حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ قِيلَ لاِبْنِ عَبَّاسٍ مَاتَتْ فُلاَنَةُ بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَخَرَّ سَاجِدًا فَقِيلَ لَهُ أَتَسْجُدُ هَذِهِ السَّاعَةَ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا رَأَيْتُمْ آيَةً فَاسْجُدُوا " . وَأَىُّ آيَةٍ أَعْظَمُ مِنْ ذَهَابِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم
Ikrimah said:Ibn Abbas was informed that so-and-so, a certain wife of the Prophet (ﷺ), had died. He fell down prostrating himself. He was questioned: Why do you prostrate yourself this moment? He said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: When you see a portent (an accident), prostrate yourselves. And which portent (accident) can be greater than the death of a wife of the Prophet (ﷺ)
عکرمہ کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا گیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی فلاں بیوی کا انتقال ہو گیا ہے، تو وہ یہ سن کر سجدے میں گر پڑے، ان سے کہا گیا: کیا اس وقت آپ سجدہ کر رہے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب تم کوئی نشانی ( یعنی بڑا حادثہ ) دیکھو تو سجدہ کرو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کی موت سے بڑھ کر کون سی نشانی ہو سکتی ہے؟ ۔
Narrated by Ali ibn AbuTalib ; Anas ibn Malik
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ الْمُثَنَّى، - وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، - قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى - قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ عَلِيًّا، - رضى الله عنه - كَانَ إِذَا سَافَرَ سَارَ بَعْدَ مَا تَغْرُبُ الشَّمْسُ حَتَّى تَكَادَ أَنْ تُظْلِمَ ثُمَّ يَنْزِلُ فَيُصَلِّي الْمَغْرِبَ ثُمَّ يَدْعُو بِعَشَائِهِ فَيَتَعَشَّى ثُمَّ يُصَلِّي الْعِشَاءَ ثُمَّ يَرْتَحِلُ وَيَقُولُ هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصْنَعُ . قَالَ عُثْمَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ سَمِعْتُ أَبَا دَاوُدَ يَقُولُ وَرَوَى أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ أَنَسًا كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَهُمَا حِينَ يَغِيبُ الشَّفَقُ وَيَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَصْنَعُ ذَلِكَ وَرِوَايَةُ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلُهُ .
Narrated Ali ibn AbuTalib ; Anas ibn Malik: Muhammad reported from his father, Umar, on the authority of his grandfather, Ali ibn AbuTalib: When Ali travelled, he continued to travel till it became nearly dark. He then alighted and offered the sunset prayer. Then he would call for his dinner and eat it. Then he prayed the night prayer and then moved off. He would say: This is how the Messenger of Allah (ﷺ) used to do. Usamah ibn Zayd reported from Hafs ibn Ubaydullah, the son of Anas ibn Malik: Anas would combine them (the evening and night prayer) when the twilight disappeared. He said: The Prophet (ﷺ) used to do so. Az-Zuhri also reported similarly on the authority of Anas from the Prophet (ﷺ)
عمر بن علی بن ابی طالب سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ جب سفر کرتے تو سورج ڈوبنے کے بعد بھی چلتے رہتے یہاں تک کہ اندھیرا چھا جانے کے قریب ہو جاتا، پھر آپ اترتے اور مغرب پڑھتے۔ پھر شام کا کھانا طلب کرتے اور کھا کر عشاء ادا کرتے۔ پھر کوچ فرماتے اور کہا کرتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ عثمان کی روایت میں «أخبرني عبدالله بن محمد بن عمر بن علي» کے بجائے «عن عبدالله بن محمد بن عمر بن علي» ہے۔ ( ابوعلی لولؤی کہتے ہیں ) میں نے ابوداؤد کو کہتے سنا کہ اسامہ بن زید نے حفص بن عبیداللہ ( بن انس بن مالک ) سے روایت کی ہے کہ انس رضی اللہ عنہ جب شفق غائب ہو جاتی تو دونوں ( مغرب اور عشاء ) کو جمع کرتے اور کہتے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ زہری نے انس رضی اللہ عنہ سے انس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے ہم مثل روایت کی ہے۔
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ وَاصِلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمُرَ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ الدُّؤَلِيِّ، قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ أَبِي ذَرٍّ قَالَ " يُصْبِحُ عَلَى كُلِّ سُلاَمَى مِنْ أَحَدِكُمْ فِي كُلِّ يَوْمٍ صَدَقَةٌ فَلَهُ بِكُلِّ صَلاَةٍ صَدَقَةٌ وَصِيَامٍ صَدَقَةٌ وَحَجٍّ صَدَقَةٌ وَتَسْبِيحٍ صَدَقَةٌ وَتَكْبِيرٍ صَدَقَةٌ وَتَحْمِيدٍ صَدَقَةٌ " . فَعَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ هَذِهِ الأَعْمَالِ الصَّالِحَةِ ثُمَّ قَالَ " يُجْزِئُ أَحَدَكُمْ مِنْ ذَلِكَ رَكْعَتَا الضُّحَى " .
Abu al-Aswad al-Dailani said:While we were present with Abu Dharr, he said: In the morning, alms are due for him, ever fast is alms, every pilgrimage is alms, every utterance of "Glory to be Allah" is alms, every utterance of "Allah is most great" is alms, every utterance of "Praise be to Allah" is alms. The Messenger of Allah (ﷺ) recounted all such good works. He then said: Two rak'ahs which one prays in the Duha serve instead of that
ابوالاسود الدولی کہتے ہیں کہ ہم لوگ ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ اسی دوران آپ نے کہا: ہر روز صبح ہوتے ہی تم میں سے ہر شخص کے جوڑ پر ایک صدقہ ہے، تو اس کے لیے ہر نماز کے بدلہ ایک صدقہ ( کا ثواب ) ہے، ہر روزہ کے بدلہ ایک صدقہ ( کا ثواب ) ہے، ہر حج ایک صدقہ ہے، اور ہر تسبیح ایک صدقہ ہے، ہر تکبیر ایک صدقہ ہے، اور ہر تحمید ایک صدقہ ہے، اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان نیک اعمال کا شمار کیا پھر فرمایا: ان سب سے تمہیں بس چاشت کی دو رکعتیں کافی ہیں ۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُثْمَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ " .
Uthman reported the Prophet (ﷺ) as saying:The best among you is he who learns and teaches the Qur'an
عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں بہتر وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے اور اسے سکھائے ۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، فِي قَوْلِهِ " لاَ جَلَبَ وَلاَ جَنَبَ " . قَالَ أَنْ تُصَدَّقَ الْمَاشِيَةُ فِي مَوَاضِعِهَا وَلاَ تُجْلَبُ إِلَى الْمُصَدِّقِ وَالْجَنَبُ عَنْ غَيْرِ هَذِهِ الْفَرِيضَةِ أَيْضًا لاَ يُجْنَبُ أَصْحَابُهَا يَقُولُ وَلاَ يَكُونُ الرَّجُلُ بِأَقْصَى مَوَاضِعِ أَصْحَابِ الصَّدَقَةِ فَتُجْنَبُ إِلَيْهِ وَلَكِنْ تُؤْخَذُ فِي مَوْضِعِهِ .
Explaining the meaning of Jalab and janab Muhammad bin Ishaq said The meaning of jalab said is that the zakat of animals should be collected at their places (dwellings), and they (animals) should not be pulled to the collector of zakat. The meaning of janab is that the animals are removed at a distance (from the collector). The owners of the animals should do so. The collector of zakat should not stay at a distance from the places of the people who bring their animals to him. The zakat should be collected in its place
محمد بن اسحاق سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: «لا جلب ولا جنب» کی تفسیر میں مروی ہے کہ «لا جلب» کا مطلب یہ ہے کہ جانوروں کی زکاۃ ان کی جگہوں میں جا کر لی جائے وہ مصدق تک کھینچ کر نہ لائے جائیں، اور «جنب» فریضہ زکاۃ کے علاوہ میں بھی استعمال کیا جاتا ہے: وہ کہتے ہیں: «جنب» یہ ہے کہ محصل زکاۃ دینے والوں کی جگہوں سے دور نہ رہے کہ جانور اس کے پاس لائے جائیں بلکہ اسی جگہ میں زکاۃ لی جائے گی ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ فَتَلْتُ قَلاَئِدَ بُدْنِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدَىَّ ثُمَّ أَشْعَرَهَا وَقَلَّدَهَا ثُمَّ بَعَثَ بِهَا إِلَى الْبَيْتِ وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ فَمَا حَرُمَ عَلَيْهِ شَىْءٌ كَانَ لَهُ حِلاًّ .
Ai’shah said :I twisted the garlands of the sacrificial animals of the Messenger of Allah (SWAS) with my own hands, after which he made incision in their humps and garlanded them, and sent them as offerings to the house (Kabah), but he himself stayed back at Madinah and nothing which had been lawful for him had been forbidden
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اپنے ہاتھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے لیے قلادے بٹے پھر آپ نے انہیں اشعار کیا اور قلادہ ۱؎ پہنایا پھر انہیں بیت اللہ کی طرف بھیج دیا اور خود مکہ میں مقیم رہے اور کوئی چیز جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلال تھی آپ پر حرام نہیں ہوئی ۲؎۔
Narrated by Jabir ibn Abdullah
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، - يَعْنِي ابْنَ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ - عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا خَطَبَ أَحَدُكُمُ الْمَرْأَةَ فَإِنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى مَا يَدْعُوهُ إِلَى نِكَاحِهَا فَلْيَفْعَلْ " . قَالَ فَخَطَبْتُ جَارِيَةً فَكُنْتُ أَتَخَبَّأُ لَهَا حَتَّى رَأَيْتُ مِنْهَا مَا دَعَانِي إِلَى نِكَاحِهَا وَتَزَوُّجِهَا فَتَزَوَّجْتُهَا .
Narrated Jabir ibn Abdullah: The Prophet (ﷺ) said: When one of you asked a woman in marriage, if he is able to look at what will induce him to marry her, he should do so. He (Jabir) said: I asked a girl in marriage, I used to look at her secretly, until I looked at what induced me to marry her. I, therefore, married her
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی عورت کو پیغام نکاح دے تو ہو سکے تو وہ اس چیز کو دیکھ لے جو اسے اس سے نکاح کی طرف راغب کر رہی ہے ۱؎ ۔ راوی کا بیان ہے کہ میں نے ایک لڑکی کو پیغام دیا تو میں اسے چھپ چھپ کر دیکھتا تھا یہاں تک کہ میں نے وہ بات دیکھ ہی لی جس نے مجھے اس کے نکاح کی طرف راغب کیا تھا، میں نے اس سے شادی کر لی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ، - يَعْنِي ابْنَ حَرْبٍ - عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ قَوْمِهِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سَمِعَ رَجُلاً، يَقُولُ لاِمْرَأَتِهِ " يَا أُخَيَّةُ " . فَنَهَاهُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَاهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ عَنْ خَالِدٍ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَرَوَاهُ شُعْبَةُ عَنْ خَالِدٍ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
Abu Tamimah reported from a man of his tribe “The Prophet (ﷺ) heard a man say his wife “O my younger sister! So he prohibited him (addressing his wife in this manner) Abu Dawud said “This tradition has also been transmitted by ‘Abd Al Aziz bin Al Mukhtar from Khalid from Abu ‘Uthman from Abu Thamimah from the Prophet (ﷺ). This has also been narrated by Shu’bah from Khalid from a man on the authority of Abu Thamimah from the Prophet (ﷺ)
ابو تمیمہ سے روایت ہے، وہ اپنی قوم کے ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اپنی بیوی کو اے چھوٹی بہن! کہہ کر پکارتے ہوئے سنا تو آپ نے اس سے منع فرمایا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عبدالعزیز بن مختار نے خالد سے خالد نے ابوعثمان سے اور ابوعثمان نے ابو تمیمہ سے اور ابوتمیمہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے، نیز اسے شعبہ نے خالد سے خالد نے ایک شخص سے اس نے ابو تمیمہ سے اور ابو تمیمہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے۔
Narrated by Adi b. Hatim
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، - الْمَعْنَى - عَنْ حُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ { حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ } . قَالَ أَخَذْتُ عِقَالاً أَبْيَضَ وَعِقَالاً أَسْوَدَ فَوَضَعْتُهُمَا تَحْتَ وِسَادَتِي فَنَظَرْتُ فَلَمْ أَتَبَيَّنْ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَضَحِكَ فَقَالَ " إِنَّ وِسَادَكَ لَعَرِيضٌ طَوِيلٌ إِنَّمَا هُوَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ " . قَالَ عُثْمَانُ " إِنَّمَا هُوَ سَوَادُ اللَّيْلِ وَبَيَاضُ النَّهَارِ " .
