Narrated by Ibn 'Umar
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى بِإِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ رَكْعَةً وَالطَّائِفَةُ الأُخْرَى مُوَاجِهَةُ الْعَدُوِّ ثُمَّ انْصَرَفُوا فَقَامُوا فِي مَقَامِ أُولَئِكَ وَجَاءَ أُولَئِكَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً أُخْرَى ثُمَّ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ ثُمَّ قَامَ هَؤُلاَءِ فَقَضَوْا رَكْعَتَهُمْ وَقَامَ هَؤُلاَءِ فَقَضَوْا رَكْعَتَهُمْ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ نَافِعٌ وَخَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَكَذَلِكَ قَوْلُ مَسْرُوقٍ وَيُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَكَذَلِكَ رَوَى يُونُسُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي مُوسَى أَنَّهُ فَعَلَهُ .
Narrated Ibn 'Umar: The Messenger of Allah (ﷺ) led one section in one rak'ah of prayer and the other section was facing the enemy. Then they turned away and took the position of the other section. They (the other section) came and he (the Prophet) led them in the second rak'ah. He then uttered the salutation. Thereafter they stood up and completed the remaining rak'ah, they went away and the other section completed their remaining rak'ah. Abu Dawud said: This tradition has been narrated by Nafi' and Khalid b. Ma'dan from Ibn 'Umar in like manner from the Prophet (ﷺ). This has also been transmitted similarly by Masruq ad Yusuf b. Mihran on the authority of Ibn 'Abbas. This has been narrated by Yunus from al-Hasan from Abu Musa something similarly, saying that Abu Musa has done so
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جماعت کو ایک رکعت پڑھائی اور دوسری جماعت دشمن کے سامنے رہی پھر یہ جماعت جا کر پہلی جماعت کی جگہ کھڑی ہو گئی اور وہ جماعت ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ) آ گئی تو آپ نے ان کو بھی ایک رکعت پڑھائی پھر آپ نے سلام پھیر دیا، پھر یہ لوگ کھڑے ہوئے اور اپنی رکعت پوری کی اور وہ لوگ بھی ( جو دشمن کے سامنے چلے گئے تھے ) کھڑے ہوئے اور انہوں نے اپنی رکعت پوری کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح یہ حدیث نافع اور خالد بن معدان نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ابن عمر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ اور یہی قول مسروق اور یوسف بن مہران ہے جسے وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں، اسی طرح یونس نے حسن سے اور انہوں نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ آپ نے ایسا ہی کیا۔
Narrated by Abdullah ibn Umar
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَارِقِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " صَلاَةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى " .
Narrated Abdullah ibn Umar: The Prophet (ﷺ) said: Prayer by night and day should consist of pairs of rak'ahs
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات اور دن کی نماز دو دو رکعت ہے ۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَجُلاً، سَمِعَ رَجُلاً، يَقْرَأُ { قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ } يُرَدِّدُهَا فَلَمَّا أَصْبَحَ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ وَكَانَ الرَّجُلُ يَتَقَالُّهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهَا لَتَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ " .
Abu Sa'id al-Khudri said:A man heard another man reciting "Say, He is Allah, One" He was repeating it. When the next morning came, he went to the Messenger of Allah (ﷺ) and mentioned to him. The man tool it (this surah) as a small one. The Prophet (ﷺ) said: By Him in Whose Hand is my life, it is equivalent to a third of the Qur'an
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے دوسرے شخص کو «قل هو الله أحد» باربار پڑھتے سنا، جب صبح ہوئی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے اس کا تذکرہ کیا، گویا وہ اس سورت کو کمتر سمجھ رہا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہ ( سورۃ ) ایک تہائی قرآن کے برابر ہے
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ، - وَنَسَبَهُ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيِّ - قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ شَبَابَةَ، - بَطْنٌ مِنْ فَهْمٍ - فَذَكَرَ نَحْوَهُ قَالَ مِنْ كُلِّ عَشْرِ قِرَبٍ قِرْبَةٌ وَقَالَ سُفْيَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيُّ قَالَ وَكَانَ يُحَمِّي لَهُمْ وَادِيَيْنِ زَادَ فَأَدَّوْا إِلَيْهِ مَا كَانُوا يُؤَدُّونَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَحَمَّى لَهُمْ وَادِيَيْهِمْ .
