Narrated by Umm Salamah, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أُمِّ وَلَدٍ، لإِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّهَا سَأَلَتْ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ إِنِّي امْرَأَةٌ أُطِيلُ ذَيْلِي وَأَمْشِي فِي الْمَكَانِ الْقَذِرِ . فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يُطَهِّرُهُ مَا بَعْدَهُ " .
Narrated Umm Salamah, Ummul Mu'minin: The slave-mother of Ibrahim ibn AbdurRahman ibn Awf asked Umm Salamah, the wife of the Prophet (ﷺ): I am a woman having a long border of clothe and I walk in filthy place; (then what should I do?). Umm Salamah replied: The Messenger of Allah ( peace be upon him) said: What comes after it cleanses it
ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف کی ام ولد (حمیدہ) سے روایت ہے کہ کہ انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ میں اپنا دامن لمبا رکھتی ہوں ( جو زمین پر گھسٹتا ہے ) اور میں نجس جگہ میں بھی چلتی ہوں؟ تو ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: اس کے بعد کی زمین ( جس پر وہ گھسٹتا ہے ) اس کو پاک کر دیتی ہے ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ عُبَيْدٍ، حَدَّثَهُمْ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي جَارَيْنِ بِأَيِّهِمَا أَبْدَأُ قَالَ " بِأَدْنَاهُمَا بَابًا " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ شُعْبَةُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ طَلْحَةُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ .
‘A’ishah said:I asked : apostle of Allah! I have two neighbors. With which of them should I begin? He replied: Begin with the one whose door is nearer to you. Abu Dawud said: Shu’bah said this tradition : Talhah is a man of the Quraish
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے دو پڑوسی ہیں، میں ان دونوں میں سے پہلے کس کے ساتھ احسان کروں؟ آپ نے فرمایا: ان دونوں میں سے جس کا دروازہ قریب ہو اس کے ساتھ ۔
Narrated by Rifa'ah ibn Rafi
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، نَحْوَهُ قَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا رِفَاعَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَمِّ، أَبِيهِ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَعَطَسَ رِفَاعَةُ لَمْ يَقُلْ قُتَيْبَةُ رِفَاعَةُ فَقُلْتُ الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ مُبَارَكًا عَلَيْهِ كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَى فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم انْصَرَفَ فَقَالَ " مَنِ الْمُتَكَلِّمُ فِي الصَّلاَةِ " . ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ وَأَتَمَّ مِنْهُ .
Narrated Rifa'ah ibn Rafi': I offered prayer behind the Messenger of Allah (ﷺ). Rifa'ah sneezed. The narrator Qutaybah did not mention the name Rifa'ah (but he said: I sneezed). So I said: Praise be to Allah, praise much, good and blessed therein, blessed thereupon, as our Lord likes and is pleased. When the Messenger of Allah (ﷺ) finished his prayer, he turned and said: Who was the speaker in prayer? He then narrated the rest of the tradition like that of Malik and completed it
جناب معاذ بن رفاعہ بن رافع اپنے والد سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی تو رفاعہ کو چھینک آ گئی (استاد) قتیبہ نے رفاعہ کا نام نہیں لیا، تو میں نے کہا: «الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ مُبَارَكًا عَلَيْهِ كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَ» ” تعریف اللہ کی ہے بہت زیادہ تعریف ، پاکیزہ اور بابرکت (یعنی باقی رہنے والی) جیسے کہ ہمارا رب پسند فرمائے اور جس پر راضی اور خوش ہو۔“ جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو پوچھا: ”نماز میں کون بول رہا تھا؟“ پھر مالک کی حدیث کی مانند بیان کیا اور اس سے کامل تر بیان کیا۔