Narrated 'Adi b. Hatim:When the verse "Until the white thread of dawn appear to you distinct from its black thread" was revealed, I took a white rope and a black rope, and placed them beneath my pillow ; and then I looked at them, byt they were not clear to me. So I mentioned it to the Messenger of Allah (ﷺ). He laughed and said: Your pillow is so broad and lengthy ; that is (i.e. means) night and day. The version of the narrator 'Uthman has: That is the blackness of night and whiteness of day
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ «حتى يتبين لكم الخيط الأبيض من الخيط الأسود» یہاں تک کہ صبح کا سفید دھاگا سیاہ دھاگے سے ظاہر ہو جائے ( سورۃ البقرہ: ۱۸۷ ) نازل ہوئی تو میں نے ایک سفید اور ایک کالی رسی لے کر اپنے تکیے کے نیچے ( صبح صادق جاننے کی غرض سے ) رکھ لی، میں دیکھتا رہا لیکن پتہ نہ چل سکا، میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ ہنس پڑے اور کہنے لگے، تمہارا تکیہ تو بڑا لمبا چوڑا ہے، اس سے مراد رات اور دن ہے ۔ عثمان کی روایت میں ہے: اس سے مراد رات کی سیاہی اور دن کی سفیدی ہے ۔
Narrated by Uqbah ibn Amir
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلاَّمٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُدْخِلُ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ ثَلاَثَةَ نَفَرٍ الْجَنَّةَ : صَانِعَهُ يَحْتَسِبُ فِي صَنْعَتِهِ الْخَيْرَ، وَالرَّامِيَ بِهِ، وَمُنْبِلَهُ، وَارْمُوا وَارْكَبُوا، وَأَنْ تَرْمُوا أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ أَنْ تَرْكَبُوا، لَيْسَ مِنَ اللَّهْوِ إِلاَّ ثَلاَثٌ : تَأْدِيبُ الرَّجُلِ فَرَسَهُ وَمُلاَعَبَتُهُ أَهْلَهُ وَرَمْيُهُ بِقَوْسِهِ وَنَبْلِهِ، وَمَنْ تَرَكَ الرَّمْىَ بَعْدَ مَا عَلِمَهُ رَغْبَةً عَنْهُ فَإِنَّهَا نِعْمَةٌ تَرَكَهَا " . أَوْ قَالَ : " كَفَرَهَا " .
Narrated Uqbah ibn Amir: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Allah, Most High, will cause three persons to enter Paradise for one arrow: the maker when he has a good motive in making it, the one who shoots it, and the one who hands it; so shoot and ride, but your shooting is dearer to me than your riding. Everything with which a man amuses himself is vain except three (things): a man's training of his horse, his playing with his wife, and his shooting with his bow and arrow. If anyone abandons archery after becoming an adept through distaste for it, it is a blessing he has abandoned; or he said: for which he has been ungrateful
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ ایک تیر سے تین افراد کو جنت میں داخل کرتا ہے: ایک اس کے بنانے والے کو جو ثواب کے ارادہ سے بنائے، دوسرے اس کے چلانے والے کو، اور تیسرے اٹھا کر دینے والے کو، تم تیر اندازی کرو اور سواری کرو، اور تمہارا تیر اندازی کرنا، مجھے سواری کرنے سے زیادہ پسند ہے، لہو و لعب میں سے صرف تین طرح کا لہو و لعب جائز ہے: ایک آدمی کا اپنے گھوڑے کو ادب سکھانا، دوسرے اپنی بیوی کے ساتھ کھیل کود کرنا، تیسرے اپنے تیر کمان سے تیر اندازی کرنا اور جس نے تیر اندازی سیکھنے کے بعد اس سے بیزار ہو کر اسے چھوڑ دیا، تو یہ ایک نعمت ہے جسے اس نے چھوڑ دیا ، یا راوی نے کہا: جس کی اس نے ناشکری کی ۱؎۔
Narrated by Adi ibn Hatim
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ مُرِّيِّ بْنِ قَطَرِيٍّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ أَحَدُنَا أَصَابَ صَيْدًا وَلَيْسَ مَعَهُ سِكِّينٌ أَيَذْبَحُ بِالْمَرْوَةِ وَشِقَّةِ الْعَصَا فَقَالَ " أَمْرِرِ الدَّمَ بِمَا شِئْتَ وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
Narrated Adi ibn Hatim: I said: Messenger of Allah, tell me when one of us catches game and has no knife; may he slaughter with a flint and a splinter of stick. He said: Cause the blood to flow with whatever you like and mention Allah's name
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! اگر ہم میں سے کسی کو کوئی شکار مل جائے اور اس کے پاس چھری نہ ہو تو کیا وہ سفید ( دھار دار ) پتھر یا لاٹھی کے پھٹے ہوئے ٹکڑے سے ( اس شکار کو ) ذبح کر لے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بسم اللہ اکبر کہہ کر ( اللہ کا نام لے کر ) جس چیز سے چاہے خون بہا دو ۔
Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما قَالَ { وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ } كَانَ الرَّجُلُ يُحَالِفُ الرَّجُلَ لَيْسَ بَيْنَهُمَا نَسَبٌ فَيَرِثُ أَحَدُهُمَا الآخَرَ فَنَسَخَ ذَلِكَ الأَنْفَالُ فَقَالَ تَعَالَى { وَأُولُو الأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ } .
Narrated Ibn 'Abbas:To those also, to whom your right hand was pledged, give their due portion. A man made an agreement with another man (in early days of Islam), and there was no relationship between the ; one of them inherited from the other. The following verse of Surat Al-Anfal abrogated it: "But kindred by blood have prior right against each other
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کے فرمان: «والذين عقدت أيمانكم فآتوهم نصيبهم» جن لوگوں سے تم نے قسمیں کھائی ہیں ان کو ان کا حصہ دے دو ( سورۃ النساء: ۳۳ ) کے مطابق پہلے ایک شخص دوسرے شخص سے جس سے قرابت نہ ہوتی باہمی اخوت اور ایک دوسرے کے وارث ہونے کا عہد و پیمان کرتا پھر ایک دوسرے کا وارث ہوتا، پھر یہ حکم سورۃ الانفال کی آیت:«وأولو الأرحام بعضهم أولى ببعض» اور رشتے ناتے والے ان میں سے بعض بعض سے زیادہ نزدیک ہیں ( سورۃ الانفال: ۷۵ ) سے منسوخ ہو گیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ وَهُمَا - يَعْنِي عَلِيًّا وَالْعَبَّاسَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - يَخْتَصِمَانِ فِيمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَمْوَالِ بَنِي النَّضِيرِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ أَرَادَ أَنْ لاَ يُوقِعَ عَلَيْهِ اسْمَ قَسْمٍ .
