بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Abu Dawood
4
28 hadith
Narrated by Hudhayfah
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي الأَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ زَهْدَمٍ، قَالَ كُنَّا مَعَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ بِطَبَرِسْتَانَ فَقَامَ فَقَالَ أَيُّكُمْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلاَةَ الْخَوْفِ فَقَالَ حُذَيْفَةُ أَنَا فَصَلَّى بِهَؤُلاَءِ رَكْعَةً وَبِهَؤُلاَءِ رَكْعَةً وَلَمْ يَقْضُوا ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَكَذَا رَوَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَمُجَاهِدٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَيَزِيدُ الْفَقِيرُ وَأَبُو مُوسَى - قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَجُلٌ مِنَ التَّابِعِينَ لَيْسَ بِالأَشْعَرِيِّ - جَمِيعًا عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ قَالَ بَعْضُهُمْ فِي حَدِيثِ يَزِيدَ الْفَقِيرِ إِنَّهُمْ قَضَوْا رَكْعَةً أُخْرَى ‏.‏ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَكَذَلِكَ رَوَاهُ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَكَانَتْ لِلْقَوْمِ رَكْعَةً رَكْعَةً وَلِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم رَكْعَتَيْنِ ‏.‏
Narrated Hudhayfah: Tha'labah ibn Zahdam said: We accompanied Sa'd ibn al-'As at Tabaristan. He stood and said: Which of you prayed along with the Messenger of Allah (ﷺ) in time of danger? Hudhayfah said: I then he led one section in one rak'ah and the other section in one rak'ah. They did not pray the second rak'ah by themselves. Abu Dawud: This tradition has been transmitted by 'Ubaid Allah b. 'Abd Allah and Mujahid on the authority of Ibn 'Abbas from the Prophet (ﷺ) in like manner. This has also been narrated by 'Abd Allah b. Shaqiq from Abu Hurairah from the Prophet (ﷺ). Yazid al-Faqir and Abu Musa also narrated this tradition from Jabir from the Prophet (ﷺ). Some of the narrators said in the version narrated by Yazid al-Faqir that they completed their second rak'ah. This has also been narrated by Simak al-Hanafi on the authority of Ibn 'Umar from the Prophet (ﷺ) something similar. Zaid b. Thabit also narrated from the Prophet (ﷺ) in like manner. This version adds: The people prayed on rak'ah and the Prophet (ﷺ) prayed two rak'ahs
ثعلبہ بن زہدم کہتے ہیں کہ ہم لوگ سعید بن عاص کے ساتھ طبرستان میں تھے، وہ کھڑے ہوئے اور پوچھا: تم میں کس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز خوف ادا کی ہے؟ تو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے ( پھر حذیفہ نے ایک گروہ کو ایک رکعت پڑھائی، اور دوسرے کو ایک رکعت ) اور ان لوگوں نے ( دوسری رکعت کی ) قضاء نہیں کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسی طرح اسے عبیداللہ بن عبداللہ اور مجاہد نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ابن عباس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور عبداللہ بن شفیق نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور ابوہریرہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے، اور یزید فقیر اور ابوموسیٰ نے جابر رضی اللہ عنہ سے اور جابر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوموسیٰ تابعی ہیں، ابوموسیٰ اشعری نہیں ہیں۔ یزید الفقیر کی روایت میں بعض راویوں نے شعبہ سے یوں روایت کی ہے کہ انہوں نے دوسری رکعت قضاء کی تھی۔ اسی طرح اسے سماک حنفی نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور ابن عمر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ نیز اسی طرح اسے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، اس میں ہے: لوگوں کی ایک ایک رکعت ہوئی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعتیں ہوئیں۔
Narrated by Abdullah ibn Amr
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُفْيَانَ الأُبُلِّيُّ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلاَلٍ أَبُو حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، قَالَ حَدَّثَنِي رَجُلٌ، كَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ يُرَوْنَ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ ائْتِنِي غَدًا أَحْبُوكَ وَأُثِيبُكَ وَأُعْطِيكَ ‏"‏ ‏.‏ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ يُعْطِينِي عَطِيَّةً قَالَ ‏"‏ إِذَا زَالَ النَّهَارُ فَقُمْ فَصَلِّ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ ‏"‏ ‏.