بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Abu Dawood
4
28 hadith
قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَأَمَّا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ فَحَدَّثَنَا قَالَ حَدَّثَنِي عَمِّي، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَتْ كَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَبَّرَتِ الطَّائِفَةُ الَّذِينَ صُفُّوا مَعَهُ ثُمَّ رَكَعَ فَرَكَعُوا ثُمَّ سَجَدَ فَسَجَدُوا ثُمَّ رَفَعَ فَرَفَعُوا ثُمَّ مَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَالِسًا ثُمَّ سَجَدُوا هُمْ لأَنْفُسِهِمُ الثَّانِيَةَ ثُمَّ قَامُوا فَنَكَصُوا عَلَى أَعْقَابِهِمْ يَمْشُونَ الْقَهْقَرَى حَتَّى قَامُوا مِنْ وَرَائِهِمْ وَجَاءَتِ الطَّائِفَةُ الأُخْرَى فَقَامُوا فَكَبَّرُوا ثُمَّ رَكَعُوا لأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَجَدُوا مَعَهُ ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَسَجَدُوا لأَنْفُسِهِمُ الثَّانِيَةَ ثُمَّ قَامَتِ الطَّائِفَتَانِ جَمِيعًا فَصَلُّوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَكَعَ فَرَكَعُوا ثُمَّ سَجَدَ فَسَجَدُوا جَمِيعًا ثُمَّ عَادَ فَسَجَدَ الثَّانِيَةَ وَسَجَدُوا مَعَهُ سَرِيعًا كَأَسْرَعِ الإِسْرَاعِ جَاهِدًا لاَ يَأْلُونَ سِرَاعًا ثُمَّ سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَسَلَّمُوا فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ شَارَكَهُ النَّاسُ فِي الصَّلاَةِ كُلِّهَا ‏.‏
Abu Dawud said:This tradition has been transmitted by 'Aishah through a different chain of narrators. She said: The Messenger of Allah (ﷺ) uttered the takbir and the section that was in the same row with him also uttered the takbir. He then bowed and they also bowed, and he prostrated and they also prostrated. Then he raised his head and they also raised (their heads). The Messenger of Allah (ﷺ) then remained seated. They prostrated alone and stood up and retraced their footsteps and stood behind them. Then the other section came; they stood up and uttered the takbir and bowed by themselves. The Messenger of Allah (ﷺ) prostrated himself and they also prostrated with him. Then the Messenger of Allah (ﷺ) stood up and they performed the second prostration by themselves. Then both the sections stood up and prayed with the Messenger of Allah (ﷺ). He bowed and they also bowed, and then he prostrated himself and they also prostrated themselves. Then he returned and performed the second prostration and they also prostrated with him as quickly as possible, showing no slackness in quick prostration. The Messenger of Allah (ﷺ) then uttered the salutation. After that the Messenger of Allah (ﷺ) stood up. Thus everyone participated in the entire prayer
عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے یہی واقعہ بیان کیا اور فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر تحریمہ کہی اور اس جماعت نے بھی جو آپ کے ساتھ صف میں کھڑی تھی تکبیر تحریمہ کہی، پھر آپ نے رکوع کیا تو ان لوگوں نے بھی رکوع کیا، پھر آپ نے سجدہ کیا تو ان لوگوں نے بھی سجدہ کیا، پھر آپ نے سجدہ سے سر اٹھایا تو انہوں نے بھی اٹھایا، اس کے بعد آپ بیٹھے رہے اور وہ لوگ دوسرا سجدہ خود سے کر کے کھڑے ہوئے اور ایٹریوں کے بل پیچھے چلتے ہوئے الٹے پاؤں لوٹے، یہاں تک کہ ان کے پیچھے جا کھڑے ہوئے، اور دوسری جماعت آ کر کھڑی ہوئی، اس نے تکبیر کہی پھر خود سے رکوع کیا اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دوسرا سجدہ کیا اور آپ کے ساتھ ان لوگوں نے بھی سجدہ کیا اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو اٹھ کھڑے ہوئے اور ان لوگوں نے اپنا دوسرا سجدہ کیا، پھر دونوں جماعتیں ایک ساتھ کھڑی ہوئیں اور دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، آپ نے رکوع کیا ( ان سب نے بھی رکوع کیا ) ، پھر آپ نے سجدہ کیا تو ان سب نے بھی ایک ساتھ سجدہ کیا، پھر آپ نے دوسرا سجدہ کیا اور ان لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ جلدی جلدی سجدہ کیا، اور جلدی کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں برتی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا، اور لوگوں نے بھی سلام پھیرا، پھر آپ نماز سے فارغ ہو کر اٹھ کھڑے ہوئے اس طرح لوگوں نے پوری نماز میں آپ کے ساتھ شرکت کر لی۔
Narrated by Simak
حَدَّثَنَا ابْنُ نُفَيْلٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالاَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، قَالَ قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ أَكُنْتَ تُجَالِسُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ نَعَمْ كَثِيرًا فَكَانَ لاَ يَقُومُ مِنْ مُصَلاَّهُ الَّذِي صَلَّى فِيهِ الْغَدَاةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَإِذَا طَلَعَتْ قَامَ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
Narrated Simak:I asked Jabir b. Samurah: Did you sit in the company of the Messenger of Allah (ﷺ) ? He replied: Yes, very often. He would not stand from the place he prayed the dawn prayer till the sunrise. When the sun rose, he would stand (to pray Duha)
