Narrated by AbuAyyash az-Zuraqi
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ، قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِعُسْفَانَ وَعَلَى الْمُشْرِكِينَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَصَلَّيْنَا الظُّهْرَ فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ لَقَدْ أَصَبْنَا غِرَّةً لَقَدْ أَصَبْنَا غَفْلَةً لَوْ كُنَّا حَمَلْنَا عَلَيْهِمْ وَهُمْ فِي الصَّلاَةِ فَنَزَلَتْ آيَةُ الْقَصْرِ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فَلَمَّا حَضَرَتِ الْعَصْرُ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ وَالْمُشْرِكُونَ أَمَامَهُ فَصَفَّ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَفٌّ وَصَفَّ بَعْدَ ذَلِكَ الصَّفِّ صَفٌّ آخَرُ فَرَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَرَكَعُوا جَمِيعًا ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ الصَّفُّ الَّذِينَ يَلُونَهُ وَقَامَ الآخَرُونَ يَحْرُسُونَهُمْ فَلَمَّا صَلَّى هَؤُلاَءِ السَّجْدَتَيْنِ وَقَامُوا سَجَدَ الآخَرُونَ الَّذِينَ كَانُوا خَلْفَهُمْ ثُمَّ تَأَخَّرَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ إِلَى مَقَامِ الآخَرِينَ وَتَقَدَّمَ الصَّفُّ الأَخِيرُ إِلَى مَقَامِ الصَّفِّ الأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَرَكَعُوا جَمِيعًا ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ وَقَامَ الآخَرُونَ يَحْرُسُونَهُمْ فَلَمَّا جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ سَجَدَ الآخَرُونَ ثُمَّ جَلَسُوا جَمِيعًا فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ جَمِيعًا فَصَلاَّهَا بِعُسْفَانَ وَصَلاَّهَا يَوْمَ بَنِي سُلَيْمٍ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَى أَيُّوبُ وَهِشَامٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ هَذَا الْمَعْنَى عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَكَذَلِكَ رَوَاهُ دَاوُدُ بْنُ حُصَيْنٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَكَذَلِكَ عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ وَكَذَلِكَ قَتَادَةُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ حِطَّانَ عَنْ أَبِي مُوسَى فِعْلَهُ وَكَذَلِكَ عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَكَذَلِكَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ قَوْلُ الثَّوْرِيِّ .
Narrated AbuAyyash az-Zuraqi: We accompanied the Messenger of Allah (ﷺ) at Usfan, and Khalid ibn al-Walid was the chief of unbelievers. We offered the noon prayer. Thereupon, the unbelievers said: We suffered from negligence; we became careless. We should have attacked them while they were praying. Thereupon the verse was revealed, relating to the shortening of the prayer (in time of danger) between the noon and afternoon (prayer). When the time of the afternoon prayer came, the Messenger of Allah (ﷺ) stood facing the qiblah, and the unbelievers were standing in front of him. The people stood in a row behind the Messenger of Allah (ﷺ) and there was another row behind this row. The Messenger of Allah (ﷺ) bowed and all of them bowed. He then prostrated and also the row near him prostrated. The other people in the second row remained standing and stood guard over them. When they performed two prostrations and stood up, those who were behind them prostrated. The people in the front row near him then stepped backward taking the place of the people in the second row and the second row took the place of the first row. The Messenger of Allah (ﷺ) then bowed and all of them bowed together. Then he and the row near him prostrated themselves. The other people in the second row remained standing and stood guard over them. When the Messenger of Allah (ﷺ) and the row near him (i.e. the front row) were seated, the people in the second row behind them prostrated themselves. Then all of them were seated. (He (the Prophet) then uttered the salutation upon all of them. He prayed in his manner at Usfan as well as at the territory of Banu Sulaym. Abu Dawud said: This tradition has been narrated by Ayyub and Hisham from Abu al-Zubair on the authority of Jabir to the same effect from the Prophet (ﷺ). Similarly, this has been transmitted by Dawud b. Husain from 'Ikrimah, on the authority of Ibn 'Abbas. This has also been reported by 'Abd al-Malik, from 'Ata' from Jabir in like manner. This has also been narrated by Qatadah from al-Hasan from Hittan on the authority of Abu Musa in a similar way. Similarly, this has been reported by 'Ikrimah b. Khalid from Mujahid from the Prophet (ﷺ). This has also been reported by Hisham b. 'Urwah from his father from the Prophet (ﷺ). This is the opinion of al-Thawri
ابوعیاش زرقی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مقام عسفان میں تھے، اس وقت مشرکوں کے سردار خالد بن ولید تھے، ہم نے ظہر پڑھی تو مشرکین کہنے لگے: ہم سے چوک ہو گئی، ہم غفلت کا شکار ہو گئے، کاش! ہم نے دوران نماز ان پر حملہ کر دیا ہوتا، چنانچہ ظہر اور عصر کے درمیان قصر کی آیت نازل ہوئی ۱؎ پھر جب عصر کا وقت ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ رخ ہو کر کھڑے ہوئے، مشرکین آپ کے سامنے تھے، لوگوں نے آپ کے پیچھے ایک صف بنائی اور اس صف کے پیچھے ایک دوسری صف بنائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کے ساتھ بیک وقت رکوع کیا، لیکن سجدہ آپ نے اور صرف اس صف کے لوگوں نے کیا جو آپ سے قریب تر تھے اور باقی ( پچھلی صف کے ) لوگ کھڑے نگرانی کرتے رہے، پھر جب یہ لوگ سجدہ کر کے کھڑے ہو گئے تو باقی دوسرے لوگوں نے جو ان کے پیچھے تھے، سجدے کئے، پھر قریب والی صف پیچھے ہٹ کر دوسری صف کی جگہ پر چلی گئی، اور دوسری صف آگے بڑھ کر پہلی صف کی جگہ پر آ گئی، پھر سب نے مل کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رکوع کیا، اس کے بعد سجدہ صرف آپ اور آپ سے قریب والی صف نے کیا اور بقیہ لوگ کھڑے نگرانی کرتے رہے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قریب والی صف کے لوگ بیٹھ گئے تو بقیہ دوسروں نے سجدہ کیا، پھر سب ایک ساتھ بیٹھے اور ایک ساتھ سلام پھیرا، آپ نے عسفان میں اسی طرح نماز پڑھی اور بنی سلیم سے جنگ کے روز بھی اسی طرح نماز پڑھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ایوب اور ہشام نے ابو الزبیر سے ابوالزبیر نے جابر سے اسی مفہوم کی حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کی ہے۔ اسی طرح یہ حدیث داود بن حصین نے عکرمہ سے، عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے۔ اسی طرح یہ حدیث عبدالملک نے عطا سے، عطاء نے جابر سے روایت کی ہے۔ اسی طرح قتادہ نے حسن سے، حسن نے حطان سے، حطان نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے یہی عمل نقل کیا ہے۔ اسی طرح عکرمہ بن خالد نے مجاہد سے مجاہد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ اسی طرح ہشام بن عروہ نے اپنے والد عروہ سے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے اور یہی ثوری کا قول ہے۔
Narrated by AbuUmamah
حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " صَلاَةٌ فِي أَثَرِ صَلاَةٍ لاَ لَغْوَ بَيْنَهُمَا كِتَابٌ فِي عِلِّيِّينَ " .
