بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Abu Dawood
3
33 hadith
Narrated by Asma
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُ بِالْعَتَاقَةِ فِي صَلاَةِ الْكُسُوفِ ‏.‏
Narrated Asma:The Prophet (peace be upon him) used to command us to free slaves on the occasion of an eclipse
اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کسوف میں غلام آزاد کرنے کا حکم دیتے تھے۔
Narrated by Imran ibn Husayn
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ح وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، - وَهَذَا لَفْظُهُ - أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَشَهِدْتُ مَعَهُ الْفَتْحَ فَأَقَامَ بِمَكَّةَ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ لَيْلَةً لاَ يُصَلِّي إِلاَّ رَكْعَتَيْنِ وَيَقُولُ ‏ "‏ يَا أَهْلَ الْبَلَدِ صَلُّوا أَرْبَعًا فَإِنَّا قَوْمٌ سَفْرٌ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Imran ibn Husayn: I went on an expedition with the Messenger of Allah (ﷺ), and I was present with him at the conquest. He stayed eighteen days in Mecca and prayed only two rak'ahs (at each time of prayer). And he said: You who live in the town must pray four; we are travellers
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ کیا اور فتح مکہ میں آپ کے ساتھ موجود رہا، آپ نے مکہ میں اٹھارہ شب قیام فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف دو رکعتیں ہی پڑھتے رہے اور فرماتے: اے مکہ والو! تم چار پڑھو، کیونکہ ہم تو مسافر ہیں ۱؎۔
Narrated by Abd Allah al-Muzani
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْحُسَيْنِ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ صَلُّوا قَبْلَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ صَلُّوا قَبْلَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ لِمَنْ شَاءَ ‏"‏ ‏.‏ خَشْيَةَ أَنْ يَتَّخِذَهَا النَّاسُ سُنَّةً ‏.‏
Narrated 'Abd Allah al-Muzani:The Messenger of Allah (ﷺ) said: Pray two rak'ahs before the Maghrib prayer. He then said (again): Pray two rak'ahs before the Maghrib prayer, it applies to those who wish to do so. That was because he feared that the people might treat it as sunnah
عبداللہ مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھو ، پھر فرمایا: مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھو جس کا جی چاہے ، یہ اس اندیشے سے فرمایا کہ لوگ اس کو ( راتب ) سنت نہ بنا لیں ۱؎۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، - يَعْنِي ابْنَ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ - عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّهُ قَالَ احْتَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَسْجِدِ حُجْرَةً فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْرُجُ مِنَ اللَّيْلِ فَيُصَلِّي فِيهَا قَالَ فَصَلَّوْا مَعَهُ بِصَلاَتِهِ - يَعْنِي رِجَالاً - وَكَانُوا يَأْتُونَهُ كُلَّ لَيْلَةٍ حَتَّى إِذَا كَانَ لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي لَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَتَنَحْنَحُوا وَرَفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ وَحَصَبُوا بَابَهُ - قَالَ - فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُغْضَبًا فَقَالَ ‏ "‏ يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَا زَالَ بِكُمْ صَنِيعُكُمْ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنْ سَتُكْتَبَ عَلَيْكُمْ فَعَلَيْكُمْ بِالصَّلاَةِ فِي بُيُوتِكُمْ فَإِنَّ خَيْرَ صَلاَةِ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلاَّ الصَّلاَةَ الْمَكْتُوبَةَ ‏"‏ ‏.‏
Zaid b. Thabit said:The Messenger of Allah (ﷺ) built a chamber in the mosque. He used to come out at night and pray there. They (the people) also prayed along with him. They would come (to prayer) every night. If on any night the Messenger of Allah (ﷺ) did not come out, they would cough, raise their voices and throw pebbles and sand on his door. The Messenger of Allah (ﷺ) came out to time in anger and said: O People, you kept on doing this till I thought that it will be prescribed for you. Offer your prayers in your houses, for a man's prayer is better in his house except obligatory prayer
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے ایک حصہ کو چٹائی سے گھیر کر ایک حجرہ بنا لیا، آپ رات کو نکلتے اور اس میں نماز پڑھتے تھے، کچھ لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھنی شروع کر دی وہ ہر رات آپ کے پاس آنے لگے یہاں تک کہ ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف نہیں نکلے، لوگ کھنکھارنے اور آوازیں بلند کرنے لگے، اور آپ کے دروازے پر کنکر مارنے لگے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں ان کی طرف نکلے اور فرمایا: لوگو! تم مسلسل ایسا کئے جا رہے تھے یہاں تک کہ مجھے گمان ہوا کہ کہیں تم پر یہ فرض نہ کر دی جائے، لہٰذا اب تم کو چاہیئے کہ گھروں میں نماز پڑھا کرو اس لیے کہ آدمی کی سب سے بہتر نماز وہ ہے جسے وہ اپنے گھر میں پڑھے ۱؎ سوائے فرض نماز کے ۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَيَحْيَى بْنُ مُوسَى، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَصْحَابَ الصَّدَقَةِ يَعْتَدُونَ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَفَعَهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ ‏.‏