‏ فَذَكَرَ نَحْوَهُ قَالَ ‏"‏ تَرْفَعُ رَأْسَكَ - يَعْنِي مِنَ السَّجْدَةِ الثَّانِيَةِ - فَاسْتَوِ جَالِسًا وَلاَ تَقُمْ حَتَّى تُسَبِّحَ عَشْرًا وَتَحْمَدَ عَشْرًا وَتُكَبِّرَ عَشْرًا وَتُهَلِّلَ عَشْرًا ثُمَّ تَصْنَعُ ذَلِكَ فِي الأَرْبَعِ رَكَعَاتٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّكَ لَوْ كُنْتَ أَعْظَمَ أَهْلِ الأَرْضِ ذَنْبًا غُفِرَ لَكَ بِذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ أُصَلِّيَهَا تِلْكَ السَّاعَةَ قَالَ ‏"‏ صَلِّهَا مِنَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ حَبَّانُ بْنُ هِلاَلٍ خَالُ هِلاَلٍ الرَّائِيِّ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ الْمُسْتَمِرُّ بْنُ الرَّيَّانِ عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو مَوْقُوفًا وَرَوَاهُ رَوْحُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَجَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ النُّكْرِيِّ عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلُهُ وَقَالَ فِي حَدِيثِ رَوْحٍ فَقَالَ حَدِيثُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Amr: AbulJawza' said: A man who attended the company of the Prophet (ﷺ) narrated to me (it is thought that he was Abdullah ibn Amr): The Prophet (ﷺ) said to me: Come to me tomorrow; I shall give you something, I shall give you something, I shall reward you something, I shall donate something to you. I thought that he would give me some present. He said (to me when I came to him): When the day declines, stand up and pray four rak'ahs. He then narrated something similar. This version adds: Do not stand until you glorify Allah ten times, and praise Him ten times, and exalt Him ten times, and say, "There is no god but Allah" ten times. Then you should do that in four rak'ahs. If you are the greatest sinner on earth, you will be forgiven (by Allah) on account of this (prayer). I asked: If I cannot pray this the appointed hour, (what should I do)? He replied: Pray that by night or by day (at any time). Abu Dawud said: Habban b. Hilal is the maternal uncle of Hilal al-Ra'i. Abu Dawud said: This tradition has been narrated by al-Mustamir b. al-Riyyan from Ibn al-Jawza' from 'Abd Allah b. 'Amr without referring to the Prophet (ﷺ), - narrated as a statement of 'Abd Allah b. 'Amr himself (mauquf). This has also been narrated by Rawh b. al-Musayyab, and Ja'far b. Sulaiman from 'Amr b. Malik al-Nakri from Abu al-Jauza' from Ibn 'Abbas as his own statement (and not the statement of the Prophet). But the version of Rawh has the words: "The tradition of the Prophet (ﷺ)
ابوالجوزاء کہتے ہیں کہ مجھ سے ایک ایسے شخص نے جسے شرف صحبت حاصل تھا حدیث بیان کی ہے لوگوں کا خیال ہے کہ وہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما تھے، انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کل تم میرے پاس آنا، میں تمہیں دوں گا، عنایت کروں گا اور نوازوں گا ، میں سمجھا کہ آپ مجھے کوئی عطیہ عنایت فرمائیں گے ( جب میں کل پہنچا تو ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب سورج ڈھل جائے تو کھڑے ہو جاؤ اور چار رکعت نماز ادا کرو ، پھر ویسے ہی بیان کیا جیسے اوپر والی حدیث میں گزرا ہے، البتہ اس میں یہ بھی ہے کہ: پھر تم سر اٹھاؤ یعنی دوسرے سجدے سے تو اچھی طرح بیٹھ جاؤ اور کھڑے مت ہو یہاں تک کہ دس دس بار تسبیح و تحمید اور تکبیر و تہلیل کر لو پھر یہ عمل چاروں رکعتوں میں کرو ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اہل زمین میں سب سے بڑے گنہگار ہو گے تو بھی اس عمل سے تمہارے گناہوں کی بخشش ہو جائے گی ، میں نے عرض کیا: اگر میں اس وقت یہ نماز ادا نہ کر سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو رات یا دن میں کسی وقت ادا کر لو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حبان بن ہلال: ہلال الرای کے ماموں ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے مستمر بن ریان نے ابوالجوزاء سے انہوں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔ نیز اسے روح بن مسیب اور جعفر بن سلیمان نے عمرو بن مالک نکری سے، عمرو نے ابوالجوزاء سے ابوالجوزاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی موقوفاً روایت کیا ہے، البتہ راوی نے روح کی روایت میں «فقال حديث عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم» ( تو ابن عباس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کی ) کے جملے کا اضافہ کیا ہے۔
Narrated by Abdullah ibn Amr ibn al-'As
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ اقْرَأْ وَارْتَقِ وَرَتِّلْ كَمَا كُنْتَ تُرَتِّلُ فِي الدُّنْيَا فَإِنَّ مَنْزِلَكَ عِنْدَ آخِرِ آيَةٍ تَقْرَؤُهَا ‏"‏ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-'As: The Messenger of Allah (ﷺ) said: One who was devoted to the Qur'an will be told to recite, ascend and recite carefully as he recited carefully when he was in the world, for he will reach his abode when he comes to the last verse he recites
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صاحب قرآن ( حافظ قرآن یا ناظرہ خواں ) سے کہا جائے گا: پڑھتے جاؤ اور چڑھتے جاؤ اور عمدگی کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کر پڑھو جیسا کہ تم دنیا میں عمدگی سے پڑھتے تھے، تمہاری منزل وہاں ہے، جہاں تم آخری آیت پڑھ کر قرآت ختم کرو گے ۲؎ ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ التَّمَّارِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَسَعِيدٌ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَتَّابٍ شَيْئًا ‏.‏
