بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Abu Dawood
4
28 hadith
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَمُحَمَّدِ بْنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى نَجْدٍ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِذَاتِ الرِّقَاعِ مِنْ نَخْلٍ لَقِيَ جَمْعًا مِنْ غَطَفَانَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ وَلَفْظُهُ عَلَى غَيْرِ لَفْظِ حَيْوَةَ وَقَالَ فِيهِ حِينَ رَكَعَ بِمَنْ مَعَهُ وَسَجَدَ قَالَ فَلَمَّا قَامُوا مَشَوُا الْقَهْقَرَى إِلَى مَصَافِّ أَصْحَابِهِمْ وَلَمْ يَذْكُرِ اسْتِدْبَارَ الْقِبْلَةِ ‏.‏
Narrated Abu Hurairah: We went out with the Messenger of Allah (ﷺ) to Najd. When we reached Dhat ar-Riqa at Nakhl (or in a valley with palm trees) he met a group of the tribe of Ghatafan. The narrator then reported the tradition to the same effect, but his version is other than that of Haywah. He added to the words "when he bowed along with those who were with him and prostrated" the words "when they stood up, they retraced their footsteps to the rows of their companions". He did not mention the words "their back was towards the qiblah
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نجد کی طرف نکلے یہاں تک کہ جب ہم ذات الرقاع میں تھے تو غطفان کے کچھ لوگ ملے، پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی لیکن اس کے الفاظ حیوۃ کے الفاظ سے مختلف ہیں اس میں «حين ركع بمن معه وسجد» کے الفاظ ہیں، نیز اس میں ہے «فلما قاموا مشوا القهقرى إلى مصاف أصحابهم» یعنی جب وہ اٹھے تو الٹے پاؤں پھرے اور اپنے ساتھیوں کی صف میں آ کھڑے ہوئے ، اس میں انہوں نے «استدبار قبلہ» ( قبلہ کی طرف پیٹھ کرنے ) کا ذکر نہیں کیا ہے۔
Narrated by Aishah, wife of Prophet (ﷺ)
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ مَا سَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُبْحَةَ الضُّحَى قَطُّ وَإِنِّي لأُسَبِّحُهَا وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيَدَعُ الْعَمَلَ وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ خَشْيَةَ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ النَّاسُ فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ ‏.‏
Narrated 'Aishah, wife of Prophet (ﷺ):The Messenger of Allah (ﷺ) never offered prayer in the forenoon, but I offer it. The Messenger of Allah (ﷺ) would give up an action, though he liked it to do, lest the people should continue it and it is prescribed for them
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی نماز کبھی نہیں پڑھی، لیکن میں اسے پڑھتی ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بسا اوقات ایک عمل کو چاہتے ہوئے بھی اسے محض اس ڈر سے ترک فرما دیتے تھے کہ لوگوں کے عمل کرنے سے کہیں وہ ان پر فرض نہ ہو جائے۔
Narrated by Abdullah ibn Abbas
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أُوتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِي الطُّوَلِ وَأُوتِيَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ سِتًّا فَلَمَّا أَلْقَى الأَلْوَاحَ رُفِعَتْ ثِنْتَانِ وَبَقِيَ أَرْبَعٌ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Messenger of Allah (ﷺ) was given seven repeated long surahs, while Moses was given six, When he threw the tablets, two of them were withdrawn and four remained
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سات لمبی سورتیں دی گئیں ہیں ۱؎ اور موسیٰ ( علیہ السلام ) کو چھ دی گئی تھیں، جب انہوں نے تختیاں ( جن پر تورات لکھی ہوئی تھی ) زمین پر ڈال دیں تو دو آیتیں اٹھا لی گئیں اور چار باقی رہ گئیں۔
Narrated by Mu'adh ibn Jabal
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ، - يَعْنِي ابْنَ بِلاَلٍ - عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ ‏ "‏ خُذِ الْحَبَّ مِنَ الْحَبِّ وَالشَّاةَ مِنَ الْغَنَمِ وَالْبَعِيرَ مِنَ الإِبِلِ وَالْبَقَرَةَ مِنَ الْبَقَرِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ شَبَّرْتُ قِثَّاءَةً بِمِصْرَ ثَلاَثَةَ عَشَرَ شِبْرًا وَرَأَيْتُ أُتْرُجَّةً عَلَى بَعِيرٍ بِقِطْعَتَيْنِ قُطِعَتْ وَصُيِّرَتْ عَلَى مِثْلِ عِدْلَيْنِ ‏.‏
Narrated Mu'adh ibn Jabal: When the Messenger of Allah (ﷺ) sent him to the Yemen, he said (to him): Collect corn from the corn, sheep from the sheep, camel from the camels, and cow from the cows. Abu Dawud said: In Egypt I saw a cucumber thirteen spans in length and a citron cut into two pieces loaded on a camel like two loads