The aforesaid tradition has also been narrated by Ayyub through a different chain of narrators to the same effect. This version adds We said Messenger of Allah(ﷺ) the collectors of sadaqah collect more than is due from us. Abu Dawud said ‘Abd Al Razzaq narrated this tradition from Ma’mar attributing it to the Prophet(ﷺ)
اس سند سے بھی ایوب سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے مگر اس میں ہے ہم نے کہا: اللہ کے رسول! زکاۃ لینے والے زیادتی کرتے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالرزاق نے معمر سے اسے مرفوعاً نقل کیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَحَفْصُ بْنُ عُمَرَ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، - قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ - قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَسَّانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى الظُّهْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ ثُمَّ دَعَا بِبَدَنَةٍ فَأَشْعَرَهَا مِنْ صَفْحَةِ سَنَامِهَا الأَيْمَنِ ثُمَّ سَلَتَ عَنْهَا الدَّمَ وَقَلَّدَهَا بِنَعْلَيْنِ ثُمَّ أُتِيَ بِرَاحِلَتِهِ فَلَمَّا قَعَدَ عَلَيْهَا وَاسْتَوَتْ بِهِ عَلَى الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ بِالْحَجِّ ‏.‏
Ibn `Abbas said :The Messenger of Allah (SWAS) offered the noon prayer at Dhu al-Hulaifah. He then sent for a camel and made incision in the right side of its hump ; he then took out the blood by pressing it and tied two shoes in its neck. He then rode on his mount (camel) and reached al-Baida, he raised his voice for the talbiyah for performing Hajj
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی الحلیفہ میں ظہر پڑھی پھر آپ نے ہدی کا اونٹ منگایا اور اس کے کوہان کے داہنی جانب اشعار ۱؎ کیا، پھر اس سے خون صاف کیا اور اس کی گردن میں دو جوتیاں پہنا دیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری لائی گئی جب آپ اس پر بیٹھ گئے اور وہ مقام بیداء میں آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا تلبیہ پڑھا۔
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنِ الْحَارِثِ الأَعْوَرِ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَرَأَيْنَا أَنَّهُ عَلِيٌّ - عَلَيْهِ السَّلاَمُ - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَاهُ ‏.‏
The aforesaid tradition has also been transmitted by ‘Ali through a different chain of narrators from the Prophet (ﷺ) to the same effect
حارث الاعور رضی اللہ عنہ ایک صحابی رسول سے روایت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا خیال ہے کہ وہ علی رضی اللہ عنہ ہیں جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے آگے راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ الْكَلْبِيُّ أَبُو ثَوْرٍ، - فِي آخَرِينَ - قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ، حَدَّثَنِي عَمِّي، مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُجَيْرِ بْنِ عَبْدِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ، أَنَّ رُكَانَةَ بْنَ عَبْدِ يَزِيدَ، طَلَّقَ امْرَأَتَهُ سُهَيْمَةَ الْبَتَّةَ فَأَخْبَرَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بِذَلِكَ وَقَالَ وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ إِلاَّ وَاحِدَةً ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ وَاللَّهِ مَا أَرَدْتَ إِلاَّ وَاحِدَةً ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ رُكَانَةُ وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ إِلاَّ وَاحِدَةً ‏.‏ فَرَدَّهَا إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَطَلَّقَهَا الثَّانِيَةَ فِي زَمَانِ عُمَرَ وَالثَّالِثَةَ فِي زَمَانِ عُثْمَانَ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ أَوَّلُهُ لَفْظُ إِبْرَاهِيمَ وَآخِرُهُ لَفْظُ ابْنِ السَّرْحِ ‏.‏
Nafi' bun Ujair bin Abd Yazid bin Ruknah reported Ruknah bin ‘Abd Yazid divorced his wife Suhaimah absolutely. The Prophet (ﷺ) was informed about this matter. He said to him (the Prophet) I swear by Allaah that I meant it to be only a single utterance of divorce. The Apostle of Allaah(ﷺ) said “I swear by Allaah that I meant it to be only a single divorce. The Apostle of Allaah(ﷺ) restored her to him, Then he divorced her the second time in the time of ‘Umar and the third time of ‘Uthman. Abu Dawud said “This tradition contains the words of Ibrahim in its beginning and the words of Ibn Al Sarh in the end
