ الْقَوْمُ فَقَالَ " ائْتُونِي بِأُمِّ خَالِدٍ " . فَأُتِيَ بِهَا فَأَلْبَسَهَا إِيَّاهَا ثُمَّ قَالَ " أَبْلِي وَأَخْلِقِي " . مَرَّتَيْنِ وَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَى عَلَمٍ فِي الْخَمِيصَةِ أَحْمَرَ أَوْ أَصْفَرَ وَيَقُولُ " سَنَاهْ سَنَاهْ يَا أُمَّ خَالِدٍ " . وَسَنَاهْ فِي كَلاَمِ الْحَبَشَةِ الْحَسَنُ .
Narrated Umm Khalid, daughter of Sa'd b. al-'As:Once the Messenger of Allah (ﷺ) was brought some garments among which was a small cloak with a border and black stripes. He said: Whom do you think to be more deserving for it ? The people kept silence. He said: Bring Umm Khalid. The she was carried to him and he put it on her, saying: Wear it out and make it ragged twice. Then he went on looking at red or yellow marks on it, and said: This is sanah, sanah, Umm Khalid. It means "beautiful" in the language of the Abyssinians
ام خالد بنت خالد بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ کپڑے آئے جن میں ایک چھوٹی سی دھاری دار چادر تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ کس کو اس کا زیادہ حقدار سمجھتے ہو؟ تو لوگ خاموش رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ام خالد کو میرے پاس لاؤ چنانچہ وہ لائی گئیں، آپ نے انہیں اسے پہنا دیا پھر دوبار فرمایا: پہن پہن کر اسے پرانا اور بوسیدہ کرو آپ چادر کی دھاریوں کو جو سرخ یا زرد رنگ کی تھیں دیکھتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے: اے ام خالد! «سناه سناه» اچھا ہے اچھا ہے ۱؎ ۔
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ كَانَ لَهُ شَعْرٌ فَلْيُكْرِمْهُ " .
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: He who has hair should honour it
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس بال ہوں تو اسے چاہیئے کہ وہ انہیں اچھی طرح رکھے ۔
Narrated by Ibn 'Umar
حَدَّثَنَا نُصَيْرُ بْنُ الْفَرَجِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ وَجَعَلَ فَصَّهُ مِمَّا يَلِي بَطْنَ كَفِّهِ وَنَقَشَ فِيهِ " مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ " . فَاتَّخَذَ النَّاسُ خَوَاتِمَ الذَّهَبِ فَلَمَّا رَآهُمْ قَدِ اتَّخَذُوهَا رَمَى بِهِ وَقَالَ " لاَ أَلْبَسُهُ أَبَدًا " . ثُمَّ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ نَقَشَ فِيهِ " مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ " . ثُمَّ لَبِسَ الْخَاتَمَ بَعْدَهُ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ لَبِسَهُ بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ عُمَرُ ثُمَّ لَبِسَهُ بَعْدَهُ عُثْمَانُ حَتَّى وَقَعَ فِي بِئْرِ أَرِيسَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَلَمْ يَخْتَلِفِ النَّاسُ عَلَى عُثْمَانَ حَتَّى سَقَطَ الْخَاتَمُ مِنْ يَدِهِ .
