حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، وَابْنُ، لَهِيعَةَ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو الأَسْوَدِ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، يُحَدِّثُ عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ هَلْ صَلَّيْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلاَةَ الْخَوْفِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ نَعَمْ . قَالَ مَرْوَانُ مَتَى فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَامَ غَزْوَةِ نَجْدٍ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى صَلاَةِ الْعَصْرِ فَقَامَتْ مَعَهُ طَائِفَةٌ وَطَائِفَةٌ أُخْرَى مُقَابِلَ الْعَدُوِّ ظُهُورُهُمْ إِلَى الْقِبْلَةِ فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَكَبَّرُوا جَمِيعًا الَّذِينَ مَعَهُ وَالَّذِينَ مُقَابِلِي الْعَدُوِّ ثُمَّ رَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَكْعَةً وَاحِدَةً وَرَكَعَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي مَعَهُ ثُمَّ سَجَدَ فَسَجَدَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي تَلِيهِ وَالآخَرُونَ قِيَامٌ مُقَابِلِي الْعَدُوِّ ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَامَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي مَعَهُ فَذَهَبُوا إِلَى الْعَدُوِّ فَقَابَلُوهُمْ وَأَقْبَلَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي كَانَتْ مُقَابِلِي الْعَدُوِّ فَرَكَعُوا وَسَجَدُوا وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَائِمٌ كَمَا هُوَ ثُمَّ قَامُوا فَرَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَكْعَةً أُخْرَى وَرَكَعُوا مَعَهُ وَسَجَدَ وَسَجَدُوا مَعَهُ ثُمَّ أَقْبَلَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي كَانَتْ مُقَابِلِي الْعَدُوِّ فَرَكَعُوا وَسَجَدُوا وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَاعِدٌ وَمَنْ مَعَهُ ثُمَّ كَانَ السَّلاَمُ فَسَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَسَلَّمُوا جَمِيعًا فَكَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَكْعَتَانِ وَلِكُلِّ رَجُلٍ مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ رَكْعَةٌ رَكْعَةٌ .
Urwah ibn az-Zubayr reported that Marwan ibn al-Hakam asked AbuHurayrah:Did you pray in time of danger with the Messenger of Allah (ﷺ)? AbuHurayrah replied: Yes. Marwan then asked: When? AbuHurayrah said: On the occasion of the Battle of Najd. The Messenger of Allah (ﷺ) stood up to offer the afternoon prayer. One section stood with him (to pray) and the other was standing before the enemy, and their backs were towards the qiblah. The Messenger of Allah (ﷺ) uttered the takbir and all of them too uttered the takbir, i.e. those who were with him and those who were facing the enemy. Then the Messenger of Allah (ﷺ) offered one rak'ah and the section that was with him also prayed one rak'ah. He then prostrated himself and those who were with him also prostrated, while the other section was standing before the enemy. The Messenger of Allah (ﷺ) then stood up and the section with him also stood up. They went and faced the enemy and the section that was previously facing the enemy stepped forward. They bowed and prostrated while the Messenger of Allah (ﷺ) was standing in the same position. Then they stood up and the Messenger of Allah (may peace be upon) prayed another rak'ah and all of them bowed and prostrated along with him. After that the section that was standing before the enemy came forward and they bowed and prostrated, while the Messenger of Allah (ﷺ) remained seated and also those who were with him. The salutation then followed. The Messenger of Allah (ﷺ) uttered the salutation and all of them uttered it together. The Messenger of Allah (ﷺ) prayed two rak'ahs and each of the two sections prayed one rak'ah with him (and the other by themselves)
مروان بن حکم سے روایت ہے کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز خوف پڑھی ہے ؟ ابوہریرہ نے جواب دیا : ہاں ، مروان نے پوچھا : کب ؟ ابوہریرہ نے کہا : جس سال غزوہ نجد پیش آیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے لیے کھڑے ہوئے تو ایک جماعت آپ کے ساتھ کھڑی ہوئی اور دوسری جماعت دشمن کے سامنے تھی اور ان کی پیٹھیں قبلہ کی طرف تھیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر تحریمہ کہی تو آپ کے ساتھ والے لوگوں نے اور ان لوگوں نے بھی جو دشمن کے سامنے کھڑے تھے ( سبھوں نے ) تکبیر تحریمہ کہی ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا اور آپ کے ساتھ کھڑی جماعت نے بھی رکوع کیا ، پھر آپ نے سجدہ کیا اور آپ کے قریب والی جماعت نے بھی سجدہ کیا ، اور دوسرے لوگ دشمن کے بالمقابل کھڑے رہے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور وہ جماعت بھی اٹھی جو آپ کے ساتھ تھی اور جا کر دشمن کے سامنے کھڑی ہو گئی ، پھر وہ جماعت ، جو دشمن کے سامنے کھڑی تھی ( امام کے پیچھے ) آ گئی اور اس نے رکوع اور سجدہ کیا ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کھڑے رہے جیسے تھے ، پھر جب وہ جماعت ( سجدہ سے ) اٹھ کھڑی ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ دوسری رکعت ادا کی ، اور ان لوگوں نے آپ کے ساتھ رکوع اور سجدہ کیا پھر جو جماعت دشمن کے سامنے جا کھڑی ہوئی تھی آ گئی اور اس نے رکوع اور سجدہ کیا ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور وہ لوگ جو پہلے سے آپ کے ساتھ موجود تھے بیٹھے رہے ، پھر سلام پھیرا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سبھی لوگوں نے مل کر سلام پھیرا اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعتیں ہوئیں اور دونوں جماعتوں میں سے ہر ایک کی ایک ایک رکعت ۔
Narrated by Abd Allah b. Shaqiq
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي الضُّحَى فَقَالَتْ لاَ إِلاَّ أَنْ يَجِيءَ مِنْ مَغِيبِهِ . قُلْتُ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرِنُ بَيْنَ السُّورَتَيْنِ قَالَتْ مِنَ الْمُفَصَّلِ .