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن بھیجا تو فرمایا: غلہ میں سے غلہ لو، بکریوں میں سے بکری، اونٹوں میں سے اونٹ اور گایوں میں سے گائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے مصر میں ایک ککڑی کو بالشت سے ناپا تو وہ تیرہ بالشت کی تھی اور ایک سنترہ دیکھا جو ایک اونٹ پر لدا ہوا تھا، اس کے دو ٹکڑے کاٹ کر دو بوجھ کے مثل کر دیئے گئے تھے ۱؎۔
Narrated by Ali ibn AbuTalib
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، وَيَعْلَى، ابْنَا عُبَيْدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ، - رضى الله عنه - قَالَ لَمَّا نَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بُدْنَهُ فَنَحَرَ ثَلاَثِينَ بِيَدِهِ وَأَمَرَنِي فَنَحَرْتُ سَائِرَهَا ‏.‏
Narrated Ali ibn AbuTalib: When the Messenger of Allah (ﷺ) sacrificed the camels, he sacrificed thirty of them with his own hand, and then commanded me (to sacrifice them), so I sacrificed the rest of them
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہدی کے اونٹوں کا نحر کیا تو اپنے ہاتھ سے تیس ( ۳۰ ) اونٹ نحر کئے پھر مجھے حکم دیا تو باقی سارے میں نے نحر کئے۔
Narrated by Abdullah ibn Abbas
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - قَالَ الشَّيْبَانِيُّ وَذَكَرَهُ عَطَاءٌ أَبُو الْحَسَنِ السُّوَائِيُّ وَلاَ أَظُنُّهُ إِلاَّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - فِي هَذِهِ الآيَةِ ‏{‏ لاَ يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْهًا وَلاَ تَعْضُلُوهُنَّ ‏}‏ قَالَ كَانَ الرَّجُلُ إِذَا مَاتَ كَانَ أَوْلِيَاؤُهُ أَحَقَّ بِامْرَأَتِهِ مِنْ وَلِيِّ نَفْسِهَا إِنْ شَاءَ بَعْضُهُمْ زَوَّجَهَا أَوْ زَوَّجُوهَا وَإِنْ شَاءُوا لَمْ يُزَوِّجُوهَا فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ فِي ذَلِكَ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Abbas: About the Qur'anic verse: "It is not lawful for you forcibly to inherit the woman (of your deceased kinsmen), nor (that) ye should put constraint upon them. When a man died, his relatives had more right to his wife then her own guardian. If any one of them wanted to marry her, he did so; or they married her (to some other person), and if they did not want to marry her, they did so. So this verse was revealed about the matter
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے آیت کریمہ: «لا يحل لكم أن ترثوا النساء كرها ولا تعضلوهن» تمہارے لیے حلال نہیں کہ تم عورتوں کے بھی زبردستی وارث بن بیٹھو اور نہ ہی تم انہیں نکاح سے اس لیے روک رکھو کہ جو تم نے انہیں دے رکھا ہے اس میں کچھ لے لو ( سورۃ البقرہ: ۱۹ ) کی تفسیر کے سلسلہ میں مروی ہے کہ جب آدمی کا انتقال ہو جاتا تو اس ( آدمی ) کے اولیا یہ سمجھتے تھے کہ اس عورت کے ہم زیادہ حقدار ہیں بہ نسبت اس کے ولی کے، اگر وہ چاہتے تو اس کا نکاح کر دیتے اور اگر نہ چاہتے تو نہیں کرتے، چنانچہ اسی سلسلہ میں یہ آیت نازل ہوئی ۱؎۔
قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَرَأْتُ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ وَزِيرٍ الْمِصْرِيِّ قُلْتُ لَهُ حَدَّثَكُمْ بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ، عَنْ أَوْسٍ، أَخِي عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَعْطَاهُ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ إِطْعَامُ سِتِّينَ مِسْكِينًا ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَعَطَاءٌ لَمْ يُدْرِكْ أَوْسًا وَهُوَ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ قَدِيمُ الْمَوْتِ وَالْحَدِيثُ مُرْسَلٌ وَإِنَّمَا رَوَوْهُ عَنِ الأَوْزَاعِيِّ عَنْ عَطَاءٍ أَنَّ أَوْسًا ‏.‏
Abu Dawud said “I recited to Muhammad bin Wazir Al Misri and said to him Bishr bin Bakr narrated it to you and Al Auza’i narrated it to us. And he said “At’a narrated it to us on the authority of Aus brother of ‘Ubadah bin Al Samit. The Prophet (ﷺ) gave him fifteen sa’s of wheat to feed sixty poor people. Abu Dawud said At’a did not meet Aws (bin Al Samit) who was one of the people of Badr and died in the early days of Islam. This version is therefore, mursal (i.e., a successor narrated it directly from the Prophet (ﷺ), the link of the Companions is missing). This has been narrated by Al Auza’i from At’a from Aus
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے بھائی اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پندرہ صاع جو دی تاکہ ساٹھ مسکینوں کو کھلا دیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عطا نے اوس کو نہیں پایا ہے اور وہ بدری صحابی ہیں ان کا انتقال بہت پہلے ہو گیا تھا، لہٰذا یہ حدیث مرسل ہے، اور لوگوں نے اسے اوزاعی سے اوزاعی نے عطاء سے روایت کیا اس میں «عن أوس» کے بجائے «أوسا» ہے۔
Narrated by Anas ibn Malik
