بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ الْهَمْدَانِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - وَهَذَا حَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، - قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ يَزِيدُ وَعَبْدُ الْعَزِيزِ فِي حَدِيثِهِمَا عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَأَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ - عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ قَالاَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلَبِسَ مِنْ أَحْسَنِ ثِيَابِهِ وَمَسَّ مِنْ طِيبٍ - إِنْ كَانَ عِنْدَهُ - ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ فَلَمْ يَتَخَطَّ أَعْنَاقَ النَّاسِ ثُمَّ صَلَّى مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ ثُمَّ أَنْصَتَ إِذَا خَرَجَ إِمَامُهُ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْ صَلاَتِهِ كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ جُمُعَتِهِ الَّتِي قَبْلَهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَيَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ ‏"‏ وَزِيَادَةُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ ‏"‏ ‏.‏ وَيَقُولُ ‏"‏ إِنَّ الْحَسَنَةَ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَحَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ أَتَمُّ وَلَمْ يَذْكُرْ حَمَّادٌ كَلاَمَ أَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏
Abu Sa'id al-Khudri and Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:If anyone takes a bath on Friday, puts on his best clothes, applies a touch of perfume if has any, then goes to congregational prayer (in the mosque), and takes care not to step over people, then prayer what Allah has prescribes for him, then keeps silent from the time his Imam comes out until he finishes his prayer, it will atone for his sins during the previous week. Abu Hurairah said: (It will atone for his sins) for three days more. he further said: One is rewarded ten times for doing a good work. Abu Dawud said: The version narrated by Muhammad b. Salamah is perfect, and Hammad did not make a mention of the statement of Abu Hurairah
ابو سعید خدری اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے، اپنے کپڑوں میں سے اچھے کپڑے پہنے، اور اگر اس کے پاس ہو تو خوشبو لگائے، پھر جمعہ کے لیے آئے اور لوگوں کی گردنیں نہ پھاندے، پھر اللہ نے جو نماز اس کے لیے مقدر کر رکھی ہے پڑھے، پھر امام کے ( خطبہ کے لیے ) نکلنے سے لے کر نماز سے فارغ ہونے تک خاموش رہے، تو یہ ساری چیزیں اس کے ان گناہوں کا کفارہ ہوں گی جو اس جمعہ اور اس کے پہلے والے جمعہ کے درمیان اس سے سرزد ہوئے ہیں ، راوی کہتے ہیں: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اور مزید تین دن کے گناہوں کا بھی، اس لیے کہ ایک نیکی کا ثواب دس گنا ہوتا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: محمد بن سلمہ کی حدیث زیادہ کامل ہے اور حماد نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا کلام ذکر نہیں کیا ہے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، - وَنَحْنُ بِبَيْرُوتَ - عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوِ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ الْمُتَتَابِعَةُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏
Anas b. Malik reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying:If anyone pretends to be the son of a man other than his father, or attributes his freedom to people other than those who set him free, on him will be the curse of Allah that will continue till the day of resurrection