The Above-mentioned tradition has also been narrated by Ibn Shihab through a different chain of narrators to the same effects
ابن شہاب سے اس سند سے بھی اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: سعید نے عتاب سے کچھ نہیں سنا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، - يَعْنِي ابْنَ عُيَيْنَةَ - عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ، - رضى الله عنه - قَالَ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ أَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ وَأَقْسِمَ جُلُودَهَا وَجِلاَلَهَا وَأَمَرَنِي أَنْ لاَ أُعْطِيَ الْجَزَّارَ مِنْهَا شَيْئًا وَقَالَ ‏ "‏ نَحْنُ نُعْطِيهِ مِنْ عِنْدِنَا ‏"‏ ‏.‏
Ali said :The Messenger of Allah (SWAS) commanded me to take charge of (his) sacrificial camels and to distribute the skins and saddle clothes (after sacrifice) as sadaqah. He commanded me not to give anything from it to the butcher. He said we used to give it (the wages) to the butcher ourselves
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کے ہدی کے اونٹوں کے پاس کھڑا ہو کر ان کی کھالیں اور جھولیں تقسیم کروں اور مجھے حکم دیا کہ اس میں سے قصاب کو کچھ بھی نہ دوں اور فرمایا: اسے ہم اپنے پاس سے ( اجرت ) دیں گے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، بِهَذَا الْحَدِيثِ بِإِسْنَادِهِ زَادَ فِيهِ قَالَ ‏"‏ فَإِنْ بَكَتْ أَوْ سَكَتَتْ ‏"‏ ‏.‏ زَادَ ‏"‏ بَكَتْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَلَيْسَ ‏"‏ بَكَتْ ‏"‏ ‏.‏ بِمَحْفُوظٍ وَهُوَ وَهَمٌ فِي الْحَدِيثِ الْوَهَمُ مِنِ ابْنِ إِدْرِيسَ أَوْ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَلاَءِ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَاهُ أَبُو عَمْرٍو ذَكْوَانُ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْبِكْرَ تَسْتَحِي أَنْ تَتَكَلَّمَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ سُكَاتُهَا إِقْرَارُهَا ‏"‏ ‏.‏
The aforesaid tradition has also been transmitted through a different chain of narrators by Muhammad bin ‘Amr. This version adds “If she weeps or keeps silence”. The narrator added the word “weeps”. Abu Dawud said:The word "weeps" is not guarded. This is a misunderstanding of the tradition on the part of the narrator Ibn Idris or Muhammad b. al-'Ata. Abu Dawud said: This tradition has also been narrated by Abu 'Amr Dhakwan on the authority of 'Aishah who said: A virgin is ashamed of speaking, Messenger of Allah. He said: Her silence is her acceptance
اس سند سے بھی محمد بن عمرو سے اسی طریق سے یہی حدیث یوں مروی ہے اس میں «فإن بكت أو سكتت» اگر وہ رو پڑے یا چپ رہے یعنی «بكت» ( رو پڑے ) کا اضافہ ہے، ابوداؤد کہتے ہیں «بكت» ( رو پڑے ) کی زیادتی محفوظ نہیں ہے یہ حدیث میں وہم ہے اور یہ وہم ابن ادریس کی طرف سے ہے یا محمد بن علاء کی طرف سے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابوعمرو ذکوان نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے اس میں ہے انہوں نے کہا اللہ کے رسول! باکرہ تو بولنے سے شرمائے گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی خاموشی ہی اس کی رضا مندی ہے ۔
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ وَلَمْ يَذْكُرِ السَّاقَ ‏.‏
A similar tradition has been transmitted by Ibn ‘Abbas from the Prophet (ﷺ) through a different chain of narrators. This version does not mention the word “shin”
اس سند سے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً اسی طرح روایت ہے لیکن اس میں پنڈلی کا ذکر نہیں ہے۔
Narrated by Abu Sa'id al-Khudri
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّ بَكْرَ بْنَ مُضَرَ، حَدَّثَهُمْ عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ لاَ تُوَاصِلُوا فَأَيُّكُمْ أَرَادَ أَنْ يُوَاصِلَ فَلْيُوَاصِلْ حَتَّى السَّحَرِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنِّي لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ إِنَّ لِي مُطْعِمًا يُطْعِمُنِي وَسَاقِيًا يَسْقِينِي ‏"‏ ‏.‏
Narrated Abu Sa'id al-Khudri:The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: Do not observe perpetual fasting. If any of you wants to observe perpetual fast, he should observe it until the dawn. They (the people) asked: You observe perpetual fast ? He replied: My position is not like that of yours. There is One Who gives me to eat, and there is One who gives me to drink
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: تم صوم وصال نہ رکھو، اگر تم میں سے کوئی صوم وصال رکھنا چاہے تو سحری کے وقت تک رکھے ۔ لوگوں نے کہا: آپ تو رکھتے ہیں؟ فرمایا: میں تمہاری طرح نہیں ہوں، کیونکہ مجھے کھلانے پلانے والا کھلاتا پلاتا رہتا ہے ۔
Narrated by AbuAyyub al-Ansari