Narrated AbuUmamah: The Prophet (ﷺ) said: Prayer followed by a prayer with no idle talk between the two is recorded in Illiyyun
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک نماز کے بعد دوسری نماز کی ادائیگی اور ان دونوں کے درمیان میں کوئی بیہودہ اور فضول کام نہ کرنا ایسا عمل ہے جو علیین میں لکھا جاتا ہے ۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، وَهَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَهُوَ مَاهِرٌ بِهِ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ وَالَّذِي يَقْرَؤُهُ وَهُوَ يَشْتَدُّ عَلَيْهِ فَلَهُ أَجْرَانِ " .
Aishah reported the Prophet (ﷺ) as saying:One who is skilled in the Qur'an is associated with the noble, upright recording angels, and he who falters when he recites the Qur'an and finds it difficult for him will have a double reward
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ نے فرمایا: جو شخص قرآن پڑھتا ہو اور اس میں ماہر ہو تو وہ بڑی عزت والے فرشتوں اور پیغمبروں کے ساتھ ہو گا اور جو شخص اٹک اٹک کر پریشانی کے ساتھ پڑھے تو اسے دہرا ثواب ملے
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَيَّاضٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَيْسَ فِي الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ زَكَاةٌ إِلاَّ زَكَاةُ الْفِطْرِ فِي الرَّقِيقِ " .
Narrated Abu Hurairah: The Prophet (ﷺ) said: No sadaqah is due on a horse or a slave except that given at the breaking of the fast (at the end of Ramadan)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گھوڑے اور غلام یا لونڈی میں زکاۃ نہیں، البتہ غلام یا لونڈی میں صدقہ فطر ہے ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ، - زَعَمَ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْهُمَا، جَمِيعًا وَلَمْ يَحْفَظْ حَدِيثَ هَذَا مِنْ حَدِيثِ هَذَا وَلاَ حَدِيثَ هَذَا مِنْ حَدِيثِ هَذَا - قَالاَ قَالَتْ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْهَدْىِ فَأَنَا فَتَلْتُ قَلاَئِدَهَا بِيَدِي مِنْ عِهْنٍ كَانَ عِنْدَنَا ثُمَّ أَصْبَحَ فِينَا حَلاَلاً يَأْتِي مَا يَأْتِي الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِهِ .
Ai’shah said:The Messenger of Allah (SWAS) sent sacrificial camels as offering (to the Ka’bah) and I twisted with my own hands their garlands of coloured wool that we had with us. Next morning he came free from restrictions, having intercourse (with his wife) as a man not wearing Ihram does with his wife
ام المؤمنین (عائشہ) رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدی روانہ کئے تو میں نے اپنے ہاتھ سے اس اون سے ان کے قلادے بٹے جو ہمارے پاس تھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلال ہو کر ہم میں صبح کی آپ نے وہ تمام کام کئے جو ایک حلال ( غیر مُحرم ) آدمی اپنی بیوی سے کرتا ہے۔
حَدَّثَنِي الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ جَعْفَرٍ، - يَعْنِي ابْنَ رَبِيعَةَ - عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَاهُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ جَعْفَرٌ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ الزُّهْرِيِّ كَتَبَ إِلَيْهِ .
This tradition has also been transmitted by A’ishah through a different chain of narrators from the Prophet (ﷺ) to the same effect. Abu Dawud said “Ja’far did not hear any tradition from Al Zuhri. Al Zuhri gave him his writing.”
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً مروی ہے۔
Narrated by Salamah ibn Sakhr al-Bayadi
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، - قَالَ ابْنُ الْعَلاَءِ ابْنِ عَلْقَمَةَ بْنِ عَيَّاشٍ - عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ، - قَالَ ابْنُ الْعَلاَءِ الْبَيَاضِيِّ - قَالَ كُنْتُ امْرَأً أُصِيبُ مِنَ النِّسَاءِ مَا لاَ يُصِيبُ غَيْرِي فَلَمَّا دَخَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ خِفْتُ أَنْ أُصِيبَ مِنَ امْرَأَتِي شَيْئًا يُتَابَعُ بِي حَتَّى أُصْبِحَ فَظَاهَرْتُ مِنْهَا حَتَّى يَنْسَلِخَ شَهْرُ رَمَضَانَ فَبَيْنَمَا هِيَ تَخْدُمُنِي ذَاتَ لَيْلَةٍ إِذْ تَكَشَّفَ لِي مِنْهَا شَىْءٌ فَلَمْ أَلْبَثْ أَنْ نَزَوْتُ عَلَيْهَا فَلَمَّا أَصْبَحْتُ خَرَجْتُ إِلَى قَوْمِي فَأَخْبَرْتُهُمُ الْخَبَرَ وَقُلْتُ امْشُوا مَعِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالُوا لاَ وَاللَّهِ . فَانْطَلَقْتُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ " أَنْتَ بِذَاكَ يَا سَلَمَةُ " . قُلْتُ أَنَا بِذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَرَّتَيْنِ وَأَنَا صَابِرٌ لأَمْرِ اللَّهِ فَاحْكُمْ فِيَّ مَا أَرَاكَ اللَّهُ قَالَ " حَرِّرْ رَقَبَةً " . قُلْتُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَمْلِكُ رَقَبَةً غَيْرَهَا وَضَرَبْتُ صَفْحَةَ رَقَبَتِي قَالَ " فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ " . قَالَ وَهَلْ أُصِبْتُ الَّذِي أُصِبْتُ إِلاَّ مِنَ الصِّيَامِ قَالَ " فَأَطْعِمْ وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ بَيْنَ سِتِّينَ مِسْكِينًا " . قُلْتُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَقَدْ بِتْنَا وَحْشَيْنِ مَا لَنَا طَعَامٌ قَالَ " فَانْطَلِقْ إِلَى صَاحِبِ صَدَقَةِ بَنِي زُرَيْقٍ فَلْيَدْفَعْهَا إِلَيْكَ فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ وَكُلْ أَنْتَ وَعِيَالُكَ بَقِيَّتَهَا " . فَرَجَعْتُ إِلَى قَوْمِي فَقُلْتُ وَجَدْتُ عِنْدَكُمُ الضِّيقَ وَسُوءَ الرَّأْىِ وَوَجَدْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم السَّعَةَ وَحُسْنَ الرَّأْىِ وَقَدْ أَمَرَنِي - أَوْ أَمَرَ لِي - بِصَدَقَتِكُمْ زَادَ ابْنُ الْعَلاَءِ قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ بَيَاضَةُ بَطْنٌ مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ .
Narrated Salamah ibn Sakhr al-Bayadi: I was a man who was more given than others to sexual intercourse with women. When the month of Ramadan came, I feared lest I should have intercourse with my wife, and this evil should remain with me till the morning. So I made my wife like my mother's back to me till the end of Ramadan. But one night when she was waiting upon me, something of her was revealed. Suddenly I jumped upon her. When the morning came I went to my people and informed them about this matter. I said: Go along with me to the Messenger of Allah (ﷺ). They said: No, by Allah. So I went to the Prophet (peace be upon him and informed him of the matter. He said: Have you really committed it, Salamah? I said: I committed it twice, Messenger of Allah. I am content with the Commandment of Allah, the Exalted; so take a decision about me according to what Allah has shown you. He said: Free a slave. I said: By Him Who sent you with truth, I do not possess a neck other than this: and I struck the surface of my neck. He said: Then fast two consecutive months. I said: Whatever I suffered is due to fasting. He said: Feed sixty poor people with a wasq of dates. I said: By Him Who sent you with truth, we passed the night hungry; there was no food in our house. He said: Then go to the collector of sadaqah of Banu Zurayq; he must give it to you. Then feed sixty poor people with a wasq of dates; and you and your family eat the remaining dates. Then I came back to my people, and said (to them): I found with you poverty and bad opinion; and I found with the Prophet (ﷺ) prosperity and good opinion. He has commanded me to give alms to you. Ibn al-Ala' added: Ibn Idris said: Bayadah is a sub-clan of Banu Zurayq
سلمہ بن صخر بیاضی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کہ لوگوں کے مقابلے میں میں کچھ زیادہ ہی عورتوں کا شوقین تھا، جب ماہ رمضان آیا تو مجھے ڈر ہوا کہ اپنی بیوی کے ساتھ کوئی ایسی حرکت نہ کر بیٹھوں جس کی برائی صبح تک پیچھا نہ چھوڑے چنانچہ میں نے ماہ رمضان کے ختم ہونے تک کے لیے اس سے ظہار کر لیا۔ ایک رات کی بات ہے وہ میری خدمت کر رہی تھی کہ اچانک اس کے جسم کا کوئی حصہ نظر آ گیا تو میں اس سے صحبت کئے بغیر نہیں رہ سکا، پھر جب میں نے صبح کی تو میں اپنی قوم کے پاس آیا اور انہیں سارا ماجرا سنایا، نیز ان سے درخواست کی کہ وہ میرے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلیں، وہ کہنے لگے: اللہ کی قسم یہ نہیں ہو سکتا تو میں خود ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پوری بات بتائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سلمہ! تم نے ایسا کیا؟ میں نے جواب دیا: ہاں اللہ کے رسول، مجھ سے یہ حرکت ہو گئی، دو بار اس طرح کہا، میں اللہ کا حکم بجا لانے کے لیے تیار ہوں، تو آپ میرے بارے میں حکم کیجئے جو اللہ آپ کو سجھائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک گردن آزاد کرو ، میں نے اپنی گردن پر ہاتھ مار کر کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اس کے علاوہ میرے پاس کوئی گردن نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو دو مہینے کے مسلسل روزے رکھو ، میں نے کہا: میں تو روزے ہی کے سبب اس صورت حال سے دوچار ہوا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پھر ساٹھ صاع کھجور ساٹھ مسکینوں کو کھلاؤ ، میں نے جواب دیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہم دونوں تو رات بھی بھوکے سوئے، ہمارے پاس کھانا ہی نہیں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی زریق کے صدقے والے کے پاس جاؤ، وہ تمہیں اسے دے دیں گے اور ساٹھ صاع کھجور ساٹھ مسکینوں کو کھلا دینا اور جو بچے اسے تم خود کھا لینا، اور اپنے اہل و عیال کو کھلا دینا ، اس کے بعد میں نے اپنی قوم کے پاس آ کر کہا: مجھے تمہارے پاس تنگی اور غلط رائے ملی جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گنجائش اور اچھی رائے ملی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یا میرے لیے تمہارے صدقے کا حکم فرمایا ہے۔
Narrated by Umar
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ هِشَامٍ، - الْمَعْنَى - قَالَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِذَا جَاءَ اللَّيْلُ مِنْ هَا هُنَا وَذَهَبَ النَّهَارُ مِنْ هَا هُنَا " . زَادَ مُسَدَّدٌ " وَغَابَتِ الشَّمْسُ فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ " .
Narrated 'Umar:The Prophet (ﷺ) as saying: When the night approaches from this side and the day retreats on that side, and the sun sets - according to the version of Musaddad - he who fasts has reached the time to break it
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب ادھر سے رات آ جائے اور ادھر سے دن چلا جائے اور سورج غروب ہو جائے تو روزہ افطار کرنے کا وقت ہو گیا ۔
Narrated by Mu'adh ibn Jabal
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنِي بَحِيرٌ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي بَحْرِيَّةَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ : " الْغَزْوُ غَزْوَانِ فَأَمَّا مَنِ ابْتَغَى وَجْهَ اللَّهِ، وَأَطَاعَ الإِمَامَ، وَأَنْفَقَ الْكَرِيمَةَ، وَيَاسَرَ الشَّرِيكَ، وَاجْتَنَبَ الْفَسَادَ، فَإِنَّ نَوْمَهُ وَنَبْهَهُ أَجْرٌ كُلُّهُ وَأَمَّا مَنْ غَزَا فَخْرًا وَرِيَاءً وَسُمْعَةً، وَعَصَى الإِمَامَ، وَأَفْسَدَ فِي الأَرْضِ، فَإِنَّهُ لَمْ يَرْجِعْ بِالْكَفَافِ " .