Narrated 'Abd Allah b. Shaqiq:I asked 'Aishah: Did the Messenger of Allah (ﷺ) pray in the Duha? She replied: No, except when he returned from his journey. I then asked: Did the Messenger of Allah (ﷺ) recite the surahs combining each other? She said: He would do so in the mufassal surahs
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں، سوائے اس کے کہ جب آپ سفر سے آتے۔ میں نے عرض کیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو سورتیں ملا کر پڑھتے تھے؟ آپ نے کہا: مفصل کی سورتیں ( ملا کر پڑھتے تھے ) ۱؎۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ سَمِعْتُ حَفْصَ بْنَ عَاصِمٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَرَّ بِهِ وَهُوَ يُصَلِّي فَدَعَاهُ قَالَ فَصَلَّيْتُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ قَالَ فَقَالَ " مَا مَنَعَكَ أَنْ تُجِيبَنِي " . قَالَ كُنْتُ أُصَلِّي . قَالَ " أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ } لأُعَلِّمَنَّكَ أَعْظَمَ سُورَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ أَوْ فِي الْقُرْآنِ " . شَكَّ خَالِدٌ " قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ " . قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَوْلَكَ . قَالَ " { الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ } وَهِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي الَّتِي أُوتِيتُ وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ " .
Abu Sa'id b. al-Mu'alla said that when he was praying the Prophet (ﷺ) passed by him and he called him. He said:I prayed ant then I came to him. He asked: What prevented you from answering me ? He replied: I was praying. He said: Has not Allah said: "O you who believe, respond to Allah and the Apostle when he calls you to that which gives you life ? (8:24) Let me teach you the greatest surah from the Qur'an or in the Qur'an (the narrator Khalid doubted) before I leave the mosque. I said: (I shall memorize) your saying. He said: It is: "Praise be to Allah, the Lord of the Universe" which is the seven oft-repeated verses, and the mighty Qur'an
ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ سے کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ان کے پاس سے ہوا وہ نماز پڑھ رہے تھے، تو آپ نے انہیں بلایا، میں ( نماز پڑھ کر ) آپ کے پاس آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم نے مجھے جواب کیوں نہیں دیا؟ ، عرض کیا: میں نماز پڑھ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: اے مومنو! جواب دو اللہ اور اس کے رسول کو، جب رسول اللہ تمہیں ایسے کام کے لیے بلائیں، جس میں تمہاری زندگی ہے میں تمہیں قرآن کی سب سے بڑی سورۃ سکھاؤں گا اس سے پہلے کہ میں مسجد سے نکلوں ، ( جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد سے نکلنے لگے ) تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ابھی آپ نے کیا فرمایا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ سورۃ «الحمد لله رب العالمين» ہے اور یہی سبع مثانی ہے جو مجھے دی گئی ہے اور قرآن عظیم ہے ۔
حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَالِدٍ الْجُهَنِيُّ، وَحُسَيْنُ بْنُ الأَسْوَدِ الْعِجْلِيُّ، قَالاَ قَالَ وَكِيعٌ الْبَعْلُ الْكَبُوسُ الَّذِي يَنْبُتُ مِنْ مَاءِ السَّمَاءِ . قَالَ ابْنُ الأَسْوَدِ وَقَالَ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ آدَمَ سَأَلْتُ أَبَا إِيَاسٍ الأَسَدِيَّ عَنِ الْبَعْلِ فَقَالَ الَّذِي يُسْقَى بِمَاءِ السَّمَاءِ . وَقَالَ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ الْبَعْلُ مَاءُ الْمَطَرِ .
Waki’ said Ba’l means the agricultural crop which grows by the rain water. Ibn Al Aswad said and Yahya, that is, Ibn Adam said I asked Abu Iyas al Asadi (about this word ba’l). He replied What is watered by rain
وکیع کہتے ہیں «بعل» سے مراد وہ کھیتی ہے جو آسمان کے پانی سے ( بارش ) اگتی ہو، ابن اسود کہتے ہیں: یحییٰ ( یعنی ابن آدم ) کہتے ہیں: میں نے ابو ایاس اسدی سے «بعل» کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: «بعل» وہ زمین ہے جو آسمان کے پانی سے سیراب کی جاتی ہو، نضر بن شمیل کہتے ہیں: «بعل» بارش کے پانی کو کہتے ہیں۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، - وَهَذَا حَدِيثُ مُسَدَّدٍ - عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فُلاَنًا الأَسْلَمِيَّ وَبَعَثَ مَعَهُ بِثَمَانَ عَشْرَةَ بَدَنَةً فَقَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ أُزْحِفَ عَلَىَّ مِنْهَا شَىْءٌ قَالَ " تَنْحَرُهَا ثُمَّ تَصْبُغُ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا ثُمَّ اضْرِبْهَا عَلَى صَفْحَتِهَا وَلاَ تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ وَلاَ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِكَ " . أَوْ قَالَ " مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ الَّذِي تَفَرَّدَ بِهِ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ قَوْلُهُ " وَلاَ تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ وَلاَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ " . وَقَالَ فِي حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ " ثُمَّ اجْعَلْهُ عَلَى صَفْحَتِهَا " . مَكَانَ " اضْرِبْهَا " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ يَقُولُ إِذَا أَقَمْتَ الإِسْنَادَ وَالْمَعْنَى كَفَاكَ .