Amr bin Shu'aib, on his father's authority, said that his grandfather reported:That was Banu Shababah, a sub-clan of the tribe Fahm. The narrator then transmitted the tradition something similar. He added:(They used to pay) one bag (of honey) out of ten bags. Sufyan ibn Abdullah ath-Thaqafi gave them two woods as protected lands. They used to give as much honey (as zakat) as they gave to the Messenger of Allah (ﷺ). He (Sufyan) used to protect their woods
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قبیلہ شبابہ جو قبیلہ فہم کی ایک شاخ ہے، پھر راوی نے اسی طرح ذکر کیا اور کہا: ہر دس مشک میں سے ایک مشک زکاۃ ہے۔ سفیان بن عبداللہ ثقفی کہتے ہیں: وہ ان کے لیے دو وادیوں کو ٹھیکہ پر دیئے ہوئے تھے، اور مزید کہتے ہیں: تو وہ لوگ انہیں اسی قدر شہد دیتے تھے جتنا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتے تھے اور آپ نے ان کے لیے دو وادیوں کو ٹھیکہ پر دیا تھا۔
Narrated by Arfah ibn al-Harith al-Kandi
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَرْمَلَةَ بْنِ عِمْرَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ الأَزْدِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ غَرَفَةَ بْنَ الْحَارِثِ الْكِنْدِيَّ، قَالَ شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَأُتِيَ بِالْبُدْنِ فَقَالَ " ادْعُوا لِي أَبَا حَسَنٍ " . فَدُعِيَ لَهُ عَلِيٌّ - رضى الله عنه - فَقَالَ لَهُ " خُذْ بِأَسْفَلِ الْحَرْبَةِ " . وَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِأَعْلاَهَا ثُمَّ طَعَنَ بِهَا فِي الْبُدْنِ فَلَمَّا فَرَغَ رَكِبَ بَغْلَتَهُ وَأَرْدَفَ عَلِيًّا رضى الله عنه .
Narrated Arfah ibn al-Harith al-Kandi: I was present with the Messenger of Allah (ﷺ) at the Farewell Pilgrimage. When the sacrificial camels were brought to him, he said: Call AbulHasan (Ali) to me. Ali was then called for and he (the Prophet) said to him: Catch hold of the lower end of the lance, and the Messenger of Allah (ﷺ) himself caught hold of the upper end. He then pierced the camels with it. When he finished slaughtering, he rode on his mule and mounted Ali behind him
عرفہ بن حارث کندی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا، ہدی کے اونٹ لائے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوالحسن ( علی رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے ) کو بلاؤ ، چنانچہ آپ کے پاس علی رضی اللہ عنہ کو بلا کر لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم برچھی کا نچلا سرا پکڑو ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوپر کا سرا پکڑا پھر اونٹوں کو نحر کیا جب فارغ ہو گئے تو اپنے خچر پر سوار ہوئے اور علی کو اپنے پیچھے سوار کر لیا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ شَبُّويَةَ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ عِيسَى بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، مَوْلَى عُمَرَ عَنِ الضَّحَّاكِ، بِمَعْنَاهُ قَالَ فَوَعَظَ اللَّهُ ذَلِكَ .
The aforesaid tradition has also been transmitted by Al Dahhak to the same effect through a different chain of narrators. This version has Allaah prohibited that (practice)
ضحاک سے بھی اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں ہے: تو اللہ تعالیٰ نے اس کی نصیحت فرمائی۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، مِثْلَهُ .
A similar tradition has been transmitted by A’ishah through a different chain of narrators
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی اسی کے مثل مروی ہے۔
Narrated by Mu'adh ibn Zuhrah
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ زُهْرَةَ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا أَفْطَرَ قَالَ " اللَّهُمَّ لَكَ صُمْتُ وَعَلَى رِزْقِكَ أَفْطَرْتُ " .
Narrated Mu'adh ibn Zuhrah: The Prophet of Allah (ﷺ) used to say when he broke his fast: O Allah, for Thee I have fasted, and with Thy provision I have broken my fast
معاذ بن زہرہ سے روایت ہے کہ انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب روزہ افطار فرماتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم لك صمت وعلى رزقك أفطرت» اے اللہ! میں نے تیری ہی خاطر روزہ رکھا اور تیرے ہی رزق سے افطار کیا ۔
Narrated by AbudDarda
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ رَبَاحٍ الذِّمَارِيُّ، حَدَّثَنِي عَمِّي، : نِمْرَانُ بْنُ عُتْبَةَ الذِّمَارِيُّ قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى أُمِّ الدَّرْدَاءِ وَنَحْنُ أَيْتَامٌ فَقَالَتْ : أَبْشِرُوا فَإِنِّي سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم : " يُشَفَّعُ الشَّهِيدُ فِي سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ : صَوَابُهُ رَبَاحُ بْنُ الْوَلِيدِ .