نافع بن عجیر بن عبد یزید بن رکانہ سے روایت ہے کہ رکانہ بن عبد یزید نے اپنی بیوی سہیمہ کو طلاق بتہ ۱؎ ( قطعی طلاق ) دے دی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی اور کہا: اللہ کی قسم! میں نے تو ایک ہی طلاق کی نیت کی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم اللہ کی تم نے صرف ایک کی نیت کی تھی؟ رکانہ نے کہا: قسم اللہ کی میں نے صرف ایک کی نیت کی تھی، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بیوی انہیں واپس لوٹا دی، پھر انہوں نے اسے دوسری طلاق عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں دی اور تیسری عثمان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں۔
Narrated by Al-Irbad ibn Sariyyah
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ سَيْفٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي رُهْمٍ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ، قَالَ دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى السَّحُورِ فِي رَمَضَانَ فَقَالَ ‏ "‏ هَلُمَّ إِلَى الْغَدَاءِ الْمُبَارَكِ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Al-Irbad ibn Sariyyah: The Messenger of Allah (ﷺ) invited me to a meal shortly before dawn in Ramadan saying: Come to the blessed morning meal
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں سحری کھانے کے لیے بلایا اور یوں کہا: بابرکت «غداء» پر آؤ ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏:‏ ‏"‏ لَقَدْ تَرَكْتُمْ بِالْمَدِينَةِ أَقْوَامًا مَا سِرْتُمْ مَسِيرًا وَلاَ أَنْفَقْتُمْ مِنْ نَفَقَةٍ وَلاَ قَطَعْتُمْ مِنْ وَادٍ إِلاَّ وَهُمْ مَعَكُمْ فِيهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا ‏:‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ يَكُونُونَ مَعَنَا وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ فَقَالَ ‏:‏ ‏"‏ حَبَسَهُمُ الْعُذْرُ ‏"‏ ‏.‏
Anas bin Malik reported on the authority of his father, The Apostle of Allaah(ﷺ) said “ You left behind some people in Madeenah who did not fail to be with you wherever you went and whatever you spent (of your goods) and whatever valley you crossed. They asked Apostle of Allaah(ﷺ) how can they be with us when they are still in Madeenah? He replied “They were declined by a valid excuse.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم مدینہ میں کچھ ایسے لوگوں کو چھوڑ کر آئے کہ تم کوئی قدم نہیں چلے یا کچھ خرچ نہیں کیا یا کوئی وادی طے نہیں کی مگر وہ تمہارے ساتھ رہے ، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ ہمارے ہمراہ کیسے ہو سکتے ہیں جب کہ وہ مدینہ میں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں عذر نے روک رکھا ہے ۔
Narrated by Abdullah ibn Abbas
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ جَاءَتِ الْيَهُودُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا نَأْكُلُ مِمَّا قَتَلْنَا وَلاَ نَأْكُلُ مِمَّا قَتَلَ اللَّهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ ‏{‏ وَلاَ تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ ‏}‏ إِلَى آخِرِ الآيَةِ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Jews came to the Prophet (ﷺ) and said: We eat which we kill but we do not eat which Allah kills? So Allah revealed: "Eat not of (meats) on which Allah's name hath not been pronounced." to the end of the verse
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ یہود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: ہم اس جانور کو کھاتے ہیں جسے ہم ماریں اور جسے اللہ مارے اسے ہم نہیں کھاتے تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری «ولا تأكلوا مما لم يذكر اسم الله عليه» ۔
Narrated by Aishah
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْطَى الثَّمَنَ وَوَلِيَ النِّعْمَةَ ‏"‏ ‏.‏
Narrated 'Aishah:The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: The right of inheritance belongs to only to the one who paid the price (of the slave) and patronised him by doing an act of gratitude
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ولاء اس شخص کا حق ہے جو قیمت دے کر خرید لے اور احسان کرے ( یعنی خرید کر غلام کو آزاد کر دے ) ۔
Narrated by Dhul-Zawa'id
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ مُطَيْرٍ، - مِنْ أَهْلِ وَادِي الْقُرَى - عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلاً، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَأَمَرَ النَّاسَ وَنَهَاهُمْ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ إِذَا تَجَاحَفَتْ قُرَيْشٌ عَلَى الْمُلْكِ فِيمَا بَيْنَهَا وَعَادَ الْعَطَاءُ أَوْ كَانَ رُشًا فَدَعُوهُ ‏"‏ ‏.‏ فَقِيلَ مَنْ هَذَا قَالُوا هَذَا ذُو الزَّوَائِدِ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