Ibn Abbas said:The Messenger of Allah (SWAS) sent a man of al-Aslam tribe and sent with him eighteen sacrificial camels (as offering to Makkah). What do you think if any one of them becomes fatigued. He replied : You should sacrifice it then dye its shoe with its blood, then mark with it on its neck. But you or any of your companions should not eat out of it. Abu Dawud said: The following words of this tradition are not supported by any other tradition “You should not eat of it yourself nor any of your companions”. The version of `Abdal Warith has the words “then hang it in its neck” instead of the words “mark or strike with it”. Abu Dawud said I heard Abu Salamah say if the chain of narrators and the meaning are correct, it is sufficient for you
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں اسلمی کو ہدی کے اٹھارہ اونٹ دے کر بھیجا تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! اگر ان میں سے کوئی ( چلنے سے ) عاجز ہو جائے تو آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے نحر کر دینا پھر اس کے جوتے کو اسی کے خون میں رنگ کر اس کی گردن کے ایک جانب چھاپ لگا دینا اور اس میں سے کچھ مت کھانا ۱؎ اور نہ ہی تمہارے ساتھ والوں میں سے کوئی کھائے، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا: «من أهل رفقتك» یعنی تمہارے رفقاء میں سے کوئی نہ کھائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالوارث کی حدیث میں «اضربها» کے بجائے «ثم اجعله على صفحتها» ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے ابوسلمہ کو کہتے سنا: جب تم نے سند اور معنی درست کر لیا تو تمہیں کافی ہے۔
Narrated by Samurah
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - الْمَعْنَى - عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَيُّمَا امْرَأَةٍ زَوَّجَهَا وَلِيَّانِ فَهِيَ لِلأَوَّلِ مِنْهُمَا وَأَيُّمَا رَجُلٍ بَاعَ بَيْعًا مِنْ رَجُلَيْنِ فَهُوَ لِلأَوَّلِ مِنْهُمَا " .
Narrated Samurah: The Prophet (ﷺ) said: Any woman who is married by two guardians (to two different men) belongs to the first woman who is married by two guardians (to two different men) belongs to the first of them and anything sold by a man to two persons belongs to the first of them
سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس عورت کا نکاح دو ولی کر دیں تو وہ اس کی ہو گی جس سے پہلے نکاح ہوا ہے اور جس شخص نے ایک ہی چیز کو دو آدمیوں سے فروخت کر دیا تو وہ اس کی ہے جس سے پہلے بیچی گئی ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، بِهَذَا الْخَبَرِ قَالَ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِتَمْرٍ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ وَهُوَ قَرِيبٌ مِنْ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا قَالَ " تَصَدَّقْ بِهَذَا " . قَالَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَى أَفْقَرَ مِنِّي وَمِنْ أَهْلِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كُلْهُ أَنْتَ وَأَهْلُكَ " .
The tradition mentioned above has been transmitted by Sulaiman bin Yasar. This version has “Then some dates were brought to the Apostle of Allaah(ﷺ) and he gave it him. They measured about fifteen sa’s “. He said “Give them in alms”. He said “Is there anyone needier than I and my family. Apostle of Allaah(ﷺ)?” The Apostle of Allaah(ﷺ) said “Eat them, you and your family.”
لیمان بن یسار سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوریں آئیں تو آپ نے وہ انہیں دے دیں، وہ تقریباً پندرہ صاع تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں صدقہ کر دو ، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! مجھ سے اور میرے گھر والوں سے زیادہ کوئی ضرورت مند نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اور تمہارے گھر والے ہی انہیں کھا لو ۔
Narrated by Salman ibn Amir
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنِ الرَّبَابِ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ، عَمِّهَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ صَائِمًا فَلْيُفْطِرْ عَلَى التَّمْرِ فَإِنْ لَمْ يَجِدِ التَّمْرَ فَعَلَى الْمَاءِ فَإِنَّ الْمَاءَ طَهُورٌ " .
Narrated Salman ibn Amir: The Prophet (ﷺ) said: When one of you is fasting, he should break his fast with dates; but if he cannot get any, then (he should break his fast) with water, for water is purifying
سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی روزے سے ہو تو اسے کھجور ۱؎سے روزہ افطار کرنا چاہیئے اگر کھجور نہ پائے تو پانی سے کر لے اس لیے کہ وہ پاکیزہ چیز ہے ۔
Narrated by Abdullah ibn Amr ibn al-'As
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ حَاتِمٍ الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْوَضَّاحِ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ حَنَانِ بْنِ خَارِجَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي عَنِ الْجِهَادِ، وَالْغَزْوِفَقَالَ : " يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، إِنْ قَاتَلْتَ صَابِرًا مُحْتَسِبًا بَعَثَكَ اللَّهُ صَابِرًا مُحْتَسِبًا، وَإِنْ قَاتَلْتَ مُرَائِيًا مُكَاثِرًا بَعَثَكَ اللَّهُ مُرَائِيًا مُكَاثِرًا، يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، عَلَى أَىِّ حَالٍ قَاتَلْتَ أَوْ قُتِلْتَ بَعَثَكَ اللَّهُ عَلَى تِيكَ الْحَالِ " .
