حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ، عَنْ ذَرٍّ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمَّارٍ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ فَقَالَ يَعْنِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَضْرِبَ بِيَدَيْكَ إِلَى الأَرْضِ فَتَمْسَحَ بِهِمَا وَجْهَكَ وَكَفَّيْكَ " . وَسَاقَ الْحَدِيثَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَاهُ شُعْبَةُ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ أَبِي مَالِكٍ قَالَ سَمِعْتُ عَمَّارًا يَخْطُبُ بِمِثْلِهِ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ لَمْ يَنْفُخْ . وَذَكَرَ حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنِ الْحَكَمِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ ضَرَبَ بِكَفَّيْهِ إِلَى الأَرْضِ وَنَفَخَ .
This is also transmitted by Ibn 'Abd al-Rahman b. Abza on the authority of his father from 'Ammar. He reported the Prophet (ﷺ) as saying:It would have been enough for you to strike the ground with you hands and then wipe them your face and your hands (up to the wrists). He then narrated the rest of the tradition. Abu Dawud said: This is also transmitted by Shu'bah from Husain on the authority of Abu Malik. He said: I heard 'Ammar saying so him his speech, except that in this version he added the words: "He blew." And Husain b. Muhammad narrated from Shu'bah on the authority of al-Hakam and in this version added the words:"He (the Prophet) struck the earth with his plans and blew
اس طریق سے عبدالرحمٰن بن ابزیٰ سے بواسطہ عمار رضی اللہ عنہ اس حدیث میں مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ آپ نے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صرف اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مار کر انہیں اپنے چہرے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں پر پھیر لینا تمہارے لیے کافی تھا ، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے شعبہ نے حصین سے، حصین نے ابو مالک سے روایت کیا ہے، اس میں ہے: میں نے عمار رضی اللہ عنہ کو اسی طرح خطبہ میں بیان کرتے ہوئے سنا ہے مگر اس میں انہوں نے کہا: پھونک نہیں ماری ، اور حسین بن محمد نے شعبہ سے اور انہوں نے حکم سے روایت کی ہے، اس میں انہوں نے کہا ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر اپنی دونوں ہتھیلیوں کو مارا اور اس میں پھونک ماری۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا عَمْرٌو، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ، حَدَّثَهُ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَطُّ مُسْتَجْمِعًا ضَاحِكًا حَتَّى أَرَى مِنْهُ لَهَوَاتِهِ إِنَّمَا كَانَ يَتَبَسَّمُ وَكَانَ إِذَا رَأَى غَيْمًا أَوْ رِيحًا عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ النَّاسُ إِذَا رَأَوُا الْغَيْمَ فَرِحُوا رَجَاءَ أَنْ يَكُونَ فِيهِ الْمَطَرُ وَأَرَاكَ إِذَا رَأَيْتَهُ عُرِفَتْ فِي وَجْهِكَ الْكَرَاهِيَةُ فَقَالَ " يَا عَائِشَةُ مَا يُؤَمِّنُنِي أَنْ يَكُونَ فِيهِ عَذَابٌ قَدْ عُذِّبَ قَوْمٌ بِالرِّيحِ وَقَدْ رَأَى قَوْمٌ الْعَذَابَ فَقَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا " .
‘A’ishah, wife of the prophet (May peace be upon him), said :I never saw the Messenger of Allah (May peace be upon him) laugh fully to such an extent that I could see his uvula. He would only smile, and when he saw clouds or wind, his face showed signs (of fear). I asked him: Messenger of Allah! When the people see the cloud, they rejoice, hoping for that it may contain rain, and I notice that when you see it, (the signs of) abomination on your face. He replied: ‘A’ishah! What gives me safety from the fact that it might contain punishment? A people were punished by the wind. When those people saw the punishment, they said: this is a cloud which would give us rain
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کھلکھلا کر ہنستے نہیں دیکھا کہ آپ کے حلق کے کوے کو دیکھ سکوں، آپ تو صرف تبسم فرماتے ( ہلکا سا مسکراتے ) تھے، آپ جب بدلی یا آندھی دیکھتے تو اس کا اثر آپ کے چہرے پر دیکھا جاتا ( آپ تردد اور تشویش میں مبتلا ہو جاتے ) تو ( ایک بار ) میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! لوگ تو جب بدلی دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں کہ بارش ہو گی، اور آپ کو دیکھتی ہوں کہ آپ جب بدلی دیکھتے ہیں تو آپ کے چہرے سے ناگواری ( گھبراہٹ اور پریشانی ) جھلکتی ہے ( اس کی وجہ کیا ہے؟ ) آپ نے فرمایا: اے عائشہ! مجھے یہ ڈر لگا رہتا ہے کہ کہیں اس میں عذاب نہ ہو، کیونکہ ایک قوم ( قوم عاد ) ہوا کے عذاب سے دو چار ہو چکی ہے، اور ایک قوم نے ( بدلی کا ) عذاب دیکھا، تو وہ کہنے لگی «هذا عارض ممطرنا» ۱؎: یہ بادل تو ہم پر برسے گا ( وہ برسا تو لیکن، بارش پتھروں کی ہوئی، سب ہلاک کر دیے گئے ) ۔
Narrated by Abdullah ibn Abbas
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنْ أَبِي الصَّهْبَاءِ، قَالَ تَذَاكَرْنَا مَا يَقْطَعُ الصَّلاَةَ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ جِئْتُ أَنَا وَغُلاَمٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَلَى حِمَارٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي فَنَزَلَ وَنَزَلْتُ وَتَرَكْنَا الْحِمَارَ أَمَامَ الصَّفِّ فَمَا بَالاَهُ وَجَاءَتْ جَارِيَتَانِ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَدَخَلَتَا بَيْنَ الصَّفِّ فَمَا بَالَى ذَلِكَ .
Narrated Abdullah ibn Abbas: AbusSahba' said: We discussed the things that cut off the prayer according to Ibn Abbas. He said: I and a boy from Banu AbdulMuttalib came riding a donkey, and the Messenger of Allah (ﷺ) was leading the people in prayer. He dismounted and I also dismounted. I left the donkey in front of the row (of the worshippers). He (the Prophet) did not pay attention to that. Then two girls from Banu AbdulMuttalib came and joined the row in the middle, but he paid no attention to that
ابوصہباء کہتے ہیں کہ ہم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ان چیزوں کا تذکرہ کیا جو نماز کو توڑ دیتی ہیں، تو انہوں نے کہا: میں اور بنی عبدالمطلب کا ایک لڑکا دونوں ایک گدھے پر سوار ہو کر آئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، ہم دونوں اترے اور گدھے کو صف کے آگے چھوڑ دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ پرواہ نہ کی، اور بنی عبدالمطلب کی دو لڑکیاں آئیں، وہ آ کر صف کے درمیان داخل ہو گئیں تو آپ نے اس کی بھی کچھ پرواہ نہ کی۔