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا ح، وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، - الْمَعْنَى وَأَنَا لِحَدِيثِهِ، أَتْقَنُ - عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، ‏:‏ سُلَيْمَانَ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ الطَّائِيِّ، عَنِ ابْنِ أَخِي أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏:‏ ‏ "‏ سَتُفْتَحُ عَلَيْكُمُ الأَمْصَارُ، وَسَتَكُونُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ تُقْطَعُ عَلَيْكُمْ فِيهَا بُعُوثٌ فَيَكْرَهُ الرَّجُلُ مِنْكُمُ الْبَعْثَ فِيهَا فَيَتَخَلَّصُ مِنْ قَوْمِهِ ثُمَّ يَتَصَفَّحُ الْقَبَائِلَ يَعْرِضُ نَفْسَهُ عَلَيْهِمْ يَقُولُ ‏:‏ مَنْ أَكْفِيهِ بَعْثَ كَذَا، مَنْ أَكْفِيهِ بَعْثَ كَذَا أَلاَ وَذَلِكَ الأَجِيرُ إِلَى آخِرِ قَطْرَةٍ مِنْ دَمِهِ ‏"‏ ‏.‏
Narrated AbuAyyub al-Ansari: AbuAyyub heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Capitals will be conquered at your hands, and you will have to raise companies in large armies. A man will be unwilling to join a company, so he will escape from his people and go round the tribes offering himself to them, saying: Whose place may I take in such and such expedition? Whose place may I take in such and such expedition? Beware: That man is a hireling to the last drop of his blood
ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: عنقریب تم پر شہر کے شہر فتح کئے جائیں گے اور عنقریب ایک بھاری لشکر ہو گا اور اسی میں سے تم پر ٹکڑیاں متعین کی جائیں گی، تو تم میں سے جو شخص اس میں بغیر اجرت کے بھیجے جانے کو ناپسند کرے اور ( جہاد میں جانے سے بچنے کے لیے ) اپنی قوم سے علیحدہ ہو جائے، پھر قبیلوں کو تلاش کرتا پھرے اور اپنے آپ کو ان پر پیش کرے اور کہے کہ: کون مجھے بطور مزدور رکھے گا کہ میں اس کے لشکر میں کام کروں اور وہ میرا خرچ برداشت کرے؟ کون مجھے بطور مزدور رکھے گا کہ میں اس کے لشکر میں کام کروں اور وہ میرا خرچ برداشت کرے؟ خبردار وہ اپنے خون کے آخری قطرہ تک مزدور ہی رہے گا ۔
Narrated by Umm Kurz
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ عَنِ الْغُلاَمِ شَاتَانِ مِثْلاَنِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا هُوَ الْحَدِيثُ وَحَدِيثُ سُفْيَانَ وَهَمٌ ‏.‏
Narrated Umm Kurz: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Two sheep which resemble each other are to be sacrificed for a boy and one for a girl. Abu Dawud said: This is a sound tradition, and the tradition narrated by Sufyan is misunderstanding
ام کرز رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( عقیقے میں ) لڑکے کی طرف سے برابر کی دو بکریاں ہیں، اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہی دراصل حدیث ہے، اور سفیان کی حدیث ( نمبر: ۲۸۳۵ ) وہم ہے ۱؎۔
Narrated by Aishah
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ إِنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَرَدْنَ أَنْ يَبْعَثْنَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ فَيَسْأَلْنَهُ ثُمُنَهُنَّ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ لَهُنَّ عَائِشَةُ أَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَا فَهُوَ صَدَقَةٌ ‏"‏ ‏.‏
Narrated 'Aishah:When the Messenger of Allah (ﷺ) died, the wives of the Prophet (ﷺ) intended to send 'Uthman b. 'Affan to Abu Bakr to ask him their cost of living from (the inheritance of) the Prophet (ﷺ). Thereupon 'Aishah said: Did not the Messenger of Allah (ﷺ) say: We are not inherited. Whatever we leave is sadaqah
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تو امہات المؤمنین نے ارادہ کیا کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث سے اپنا آٹھواں حصہ طلب کریں، تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سب سے کہا ( کیا تمہیں یاد نہیں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا ہے، ہم جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے ۔
Narrated by Anas ibn Malik
حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَرَّ بِحَمْزَةَ وَقَدْ مُثِّلَ بِهِ وَلَمْ يُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنَ الشُّهَدَاءِ غَيْرِهِ ‏.‏
Narrated Anas ibn Malik: The Prophet (ﷺ) passed by Hamzah who was disfigured (after being killed). He did not offer prayer over any martyr except him
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، دیکھا کہ ان کا مثلہ کر دیا گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے علاوہ کسی اور کی نماز جنازہ نہیں پڑھی ۱؎۔
Narrated by Aisha, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏:‏ ‏ "‏ لاَ نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ، وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: The Prophet (ﷺ) as saying: No vow must be taken to do an act of disobedience, and the atonement for it is the same as for an oath
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معصیت کی نذر نہیں ہے ( یعنی اس کا پورا کرنا جائز نہیں ہے ) اور اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے ۔