Narrated Ibn 'Umar: The Messenger of Allah (ﷺ) took a signet-ring of gold, and put the stone next the palm of his hand. He engraved on it "Muhammad, the Messenger of Allah". The people then took signet-rings of gold. When he saw that they had taken them (like his ring) he threw it away and said: I shall never wear it. He then fashioned a silver ring and engraved on it "Muhammad, the Messenger of Allah". Then Abu Bakr wore it after him, then 'Umar wore it after Abu Bakr, and the 'Uthman wore it after 'Umar till it fell down in a well called Aris. Abu Dawud said: The people did not disagree on 'Uthman till the signet-rin fell down from his hand
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی بنائی، اس کے نگینہ کو اپنی ہتھیلی کے پیٹ کی جانب رکھا اور اس میں «محمد رسول الله» کندہ کرایا، تو لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوا لیں، جب آپ نے انہیں سونے کی انگوٹھیاں پہنے دیکھا تو اسے پھینک دیا، اور فرمایا: اب میں کبھی اسے نہیں پہنوں گا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی جس میں «محمد رسول الله» کندہ کرایا، پھر آپ کے بعد وہی انگوٹھی ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پہنی، پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد عمر رضی اللہ عنہ نے پھر ان کے بعد عثمان رضی اللہ عنہ نے پہنی یہاں تک کہ وہ بئراریس میں گر پڑی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عثمان سے لوگوں کا اختلاف اس وقت تک نہیں ہوا جب تک انگوٹھی ان کے ہاتھ میں رہی ( جب وہ گر گئی تو پھر اختلافات اور فتنے رونما ہونے شروع ہو گئے ) ۔
Narrated by Hudhayfah ibn al-Yaman
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ سُبَيْعِ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ أَتَيْتُ الْكُوفَةَ فِي زَمَنِ فُتِحَتْ تُسْتَرُ أَجْلُبُ مِنْهَا بِغَالاً فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا صَدْعٌ مِنَ الرِّجَالِ وَإِذَا رَجُلٌ جَالِسٌ تَعْرِفُ إِذَا رَأَيْتَهُ أَنَّهُ مِنْ رِجَالِ أَهْلِ الْحِجَازِ قَالَ قُلْتُ مَنْ هَذَا فَتَجَهَّمَنِي الْقَوْمُ وَقَالُوا أَمَا تَعْرِفُ هَذَا هَذَا حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ حُذَيْفَةُ إِنَّ النَّاسَ كَانُوا يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْخَيْرِ وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ فَأَحْدَقَهُ الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ فَقَالَ إِنِّي قَدْ أَرَى الَّذِي تُنْكِرُونَ إِنِّي قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ هَذَا الْخَيْرَ الَّذِي أَعْطَانَا اللَّهُ أَيَكُونُ بَعْدَهُ شَرٌّ كَمَا كَانَ قَبْلَهُ قَالَ " نَعَمْ " . قُلْتُ فَمَا الْعِصْمَةُ مِنْ ذَلِكَ قَالَ " السَّيْفُ " . قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ثُمَّ مَاذَا يَكُونُ قَالَ " إِنْ كَانَ لِلَّهِ خَلِيفَةٌ فِي الأَرْضِ فَضَرَبَ ظَهْرَكَ وَأَخَذَ مَالَكَ فَأَطِعْهُ وَإِلاَّ فَمُتْ وَأَنْتَ عَاضٌّ بِجِذْلِ شَجَرَةٍ " . قُلْتُ ثُمَّ مَاذَا قَالَ " ثُمَّ يَخْرُجُ الدَّجَّالُ مَعَهُ نَهْرٌ وَنَارٌ فَمَنْ وَقَعَ فِي نَارِهِ وَجَبَ أَجْرُهُ وَحُطَّ وِزْرُهُ وَمَنْ وَقَعَ فِي نَهْرِهِ وَجَبَ وِزْرُهُ وَحُطَّ أَجْرُهُ " . قَالَ قُلْتُ ثُمَّ مَاذَا قَالَ " ثُمَّ هِيَ قِيَامُ السَّاعَةِ " .