Narrating this tradition Malik b. Aws said:They i.e 'Ali and al-'Abbas (Allah be pleased with them), were quarrelling about what Allah bestowed on His Messenger of Allah (ﷺ), that is, the property of Banu al-Nadir. Abu Dawud said: He ('Umar) intended that the name of division should not apply to it
اس سند سے بھی مالک بن اوس سے یہی قصہ مروی ہے اس میں ہے: اور وہ دونوں ( یعنی علی اور عباس رضی اللہ عنہما ) اس مال کے سلسلہ میں جھگڑا کر رہے تھے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بنو نضیر کے مالوں میں سے عنایت فرمایا تھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: وہ ( عمر رضی اللہ عنہ ) چاہتے تھے کہ اس میں حصہ و تقسیم کا نام نہ آئے ۱؎۔
Narrated by Usamah b. Zaid
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّ ابْنَةً لِرَسُولِ اللَّهِ، صلى الله عليه وسلم أَرْسَلَتْ إِلَيْهِ وَأَنَا مَعَهُ وَسَعْدٌ وَأَحْسِبُ أُبَيًّا أَنَّ ابْنِي أَوْ بِنْتِي قَدْ حُضِرَ فَاشْهَدْنَا . فَأَرْسَلَ يُقْرِئُ السَّلاَمَ فَقَالَ " قُلْ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَمَا أَعْطَى وَكُلُّ شَىْءٍ عِنْدَهُ إِلَى أَجَلٍ " . فَأَرْسَلَتْ تُقْسِمُ عَلَيْهِ فَأَتَاهَا فَوُضِعَ الصَّبِيُّ فِي حِجْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَفْسُهُ تَقَعْقَعُ فَفَاضَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ مَا هَذَا قَالَ " إِنَّهَا رَحْمَةٌ وَضَعَهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ مَنْ يَشَاءُ وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ " .
Narrated Usamah b. Zaid:A daughter of Messenger of Allah (ﷺ) sent him message while I and Sa'd were with him and I think Ubayy was also there: My son or daughter (the narrator is doubtful) is dying, so come to us. He sent her greeting, saying at the same time: Say! What Allah has been taken belongs to Him, what He has given (belongs to Him), and He has appointed time for everything. She then sent a message adjuring him (to come to her). So he came to her and the child who was on the point of death was placed in the hearts of those whom He wished. Allah shows compassion only to those of His servants who are compassionate
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیٹی ( زینب رضی اللہ عنہا ) نے آپ کو یہ پیغام دے کر بلا بھیجا کہ میرے بیٹے یا بیٹی کے موت کا وقت قریب ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، اس وقت میں اور سعد اور میرا خیال ہے کہ ابی بھی آپ کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( جواباً ) سلام کہلا بھیجا، اور فرمایا: ان سے ( جا کر ) کہو کہ اللہ ہی کے لیے ہے جو چیز کہ وہ لے، اور اسی کی ہے جو چیز کہ وہ دے، ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے ۔ پھر زینب رضی اللہ عنہا نے دوبارہ بلا بھیجا اور قسم دے کر کہلایا کہ آپ ضرور تشریف لائیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، بچہ آپ کی گود میں رکھا گیا، اس کی سانس تیز تیز چل رہی تھی تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں آنکھیں بہ پڑیں، سعد نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ رحمت ہے، اللہ جس کے دل میں چاہتا ہے اسے ڈال دیتا ہے، اور اللہ انہیں بندوں پر رحم کرتا ہے جو دوسروں کے لیے رحم دل ہوتے ہیں ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، نَحْوَهُ قَالَ : " فَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ، ثُمَّ ائْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ : أَحَادِيثُ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ وَعَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ رُوِيَ عَنْ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ فِي بَعْضِ الرِّوَايَةِ الْحِنْثُ قَبْلَ الْكَفَّارَةِ وَفِي بَعْضِ الرِّوَايَةِ الْكَفَّارَةُ قَبْلَ الْحِنْثِ .
A similar tradition has been transmitted by 'Abd al-Rahman b. Samurah through a different chain if narrators. This version has:"Make atonement for your oath and then do the thing that is better." Abu Dawud said: The version of this tradition transmitted by Abu Musa al-Ash'ari, 'Adi b. Hatim and Abu Hurairah are variant. Some of them indicate breaking the oath before making atonement, and other making atonement before breaking the oath
اس سند سے بھی عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے اس میں ہے: تو قسم کا کفارہ ادا کرو پھر اس چیز کو اختیار کرو جو بہتر ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوموسی اشعری، عدی بن حاتم اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم کی روایات جو اس موضوع سے متعلق ہیں ان میں بعض میں «الكفارة قبل الحنث» ہے اور بعض میں «الحنث قبل الكفارة» ہے۔
Narrated by Zaid b. Thabit
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا بِالتَّمْرِ وَالرُّطَبِ .
Narrated Zaid b. Thabit:The Prophet (ﷺ) gave license for the sale of 'araya for dried dates and fresh dates
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خشک سے تر کھجور کی بیع کو عرایا میں اجازت دی ہے ۱؎۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَرَّ بِرَجُلٍ يَبِيعُ طَعَامًا فَسَأَلَهُ " كَيْفَ تَبِيعُ " . فَأَخْبَرَهُ فَأُوحِيَ إِلَيْهِ أَنْ أَدْخِلْ يَدَكَ فِيهِ فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهِ فَإِذَا هُوَ مَبْلُولٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَيْسَ مِنَّا مَنْ غَشَّ " .