Narrated by Jabir ibn Abdullah
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حُمَيْدٍ الأَعْرَجِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعِ السِّنِينَ وَوَضَعَ الْجَوَائِحَ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ لَمْ يَصِحَّ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الثُّلُثِ شَىْءٌ وَهُوَ رَأْىُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ‏.‏
Narrated Jabir ibn Abdullah: The Prophet (ﷺ) forbade selling fruits years ahead, and commanded that unforeseen loss be remitted in respect of what is affected by blight. Abu Dawud said: The attribution of the tradition regarding the effect of blight is one-third of the produce to the Prophet (ﷺ) is not correct. This is the opinion of the people of Medina
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی سالوں کے لیے پھل بیچنے سے روکا ہے، اور آفات سے پہنچنے والے نقصانات کا خاتمہ کر دیا ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثلث کے سلسلے میں کوئی صحیح چیز ثابت نہیں ہے اور یہ اہل مدینہ کی رائے ہے ۲؎۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدٌ، أَوْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُجَالِدٍ قَالَ اخْتَلَفَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ وَأَبُو بُرْدَةَ فِي السَّلَفِ فَبَعَثُونِي إِلَى ابْنِ أَبِي أَوْفَى فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ إِنْ كُنَّا نُسْلِفُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فِي الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ - زَادَ ابْنُ كَثِيرٍ - إِلَى قَوْمٍ مَا هُوَ عِنْدَهُمْ ‏.‏ ثُمَّ اتَّفَقَا وَسَأَلْتُ ابْنَ أَبْزَى فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ ‏.‏
Muhammad or 'Abd Allah b. Mujahid said:'Abd Allah b. Shaddad and Abu Burdah disputed over salaf (payment in advance). They sent me to Ibn Abi Awfa and I asked him (about it) and he replied: We used to pay in advance (salaf) during the time of the Messenger of Allah (ﷺ), Abu Bakr and 'Umar in wheat, barley, dates and raisins. Ibn Kathir added: "to those people who did not possess these things." The agreed version then goes: I then asked Ibn Abza who gave a similar reply
محمد یا عبداللہ بن مجالد کہتے ہیں کہ عبداللہ بن شداد اور ابوبردہ رضی اللہ عنہما میں بیع سلف کے سلسلہ میں اختلاف ہوا تو لوگوں نے ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کے پاس مجھے یہ مسئلہ پوچھنے کے لیے بھیجا، میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے زمانہ میں گیہوں، جو، کھجور اور انگور خریدنے میں سلف کیا کرتے تھے، اور ان لوگوں سے ( کرتے تھے ) جن کے پاس یہ میوے نہ ہوتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ كَتَبَ إِلَىَّ ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَضَى بِالْيَمِينِ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ ‏.‏
Ibn Abi Mulaikah said:Ibn ‘Abbas wrote to me that the Messenger of Allah (ﷺ)had defendant should take an oath
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے میرے پاس لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدعی علیہ پر قسم کا فیصلہ کیا ہے ( یعنی جب وہ منکر ہو اور مدعی کے پاس گواہ نہ ہو تو وہ قسم کھائے ) ۔
Narrated by Anas ibn Malik
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى أَنْ يَشْرَبَ الرَّجُلُ قَائِمًا ‏.‏
Narrated Anas ibn Malik: The Prophet (ﷺ) forbade that a man should drink while standing
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ آدمی کھڑے ہو کر کچھ پیئے۔
Narrated by Qabisah ibn Halb
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنِي قَبِيصَةُ بْنُ هُلْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ إِنَّ مِنَ الطَّعَامِ طَعَامًا أَتَحَرَّجُ مِنْهُ ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ لاَ يَتَخَلَّجَنَّ فِي صَدْرِكَ شَىْءٌ ضَارَعْتَ فِيهِ النَّصْرَانِيَّةَ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Qabisah ibn Halb: A man asked the Messenger of Allah (ﷺ): Is there any food from which I should keep myself away? I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Anything which creates doubt should not occur in your mind by which you resemble Christianity
ہلب طائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا اور آپ سے ایک شخص نے پوچھا: کھانے کی چیزوں میں بعض ایسی چیزیں بھی ہوتی ہیں جن کے کھانے میں میں حرج محسوس کرتا ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے دل میں کوئی شبہ نہ آنے دو ( اگر اس کے سلسلہ میں تم نے شک کیا اور اپنے اوپر سختی کی تو ) تم نے اس میں نصرانیت کے مشابہت کی ۔
Narrated by Aisha, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ سَيَّارٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها قَالَتْ أَرَادَتْ أُمِّي أَنْ تُسَمِّنِّي لِدُخُولِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ أَقْبَلْ عَلَيْهَا بِشَىْءٍ مِمَّا تُرِيدُ حَتَّى أَطْعَمَتْنِي الْقِثَّاءَ بِالرُّطَبِ فَسَمِنْتُ عَلَيْهِ كَأَحْسَنِ السِّمَنِ ‏.‏