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو شخص اپنے کو اپنے والد کے سوا کسی اور کا بیٹا بتائے یا اپنے مولیٰ ( آقا ) کے بجائے کسی اور کو اپنا آقا بنائے تو اس پر پیہم قیامت تک اللہ کی لعنت ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ، حَدَّثَنِي زُهَيْرٌ أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ، حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، أَحَدِ بَنِي مَالِكٍ عَنْ عَبَّاسٍ، - أَوْ عَيَّاشِ - بْنِ سَهْلٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّهُ كَانَ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ أَبُوهُ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَفِي الْمَجْلِسِ أَبُو هُرَيْرَةَ وَأَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ وَأَبُو أُسَيْدٍ بِهَذَا الْخَبَرِ يَزِيدُ أَوْ يَنْقُصُ قَالَ فِيهِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ - يَعْنِي مِنَ الرُّكُوعِ - فَقَالَ ‏"‏ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ‏"‏ ‏.‏ وَرَفَعَ يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ اللَّهُ أَكْبَرُ ‏"‏ ‏.‏ فَسَجَدَ فَانْتَصَبَ عَلَى كَفَّيْهِ وَرُكْبَتَيْهِ وَصُدُورِ قَدَمَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ ثُمَّ كَبَّرَ فَجَلَسَ فَتَوَرَّكَ وَنَصَبَ قَدَمَهُ الأُخْرَى ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ ثُمَّ كَبَّرَ فَقَامَ وَلَمْ يَتَوَرَّكْ ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ قَالَ ثُمَّ جَلَسَ بَعْدَ الرَّكْعَتَيْنِ حَتَّى إِذَا هُوَ أَرَادَ أَنْ يَنْهَضَ لِلْقِيَامِ قَامَ بِتَكْبِيرَةٍ ثُمَّ رَكَعَ الرَّكْعَتَيْنِ الأُخْرَيَيْنِ وَلَمْ يَذْكُرِ التَّوَرُّكَ فِي التَّشَهُّدِ ‏.‏
Abbas or ‘Ayyash b. Sahl as-Sa’idi said that he was present in a meeting which was attended by his father who was one of the companions of the Prophet(ﷺ), Abu Hurairah, Abu Humaid al-Sa’idi and Abu Usaid. He narrated the same tradition with a slight addition or deletion. He said:He then raised his head after bowing and uttered:”Allah listens to him who praises Him, to Thee, our Lord, be the praise,” and raised his hands. He then uttered: “Allah is most great”; then he prostrated himself and rested on his palms, knees, and the end of his toes while prostrating: then he uttered the Takbir (Allah is most great), and sat down on his hips and raised his other foot; then he uttered the takbir and prostrated himself; then he uttered takbir and stood up, but did not sit on his hips. He (the narrator) then narrated the rest of the tradition. He further said: Then he sat down at the end of two rak’ahs; when he was about to stand after two rak’ahs, he uttered the takbir; then he offered the last two rak’ahs of the prayer. The narrator did not mention about his sitting on the hips spreading out his feet
عباس بن سہل ساعدی یا عیاش بن سہل ساعدی کہتے ہیں کہ وہ ایک مجلس میں تھے، جس میں ان کے والد بھی تھے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے تھے، مجلس میں ابوہریرہ، ابو حمید ساعدی، اور ابواسید رضی اللہ عنہم بھی تھے، پھر انہوں نے یہی حدیث کچھ کمی و زیادتی کے ساتھ روایت کی، اس میں ہے: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور «سمع الله لمن حمده اللهم ربنا لك الحمد» کہا، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، پھر «الله اكبر» کہا اور سجدے میں گئے اور سجدے کی حالت میں اپنی دونوں ہتھیلیوں، گھٹنوں اور اپنے دونوں قدموں کے اگلے حصہ پر جمے رہے، پھر «الله اكبر» کہہ کر بیٹھے تو تورک کیا ( یعنی سرین پر بیٹھے ) اور اپنے دوسرے قدم کو کھڑا رکھا، پھر «الله اكبر» کہا اور سجدہ کیا، پھر «الله اكبر» کہا اور ( سجدہ سے اٹھ کر ) کھڑے ہو گئے، اور سرین پر نہیں بیٹھے ۔ پھر راوی عباس رضی اللہ عنہ نے ( آخر تک ) حدیث بیان کی اور کہا: پھر آپ دونوں رکعتوں کے بعد بیٹھے، یہاں تک کہ جب ( تیسری رکعت کے لیے ) اٹھنے کا قصد کیا تو «الله اكبر» کہتے ہوئے کھڑے ہو گئے، پھر بعد والی دونوں رکعتیں ادا کیں۔ اور راوی ( عیسیٰ بن عبداللہ ) نے تشہد میں تورک کا ذکر نہیں کیا ہے۔