Narrated Dhul-Zawa'id: Mutayr said: I heard a man say: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) in the Farewell Pilgrimage. He was commanding and prohibiting them (the people). He said: O Allah, did I give full information? They said: Yes. He said: When the Quraysh quarrel about the rule among themselves, and the presents become bribery, them leave them. The people were asked: Who was he (who narrated this tradition)? They said: This was Dhul-Zawa'id, a Companion of the Messenger of Allah (ﷺ)
وادی القری کے باشندہ سلیم بن مطیر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ان سے بیان کیا کہ میں نے ایک شخص کو کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حجۃ الوداع میں سنا آپ نے ( لوگوں کو اچھی باتوں کا ) حکم دیا ( اور انہیں بری باتوں سے ) منع کیا پھر فرمایا: اے اللہ! کیا میں نے ( تیرا پیغام ) انہیں پہنچا دیا ، لوگوں نے کہا: ہاں، پہنچا دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب قریش کے لوگ حکومت اور ملک و اقتدار کے لیے لڑنے لگیں اور عطیہ کی حیثیت رشوت کی بن جائے ( یعنی مستحق کے بجائے غیر مستحق کو ملنے لگے ) تو اسے چھوڑ دو ۔ پوچھا گیا: یہ کون ہیں؟ لوگوں نے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ذوالزوائد ۱؎ ہیں۔
Narrated by Aishah
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سُجِّيَ فِي ثَوْبٍ حِبَرَةٍ ‏.‏
Narrated 'Aishah:The Prophet (ﷺ) was covered with striped Yemen garment (after his death)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ( وفات کے بعد ) یمنی کپڑے سے ڈھانپ دیا گیا۔
Narrated by Hafsah, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ، - يَعْنِي الإِفْرِيقِيَّ - عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، وَمَعْبَدٍ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ الْخُزَاعِيِّ، قَالَ حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ، زَوْجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَجْعَلُ يَمِينَهُ لِطَعَامِهِ وَشَرَابِهِ وَثِيَابِهِ وَيَجْعَلُ شِمَالَهُ لِمَا سِوَى ذَلِكَ ‏.‏
Narrated Hafsah, Ummul Mu'minin: The Prophet (ﷺ) used his right hand for taking his food and drink and used his left hand for other purposes
حارثہ بن وہب خزاعی کہتے ہیں کہ ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دائیں ہاتھ کو کھانے، پینے اور کپڑا پہننے کے لیے استعمال کرتے تھے، اور اپنے بائیں ہاتھ کو ان کے علاوہ دوسرے کاموں کے لیے۔
Narrated by Abdullah ibn Amr ibn al-'As
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏:‏ ‏ "‏ لاَ نَذْرَ إِلاَّ فِيمَا يُبْتَغَى بِهِ وَجْهُ اللَّهِ، وَلاَ يَمِينَ فِي قَطِيعَةِ رَحِمٍ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-'As: The Messenger of Allah (ﷺ) said: A vow is binding in those things by which the pleasure of Allah is sought, and an oath to break ties of relationship is not binding
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صرف ان چیزوں میں نذر جائز ہے جس سے اللہ کی رضا و خوشنودی مطلوب ہو اور قسم ( قطع رحمی ) ناتا توڑنے کے لیے جائز نہیں ۔
Narrated by Abdullah ibn Amr ibn al-'As
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حَرِيشٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَهُ أَنْ يُجَهِّزَ جَيْشًا فَنَفِدَتِ الإِبِلُ فَأَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ فِي قِلاَصِ الصَّدَقَةِ فَكَانَ يَأْخُذُ الْبَعِيرَ بِالْبَعِيرَيْنِ إِلَى إِبِلِ الصَّدَقَةِ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-'As: The Messenger of Allah (ﷺ) commanded him to equip an army, but the camels were insufficient. So he commanded him to keep back the young camels of sadaqah, and he was taking a camel to be replaced by two when the camels of sadaqah came
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک لشکر تیار کرنے کا حکم دیا، تو اونٹ کم پڑ گئے تو آپ نے صدقہ کے جوان اونٹ کے بدلے اونٹ ( ادھار ) لینے کا حکم دیا تو وہ صدقہ کے اونٹ آنے تک کی شرط پر دو اونٹ کے بدلے ایک اونٹ لیتے تھے۔
Narrated by Ma'mar b. Abi Ma'mar, one of the children of 'Adi b. Ka'b
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ أَبِي مَعْمَرٍ، أَحَدِ بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يَحْتَكِرُ إِلاَّ خَاطِئٌ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ لِسَعِيدٍ فَإِنَّكَ تَحْتَكِرُ قَالَ وَمَعْمَرٌ كَانَ يَحْتَكِرُ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَسَأَلْتُ أَحْمَدَ مَا الْحُكْرَةُ قَالَ مَا فِيهِ عَيْشُ النَّاسِ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ الأَوْزَاعِيُّ الْمُحْتَكِرُ مَنْ يَعْتَرِضُ السُّوقَ ‏.‏
