Narrated by Abdullah ibn Amr ibn al-'As
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي السَّفَرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا أُطَيِّنُ حَائِطًا لِي أَنَا وَأُمِّي فَقَالَ " مَا هَذَا يَا عَبْدَ اللَّهِ " . فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ شَىْءٌ أُصْلِحُهُ فَقَالَ " الأَمْرُ أَسْرَعُ مِنْ ذَاكَ " .
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-'As: The Messenger of Allah (ﷺ) came upon us when my mother and I were plastering a wall of mine. He asked: What is this, Abdullah ? I replied: It is something I am repairing. He said! The matter is quicker for you than that
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے، میں اور میری ماں اپنی ایک دیوار پر مٹی پوت رہے تھے، آپ نے فرمایا: عبداللہ! یہ کیا ہو رہا ہے؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کچھ مرمت ( سرمت ) کر رہا ہوں، آپ نے فرمایا: معاملہ تو اس سے بھی زیادہ تیزی پر ہے ( یعنی موت اس سے بھی قریب آتی جا رہی ہے، اعمال میں جو کمیاں ہیں ان کی اصلاح و درستگی کی بھی فکر کرو ) ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، وَحُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ مَا صَلَّيْتُ خَلْفَ رَجُلٍ أَوْجَزَ صَلاَةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي تَمَامٍ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا قَالَ " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " . قَامَ حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَوْهَمَ ثُمَّ يُكَبِّرُ وَيَسْجُدُ وَكَانَ يَقْعُدُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَوْهَمَ .
Anas b. Malik said:I did not offer prayer behind anyone more brief than the one offered by the Messenger of Allah(ﷺ) and that was perfect. When the Messenger of Allah(ﷺ) said: “Allah listens to him who praises Him,” he stood long we thought that he had omitted something; then he say takbir(Allah is most great) and prostrate, and would sit between the two prostrations so long that we thought that he had omitted something
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مختصر اور مکمل نماز کسی کے پیچھے نہیں پڑھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب «سمع الله لمن حمده» کہتے تو کھڑے رہتے یہاں تک کہ ہم لوگ سمجھتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہم ہو گیا ہے، پھر آپ «اللہ اکبر» کہتے اور سجدہ کرتے اور دونوں سجدوں کے درمیان اتنی دیر تک بیٹھتے کہ ہم لوگ سمجھتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہم ہو گیا ہے۔