Narrated AbudDarda': The Prophet (ﷺ) said: The intercession of a martyr will be accepted for seventy members of his family. Abu Dawud said: The correct name if the narrator is Rabah b. al-Walid (and not al-walid b. Rabah as occurred in the chain of narrators in the text of the tradition)
نمران بن عتبہ ذماری کہتے ہیں: ہم ام الدرداء رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور ہم یتیم تھے، انہوں نے کہا: خوش ہو جاؤ کیونکہ میں نے ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شہید کی شفاعت اس کے کنبے کے ستر افراد کے لیے قبول کی جائے گی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ( ولید بن رباح کے بجائے ) صحیح رباح بن ولید ہے۔
Narrated by Aishah
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ كُلِّ خَمْسِينَ شَاةً شَاةٌ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ بَعْضُهُمُ الْفَرَعُ أَوَّلُ مَا تُنْتَجُ الإِبِلُ كَانُوا يَذْبَحُونَهُ لِطَوَاغِيتِهِمْ ثُمَّ يَأْكُلُونَهُ وَيُلْقَى جِلْدُهُ عَلَى الشَّجَرِ وَالْعَتِيرَةُ فِي الْعَشْرِ الأُوَلِ مِنْ رَجَبٍ .
Narrated 'Aishah: The Messenger of Allah (ﷺ) used to sacrifice goat out of every fifty goats. Abu Dawud said: Fara' means the first baby camel born (to the Arabs). They used to sacrifice it for their idols, and then eat it, and its skin was thrown on a tree. 'Atira was a sacrifice made during the first ten days of Rajab
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہر پچاس بکری میں سے ایک بکری ذبح کرنے کا حکم دیا۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: بعض حضرات نے «فرع» کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اونٹ کے سب سے پہلے بچہ کی پیدائش پر کفار اسے بتوں کے نام ذبح کر کے کھا لیتے، اور اس کی کھال کو درخت پر ڈال دیتے تھے، اور «عتیرہ» ایسے جانور کو کہتے ہیں جسے رجب کے پہلے عشرہ میں ذبح کرتے تھے۔
Narrated by AbuBakr
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ جُمَيْعٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ جَاءَتْ فَاطِمَةُ رضى الله عنها إِلَى أَبِي بَكْرٍ رضى الله عنه تَطْلُبُ مِيرَاثَهَا مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ عَلَيْهِ السَّلاَمُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا أَطْعَمَ نَبِيًّا طُعْمَةً فَهِيَ لِلَّذِي يَقُومُ مِنْ بَعْدِهِ " .
Narrated AbuBakr: AbutTufayl said: Fatimah came to AbuBakr asking him for the inheritance of the Prophet (ﷺ). AbuBakr said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: If Allah, Most High, gives a Prophet some means of sustenance, that goes to his successor
ابوطفیل کہتے ہیں کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ترکہ سے اپنی میراث مانگنے آئیں، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: اللہ عزوجل جب کسی نبی کو کوئی معاش دیتا ہے تو وہ اس کے بعد اس کے قائم مقام ( خلیفہ ) کو ملتا ہے ، ( یعنی اس کے وارثوں کو نہیں ملتا ) ۱؎۔
Narrated by Abdullah ibn Abbas
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِقَتْلَى أُحُدٍ أَنْ يُنْزَعَ عَنْهُمُ الْحَدِيدُ وَالْجُلُودُ وَأَنْ يُدْفَنُوا بِدِمَائِهِمْ وَثِيَابِهِمْ .
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Messenger of Allah (ﷺ) commanded to remove weapons and skins from the martyrs of Uhud, and that they should be buried with their blood and clothes
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے مقتولین ( شہداء ) کے بارے میں حکم دیا کہ ان کی زرہیں اور پوستینیں ان سے اتار لی جائیں، اور انہیں ان کے خون اور کپڑوں سمیت دفن کر دیا جائے۔
Narrated by Abd Allah b. 'Umar
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، قَالَ عُثْمَانُ الْهَمْدَانِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ : أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْهَى عَنِ النَّذْرِ ثُمَّ اتَّفَقَا وَيَقُولُ : " لاَ يَرُدُّ شَيْئًا، وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ " . قَالَ مُسَدَّدٌ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم : " النَّذْرُ لاَ يَرُدُّ شَيْئًا " .
Narrated 'Abd Allah b. 'Umar: The Messenger of Allah (ﷺ) forbade to make a vow. He said: It has not effect against fate, it is only from the miserly that it is means by which something is extracted. Musaddad said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: A vow does not avert anything (i.e. has no effect against fate)
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نذر سے منع فرماتے تھے، اور فرماتے تھے کہ نذر تقدیر کے فیصلے کو کچھ بھی نہیں ٹالتی سوائے اس کے کہ اس سے بخیل ( کی جیب ) سے کچھ نکال لیا جاتا ہے۔ مسدد کی روایت میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نذر کسی چیز کو ٹالتی نہیں ۱؎ ۔
Narrated by Anas ibn Malik
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعِ الْعِنَبِ حَتَّى يَسْوَدَّ وَعَنْ بَيْعِ الْحَبِّ حَتَّى يَشْتَدَّ .