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: My mother intended to make me gain weight to send me to the (house of) the Messenger of Allah (ﷺ). But nothing which she desired benefited me till she gave me cucumber with fresh dates to eat. Then I gained as much weight (as she desired)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میری والدہ نے چاہا کہ میں قدرے موٹی ہو جاؤں تاکہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر بھیجا جا سکے۔ مگر مجھے ان کی حسب منشا کسی چیز سے فائدہ نہ ہوا حتیٰ کہ انہوں نے مجھے ککڑی اور کھجور ملا کر کھلائی تو اس سے میں خوب موٹی ہو گئی۔
Narrated by Abdullah ibn Amr ibn al-'As
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ شُفْعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - قَالَ أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ أُرَاهُ - وَعَلَىَّ ثَوْبٌ مَصْبُوغٌ بِعُصْفُرٍ مُوَرَّدٍ فَقَالَ ‏"‏ مَا هَذَا ‏"‏ ‏.‏ فَانْطَلَقْتُ فَأَحْرَقْتُهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا صَنَعْتَ بِثَوْبِكَ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ أَحْرَقْتُهُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَفَلاَ كَسَوْتَهُ بَعْضَ أَهْلِكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ ثَوْرٌ عَنْ خَالِدٍ فَقَالَ مُوَرَّدٌ وَطَاوُسٌ قَالَ مُعَصْفَرٌ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-'As: The Messenger of Allah (ﷺ) saw me. The version of AbuAli al-Lula' has: I think I wore a garment dyed with a reddish yellow colour. He asked: What is this? So I went and burnt it. The Prophet (ﷺ) said: What have you done with your garment? I replied: I burnt it. He said: Why did you not give it to one of your women to wear? Abu Dawud said: Thawr transmitted it from Khalid and said: "Pink (muwarrad)" while Tawus said: "Reddish yellow colour (mu'asfar)
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا، اس وقت میں گلابی کسم سے رنگا ہوا کپڑا پہنے تھا آپ نے ( ناگواری کے انداز میں ) فرمایا: یہ کیا ہے؟ تو میں نے جا کر اسے جلا دیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: تم نے اپنے کپڑے کے ساتھ کیا کیا؟ تو میں نے عرض کیا: میں نے اسے جلا دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی کسی گھر والی کو کیوں نہیں پہنا دیا؟ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ثور نے خالد سے مورد ( گلابی رنگ میں رنگا ہوا کپڑا ) اور طاؤس نے«معصفر» ( کسم میں رنگا ہوا کپڑا ) روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبْجَرَ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، فِي هَذَا الْخَبَرِ قَالَ فَقَالَ لَهُ أَبِي أَرِنِي هَذَا الَّذِي بِظَهْرِكَ فَإِنِّي رَجُلٌ طَبِيبٌ ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ اللَّهُ الطَّبِيبُ بَلْ أَنْتَ رَجُلٌ رَفِيقٌ طَبِيبُهَا الَّذِي خَلَقَهَا ‏"‏ ‏.‏
This version adds (to the previous hadith No 4194):My father said to him (the Prophet): Show me what is on your back, for I am a physician. He (the Prophet) said: You are only a soother. Its physician is He Who has created it
اس سند سے ابورمثہ رضی اللہ عنہ سے اس حدیث میں مروی ہے کہ میرے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے آپ اپنی وہ چیز دکھائیں جو آپ کی پشت پر ہے کیونکہ میں طبیب ہوں، آپ نے فرمایا: طبیب تو اللہ ہے، بلکہ تو رفیق ہے ( مریض کو تسکین اور دلاسے دیتا ہے ) طبیب تو وہی ہے جس نے اسے پیدا کیا ہے ۔
Narrated by Jabir ibn Abdullah
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، - أَظُنُّهُ - عَنِ ابْنِ جَرِيرٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَا مِنْ رَجُلٍ يَكُونُ فِي قَوْمٍ يُعْمَلُ فِيهِمْ بِالْمَعَاصِي يَقْدِرُونَ عَلَى أَنْ يُغَيِّرُوا عَلَيْهِ فَلاَ يُغَيِّرُوا إِلاَّ أَصَابَهُمُ اللَّهُ بِعَذَابٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَمُوتُوا ‏"‏ ‏.‏
Narrated Jabir ibn Abdullah: The Prophet (ﷺ) said: If any man is among a people in whose midst he does acts of disobedience, and, though they are able to make him change (his acts), they do not change, Allah will smite them with punishment before they die
جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو آدمی کسی ایسی قوم میں ہو جس میں گناہ کے کام کئے جاتے ہوں اور وہ اسے روکنے پر قدرت رکھتا ہو اور نہ روکے تو اللہ اسے مرنے سے پہلے ضرور کسی نہ کسی عذاب میں مبتلا کر دیتا ہے ۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، فِي هَذَا الْخَبَرِ قَالَ فَقَالَ ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ قَبَضَ أَرْوَاحَكُمْ حَيْثُ شَاءَ وَرَدَّهَا حَيْثُ شَاءَ قُمْ فَأَذِّنْ بِالصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَامُوا فَتَطَهَّرُوا حَتَّى إِذَا ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ قَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّى بِالنَّاسِ ‏.‏