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-'As: Messenger of Allah, tell me about jihad and fighting. He replied: Abdullah ibn Amr, if you fight with endurance seeking from Allah your reward, Allah will resurrect you showing endurance and seeking your reward from Him, but, if you fight for vain show seeking to acquire much, Allah will resurrect you making a vain show and seeking to acquire much. In whatever you fight or are killed, Abdullah ibn Amr, in that state Allah will resurrect you
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے جہاد اور غزوہ کے بارے میں بتائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عبداللہ بن عمرو! اگر تم صبر کے ساتھ ثواب کی نیت سے جہاد کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں صابر اور محتسب ( ثواب کی نیت رکھنے والا ) بنا کر اٹھائے گا، اور اگر تم ریاکاری اور فخر کے اظہار کے لیے جہاد کرو گے تو اللہ تمہیں ریا کار اور فخر کرنے والا بنا کر اٹھائے گا، اے عبداللہ بن عمرو! تم جس حال میں بھی لڑو یا شہید ہو اللہ تمہیں اسی حال پر اٹھائے گا ۔
Narrated by Nubayshah
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ح وَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ بِشْرِ بْنِ الْمُفَضَّلِ، - الْمَعْنَى - حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، قَالَ قَالَ نُبَيْشَةُ نَادَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنَّا كُنَّا نَعْتِرُ عَتِيرَةً فِي الْجَاهِلِيَّةِ فِي رَجَبٍ فَمَا تَأْمُرُنَا قَالَ " اذْبَحُوا لِلَّهِ فِي أَىِّ شَهْرٍ كَانَ وَبَرُّوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَأَطْعِمُوا " . قَالَ إِنَّا كُنَّا نُفْرِعُ فَرَعًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَمَا تَأْمُرُنَا قَالَ " فِي كُلِّ سَائِمَةٍ فَرَعٌ تَغْذُوهُ مَاشِيَتُكَ حَتَّى إِذَا اسْتَحْمَلَ " . قَالَ نَصْرٌ " اسْتَحْمَلَ لِلْحَجِيجِ ذَبَحْتَهُ فَتَصَدَّقْتَ بِلَحْمِهِ " . قَالَ خَالِدٌ أَحْسَبُهُ قَالَ " عَلَى ابْنِ السَّبِيلِ فَإِنَّ ذَلِكَ خَيْرٌ " . قَالَ خَالِدٌ قُلْتُ لأَبِي قِلاَبَةَ كَمِ السَّائِمَةُ قَالَ مِائَةٌ .
Narrated Nubayshah: A man called the Messenger of Allah (ﷺ): We used to sacrifice Atirah in pre-Islamic days during Rajab; so what do you command us? He said: Sacrifice for the sake of Allah in any month whatever; obey Allah, Most High, and feed(the people). He said: We used to sacrifice a Fara' in pre-Islamic days, so what do you command us? He said: On every pasturing animal there is a Fara' which is fed by your cattle till it becomes strong and capable of carrying load. The narrator Nasr said (in his version): When it becomes capable of carrying load of the pilgrims, you may slaughter it and give its meat as charity (sadaqah). The narrator Khalid's version says: You (may give it) to the travellers, for it is better. Khalid said: I asked AbuQilabah: How many pasturing animals? He replied: One hundred
نبیشہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکار کر کہا: ہم جاہلیت میں رجب کے مہینے میں «عتيرة» ( یعنی جانور ذبح ) کیا کرتے تھے تو آپ ہم کو کیا حکم کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: جس مہینے میں بھی ہو سکے اللہ کی رضا کے لیے ذبح کرو، اللہ کے لیے نیکی کرو، اور کھلاؤ ۔ پھر وہ کہنے لگا: ہم زمانہ جاہلیت میں «فرع» ( یعنی قربانی ) کرتے تھے، اب آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر چرنے والے جانور میں ایک «فرع» ہے، جس کو تمہارے جانور جنتے ہیں، یا جسے تم اپنے جانوروں کی «فرع» کھلاتے ہو، جب اونٹ بوجھ لادنے کے قابل ہو جائے ( نصر کی روایت میں ہے: جب حاجیوں کے لیے بوجھ لادنے کے قابل ہو جائے ) تو اس کو ذبح کرو پھر اس کا گوشت صدقہ کرو – خالد کہتے ہیں: میرا خیال ہے انہوں نے کہا: مسافروں پر صدقہ کرو – یہ بہتر ہے ۔ خالد کہتے ہیں: میں نے ابوقلابہ سے پوچھا: کتنے جانوروں میں ایسا کرے؟ انہوں نے کہا: سو جانوروں میں۔
Narrated by Umar ibn al-Khattab
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، قَالَ كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَقُولُ الدِّيَةُ لِلْعَاقِلَةِ وَلاَ تَرِثُ الْمَرْأَةُ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا شَيْئًا حَتَّى قَالَ لَهُ الضَّحَّاكُ بْنُ سُفْيَانَ كَتَبَ إِلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ أُوَرِّثَ امْرَأَةَ أَشْيَمَ الضِّبَابِيِّ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا . فَرَجَعَ عُمَرُ . قَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ وَقَالَ فِيهِ وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم اسْتَعْمَلَهُ عَلَى الأَعْرَابِ .