سماک کہتے ہیں میں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجالست ( ہم نشینی ) کرتے تھے؟ آپ نے کہا: ہاں اکثر ( آپ کی مجلسوں میں رہتا تھا ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس جگہ نماز فجر ادا کرتے، وہاں سے اس وقت تک نہیں اٹھتے جب تک سورج نکل نہ آتا، جب سورج نکل آتا تو آپ ( نماز اشراق کے لیے ) کھڑے ہوتے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ إِيَاسٍ، عَنْ أَبِي السَّلِيلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَبَا الْمُنْذِرِ أَىُّ آيَةٍ مَعَكَ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ أَعْظَمُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَبَا الْمُنْذِرِ أَىُّ آيَةٍ مَعَكَ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ أَعْظَمُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ ‏{‏ اللَّهُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ الْحَىُّ الْقَيُّومُ ‏}‏ قَالَ فَضَرَبَ فِي صَدْرِي وَقَالَ ‏"‏ لِيَهْنِ لَكَ يَا أَبَا الْمُنْذِرِ الْعِلْمُ ‏"‏ ‏.‏
Ubayy b. Ka'b said:The Messenger of Allah (ﷺ) said: Abu al-Mundhir, which verse of Allah's Book that you have is creates ? I replied: Allah and His Apostle know best. He said: Abu al-Mundhir, which verse of Allah's that you have is greatest ? I said: Allah, there is no god but He, the Living, the Eternal. Thereupon he struck me on the beast and said: May knowledge be pleasant for you, Abu al-Mundhir
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابومنذر! ۱؎ کتاب اللہ کی کون سی آیت تمہارے نزدیک سب سے باعظمت ۲؎ ہے؟ ، میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ابومنذر! کتاب اللہ کی کون سی آیت تمہارے نزدیک سب سے بڑی ہے؟ ، میں نے عرض کیا: «الله لا إله إلا هو الحي القيوم» ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے کو تھپتھپایا اور فرمایا: اے ابومنذر! تمہیں علم مبارک ہو ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ الْمِصْرِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ جَاءَ هِلاَلٌ - أَحَدُ بَنِي مُتْعَانَ - إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِعُشُورِ نَحْلٍ لَهُ وَكَانَ سَأَلَهُ أَنْ يَحْمِيَ لَهُ وَادِيًا يُقَالُ لَهُ سَلَبَةُ فَحَمَى لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَلِكَ الْوَادِي فَلَمَّا وُلِّيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رضى الله عنه - كَتَبَ سُفْيَانُ بْنُ وَهْبٍ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ يَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِكَ فَكَتَبَ عُمَرُ رضى الله عنه إِنْ أَدَّى إِلَيْكَ مَا كَانَ يُؤَدِّي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ عُشُورِ نَحْلِهِ لَهُ فَاحْمِ لَهُ سَلَبَةَ وَإِلاَّ فَإِنَّمَا هُوَ ذُبَابُ غَيْثٍ يَأْكُلُهُ مَنْ يَشَاءُ ‏.‏
Amr bin Shu'aib, on his father's authority, said that his grandfather reported:Hilal, a man from the tribe of Banu Mat'an brought a tenth of honey which he possessed in beehives to the Messenger of Allah (ﷺ). He asked him (the apostle of Allah) to give the wood known as Salabah as a protected (or restricted) land. The Messenger of Allah (ﷺ) gave him that wood as a protected land. When Umar ibn al-Khattab succeeded, Sufyan ibn Wahb wrote to Umar asking him about this wood. Umar ibn al-Khattab wrote to him: If he (Hilal) pays you the tithe on honey what he used to pay to the Messenger of Allah (ﷺ), leave the protected land of Salabah in his possession; otherwise those bees are like those of any wood; anyone can take the honey as he likes
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ بنی متعان کے ایک فرد متعان اپنے شہد کا عشر ( دسواں حصہ ) لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے اس کے ایک سلبہ نامی جنگل کا ٹھیکا طلب کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جنگل کو ٹھیکے پردے دیا، جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو سفیان بن وہب نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خط لکھا، وہ ان سے اس کے متعلق پوچھ رہے تھے، عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ( جواب میں ) لکھا اگر ہلال تم کو اسی قدر دیتے ہیں، جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتے تھے یعنی اپنے شہد کا دسواں حصہ، تو سلبہ کا ان کا ٹھیکا قائم رکھو اور اگر وہ ایسا نہ کریں تو مکھیاں بھی جنگل کی دوسری مکھیوں کی طرح ہیں، جو چاہے ان کا شہد کھا سکتا ہے۔
Narrated by Abdullah ibn Qurt
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، - وَهَذَا لَفْظُ إِبْرَاهِيمَ - عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ لُحَىٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرْطٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِنَّ أَعْظَمَ الأَيَّامِ عِنْدَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَوْمُ النَّحْرِ ثُمَّ يَوْمُ الْقَرِّ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عِيسَى قَالَ ثَوْرٌ وَهُوَ الْيَوْمُ الثَّانِي ‏.‏ قَالَ وَقُرِّبَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَدَنَاتٌ خَمْسٌ أَوْ سِتٌّ فَطَفِقْنَ يَزْدَلِفْنَ إِلَيْهِ بِأَيَّتِهِنَّ يَبْدَأُ فَلَمَّا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا - قَالَ فَتَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ خَفِيَّةٍ لَمْ أَفْهَمْهَا فَقُلْتُ مَا قَالَ - قَالَ ‏"‏ مَنْ شَاءَ اقْتَطَعَ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Qurt: The Prophet (ﷺ) said: The greatest day in Allah's sight is the day of sacrifice and next the day of resting which Isa said on the authority of Thawr is the second day. Five or six sacrificial camels were brought to the Messenger of Allah (ﷺ) and they began to draw near to see which he would sacrifice first. When they fell down dead, he said something in a low voice, which I could not catch. So I asked: What did he say? He was told that he had said: Anyone who wants can cut off a piece
