Narrated by A man
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ غَالِبٍ، قَالَ إِنَّا لَجُلُوسٌ بِبَابِ الْحَسَنِ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي قَالَ بَعَثَنِي أَبِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ائْتِهِ فَأَقْرِئْهُ السَّلاَمَ . قَالَ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ إِنَّ أَبِي يُقْرِئُكَ السَّلاَمَ . فَقَالَ " عَلَيْكَ وَعَلَى أَبِيكَ السَّلاَمُ " .
Narrated A man: Ghalib said: When we were sitting at al-Hasan's door, a man came along. He said: My father told me on the authority of my grandfather, saying: My father sent me to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: Go to him and give him a greeting. So I went to him and said: My father sends you a greeting. He said: Upon you and upon your father be peace
غالب کہتے ہیں کہ ہم حسن کے دروازے پر بیٹھے تھے اتنے میں ایک شخص آیا اور کہنے لگا: میرے باپ نے میرے دادا سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں: مجھے میرے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا اور کہا: آپ کے پاس جاؤ اور آپ کو میرا سلام کہو میں آپ کے پاس گیا اور عرض کیا: میرے والد آپ کو سلام کہتے ہیں، آپ نے فرمایا: تم پر اور تمہارے والد پر بھی سلام ہو ۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ لاَ يَقُولُ الْقَوْمُ خَلْفَ الإِمَامِ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ وَلَكِنْ يَقُولُونَ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ .
‘Amir said:The people behind the imam should not say: “Allah listens to him who praises Him.” But they should say: “ Our Lord, to Thee be the praise.”
عامر شعبی کہتے ہیں : لوگ امام کے پیچھے: «سمع الله لمن حمده» نہ کہیں، بلکہ «ربنا لك الحمد» کہیں ۱؎۔