Narrated Ma'mar b. Abi Ma'mar, one of the children of 'Adi b. Ka'b: The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: No one withholds goods till their price rises but a sinner. I said to Sa'id (b. al-Musayyab): You withhold goods till their price rises. He said: Ma'mar used to withhold goods till their price rose. Abu Dawud said: I asked Ahmad (b. Hanbal): What is hoarding (hukrah) ? He replied: That on which people live. Abu Dawud said: Al-Auza'i said: A muhtakir (one who hoards) is one who withholds supply of goods in the market
بنو عدی بن کعب کے ایک فرد معمر بن ابی معمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بھاؤ بڑھانے کے لیے احتکار ( ذخیرہ اندوزی ) وہی کرتا ہے جو خطاکار ہو ۔ محمد بن عمرو کہتے ہیں: میں نے سعید بن مسیب سے کہا: آپ تو احتکار کرتے ہیں، انہوں نے کہا: معمر بھی احتکار کرتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے امام احمد سے پوچھا: حکرہ کیا ہے؟ ( یعنی احتکار کا اطلاق کس چیز پر ہو گا ) انہوں نے کہا: جس پر لوگوں کی زندگی موقوف ہو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اوزاعی کہتے ہیں: احتکار ( ذخیرہ اندوزی ) کرنے والا وہ ہے جو بازار کے آڑے آئے یعنی اس کے لیے رکاوٹ بنے۔
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَنَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ لاَ تَجُوزُ شَهَادَةُ بَدَوِيٍّ عَلَى صَاحِبِ قَرْيَةٍ ‏"‏ ‏.‏
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: The testimony of a nomad Arab against a townsman is not allowable
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: دیہاتی کی گواہی بستی اور شہر میں رہنے والے شخص کے خلاف جائز نہیں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ زِيَادِ بْنِ فَيَّاضٍ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الأَوْعِيَةَ الدُّبَّاءَ وَالْحَنْتَمَ وَالْمُزَفَّتَ وَالنَّقِيرَ فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ إِنَّهُ لاَ ظُرُوفَ لَنَا ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ اشْرَبُوا مَا حَلَّ ‏"‏ ‏.‏
‘Abd Allah b.’ Amr said:The Prophet(ﷺ) mentioned the vessels: pumpkins, green jarrs, vessels smeared with pitch and hollow stumps. A desert Arab said: We have no vessels(except these). He said: Drink(from them) what is lawful
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء، حنتم، مزفت، اور نقیر کے برتنوں کا ذکر کیا ۱؎ تو ایک دیہاتی نے عرض کیا: ہمارے پاس تو اور کوئی برتن ہی نہیں رہا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا جو حلال ہوا سے پیو ۔
Narrated by Aisha, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ هِشَامٍ، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الدَّسْتَوَائِيَّ - عَنْ بُدَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ امْرَأَةٍ، مِنْهُمْ يُقَالُ لَهَا أُمُّ كُلْثُومٍ عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ تَعَالَى فَإِنْ نَسِيَ أَنْ يَذْكُرَ اسْمَ اللَّهِ تَعَالَى فِي أَوَّلِهِ فَلْيَقُلْ بِسْمِ اللَّهِ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: The Messenger of Allah (ﷺ) said: When one of you eats, he should mention Allah's name; if he forgets to mention Allah's name at the beginning, he should say: "In the name of Allah at the beginning and at the end of it
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھائے تو اللہ کا نام لے، اگر شروع میں ( اللہ کا نام ) بسم اللہ بھول جائے تو اسے یوں کہنا چاہیئے بسم الله أوله وآخره ( اس کی ابتداء و انتہاء دونوں اللہ کے نام سے ) ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كُنَّا نَرْقِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَرَى فِي ذَلِكَ فَقَالَ ‏ "‏ اعْرِضُوا عَلَىَّ رُقَاكُمْ لاَ بَأْسَ بِالرُّقَى مَا لَمْ تَكُنْ شِرْكًا ‏"‏ ‏.‏
‘Awf b. Malik said :In the pre-Islamic period we used to apply spells and we asked: Messenger of Allah ! how do you look upon it ? He replied : Submit your spells to me. There is no harm in spells so long as they involve no polytheism
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم جاہلیت میں جھاڑ پھونک کرتے تھے تو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ اسے کیسا سمجھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنا منتر میرے اوپر پیش کرو جھاڑ پھونک میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ وہ شرک نہ ہو ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَجُلاً، مِنَ الأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو مَذْكُورٍ أَعْتَقَ غُلاَمًا لَهُ يُقَالُ لَهُ يَعْقُوبُ عَنْ دُبُرٍ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ فَدَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ مَنْ يَشْتَرِيهِ ‏"‏ ‏.‏ فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ النَّحَّامِ بِثَمَانِمِائَةِ دِرْهَمٍ فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فَقِيرًا فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ فَإِنْ كَانَ فِيهَا فَضْلٌ فَعَلَى عِيَالِهِ فَإِنْ كَانَ فِيهَا فَضْلٌ فَعَلَى ذِي قَرَابَتِهِ ‏"‏ ‏.‏ أَوْ قَالَ ‏"‏ عَلَى ذِي رَحِمِهِ فَإِنْ كَانَ فَضْلاً فَهَا هُنَا وَهَا هُنَا ‏"‏ ‏.‏