عبداللہ بن قرط رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: اللہ تبارک و تعالیٰ کے نزدیک سب سے عظیم دن یوم النحر ہے پھر یوم القر ہے ۱؎ ، اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پانچ یا چھ اونٹنیاں لائی گئیں، تو ان میں سے ہر ایک آگے بڑھنے لگی کہ آپ نحر کی ابتداء اس سے کریں جب وہ گر گئیں تو آپ نے آہستہ سے کچھ کہا جو میں نہ سمجھ سکا تو میں نے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو چاہے اس میں سے گوشت کاٹ لے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ ‏{‏ لاَ يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْهًا وَلاَ تَعْضُلُوهُنَّ لِتَذْهَبُوا بِبَعْضِ مَا آتَيْتُمُوهُنَّ إِلاَّ أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ ‏}‏ وَذَلِكَ أَنَّ الرَّجُلَ كَانَ يَرِثُ امْرَأَةَ ذِي قَرَابَتِهِ فَيَعْضُلُهَا حَتَّى تَمُوتَ أَوْ تَرُدَّ إِلَيْهِ صَدَاقَهَا فَأَحْكَمَ اللَّهُ عَنْ ذَلِكَ وَنَهَى عَنْ ذَلِكَ ‏.‏
Ibn ‘Abbas explained the Qur’anic verse It is not lawful for you forcibly to inherit the woman (of your deceased kinsmen) nor (that) ye should put constraint upon them that ye may take away a part of that which ye have given them, unless they be guilty of flagrant lewdness and said “This means that a man used to inherit a relative woman. He prevented her from marriage till she died or returned her dower to her. Hence, Allaah prohibited that practice
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آیت کریمہ: «لا يحل لكم أن ترثوا النساء كرها ولا تعضلوهن لتذهبوا ببعض ما آتيتموهن إلا أن يأتين بفاحشة مبينة» اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور ان کی عدت پوری ہو جائے تو تم انہیں اپنے شوہروں سے نکاح کرنے سے مت روکو ( سورۃ البقرہ: ۲۳۲ ) کے متعلق مروی ہے کہ ایسا ہوتا تھا کہ آدمی اپنی کسی قرابت دار عورت کا وارث ہوتا تو اسے دوسرے سے نکاح سے روکے رکھتا یہاں تک کہ وہ یا تو مر جاتی یا اسے اپنا مہر دے دیتی تو اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ میں حکم نازل فرما کر ایسا کرنے سے منع کر دیا۔
Narrated by Hisham b. 'Urwah
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، أَنَّ جَمِيلَةَ، كَانَتْ تَحْتَ أَوْسِ بْنِ الصَّامِتِ وَكَانَ رَجُلاً بِهِ لَمَمٌ فَكَانَ إِذَا اشْتَدَّ لَمَمُهُ ظَاهَرَ مِنَ امْرَأَتِهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى فِيهِ كَفَّارَةَ الظِّهَارِ ‏.‏
Narrated Hisham b. 'Urwah: Khawlah was the wife of Aws ibn as-Samit; he was a man immensely given to sexual intercourse. When his desire for intercourse was intensified, he made his wife like his mother's back. So Allah, the Exalted, sent down Qur'anic verses relating to expiation for zihar
ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ جمیلہ رضی اللہ عنہا اوس بن صامت رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، اور وہ عورتوں کے دیوانے تھے جب ان کی دیوانگی بڑھ جاتی تو وہ اپنی عورت سے ظہار کر لیتے، اللہ تعالیٰ نے انہیں کے متعلق ظہار کے کفارے کا حکم نازل فرمایا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى أَبُو مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، أَخْبَرَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، - يَعْنِي ابْنَ سَالِمٍ - الْمُقَفَّعُ - قَالَ رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقْبِضُ عَلَى لِحْيَتِهِ فَيَقْطَعُ مَا زَادَ عَلَى الْكَفِّ وَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَفْطَرَ قَالَ ‏ "‏ ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ وَثَبَتَ الأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏
Marwan ibn Salim al-Muqaffa' said: I saw Ibn Umar holding his beard with his hand and cutting what exceeded the handful of it. He (Ibn Umar) said that the Prophet (ﷺ) said when he broke his fast: Thirst has gone, the arteries are moist, and the reward is sure, if Allah wills
مروان بن سالم مقفع کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا، وہ اپنی داڑھی کو مٹھی میں پکڑتے اور جو مٹھی سے زائد ہوتی اسے کاٹ دیتے، اور کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب افطار کرتے تو یہ دعا پڑھتے: «ذهب الظمأ وابتلت العروق وثبت الأجر إن شاء الله» پیاس ختم ہو گئی، رگیں تر ہو گئیں، اور اگر اللہ نے چاہا تو ثواب مل گیا ۔
Narrated by Hasana' daughter of Mu'awiyah
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ، حَدَّثَتْنَا حَسْنَاءُ بِنْتُ مُعَاوِيَةَ الصَّرِيمِيَّةُ، قَالَتْ حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏:‏ مَنْ فِي الْجَنَّةِ قَالَ ‏:‏ ‏ "‏ النَّبِيُّ فِي الْجَنَّةِ، وَالشَّهِيدُ فِي الْجَنَّةِ، وَالْمَوْلُودُ فِي الْجَنَّةِ، وَالْوَئِيدُ فِي الْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Hasana' daughter of Mu'awiyah: She reported on the authority of her paternal uncle: I asked the Prophet (ﷺ): Who are in Paradise? He replied: Prophets are in Paradise, martyrs are in Paradise, infants are in Paradise and children buried alive are in Paradise
