حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي ابْنَ عَائِذٍ - حَدَّثَنِي يَحْيَى، - يَعْنِي ابْنَ حَمْزَةَ - عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ، أَخْبَرَنِي أَيْضًا، سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَاهُ .
Aishah reported a similar tradition from the Messenger of Allah (ﷺ)
اس طریق سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا اسی مفہوم کی حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کرتی ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ كُنْتُ أَضْرِبُ غُلاَمًا لِي فَسَمِعْتُ مِنْ خَلْفِي صَوْتًا " اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ " . قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى مَرَّتَيْنِ " لَلَّهُ أَقْدَرُ عَلَيْكَ مِنْكَ عَلَيْهِ " . فَالْتَفَتُّ فَإِذَا هُوَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هُوَ حُرٌّ لِوَجْهِ اللَّهِ . قَالَ " أَمَا إِنَّكَ لَوْ لَمْ تَفْعَلْ لَلَفَعَتْكَ النَّارُ أَوْ " لَمَسَّتْكَ النَّارُ " .
Abu Mas’ud al-Ansari said:when I was beating a servant of mine, I heard a voice behind me saying: know, Abu Mas’ud-Ibn al-Muthanna said: “twice”-that Allah has more power over you than you have over him. I turned round and saw that it was that it was the prophet (May peace be upon him). I said : Messenger of Allah! He is free for Allah’s sake. He said : If you had not done it, fire would have burned you or the fire would have touched you
ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے ایک غلام کو مار رہا تھا اتنے میں میں نے اپنے پیچھے سے ایک آواز سنی: اے ابومسعود! جان لو، اللہ تعالیٰ تم پر اس سے زیادہ قدرت و اختیار رکھتا ہے جتنا تم اس ( غلام ) پر رکھتے ہو، یہ آواز دو مرتبہ سنائی پڑی، میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ اللہ کی رضا کے لیے آزاد ہے، آپ نے فرمایا: اگر تم اسے ( آزاد ) نہ کرتے تو آگ تمہیں لپٹ جاتی یا آگ تمہیں چھو لیتی ۔
Narrated by Samurah ibn Jundub
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ قَالَ سَمُرَةُ حَفِظْتُ سَكْتَتَيْنِ فِي الصَّلاَةِ سَكْتَةً إِذَا كَبَّرَ الإِمَامُ حَتَّى يَقْرَأَ وَسَكْتَةً إِذَا فَرَغَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ عِنْدَ الرُّكُوعِ قَالَ فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهِ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ قَالَ فَكَتَبُوا فِي ذَلِكَ إِلَى الْمَدِينَةِ إِلَى أُبَىٍّ فَصَدَّقَ سَمُرَةَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ كَذَا قَالَ حُمَيْدٌ فِي هَذَا الْحَدِيثِ وَسَكْتَةً إِذَا فَرَغَ مِنَ الْقِرَاءَةِ .
Narrated Samurah ibn Jundub: I remember two period of silence in prayer, one when the imam said the takbir; and one when he finished reciting the Fatihah and the surah when he was about to bow. But Imran ibn Husayn took it as something strange. So they wrote about it to Ubayy (ibn Ka'b) in Medina. He verified the statement of Samurah. Abu Dawud said: Humaid also narrated in this tradition the words "and one period silence when he finished the recitation (of the Qur'an)
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے نماز میں دو سکتے یاد ہیں: ایک امام کے تکبیر تحریمہ کہنے سے، قرأت شروع کرنے اور دوسرا جب فاتحہ اور سورت کی قرأت سے فارغ ہو کر رکوع میں جانے کے قریب ہوا، اس پر عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے اس کا انکار کیا، تو لوگوں نے اس سلسلے میں مدینہ میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو خط لکھا، تو انہوں نے سمرہ کی تصدیق کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حمید نے بھی اس حدیث میں اسی طرح کہا ہے کہ دوسرا سکتہ اس وقت کرتے جب آپ قرآت سے فارغ ہوتے۔