Jabir said:A man of the Ansar called Abu Madhkur declared that his slave called Ya'qub would be free after his death, but he had no other property. So the Messenger of Allah (ﷺ) called him and said: Who will buy him ? Nu'aim b. 'Abd Allah b. al-Nahham bought him for eight hundred dirhams. When he handed them over to him, he (Prophet) said: If any of you is poor, he should begin from himself ; if anything is left over, give it to your family; if anything is left over, give it to your relatives ; if anything is left over (when they received something), then here and here
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک ابومذکور نامی انصاری نے اپنے یعقوب نامی ایک غلام کو اپنے مرنے کے بعد آزاد کر دیا، اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور مال نہیں تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور فرمایا: اسے کون خریدتا ہے؟ چنانچہ نعیم بن عبداللہ بن نحام نے آٹھ سو درہم میں اسے خرید لیا تو آپ نے اسے انصاری کو دے دیا اور فرمایا: جب تم میں سے کوئی محتاج ہو تو اسے اپنی ذات سے شروع کرنا چاہیئے، پھر جو اپنے سے بچ رہے تو اسے اپنے بال بچوں پر صرف کرے پھر اگر ان سے بچ رہے تو اپنے قرابت داروں پر خرچ کرے یا فرمایا: اپنے ذی رحم رشتہ داروں پر خرچ کرے اور اگر ان سے بھی بچ رہے تو یہاں وہاں خرچ کرے ۱؎ ۔
Narrated by Ibn al-Musayyab
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ مَعْمَرٌ وَرُبَّمَا ذَكَرَ ابْنَ الْمُسَيَّبِ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ يَقْرَءُونَ ‏{‏ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ ‏}‏ وَأَوَّلُ مَنْ قَرَأَهَا ‏{‏ مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ ‏}‏ مَرْوَانُ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ وَالزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ ‏.‏
Narrated Ibn al-Musayyab: The Prophet (ﷺ), AbuBakr, Umar and Uthman used to read "maliki yawmid-din (master of the Day of Judgment)". The first to read maliki yawmid-din was Marwan. Abu Dawud said: This is sounder that the tradition which transmitted by al-Zuhri from Anas, and al-Zuhri from Salim, from his father (Ibn 'Umar)
عبدالرزاق کہتے ہیں ہمیں معمر نے زہری کے واسطہ سے خبر دی ہے اور معمر نے کبھی کبھی زہری کے بجائے ابن مسیب کا ذکر کیا ہے، وہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر و عمر اور عثمان «مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ» پڑھتے تھے اور «مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ» سب سے پہلے مروان نے پڑھا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مرسل سند زہری کی حدیث سے جو انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نیز زہری کی اس حدیث سے جو سالم سے مروی ہے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں زیادہ صحیح ہے۔
Narrated by Ali ibn AbuTalib
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هُبَيْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، - رضى الله عنه - قَالَ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ وَعَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ وَالْمِيثَرَةِ الْحَمْرَاءِ ‏.‏
Narrated Ali ibn AbuTalib: The Messenger of Allah (ﷺ) forbade me to wear a gold ring, or a Qassi garment or the use purple saddle-cloths
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سونے کی انگوٹھی سے اور قسی ۱؎ پہننے سے اور سرخ زین پوش سے منع فرمایا ہے۔
Narrated by Wa'il ibn Hujr
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُقْبَةَ السُّوَائِيُّ، - هُوَ أَخُو قَبِيصَةَ - وَحُمَيْدُ بْنُ خُوَارٍ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَلِي شَعْرٌ طَوِيلٌ فَلَمَّا رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ ذُبَابٌ ذُبَابٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَرَجَعْتُ فَجَزَزْتُهُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ مِنَ الْغَدِ فَقَالَ ‏"‏ إِنِّي لَمْ أَعْنِكَ وَهَذَا أَحْسَنُ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Wa'il ibn Hujr: I came to the Prophet (ﷺ) and I had long hair. When the Messenger of Allah (ﷺ) saw me, he said: Evil, evil! He said: I then returned and cut them off. I then came to him in the morning. He said (to me): I did not intend to do evil to you. This is much better
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میرے بال لمبے تھے تو جب آپ نے مجھے دیکھا تو فرمایا: نحوست ہے، نحوست تو میں واپس لوٹ گیا اور جا کر اسے کاٹ ڈالا، پھر دوسرے دن آپ کی خدمت میں آیا تو آپ نے فرمایا: میں نے تیرے ساتھ کوئی برائی نہیں کی، یہ اچھا ہے ۔