Narrated Abu Hurairah:The Messenger of Allah (ﷺ) passed a man who was selling grain. He asked him: How are you selling? He informed him. Revelation them came down to him saying: "Put your hand into it." So he put his hand into it, and felt that it was damp. The Messenger of Allah (ﷺ) then said: "He who deceives has nothing to do with us
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو غلہ بیچ رہا تھا آپ نے اس سے پوچھا: کیسے بیچتے ہو؟ تو اس نے آپ کو بتایا، اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے ذریعہ حکم ملا کہ اس کے غلہ ( کے ڈھیر ) میں ہاتھ ڈال کر دیکھئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلہ کے اندر ہاتھ ڈال کر دیکھا تو وہ اندر سے تر ( گیلا ) تھا تو آپ نے فرمایا: جو شخص دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں ہے ( یعنی دھوکہ دہی ہم مسلمانوں کا شیوہ نہیں ہے ) ۔
Narrated by Uncle of Umarah ibn Khuzaymah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، أَنَّ الْحَكَمَ بْنَ نَافِعٍ، حَدَّثَهُمْ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ، أَنَّ عَمَّهُ، حَدَّثَهُ وَهُوَ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ابْتَاعَ فَرَسًا مِنْ أَعْرَابِيٍّ فَاسْتَتْبَعَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِيَقْضِيَهُ ثَمَنَ فَرَسِهِ فَأَسْرَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَشْىَ وَأَبْطَأَ الأَعْرَابِيُّ فَطَفِقَ رِجَالٌ يَعْتَرِضُونَ الأَعْرَابِيَّ فَيُسَاوِمُونَهُ بِالْفَرَسِ وَلاَ يَشْعُرُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ابْتَاعَهُ فَنَادَى الأَعْرَابِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنْ كُنْتَ مُبْتَاعًا هَذَا الْفَرَسَ وَإِلاَّ بِعْتُهُ . فَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حِينَ سَمِعَ نِدَاءَ الأَعْرَابِيِّ فَقَالَ " أَوَلَيْسَ قَدِ ابْتَعْتُهُ مِنْكَ " . فَقَالَ الأَعْرَابِيُّ لاَ وَاللَّهِ مَا بِعْتُكَهُ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " بَلَى قَدِ ابْتَعْتُهُ مِنْكَ " . فَطَفِقَ الأَعْرَابِيُّ يَقُولُ هَلُمَّ شَهِيدًا . فَقَالَ خُزَيْمَةُ بْنُ ثَابِتٍ أَنَا أَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ بَايَعْتَهُ . فَأَقْبَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى خُزَيْمَةَ فَقَالَ " بِمَ تَشْهَدُ " . فَقَالَ بِتَصْدِيقِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَهَادَةَ خُزَيْمَةَ بِشَهَادَةِ رَجُلَيْنِ .
Narrated Uncle of Umarah ibn Khuzaymah: The Prophet (ﷺ) bought a horse from a Bedouin. The Prophet (ﷺ) took him with him to pay him the price of his horse. The Messenger of Allah (ﷺ) walked quickly and the Bedouin walked slowly. The people stopped the Bedouin and began to bargain with him for the horse as and they did not know that the Prophet (ﷺ) had bought it. The Bedouin called the Messenger of Allah (ﷺ) saying: If you want this horse, (then buy it), otherwise I shall sell it. The Prophet (ﷺ) stopped when he heard the call of the Bedouin, and said: Have I not bought it from you? The Bedouin said: I swear by Allah, I have not sold it to you. The Prophet (ﷺ) said: Yes, I have bought it from you. The Bedouin began to say: Bring a witness. Khuzaymah ibn Thabit then said: I bear witness that you have bought it. The Prophet (ﷺ) turned to Khuzaymah and said: On what (grounds) do you bear witness? He said: By considering you trustworthy, Messenger of Allah (ﷺ)! The Prophet (ﷺ) made the witness of Khuzaymah equivalent to the witness of two people
عمارہ بن خزیمہ کہتے ہیں: ان کے چچا نے ان سے بیان کیا اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اعرابی سے ایک گھوڑا خریدا، آپ اسے اپنے ساتھ لے آئے تاکہ گھوڑے کی قیمت ادا کر دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جلدی جلدی چلنے لگے، دیہاتی نے تاخیر کر دی، پس کچھ لوگ دیہاتی کے پاس آنا شروع ہوئے اور گھوڑے کا مول بھاؤ کرنے لگے اور وہ لوگ یہ نہ سمجھ سکے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خرید لیا ہے، چنانچہ دیہاتی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارا اور کہا: اگر آپ اسے خریدتے ہیں تو خرید لیجئے ورنہ میں نے اسے بیچ دیا، دیہاتی کی آواز سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور فرمایا: کیا میں تجھ سے اس گھوڑے کو خرید نہیں چکا؟ دیہاتی نے کہا: نہیں، قسم اللہ کی، میں نے اسے آپ سے فروخت نہیں کیا ہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں؟ میں اسے تم سے خرید چکا ہوں پھر دیہاتی یہ کہنے لگا کہ گواہ پیش کیجئے، تو خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ بول پڑے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تم اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فروخت کر چکے ہو، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خزیمہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: تم کیسے گواہی دے رہے ہو؟ خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ کی تصدیق کی وجہ سے، اللہ کے رسول! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خزیمہ رضی اللہ عنہ کی گواہی کو دو آدمیوں کی گواہی کے برابر قرار دے دیا۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ، عَنْ عَيَّاشٍ، أَنَّ شُيَيْمَ بْنَ بَيْتَانَ، أَخْبَرَهُ بِهَذَا الْحَدِيثِ، أَيْضًا عَنْ أَبِي سَالِمٍ الْجَيْشَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، يَذْكُرُ ذَلِكَ وَهُوَ مَعَهُ مُرَابِطٌ بِحِصْنِ بَابِ أَلْيُونَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ حِصْنُ أَلْيُونَ عَلَى جَبَلٍ بِالْفُسْطَاطِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهُوَ شَيْبَانُ بْنُ أُمَيَّةَ يُكْنَى أَبَا حُذَيْفَةَ .
This tradition has also been narrated by Abu Salim al-Jaishani on the authority of 'Abd Allaah b. 'Amr. He narrated this tradition at the time when he besieged the fort at the gate of Alyun. Abu Dawud said:The fort of Alyun lies at the mountain in Fustat. Abu Dawud said: The kunyah (surname) of Shaiban b. Umayyah is Abu Hudhaifah
ابوسالم جیشانی نے اس حدیث کو عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے اس وقت سنا جب وہ ان کے ساتھ ( مصر میں ) باب الیون کے قلعہ کا محاصرہ کئے ہوئے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: الیون کا قلعہ فسطاط ( مصر ) میں ایک پہاڑ پر واقع ہے۔
Narrated by A man
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَحَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، - عَنْ رَجُلٍ، - قَالَ حَفْصٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ نَهَى عَنِ الْبَلَحِ وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ .
