حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، أَنَّهَا أَتَتْ بِابْنٍ لَهَا صَغِيرٍ لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَجْلَسَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حِجْرِهِ فَبَالَ عَلَى ثَوْبِهِ فَدَعَا بِمَاءٍ فَنَضَحَهُ وَلَمْ يَغْسِلْهُ .
Umm Qais daughter of Mihsan reported that she came to the Messenger of Allah (ﷺ) with her little son who had not attained the age of eating food. The Messenger of Allah (ﷺ) seated him in his lap, and he urinated on his clothe. He sent for water and sprayed it (over his clothe) and did not wash it
ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ وہ اپنے ایک چھوٹے اور شیر خوار بچے کو لے کر جو ابھی کھانا نہیں کھاتا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی گود میں بٹھا لیا، اور اس نے آپ کے کپڑے پر پیشاب کر دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر اس پر چھینٹا ما ر لیا اور اسے دھویا نہیں۔
Narrated by Abdullah ibn Abbas
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، وَأَبُو بَكْرٍ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ، عَنِ ابْنِ حُدَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ كَانَتْ لَهُ أُنْثَى فَلَمْ يَئِدْهَا وَلَمْ يُهِنْهَا وَلَمْ يُؤْثِرْ وَلَدَهُ عَلَيْهَا - قَالَ يَعْنِي الذُّكُورَ - أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ " . وَلَمْ يَذْكُرْ عُثْمَانُ يَعْنِي الذُّكُورَ .
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Prophet (ﷺ) said: If anyone has a female child, and does not bury her alive, or slight her, or prefer his children (i.e. the male ones) to her, Allah will bring him into Paradise. Uthman did not mention "male children
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس کوئی لڑکی ہو اور وہ اسے زندہ درگور نہ کرے، نہ اسے کمتر جانے، نہ لڑکے کو اس پر فوقیت دے تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا ۔ ابن عباس کہتے ہیں: «ولده» سے مراد جنس «ذکور» ہے، لیکن عثمان ( راوی ) نے «ذکور» کا ذکر نہیں کیا ہے۔
Narrated by Jubayr ibn Mut'im
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَنَزِيِّ، عَنِ ابْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي صَلاَةً قَالَ عَمْرٌو لاَ أَدْرِي أَىَّ صَلاَةٍ هِيَ فَقَالَ " اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلاً " . ثَلاَثًا " أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ مِنْ نَفْخِهِ وَنَفْثِهِ وَهَمْزِهِ " . قَالَ نَفْثُهُ الشِّعْرُ وَنَفْخُهُ الْكِبْرُ وَهَمْزُهُ الْمُوتَةُ .
Narrated Jubayr ibn Mut'im: Jabir saw the Messenger of Allah (ﷺ) observing prayer. (The narrator Amr said: I do not know which prayer he was offering.) He (the Prophet) said: Allah is altogether great; Allah is altogether great; Allah is altogether great; and praise be to Allah in abundance; and praise be to Allah is abundance; and praise be to Allah in abundance. Glory be to Allah in the morning and after (saying it three times). I seek refuge in Allah from the accursed devil, from his puffing up (nafkh), his spitting (nafth) and his evil suggestion (hamz). He (Amr) said: His nafth it poetry, his nafkh is pride, and his hamz is madness
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا ( عمرو کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ وہ کون سی نماز تھی؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین تین بار فرمایا: «الله أكبر كبيرا الله أكبر كبيرا الله أكبر كبيرا والحمد لله كثيرا والحمد لله كثيرا والحمد لله كثيرا وسبحان الله بكرة وأصيلا» اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریفیں ہیں، اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریفیں ہیں، اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریفیں ہیں اور میں صبح و شام اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں ، اور فرمایا: «أعوذ بالله من الشيطان من نفخه ونفثه وهمزه» میں شیطان کے کبر و غرور، اس کے اشعار و جادو بیانی اور اس کے وسوسوں سے اللہ کی پناہ طلب کرتا ہوں ۔ عمرو بن مرہ کہتے ہیں: اس کا «نفث» شعر ہے، اس کا«نفخ» کبر ہے اور اس کا «همز» جنون یا موت ہے۔