حسناء بنت معاویہ کے چچا رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: جنت میں کون ہو گا؟ آپ نے فرمایا: نبی جنت میں ہوں گے، شہید جنت میں ہوں گے، ( نابالغ ) بچے اور زندہ درگور کئے گئے بچے جنت میں ہوں گے ۔
Narrated by Sa'id
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، قَالَ الْفَرَعُ أَوَّلُ النِّتَاجِ كَانَ يُنْتَجُ لَهُمْ فَيَذْبَحُونَهُ ‏.‏
Narrated Sa'id:Fara' was the first animal born to them (the Arabs) which they sacrificed
سعید بن مسیب کہتے ہیں «فرع» پہلوٹے بچے کو کہتے ہیں جس کی پیدائش پر اسے ذبح کر دیا کرتے تھے۔
Narrated by Umar ibn AbdulAziz
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، قَالَ جَمَعَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بَنِي مَرْوَانَ حِينَ اسْتُخْلِفَ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَتْ لَهُ فَدَكُ فَكَانَ يُنْفِقُ مِنْهَا وَيَعُودُ مِنْهَا عَلَى صَغِيرِ بَنِي هَاشِمٍ وَيُزَوِّجُ مِنْهَا أَيِّمَهُمْ وَإِنَّ فَاطِمَةَ سَأَلَتْهُ أَنْ يَجْعَلَهَا لَهَا فَأَبَى فَكَانَتْ كَذَلِكَ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ فَلَمَّا أَنْ وَلِيَ أَبُو بَكْرٍ رضى الله عنه عَمِلَ فِيهَا بِمَا عَمِلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي حَيَاتِهِ حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ فَلَمَّا أَنْ وَلِيَ عُمَرُ عَمِلَ فِيهَا بِمِثْلِ مَا عَمِلاَ حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ ثُمَّ أَقْطَعَهَا مَرْوَانُ ثُمَّ صَارَتْ لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ - يَعْنِي عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ - فَرَأَيْتُ أَمْرًا مَنَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلاَمُ لَيْسَ لِي بِحَقٍّ وَأَنَا أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ رَدَدْتُهَا عَلَى مَا كَانَتْ يَعْنِي عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَلِيَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْخِلاَفَةَ وَغَلَّتُهُ أَرْبَعُونَ أَلْفَ دِينَارٍ وَتُوُفِّيَ وَغَلَّتُهُ أَرْبَعُمِائَةِ دِينَارٍ وَلَوْ بَقِيَ لَكَانَ أَقَلَّ ‏.‏
Narrated Umar ibn AbdulAziz: Al-Mughirah (ibn Shu'bah) said: Umar ibn AbdulAziz gathered the family of Marwan when he was made caliph, and he said: Fadak belonged to the Messenger of Allah (ﷺ), and he made contributions from it, showing repeated kindness to the poor of the Banu Hashim from it, and supplying from it the cost of marriage for those who were unmarried. Fatimah asked him to give it to her, but he refused. That is how matters stood during the lifetime of the Messenger of Allah (ﷺ) till he passed on (i.e. died). When AbuBakr was made ruler he administered it as the Prophet (ﷺ) had done in his lifetime till he passed on. Then when Umar ibn al-Khattab was made ruler he administered it as they had done till he passed on. Then it was given to Marwan as a fief, and it afterwards came to Umar ibn AbdulAziz. Umar ibn AbdulAziz said: I consider I have no right to something which the Messenger of Allah (ﷺ) refused to Fatimah, and I call you to witness that I have restored it to its former condition; meaning in the time of the Messenger of Allah (ﷺ). Abu Dawud said: When 'Umar b. 'Abd al-'Aziz was made caliph its revenue was forty thousand dinars, and when he died its revenue was four hundred dinars. Had he remained alive, it would have been less than it
مغیرہ کہتے ہیں عمر بن عبدالعزیز جب خلیفہ ہوئے تو انہوں نے مروان بن حکم کے بیٹوں کو اکٹھا کیا پھر ارشاد فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فدک تھا، آپ اس کی آمدنی سے ( اہل و عیال، فقراء و مساکین پر ) خرچ کرتے تھے، اس سے بنو ہاشم کے چھوٹے بچوں پر احسان فرماتے تھے، ان کی بیوہ عورتوں کے نکاح پر خرچ کرتے تھے، فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فدک مانگا تو آپ نے انہیں دینے سے انکار کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی تک ایسا ہی رہا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انتقال فرما گئے، پھر جب ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے ویسے ہی عمل کیا جیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں کیا تھا، یہاں تک کہ وہ بھی انتقال فرما گئے، پھر جب عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے بھی ویسے ہی کیا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کیا تھا یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ بھی انتقال فرما گئے، پھر مروان نے اسے اپنی جاگیر بنا لیا، پھر وہ عمر بن عبدالعزیز کے قبضہ و تصرف میں آیا، عمر بن عبدالعزیز کہتے ہیں: تو میں نے اس معاملے پر غور و فکر کیا، میں نے اسے ایک ایسا معاملہ جانا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فاطمہ علیہا السلام کو دینے سے منع کر دیا تو پھر ہمیں کہاں سے یہ حق پہنچتا ہے کہ ہم اسے اپنی ملکیت میں رکھیں؟ تو سن لو، میں تم سب کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ اسے میں نے پھر اس کی اپنی اسی حالت پر لوٹا دیا ہے جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھا ( یعنی میں نے پھر وقف کر دیا ہے ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عمر بن عبدالعزیزخلیفہ مقرر ہوئے تو اس وقت ان کی آمدنی چالیس ہزار دینار تھی، اور انتقال کیا تو ( گھٹ کر ) چار سو دینار ہو گئی تھی، اور اگر وہ اور زندہ رہتے تو اور بھی کم ہو جاتی۔
Narrated by Jabir ibn Abdullah