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُفْطِرُ عَلَى رُطَبَاتٍ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ رُطَبَاتٌ فَعَلَى تَمَرَاتٍ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ حَسَا حَسَوَاتٍ مِنْ مَاءٍ ‏.‏
Narrated Anas ibn Malik: The Messenger of Allah (ﷺ) used to break his fast before praying with some fresh dates; but if there were no fresh dates, he had a few dry dates, and if there were no dry dates, he took some mouthfuls of water
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ( مغرب ) پڑھنے سے پہلے چند تازہ کھجوروں سے روزہ افطار کرتے تھے، اگر تازہ کھجوریں نہ ملتیں تو خشک کھجوروں سے افطار کر لیتے اور اگر خشک کھجوریں بھی نہ مل پاتیں تو چند گھونٹ پانی نوش فرما لیتے۔
Narrated by Abdullah ibn Abbas
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏:‏ ‏"‏ لَمَّا أُصِيبَ إِخْوَانُكُمْ بِأُحُدٍ جَعَلَ اللَّهُ أَرْوَاحَهُمْ فِي جَوْفِ طَيْرٍ خُضْرٍ تَرِدُ أَنْهَارَ الْجَنَّةِ، تَأْكُلُ مِنْ ثِمَارِهَا، وَتَأْوِي إِلَى قَنَادِيلَ مِنْ ذَهَبٍ مُعَلَّقَةٍ فِي ظِلِّ الْعَرْشِ، فَلَمَّا وَجَدُوا طِيبَ مَأْكَلِهِمْ وَمَشْرَبِهِمْ وَمَقِيلِهِمْ قَالُوا ‏:‏ مَنْ يُبَلِّغُ إِخْوَانَنَا عَنَّا أَنَّا أَحْيَاءٌ فِي الْجَنَّةِ نُرْزَقُ لِئَلاَّ يَزْهَدُوا فِي الْجِهَادِ وَلاَ يَنْكُلُوا عِنْدَ الْحَرْبِ فَقَالَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ ‏:‏ أَنَا أُبَلِّغُهُمْ عَنْكُمْ ‏.‏ قَالَ ‏:‏ فَأَنْزَلَ اللَّهُ ‏{‏ وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا ‏}‏ ‏"‏ ‏.‏ إِلَى آخِرِ الآيَةِ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Prophet (ﷺ) said: When your brethren were smitten at the battle of Uhud, Allah put their spirits in the crops of green birds which go down to the rivers of Paradise, eat its fruit and nestle in lamps of gold in the shade of the Throne. Then when they experienced the sweetness of their food, drink and rest, they asked: Who will tell our brethren about us that we are alive in Paradise provided with provision, in order that they might not be disinterested in jihad and recoil in war? Allah Most High said: I shall tell them about you; so Allah sent down; "And do not consider those who have been killed in Allah's path." till the end of the verse
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تمہارے بھائی احد کے دن شہید کئے گئے تو اللہ نے ان کی روحوں کو سبز چڑیوں کے پیٹ میں رکھ دیا، جو جنت کی نہروں پر پھرتی ہیں، اس کے میوے کھاتی ہیں اور عرش کے سایہ میں معلق سونے کی قندیلوں میں بسیرا کرتی ہیں، جب ان روحوں نے اپنے کھانے، پینے اور سونے کی خوشی حاصل کر لی، تو وہ کہنے لگیں: کون ہے جو ہمارے بھائیوں کو ہمارے بارے میں یہ خبر پہنچا دے کہ ہم جنت میں زندہ ہیں اور روزی دیئے جاتے ہیں تاکہ وہ جہاد سے بے رغبتی نہ کریں اور لڑائی کے وقت سستی نہ کریں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں تمہاری جانب سے انہیں یہ خبر پہنچائوں گا ، راوی کہتے ہیں: تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ «ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتا» جو اللہ کے راستے میں شہید کر دئیے گئے انہیں مردہ نہ سمجھو ( سورۃ آل عمران: ۱۶۹ ) اخیر آیت تک نازل فرمائی۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ فَرَعَ وَلاَ عَتِيرَةَ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Abu Hurairah:Prophet (ﷺ) sa saying: There is no fara' and 'atirah
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( اسلام میں ) نہ «فرع» ہے اور نہ «عتیرہ» ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، فِي قَوْلِهِ ‏{‏ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلاَ رِكَابٍ ‏}‏ قَالَ صَالَحَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَهْلَ فَدَكَ وَقُرًى قَدْ سَمَّاهَا لاَ أَحْفَظُهَا وَهُوَ مُحَاصِرٌ قَوْمًا آخَرِينَ فَأَرْسَلُوا إِلَيْهِ بِالصُّلْحِ قَالَ ‏{‏ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلاَ رِكَابٍ ‏}‏ يَقُولُ بِغَيْرِ قِتَالٍ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَكَانَتْ بَنُو النَّضِيرِ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم خَالِصًا لَمْ يَفْتَحُوهَا عَنْوَةً افْتَتَحُوهَا عَلَى صُلْحٍ فَقَسَمَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ لَمْ يُعْطِ الأَنْصَارَ مِنْهَا شَيْئًا إِلاَّ رَجُلَيْنِ كَانَتْ بِهِمَا حَاجَةٌ ‏.‏