This tradition has also been reported by Abu Qatadah through a different chain of narrators. He said (that the Prophet (ﷺ) said):"Allah takes your souls as He wishes, and returns them as He wishes. Stand up and call the Adhan to prayer." They (the Companions) stood and performed ablution. When the sun rose high, the Prophet (ﷺ) stood and led the people in prayer
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے اس حدیث میں یوں مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہاری روحوں کو جب تک چاہا روکے رکھا، اور جب چاہا انہیں چھوڑ دیا، تم اٹھو اور نماز کے لیے اذان دو ، چنانچہ سب اٹھے اور سب نے وضو کیا یہاں تک کہ جب سورج چڑھ گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔
Narrated by Ali ibn AbuTalib
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أُتِيَ عُمَرُ بِمَجْنُونَةٍ قَدْ زَنَتْ فَاسْتَشَارَ فِيهَا أُنَاسًا فَأَمَرَ بِهَا عُمَرُ أَنْ تُرْجَمَ فَمُرَّ بِهَا عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَقَالَ مَا شَأْنُ هَذِهِ قَالُوا مَجْنُونَةُ بَنِي فُلاَنٍ زَنَتْ فَأَمَرَ بِهَا عُمَرُ أَنْ تُرْجَمَ ‏.‏ قَالَ فَقَالَ ارْجِعُوا بِهَا ثُمَّ أَتَاهُ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْقَلَمَ قَدْ رُفِعَ عَنْ ثَلاَثَةٍ عَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يَبْرَأَ وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَعْقِلَ قَالَ بَلَى ‏.‏ قَالَ فَمَا بَالُ هَذِهِ تُرْجَمُ قَالَ لاَ شَىْءَ ‏.‏ قَالَ فَأَرْسِلْهَا ‏.‏ قَالَ فَأَرْسَلَهَا ‏.‏ قَالَ فَجَعَلَ يُكَبِّرُ ‏.‏
Narrated Ali ibn AbuTalib: Ibn Abbas said: A lunatic woman who had committed adultery was brought to Umar. He consulted the people and ordered that she should be stoned. Ali ibn AbuTalib passed by and said: What is the matter with this (woman)? They said: This is a lunatic woman belonging to a certain family. She has committed adultery. Umar has given orders that she should be stoned. He said: Take her back. He then came to him and said: Commander of the Faithful, do you not know that there are three people whose actions are not recorded: a lunatic till he is restored to reason, a sleeper till he awakes, and a boy till he reaches puberty? He said: Yes. He then asked: Why is it that this woman is being stoned? He said: There is nothing. He then said: Let her go. He (Umar) let her go and began to utter: Allah is most great
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک پاگل عورت لائی گئی جس نے زنا کا ارتکاب کیا تھا، آپ نے اس کے سلسلہ میں کچھ لوگوں سے مشورہ کیا، پھر آپ نے اسے رجم کئے جانے کا حکم دے دیا، تو اسے لے کر لوگ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو انہوں نے لوگوں سے پوچھا: کیا معاملہ ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ ایک پاگل عورت ہے جس نے زنا کا ارتکاب کیا ہے، عمر نے اسے رجم کئے جانے کا حکم دیا ہے، تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اسے واپس لے چلو، پھر وہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: امیر المؤمنین! کیا آپ کو یہ معلوم نہیں کہ قلم تین شخصوں سے اٹھا لیا گیا ہے: دیوانہ سے یہاں تک کہ اسے عقل آ جائے، سوئے ہوئے سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے، اور بچہ سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے، کہا: کیوں نہیں؟ ضرور معلوم ہے، تو بولے: پھر یہ کیوں رجم کی جا رہی ہے؟ بولے: کوئی بات نہیں، تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر اسے چھوڑیئے، تو انہوں نے اسے چھوڑ دیا، اور لگے اللہ اکبر کہنے ۱؎۔
Narrated by Amr b. Suh'aib
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ كَانَتْ قِيمَةُ الدِّيَةِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثَمَانَمِائَةِ دِينَارٍ أَوْ ثَمَانِيَةَ آلاَفِ دِرْهَمٍ وَدِيَةُ أَهْلِ الْكِتَابِ يَوْمَئِذٍ النِّصْفُ مِنْ دِيَةِ الْمُسْلِمِينَ قَالَ فَكَانَ ذَلِكَ كَذَلِكَ حَتَّى اسْتُخْلِفَ عُمَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ فَقَامَ خَطِيبًا فَقَالَ أَلاَ إِنَّ الإِبِلَ قَدْ غَلَتْ ‏.‏ قَالَ فَفَرَضَهَا عُمَرُ عَلَى أَهْلِ الذَّهَبِ أَلْفَ دِينَارٍ وَعَلَى أَهْلِ الْوَرِقِ اثْنَىْ عَشَرَ أَلْفًا وَعَلَى أَهْلِ الْبَقَرِ مِائَتَىْ بَقَرَةٍ وَعَلَى أَهْلِ الشَّاءِ أَلْفَىْ شَاةٍ وَعَلَى أَهْلِ الْحُلَلِ مِائَتَىْ حُلَّةٍ ‏.‏ قَالَ وَتَرَكَ دِيَةَ أَهْلِ الذِّمَّةِ لَمْ يَرْفَعْهَا فِيمَا رَفَعَ مِنَ الدِّيَةِ ‏.‏
