بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
Narrated by A woman of the Banu AbdulAshhal
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالاَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى، عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ امْرَأَةٍ، مِنْ بَنِي عَبْدِ الأَشْهَلِ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لَنَا طَرِيقًا إِلَى الْمَسْجِدِ مُنْتِنَةً فَكَيْفَ نَفْعَلُ إِذَا مُطِرْنَا قَالَ ‏"‏ أَلَيْسَ بَعْدَهَا طَرِيقٌ هِيَ أَطْيَبُ مِنْهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ قُلْتُ بَلَى ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَهَذِهِ بِهَذِهِ ‏"‏ ‏.‏
Narrated A woman of the Banu AbdulAshhal: She reported: I said Messenger of Allah, our road to the mosque has an unpleasant stench; what should we do when it is raining? He asked: Is there not a cleaner part after the filthy part of the road? She replied: Why not (there is one)! He said: It makes up for the other
قبیلہ بنو عبدالاشھل کی ایک عورت کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارا مسجد تک جانے کا راستہ غلیظ اور گندگیوں والا ہے تو جب بارش ہو جائے تو ہم کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا اس کے آگے پھر کوئی اس سے بہتر اور پاک راستہ نہیں ہے؟ ، میں نے کہا: ہاں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو یہ اس کا جواب ہے ۱؎۔
Narrated by Ali ibn AbuTalib
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ أُمِّ مُوسَى، عَنْ عَلِيٍّ، عَلَيْهِ السَّلاَمُ قَالَ كَانَ آخِرُ كَلاَمِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الصَّلاَةَ الصَّلاَةَ اتَّقُوا اللَّهَ فِيمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Ali ibn AbuTalib: The last words which the Messenger of Allah (ﷺ) spoke were: Prayer, prayer; fear Allah about those whom your right hands possess
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری بات ( انتقال کے موقع پر ) یہ تھی کہ نماز کا خیال رکھنا، نماز کا خیال رکھنا، اور جو تمہاری ملکیت میں ( غلام اور لونڈی ) ہیں ان کے معاملات میں اللہ سے ڈرتے رہنا۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ عَطَسَ شَابٌّ مِنَ الأَنْصَارِ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ فِي الصَّلاَةِ فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ حَتَّى يَرْضَى رَبُّنَا وَبَعْدَ مَا يَرْضَى مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنِ الْقَائِلُ الْكَلِمَةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَسَكَتَ الشَّابُّ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ مَنِ الْقَائِلُ الْكَلِمَةَ فَإِنَّهُ لَمْ يَقُلْ بَأْسًا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا قُلْتُهَا لَمْ أُرِدْ بِهَا إِلاَّ خَيْرًا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَا تَنَاهَتْ دُونَ عَرْشِ الرَّحْمَنِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ‏"‏ ‏.‏
Rabi’ah said:A young man from the Ansar sneezed behind the Messenger of Allah (ﷺ) while he was praying. He then said: Praise be to Allah, much, good, blessed, till our Lord is pleased (with us) in the affairs relating to this world and to the other world. When the Messenger of Allah (ﷺ) finished his prayer, he said: Who was the speaker of these words (in prayer)? The young man kept silence. He again asked: Who was the speaker of these words? He did not say wrong. He said: Messenger of Allah, I said these (words). I did not intend by them but good. He said: These words did not stay below the Throne of the Compassionate (Allah)
عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے حالت نماز میں ایک انصاری نوجوان کو چھینک آ گئی، تو اس نے کہا: «الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه حتى يرضى ربنا وبعد ما يرضى من أمر الدنيا والآخرة» اللہ کے لیے بہت بہت تعریف ہے، ایسی تعریف جو پاکیزہ اور بابرکت ہو، یہاں تک کہ ہمارا رب خوش و راضی ہو جائے اور دنیا اور آخرت کے معاملہ میں اس کے خوش ہو جانے کے بعد بھی یہ حمد و ثنا برقرار رہے ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: یہ کلمات کس نے کہے؟ ، عامر بن ربیعہ کہتے ہیں: نوجوان انصاری خاموش رہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا: یہ کلمات کس نے کہے؟ جس نے بھی کہا ہے اس نے برا نہیں کہا ، تب اس نوجوان نے کہا: اللہ کے رسول! یہ کلمات میں نے کہے ہیں، میری نیت خیر ہی کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کلمات عرش الٰہی کے نیچے نہیں رکے ( بلکہ رحمن کے پاس پہنچ گئے ) ۔