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْجُشَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ رُمِيَ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فِي صَدْرِهِ أَوْ فِي حَلْقِهِ فَمَاتَ فَأُدْرِجَ فِي ثِيَابِهِ كَمَا هُوَ - قَالَ - وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
Narrated Jabir ibn Abdullah: A man had a shot of arrow in his chest or throat (the narrator is doubtful). So he died. He was shrouded in his clothes as he was. The narrator said: We were with the Messenger of Allah (ﷺ)
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک شخص سینے یا حلق میں تیر لگنے سے مر گیا تو اسی طرح اپنے کپڑوں میں لپیٹا گیا جیسے وہ تھا، اس وقت ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔
Narrated by Ikrimah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ بِشْرٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، يَرْفَعُهُ قَالَ ‏:‏ ‏"‏ وَاللَّهِ لأَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏:‏ ‏"‏ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏:‏ ‏"‏ وَاللَّهِ لأَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏:‏ ‏"‏ وَاللَّهِ لأَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ سَكَتَ ثُمَّ قَالَ ‏:‏ ‏"‏ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ ‏:‏ زَادَ فِيهِ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ شَرِيكٍ قَالَ ‏:‏ ثُمَّ لَمْ يَغْزُهُمْ ‏.‏
Narrated 'Ikrimah: The Prophet (ﷺ) as saying: I swear by Allah, I shall fight against the Quraish. The then said: If Allah wills. He again said: I swear by Allah, I shall fight against the Quraish if Allah wills. He again said: I swear by Allah, I shall fight against the Quraish. He then kept silence. Then he said: If Allah wills. Abu Dawud said: Al-Walid b. Muslim said on the authority of Sharik: He then said: But he did not fight against them
عکرمہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم اللہ کی میں قریش سے جہاد کروں گا ، پھر فرمایا: ان شاءاللہ پھر فرمایا: قسم اللہ کی میں قریش سے جہاد کروں گا ان شاءاللہ پھر فرمایا: قسم اللہ کی میں قریش سے جہاد کروں گا پھر آپ خاموش رہے پھر فرمایا: ان شاءاللہ ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ ولید بن مسلم نے شریک سے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے: پھر آپ نے ان سے جہاد نہیں کیا ۔
Narrated by Jabir bin ‘Abdullah
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، مُحَمَّدُ بْنُ خَلاَّدٍ الْبَاهِلِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَلِيمِ بْنِ حَيَّانَ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ تُبَاعَ الثَّمَرَةُ حَتَّى تُشَقِّحَ ‏.‏ قِيلَ وَمَا تُشَقِّحُ قَالَ تَحْمَارُّ وَتَصْفَارُّ وَيُؤْكَلُ مِنْهَا ‏.‏
Narrated Jabir bin ‘Abdullah :The Messenger of Allah (ﷺ) forbade the sale of fruits until they are ripened (tushqihah). He was asked: What do you mean by their ripening (ishqah)? He replied: They become red or yellow, and they are eaten
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشقاح سے پہلے پھل بیچنے سے منع فرمایا ہے، پوچھا گیا: اشقاح کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: اشقاح یہ ہے کہ پھل سرخی مائل یا زردی مائل ہو جائیں اور انہیں کھایا جانے لگے ۔
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ أَقَالَ مُسْلِمًا أَقَالَهُ اللَّهُ عَثْرَتَهُ ‏"‏ ‏.‏
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: If anyone rescinds a sale with a Muslim, Allah will cancel his slip, on the Day of Resurrection
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی اپنے مسلمان بھائی سے فروخت کا معاملہ فسخ کر لے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے گناہ معاف کر دے گا ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، بِمَعْنَى إِسْنَادِهِ أَنَّ رَجُلَيْنِ، ادَّعَيَا بَعِيرًا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَبَعَثَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا شَاهِدَيْنِ فَقَسَمَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَهُمَا نِصْفَيْنِ ‏.‏
The tradition mentioned above has also been transmitted by Qatadah through a different chain of narrators to the effect that two men laid claim camel and both of them produced witness so the prophet (peace be upon him) divided it in halves between them
اس سند سے بھی قتادہ سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دو آدمیوں نے کسی ایک اونٹ کا دعویٰ کیا، اور دونوں نے دو دو گواہ پیش کئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دونوں کے درمیان آدھا آدھا تقسیم کر دیا۔
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي عُمَرَ، يَحْيَى الْبَهْرَانِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ يُنْبَذُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الزَّبِيبُ فَيَشْرَبُهُ الْيَوْمَ وَالْغَدَ وَبَعْدَ الْغَدِ إِلَى مَسَاءِ الثَّالِثَةِ ثُمَّ يَأْمُرُ بِهِ فَيُسْقَى الْخَدَمَ أَوْ يُهَرَاقُ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ مَعْنَى يُسْقَى الْخَدَمَ يُبَادَرُ بِهِ الْفَسَادُ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ أَبُو عُمَرَ يَحْيَى بْنُ عُبَيْدٍ الْبَهْرَانِيُّ ‏.‏