Narrated Mu'adh ibn Jabal: The Prophet (ﷺ) said: Fighting is of two kinds: The one who seeks Allah's favour, obeys the leader, gives the property he values, treats his associates gently and avoids doing mischief, will have the reward for all the time whether he is asleep or awake; but the one who fights in a boasting spirit, for the sake of display and to gain a reputation, who disobeys the leader and does mischief in the earth will not return credit or without blame
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہاد دو طرح کے ہیں: رہا وہ شخص جس نے اللہ کی رضا مندی چاہی، امام کی اطاعت کی، اچھے سے اچھا مال خرچ کیا، ساتھی کے ساتھ نرمی اور محبت کی، اور جھگڑے فساد سے دور رہا تو اس کا سونا اور اس کا جاگنا سب باعث اجر ہے، اور جس نے اپنی بڑائی کے اظہار، دکھاوے اور شہرت طلبی کے لیے جہاد کیا، امام کی نافرمانی کی، اور زمین میں فساد مچایا تو ( اسے ثواب کیا ملنا ) وہ تو برابر برابر بھی نہیں لوٹا ۱؎ ۔
Narrated by Abdullah ibn Abbas
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، وَالْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، مَوْلَى ابْنِ الْمُبَارَكِ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - زَادَ ابْنُ عِيسَى - وَأَبِي هُرَيْرَةَ قَالاَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ شَرِيطَةِ الشَّيْطَانِ . زَادَ ابْنُ عِيسَى فِي حَدِيثِهِ وَهِيَ الَّتِي تُذْبَحُ فَيُقْطَعُ الْجِلْدُ وَلاَ تُفْرَى الأَوْدَاجُ ثُمَّ تُتْرَكُ حَتَّى تَمُوتَ .
Narrated Abdullah ibn Abbas: Ibn Isa added: (Ibn Abbas) and AbuHurayrah said: The Messenger of Allah (ﷺ) forbade the devil's sacrifice. AbuIsa added in his version: This refers to the slaughtered animal whose skin cut off, and is then left to die without its jugular veins being severed
عبداللہ بن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «شريطة الشيطان» سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ ابن عیسیٰ کی حدیث میں اتنا اضافہ ہے: اور وہ یہ ہے کہ جس جانور کو ذبح کیا جا رہا ہو اس کی کھال تو کاٹ دی جائے لیکن رگیں نہ کاٹی جائیں، پھر اسی طرح اسے چھوڑ دیا جائے یہاں تک کہ وہ ( تڑپ تڑپ کر ) مر جائے۔
Narrated by Dawud b. al-Husain
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْمَعْنَى، - قَالَ أَحْمَدُ - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، قَالَ كُنْتُ أَقْرَأُ عَلَى أُمِّ سَعْدٍ بِنْتِ الرَّبِيعِ وَكَانَتْ يَتِيمَةً فِي حِجْرِ أَبِي بَكْرٍ فَقَرَأْتُ { وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ } فَقَالَتْ لاَ تَقْرَأْ { وَالَّذِينَ عَاقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ } وَلَكِنْ { وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ } إِنَّمَا نَزَلَتْ فِي أَبِي بَكْرٍ وَابْنِهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حِينَ أَبَى الإِسْلاَمَ فَحَلَفَ أَبُو بَكْرٍ أَلاَّ يُوَرِّثَهُ فَلَمَّا أَسْلَمَ أَمَرَ اللَّهُ تَعَالَى نَبِيَّهُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ أَنْ يُؤْتِيَهُ نَصِيبَهُ . زَادَ عَبْدُ الْعَزِيزِ فَمَا أَسْلَمَ حَتَّى حُمِلَ عَلَى الإِسْلاَمِ بِالسَّيْفِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ مَنْ قَالَ { عَقَدَتْ } جَعَلَهُ حِلْفًا وَمَنْ قَالَ { عَاقَدَتْ } جَعَلَهُ حَالِفًا وَالصَّوَابُ حَدِيثُ طَلْحَةَ { عَاقَدَتْ } .
Narrated Dawud b. al-Husain: I used to learn the reading of the Qur'an from Umm Sa'd, daughter of al-Rabi'. She was an orphan in the guardianship of Abu Bakr. I read the Qur'anic verse "To those also to whom your right hand was pledged." She said: Do not read the verse; "To those also to whom your right hand was pledged." This was revealed about Abu Bakr and his son 'Abd al-Rahman when he refused to accept Islam. Abu Bakr took an oath that he would not give him a share from inheritance. When he embraced Islam Allah Most High commanded His Prophet (ﷺ) to give him the share. The narrator 'Abd al-Aziz added: He did not accept Islam until he was urged on Islam by sword. Abu Dawud said: He who narrated the word 'aqadat means a pact ; and he who narrated the word 'aaqadat means the party who made a pact. The correct is the tradition of Talhah ('aaqadat)
داود بن حصین کہتے ہیں کہ میں ام سعد بنت ربیع سے ( کلام پاک ) پڑھتا تھا وہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی زیر پرورش ایک یتیم بچی تھیں، میں نے اس آیت «والذين عقدت أيمانكم» کو پڑھا تو کہنے لگیں: اس آیت کو نہ پڑھو، یہ ابوبکر اور ان کے بیٹے عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہما کے متعلق اتری ہے، جب عبدالرحمٰن نے مسلمان ہونے سے انکار کیا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے قسم کھا لی کہ میں ان کو وارث نہیں بناؤں گا پھر جب وہ مسلمان ہو گئے تو اللہ نے اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ وہ ( ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہیں ) کہ وہ ان کا حصہ دیں۔ عبدالعزیز کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ عبدالرحمٰن تلوار کے دباؤ میں آ کر مسلمان ہوئے ( یعنی جب اسلام کو غلبہ حاصل ہوا ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جس نے «عقدت» کہا اس نے اس سے «حلف» اور جس نے «عاقدت» کہا اس نے اس سے«حالف» مراد لیا اور صحیح طلحہ کی حدیث ہے جس میں «عاقدت» ہے۔
Narrated by Al-Zuhri
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ قَالَ عُمَرُ { وَمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلاَ رِكَابٍ } . قَالَ الزُّهْرِيُّ قَالَ عُمَرُ هَذِهِ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَاصَّةً قُرَى عُرَيْنَةَ فَدَكَ وَكَذَا وَكَذَا { مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ } وَ لِلْفُقَرَاءِ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالإِيمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ . وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ فَاسْتَوْعَبَتْ هَذِهِ الآيَةُ النَّاسَ فَلَمْ يَبْقَ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلاَّ لَهُ فِيهَا حَقٌّ . قَالَ أَيُّوبُ أَوْ قَالَ حَظٌّ إِلاَّ بَعْضَ مَنْ تَمْلِكُونَ مِنْ أَرِقَّائِكُمْ .