Al-Zuhri, explaining the verse "For this you made no expedition with either cavalry or camelry" said:The Prophet (ﷺ) concluded the treaty of peace with the people of Fadak and townships which he named which I could not remember ; he blockaded some other people who sent a message to him for capitulation. He said: "For this you made no expedition with either cavalry or camelry" means without fighting. Al-Zuhri said: The Banu al-Nadir property was exclusively kept for the Prophet (ﷺ) ; they did not conquer it by fighting, but conquered it by capitulation. To Prophet (ﷺ) divided it among the Emigrants. He did not give anything to the Helpers except two men were needy
ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ اللہ نے جو فرمایا ہے: «فما أوجفتم عليه من خيل ولا ركاب» یعنی تم نے ان مالوں کے واسطے گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے یعنی بغیر جنگ کے حاصل ہوئے ( سورۃ الحشر: ۶ ) تو ان کا قصہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل فدک اور کچھ دوسرے گاؤں والوں سے جن کے نام زہری نے تو لیے لیکن راوی کو یاد نہیں رہا صلح کی، اس وقت آپ ایک اور قوم کا محاصرہ کئے ہوئے تھے، اور ان لوگوں نے آپ کے پاس بطور صلح مال بھیجا تھا، اس مال کے تعلق سے اللہ نے فرمایا: «فما أوجفتم عليه من خيل ولا ركاب» یعنی بغیر لڑائی کے یہ مال ہاتھ آیا ( اور اللہ نے اپنے رسول کو دیا ) ۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں بنو نضیر کے مال بھی خالص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھے، لوگوں نے اسے زور و زبردستی سے ( یعنی لڑائی کر کے ) فتح نہیں کیا تھا۔ صلح کے ذریعہ فتح کیا تھا، تو آپ نے اسے مہاجرین میں تقسیم کر دیا، اس میں سے انصار کو کچھ نہ دیا، سوائے دو آدمیوں کے جو ضرورت مند تھے۔
Narrated by Abdullah ibn Ja'far
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اصْنَعُوا لآلِ جَعْفَرٍ طَعَامًا فَإِنَّهُ قَدْ أَتَاهُمْ أَمْرٌ شَغَلَهُمْ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Ja'far: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Prepare food for the family of Ja'far for there came upon them an incident which has engaged them
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جعفر کے گھر والوں کے لیے کھانا تیار کرو کیونکہ ان پر ایک ایسا امر ( حادثہ و سانحہ ) پیش آ گیا ہے جس نے انہیں اس کا موقع نہیں دیا ہے ۱؎ ۔
Narrated by Ikrimah ibn AbuJahl
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏:‏ ‏"‏ وَاللَّهِ لأَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا، وَاللَّهِ لأَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا، وَاللَّهِ لأَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏:‏ ‏"‏ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ ‏:‏ وَقَدْ أَسْنَدَ هَذَا الْحَدِيثَ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ شَرِيكٍ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَسْنَدَهُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ شَرِيكٍ ‏:‏ ثُمَّ لَمْ يَغْزُهُمْ ‏.‏
Narrated Ikrimah ibn AbuJahl: The Prophet (ﷺ) said: I swear by Allah, I shall fight against the Quraysh; I swear by Allah, I shall fight against the Quraysh; I swear by Allah, I shall fight against the Quraysh. He then said: "If Allah wills." Abu Dawud said: A number of persons have narrated this tradition from Sharik, from Simak, from 'Ikrimah, from Ibn 'Abbas who reported from the Prophet (ﷺ): "But he did not fight against them
عکرمہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم اللہ کی، میں قریش سے جہاد کروں گا، قسم اللہ کی، میں قریش سے جہاد کروں گا، قسم اللہ کی، میں قریش سے جہاد کروں گا پھر کہا: ان شاءاللہ ( اگر اللہ نے چاہا ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس روایت کو ایک نہیں کئی لوگوں نے شریک سے، شریک نے سماک سے، سماک نے عکرمہ سے، عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور ابن عباس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسنداً بیان کیا ہے، اور ولید بن مسلم نے شریک سے روایت کیا ہے اس میں ہے: پھر آپ نے ان سے غزوہ نہیں کیا ۔
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ، عَنْ مَوْلًى، لِقُرَيْشٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ بَيْعِ الْغَنَائِمِ حَتَّى تُقْسَمَ وَعَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى تُحْرَزَ مِنْ كُلِّ عَارِضٍ وَأَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ بِغَيْرِ حِزَامٍ ‏.‏
Narrated AbuHurayrah: The Messenger of Allah (ﷺ) forbade to sell spoils of war till they are appointed, and to sell palm trees till they are safe from every blight, and a man praying without tying belt
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت بیچنے سے منع فرمایا ہے جب تک کہ وہ تقسیم نہ کر دیا جائے اور کھجور کے بیچنے سے منع فرمایا ہے جب تک کہ وہ ہر آفت سے مامون نہ ہو جائے، اور بغیر کمر بند کے نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے ( کہ کہیں ستر کھل نہ جائے ) ۔
