بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Abu Dawood
43
2 hadith
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ مُخْتَصَرًا قَالَ ‏ "‏ فَلْيُؤْذِنْهُ ثَلاَثًا فَإِنْ بَدَا لَهُ بَعْدُ فَلْيَقْتُلْهُ فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ ‏"‏ ‏.‏
The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibn 'Ajilan through a different chain of narrators briefly. This version has:He should give it a warning three times. If it appears to him after that, he should kill it, for it is a devil
اس سند سے ابن عجلان سے یہی حدیث مختصراً مروی ہے، اس میں ہے کہ اسے ( سانپ کو ) تین بار آگاہ کر دو، ( اگر جن وغیرہ ہو تو چلے جاؤ ) پھر اس کے بعد اگر وہ تمہیں نظر آئے تو اسے مار ڈالو کیونکہ وہ شیطان ہے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ سُحَيْمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَشَفَ السِّتَارَةَ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ ‏ "‏ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلاَّ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ وَإِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا فَأَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظِّمُوا الرَّبَّ فِيهِ وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ ‏"‏ ‏.‏
Ibn ‘Abbas said:The Prophet(ﷺ) lifted the curtain (and saw that) the people were standing in rows(of prayers) behind Abu Bakr. He said: O people, there remained nothing that gives good tidings from prophethood except a true dream which a Muslim has himself or which another Muslim has for him. I have been prohibited to recite the Qur’an while bowing or prostration. As regards owing, exalt the Lord in it, and as to prostration, make supplication with exertion in it, that is worthy of being accepted
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مرض الموت میں اپنے کمرہ کا ) پردہ اٹھایا، ( دیکھا کہ ) لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صف باندھے ہوئے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! نبوت کی بشارتوں ( خوشخبری دینے والی چیزوں ) میں سے اب کوئی چیز باقی نہیں رہی سوائے سچے خواب کے جسے مسلمان خود دیکھتا ہے یا اس کے سلسلہ میں کوئی دوسرا دیکھتا ہے، مجھے رکوع اور سجدہ کی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع کر دیا گیا ہے، رہا رکوع تو اس میں تم اپنے رب کی بڑائی بیان کیا کرو، اور رہا سجدہ تو اس میں تم دعا میں کوشاں رہو کیونکہ یہ تمہاری دعا کی مقبولیت کے لیے زیادہ موزوں ہے ۔