Narrated Umar ibn al-Khattab: Sa'id said: Umar ibn al-Khattab said: Blood-money is meant for the clan of the slain, and she will not inherit from the blood-money of her husband. Ad-Dahhak ibn Sufyan said: The Messenger of Allah (ﷺ) wrote to me that I should give a share to the wife of Ashyam ad-Dubabi from the blood-money of her husband. So Umar withdrew his opinion. Ahmad ibn Salih said: AbdurRazzaq transmitted this tradition to us from Ma'mar, from az-Zuhri on the authority of Sa'id. In this version he said: The Prophet (ﷺ) made him governor over the bedouins
سعید کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ پہلے کہتے تھے کہ دیت کنبہ والوں پر ہے، اور عورت اپنے شوہر کی دیت سے کچھ حصہ نہ پائے گی، یہاں تک کہ ضحاک بن سفیان نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے لکھ بھیجا تھا کہ اشیم ضبابی کی بیوی کو میں اس کے شوہر کی دیت میں سے حصہ دلاؤں، تو عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے قول سے رجوع کر لیا ۱؎۔ احمد بن صالح کہتے ہیں کہ ہم سے عبدالرزاق نے یہ حدیث معمر کے واسطہ سے بیان کی ہے وہ اسے زہری سے اور وہ سعید سے روایت کرتے ہیں، اس میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ( یعنی ضحاک کو ) دیہات والوں پر عامل بنایا تھا۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، أَنَّ عَائِشَةَ، رضى الله عنها أَخْبَرَتْهُ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ فِيهِ فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ رضى الله عنه عَلَيْهَا ذَلِكَ وَقَالَ لَسْتُ تَارِكًا شَيْئًا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَعْمَلُ بِهِ إِلاَّ عَمِلْتُ بِهِ إِنِّي أَخْشَى إِنْ تَرَكْتُ شَيْئًا مِنْ أَمْرِهِ أَنْ أَزِيغَ فَأَمَّا صَدَقَتُهُ بِالْمَدِينَةِ فَدَفَعَهَا عُمَرُ إِلَى عَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ رضى الله عنهم فَغَلَبَهُ عَلِيٌّ عَلَيْهَا وَأَمَّا خَيْبَرُ وَفَدَكُ فَأَمْسَكَهُمَا عُمَرُ وَقَالَ هُمَا صَدَقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَتَا لِحُقُوقِهِ الَّتِي تَعْرُوهُ وَنَوَائِبِهِ وَأَمْرُهُمَا إِلَى مَنْ وَلِيَ الأَمْرَ . قَالَ فَهُمَا عَلَى ذَلِكَ إِلَى الْيَوْمِ .
Narrating the above tradition, 'Aishah added:Abu Bakr refused that to her. Her said: I am not going to leave anything the Messenger of Allah (ﷺ) used to do but I shall carry it out. I fear if I depart a little from his practice, I shall diverge (from the right path). As regards his sadaqah (property) at Medina, 'Umar had given it to 'Ali ad 'Abbas (Allah be pleased with them), and 'Ali dominated it. As for Khaibar and Fadak, 'Umar retained them. He said: They were the sadaqah (property) of the Messenger of Allah (ﷺ), exclusively reserved for his purposes that happened, and for his emergent needs. Their management was assigned to the one who was in authority. He said: They are in that condition to the present day
(اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے اس میں یہ ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کے دینے سے انکار کیا اور کہا: میں کوئی ایسی چیز چھوڑ نہیں سکتا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے رہے ہوں، میں بھی وہی کروں گا، میں ڈرتا ہوں کہ آپ کے کسی حکم کو چھوڑ کر گمراہ نہ ہو جاؤں۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کے مدینہ کے صدقے کو علی اور عباس رضی اللہ عنہما کی تحویل میں دے دیا، علی رضی اللہ عنہ اس پر غالب اور قابض رہے، رہا خیبر اور فدک تو عمر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو روکے رکھا اور کہا کہ یہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ صدقے ہیں جو آپ کی پیش آمدہ ضروریات اور مشکلات و حوادث، مجاہدین کی تیاری، اسلحہ کی خریداری اور مسافروں کی خبرگیری وغیرہ امور ) میں کام آتے تھے ان کا اختیار اس کو رہے گا جو والی ( یعنی خلیفہ ) ہو۔ راوی کہتے ہیں: تو وہ دونوں آج تک ایسے ہی رہے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ الأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ، - عَامِلٌ لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَلَى الرَّبَذَةِ حَدَّثَنِي أَسِيدُ بْنُ أَبِي أَسِيدٍ، عَنِ امْرَأَةٍ، مِنَ الْمُبَايِعَاتِ قَالَتْ كَانَ فِيمَا أَخَذَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَعْرُوفِ الَّذِي أَخَذَ عَلَيْنَا أَنْ لاَ نَعْصِيَهُ فِيهِ أَنْ لاَ نَخْمِشَ وَجْهًا وَلاَ نَدْعُوَ وَيْلاً وَلاَ نَشُقَّ جَيْبًا وَأَنْ لاَ نَنْشُرَ شَعْرًا .
Usayd ibn Abu Usayd, reported on the authority of a woman who took oath of allegiance (to the Prophet):One of the oaths which the Messenger of Allah (ﷺ) received from us about the virtue was that we would not disobey him in it (virtue): that we would not scratch the face, nor wail, nor tear the front of the garments nor dishevel the hair
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرنے والی عورتوں میں سے ایک عورت کہتی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن بھلی باتوں کا ہم سے عہد لیا تھا کہ ان میں ہم آپ کی نافرمانی نہیں کریں گے وہ یہ تھیں کہ ہم ( کسی کے مرنے پر ) نہ منہ نوچیں گے، نہ تباہی و بربادی کو پکاریں گے، نہ کپڑے پھاڑیں گے اور نہ بال بکھیریں گے۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجُوزَجَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ أَخْبَرَنِي الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، : أَنَّ رَجُلاً، أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بِجَارِيَةٍ سَوْدَاءَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَلَىَّ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً . فَقَالَ لَهَا : " أَيْنَ اللَّهُ " . فَأَشَارَتْ إِلَى السَّمَاءِ بِأُصْبُعِهَا . فَقَالَ لَهَا : " فَمَنْ أَنَا " . فَأَشَارَتْ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَإِلَى السَّمَاءِ، يَعْنِي أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ . فَقَالَ : " أَعْتِقْهَا فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ " .
Narrated Abu Hurairah:A man brought the Prophet (ﷺ) a black slave girl. He said: Messenger of Allah, emancipation of believing slave is due to me. He asked her: Where is Allah ? She pointed to the heaven with her finger. He then asked her: Who am I ? She pointed to the Prophet (ﷺ) and to the heaven, that is to say: You are the Messenger of Allah. He then said: Set her free, she is a believer
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص ایک کالی لونڈی لے کر آیا، اور اس نے عرض کیا: اﷲ کے رسول! میرے ذمہ ایک مومنہ لونڈی آزاد کرنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ( لونڈی ) سے پوچھا: اﷲ کہاں ہے؟ تو اس نے اپنی انگلی سے آسمان کی طرف اشارہ کیا ( یعنی آسمان کے اوپر ہے ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: میں کون ہوں؟ تو اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آسمان کی طرف اشارہ کیا یعنی ( یہ کہا ) آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( لونڈی لے کر آنے والے شخص سے ) کہا: اسے آزاد کر دو یہ مومنہ ہے ۔
Narrated by Ibn 'Umar
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يَزْهُوَ وَعَنِ السُّنْبُلِ حَتَّى يَبْيَضَّ وَيَأْمَنَ الْعَاهَةَ نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُشْتَرِيَ .
Narrated Ibn 'Umar:The Messenger of Allah (ﷺ) forbade selling palm-trees till the dates began to ripen, and ears of corn till they were white and were safe from blight, forbidding it both to the buyer and to the seller
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کو پکنے سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا ہے اور بالی کو بھی یہاں تک کہ وہ سوکھ جائے اور آفت سے مامون ہو جائے بیچنے والے، اور خریدنے والے دونوں کو منع کیا ہے۔
Narrated by Yahya b. Ayyub
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْجَرْجَرَائِيُّ، قَالَ مَرْوَانُ الْفَزَارِيُّ أَخْبَرَنَا عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، قَالَ كَانَ أَبُو زُرْعَةَ إِذَا بَايَعَ رَجُلاً خَيَّرَهُ قَالَ ثُمَّ يَقُولُ خَيِّرْنِي وَيَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَفْتَرِقَنَّ اثْنَانِ إِلاَّ عَنْ تَرَاضٍ " .
Narrated Yahya b. Ayyub: When Abu Zur'ah made a business transaction with a man, he gave him the right of option. He then would tell him: Give me the right of option (to annul the bargain). He said: I heard AbuHurayrah say: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Two people must separate only by mutual consent
یحییٰ بن ایوب کہتے ہیں ابوزرعہ جب کسی آدمی سے خرید و فروخت کرتے تو اسے اختیار دیتے اور پھر اس سے کہتے: تم بھی مجھے اختیار دے دو اور کہتے: میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو آدمی جب ایک ساتھ ہوں تو وہ ایک دوسرے سے علیحدہ نہ ہوں مگر ایک دوسرے سے راضی ہو کر ۱؎ ۔
Narrated by AbuMusa al-Ash'ari
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، أَنَّ رَجُلَيْنِ، ادَّعَيَا بَعِيرًا أَوْ دَابَّةً إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لَيْسَتْ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ فَجَعَلَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَهُمَا .
Narrated AbuMusa al-Ash'ari: Two men claimed a camel or an animal and brought the case to the Holy Prophet (ﷺ). But as neither of them produced any proof, the Holy Prophet (ﷺ) declared that they should share it equally
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دو شخصوں نے ایک اونٹ یا چوپائے کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دعویٰ کیا اور ان دونوں میں سے کسی کے پاس کوئی گواہ نہیں تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چوپائے کو ان کے درمیان تقسیم فرما دیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ كَانَ يُنْبَذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سِقَاءٍ يُوكَأُ أَعْلاَهُ وَلَهُ عَزْلاَءُ يُنْبَذُ غُدْوَةً فَيَشْرَبُهُ عِشَاءً وَيُنْبَذُ عِشَاءً فَيَشْرَبُهُ غُدْوَةً .
A’ishah said :Dates were steeped for the Apostel of Allah (ﷺ) in skin which was tied up at the top and had a mouth. What was steeped in the morning he would drink in the evening and what was steeped in the evening he would drink in the morning
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک ایسے چمڑے کے برتن میں نبیذ تیار کی جاتی تھی جس کا اوپری حصہ باندھ دیا جاتا، اور اس کے نیچے کی طرف بھی منہ ہوتا، صبح میں نبیذ بنائی جاتی تو اسے شام میں پیتے اور شام میں نبیذ بنائی جاتی تو اسے صبح میں پیتے ۱؎۔
Narrated by Aisha, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَقْطَعُوا اللَّحْمَ بِالسِّكِّينِ فَإِنَّهُ مِنْ صَنِيعِ الأَعَاجِمِ وَانْهَسُوهُ فَإِنَّهُ أَهْنَأُ وَأَمْرَأُ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَلَيْسَ هُوَ بِالْقَوِيِّ .
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Do not eat meat with a knife, for it is a foreign practice, but bite it, for it is more beneficial and wholesome. Abu Dawud said: This tradition is not strong
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گوشت چھری سے کاٹ کر مت کھاؤ، کیونکہ یہ اہل عجم کا طریقہ ہے بلکہ اسے دانت سے نوچ کر کھاؤ کیونکہ اس طرح زیادہ لذیذ اور زود ہضم ہوتا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث قوی نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ، عَنْ عَمِّهِ، أَنَّهُ مَرَّ - قَالَ - فَرَقَاهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ غُدْوَةً وَعَشِيَّةً كُلَّمَا خَتَمَهَا جَمَعَ بُزَاقَهُ ثُمَّ تَفَلَ فَكَأَنَّمَا أُنْشِطَ مِنْ عِقَالٍ فَأَعْطَوْهُ شَيْئًا فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ ذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ مُسَدَّدٍ .
