Narrated by Abdullah ibn Mas'ud
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ قَالَ اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ كُلَّهَا إِلاَّ الْجَانَّ الأَبْيَضَ الَّذِي كَأَنَّهُ قَضِيبُ فِضَّةٍ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ فَقَالَ لِي إِنْسَانٌ الْجَانُّ لاَ يَنْعَرِجُ فِي مِشْيَتِهِ فَإِذَا كَانَ هَذَا صَحِيحًا كَانَتْ عَلاَمَةً فِيهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ .
Narrated Abdullah ibn Mas'ud: Kill all the snakes except the little white one which looks like a silver wand. Abu Dawud said: A man said to me: A white snake does not wind in its movement. If it is correct, that is a sign in it, if Allah wills
ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سبھی سانپوں کو مارو سوائے اس سانپ کے جو سفید ہوتا ہے چاندی کی چھڑی کی طرح ( یعنی سفید سانپ کو نہ مارو ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: تو ایک آدمی نے مجھ سے کہا: جن اپنی چال میں مڑتا نہیں اگر وہ سیدھا چل رہا ہو تو یہی اس کی پہچان ہے، إن شاء اللہ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ لَيْلَةٍ فَلَمَسْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا هُوَ سَاجِدٌ وَقَدَمَاهُ مَنْصُوبَتَانِ وَهُوَ يَقُولُ " أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لاَ أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ " .
‘A’ishah said; one night I missed the Messenger of Allah (ﷺ) and when I sought him on the spot of prayer I found him in prostration with his feet raised, and he was saying:”(O Allah), I seek refuge in Your good pleasure from Your anger, and in Your Mercy from Your Punishment, and I seek refuge from You in You; I am not able to praise You (the way that You deserve to be praised), for You are as You have praised Yourself”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک رات ( اپنے پاس بستر پر ) نہیں پایا تو میں نے آپ کو نماز پڑھنے کی جگہ میں ٹٹولا تو کیا دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں ہیں اور آپ کے دونوں پاؤں کھڑے ہیں اور آپ یہ دعا کر رہے ہیں: «أعوذ برضاك من سخطك وأعوذ بمعافاتك من عقوبتك وأعوذ بك منك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك» یعنی اے اللہ! میں تیرے غصے سے تیری رضا مندی کی پناہ مانگتا ہوں اور تیرے عذاب سے تیری بخشش کی پناہ مانگتا ہوں اور میں تجھ سے تیری پناہ مانگتا ہوں، میں تیری تعریف شمار نہیں کر سکتا، تو ویسا ہی ہے جیسے تو نے خود اپنی تعریف کی ہے ۔