Narrated Anas ibn Malik: The Prophet (ﷺ) forbade the sale of grapes till they became black and the sale of grain till it had become hard
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگور کو جب تک کہ وہ پختہ نہ ہو جائے اور غلہ کو جب تک کہ وہ سخت نہ ہو جائے بیچنے سے منع فرمایا ہے ( ان کا کچے پن میں بیچنا درست نہیں ) ۔
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَنْ بَاعَ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ فَلَهُ أَوْكَسُهُمَا أَوِ الرِّبَا " .
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: If anyone makes two transactions combined in one bargain, he should have the lesser of the two or it will involve usury
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایک معاملہ میں دو طرح کی بیع کی تو جو کم والی ہو گی وہی لاگو ہو گی ( اور دوسری ٹھکرا دی جائے گی ) کیونکہ وہ سود ہو جائے گی ۱؎ ۔
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلاَسٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلَيْنِ، اخْتَصَمَا فِي مَتَاعٍ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لَيْسَ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اسْتَهِمَا عَلَى الْيَمِينِ مَا كَانَ أَحَبَّا ذَلِكَ أَوْ كَرِهَا " .
Narrated AbuHurayrah: Two men disputed about some property and brought the case to the Holy Prophet (ﷺ), but neither of them could produce any proof. So the Holy Prophet (ﷺ) said: Cast lots about the oath whatever it may be, whether they like it or dislike it
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دو آدمی ایک سامان کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جھگڑا لے کر گئے اور دونوں میں سے کسی کے پاس کوئی گواہ نہیں تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں قسم پر قرعہ اندازی کرو ۱؎ خواہ تم اسے پسند کرو یا ناپسند ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم تُخْبِرُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلاً فَتَوَاصَيْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ أَيَّتُنَا مَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَلْتَقُلْ إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَاهُنَّ فَقَالَتْ لَهُ ذَلِكَ فَقَالَ " بَلْ شَرِبْتُ عَسَلاً عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ وَلَنْ أَعُودَ لَهُ " . فَنَزَلَتْ { لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ تَبْتَغِي } إِلَى { إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ } لِعَائِشَةَ وَحَفْصَةَ رضى الله عنهما { وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا } لِقَوْلِهِ " بَلْ شَرِبْتُ عَسَلاً " .
A’ishah said that the prophet (ﷺ) used to stay with Zainab, daughter of Jahsh, and drink honey. I and Hafsah counseled each other that if the Prophet (ﷺ) enters upon any of us, she must say :I find the smell of gum (maghafir) from you. He then entered upon one of them; she said that to him. Thereupon he said : No, I drank honey at (the house of) Zainab daughter of jahsh, and I will not do it again. Then the following verse came down :’’O Prophet !why holdest thou to be forbidden that which Allah has made lawful to thee ? ‘’Thou seekest. . . If you two turn in repentance to Allah ‘’ refers to Hafsah and A’ishah , and the verse: ‘’When the Prophet disclosed a matter in confidence to one of his consorts’’ refers to the statements of the Prophet (ﷺ) disclosed a matter in confidence to one of his consorts’’ refers to the statement of the Prophet (ﷺ) :No, I drank honey
عبید بن عمیر کہتے ہیں میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا وہ خبر دے رہی تھیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کے پاس ٹھہرتے اور شہد پیتے تھے تو ایک روز میں نے اور حفصہ رضی اللہ عنہما نے مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں وہ کہے: مجھے آپ سے مغافیر ۱؎ کی بو محسوس ہو رہی ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے ایک کے پاس تشریف لائے، تو اس نے آپ سے ویسے ہی کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ میں نے تو زینب بنت جحش کے پاس شہد پیا ہے اور اب دوبارہ ہرگز نہیں پیوں گا تو قرآن کریم کی آیت: «لم تحرم ما أحل الله لك تبتغي» ۲؎ سے لے کر «إن تتوبا إلى الله» ۳؎ تک عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما کے متعلق نازل ہوئی۔ «إن تتوبا» میں خطاب عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما کو ہے اور «وإذ أسر النبي إلى بعض أزواجه حديثا» میں «حديثا» سے مراد آپ کا: «بل شربت عسلا» ( بلکہ میں نے شہد پیا ہے ) کہنا ہے۔
Narrated by Abdullah ibn Mas'ud
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُعْجِبُهُ الذِّرَاعُ . قَالَ وَسُمَّ فِي الذِّرَاعِ وَكَانَ يَرَى أَنَّ الْيَهُودَ هُمْ سَمُّوهُ .
