حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، ح وَحَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْوَاحِدِ - عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، - الْمَعْنَى - قَالَ أُنْبِئْتُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيَّ، حَدَّثَ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا وَطِئَ أَحَدُكُمْ بِنَعْلَيْهِ الأَذَى فَإِنَّ التُّرَابَ لَهُ طَهُورٌ " .
Abu Hurairah reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: When any one of you treads with his sandal upon an unclean place, the earth will render it purified
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص اپنے جوتے سے نجاست روندے تو ( اس کے بعد کی ) مٹی اس کو پاک کر دے گی ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ رَأَيْتُ أَبَا ذَرٍّ بِالرَّبَذَةِ وَعَلَيْهِ بُرْدٌ غَلِيظٌ وَعَلَى غُلاَمِهِ مِثْلُهُ قَالَ فَقَالَ الْقَوْمُ يَا أَبَا ذَرٍّ لَوْ كُنْتَ أَخَذْتَ الَّذِي عَلَى غُلاَمِكَ فَجَعَلْتَهُ مَعَ هَذَا فَكَانَتْ حُلَّةً وَكَسَوْتَ غُلاَمَكَ ثَوْبًا غَيْرَهُ . قَالَ فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ إِنِّي كُنْتُ سَابَبْتُ رَجُلاً وَكَانَتْ أُمُّهُ أَعْجَمِيَّةً فَعَيَّرْتُهُ بِأُمِّهِ فَشَكَانِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " يَا أَبَا ذَرٍّ إِنَّكَ امْرُؤٌ فِيكَ جَاهِلِيَّةٌ " . قَالَ " إِنَّهُمْ إِخْوَانُكُمْ فَضَّلَكُمُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ فَمَنْ لَمْ يُلاَئِمْكُمْ فَبِيعُوهُ وَلاَ تُعَذِّبُوا خَلْقَ اللَّهِ " .
Ma’rur b. Suwaid said :I saw Abu Dharr at Rabadhah. He was wearing a thick cloak, and his slave also wore a similar one. He said : the people said: Abu Dharr! (it would be better) if you could take the cloak which your slave wore, and you combined that with, and it would be a pair of garments (hullah) and you would clothe him with another garment. He said: Abu Dharr said : I abused a man whose mother was a non-Arab and I reviled him for his mother. He complained against me to the apostle of allah (May peace be upon him). He said: Abu Dharr! You are a man who has a characteristic of pre-Islamic days. He said: they are your brethren; Allah has given you superiority over them; sell those who do not please you and do not punish Allah’s creatures
معرور بن سوید کہتے ہیں کہ میں نے ابوذر کو ربذہ ( مدینہ کے قریب ایک گاؤں ) میں دیکھا وہ ایک موٹی چادر اوڑھے ہوئے تھے اور ان کے غلام کے بھی ( جسم پر ) اسی جیسی چادر تھی، معرور بن سوید کہتے ہیں: تو لوگوں نے کہا: ابوذر! اگر تم وہ ( چادر ) لے لیتے جو غلام کے جسم پر ہے اور اپنی چادر سے ملا لیتے تو پورا جوڑا بن جاتا اور غلام کو اس چادر کے بدلے کوئی اور کپڑا پہننے کو دے دیتے ( تو زیادہ اچھا ہوتا ) اس پر ابوذر نے کہا: میں نے ایک شخص کو گالی دی تھی، اس کی ماں عجمی تھی، میں نے اس کی ماں کے غیر عربی ہونے کا اسے طعنہ دیا، اس نے میری شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کر دی، تو آپ نے فرمایا: ابوذر! تم میں ابھی جاہلیت ( کی بو باقی ) ہے وہ ( غلام، لونڈی ) تمہارے بھائی بہن، ہیں ( کیونکہ سب آدم کی اولاد ہیں ) ، اللہ نے تم کو ان پر فضیلت دی ہے، ( تم کو حاکم اور ان کو محکوم بنا دیا ہے ) تو جو تمہارے موافق نہ ہو اسے بیچ دو، اور اللہ کی مخلوق کو تکلیف نہ دو ۱؎ ۔
Narrated by AbuSa'id al-Khudri
حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ مُطَهَّرٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَلِيٍّ الرِّفَاعِيِّ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ كَبَّرَ ثُمَّ يَقُولُ " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلاَ إِلَهَ غَيْرُكَ " . ثُمَّ يَقُولُ " لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ " . ثَلاَثًا ثُمَّ يَقُولُ " اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا " . ثَلاَثًا " أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ " . ثُمَّ يَقْرَأُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَذَا الْحَدِيثُ يَقُولُونَ هُوَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَلِيٍّ عَنِ الْحَسَنِ مُرْسَلاً الْوَهَمُ مِنْ جَعْفَرٍ .
Narrated AbuSa'id al-Khudri: When the Messenger of Allah (ﷺ) got up to pray at night (for tahajjud prayer) he uttered the takbir and then said: "Glory be to Thee, O Allah," and "Praise be to Thee" and "Blessed is Thy name," and Exalted is Thy greatness." and "There is no god but Thee." He then said: "There is no god but Allah" three times; he then said: "Allah is altogether great" three times: "I seek refuge in Allah, All-Hearing and All-Knowing from the accursed devil, from his evil suggestion (hamz), from his puffing up (nafkh), and from his spitting (nafth)" He then recited (the Qur'an). Abu Dawud said: It is said that this tradition has been narrated by 'Ali b. 'Ali from al-Hasan omitting the name of the Companion of the Prophet (ﷺ). The misunderstanding occurred on the part of Ja'far
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو ( نماز کے لیے ) کھڑے ہوتے تو تکبیر تحریمہ کہتے پھر یہ دعا پڑھتے: «سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك» یعنی اے اللہ! تیری ذات پاک ہے، ہم تیری حمد و ثنا بیان کرتے ہیں، تیرا نام بابرکت اور تیری ذات بلند و بالا ہے، تیرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں پھر تین بار «لا إله إلا الله» کہتے، پھر تین بار «الله أكبر كبيرا» کہتے، پھر یہ دعا پڑھتے «أعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم من همزه ونفخه ونفثه» پھر قرآن کی تلاوت کرتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: لوگوں کا خیال ہے کہ یہ حدیث علی بن علی سے بواسطہ حسن مرسلاً مروی ہے اور یہ وہم جعفر کا ہے۔