Ibn abbas said :Raisins were steeped for the Prophet (ﷺ) and he would drink it in the morning and the night after, the following day and the night after. He then gave orders and it was given to servants to drinks or poured away. Abu Dawud said: That "it was given to servants to drink" means before it spoiled. Abu Dawud said: Abu 'Umar Yahya al-Bahrani
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کشمش کی نبیذ تیار کی جاتی تو آپ اس دن پیتے، دوسرے دن پیتے اور تیسرے دن کی شام تک پیتے پھر حکم فرماتے تو جو بچا ہوتا اسے خدمت گزاروں کو پلا دیا جاتا یا بہا دیا جاتا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: خادموں کو پلانے کا مطلب یہ ہے کہ خراب ہونے سے پہلے پہلے انہیں پلا دیا جاتا۔
Narrated by Abdullah ibn Mas'ud
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ زُهَيْرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عِيَاضٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ كَانَ أَحَبَّ الْعُرَاقِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عُرَاقُ الشَّاةِ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Mas'ud: The bone dearer to the Messenger of Allah (ﷺ) was the bone of sheep
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو «عراق» ( نلی ) ۱؎ میں سب سے زیادہ پسند بکری کی «عراق» ( نلی ) تھی۔
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ طَارِقٍ، - يَعْنِي ابْنَ مُخَاشِنٍ - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِلَدِيغٍ لَدَغَتْهُ عَقْرَبٌ قَالَ فَقَالَ ‏"‏ لَوْ قَالَ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ لَمْ يُلْدَغْ ‏"‏ ‏.‏ أَوْ ‏"‏ لَمْ تَضُرَّهُ ‏"‏ ‏.‏
Narrated AbuHurayrah: A man who was stung by a scorpion was brought to the Prophet (ﷺ). He said: Had he said the word: "I seek refuge in the perfect words of Allah from the evil of what He created, "he would not have been stung, or he said, "It would not have harmed him
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص لایا گیا جسے بچھو نے کاٹ لیا تھا تو آپ نے فرمایا: اگر وہ یہ دعا پڑھ لیتا: «أعوذ بكلمات الله التامة من شر ما خلق» میں اللہ کے کامل کلمات کی پناہ چاہتا ہوں اس کی تمام مخلوقات کی برائی سے تو وہ نہ کاٹتا یا اسے نقصان نہ پہنچاتا ۔
Narrated by Zayd ibn Aslam
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ - عَنْ زَيْدٍ، - يَعْنِي ابْنَ أَسْلَمَ - أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ يَصْبُغُ لِحْيَتَهُ بِالصُّفْرَةِ حَتَّى تَمْتَلِئَ ثِيَابُهُ مِنَ الصُّفْرَةِ فَقِيلَ لَهُ لِمَ تَصْبُغُ بِالصُّفْرَةِ فَقَالَ إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصْبُغُ بِهَا وَلَمْ يَكُنْ شَىْءٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْهَا وَقَدْ كَانَ يَصْبُغُ بِهَا ثِيَابَهُ كُلَّهَا حَتَّى عِمَامَتَهُ ‏.‏
Narrated Zayd ibn Aslam: Ibn Umar used to dye his beard with yellow colour so much so that his clothes were filled (dyed) with yellowness. He was asked: Why do you dye with yellow colour? He replied: I saw the Messenger of Allah (ﷺ) dyeing with yellow colour, and nothing was dearer to him than it. He would dye all his clothes with it, even his turban
زید بن اسلم سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی داڑھی زرد ( زعفرانی ) رنگ سے رنگتے تھے یہاں تک کہ ان کے کپڑے زردی سے بھر جاتے تھے، ان سے پوچھا گیا: آپ زرد رنگ سے کیوں رنگتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے رنگتے دیکھا ہے آپ کو اس سے زیادہ کوئی اور چیز پسند نہ تھی آپ اپنے تمام کپڑے یہاں تک کہ عمامہ کو بھی اسی سے رنگتے تھے۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى لاَ يَصْبُغُونَ فَخَالِفُوهُمْ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Abu Hurairah:The Prophet (ﷺ) as saying: Jews and Christians do not dye (their beards), so act differently from them
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہود و نصاریٰ اپنی داڑھیاں نہیں رنگتے ہیں، لہٰذا تم ان کی مخالفت کرو ، یعنی انہیں خضاب سے رنگا کرو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ قَالَ عَبِيدَةُ السَّلْمَانِيُّ بِهَذَا الْخَبَرِ قَالَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ فَقُلْتُ لَهُ أَتَرَى هَذَا مِنْهُمْ - يَعْنِي الْمُخْتَارَ - فَقَالَ عَبِيدَةُ أَمَا إِنَّهُ مِنَ الرُّءُوسِ ‏.‏
A similar tradition has also been transmitted by Ibrahim (al-Nakha’l) through a different chain if narrators. I (Ibrahim) said to ‘Ubaidat al-Salmant :Do you think that his one of them, that is al-Mukhtar (al-Thaqaff)? He said : He is from the leaders
ابراہیم کہتے ہیں: عبیدہ سلمانی نے اسی طرح کی حدیث بیان کی تو میں نے ان سے پوچھا: کیا آپ اسے یعنی مختار ( ابن ابی عبید ثقفی ) کو بھی انہیں دجالوں میں سے ایک سمجھتے ہیں تو عبیدہ کہنے لگے: وہ تو ان کا سردار ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ قَفَلَ مِنْ غَزْوَةِ خَيْبَرَ فَسَارَ لَيْلَةً حَتَّى إِذَا أَدْرَكَنَا الْكَرَى عَرَّسَ وَقَالَ لِبِلاَلٍ ‏"‏ اكْلأْ لَنَا اللَّيْلَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَغَلَبَتْ بِلاَلاً عَيْنَاهُ وَهُوَ مُسْتَنِدٌ إِلَى رَاحِلَتِهِ فَلَمْ يَسْتَيْقِظِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَلاَ بِلاَلٌ وَلاَ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِهِ حَتَّى إِذَا ضَرَبَتْهُمُ الشَّمْسُ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَوَّلَهُمُ اسْتِيقَاظًا فَفَزِعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ يَا بِلاَلُ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ أَخَذَ بِنَفْسِي الَّذِي أَخَذَ بِنَفْسِكَ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَاقْتَادُوا رَوَاحِلَهُمْ شَيْئًا ثُمَّ تَوَضَّأَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَمَرَ بِلاَلاً فَأَقَامَ لَهُمُ الصَّلاَةَ وَصَلَّى بِهِمُ الصُّبْحَ فَلَمَّا قَضَى الصَّلاَةَ قَالَ ‏"‏ مَنْ نَسِيَ صَلاَةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ ‏{‏ أَقِمِ الصَّلاَةَ لِلذِّكْرَى ‏}‏ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ يُونُسُ وَكَانَ ابْنُ شِهَابٍ يَقْرَؤُهَا كَذَلِكَ ‏.‏ قَالَ أَحْمَدُ قَالَ عَنْبَسَةُ - يَعْنِي عَنْ يُونُسَ - فِي هَذَا الْحَدِيثِ لِذِكْرِي ‏.‏ وَقَالَ أَحْمَدُ الْكَرَى النُّعَاسُ ‏.‏