Narrated Al-Zuhri:'Umar said explaining the verse: "What Allah has bestowed on His Apostle (and taken away) from them - for this ye made no expedition with either cavalry or camelry" this belonged specially to the Messenger of Allah (ﷺ): lands of 'Urainah, Fadak, and so-and-so. What Allah as bestowed on His Apostle (and taken away) from the people of the townships - belong to Allah - to the Apostle, and to kindred and orphans, the needy and the wayfarer, to the indigent emigrants, those who were expelled from their homes and their property, and to those who, before them, had homes (in Medina), and had adopted the faith, and to those who came after them. This verse completely covered all the people ; they remained no one from Muslims but he had his right in it, or share (according to Ayyub's version) except the slaves
ابن شہاب زہری کہتے ہیں (عمر رضی اللہ عنہ) نے کہا اللہ نے فرمایا: «وما أفاء الله على رسوله منهم فما أوجفتم عليه من خيل ولا ركاب» جو مال اللہ نے اپنے رسول کو عنایت فرمایا، اور تم نے اس پر اپنے گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے ( سورۃ الحشر: ۶ ) زہری کہتے ہیں: عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس آیت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے عرینہ کے چند گاؤں جیسے فدک وغیرہ خاص ہوئے، اور دوسری آیتیں «ما أفاء الله على رسوله من أهل القرى فلله وللرسول ولذي القربى واليتامى والمساكين وابن السبيل» گاؤں والوں کا جو ( مال ) اللہ تعالیٰ تمہارے لڑے بھڑے بغیر اپنے رسول کے ہاتھ لگائے وہ اللہ کا ہے اور رسول کا اور قرابت والوں کا اور یتیموں، مسکینوں کا اور مسافروں کا ہے ( سورۃ الحشر: ۷ ) ، اور «للفقراء الذين أخرجوا من ديارهم وأموالهم» ( فئی کا مال ) ان مہاجر مسکینوں کے لیے ہے جو اپنے گھروں سے اور اپنے مالوں سے نکال دئیے گئے ہیں ( سورۃ الحشر: ۸ ) «والذين تبوءوا الدار والإيمان من قبلهم» اور ( ان کے لیے ) جنہوں نے اس گھر میں ( یعنی مدینہ ) اور ایمان میں ان سے پہلے جگہ بنا لی ہے ( سورۃ الحشر: ۹ ) «والذين جاءوا من بعدهم» اور ( ان کے لیے ) جو ان کے بعد آئیں ( سورۃ الحشر: ۱۰ ) تو اس آیت نے تمام لوگوں کو سمیٹ لیا کوئی ایسا مسلمان باقی نہیں رہا جس کا مال فیٔ میں حق نہ ہو۔ ایوب کہتے ہیں: یا «فيها حق» کے بجائے،، «فيها حظ» کہا، سوائے بعض ان چیزوں کے جن کے تم مالک ہو ( یعنی اپنے غلاموں اور لونڈیوں کے ) ۔
Narrated by Umm 'Atiyyah
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَانَا عَنِ النِّيَاحَةِ .
Narrated Umm 'Atiyyah :The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited us to wail
ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نوحہ کرنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔
Narrated by Muhammad b. Muhmmad b. Khattab Abu 'Umar
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خَلاَّدٍ أَبُو عُمَرَ، قَالَ : كَانَ عِنْدَنَا مَكُّوكٌ يُقَالُ لَهُ مَكُّوكُ خَالِدٍ وَكَانَ كَيْلَجَتَيْنِ بِكَيْلَجَةِ هَارُونَ، قَالَ مُحَمَّدٌ : صَاعُ خَالِدٍ صَاعُ هِشَامٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْمَلِكِ .
Narrated Muhammad b. Muhmmad b. Khattab Abu 'Umar :We had a makkuk which was called Makkuk Khalid. Its capacity was two measurements according to the measurements of Harun. The narrator said: The sa' of Khalid was the sa' of Hisham b. 'Abd al-Malik
محمد بن محمد بن خلاد ابوعمر کا بیان ہے کہ میرے پاس ایک مکوک ۱؎ تھا اسے مکوک خالد کہا جاتا تھا، وہ ہارون کے کیلجہ ( ایک پیمانہ ہے ) سے دو کیلجہ کے برابر تھا۔ محمد کہتے ہیں: خالد کا صاع ہشام یعنی ابن عبدالملک کا صاع ہے۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَقَالَ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ لَنَا الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ وَاسْمُهُ قُزْمَانُ مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ أَوْ فِي خَمْسَةِ أَوْسُقٍ شَكَّ دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ حَدِيثُ جَابِرٍ إِلَى أَرْبَعَةِ أَوْسُقٍ .
Narrated Abu Hurairah: The Messenger of Allah (ﷺ) gave license regarding the sale of 'araya when the amount was less then five wasqs or five wasqs. Dawud b. al-Husain was doubtful. Abu Dawud said: The tradition by Jabir indicates up to four wasqs
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ وسق سے کم یا پانچ وسق تک عرایا کے بیچنے کی رخصت دی ہے ( یہ شک داود بن حصین کو ہوا ہے ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جابر کی حدیث میں چار وسق تک ہے۔
Narrated by Abdullah bin 'Umar
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْمُتَبَايِعَانِ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ عَلَى صَاحِبِهِ مَا لَمْ يَفْتَرِقَا إِلاَّ بَيْعَ الْخِيَارِ " .
Narrated 'Abdullah bin 'Umar:The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: Each one of the two parties in a business has an option (to annul it) against the other party so long as they have not separated, except in a conditional bargain
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بائع اور مشتری میں سے ہر ایک کو بیع قبول کرنے یا رد کرنے کا اختیار ہوتا ہے جب تک کہ وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں ۱؎ مگر جب بیع خیار ہو ۲؎ ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَسَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ . قَالَ سَلَمَةُ فِي حَدِيثِهِ قَالَ عَمْرٌو فِي الْحُقُوقِ .