Narrated A man: A man from among the Companions of the Prophet (ﷺ) said: The Prophet (ﷺ) forbade (mixing) unripe dates and dried dates, and (mixing) raisins and dried dates
ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی کھجور کو پکی ہوئی کھجور کے ساتھ اور کشمش کو کھجور کے ساتھ ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔
Narrated by Abdullah ibn Abbas
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا فَلاَ يَأْكُلْ مِنْ أَعْلَى الصَّحْفَةِ وَلَكِنْ لِيَأْكُلْ مِنْ أَسْفَلِهَا فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ مِنْ أَعْلاَهَا " .
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Prophet (ﷺ) said: When one of you eats, he must not eat from the top of the dish, but should eat from the bottom; for the blessing descends from the top of it
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو پلیٹ کے اوپری حصے سے نہ کھائے بلکہ اس کے نچلے حصہ سے کھائے اس لیے کہ برکت اس کے اوپر والے حصہ میں نازل ہوتی ہے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ السُّلَمِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ أَخْبَرَهُ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ عُثْمَانُ وَبِي وَجَعٌ قَدْ كَادَ يُهْلِكُنِي قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " امْسَحْهُ بِيَمِينِكَ سَبْعَ مَرَّاتٍ وَقُلْ أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ " . قَالَ فَفَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَذْهَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا كَانَ بِي فَلَمْ أَزَلْ آمُرُ بِهِ أَهْلِي وَغَيْرَهُمْ .
‘Uthman b. Abl al-As said that he came to the Messenger of Allah (ﷺ). ‘Uthman said :I had a pain which was about to destroy me. So the Prophet (ﷺ) said : Wipe it with your right hand seven times and say : “I seek refuge in the dominance of Allah, and His might from the evil of what I find.” Then I did it. Allah removed (the pain) that I had, and I kept on suggesting it to my family and to others
عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، عثمان کہتے ہیں: اس وقت مجھے ایسا درد ہو رہا تھا کہ لگتا تھا کہ وہ مجھے ہلاک کر دے گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا داہنا ہاتھ اس پر سات مرتبہ پھیرو اور کہو: «أعوذ بعزة الله وقدرته من شر ما أجد» میں اللہ کی عزت اور اس کی قدرت کی پناہ چاہتا ہوں اس چیز کی برائی سے جو میں پاتا ہوں ۔ میں نے اسے کیا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے جو تکلیف تھی وہ دور فرما دی اس وقت سے میں برابر اپنے گھر والوں کو اور دوسروں کو اس کا حکم دیا کرتا ہوں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ أَعْتَقَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَمَالُ الْعَبْدِ لَهُ إِلاَّ أَنْ يَشْتَرِطَهُ السَّيِّدُ " .
Abd Allah b. 'Umar reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:If anyone emancipates a slave who has property, the property of the slave belongs to him except that the master makes a stipulation
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی غلام کو آزاد کرے اور اس کے پاس مال ہو تو غلام کا مال آزاد کرنے والے کا ہے اِلا یہ کہ مالک اس کو غلام کو دیدے ۱؎ ۔
Narrated by Shariq
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ قِيلَ لِعَبْدِ اللَّهِ إِنَّ أُنَاسًا يَقْرَءُونَ هَذِهِ الآيَةَ { وَقَالَتْ هِيتَ لَكَ } فَقَالَ إِنِّي أَقْرَأُ كَمَا عُلِّمْتُ أَحَبُّ إِلَىَّ { وَقَالَتْ هَيْتَ لَكَ } .
Narrated Shariq:'Abd Allah (b. Mas'ud) was told that the people had read this verse: "She said: Now come, thou" (hita laka). He said: I read it as I have been taught ; it is dearer to me. It goes "wa qalat haita laka" (She said: Now come thou)
ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ کچھ لوگ اس آیت کو «وَقَالَتْ هِيتَ لَكَ» پڑھتے ہیں تو انہوں نے کہا: جیسے مجھے سکھایا گیا ہے ویسے ہی پڑھنا مجھے زیادہ پسند ہے «وَقَالَتْ هَيْتَ لَكَ» ۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى، - يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ - عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَلِلزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ فِي قُمُصِ الْحَرِيرِ فِي السَّفَرِ مِنْ حِكَّةٍ كَانَتْ بِهِمَا .
Narrated Anas:The Messenger of Allah (ﷺ) gave license to 'Abd al-Rahman b. 'Awf and al-Zubair b. al-'Awwam to wear silk shirts during a journey because of an itch which they had
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما کو کجھلی کی وجہ سے جو انہیں ہوئی تھی سفر میں ریشمی قمیص پہننے کی رخصت دی۔
Narrated by Abdullah ibn Umar
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَأَى صَبِيًّا قَدْ حُلِقَ بَعْضُ شَعْرِهِ وَتُرِكَ بَعْضُهُ فَنَهَاهُمْ عَنْ ذَلِكَ وَقَالَ " احْلِقُوهُ كُلَّهُ أَوِ اتْرُكُوهُ كُلَّهُ " .
Narrated Abdullah ibn Umar: The Prophet (ﷺ) saw a boy with part of his head shaved and part left unshaven. He forbade them to do that, saying: Shave it all or leave it all
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بچے کو دیکھا کہ اس کے کچھ بال منڈے ہوئے تھے اور کچھ چھوڑ دئیے گئے تھے تو آپ نے انہیں اس سے منع کیا اور فرمایا: یا تو پورا مونڈ دو، یا پورا چھوڑے رکھو ۔
Narrated by Umarah ibn Ruwaybah
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عُمَارَةَ بْنِ رُؤَيْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَأَلَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ فَقَالَ أَخْبِرْنِي مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ يَلِجُ النَّارَ رَجُلٌ صَلَّى قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ " . قَالَ أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْهُ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ . قَالَ نَعَمْ . كُلَّ ذَلِكَ يَقُولُ سَمِعَتْهُ أُذُنَاىَ وَوَعَاهُ قَلْبِي . فَقَالَ الرَّجُلُ وَأَنَا سَمِعْتُهُ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ذَلِكَ .