Narrated by Hakim b. Hizam
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَفْتَرِقَا فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا وَإِنْ كَتَمَا وَكَذَبَا مُحِقَتِ الْبَرَكَةُ مِنْ بَيْعِهِمَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ وَحَمَّادٌ وَأَمَّا هَمَّامٌ فَقَالَ ‏"‏ حَتَّى يَتَفَرَّقَا أَوْ يَخْتَارَ ‏"‏ ‏.‏ ثَلاَثَ مِرَارٍ ‏.‏
Narrated Hakim b. Hizam: The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: Both parties in a business transaction have a right of option (to annul it) so long as they are not separated ; and if they tell the truth and make everything clear, they will be blessed in their transaction, but it they conceal anything and lie, the blessing on their transaction will be blotted out. Abu Dawud said: A similar tradition has also been transmitted by Sa'id b. Abi 'Arubah and Hammad. As regards with Hammam, he said in his version: Until they separate or exercise the right of option (to annul the transaction), saying the words of option three times
حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بائع اور مشتری جب تک جدا نہ ہوں دونوں کو بیع کے باقی رکھنے اور فسخ کر دینے کا اختیار ہے، پھر اگر دونوں سچ کہیں اور خوبی و خرابی دونوں بیان کر دیں تو دونوں کے اس خرید و فروخت میں برکت ہو گی اور اگر ان دونوں نے عیوب کو چھپایا، اور جھوٹی باتیں کہیں تو ان دونوں کی بیع سے برکت ختم کر دی جائے گی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے سعید بن ابی عروبہ اور حماد نے روایت کیا ہے، لیکن ہمام کی روایت میں یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بائع و مشتری کو اختیار ہے جب تک کہ دونوں جدا نہ ہوں، یا دونوں تین مرتبہ اختیار کی شرط نہ کر لیں ۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدٍ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ ‏.‏
The tradition mentioned above has also been transmitted by Sa'id through a different chain of narrators to the same effect
اس سند سے بھی سعید (ابن ابی عروبۃ) سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔
Narrated by Aisha, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ سَمِعْتُ شَبِيبَ بْنَ عَبْدِ الْمَلِكِ، يُحَدِّثُ عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ، قَالَ حَدَّثَتْنِي عَمَّتِي، عَمْرَةُ عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها أَنَّهَا كَانَتْ تَنْبِذُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم غُدْوَةً فَإِذَا كَانَ مِنَ الْعَشِيِّ فَتَعَشَّى شَرِبَ عَلَى عَشَائِهِ وَإِنْ فَضَلَ شَىْءٌ صَبَبْتُهُ - أَوْ فَرَغْتُهُ - ثُمَّ تَنْبِذُ لَهُ بِاللَّيْلِ فَإِذَا أَصْبَحَ تَغَدَّى فَشَرِبَ عَلَى غَدَائِهِ قَالَتْ نَغْسِلُ السِّقَاءَ غُدْوَةً وَعَشِيَّةً فَقَالَ لَهَا أَبِي مَرَّتَيْنِ فِي يَوْمٍ قَالَتْ نَعَمْ ‏.‏
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: Amrah said on the authority of Aisha that she would steep dates for the Messenger of Allah (ﷺ) in the morning. When the evening came, he took his dinner and drank it after his dinner. If anything remained, she poured it out. She then would steep for him at night. When the morning came, he took his morning meal and drank it after his morning meal. She said: The skin vessel was washed in the morning and in the evening. My father (Hayyan) said to her: Twice a day? She said: Yes
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے صبح کو نبیذ بھگوتی تھیں تو جب شام کا وقت ہوتا تو آپ شام کا کھانا کھانے کے بعد اسے پیتے، اور اگر کچھ بچ جاتی تو میں اسے پھینک دیتی یا اسے خالی کر دیتی، پھر آپ کے لیے رات میں نبیذ بھگوتی اور صبح ہوتی تو آپ اسے دن کا کھانا تناول فرما کر پیتے۔ وہ کہتی ہیں: مشک کو صبح و شام دھویا جاتا تھا۔ مقاتل کہتے ہیں: میرے والد ( حیان ) نے ان سے کہا: ایک دن میں دو بار؟ وہ بولیں: ہاں دو بار۔
Narrated by Safwan ibn Umayyah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ كُنْتُ آكُلُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَآخُذُ اللَّحْمَ بِيَدِي مِنَ الْعَظْمِ فَقَالَ ‏ "‏ أَدْنِ الْعَظْمَ مِنْ فِيكَ فَإِنَّهُ أَهْنَأُ وَأَمْرَأُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ عُثْمَانُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ صَفْوَانَ وَهُوَ مُرْسَلٌ ‏.‏
Narrated Safwan ibn Umayyah: I was eating with the Prophet (ﷺ) and snatching the meat from the bone with my hand. He said: bring the bone near your mouth, for it is more beneficial and wholesome. Abu Dawud said: 'Uthman did not hear (traditions) from Safwan. This is a mursal tradition
صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھا رہا تھا اور اپنے ہاتھ سے گوشت کو ہڈی سے جدا کر رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہڈی اپنے منہ کے قریب کرو ( اور گوشت دانت سے نوچ کر کھاؤ ) کیونکہ یہ زیادہ لذیذ اور زود ہضم ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عثمان نے صفوان سے نہیں سنا ہے اور یہ مرسل ( یعنی: منقطع ) ہے۔
Narrated by AbuSalih Zakwan as-Samman
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ رَجُلاً، مِنْ أَسْلَمَ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لُدِغْتُ اللَّيْلَةَ فَلَمْ أَنَمْ حَتَّى أَصْبَحْتُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَاذَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عَقْرَبٌ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَمَا إِنَّكَ لَوْ قُلْتَ حِينَ أَمْسَيْتَ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ لَمْ تَضُرَّكَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏
Narrated AbuSalih Zakwan as-Samman: A man from Aslam tribe said: I was sitting with the Messenger of Allah (ﷺ). A man from among his Companions came and said: Messenger of Allah! I have been stung last night, and I could not sleep till morning. He asked: What was that? He replied: A scorpion. He said: Oh, had you said in the evening: "I take refuge in the perfect words of Allah from the evil of what He created," nothing would have harmed you, Allah willing
ابوصالح کہتے ہیں کہ میں نے قبیلہ اسلم کے ایک شخص سے سنا: اس نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا اتنے میں آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آج رات مجھے کسی چیز نے کاٹ لیا تو رات بھر نہیں سویا یہاں تک کہ صبح ہو گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کس چیز نے؟ اس نے عرض کیا: بچھو نے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو اگر تم شام کو یہ دعا پڑھ لیتے: «أعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق» میں اللہ کے کامل کلمات کی پناہ چاہتا ہوں اس کی تمام مخلوقات کی برائی سے تو ان شاءاللہ ( اللہ چاہتا تو ) وہ تم کو نقصان نہ پہنچاتا ۔
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِي ثَوْبٍ دُونٍ فَقَالَ ‏"‏ أَلَكَ مَالٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مِنْ أَىِّ الْمَالِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قَدْ أَتَانِيَ اللَّهُ مِنَ الإِبِلِ وَالْغَنَمِ وَالْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِذَا أَتَاكَ اللَّهُ مَالاً فَلْيُرَ أَثَرُ نِعْمَةِ اللَّهِ عَلَيْكَ وَكَرَامَتِهِ ‏"‏ ‏.‏
Abu al-Ahwas quoted his father saying:I came to the Prophet (ﷺ) wearing a poor garment and he said (to me): Have you any property? He replied: Yes. He asked: What kind is it? He said: Allah has given me camels. Sheep, horses and slaves. He then said: When Allah gives you property, let the mark of Allah's favour and honour to you be seen
مالک بن نضلۃ الجشمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک معمولی کپڑے میں آیا تو آپ نے فرمایا: کیا تم مالدار ہو؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں مالدار ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کس قسم کا مال ہے؟ تو انہوں نے کہا: اونٹ، بکریاں، گھوڑے، غلام ( ہر طرح کے مال سے ) اللہ نے مجھے نوازا ہے، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ نے تمہیں مال و دولت سے نوازا ہے تو اللہ کی نعمت اور اس کے اعزاز کا اثر تمہارے اوپر نظر آنا چاہیئے ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، - الْمَعْنَى - عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ تَنْتِفُوا الشَّيْبَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَشِيبُ شَيْبَةً فِي الإِسْلاَمِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عَنْ سُفْيَانَ ‏"‏ إِلاَّ كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ فِي حَدِيثِ يَحْيَى ‏"‏ إِلاَّ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا حَسَنَةً وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً ‏"‏ ‏.‏
Amr b. Shu'aib, on his father's authority, told that his grandfather reported the Messenger of Allah (ﷺ) said:Do not pluck out grey hair. If any believer grows a grey hair in Islam, he will have light on the Day of Resurrection. (This is Sufyan's version). Yahya's version says: Allah will record on his behalf a good deed for it, and will blot out a sin for it
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفید بال نہ اکھیڑو، اس لیے کہ جس مسلمان کا کوئی بال حالت اسلام میں سفید ہوا ہو ( سفیان کی روایت میں ہے ) تو وہ اس کے لیے قیامت کے دن نور ہو گا ( اور یحییٰ کی روایت میں ہے ) اس کے بدلے اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک نیکی لکھے گا اور اس سے ایک گناہ مٹا دے گا ۔