The tradition mentioned above has also been transmitted by 'Amr bin Dinar through a different chain of narrators and to the same effect. Salamah has in his version:'Amr said: In the rights (of the people)
اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے سلمہ نے اپنی حدیث میں یوں کہا کہ: عمرو نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ حقوق میں تھا ( نہ کہ حدود میں ) ۔
Narrated by Aisha, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ امْرَأَةٍ، مِنْ بَنِي أَسَدٍ عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُنْبَذُ لَهُ زَبِيبٌ فَيُلْقِي فِيهِ تَمْرًا وَتَمْرٌ فَيُلْقِي فِيهِ الزَّبِيبَ .
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: Raisins were steeped for the Messenger of Allah (ﷺ) and then dried dates were infused in them, or dried dates were steeped and then raisins were infused in them
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کشمکش کی نبیذ بنائی جاتی تو اس میں کھجور ڈال دی جاتی اور جب کھجور کی نبیذ بنائی جاتی تو اس میں انگور ڈال دیا جاتا۔
Narrated by Abdullah ibn Umar
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ مَطْعَمَيْنِ عَنِ الْجُلُوسِ عَلَى مَائِدَةٍ يُشْرَبُ عَلَيْهَا الْخَمْرُ وَأَنْ يَأْكُلَ الرَّجُلُ وَهُوَ مُنْبَطِحٌ عَلَى بَطْنِهِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا الْحَدِيثُ لَمْ يَسْمَعْهُ جَعْفَرٌ مِنَ الزُّهْرِيِّ وَهُوَ مُنْكَرٌ .
Narrated Abdullah ibn Umar: The Messenger of Allah (ﷺ) forbade two kinds of food: to sit at cloth on which wine is drunk, and to eat by a man while lying on his stomach. Abu Dawud said : Ja'far did not hear this tradition from al-Zuhri. His tradition is rejected
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو جگہ کھانا کھانے سے منع فرمایا ہے: ایک تو اس دستر خوان پر بیٹھ کر جس پر شراب پی جا رہی ہو اور دوسری وہ جگہ جہاں آدمی اوندھے منہ لیٹ کر کھائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث منکر ہے، جعفر کا سماع زہری سے ثابت نہیں ہے ( اس کی دلیل اگلی سند ہے ) ۔
Narrated by Abdullah ibn Amr ibn al-'As
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُعَلِّمُهُمْ مِنَ الْفَزَعِ كَلِمَاتٍ " أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ غَضَبِهِ وَشَرِّ عِبَادِهِ وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَنْ يَحْضُرُونِ " . وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو يُعَلِّمُهُنَّ مَنْ عَقَلَ مِنْ بَنِيهِ وَمَنْ لَمْ يَعْقِلْ كَتَبَهُ فَأَعْلَقَهُ عَلَيْهِ .
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-'As: The Messenger of Allah (ﷺ) sued to teach them the following words in the case of alarm: I seek refuge in Allah's perfect words from His anger, the evil of His servants, the evil suggestions of the devils and their presence. Abdullah ibn Amr used to teach them to those of his children who had reached puberty, and he wrote them down (on some material) and hung on the child who had not reached puberty
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ( خواب میں ) ڈرنے پر یہ کلمات کہنے کو سکھلاتے تھے:«أعوذ بكلمات الله التامة من غضبه وشر عباده ومن همزات الشياطين وأن يحضرون» میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے پورے کلموں کی اس کے غصہ سے اور اس کے بندوں کے شر سے اور شیاطین کے وسوسوں سے اور ان کے میرے پاس آنے سے ۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما اپنے ان بیٹوں کو جو سمجھنے لگتے یہ دعا سکھاتے اور جو نہ سمجھتے تو ان کے گلے میں اسے لکھ کر لٹکا دیتے۔
Narrated by Abdullah ibn Mas'ud
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ قَدِمَ وَفْدُ الْجِنِّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا يَا مُحَمَّدُ انْهَ أُمَّتَكَ أَنْ يَسْتَنْجُوا بِعَظْمٍ أَوْ رَوْثَةٍ أَوْ حُمَمَةٍ فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى جَعَلَ لَنَا فِيهَا رِزْقًا . قَالَ فَنَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ .
Narrated Abdullah ibn Mas'ud: A deputation of the jinn came to the Prophet (ﷺ) and said: O Muhammad, forbid your community to cleans themselves with a bone or dung or charcoal, for in them Allah has provided sustenance for us. So the Prophet (ﷺ) forbade them to do so
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جنوں کا ایک وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا: آپ اپنی امت کو ہڈی، لید ( گوبر، مینگنی ) ، اور کوئلے سے استنجاء کرنے سے منع فرما دیجئیے کیونکہ ان میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے روزی بنائی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا ۱؎۔
Narrated by Wathilah ibn al-Asqa
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ، عَنِ الْغَرِيفِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ، قَالَ أَتَيْنَا وَاثِلَةَ بْنَ الأَسْقَعِ فَقُلْنَا لَهُ حَدِّثْنَا حَدِيثًا، لَيْسَ فِيهِ زِيَادَةٌ وَلاَ نُقْصَانٌ فَغَضِبَ وَقَالَ إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَقْرَأُ وَمُصْحَفُهُ مُعَلَّقٌ فِي بَيْتِهِ فَيَزِيدُ وَيَنْقُصُ . قُلْنَا إِنَّمَا أَرَدْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . قَالَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي صَاحِبٍ لَنَا أَوْجَبَ - يَعْنِي - النَّارَ بِالْقَتْلِ فَقَالَ " أَعْتِقُوا عَنْهُ يُعْتِقِ اللَّهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنْهُ مِنَ النَّارِ " .
Narrated Wathilah ibn al-Asqa: Al-Arif ibn ad-Daylami said: We went to Wathilah ibn al-Asqa and said to him: Tell us a tradition which has not addition or omission. He became angry and replied: One of you recites when his copy of a Qur'an is hung up in his house, and he makes additions and omissions. We said: All we mean is a tradition you have heard from the Messenger of Allah (ﷺ). He said: We went to the Prophet (ﷺ) about a friend of ours who deserved. Hell for murder. He said: Emancipate a slave on his behalf; Allah will set free from Hell a member of the body for every member of his
غریف بن دیلمی کہتے ہیں ہم واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ہم نے ان سے کہا: آپ ہم سے کوئی حدیث بیان کیجئے جس میں کوئی زیادتی و کمی نہ ہو، تو وہ ناراض ہو گئے اور بولے: تم میں سے کوئی قرآن پڑھتا ہے اور اس کے گھر میں مصحف لٹک رہا ہے تو وہ اس میں کمی و زیادتی کرتا ہے، ہم نے کہا: ہمارا مقصد یہ ہے کہ آپ ہم سے ایسی حدیث بیان کریں جسے آپ نے ( براہ راست ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، تو انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک ساتھی کا مسئلہ لے کر آئے جس نے قتل کا ارتکاب کر کے اپنے اوپر جہنم کو واجب کر لیا تھا، آپ نے فرمایا: اس کی طرف سے غلام آزاد کرو، اللہ تعالیٰ اس کے ہرہر جوڑ کے بدلہ اس کا ہر جوڑ جہنم سے آزاد کر دے گا ۔
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ .
The tradition mentioned above has also been transmitted by Hisham b. Sa'd with a different chain of narrators in a similar way
اس سند سے بھی ہشام بن سعد سے اسی کے مثل مروی ہے
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، وَكَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحِمْصِيَّانِ، قَالاَ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ، رَأَى عَلَى أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بُرْدًا سِيَرَاءَ . قَالَ وَالسِّيَرَاءُ الْمُضَلَّعُ بِالْقَزِّ .
Anas b. Malik said that he saw a striped garment over Umm Kulthum, daughter of the Messenger of Allah (ﷺ). He said:The word "siyara" means striped with silk
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو ریشمی دھاری دار چادر پہنے دیکھا۔ راوی کہتے ہیں: «سیراء» کے معنی ریشمی دھاری دار کپڑے کے ہیں۔
Narrated by Anas ibn Malik
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ حَسَّانَ، قَالَ دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَحَدَّثَتْنِي أُخْتِي الْمُغِيرَةُ، قَالَتْ وَأَنْتَ يَوْمَئِذٍ غُلاَمٌ وَلَكَ قَرْنَانِ أَوْ قُصَّتَانِ فَمَسَحَ رَأْسَكَ وَبَرَّكَ عَلَيْكَ وَقَالَ " احْلِقُوا هَذَيْنِ أَوْ قُصُّوهُمَا فَإِنَّ هَذَا زِيُّ الْيَهُودِ " .
Narrated Anas ibn Malik: Al-Hajjaj ibn Hassan said: We entered upon Anas ibn Malik. My sister al-Mughirah said: You were a boy in those days and you had two locks of hair. He (Anas) rubbed your head and invoked blessing on you. He said: Shave them (i.e. the locks) or clip them, for this is the fashion of the Jews
حجاج بن حسان کا بیان ہے ہم انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، مجھ سے میری بہن مغیرہ نے بیان کیا: تو اس وقت لڑکا تھا اور تیرے سر پر دو چوٹیاں یا دو لٹیں تھیں تو انہوں نے تمہارے سر پر ہاتھ پھیرا اور برکت کی دعا کی اور کہا: ان دونوں کو مونڈوا ڈالو، یا انہیں کاٹ ڈالو کیونکہ یہ یہود کا طریقہ ہے۔
Narrated by AbuMusa
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أُمَّتِي هَذِهِ أُمَّةٌ مَرْحُومَةٌ لَيْسَ عَلَيْهَا عَذَابٌ فِي الآخِرَةِ عَذَابُهَا فِي الدُّنْيَا الْفِتَنُ وَالزَّلاَزِلُ وَالْقَتْلُ " .
Narrated AbuMusa: The Prophet (ﷺ) said: This people of mine is one to which mercy is shown. It will have no punishment in the next world, but its punishment in this world will be trials, earthquakes and being killed
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری اس امت پر اللہ کی رحمت ہے آخرت میں اسے عذاب ( دائمی ) نہیں ہو گا اور دنیا میں اس کا عذاب: فتنوں، زلزلوں اور قتل کی شکل میں ہو گا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، وَأَبَانُ، كِلاَهُمَا عَنْ خُلَيْدٍ الْعَصَرِيِّ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " خَمْسٌ مَنْ جَاءَ بِهِنَّ مَعَ إِيمَانٍ دَخَلَ الْجَنَّةَ مَنْ حَافَظَ عَلَى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ عَلَى وُضُوئِهِنَّ وَرُكُوعِهِنَّ وَسُجُودِهِنَّ وَمَوَاقِيتِهِنَّ وَصَامَ رَمَضَانَ وَحَجَّ الْبَيْتَ إِنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلاً وَأَعْطَى الزَّكَاةَ طَيِّبَةً بِهَا نَفْسُهُ وَأَدَّى الأَمَانَةَ " . قَالُوا يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ وَمَا أَدَاءُ الأَمَانَةِ قَالَ الْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ .
Abu al-Darda' reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:There are five thing, if anyone observe them with faith, he will enter Paradise. He who prays the five times prayer regularly, with the ablution for them, with their bowing, with their prostration and their (right) times ; keeps fast during Ramadan ; performs Hajj (pilgrimage) to the House (Ka'bah), provided he has the ability for its passage; pays Zakat happily ; and fulfills the trust (he will enter Paradise). People said: Abu al-Darda', what is fulfilling the trust ? He replied: Washing because of sexual defilement
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ چیزیں ہیں، جو انہیں ایمان و یقین کے ساتھ ادا کرے گا، وہ جنت میں داخل ہو گا: جس نے وضو کے ساتھ ان پانچوں نماز کی، ان کے رکوع اور سجدوں کی اور ان کے اوقات کی محافظت کی، رمضان کے روزے رکھے، اور بیت اللہ تک پہنچنے کی طاقت رکھنے کی صورت میں حج کیا، خوش دلی و رضا مندی کے ساتھ زکاۃ دی، اور امانت ادا کی ۔ لوگوں نے پوچھا: ابوالدرداء! امانت ادا کرنے کا کیا مطلب ہے؟ تو آپ نے کہا: اس سے مراد جنابت کا غسل کرنا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، خُشَيْشُ بْنُ أَصْرَمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَرَّ بِابْنِ صَائِدٍ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ عِنْدَ أُطُمِ بَنِي مَغَالَةَ وَهُوَ غُلاَمٌ فَلَمْ يَشْعُرْ حَتَّى ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ظَهْرَهُ بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ " أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ " . قَالَ فَنَظَرَ إِلَيْهِ ابْنُ صَيَّادٍ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ الأُمِّيِّينَ . ثُمَّ قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ " . ثُمَّ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَا يَأْتِيكَ " . قَالَ يَأْتِينِي صَادِقٌ وَكَاذِبٌ . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " خُلِّطَ عَلَيْكَ الأَمْرُ " . ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي قَدْ خَبَّأْتُ لَكَ خَبِيئَةً " . وَخَبَّأَ لَهُ { يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ } قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ هُوَ الدُّخُّ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ " . فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنْ يَكُنْ فَلَنْ تُسَلَّطَ عَلَيْهِ " . يَعْنِي الدَّجَّالَ " وَإِلاَّ يَكُنْ هُوَ فَلاَ خَيْرَ فِي قَتْلِهِ " .