Narrated Umarah ibn Ruwaybah: A man from Basrah said: Tell me what you heard from the Messenger of Allah (ﷺ). He said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: No one will enter Hell who has prayed before the rising of the sun and before its setting (meaning the dawn and the afternoon prayers). He said three times: Have you heard it from him? He replied: Yes, each time saying: My ears heard it and my heart memorised it. The man then said: And I heard him (the Prophet) say that
عمارہ بن رویبہ کہتے ہیں کہ اہل بصرہ میں سے ایک آدمی نے ان سے پوچھا اور کہا: آپ مجھے ایسی بات بتائیے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: وہ آدمی جہنم میں داخل نہ ہو گا جس نے سورج نکلنے سے پہلے اور سورج ڈوبنے سے پہلے نماز پڑھی ، اس شخص نے کہا: کیا آپ نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ یہ جملہ اس نے تین بار کہا، انہوں نے کہا: ہاں، ہر بار وہ یہی کہتے تھے: میرے دونوں کانوں نے اسے سنا ہے اور میرے دل نے اسے یاد رکھا ہے، پھر اس شخص نے کہا: میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے فرماتے سنا ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، فِي قَوْلِهِ { وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ } قَالَ هِيَ جَزَاؤُهُ فَإِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَتَجَاوَزَ عَنْهُ فَعَلَ .
About the verse "If a man kills a believer intentionally" Abu Mijlaz said:This is his recompense. If Allah wishes to disregard him, He may do do
ابومجلز سے اللہ تعالیٰ کے قول «ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم» کے متعلق مروی ہے کہ ایسے شخص کا بدلہ تو یہی ہے لیکن اگر اللہ اسے معاف کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صُدْرَانَ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ وَكَانَ لاَ يَصْعَدُ عَلَيْهِ إِلاَّ يَوْمَ جُمُعَةٍ قَبْلَ يَوْمَئِذٍ ثُمَّ ذَكَرَ هَذِهِ الْقِصَّةَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ صُدْرَانَ بَصْرِيٌّ غَرِقَ فِي الْبَحْرِ مَعَ ابْنِ مِسْوَرٍ لَمْ يَسْلَمْ مِنْهُمْ غَيْرُهُ .
Fatimah, daughter of Qais, said:The prophet (ﷺ) offered the noon prayer and ascended the pulpit. Before this day he did not ascend it except on Friday. He then narrated this story. Abu Dawud said: Ibn Sudran belongs to Basrah. He was drowned in the sea along with Ibn Miswar, and no one could escape except him
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھی، پھر آپ منبر پر چڑھے، اس سے پہلے آپ صرف جمعہ ہی کو منبر پر چڑھتے تھے، پھر راوی نے اسی قصہ کا ذکر کیا ہے۔
Narrated by Abdullah ibn Abbas
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ الْعَسْقَلاَنِيُّ، - وَهَذَا لَفْظُهُ وَهُوَ أَتَمُّ - قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَطَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَ رَجُلٍ فِي مِجَنٍّ قِيمَتُهُ دِينَارٌ أَوْ عَشْرَةُ دَرَاهِمَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ وَسَعْدَانُ بْنُ يَحْيَى عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ بِإِسْنَادِهِ .
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Messenger of Allah (ﷺ) had a man's hand cut off for (stealing) a shield whose price was a dinar or ten dirhams. Abu Dawud said: Muhammad bin Salamah and Sa'dan bin Yahya have transmitted it from Ibn Ishaq through his chain of narrators
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کا ہاتھ ایک ڈھال کے ( چرانے پر ) کاٹا جس کی قیمت ایک دینار یا دس درہم تھی۔
Narrated by Qays ibn Abbad
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَّادٍ، قَالَ انْطَلَقْتُ أَنَا وَالأَشْتَرُ، إِلَى عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَقُلْنَا هَلْ عَهِدَ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَيْئًا لَمْ يَعْهَدْهُ إِلَى النَّاسِ عَامَّةً قَالَ لاَ إِلاَّ مَا فِي كِتَابِي هَذَا - قَالَ مُسَدَّدٌ قَالَ - فَأَخْرَجَ كِتَابًا - وَقَالَ أَحْمَدُ كِتَابًا مِنْ قِرَابِ سَيْفِهِ - فَإِذَا فِيهِ " الْمُؤْمِنُونَ تَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ وَيَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ أَلاَ لاَ يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ وَلاَ ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ مَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا فَعَلَى نَفْسِهِ وَمَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ " . قَالَ مُسَدَّدٌ عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ فَأَخْرَجَ كِتَابًا .
Narrated Qays ibn Abbad : I and Ashtar went to Ali and said to him: Did the Messenger of Allah (ﷺ) give you any instruction about anything for which he did not give any instruction to the people in general? He said: No, except what is contained in this document of mine. Musaddad said: He then took out a document. Ahmad said: A document from the sheath of his sword. It contained: The lives of all Muslims are equal; they are one hand against others; the lowliest of them can guarantee their protection. Beware, a Muslim must not be killed for an infidel, nor must one who has been given a covenant be killed while his covenant holds. If anyone introduces an innovation, he will be responsible for it. If anyone introduces an innovation or gives shelter to a man who introduces an innovation (in religion), he is cursed by Allah, by His angels, and by all the people. Musaddad said: Ibn AbuUrubah's version has: He took out a document