Narrated Abdullah ibn Mas'ud: The tradition mentioned above (No. 3771) has also been narrated by Ibn Mas'ud with a different chain of narrators. This version has: The Prophet (ﷺ) liked the foreleg (of a sheep). Once the foreleg was poisoned, and he thought that the Jews had poisoned it
اسی سند سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دست کا گوشت بہت پسند تھا، ( ایک بار ) دست کے گوشت میں زہر ملا دیا گیا، آپ کا خیال تھا کہ یہودیوں نے زہر ملایا تھا۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَهْطًا، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم انْطَلَقُوا فِي سَفْرَةٍ سَافَرُوهَا فَنَزَلُوا بِحَىٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ إِنَّ سَيِّدَنَا لُدِغَ فَهَلْ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْكُمْ شَىْءٌ يَنْفَعُ صَاحِبَنَا فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ نَعَمْ وَاللَّهِ إِنِّي لأَرْقِي وَلَكِنِ اسْتَضَفْنَاكُمْ فَأَبَيْتُمْ أَنْ تُضَيِّفُونَا مَا أَنَا بِرَاقٍ حَتَّى تَجْعَلُوا لِي جُعْلاً . فَجَعَلُوا لَهُ قَطِيعًا مِنَ الشَّاءِ فَأَتَاهُ فَقَرَأَ عَلَيْهِ أُمَّ الْكِتَابِ وَيَتْفُلُ حَتَّى بَرَأَ كَأَنَّمَا أُنْشِطَ مِنْ عِقَالٍ . قَالَ فَأَوْفَاهُمْ جُعْلَهُمُ الَّذِي صَالَحُوهُمْ عَلَيْهِ فَقَالُوا اقْتَسِمُوا . فَقَالَ الَّذِي رَقَى لاَ تَفْعَلُوا حَتَّى نَأْتِيَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَنَسْتَأْمِرَهُ . فَغَدَوْا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرُوا لَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مِنْ أَيْنَ عَلِمْتُمْ أَنَّهَا رُقْيَةٌ أَحْسَنْتُمُ اقْتَسِمُوا وَاضْرِبُوا لِي مَعَكُمْ بِسَهْمٍ " .
Abu Sa’d al-KHudri said :Some of the Companions of the Prophet (ﷺ) went on a journey. They alighted with a certain clan of the Arabs. Someone of them said : Our chief has been stung by a scorpion or bitten by a snake. Has any of you something which gives relief to our chief? A man of the people said : Yes, I swear by Allah. I shall apply charm ; but we asked you for hospitality and you denied it to us. I shall not apply charm until you give me some payment. So they promised to give some sheep to him. He came to him and recited Surat al-Fatihah over him and spat till he was cured, and ha seemed as if he were set free from a bond. So they gave him the payment that was agreed between them. They said : Apportion them. The man who applied charm said : Do not do it until we approach the Apostle of allah (ﷺ) said: From where did you learn that it was a charm ? you have done right. Apportion them, and give me a share along with you
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی ایک جماعت ایک سفر پر نکلی اور وہ عرب کے قبیلوں میں سے ایک قبیلہ میں اتری، ان میں سے بعض نے آ کر کہا: ہمارے سردار کو بچھو یا سانپ نے کاٹ لیا ہے، کیا تمہارے پاس کوئی ایسی چیز ہے جو انہیں فائدہ دے؟ تو ہم میں سے ایک شخص نے کہا: ہاں قسم اللہ کی میں جھاڑ پھونک کرتا ہوں لیکن ہم نے تم سے ضیافت کے لیے کہا تو تم نے ہماری ضیافت سے انکار کیا، اس لیے اب میں اس وقت تک جھاڑ پھونک نہیں کر سکتا جب تک تم مجھے اس کی اجرت نہیں دو گے، تو انہوں نے ان کے لیے بکریوں کا ایک ریوڑ اجرت ٹھہرائی، چنانچہ وہ آئے اور سورۃ فاتحہ پڑھ کر اس پر دم کرنے لگے یہاں تک کہ وہ اچھا ہو گیا گویا وہ رسی سے بندھا ہوا تھا چھوٹ گیا، پھر ان لوگوں نے جو اجرت ٹھہرائی تھی پوری ادا کر دی، لوگوں نے کہا: اسے آپس میں تقسیم کر لو، تو جس نے جھاڑ پھونک کیا تھا وہ بولا: اس وقت تک ایسا نہ کرو جب تک کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے اجازت نہ لے لیں، چنانچہ وہ سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے ذکر کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کہاں سے معلوم ہوا کہ یہ منتر ہے؟ تم نے بہت اچھا کیا، تم اسے آپس میں تقسیم کر لو اور اپنے ساتھ میرا بھی ایک حصہ لگانا ۔
Narrated by AbuRimthah
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، - يَعْنِي ابْنَ إِيَادٍ - حَدَّثَنَا إِيَادٌ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي نَحْوَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَرَأَيْتُ عَلَيْهِ بُرْدَيْنِ أَخْضَرَيْنِ .
