Narrated by Malik
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، قَالَ قَالَ مَالِكٌ لاَ يَنْبَغِي لأَحَدٍ أَنْ يُجَاوِزَ الْمُعَرَّسَ إِذَا قَفَلَ رَاجِعًا إِلَى الْمَدِينَةِ حَتَّى يُصَلِّيَ فِيهَا مَا بَدَا لَهُ لأَنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَرَّسَ بِهِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ الْمَدَنِيَّ قَالَ الْمُعَرَّسُ عَلَى سِتَّةِ أَمْيَالٍ مِنَ الْمَدِينَةِ .
Narrated Malik: One should not exceed al-Mu'arras when one returns to Medina until one prays there as much as one wishes, for I have been informed that the Messenger of Allah (ﷺ) halted there at night. Abu Dawud said: I heard Muhammad b. Ishaq al-Madini say: Al-Mu'arras lies at a distance of six miles from Medina
مالک کہتے ہی جب کوئی مدینہ واپس لوٹے اور معرس پہنچے تو اس کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ آگے بڑھے جب تک کہ نماز نہ پڑھ لے جتنا اس کا جی چاہے اس لیے کہ مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں رات کو قیام کیا تھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے محمد بن اسحاق مدنی کو کہتے سنا: معرس مدینہ سے چھ میل کے فاصلے پر ایک مقام ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، - يَعْنِي الأَعْوَرَ - حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، بِإِسْنَادِهِ بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ ثُمَّ نَفَخَ فِيهَا وَمَسَحَ بِهَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ أَوْ إِلَى الذِّرَاعَيْنِ . قَالَ شُعْبَةُ كَانَ سَلَمَةُ يَقُولُ الْكَفَّيْنِ وَالْوَجْهَ وَالذِّرَاعَيْنِ فَقَالَ لَهُ مَنْصُورٌ ذَاتَ يَوْمٍ انْظُرْ مَا تَقُولُ فَإِنَّهُ لاَ يَذْكُرُ الذِّرَاعَيْنِ غَيْرُكَ .
This is transmitted by Shu'bah through a different chain of narrators. This version adds:He ('Ammar) said: He (the Prophet) then blew it and wiped with it his face and hands up to elbows or up to the forearms. Shu'bah said: Salamah used to narrate (the words) "the hands and the face and the forearms". One day Mansur said to him: Look, what are you saying, because no one except you mentions the (word) "forearms
حجاج اعور کہتے ہیں کہ شعبہ نے اسی سند سے یہی حدیث بیان کی ہے، اس میں ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں پھونک ماری اور اپنے چہرے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں پر کہنیوں یا ذراعین ۱؎ تک پھیرا۔ شعبہ کا بیان ہے کہ سلمہ کہتے تھے: دونوں ہتھیلیوں، چہرے اور ذراعین پر پھیرا، تو ایک دن منصور نے ان سے کہا: جو کہہ رہے ہو خوب دیکھ بھال کر کہو، کیونکہ تمہارے علاوہ ذراعین کو اور کوئی ذکر نہیں کرتا۔
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، وَسَلَمَةُ، - يَعْنِي ابْنَ شَبِيبٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الرِّيحُ مِنْ رَوْحِ اللَّهِ " . قَالَ سَلَمَةُ فَرَوْحُ اللَّهِ تَأْتِي بِالرَّحْمَةِ وَتَأْتِي بِالْعَذَابِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا فَلاَ تَسُبُّوهَا وَسَلُوا اللَّهَ خَيْرَهَا وَاسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا " .
Narrated AbuHurayrah: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: The wind comes from Allah's mercy. Salamah's version has: It is Allah's mercy; it (sometimes) brings blessing and (sometimes) brings punishment. So when you see it, do not revile it, but ask Allah for some of its good, and seek refuge in Allah from its evil
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: «ریح» ( ہوا ) اللہ کی رحمت میں سے ہے ( سلمہ کی روایت میں «من روح الله» ہے ) ، کبھی وہ رحمت لے کر آتی ہے، اور کبھی عذاب لے کر آتی ہے، تو جب تم اسے دیکھو تو اسے برا مت کہو، اللہ سے اس کی بھلائی مانگو، اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ چاہو۔
Narrated by Abdullah ibn Abbas
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ جِئْتُ عَلَى حِمَارٍ ح وَحَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَقْبَلْتُ رَاكِبًا عَلَى أَتَانٍ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ، قَدْ نَاهَزْتُ الاِحْتِلاَمَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِمِنًى فَمَرَرْتُ بَيْنَ يَدَىْ بَعْضِ الصَّفِّ فَنَزَلْتُ فَأَرْسَلْتُ الأَتَانَ تَرْتَعُ وَدَخَلْتُ فِي الصَّفِّ فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ أَحَدٌ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَذَا لَفْظُ الْقَعْنَبِيِّ وَهُوَ أَتَمُّ . قَالَ مَالِكٌ وَأَنَا أَرَى ذَلِكَ وَاسِعًا إِذَا قَامَتِ الصَّلاَةُ .
Narrated Abdullah ibn Abbas: I came riding a donkey. Another version has: Ibn Abbas said: When I was near the age of the puberty I came riding a she-ass and found the Messenger of Allah (ﷺ) leading the people in prayer at Mina. I passed in front of a part of the row (of worshippers), and dismounting left my she-ass for grazing in the pasture, and I joined the row, and no one objected to that. Abu Dawud said: These are the words of al-Qa'nabi, and are complete. Malik said: I take it as permissible at the time when the iqamah for prayer is pronounced
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں ایک گدھی پر سوار ہو کر آیا، ان دنوں میں بالغ ہونے کے قریب ہو چکا تھا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں نماز پڑھا رہے تھے، میں صف کے بعض حصے کے آگے سے گزرا، پھر اترا تو گدھی کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا، اور صف میں شریک ہو گیا، تو کسی نے مجھ پر نکیر نہیں کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ قعنبی کے الفاظ ہیں اور یہ زیادہ کامل ہیں۔ مالک کہتے ہیں: جب نماز کھڑی ہو جائے تو میں اس میں گنجائش سمجھتا ہوں۔