قیس بن عباد سے کہتے ہیں کہ میں اور اشتر دونوں علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ہم نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو کوئی خاص بات بتائی ہے جو عام لوگوں کو نہ بتائی ہو؟ وہ بولے: نہیں، سوائے اس چیز کے جو میری اس کتاب میں ہے۔ مسدد کہتے ہیں: پھر انہوں نے ایک کتاب نکالی، احمد کے الفاظ یوں ہیں اپنی تلوار کے غلاف سے ایک کتاب ( نکالی ) اس میں یہ لکھا تھا: سب مسلمانوں کا خون برابر ہے اور وہ غیروں کے مقابل ( باہمی نصرت و معاونت میں ) گویا ایک ہاتھ ہیں، اور ان میں کا ایک ادنی بھی ان کے امان کا پاس و لحاظ رکھے گا ۱؎، آگاہ رہو! کہ کوئی مومن کسی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا، اور نہ ہی کوئی ذمی معاہد جب تک وہ معاہد ہے قتل کیا جائے گا، اور جو شخص کوئی نئی بات نکالے گا تو اس کی ذمے داری اسی کے اوپر ہو گی، اور جو نئی بات نکالے گا، یا نئی بات نکالنے والے کسی شخص ( بدعتی ) کو پناہ دے گا تو اس پر اللہ کی فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ مسدد کہتے ہیں: ابن ابی عروبہ سے منقول ہے کہ انہوں نے ایک کتاب نکالی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، - قَالَ مُحَمَّدٌ كَتَبْتُهُ مِنْ كِتَابِهِ - قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَجُلاً أَتَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنِّي أَرَى اللَّيْلَةَ ظُلَّةً يَنْطِفُ مِنْهَا السَّمْنُ وَالْعَسَلُ فَأَرَى النَّاسَ يَتَكَفَّفُونَ بِأَيْدِيهِمْ فَالْمُسْتَكْثِرُ وَالْمُسْتَقِلُّ وَأَرَى سَبَبًا وَاصِلاً مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الأَرْضِ فَأَرَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخَذْتَ بِهِ فَعَلَوْتَ بِهِ ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَعَلاَ بِهِ ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَعَلاَ بِهِ ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَانْقَطَعَ ثُمَّ وُصِلَ فَعَلاَ بِهِ . قَالَ أَبُو بَكْرٍ بِأَبِي وَأُمِّي لَتَدَعَنِّي فَلأَعْبُرَنَّهَا . فَقَالَ " اعْبُرْهَا " . قَالَ أَمَّا الظُّلَّةُ فَظُلَّةُ الإِسْلاَمِ وَأَمَّا مَا يَنْطِفُ مِنَ السَّمْنِ وَالْعَسَلِ فَهُوَ الْقُرْآنُ لِينُهُ وَحَلاَوَتُهُ وَأَمَّا الْمُسْتَكْثِرُ وَالْمُسْتَقِلُّ فَهُوَ الْمُسْتَكْثِرُ مِنَ الْقُرْآنِ وَالْمُسْتَقِلُّ مِنْهُ وَأَمَّا السَّبَبُ الْوَاصِلُ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الأَرْضِ فَهُوَ الْحَقُّ الَّذِي أَنْتَ عَلَيْهِ تَأْخُذُ بِهِ فَيُعْلِيكَ اللَّهُ ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ بَعْدَكَ رَجُلٌ فَيَعْلُو بِهِ ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَيَعْلُو بِهِ ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَيَنْقَطِعُ ثُمَّ يُوصَلُ لَهُ فَيَعْلُو بِهِ أَىْ رَسُولَ اللَّهِ لَتُحَدِّثَنِّي أَصَبْتُ أَمْ أَخْطَأْتُ . فَقَالَ " أَصَبْتَ بَعْضًا وَأَخْطَأْتَ بَعْضًا " . فَقَالَ أَقْسَمْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَتُحَدِّثَنِّي مَا الَّذِي أَخْطَأْتُ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ تُقْسِمْ " .
Ibn 'Abbas said:Abu Hurairah said that a man came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: I saw (in my dream) a piece of cloud from which ghee and honey were dropping. I saw the people spreading their hands. Some of them took much and some a little. I also saw a rope hanging from Heaven to Earth. I saw, Messenger of Allah, that you caught hold of it and ascended by it. Then another man caught hold of it and ascended it. Then another man caught hold of it and ascended it. Then another man caught hold of it, but it broke, and then it was joined and he ascended it. AbuBakr said: May my parents be sacrificed for you, if you allow, I shall interpret it. He said: Interpret it. He said: The piece of cloud is the cloud of Islam; the ghee and honey that were dropping from it are the Qur'an, which contains softness and sweetness. Those who received much or little of it are those who learn much or little of the Qur'an. The rope hanging from Heaven to Earth is the truth which you are following. You catch hold of it and then Allah will raise you to Him. Then another man will catch hold of it and ascend it, Then another man will catch hold of it and it will break. But it will be joined and he will ascend it. Tell me. Messenger of Allah, whether I am right or wrong. He said: You are partly right and partly wrong. He said: I adjure you by Allah, you should tell me where I am wrong. The Prophet (ﷺ) said: Do not take an oath
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں نے رات کو بادل کا ایک ٹکڑا دیکھا، جس سے گھی اور شہد ٹپک رہا تھا، پھر میں نے لوگوں کو دیکھا وہ اپنے ہاتھوں کو پھیلائے اسے لے رہے ہیں، کسی نے زیادہ لیا کسی نے کم، اور میں نے دیکھا کہ ایک رسی آسمان سے زمین تک لٹکی ہوئی ہے، پھر میں نے آپ کو دیکھا اللہ کے رسول! کہ آپ نے اسے پکڑ ا اور اس سے اوپر چلے گئے، پھر ایک اور شخص نے اسے پکڑا اور وہ بھی اوپر چلا گیا، پھر ایک اور شخص نے اسے پکڑا اور وہ بھی اوپر چلا گیا، پھر اسے ایک اور شخص نے پکڑا تو وہ ٹوٹ گئی پھر اسے جوڑا گیا، تو وہ بھی اوپر چلا گیا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان جائیں مجھے اس کی تعبیر بیان کرنے دیجئیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی تعبیر بیان کرو وہ بولے: بادل کے ٹکڑے سے مراد اسلام ہے، اور ٹپکنے والے گھی اور شہد سے قرآن کی حلاوت ( شیرینی ) اور نرمی مراد ہے، کم اور زیادہ لینے والوں سے مراد قرآن کو کم یا زیادہ حاصل کرنے والے لوگ ہیں، آسمان سے زمین تک پہنچی ہوئی رسی سے مراد حق ہے جس پر آپ ہیں، آپ اسے پکڑے ہوئے ہیں، اللہ آپ کو اٹھا لے گا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک اور شخص اسے پکڑے گا تو وہ بھی اٹھ جائے گا، پھر ایک اور شخص پکڑے گا تو وہ بھی اٹھ جائے گا، پھر اسے ایک اور شخص پکڑے گا، تو وہ ٹوٹ جائے گی تو اسے جوڑا جائے گا، پھر وہ بھی اٹھ جائے گا، اللہ کے رسول! آپ مجھے بتائیے کہ میں نے صحیح کہا یا غلط، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کچھ صحیح کہا اور کچھ غلط کہا: اللہ کے رسول! میں آپ کو قسم دلاتا ہوں کہ آپ مجھے بتائیے کہ میں نے کیا غلطی کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم نہ دلاؤ ۔
Narrated by Jarir
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ يُحْرَمِ الرِّفْقَ يُحْرَمِ الْخَيْرَ كُلَّهُ " .
Narrated Jarir: The Prophet (ﷺ) said: He who is deprived of gentleness is deprived of good
جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو رفق ( نرمی ) سے محروم کر دیا جاتا ہے وہ تمام خیر سے محروم کر دیا جاتا ہے ۔