Narrated by Abu Hurayrah
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو - عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ ثَلاَثُونَ كَذَّابًا دَجَّالاً كُلُّهُمْ يَكْذِبُ عَلَى اللَّهِ وَعَلَى رَسُولِهِ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Abu Hurayrah: The Prophet (ﷺ) said: The Last Hour will not come before there come forth thirty liar Dajjals (fraudulents) lying on Allah and His Apostle
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت قائم نہیں ہو گی جب تک کہ تیس جھوٹے دجال ظاہر نہ ہو جائیں، اور ان میں سے ہر ایک اللہ اور اس کے رسول پر جھوٹ باندھے گا ۔
Narrated by Qabisah ibn Waqqas
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ، - يَعْنِي الزَّعْفَرَانِيَّ - حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ مِنْ بَعْدِي يُؤَخِّرُونَ الصَّلاَةَ فَهِيَ لَكُمْ وَهِيَ عَلَيْهِمْ فَصَلُّوا مَعَهُمْ مَا صَلَّوُا الْقِبْلَةَ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Qabisah ibn Waqqas: The Messenger of Allah (ﷺ) said: After me you will be ruled by rulers who will delay the prayer and it will be to your credit but to their discredit. So pray with them so long as they pray facing the qiblah
قبیصہ بن وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد تم پر ایسے حکمران مسلط ہوں گے جو نماز تاخیر سے پڑھیں گے، یہ تمہارے لیے مفید ہو گی، اور ان کے حق میں غیر مفید، لہٰذا تم ان کے ساتھ نماز پڑھتے رہنا جب تک وہ قبلہ رخ ہو کر پڑھیں ۱؎ ۔
Narrated by Safwan bin Umayyah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ حَمَّادِ بْنِ طَلْحَةَ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ حُمَيْدِ ابْنِ أُخْتِ، صَفْوَانَ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ كُنْتُ نَائِمًا فِي الْمَسْجِدِ عَلَى خَمِيصَةٍ لِي ثَمَنُ ثَلاَثِينَ دِرْهَمًا فَجَاءَ رَجُلٌ فَاخْتَلَسَهَا مِنِّي فَأُخِذَ الرَّجُلُ فَأُتِيَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَ بِهِ لِيُقْطَعَ ‏.‏ قَالَ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ أَنَقْطَعُهُ مِنْ أَجْلِ ثَلاَثِينَ دِرْهَمًا أَنَا أَبِيعُهُ وَأُنْسِئُهُ ثَمَنَهَا قَالَ ‏ "‏ فَهَلاَّ كَانَ هَذَا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَاهُ زَائِدَةُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ جُعَيْدِ بْنِ جُحَيْرٍ قَالَ نَامَ صَفْوَانُ ‏.‏ وَرَوَاهُ مُجَاهِدٌ وَطَاوُسٌ أَنَّهُ كَانَ نَائِمًا فَجَاءَ سَارِقٌ فَسَرَقَ خَمِيصَةً مِنْ تَحْتِ رَأْسِهِ ‏.‏ وَرَوَاهُ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ فَاسْتَلَّهُ مِنْ تَحْتِ رَأْسِهِ فَاسْتَيْقَظَ فَصَاحَ بِهِ فَأُخِذَ ‏.‏ وَرَوَاهُ الزُّهْرِيُّ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ فَنَامَ فِي الْمَسْجِدِ وَتَوَسَّدَ رِدَاءَهُ فَجَاءَهُ سَارِقٌ فَأَخَذَ رِدَاءَهُ فَأُخِذَ السَّارِقُ فَجِيءَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
Narrated Safwan bin Umayyah: I was sleeping in the mosque on a cloak mine whose price was thirty dirhams. A man came and pinched it away from me. The man was seized and brought to the Messenger of Allah (ﷺ). He ordered that his hand should be cut off. I came to him and said: Do you cut off only for thirty dirhams ? I sell it to him and make the payment of its price a loan ? He said: Why did you not do so before bringing him to me ? Abu Dawud said: Za'idah has also transmitted it from Simak from Ju'ayd ibn Hujayr. He said: Safwan slept. Mujahid and Tawus said: While he was sleeping a thief came and stole the cloak from beneath his head. The version of AbuSalamah ibn AbdurRahman has: He snatched it away from beneath his head and he awoke. He cried and he (the thief) was seized. Az-Zuhri narrated from Safwan ibn Abdullah. His version has: He slept in the mosque and used his cloak as pillow. A thief came and took his cloak. The thief was seized and brought to the Prophet (ﷺ)
صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مسجد میں سویا ہوا تھا، میرے اوپر میری ایک اونی چادر پڑی تھی جس کی قیمت تیس درہم تھی، اتنے میں ایک شخص آیا اور اسے مجھ سے چھین کر لے کر بھاگا، لیکن وہ پکڑ لیا گیا، اور اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا کہ اس کا ہاتھ کاٹ لیا جائے، تو میں آپ کے پاس آیا اور عرض کیا: کیا تیس درہم کی وجہ سے آپ اس کا ہاتھ کاٹ ڈالیں گے؟ میں اسے اس کے ہاتھ بیچ دیتا ہوں، اور اس کی قیمت اس پر ادھار چھوڑ دیتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس لانے سے پہلے ہی ایسے ایسے کیوں نہیں کر لیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے زائدہ نے سماک سے، سماک نے جعید بن حجیر سے روایت کیا ہے، اس میں ہے: صفوان سو گئے تھے اتنے میں چور آیا ۔ اور طاؤس و مجاہد نے اس کو یوں روایت کیا ہے کہ وہ سوئے تھے اتنے میں ایک چور آیا، اور ان کے سر کے نیچے سے چادر چرا لی۔ اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اسے یوں روایت کیا ہے کہ اس نے اسے ان کے سر کے نیچے سے کھینچا، تو وہ جاگ گئے، اور چلائے، اور وہ پکڑ لیا گیا۔ اور زہری نے صفوان بن عبداللہ سے اسے یوں روایت کیا ہے کہ وہ مسجد میں سوئے اور انہوں نے اپنی چادر کو تکیہ بنا لیا، اتنے میں ایک چور آیا، اور اس نے ان کی چادر چرا لی، تو اسے پکڑ لیا گیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا۔
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ فِي أَهْلِ قُبَاءَ ‏{‏ فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا ‏}‏ قَالَ كَانُوا يَسْتَنْجُونَ بِالْمَاءِ فَنَزَلَتْ فِيهِمْ هَذِهِ الآيَةُ ‏.‏
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: The following verse was revealed in connection with the people of Quba': "In it are men who love to be purified" (ix.108). He (AbuHurayrah) said: They used to cleanse themselves with water after easing. So the verse was revealed in connection with them
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «فيه رجال يحبون أن يتطهروا» ۱؎ اہل قباء کی شان میں نازل ہوئی ہے، وہ لوگ پانی سے استنجاء کرتے تھے، انہیں کے بارے میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ۔
Narrated by Abu Firas
حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي فِرَاسٍ، قَالَ خَطَبَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رضى الله عنه فَقَالَ إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ عُمَّالِي لِيَضْرِبُوا أَبْشَارَكُمْ وَلاَ لِيَأْخُذُوا أَمْوَالَكُمْ فَمَنْ فُعِلَ بِهِ ذَلِكَ فَلْيَرْفَعْهُ إِلَىَّ أَقُصُّهُ مِنْهُ قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ لَوْ أَنَّ رَجُلاً أَدَّبَ بَعْضَ رَعِيَّتِهِ أَتَقُصُّهُ مِنْهُ قَالَ إِي وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ أَقُصُّهُ وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَقَصَّ مِنْ نَفْسِهِ ‏.‏
Narrated Abu Firas: 'Umar b. al-Khattab (ra) addressed us and said: I did not send my collectors (of zakat) so that they strike your bodies and that they take your property. If that is done with someone and he appeals to me, I shall take retaliation on him. Amr ibn al-'As said: If any man (i.e. governor) inflicts disciplinary punishment on his subjects, would you take retaliation on him too? He said: Yes, by Him in Whose hand my soul is, I shall take retaliation on him. I saw that the Messenger of Allah (ﷺ) has given retaliation on himself
ابوفراس کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہم سے خطاب کیا اور کہا: میں نے اپنے گورنر اس لیے نہیں بھیجے کہ وہ تمہاری کھالوں پہ ماریں، اور نہ اس لیے کہ وہ تمہارے مال لیں، لہٰذا اگر کسی کے ساتھ ایسا سلوک ہو تو وہ اسے مجھ تک پہنچائے، میں اس سے اسے قصاص دلواؤں گا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر کوئی شخص اپنی رعیت کو تادیباً سزا دے تو اس پر بھی آپ اس سے قصاص لیں گے، وہ بولے: ہاں، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں اس سے قصاص لوں گا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اپنی ذات سے قصاص دلایا۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَامِرٍ الْمُرِّيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلاَءِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الأَعْيَسِ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَلْمَانَ، يَقُولُ سَيَأْتِي مَلِكٌ مِنْ مُلُوكِ الْعَجَمِ يَظْهَرُ عَلَى الْمَدَائِنِ كُلِّهَا إِلاَّ دِمَشْقَ ‏.‏
Abu al-A’yas ‘Abd al-Rahman b. Salam said:A king of the foreigners will come and prevail over all the cities except Damascus
عبدالعزیز بن علاء کہتے ہیں کہ انہوں نے ابو الأ عیس عبدالرحمٰن بن سلمان کو کہتے سنا کہ عجم کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ تمام شہروں پر غالب آ جائے گا سوائے دمشق کے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ ‏ "‏ وَإِرْشَادُ السَّبِيلِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Hurairah reported the Prophet (ﷺ) as saying on the same occasion:And guiding the people on their way
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہی قصہ مرفوعاً مروی ہے اس میں یہ بھی ہے آپ نے فرمایا: اور ( بھولے بھٹکوں کو ) راستہ بتانا ۔