Abu Hurairah reported:When the Messenger of Allah (ﷺ) returned from the Battle of Khaibar, he travelled during the night. When we felt sleep, he halted for rest. Addressing Bilal he said: Keep vigilance at night for us. But Bilal who was leaning against the saddle of his mount was dominated by sleep. Neither the Prophet (ﷺ) nor Bilal nor any of his Companions could get up till the sunshine struck them. The Messenger of Allah (ﷺ) got up first of all. The Messenger of Allah (ﷺ) was embarrassed and said: O Bilal ! He replied: He who detained your soul, detained my soul, Messenger of Allah, my parents be sacrificed for you. Then they drove their mounts to a little distance. The Prophet (ﷺ) perfumed ablution and commanded Bilal who made announcement for the prayer. He (the Prophet) led them in the Fajr prayer. When he finished prayer, he said: If anyone forget saying prayer, he should observe it when he recalls it, for Allah has said (in the Qur'an): "Establish prayer for my remembrance". Yunus said: Ibn Shihab used to recite this verse in a similar way (i.e. instead of reciting the word li-dhikri - for the sake of My remembrance - he would recite li-dhikra - when you remember). Ahmad (one of the narrator) said: 'Anbasah (a reporter) reported on the authority of Yunus the word li-dhikri (for the sake of my remembrance). Ahmad said: The word nu'as (occurring in this tradition) means "drowsiness
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت غزوہ خیبر سے لوٹے تو رات میں چلتے رہے، یہاں تک کہ جب ہمیں نیند آنے لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اخیر رات میں پڑاؤ ڈالا، اور بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”(تم جاگتے رہنا) اور رات میں ہماری نگہبانی کرنا“، ابوہریرہ کہتے ہیں کہ بلال بھی سو گئے، وہ اپنی سواری سے ٹیک لگائے ہوئے تھے، پھر نہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے نہ بلال رضی اللہ عنہ، اور نہ آپ کے اصحاب میں سے کوئی اور ہی، یہاں تک کہ جب ان پر دھوپ پڑی تو سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا کر بیدار ہوئے اور فرمایا: ”اے بلال!“ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، مجھے بھی اسی چیز نے گرفت میں لے لیا جس نے آپ کو لیا، پھر وہ لوگ اپنی سواریاں ہانک کر آگے کچھ دور لے گئے ۱؎، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور بلال کو حکم دیا تو انہوں نے اقامت کہی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر پڑھائی، جب نماز پڑھا چکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کوئی نماز بھول جائے تو جب بھی یاد آئے اسے پڑھ لے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: نماز قائم کرو جب یاد آئے“۔ یونس کہتے ہیں: ابن شہاب اس آیت کو اسی طرح پڑھتے تھے (یعنی «للذكرى» لیکن مشہور قرأت: «أقم الصلاة للذكرى» (سورۃ طہٰ: ۱۴) ہے)۔ احمد کہتے ہیں: عنبسہ نے یونس سے روایت کرتے ہوئے اس حدیث میں «للذكرى» کہا ہے۔ احمد کہتے ہیں: «الكرى» «نعاس» (اونگھ) کو کہتے ہیں
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَمَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، - قَالَ مَخْلَدٌ عَنْ مَعْمَرٍ، - عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ امْرَأَةً، مَخْزُومِيَّةً كَانَتْ تَسْتَعِيرُ الْمَتَاعَ وَتَجْحَدُهُ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِهَا فَقُطِعَتْ يَدُهَا ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ جُوَيْرِيَةُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَوْ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ زَادَ فِيهِ وَأَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَامَ خَطِيبًا فَقَالَ ‏ "‏ هَلْ مِنِ امْرَأَةٍ تَائِبَةٍ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولِهِ ‏"‏ ‏.‏ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ وَتِلْكَ شَاهِدَةٌ فَلَمْ تَقُمْ وَلَمْ تَتَكَلَّمْ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَاهُ ابْنُ غَنْجٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ فِيهِ فَشَهِدَ عَلَيْهَا ‏.‏
Ibn ‘Umar said:A Makhzuml woman used to borrow goods and deny having received them, so the prophet (ﷺ) gave orders and her hand was cut off. Abu Dawud said: Juwairiyyah has transmitted it from Nafi from Ibn ‘Umar or from Safiyyah daughter of Abu ‘Ubaid. This version adds: The prophet (ﷺ) got up and gave an address saying : Is there any woman who repents to Allah, the Exalted, and to his Apostle? He said it three times, That( woman) was present there but she did not get up and speak. Ibn Ghunj transmitted it from Nafi from Safiyyah daughter of Abu ‘Ubaid. This version has : He witnessed to her