Narrated AbuRimthah: I went with my father to the Prophet (ﷺ) and saw two green garments over him
ابورمثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو میں نے آپ پر دو سبز رنگ کی چادریں دیکھا۔
Narrated by Jabir bin ‘Abdullah
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أُتِيَ بِأَبِي قُحَافَةَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَرَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ كَالثَّغَامَةِ بَيَاضًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " غَيِّرُوا هَذَا بِشَىْءٍ وَاجْتَنِبُوا السَّوَادَ " .
Narrated Jabir bin ‘Abdullah :Abu Quhafah was brought on the day of the conquest of Mecca with head and beard while like hyssop. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Change this something, but avoid black
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن ( ابوبکر رضی اللہ عنہ کے والد ) ابوقحافہ کو لایا گیا، ان کا سر اور ان کی داڑھی ثغامہ ( نامی سفید رنگ کے پودے ) کے مانند سفید تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے کسی چیز سے بدل دو اور سیاہی سے بچو ۔
Narrated by Abdullah ibn Mas'ud
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ أَوَّلَ مَا دَخَلَ النَّقْصُ عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَ الرَّجُلُ يَلْقَى الرَّجُلَ فَيَقُولُ يَا هَذَا اتَّقِ اللَّهِ وَدَعْ مَا تَصْنَعُ فَإِنَّهُ لاَ يَحِلُّ لَكَ ثُمَّ يَلْقَاهُ مِنَ الْغَدِ فَلاَ يَمْنَعُهُ ذَلِكَ أَنْ يَكُونَ أَكِيلَهُ وَشَرِيبَهُ وَقَعِيدَهُ فَلَمَّا فَعَلُوا ذَلِكَ ضَرَبَ اللَّهُ قُلُوبَ بَعْضِهِمْ بِبَعْضٍ " . ثُمَّ قَالَ { لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى لِسَانِ دَاوُدَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ } إِلَى قَوْلِهِ { فَاسِقُونَ } ثُمَّ قَالَ " كَلاَّ وَاللَّهِ لَتَأْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلَتَنْهَوُنَّ عَنِ الْمُنْكَرِ وَلَتَأْخُذُنَّ عَلَى يَدَىِ الظَّالِمِ وَلَتَأْطُرُنَّهُ عَلَى الْحَقِّ أَطْرًا وَلَتَقْصُرُنَّهُ عَلَى الْحَقِّ قَصْرًا " .
Narrated Abdullah ibn Mas'ud: The Messenger of Allah (ﷺ) said: The first defect that permeated Banu Isra'il was that a man (of them) met another man and said: O so-and-so, fear Allah, and abandon what you are doing, for it is not lawful for you. He then met him the next day and that did not prevent him from eating with him, drinking with him and sitting with him. When they did so. Allah mingled their hearts with each other. He then recited the verse: "curses were pronounced on those among the children of Isra'il who rejected Faith, by the tongue of David and of Jesus the son of Mary"...up to "wrongdoers". He then said: By no means, I swear by Allah, you must enjoin what is good and prohibit what is evil, prevent the wrongdoer, bend him into conformity with what is right, and restrict him to what is right
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلی خرابی جو بنی اسرائیل میں پیدا ہوئی یہ تھی کہ ایک شخص دوسرے شخص سے ملتا تو کہتا کہ اللہ سے ڈرو اور جو تم کر رہے ہو اس سے باز آ جاؤ کیونکہ یہ تمہارے لیے درست نہیں ہے، پھر دوسرے دن اس سے ملتا تو اس کے ساتھ کھانے پینے اور اس کی ہم نشینی اختیار کرنے سے یہ چیزیں ( غلط کاریاں ) اس کے لیے مانع نہ ہوتیں، تو جب انہوں نے ایسا کیا تو اللہ نے بھی بعضوں کے دل کو بعضوں کے دل کے ساتھ ملا دیا پھر آپ نے آیت کریمہ «لعن الذين كفروا من بني إسرائيل على لسان داود وعيسى ابن مريم» سے لے کر۔ ۔ ۔ اللہ تعالیٰ کے قول «فاسقون» بنی اسرائیل کے کافروں پر داود علیہ السلام اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی زبانی لعنت کی گئی ( سورۃ المائدہ: ۷۸ ) تک کی تلاوت کی، پھر فرمایا: ہرگز ایسا نہیں، قسم اللہ کی! تم ضرور اچھی باتوں کا حکم دو گے، بری باتوں سے روکو گے، ظالم کے ہاتھ پکڑو گے، اور اسے حق کی طرف موڑے رکھو گے اور حق و انصاف ہی پر اسے قائم رکھو گے یعنی زبردستی اسے اس پر مجبور کرتے رہو گے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فِي هَذَا الْخَبَرِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تَحَوَّلُوا عَنْ مَكَانِكُمُ الَّذِي أَصَابَتْكُمْ فِيهِ الْغَفْلَةُ " . قَالَ فَأَمَرَ بِلاَلاً فَأَذَّنَ وَأَقَامَ وَصَلَّى . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ مَالِكٌ وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ وَالأَوْزَاعِيُّ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ وَابْنِ إِسْحَاقَ لَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمُ الأَذَانَ فِي حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ هَذَا وَلَمْ يُسْنِدْهُ مِنْهُمُ إِلاَّ الأَوْزَاعِيُّ وَأَبَانُ الْعَطَّارُ عَنْ مَعْمَرٍ .