Ibn ‘Umar said :The prophet (ﷺ) passed by Ibn Sa’Id along with some of his companions. ‘Umar b. al-Kattab was among them. He was playing with boys near the fortress of Banu Maghalah. He was near the age of puberty (i.e. a boy). Before he was aware, the Messenger of Allah (ﷺ) gave him a pat on the back and said : Do you testify that you are the Messenger of Allah Ibn Sayyad then looked at him and said: I testify that you are the Apostle of Gentiles. Ibn Sayyad then said the prophet (ﷺ) then asked him : What comes to you ? He replied: One who speaks the truth and one who lies come to me. The prophet (may peace upon him) said: You are confused. The Messenger of Allah (may peace upon him) said to him: I have concealed something (in my hand) and he concealed the verse “the day when the sky will bring forth smoke (dukhan) clearly visible Ibn Sayyad said: It is smoke (dukhan) .The Messenger of Allah (ﷺ) said: Away with you, You cannot get farther than your rank. ‘Umar said: “Messenger of Allah, permit me to cut off his head. The Messenger of Allah (ﷺ) said: If he is the one (the Dajjal), you will not be given power over him, and if he is not, you will not do well in killing him
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ جس میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے ابن صیاد کے پاس سے گزرے، وہ بنی مغالہ کے ٹیلوں کے پاس بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، وہ ایک کمسن لڑکا تھا تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا احساس اس وقت تک نہ ہو سکا جب تک آپ نے اپنے ہاتھ سے اس کی پشت پر مار نہ دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ تو ابن صیاد نے آپ کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا، اور بولا: ہاں، میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ امیوں کے رسول ہیں، پھر ابن صیاد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ تو آپ نے اس سے فرمایا: میں اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: تیرے پاس کیا چیز آتی ہے؟ وہ بولا: سچی اور جھوٹی باتیں آتی ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو معاملہ تیرے اوپر مشتبہ ہو گیا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تیرے لیے ایک بات چھپائی ہے اور آپ نے اپنے دل میں «يوم تأتي السماء بدخان مبين» ( سورۃ الدخان: ۱۰ ) والی آیت چھپا لی، تو ابن صیاد نے کہا: وہ چھپی ہوئی چیز «دُخ» ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہٹ جا، تو اپنی حد سے آگے نہیں بڑھ سکے گا ، اس پر عمر رضی اللہ عنہ بولے: اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجئیے، میں اس کی گردن مار دوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ ( دجال ) ہے تو تم اس پر قادر نہ ہو سکو گے، اور اگر وہ نہیں ہے تو پھر اس کے قتل میں کوئی بھلائی نہیں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ فَجَلَدَهُ مَرْوَانُ جَلَدَاتٍ وَخَلَّى سَبِيلَهُ .
This tradition has also been transmitted by Muhammad bin Yahya bin Hibban through a different chain of narrators. This version adds :Marwan gave him some lashes and let him go
اس سند سے بھی محمد بن یحییٰ بن حبان سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے مروان نے اسے کچھ کوڑے مار کر چھوڑ دیا۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، - الْمَعْنَى وَاحِدٌ - قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ، قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ يَجِدُ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً أَيَقْتُلُهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ " . قَالَ سَعْدٌ بَلَى وَالَّذِي أَكْرَمَكَ بِالْحَقِّ . قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اسْمَعُوا إِلَى مَا يَقُولُ سَيِّدُكُمْ " . قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ " إِلَى مَا يَقُولُ سَعْدٌ " .
Narrated Abu Hurairah:That Sa'd b. 'Ubadah said: Messenger of Allah! If a man finds a man with his wife, should he kill him ? The Messenger of Allah (ﷺ) said: No. Sa'd : Why not, by Him who has honoured you with truth ? The Prophet (ﷺ) said: Listen to what your chief is saying. The narrator 'Abd al-Wahhab said: (Listen) to what Sa'd is saying
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائے تو کیا اسے قتل کر دے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں سعد نے کہا: کیوں نہیں، اللہ کے رسول! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ عزت دی ( میں تو اسے قتل کر دوں گا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو! جو تمہارے سردار کہہ رہے ہیں ( عبدالوہاب کے الفاظ ہیں، ( سنو ) جو سعد کہہ رہے ہیں ) ۔
Narrated by AbuBakrah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا الأَشْعَثُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ " مَنْ رَأَى مِنْكُمْ رُؤْيَا " . فَقَالَ رَجُلٌ أَنَا رَأَيْتُ كَأَنَّ مِيزَانًا نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ فَوُزِنْتَ أَنْتَ وَأَبُو بَكْرٍ فَرُجِحْتَ أَنْتَ بِأَبِي بَكْرٍ وَوُزِنَ عُمَرُ وَأَبُو بَكْرٍ فَرُجِحَ أَبُو بَكْرٍ وَوُزِنَ عُمَرُ وَعُثْمَانُ فَرُجِحَ عُمَرُ ثُمَّ رُفِعَ الْمِيزَانُ فَرَأَيْنَا الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
Narrated AbuBakrah: One day the Prophet (ﷺ) said: Which of you had dream? A man said: It is I. I saw as though a scale descended from the sky. You and AbuBakr were weighed and you were heavier; AbuBakr and Umar were weighed and AbuBakr was heavier: Umar and Uthman were weighed and Umar was heavier; than the scale was taken up. we saw signs of dislike on the face of the Messenger of Allah (ﷺ)
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فرمایا: تم میں سے کسی نے خواب دیکھا ہے؟ ایک شخص بولا: میں نے دیکھا: گویا ایک ترازو آسمان سے اترا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور ابوبکر کو تولا گیا، تو آپ ابوبکر سے بھاری نکلے، پھر عمر اور ابوبکر کو تولا گیا تو ابوبکر بھاری نکلے، پھر عمر اور عثمان کو تولا گیا تو عمر بھاری نکلے، پھر ترازو اٹھا لیا گیا، تو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے میں ناپسندیدگی دیکھی۔
Narrated by Abu Hurayrah
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَشْكُرُ اللَّهَ مَنْ لاَ يَشْكُرُ النَّاسَ " .
Narrated Abu Hurayrah: The Prophet (ﷺ) said: He who does not thank the people is not thankful to Allah
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا اللہ کا ( بھی ) شکر ادا نہیں کرتا ۔