Narrated Hudhayfah ibn al-Yaman: Subay' ibn Khalid said: I came to Kufah at the time when Tustar was conquered. I took some mules from it. When I entered the mosque (of Kufah), I found there some people of moderate stature, and among them was a man whom you could recognize when you saw him that he was from the people of Hijaz. I asked: Who is he? The people frowned at me and said: Do you not recognize him? This is Hudhayfah ibn al-Yaman, the companion of the Messenger of Allah (ﷺ). Then Hudhayfah said: People used to ask the Messenger of Allah (ﷺ) about good, and I used to ask him about evil. Then the people stared hard at him. He said: I know the reason why you dislike it. I then asked: Messenger of Allah, will there be evil as there was before, after this good which Allah has bestowed on us? He replied: Yes. I asked: Wherein does the protection from it lie? He replied: In the sword. I asked: Messenger of Allah, what will then happen? He replied: If Allah has on Earth a caliph who flays your back and takes your property, obey him, otherwise die holding onto the stump of a tree. I asked: What will come next? He replied: Then the Antichrist (Dajjal) will come forth accompanied by a river and fire. He who falls into his fire will certainly receive his reward, and have his load taken off him, but he who falls into his river will have his load retained and his reward taken off him. I then asked: What will come next? He said: The Last Hour will come
سبیع بن خالد کہتے ہیں کہ تستر فتح کئے جانے کے وقت میں کوفہ آیا، وہاں سے میں خچر لا رہا تھا، میں مسجد میں داخل ہوا تو دیکھا کہ چند درمیانہ قد و قامت کے لوگ ہیں، اور ایک اور شخص بیٹھا ہے جسے دیکھ کر ہی تم پہچان لیتے کہ یہ اہل حجاز میں کا ہے، میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ تو لوگ میرے ساتھ ترش روئی سے پیش آئے، اور کہنے لگے: کیا تم انہیں نہیں جانتے؟ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ ہیں، پھر حذیفہ نے کہا: لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے متعلق پوچھتے تھے، اور میں آپ سے شر کے بارے میں پوچھا کرتا تھا، تو لوگ انہیں غور سے دیکھنے لگے، انہوں نے کہا: جس پر تمہیں تعجب ہو رہا ہے وہ میں سمجھ رہا ہوں، پھر وہ کہنے لگے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے بتائیے کہ اس خیر کے بعد جسے اللہ نے ہمیں عطا کیا ہے کیا شر بھی ہو گا جیسے پہلے تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں میں نے عرض کیا: پھر اس سے بچاؤ کی کیا صورت ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تلوار ۱؎ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! پھر اس کے بعد کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اللہ کی طرف سے کوئی خلیفہ ( حاکم ) زمین پر ہو پھر وہ تمہاری پیٹھ پر کوڑے لگائے، اور تمہارا مال لوٹ لے جب بھی تم اس کی اطاعت کرو ورنہ تم درخت کی جڑ چبا چبا کر مر جاؤ ۲؎ میں نے عرض کیا: پھر کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر دجال ظاہر ہو گا، اس کے ساتھ نہر بھی ہو گی اور آگ بھی جو اس کی آگ میں داخل ہو گیا تو اس کا اجر ثابت ہو گیا، اور اس کے گناہ معاف ہو گئے، اور جو اس کی ( اطاعت کر کے ) نہر میں داخل ہو گیا تو اس کا گناہ واجب ہو گیا، اور اس کا اجر ختم ہو گیا میں نے عرض کیا: پھر کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر قیامت قائم ہو گی ۔
Narrated by Ali ibn AbuTalib
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا فِطْرٌ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي بَزَّةَ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ عَلِيٍّ، - رضى الله تعالى عنه - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدَّهْرِ إِلاَّ يَوْمٌ لَبَعَثَ اللَّهُ رَجُلاً مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يَمْلأُهَا عَدْلاً كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا " .
Narrated Ali ibn AbuTalib: The Prophet (ﷺ) said: If only one day of this time (world) remained, Allah would raise up a man from my family who would fill this earth with justice as it has been filled with oppression
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر زمانہ سے ایک ہی دن باقی رہ جائے گا تو بھی اللہ تعالیٰ میرے اہل بیت میں سے ایک شخص کھڑا بھیجے گا وہ اسے عدل و انصاف سے اس طرح بھر دے گا جیسے یہ ظلم و جور سے بھر دی گئی ہے ۔
Narrated by Mu'adh ibn Jabal
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ سُفْيَانَ الْغَسَّانِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ قُتَيْبٍ السَّكُونِيِّ، عَنْ أَبِي بَحْرِيَّةَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْمَلْحَمَةُ الْكُبْرَى وَفَتْحُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ وَخُرُوجُ الدَّجَّالِ فِي سَبْعَةِ أَشْهُرٍ " .