Abu Hurairah reported:Another version of the above tradition adds: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Go away from this place of yours where inadvertence took hold of you. He then commanded Bilal who called for prayer and announced that the prayer in congregation was ready (i.e. he uttered the iqamah) and he observed prayer. Abu Dawud said: This tradition has been narrated by Malik, Sufyan b. 'Uyainah, al-Awza'i, and 'Abd al-Razzaq from Ma'mar and Ibn Ishaq, none of them made a mention of the call for prayer (adman) in this version of the tradition narrated by al-Zuhri, and none of them attribute (this tradition) to him except al-Awza'i and Aban al-'Attar on the authority of Ma'mar
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس حدیث میں یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی اس جگہ سے جہاں تمہیں یہ غفلت لاحق ہوئی ہے کوچ کر چلو ، وہ کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے اذان ۱؎ دی اور تکبیر کہی اور آپ نے نماز پڑھائی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے مالک، سفیان بن عیینہ، اوزاعی اور عبدالرزاق نے معمر اور ابن اسحاق سے روایت کیا ہے، مگر ان میں سے کسی نے بھی زہری کی اس حدیث میں اذان ۲؎ کا ذکر نہیں کیا ہے، نیز ان میں سے کسی نے اسے مرفوعاً نہیں بیان کیا ہے سوائے اوزاعی اور ابان عطار کے، جنہوں نے اسے معمر سے روایت کیا ہے۔
Narrated by Aisha, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ، عَنِ اللَّيْثِ، قَالَ حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ كَانَ عُرْوَةُ يُحَدِّثُ أَنَّ عَائِشَةَ رضى الله عنها قَالَتِ اسْتَعَارَتِ امْرَأَةٌ - تَعْنِي - حُلِيًّا عَلَى أَلْسِنَةِ أُنَاسٍ يُعْرَفُونَ وَلاَ تُعْرَفُ هِيَ فَبَاعَتْهُ فَأُخِذَتْ فَأُتِيَ بِهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَ بِقَطْعِ يَدِهَا وَهِيَ الَّتِي شَفَعَ فِيهَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَقَالَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا قَالَ .
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: A woman borrowed jewellery through some known persons and she herself was unknown. She then sold them. She was seized and brought to the Prophet (ﷺ). He gave orders that her hand should be cut off. It is this woman about whom Usamah interceded and of her the Messenger of Allah (ﷺ) said whatever he said
ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ عروہ بیان کرتے تھے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا ہے کہ ایک عورت نے جسے کوئی نہیں جانتا تھا چند معروف لوگوں کی شہادت اور ذمہ داری پر ایک زیور منگنی لی اور اسے بیچ کر کھا گئی تو اسے پکڑ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا، تو آپ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، یہ وہی عورت ہے جس کے سلسلہ میں اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے سفارش کی تھی، اور اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو فرمانا تھا فرمایا تھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، - وَهَذَا حَدِيثُهُ - عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ مَنْ قُتِلَ . وَقَالَ ابْنُ عُبَيْدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ قُتِلَ فِي عِمِّيَّا فِي رَمْىٍ يَكُونُ بَيْنَهُمْ بِحِجَارَةٍ أَوْ ضَرْبٍ بِالسِّيَاطِ أَوْ ضَرْبٍ بِعَصًا فَهُوَ خَطَأٌ وَعَقْلُهُ عَقْلُ الْخَطَإِ وَمَنْ قُتِلَ عَمْدًا فَهُوَ قَوَدٌ " . وَقَالَ ابْنُ عُبَيْدٍ " قَوَدُ يَدٍ " . ثُمَّ اتَّفَقَا " وَمَنْ حَالَ دُونَهُ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَغَضَبُهُ لاَ يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلاَ عَدْلٌ " . وَحَدِيثُ سُفْيَانَ أَتَمُّ .