Narrated by AbuSa'id al-Khudri
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلاَةَ الْعَتَمَةِ فَلَمْ يَخْرُجْ حَتَّى مَضَى نَحْوٌ مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ فَقَالَ ‏"‏ خُذُوا مَقَاعِدَكُمْ ‏"‏ ‏.‏ فَأَخَذْنَا مَقَاعِدَنَا فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا وَأَخَذُوا مَضَاجِعَهُمْ وَإِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا فِي صَلاَةٍ مَا انْتَظَرْتُمُ الصَّلاَةَ وَلَوْلاَ ضَعْفُ الضَّعِيفِ وَسَقَمُ السَّقِيمِ لأَخَّرْتُ هَذِهِ الصَّلاَةَ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ ‏"‏ ‏.‏
Narrated AbuSa'id al-Khudri: We observed the prayer after nightfall with the Messenger of Allah (ﷺ), and he did not come out till about half the night had passed. He then said: Take your places. We then took our places. Then he said: The people have prayed and gone to bed, but you are still engaged in prayer as long as you wait for the prayer. Were it not for the weakness of the weak and for the sickness of the sick. I would delay this prayer till half the night had gone
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشاء پڑھنی چاہی تو آپ باہر نکلے ہی نہیں یہاں تک کہ آدھی رات گزر گئی ( اس کے بعد نکلے ) اور فرمایا: تم لوگ اپنی اپنی جگہ بیٹھے رہو، ہم لوگ اپنی اپنی جگہ بیٹھے رہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں نے نماز پڑھ لی اور اپنی خواب گاہوں میں جا کر سو رہے، اور تم برابر نماز ہی میں رہے جب تک کہ تم نماز کا انتظار کرتے رہے، اگر مجھے کمزور کی کمزوری، اور بیمار کی بیماری کا خیال نہ ہوتا تو میں اس نماز کو آدھی رات تک مؤخر کرتا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُبَارَكٍ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، أَوْ غَيْرُهُ قَالَ قَالَ خَالِدُ بْنُ دِهْقَانَ سَأَلْتُ يَحْيَى بْنَ يَحْيَى الْغَسَّانِيَّ عَنْ قَوْلِهِ ‏ "‏ اعْتَبَطَ بِقَتْلِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي الْفِتْنَةِ فَيَقْتُلُ أَحَدُهُمْ فَيَرَى أَنَّهُ عَلَى هُدًى لاَ يَسْتَغْفِرُ اللَّهَ - يَعْنِي - مِنْ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ فَاعْتَبَطَ يَصُبُّ دَمَهُ صَبًّا ‏.‏
Khalid b. Dihqan said:I asked Yahya b. Yahya al-Ghassani about the word i'tabata bi qatlihi spoken by him (as mentioned in the previous tradition). He said: It means those people who fight during the period of commotion (fitnah), and one of them kills (the other people) presuming that he is in the right, so he does not beg pardon of Allah of that (sin). Abu Dawud said: And he said: The word fa'tabata means "he shed blood profusely
خالد بن دہقان کہتے ہیں میں نے یحییٰ بن یحییٰ غسانی سے قول نبوی «اعتبط بقتلہ» کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے کہا: اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو ایک دوسرے کو فتنے میں یہ سمجھ کر قتل کرتے ہیں کہ ہم ہدایت پر ہیں، پھر وہ اللہ سے توبہ و استغفار نہیں کرتے یعنی اس ( قتل ) سے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «اعتبط» اعتبط کے معنی ( ناحق ) خون بہانے کے ہیں۔
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ، عَنِ السَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ وَذَكَرَ الصَّلَوَاتِ مِثْلَ مَعْنَاهُ ‏.‏
A similar tradition has been transmitted by Abu Umamah from the prophet (ﷺ) through a different chain of narrators. In this version he mentioned the prayers to the same effect
ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح کی حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے اور نمازوں کا ذکر سابقہ حدیث کی طرح کیا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَرَازِيُّ، أَنَّ قَوْمًا، مِنَ الْكَلاَعِيِّينَ سُرِقَ لَهُمْ مَتَاعٌ فَاتَّهَمُوا أُنَاسًا مِنَ الْحَاكَةِ فَأَتَوُا النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ صَاحِبَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَحَبَسَهُمْ أَيَّامًا ثُمَّ خَلَّى سَبِيلَهُمْ فَأَتَوُا النُّعْمَانَ فَقَالُوا خَلَّيْتَ سَبِيلَهُمْ بِغَيْرِ ضَرْبٍ وَلاَ امْتِحَانٍ ‏.‏ فَقَالَ النُّعْمَانُ مَا شِئْتُمْ إِنْ شِئْتُمْ أَنْ أَضْرِبَهُمْ فَإِنْ خَرَجَ مَتَاعُكُمْ فَذَاكَ وَإِلاَّ أَخَذْتُ مِنْ ظُهُورِكُمْ مِثْلَ مَا أَخَذْتُ مِنْ ظُهُورِهِمْ ‏.‏ فَقَالُوا هَذَا حُكْمُكَ فَقَالَ هَذَا حُكْمُ اللَّهِ وَحُكْمُ رَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ إِنَّمَا أَرْهَبَهُمْ بِهَذَا الْقَوْلِ أَىْ لاَ يَجِبُ الضَّرْبُ إِلاَّ بَعْدَ الاِعْتِرَافِ ‏.‏