Narrated Mu'adh ibn Jabal: The Prophet (ﷺ) said: The greatest war, the conquest of Constantinople and the coming forth of the Dajjal (Antichrist) will take place within a period of seven months
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بڑی جنگ، قسطنطنیہ کی فتح اور دجال کا نکلنا تینوں چیزیں سات مہینے کے اندر ہوں گی ۔
Narrated by Mu'adh ibn Jabal
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا الْحِمَّانِيُّ، - يَعْنِي عَبْدَ الْحَمِيدِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ - عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، وَبُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ قَدِمَ عَلَىَّ مُعَاذٌ وَأَنَا بِالْيَمَنِ، وَرَجُلٌ، كَانَ يَهُودِيًّا فَأَسْلَمَ فَارْتَدَّ عَنِ الإِسْلاَمِ، فَلَمَّا قَدِمَ مُعَاذٌ قَالَ لاَ أَنْزِلُ عَنْ دَابَّتِي حَتَّى يُقْتَلَ . فَقُتِلَ . قَالَ أَحَدُهُمَا وَكَانَ قَدِ اسْتُتِيبَ قَبْلَ ذَلِكَ .
Narrated Mu'adh ibn Jabal: AbuMusa said: Mu'adh came to me when I was in the Yemen. A man who was Jew embraced Islam and then retreated from Islam. When Mu'adh came, he said: I will not come down from my mount until he is killed. He was then killed. One of them said: He was asked to repent before that
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے پاس معاذ رضی اللہ عنہ آئے، میں یمن میں تھا، ایک یہودی نے اسلام قبول کر لیا، پھر وہ اسلام سے مرتد ہو گیا، تو جب معاذ رضی اللہ عنہ آئے کہنے تو لگے: میں اس وقت تک اپنی سواری سے نہیں اتر سکتا جب تک وہ قتل نہ کر دیا جائے چنانچہ وہ قتل کر دیا گیا، اس سے پہلے اسے توبہ کے لیے کہا جا چکا تھا۔
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قُتِلَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَدَفَعَهُ إِلَى وَلِيِّ الْمَقْتُولِ فَقَالَ الْقَاتِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ قَتْلَهُ . قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِلْوَلِيِّ " أَمَا إِنَّهُ إِنْ كَانَ صَادِقًا ثُمَّ قَتَلْتَهُ دَخَلْتَ النَّارَ " . قَالَ فَخَلَّى سَبِيلَهُ . قَالَ وَكَانَ مَكْتُوفًا بِنِسْعَةٍ فَخَرَجَ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ فَسُمِّيَ ذَا النِّسْعَةِ .
Narrated AbuHurayrah: A man was killed in the lifetime of the Prophet (ﷺ). The matter was brought to the Prophet (ﷺ). He entrusted him to the legal guardian of the slain. The slayer said: Messenger of Allah, I swear by Allah, I did not intend to kill him. The Messenger of Allah (ﷺ) said to the legal guardian: Now if he is true and you kill him, you will enter Hell-fire. So he let him go. His hands were tied with a strap. He came out pulling his strap. Hence he was called Dhu an-Nis'ah (possessor of strap)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص قتل کر دیا گیا تو یہ مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں پیش کیا گیا، آپ نے اس ( قاتل ) کو مقتول کے وارث کے حوالے کر دیا، قاتل کہنے لگا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میرا ارادہ اسے قتل کرنے کا نہ تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وارث سے فرمایا: سنو! اگر یہ سچا ہے اور تم نے اسے قتل کر دیا، تو تم جہنم میں جاؤ گے یہ سن کر اس نے قاتل کو چھوڑ دیا، اس کے دونوں ہاتھ ایک تسمے سے بندھے ہوئے تھے، وہ اپنا تسمہ گھسیٹتا ہوا نکلا، تو اس کا نام ذوالنسعۃ یعنی تسمہ والا پڑ گیا۔
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ فَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ، - وَكَانَ قَائِدَ كَعْبٍ مِنْ بَنِيهِ حِينَ عَمِيَ - قَالَ سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، - وَذَكَرَ ابْنُ السَّرْحِ قِصَّةَ تَخَلُّفِهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ - قَالَ وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمُسْلِمِينَ عَنْ كَلاَمِنَا أَيُّهَا الثَّلاَثَةُ حَتَّى إِذَا طَالَ عَلَىَّ تَسَوَّرْتُ جِدَارَ حَائِطِ أَبِي قَتَادَةَ وَهُوَ ابْنُ عَمِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَوَاللَّهِ مَا رَدَّ عَلَىَّ السَّلاَمَ . ثُمَّ سَاقَ خَبَرَ تَنْزِيلِ تَوْبَتِهِ .
