Narrated by Abdullah ibn Abbas
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ الأَنْطَاكِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، أَخْبَرَنِي الأَوْزَاعِيُّ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ أَصَابَ رَجُلاً جُرْحٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ احْتَلَمَ فَأُمِرَ بِالاِغْتِسَالِ فَاغْتَسَلَ فَمَاتَ فَبَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللَّهُ أَلَمْ يَكُنْ شِفَاءُ الْعِيِّ السُّؤَالَ " .
Narrated Abdullah ibn Abbas: A man was injured during the lifetime of the Messenger of Allah (ﷺ); he then had a sexual dream, and he was advised to wash and he washed himself. Consequently he died. When this was reported to the Messenger of Allah (ﷺ) he said: They killed him; may Allah kill them! Is not inquiry the cure of ignorance?
عطاء بن ابی رباح سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک آدمی کو زخم لگا، پھر اسے احتلام ہو گیا، تو اسے غسل کرنے کا حکم دیا گیا، اس نے غسل کیا تو وہ مر گیا، یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوئی تو آپ نے فرمایا: ان لوگوں نے اسے مار ڈالا، اللہ انہیں مارے، کیا لاعلمی کا علاج مسئلہ پوچھ لینا نہیں تھا؟ ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَسَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، - الْمَعْنَى - عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنِ اسْتَعَاذَكُمْ بِاللَّهِ فَأَعِيذُوهُ وَمَنْ سَأَلَكُمْ بِاللَّهِ فَأَعْطُوهُ " . وَقَالَ سَهْلٌ وَعُثْمَانُ " وَمَنْ دَعَاكُمْ فَأَجِيبُوهُ " . ثُمَّ اتَّفَقُوا " وَمَنْ آتَى إِلَيْكُمْ مَعْرُوفًا فَكَافِئُوهُ " . قَالَ مُسَدَّدٌ وَعُثْمَانُ " فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَادْعُوا اللَّهَ لَهُ حَتَّى تَعْلَمُوا أَنْ قَدْ كَافَأْتُمُوهُ " .
Ibn ‘Abbas reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying:If anyone asks you refuge for Allah’s sake give him refuge; and if anyone asks you (for something) for Allah’s sake, give him. Sahl and Sulaiman said: if anyone calls you, respond to him. The Agreed version goes; if you do not afford to compensate him, pray Allah for him until you know that you have compensated him
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص تم سے اللہ کے واسطے سے پناہ طلب کرے تو اسے پناہ دو، اور جو شخص تم سے اللہ کے نام پر سوال کرے تو اسے دو، جو تمہیں مدعو کرے تو اس کی دعوت قبول کرو، جو شخص تم پر احسان کرے تو تم اس کے احسان کا بدلہ چکاؤ، اور اگر بدلہ چکانے کی کوئی چیز نہ پا سکو تو اس کے لیے اتنی دعا کرو جس سے تم یہ سمجھو کہ تم نے اس کا بدلہ چکا دیا ۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ قَالَ فِيهِ ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى ظَهْرِ كَفِّهِ الْيُسْرَى وَالرُّسْغِ وَالسَّاعِدِ وَقَالَ فِيهِ ثُمَّ جِئْتُ بَعْدَ ذَلِكَ فِي زَمَانٍ فِيهِ بَرْدٌ شَدِيدٌ فَرَأَيْتُ النَّاسَ عَلَيْهِمْ جُلُّ الثِّيَابِ تَحَرَّكُ أَيْدِيهِمْ تَحْتَ الثِّيَابِ .
The above tradition has been transmitted by ‘Asim b. Kulaib through a different chain of narrators and to the same effect. This version has:“He then placed his right hand on the back of his left palm and his wrist and forearm.” This also adds: “I then came back afterwards in a season when it was severe cold. I saw the people putting on heavy clothes moving their hands under the clothes (i.e. raised their hands before and after bowing).”
عاصم بن کلیب نے اس سند سے بھی اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے، اس میں یہ ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا داہنا ہاتھ بائیں ہتھیلی کی پشت پہنچے اور کلائی پر رکھا، اس میں یہ بھی ہے کہ پھر میں سخت سردی کے زمانہ میں آیا تو میں نے لوگوں کو بہت زیادہ کپڑے پہنے ہوئے دیکھا، ان کے ہاتھ کپڑوں کے اندر ہلتے تھے۔