Narrated 'Amr b. Suh'aib: On his father's authority, said that his grandfather reported that the value of the blood-money at the time of the Messenger of Allah (ﷺ) was eight hundred dinars or eight thousand dirhams, and the blood-money for the people of the Book was half of that for Muslims. He said: This applied till Umar (Allah be pleased with him) became caliph and he made a speech in which he said: Take note! Camels have become dear. So Umar fixed the value for those who possessed gold at one thousand dinars, for those who possessed silver at twelve thousand (dirhams), for those who possessed cattle at two hundred cows, for those who possessed sheep at two thousand sheep, and for those who possessed suits of clothing at two hundred suits. He left the blood-money for dhimmis (protected people) as it was, not raising it in proportion to the increase he made in the blood-wit
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دیت کی قیمت ۱؎ آٹھ سو دینار، یا آٹھ ہزار درہم تھی، اور اہل کتاب کی دیت اس وقت مسلمانوں کی دیت کی آدھی تھی، پھر اسی طرح حکم چلتا رہا، یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو آپ نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا، اور فرمایا: سنو، اونٹوں کی قیمت بڑھ گئی ہے، تو عمر رضی اللہ عنہ نے سونے والوں پر ایک ہزار دینار، اور چاندی والوں پر بارہ ہزار ( درہم ) دیت ٹھہرائی، اور گائے بیل والوں پر دو سو گائیں، اور بکری والوں پر دو ہزار بکریاں، اور کپڑے والوں پر دو سو جوڑوں کی دیت مقرر کی، اور ذمیوں کی دیت چھوڑ دی، ان کی دیت میں ( مسلمانوں کی دیت کی طرح ) اضافہ نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ الأَعْمَشِ، قَالَ سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ، يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ هَذِهِ الْحَمْرَاءُ هَبْرٌ هَبْرٌ أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ قَرَعْتُ عَصًا بِعَصًا لأَذَرَنَّهُمْ كَالأَمْسِ الذَّاهِبِ يَعْنِي الْمَوَالِي ‏.‏
Al-A’mash said:These clients (i.e., non-Arabs) are to be struck and cut off. I swear by Allah, if I strike a stick with a stick, I would annihilate them like the day that passed away. Al-hamra means clients or non-Arabs
اعمش کہتے ہیں کہ میں نے حجاج کو منبر پر کہتے سنا: یہ گورے ( عجمی ) قیمہ بنائے جانے کے قابل ہیں قیمہ، موالی ( غلامو ) سنو، اللہ کی قسم، اگر میں لکڑی پر لکڑی ماروں تو انہیں اسی طرح برباد کر کے رکھ دوں جس طرح گزرا ہوا کل ختم ہو گیا، یعنی عجمیوں کو۔
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، وَمَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَنْ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الشَّمْسِ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ مَخْلَدٌ ‏"‏ فِي الْفَىْءِ ‏"‏ ‏.‏ ‏"‏ فَقَلَصَ عَنْهُ الظِّلُّ وَصَارَ بَعْضُهُ فِي الشَّمْسِ وَبَعْضُهُ فِي الظِّلِّ فَلْيَقُمْ ‏"‏ ‏.‏
Narrated AbuHurayrah: AbulQasim (ﷺ) said: When one of you is in the sun (Shams)--Makhlad's version has "fay'"--and the shadow withdraws from him so that he is partly in sun and partly in shade, he should get up
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی دھوپ میں ہو ( مخلد کی روایت ) سایہ میں ہو، پھر سایہ اس سے سمٹ گیا ہو اس طرح کہ اس کا کچھ حصہ دھوپ میں آ جائے اور کچھ سایہ میں رہے تو چاہیئے کہ وہ اٹھ جائے ۱؎ ۔
Narrated by Abu Burdah
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ غَيْلاَنَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ مُسَدَّدٌ قَالَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَسْتَحْمِلُهُ فَرَأَيْتُهُ يَسْتَاكُ عَلَى لِسَانِهِ - قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ سُلَيْمَانُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَسْتَاكُ وَقَدْ وَضَعَ السِّوَاكَ عَلَى طَرَفِ لِسَانِهِ - وَهُوَ يَقُولُ ‏ "‏ إِهْ إِهْ ‏"‏ ‏.‏ يَعْنِي يَتَهَوَّعُ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ مُسَدَّدٌ فَكَانَ حَدِيثًا طَوِيلاً اخْتَصَرْتُهُ ‏.‏
Narrated Abu Burdah: On the authority of his father ( Abu Musa al-Ash'ari), reported (according to the version of Musaddad) : We came to the Apostle of Allaah (sal Allaahu alayhi wa sallam) to provide us with a mount, and found him using the tooth-stick, its one end being at his tongue (i.e. he wsa rinsing his mouth). According to the version of Sulaiman it goes : I entered upon the Prophet (sal Allaahu alayhi wa sallam ) who was using the tooth-stick, and had it placed at one side of his tongue, producing a gurgling sound. Abu Dawud said : Musaddad said that the tradition was a lengthy but he shortened it
ابوموسیٰ اشعری (عبداللہ بن قیس) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ( مسدد کی روایت میں ہے کہ ) ہم سواری طلب کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زبان پر مسواک پھیر رہے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور سلیمان کی روایت میں ہے: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کر رہے تھے، اور مسواک کو اپنی زبان کے کنارے پر رکھ کر فرماتے تھے اخ اخ جیسے آپ قے کر رہے ہوں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مسدد نے کہا: حدیث لمبی تھی مگر میں نے اس کو مختصر کر دیا ہے۔