‘Abd Allah b. Ka`b b. Malik who used to lead his father from among his sons when he became blind, said:I heard Ka`b b. Malik - the transmitter Ibn al-Sarh then narrated the story of his remaining behind from the Prophet (ﷺ) during the campaign of Tabuk - say: The Messenger of Allah (ﷺ) forbade the Muslims to speak to any of us three. When (in this state) abundant time passed on me, I ascended the wall of the garden of Abu Qatadah who was my cousin. I saluted him, but, I swear by Allah, he did not return salute to me. He then narrated the story of the revelation of the Qur’anic verses relating to his repentance
عبداللہ بن کعب سے روایت ہے ( جب کعب رضی اللہ عنہ نابینا ہو گئے تو ان کے بیٹوں میں عبداللہ آپ کے قائد تھے ) وہ کہتے ہیں: میں نے کعب بن مالک سے سنا ( ابن السرح ان کے غزوہ تبوک میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ جانے کا واقعہ ذکر کر کے کہتے ہیں کہ کعب نے کہا ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ہم تینوں سے گفتگو کرنے سے منع فرما دیا یہاں تک کہ جب لمبا عرصہ ہو گیا تو میں ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے باغ کی دیوار کود کر ان کے پاس گیا، وہ میرے چچا زاد بھائی تھے، میں نے انہیں سلام کیا تو قسم اللہ کی! انہوں نے میرے سلام کا جواب نہیں دیا، پھر راوی نے ان کی توبہ کے نازل ہونے کا قصہ بیان کیا ۱؎۔
Narrated by Mu'adh ibn Anas
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ - عَنْ أَبِي مَرْحُومٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ كَظَمَ غَيْظًا - وَهُوَ قَادِرٌ عَلَى أَنْ يُنْفِذَهُ - دَعَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رُءُوسِ الْخَلاَئِقِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُخَيِّرَهُ اللَّهُ مِنَ الْحُورِ مَا شَاءَ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ اسْمُ أَبِي مَرْحُومٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَيْمُونٍ .
Narrated Mu'adh ibn Anas: The Messenger of Allah (ﷺ) said: If anyone suppresses anger when he is in a position to give vent to it, Allah, the Exalted, will call him on the Day of Resurrection over the heads of all creatures, and ask him to choose any of the bright and large eyed maidens he wishes. Abu Dawud said: The name of the transmitter Abu Marhum is 'Abd al-Rahman b. Maimun
معاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنا غصہ پی لیا حالانکہ وہ اسے نافذ کرنے پر قادر تھا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے سب لوگوں کے سامنے بلائے گا یہاں تک کہ اسے اللہ تعالیٰ اختیار دے گا کہ وہ بڑی آنکھ والی حوروں میں سے جسے چاہے چن لے ۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَمْرٍو، - يَعْنِي السَّدُوسِيَّ - حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، - هُوَ ابْنُ صُهَيْبٍ - عَنْ أَنَسٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ " . وَقَالَ شُعْبَةُ وَقَالَ مَرَّةً " أَعُوذُ بِاللَّهِ " .
Another tradition on the authority of Anas has:" O Allaah, I seek refuge in Thee." Shu'bah said: Anas sometimes reported the words: "I take refuge in Allah
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں «اللهم إني أعوذ بك» ہے، یعنی اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں ۔ شعبہ کا بیان ہے کہ عبدالعزیز نے ایک بار «أعوذ بالله» میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں کی بھی روایت کی ہے، اور وہیب نے عبدالعزیز بن صہیب سے جو روایت کی ہے اس میں «فليتعوذ بالله» چاہیئے کہ اللہ سے پناہ مانگے کے الفاظ ہیں۔