حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " غُسْلُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ " .
Abu Sa'id al-Khudri reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:Taking bath on Friday is necessary for every adult
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن کا غسل ہر بالغ ( مسلمان ) پر واجب ہے۱؎ ۔
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو عُثْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ سَمِعَتْهُ أُذُنَاىَ، وَوَعَاهُ، قَلْبِي مِنْ مُحَمَّدٍ عَلَيْهِ السَّلاَمُ أَنَّهُ قَالَ " مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ " . قَالَ فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرَةَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ سَمِعَتْهُ أُذُنَاىَ وَوَعَاهُ قَلْبِي مِنْ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم . قَالَ عَاصِمٌ فَقُلْتُ يَا أَبَا عُثْمَانَ لَقَدْ شَهِدَ عِنْدَكَ رَجُلاَنِ أَيُّمَا رَجُلَيْنِ . فَقَالَ أَمَّا أَحَدُهُمَا فَأَوَّلُ مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ فِي الإِسْلاَمِ يَعْنِي سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ وَالآخَرُ قَدِمَ مِنَ الطَّائِفِ فِي بِضْعَةٍ وَعِشْرِينَ رَجُلاً عَلَى أَقْدَامِهِمْ فَذَكَرَ فَضْلاً . قَالَ أَبُو عَلِيٍّ سَمِعْتُ أَبَا دَاوُدَ قَالَ قَالَ النُّفَيْلِيُّ حَيْثُ حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَاللَّهِ إِنَّهُ عِنْدِي أَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ يَعْنِي قَوْلَهُ حَدَّثَنَا وَحَدَّثَنِي قَالَ أَبُو عَلِيٍّ وَسَمِعْتُ أَبَا دَاوُدَ يَقُولُ سَمِعْتُ أَحْمَدَ يَقُولُ لَيْسَ لِحَدِيثِ أَهْلِ الْكُوفَةِ نُورٌ - قَالَ - وَمَا رَأَيْتُ مِثْلَ أَهْلِ الْبَصْرَةِ كَانُوا تَعَلَّمُوهُ مِنْ شُعْبَةَ .
Sa’id b. Malik said:My ears heard it end my heart remembered it from Muhammad (May peace be upon him) who said: if a man claims to be the son of a man who is not his father, paradise will be forbidden for him. He said: I then met Abu Bakrah and mentioned it to him. He said: my ears heard it and my heart remembered it from Muhammad (peace be upon him). ‘Asim said : I said : Abu ‘Uthman! Two men testified before you. Who are they? He said : One of them is the one who is first to shoot arrow in the path of Allah or in the path of Islam, that is to say : Sa’d b. Malik. The other is the one came from al-Taif with ten and some men on foot. He then mentioned his excellence. Abu Dawud said : When al-Nufaili mentioned this tradition, he said : I swear by Allah, this is sweater with me than honey, that is no say, his way transmission. Abu ‘Ali said : I heard Abu Dawud say : I heard Ahmad say : The people of Kufah have no light in their traditions. I did not see them like the people of Basrah. They learnt it from Shu’bah
سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے کانوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے اور میرے دل نے یاد رکھا ہے، آپ نے فرمایا: جو شخص جان بوجھ کر، اپنے آپ کو اپنے والد کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب کرے تو جنت اس پر حرام ہے ۔ عثمان کہتے ہیں: میں سعد رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سن کر ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے اس حدیث کا ذکر کیا، تو انہوں نے بھی کہا: میرے کانوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، اور میرے دل نے اسے یاد رکھا، عاصم کہتے ہیں: اس پر میں نے کہا: ابوعثمان تمہارے پاس دو آدمیوں نے اس بات کی گواہی دی، لیکن یہ دونوں صاحب کون ہیں؟ ان کی صفات و خصوصیات کیا ہیں؟ تو انہوں نے کہا: ایک وہ ہیں جنہوں نے اللہ کی راہ میں یا اسلام میں سب سے پہلے تیر چلایا یعنی سعد بن مالک رضی اللہ عنہ اور دوسرے وہ ہیں جو طائف سے بیس سے زائد آدمیوں کے ساتھ پیدل چل کر آئے پھر ان کی فضیلت بیان کی۔ نفیلی نے یہ حدیث بیان کی تو کہا: قسم اللہ کی! یہ حدیث میرے لیے شہد سے بھی زیادہ میٹھی ہے، یعنی ان کا «حدثنا وحدثني» کہنا ( مجھے بہت پسند ہے ) ۔ ابوعلی کہتے ہیں: میں نے ابوداؤد سے سنا ہے، وہ کہتے تھے: میں نے احمد کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ اہل کوفہ کی حدیث میں کوئی نور نہیں ہوتا ( کیونکہ وہ اسانید کو صحیح طریقہ پر بیان نہیں کرتے، اور اخبار و تحدیث کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے ) اور کہا: میں نے اہل بصرہ جیسے اچھے لوگ بھی نہیں دیکھے انہوں نے شعبہ سے حدیث حاصل کی ( اور شعبہ کا طریقہ اسناد کو اچھی طرح بتا دینے کا تھا ) ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَبِيبٍ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الْعَامِرِيِّ، قَالَ كُنْتُ فِي مَجْلِسٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَتَذَاكَرُوا صَلاَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ فَذَكَرَ بَعْضَ هَذَا الْحَدِيثِ وَقَالَ فَإِذَا رَكَعَ أَمْكَنَ كَفَّيْهِ مِنْ رُكْبَتَيْهِ وَفَرَّجَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ ثُمَّ هَصَرَ ظَهْرَهُ غَيْرَ مُقْنِعٍ رَأْسَهُ وَلاَ صَافِحٍ بِخَدِّهِ وَقَالَ فَإِذَا قَعَدَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَعَدَ عَلَى بَطْنِ قَدَمِهِ الْيُسْرَى وَنَصَبَ الْيُمْنَى فَإِذَا كَانَ فِي الرَّابِعَةِ أَفْضَى بِوَرِكِهِ الْيُسْرَى إِلَى الأَرْضِ وَأَخْرَجَ قَدَمَيْهِ مِنْ نَاحِيَةٍ وَاحِدَةٍ .
‘Amr al-Amiri said:I (once) attended the meeting of the companions of the Messenger of Allah(ﷺ). They began to discuss his prayer. Abu Humaid then narrated a part of the same tradition and said: When he bowed he clutched his knees with his palms, and he opened his fingers; then he bent his back without raising his upwards, and did not turn his face (on any side). When he sat at the end of two rak’ahs he sat on the sole of his left foot and raised the right, and after the fourth he placed his left hip on the ground and spread out both his feet one side
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک مجلس میں تھا، ان لوگوں نے آپس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا تذکرہ کیا، تو ابوحمید رضی اللہ عنہ نے کہا …، پھر راوی نے اسی حدیث کا بعض حصہ ذکر کیا، اور کہا: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کرتے تو اپنی تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف: ۱۱۸۹۷ ) ( صحیح ) ( «ولا صافح بخدہ» کا جملہ صحیح نہیں ہے)