Tawus, in his version said:If anyone is killed. Ibn 'Ubaid in his version said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: If anyone is killed in error (blindly) when people are throwing stones, or by beating with whips, or striking with a stick, it is accidental and the compensation for accidental death is due. But if anyone is killed deliberately, retaliation is due. Ibn 'Ubaid in his version: Retaliation of the man is due. The agreed version then goes: If anyone comes in (between the two parties) to prevent it, Allah's curse and anger will rest on him, and neither supererogatory nor obligatory acts will be accepted from him. The version of the tradition of Sufyan is more perfect
طاؤس کہتے ہیں کہ جو مارا جائے، اور ابن عبید کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی کسی لڑائی یا دنگے میں جو لوگوں میں چھڑ گئی ہو غیر معروف پتھر، کوڑے، یا لاٹھی سے مارا جائے ۱؎ تو وہ قتل خطا ہے، اور اس کی دیت قتل خطا کی دیت ہو گی، اور جو قصداً مارا جائے تو اس میں قصاص ہے ( البتہ ابن عبید کی روایت میں ہے کہ ) اس میں ہاتھ کا قصاص ہے، ۲؎ ( پھر دونوں کی روایت ایک ہے کہ ) جو کوئی اس کے بیچ بچاؤ میں پڑے ۳؎ تو اس پر اللہ کی لعنت، اور اس کا غضب ہو، اس کی نہ توبہ قبول ہو گی اور نہ فدیہ، یا اس کے فرض قبول ہوں گے نہ نفل اور سفیان کی حدیث زیادہ کامل ہے۔
Narrated by Abu Hurayrah
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَرْفَعُهُ قَالَ " لَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ، عَلَى الْمُؤْمِنِينَ لأَمَرْتُهُمْ بِتَأْخِيرِ الْعِشَاءِ وَبِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلاَةٍ " .
Narrated Abu Hurayrah :(the Prophet, sal Allaahu alayhi wa sallam ) as saying : Were it not that I might oeverburdern the believers, I would order them to delay the night ('isha ) prayer and use the tooth-stick at the time of every prayer
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں مومنوں پر دشوار نہ سمجھتا تو ان کو نماز عشاء کو دیر سے پڑھنے، اور ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو ظَفَرٍ عَبْدُ السَّلاَمِ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ، عَنْ عَوْفٍ، قَالَ سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ، يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ إِنَّ مَثَلَ عُثْمَانَ عِنْدَ اللَّهِ كَمَثَلِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الآيَةَ يَقْرَؤُهَا وَيَفُسِّرُهَا { إِذْ قَالَ اللَّهُ يَا عِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَىَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا } يُشِيرُ إِلَيْنَا بِيَدِهِ وَإِلَى أَهْلِ الشَّامِ .
‘Awf said:I heard al-Hajjaj addressing the people say: The similitude of ‘Uthman with Allah is like the similitude of Jesus son of Mary. He then recited the following verse and explained it: “Behold! Allah said: O Jesus! I will take thee and raise thee to Myself and clear thee (of the falsehood) of those who blaspheme.” He was making a sign with his hand to us and to the people of Syria
عوف الا عرابی کہتے ہیں کہ میں نے حجاج کو خطبہ میں یہ کہتے سنا: عثمان کی مثال اللہ کے نزدیک عیسیٰ بن مریم کی طرح ہے، پھر انہوں نے آیت کریمہ «إذ قال الله يا عيسى إني متوفيك ورافعك إلى ومطهرك من الذين كفروا» جب اللہ نے کہا کہ: اے عیسیٰ! میں تجھے پورا لینے والا ہوں، اور تجھے اپنی جانب اٹھانے والا ہوں، اور تجھے کافروں سے پاک کرنے والا ہوں ( سورۃ آل عمران: ۵۵ ) پڑھی اور اپنے ہاتھ سے ہماری اور اہل شام کی طرف اشارہ کر رہے تھے ۱؎۔
Narrated by Anas ibn Malik
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعِ، وَكَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، - قَالَ ابْنُ عِيسَى قَالَ - حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً . فَقَالَ لَهَا " يَا أُمَّ فُلاَنٍ اجْلِسِي فِي أَىِّ نَوَاحِي السِّكَكِ شِئْتِ حَتَّى أَجْلِسَ إِلَيْكِ " . قَالَ فَجَلَسَتْ فَجَلَسَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَيْهَا حَتَّى قَضَتْ حَاجَتَهَا . وَلَمْ يَذْكُرِ ابْنُ عِيسَى حَتَّى قَضَتْ حَاجَتَهَا . وَقَالَ كَثِيرٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ .
Narrated Anas ibn Malik: A woman came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: Messenger of Allah: I have some need with you. He said to her: Mother of so and so, sit in the corner of any street you wish and I shall sit with you. So she sat and the Messenger of Allah (ﷺ) also sat with her till she fulfilled her need. The narrator Ibn 'Isa did not mention "till she fulfilled her need." And Kathir said: from Humaid on the authority of Anas
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اور بولی: اللہ کے رسول! مجھے آپ سے ایک ضرورت ہے، آپ نے اس سے فرمایا: اے فلاں کی ماں! جہاں چاہو گلی کے کسی کونے میں بیٹھ جاؤ، یہاں تک کہ میں تمہارے پاس آ کر ملوں چنانچہ وہ بیٹھ گئی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے آ کر ملے، یہاں تک کہ اس نے آپ سے اپنی ضرورت کی بات کی۔