Narrated by Mu'awiyah ibn Suwayd ibn Muqarrin
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، قَالَ حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، قَالَ لَطَمْتُ مَوْلًى لَنَا فَدَعَاهُ أَبِي وَدَعَانِي فَقَالَ اقْتَصَّ مِنْهُ فَإِنَّا مَعْشَرَ بَنِي مُقَرِّنٍ كُنَّا سَبْعَةً عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَلَيْسَ لَنَا إِلاَّ خَادِمٌ . فَلَطَمَهَا رَجُلٌ مِنَّا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَعْتِقُوهَا " . قَالُوا إِنَّهُ لَيْسَ لَنَا خَادِمٌ غَيْرَهَا . قَالَ " فَلْتَخْدُمْهُمْ حَتَّى يَسْتَغْنُوا فَإِذَا اسْتَغْنَوْا فَلْيُعْتِقُوهَا " .
Narrated Mu'awiyah ibn Suwayd ibn Muqarrin: I slapped a freed slave of ours. My father called him and me and said: Take retaliation on him. We, the people of Banu Muqarrin, were seven during the time of the Prophet (ﷺ),and we had only a female servant. A man of us slapped her. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Set her free. They said: We have no other servant than her. He said: She must serve them till they become well off. When they become well off, they should set her free
معاویہ بن سوید بن مقرن کہتے ہیں میں نے اپنے ایک غلام کو طمانچہ مار دیا تو ہمارے والد نے ہم دونوں کو بلایا اور اس سے کہا کہ اس سے قصاص ( بدلہ ) لو، ہم مقرن کی اولاد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سات نفر تھے اور ہمارے پاس صرف ایک خادم تھا، ہم میں سے ایک نے اسے طمانچہ مار دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے آزاد کر دو لوگوں نے عرض کیا: اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی خادم نہیں ہے، آپ نے فرمایا: اچھا جب تک یہ لوگ غنی نہ ہو جائیں تم ان کی خدمت کرتے رہو، اور جب یہ لوگ غنی ہو جائیں تو وہ لوگ اسے آزاد کر دیں ۔
حَدَّثَنَا قَطَنُ بْنُ نُسَيْرٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الأَعْرَجُ الْمَكِّيُّ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَذَكَرَ الإِفْكَ، قَالَتْ جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ وَقَالَ " أَعُوذُ بِالسَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ { إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ } " . الآيَةَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ قَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ جَمَاعَةٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ لَمْ يَذْكُرُوا هَذَا الْكَلاَمَ عَلَى هَذَا الشَّرْحِ وَأَخَافُ أَنْ يَكُونَ أَمْرُ الاِسْتِعَاذَةِ مِنْ كَلاَمِ حُمَيْدٍ .
‘Urwah reported on the authority of ‘A’ishah mentioning the incident of slander. She said:The Messenger of Allah (ﷺ) sat and unveiled his face and said: “I take refuge in Allah, All-Hearing, All-Knowing from the accursed devil. Lo! They who spread the slander are a gang among you.” Abu Dawud said: This is a rejected (munkar) tradition. A group of narrators have reported this tradition from al-Zuhri; but did not mention this detail. I am afraid the phrase concerning “seeking refuge in Allah” is the statement of Humaid
عروہ نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے واقعہ افک کا ذکر کیا، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے اور آپ نے اپنا چہرہ کھولا اور فرمایا: «أعوذ بالسميع العليم من الشيطان الرجيم * إن الذين جاءوا بالإفك عصبة منكم» ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث منکر ہے، اسے ایک جماعت نے زہری سے روایت کیا ہے مگر ان لوگوں نے یہ بات اس انداز سے ذکر نہیں کی اور مجھے اندیشہ ہے کہ استعاذہ کا معاملہ خود حمید کا کلام ہو