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قبیلہ مخزوم کی ایک عورت لوگوں سے چیزیں منگنی ( مانگ کر ) لے کر مکر جایا کرتی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا تو اس کا ہاتھ کاٹ لیا گیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے جویریہ نے نافع سے، نافع نے ابن عمر سے یا صفیہ بنت ابی عبید سے روایت کیا ہے، اس میں یہ اضافہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے، اور آپ نے تین بار فرمایا: کیا کوئی عورت ہے جو اللہ اور اس کے رسول کے سامنے توبہ کرے؟ وہ وہاں موجود تھی لیکن وہ نہ کھڑی ہوئی اور نہ کچھ بولی ۔ اور اسے ابن غنج نے نافع سے، نافع نے صفیہ بنت ابی عبید سے روایت کیا ہے، اس میں ہے کہ آپ نے اس کے خلاف گواہی دی۔
Narrated by Abu Hurayrah
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، وَهَذَا، لَفْظُهُ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، - يَعْنِي الْمُخَرِّمِيَّ - حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَتَى الْخَلاَءَ أَتَيْتُهُ بِمَاءٍ فِي تَوْرٍ أَوْ رَكْوَةٍ فَاسْتَنْجَى ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ فِي حَدِيثِ وَكِيعٍ ثُمَّ مَسَحَ يَدَهُ عَلَى الأَرْضِ ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِإِنَاءٍ آخَرَ فَتَوَضَّأَ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَحَدِيثُ الأَسْوَدِ بْنِ عَامِرٍ أَتَمُّ ‏.‏
Narrated Abu Hurayrah : When the Prophet (sal Allaahu alayhi wa sallam ) went to the privy, I took to him water in a small vessel or a skin, and he cleansed himself. He then wiped his hand on the ground. I then took to him another vessel and he performed ablution. Abu Dawud said : The tradition is transmitted by al-Aswad b. 'Amir is more perfect
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب پاخانے کے لیے جاتے تو میں پیالے یا چھاگل میں پانی لے کر آپ کے پاس آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پاکی حاصل کرتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: وکیع کی روایت میں ہے: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ہاتھ زمین پر رگڑتے، پھر میں پانی کا دوسرا برتن آپ کے پاس لاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے وضو کرتے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسود بن عامر کی حدیث زیادہ کامل ہے۔
Narrated by Aisha, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ حِصْنًا، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ، يُخْبِرُ عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ عَلَى الْمُقْتَتِلِينَ أَنْ يَنْحَجِزُوا الأَوَّلَ فَالأَوَّلَ وَإِنْ كَانَتِ امْرَأَةً ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ بَلَغَنِي أَنَّ عَفْوَ النِّسَاءِ فِي الْقَتْلِ جَائِزٌ إِذَا كَانَتْ إِحْدَى الأَوْلِيَاءِ وَبَلَغَنِي عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ فِي قَوْلِهِ ‏"‏ يَنْحَجِزُوا ‏"‏ ‏.‏ يَكُفُّوا عَنِ الْقَوَدِ ‏.‏
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: The Prophet (ﷺ) Said: The disputants should refrain from taking retaliation. The one who is nearer should forgive first and then the one who is next to him, even if (the one who forgives) were a woman. Abu Dawud said: I have been informed that forgiving by women in the case of murder is permissible if a woman were one of the heirs (of the slain). I have been told on the authority of Abu 'Ubaid about the meaning of the word yanhajizu, that is, they should refrain from retaliation
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لڑنے والوں پر لازم ہے کہ وہ قصاص لینے سے باز رہیں، پہلے جو سب سے قریبی ہے وہ معاف کرے، پھر اس کے بعد والے خواہ وہ عورت ہی ہو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ عورتوں کا قتل کے سلسلے میں قصاص معاف کر دینا جائز ہے جب وہ مقتول کے اولیاء میں سے ہوں، اور مجھے ابو عبید کے واسطے سے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ کے قول «ينحجزوا» کے معنی قصاص سے باز رہنے کے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا بُرْدٌ أَبُو الْعَلاَءِ، عَنْ مَكْحُولٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَوْضِعُ فُسْطَاطِ الْمُسْلِمِينَ فِي الْمَلاَحِمِ أَرْضٌ يُقَالُ لَهَا الْغُوطَةُ ‏"‏ ‏.‏
Makhul reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:The place of the assembly of Muslims at the time of war will be in a land called al-Ghutah
مکحول کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں کا خیمہ لڑائیوں کے وقت ایک ایسی سر زمین میں ہو گا جسے غوطہٰ ۱؎کہا جاتا ہے ۔
Narrated by Umar ibn al-Khattab
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى النَّيْسَابُورِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنِ ابْنِ حُجَيْرٍ الْعَدَوِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ ‏ "‏ وَتُغِيثُوا الْمَلْهُوفَ وَتَهْدُوا الضَّالَّ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Umar ibn al-Khattab: The Prophet (ﷺ) said: the same occasion: Help the oppressed (sorrowful) and guide those who have lost their way
ابن حجیر عدوی کہتے ہیں کہ میں نے اس قصے میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی روایت کرتے ہوئے سنا، آپ نے فرمایا: اور تم آفت زدہ لوگوں کی مدد کرو اور بھٹکے ہووں کو راستہ بتاؤ ۔