Kharijah b. al-Salt quoted his parental uncle as saying that he passed (some people) :He recited Surat al-Fatihah over him for three days morning and evening. Whenever he finished it, he collected some of his saliva and spat it out, and he seemed as if he were set free from a bond. They gave him something as payment. He then came to the Prophet (ﷺ). He then transmitted the rest of the tradition to the same effect as Musaddad narrated
خارجہ بن صلت سے روایت ہے، وہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ وہ ( کچھ لوگوں پر سے ) گزرے ( ان میں ایک دیوانہ شخص تھا ) جس پر وہ صبح و شام فاتحہ پڑھ کر تین دن تک دم کرتے رہے، جب سورۃ فاتحہ پڑھ چکتے تو اپنا تھوک جمع کر کے اس پر تھو تھو کر دیتے، پھر وہ اچھا ہو گیا جیسے کوئی رسیوں میں جکڑا ہوا کھل جائے، تو ان لوگوں نے ایک چیز دی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، پھر انہوں نے وہی بات ذکر کی جو مسدد کی حدیث میں ہے۔
Narrated by AbudDarda
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي حَبِيبَةَ الطَّائِيِّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَثَلُ الَّذِي يُعْتِقُ عِنْدَ الْمَوْتِ كَمَثَلِ الَّذِي يُهْدِي إِذَا شَبِعَ " .
Narrated AbudDarda': The Prophet (ﷺ) said: the similitude of a man who emancipates a slave at the time of his death is like that of a man who gives a present after satisfying his appetite
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مرتے وقت غلام آزاد کرے تو اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کوئی آسودہ ہو جانے کے بعد ہدیہ دے ۔
Narrated by Jabir ibn Abdullah
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مِسْكِينٌ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، نَحْوَهُ عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَأَى رَجُلاً شَعِثًا قَدْ تَفَرَّقَ شَعْرُهُ فَقَالَ " أَمَا كَانَ يَجِدُ هَذَا مَا يُسَكِّنُ بِهِ شَعْرَهُ " . وَرَأَى رَجُلاً آخَرَ وَعَلَيْهِ ثِيَابٌ وَسِخَةٌ فَقَالَ " أَمَا كَانَ هَذَا يَجِدُ مَاءً يَغْسِلُ بِهِ ثَوْبَهُ " .
Narrated Jabir ibn Abdullah: The Messenger of Allah (ﷺ) paid visit to us, and saw a dishevelled man whose hair was disordered. He said: Could this man not find something to make his hair lie down? He saw another man wearing dirty clothes and said: Could this man not find something to wash his garments with
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے آپ نے ایک پراگندہ سر شخص کو جس کے بال بکھرے ہوئے تھے دیکھا تو فرمایا: کیا اسے کوئی ایسی چیز نہیں ملتی جس سے یہ اپنا بال ٹھیک کر لے؟ اور ایک دوسرے شخص کو دیکھا جو میلے کپڑے پہنے ہوئے تھا تو فرمایا: کیا اسے پانی نہیں ملتا جس سے اپنے کپڑے دھو لے؟ ۔
Narrated by Jabir
حَدَّثَنَا ابْنُ نُفَيْلٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ وَقَرَأَهُ عَبْدُ الْمَلِكِ عَلَى أَبِي الزُّبَيْرِ وَرَوَاهُ أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كُنَّا نُعْفِي السِّبَالَ إِلاَّ فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ الاِسْتِحْدَادُ حَلْقُ الْعَانَةِ .
Narrated Jabir: We used to grow beard long except during the Hajj or 'Umrah. Abu Dawud said: Istihdad means to shave the pubes
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم حج و عمرہ کے سوا ہمیشہ داڑھیوں کو لٹکتا رہنے دیتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «استحداد» کے معنی زیر ناف مونڈنے کے ہیں۔
Narrated by Anas b. Malik
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، - يَعْنِي الْوَاسِطِيَّ - عَنْ خَالِدٍ، - يَعْنِي الْحَذَّاءَ - عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ حَائِطًا وَمَعَهُ غُلاَمٌ مَعَهُ مِيضَأَةٌ وَهُوَ أَصْغَرُنَا فَوَضَعَهَا عِنْدَ السِّدْرَةِ فَقَضَى حَاجَتَهُ فَخَرَجَ عَلَيْنَا وَقَدِ اسْتَنْجَى بِالْمَاءِ .
Narrated Anas b. Malik :The Apostle of Allaah ( sal Allaahu alayhi wa sallam ) entered a park. He was accompanied by a boy who had a jug of water with him. He was the youngest of us. He placed it near the lote-tree. He ( the Prophet, sal Allaahu alayhi wa sallam ) relieved himself. He came to us after he had cleansed himself with water
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک باغ کے اندر تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک لڑکا تھا جس کے ساتھ ایک لوٹا تھا، وہ ہم میں سب سے کم عمر تھا، اس نے اسے بیر کے درخت کے پاس رکھ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حاجت سے فارغ ہوئے تو پانی سے استنجاء کر کے ہمارے پاس آئے۔
Narrated by Ubadah ibn as-Samit
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ بْنِ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ يِسَافٍ، عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى، عَنِ ابْنِ أُخْتِ، عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، - الْمَعْنَى - عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ يِسَافٍ، عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى الْحِمْصِيِّ، عَنْ أَبِي أُبَىِّ ابْنِ امْرَأَةِ، عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّهَا سَتَكُونُ عَلَيْكُمْ بَعْدِي أُمَرَاءُ تَشْغَلُهُمْ أَشْيَاءُ عَنِ الصَّلاَةِ لِوَقْتِهَا حَتَّى يَذْهَبَ وَقْتُهَا فَصَلُّوا الصَّلاَةَ لِوَقْتِهَا " . فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُصَلِّي مَعَهُمْ قَالَ " نَعَمْ إِنْ شِئْتَ " . وَقَالَ سُفْيَانُ إِنْ أَدْرَكْتُهَا مَعَهُمْ أَأُصَلِّي مَعَهُمْ قَالَ " نَعَمْ إِنْ شِئْتَ " .
Narrated Ubadah ibn as-Samit: After me you will come under rulers who will be detained from saying prayer at its proper time by (their) works until its time has run out, so offer prayer at its proper time. A man asked him: Messenger of Allah, may I offer prayer with them? He replied: Yes, if you wish (to do so). Sufyan (another narrator through a different chain)said: May I offer prayer with them if I get it with them? He said: Yes, if you wish to do so
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد تمہارے اوپر ایسے حکمران مسلط ہوں گے جنہیں وقت پر نماز پڑھنے سے بہت سی چیزیں غافل کر دیں گی یہاں تک کہ اس کا وقت ختم ہو جائے گا، لہٰذا تم وقت پر نماز پڑھ لیا کرنا ، ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ان کے ساتھ بھی پڑھ لیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں اگر تم چاہو ۔ سفیان نے ( اپنی روایت میں ) یوں کہا ہے: اگر میں نماز ان کے ساتھ پاؤں تو ان کے ساتھ ( بھی ) پڑھ لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، تم ان کے ساتھ ( بھی ) پڑھ لو اگر تم چاہو ۔
Narrated by Abu Hurayrah
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ - عَنِ الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ ثَلاَثُونَ دَجَّالُونَ كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ " .
Narrated Abu Hurayrah: The Prophet (ﷺ) said: The Last Hour will not come before there come forth thirty Dajjals (fraudulents), everyone presuming himself that he is an apostle of Allah
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک تیس دجال ظاہر نہ ہو جائیں، وہ سب یہی کہیں گے کہ میں اللہ کا رسول ہوں ۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ زَادَ " وَلاَ عَلَى الْمُخْتَلِسِ قَطْعٌ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَانِ الْحَدِيثَانِ لَمْ يَسْمَعْهُمَا ابْنُ جُرَيْجٍ مِنْ أَبِي الزُّبَيْرِ وَبَلَغَنِي عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ أَنَّهُ قَالَ إِنَّمَا سَمِعَهُمَا ابْنُ جُرَيْجٍ مِنْ يَاسِينَ الزَّيَّاتِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَقَدْ رَوَاهُمَا الْمُغِيرَةُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
The tradition mentioned above has also been transmitted by Jabir through a different chain of narrators. This version adds :Cutting of the hand is not be inflicted on one who snatches something. Abu Dawud said : Ibn Juraij did not hear these two traditions from Abu al-Zubair, I have been informed by Ahmad. B. Hanbal saving : Ibn Juraij heard them from Yasin al-Zayyat. Aby Dawud said: Al-Mughirah b. Muslim has transmitted it from Abu al-Zubair from Jabir From the prophet(ﷺ)
جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں اس میں اتنا اضافہ ہے اور نہ اچکے کا ہاتھ کاٹا جائے گا ۔
Narrated by AbuSa'id al-Khudri
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرٍو، - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنْ عُبَيْدَةَ بْنِ مُسَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْسِمُ قَسْمًا أَقْبَلَ رَجُلٌ فَأَكَبَّ عَلَيْهِ فَطَعَنَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِعُرْجُونٍ كَانَ مَعَهُ فَجُرِحَ بِوَجْهِهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تَعَالَ فَاسْتَقِدْ " . فَقَالَ بَلْ عَفَوْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ .
Narrated AbuSa'id al-Khudri: When the Messenger of Allah (ﷺ) was distributing something, a man came towards him and bent down on him. The Messenger of Allah (ﷺ) struck him with a bough and his face was wounded. The Messenger of Allah (ﷺ) said to him: Come and take retaliation. He said: no, I have forgiven, Messenger of Allah
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ تقسیم کر رہے تھے کہ اسی دوران ایک شخص آیا اور آپ کے اوپر جھک گیا تو اس کے چہرے پر خراش آ گئی تو آپ نے ایک لکڑی جو آپ کے پاس تھی اسے چبھو دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: آؤ قصاص لے لو ۱؎ وہ بولا: اللہ کے رسول! میں نے معاف کر دیا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ مَكْحُولٍ، قَالَ لَتَمْخُرَنَّ الرُّومُ الشَّامَ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا لاَ يَمْتَنِعُ مِنْهَا إِلاَّ دِمَشْقُ وَعَمَّانُ .
Makhul said:The Romans will enter the Levant and stay there for forty days, and no place will be saved from them but Damascus and 'Uman
مکحول نے کہا رومی شام میں چالیس دن تک لوٹ کھسوٹ کرتے رہیں گے اور سوائے دمشق اور عمان کے کوئی شہر بھی ان سے نہ بچے گا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ - عَنْ زَيْدٍ، - يَعْنِي ابْنَ أَسْلَمَ - عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ بِالطُّرُقَاتِ " . فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا بُدٌّ لَنَا مِنْ مَجَالِسِنَا نَتَحَدَّثُ فِيهَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنْ أَبَيْتُمْ فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهُ " . قَالُوا وَمَا حَقُّ الطَّرِيقِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " غَضُّ الْبَصَرِ وَكَفُّ الأَذَى وَرَدُّ السَّلاَمِ وَالأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْىُ عَنِ الْمُنْكَرِ " .
Abu Sa`id al-Khudri reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying :Avoid sitting in the roads. The people said: Apostle of Allah! We must have meeting places in which to converse. The apostle of Allah (ﷺ) said: If you insist on meeting, give the road its due. They asked: What is the due of roads, Apostle of Allah? He replied: Lowering the eyes, removing anything offensive, returning salutation, commanding what is reputable and forbidding what is disreputable
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ راستوں میں بیٹھنے سے بچو لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمیں اپنی مجالس سے مفر نہیں ہم ان میں ( ضروری امور پر ) گفتگو کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: پھر اگر تم نہیں مانتے تو راستے کا حق ادا کرو لوگوں نے عرض کیا: راستے کا حق کیا ہے؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: نگاہ نیچی رکھنا، ایذاء نہ دینا، سلام کا جواب دینا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ۔