Azhar ibn Abdullah al-Harari said:Some goods of the people of Kila' were stolen. They accused some men of the weavers (of theft). They came to an-Nu'man ibn Bashir, the companion of the Prophet (ﷺ). He confined them for some days and then set them free. They came to an-Nu'man and said: You have set them free without beating and investigation. An-Nu'man said: What do you want? You want me to beat them. If your goods are found with them, then it is all right; otherwise, I shall take (retaliation) from your back as I have taken from their backs. They asked: Is this your decision? He said: This is the decision of Allah and His Apostle (ﷺ). Abu Dawud said: By this statement he frightened them ; that is, beating is not necessary except after acknowledgement
ازہر بن عبداللہ حرازی کا بیان ہے کہ کلاع کے کچھ لوگوں کا مال چرایا گیا تو انہوں نے کچھ کپڑا بننے والوں پر الزام لگایا اور انہیں صحابی رسول نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کے پاس لے کر آئے، تو آپ نے انہیں چند دنوں تک قید میں رکھا پھر چھوڑ دیا، پھر وہ سب نعمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اور کہا کہ آپ نے انہیں بغیر مارے اور بغیر پوچھ تاچھ کئے چھوڑ دیا، نعمان رضی اللہ عنہ نے کہا: تم کیا چاہتے ہو اگر تمہاری یہی خواہش ہے تو میں ان کی پٹائی کرتا ہوں، اگر تمہارا سامان ان کے پاس نکلا تو ٹھیک ہے ورنہ اتنا ہی تمہاری پٹائی ہو گی جتنا ان کو مارا تھا، تو انہوں نے پوچھا: یہ آپ کا فیصلہ ہے؟ نعمان رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں، بلکہ یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس قول سے نعمان رضی اللہ عنہ نے ڈرا دیا، مطلب یہ ہے کہ مارنا پیٹنا اعتراف کے بعد ہی واجب ہوتا ہے ۱؎۔
Narrated by Abd al-Rahman b. Bujaid
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بُجَيْدٍ، قَالَ إِنَّ سَهْلاً وَاللَّهِ أَوْهَمَ الْحَدِيثَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَتَبَ إِلَى يَهُودَ ‏ "‏ أَنَّهُ قَدْ وُجِدَ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ قَتِيلٌ فَدُوهُ ‏"‏ ‏.‏ فَكَتَبُوا يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ خَمْسِينَ يَمِينًا مَا قَتَلْنَاهُ وَلاَ عَلِمْنَا قَاتِلاً ‏.‏ قَالَ فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ عِنْدِهِ مِائَةَ نَاقَةٍ ‏.‏
Narrated 'Abd al-Rahman b. Bujaid:I swear by Allah, Sahl had a misunderstanding about this tradition. The Messenger of Allah (ﷺ) wrote to the Jews: A slain man has been found amongnst you, so pay his bloodwit. They wrote (to him): Swearing by Allah fifty oaths, we neither killed him nor do we know his slayer. He said: Then the Messenger of Allah (ﷺ) himself paid his bloodwit which consisted of one hundred she-camels
عبدالرحمٰن بن بجید کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم، سہل کو اس حدیث میں وہم ہو گیا ہے، واقعہ یوں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کو لکھا کہ تمہارے بیچ ایک مقتول ملا ہے تو تم اس کی دیت ادا کرو، تو انہوں نے جواب میں لکھا: ہم اللہ کی پچاس قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ ہم نے اسے قتل نہیں کیا، اور نہ ہمیں اس کے قاتل کا پتا ہے، وہ کہتے ہیں: اس پر اس کی دیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے سو اونٹ ( خود ) ادا کی۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كُنَّا نَقُولُ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لاَ نَعْدِلُ بِأَبِي بَكْرٍ أَحَدًا ثُمَّ عُمَرَ ثُمَّ عُثْمَانَ ثُمَّ نَتْرُكُ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لاَ تَفَاضُلَ بَيْنَهُمْ ‏.‏
Ibn ‘Umar said:We used to say in the times of the Prophet (ﷺ): We do not compare anyone with Abu Bakr. ’Umar came next and then ‘Uthman. We then would leave (rest of) the companions of the Prophet (ﷺ) without treating any as superior to other
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کہا کرتے تھے: ہم ابوبکر رضی اللہ عنہ کے برابر کسی کو نہیں جانتے، پھر عمر رضی اللہ عنہ کے، پھر عثمان رضی اللہ عنہ کے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو چھوڑ دیتے، ان میں کسی کو کسی پر فضیلت نہیں دیتے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامٍ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ فَأَثْنَى عَلَى عُثْمَانَ فِي وَجْهِهِ فَأَخَذَ الْمِقْدَادُ بْنُ الأَسْوَدِ تُرَابًا فَحَثَا فِي وَجْهِهِ وَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا لَقِيتُمُ الْمَدَّاحِينَ فَاحْثُوا فِي وُجُوهِهِمُ التُّرَابَ ‏"‏ ‏.‏
Hammam said :A man came and praised ‘Uthman in his face, al-Miqdad b. Al-Aswad took dust and threw it on his face, saying : The Apostle of Allah (ﷺ) said : When you see those who are given to praising people, throw dust in their faces
ہمام کہتے ہیں کہ ایک شخص آیا اور عثمان رضی اللہ عنہ کی تعریف انہی کے سامنے کرنے لگا، تو مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے مٹی لی اور اس کے چہرے پہ ڈال دی اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جب تم تعریف کرنے والوں سے ملو تو ان کے چہروں پر مٹی ڈال دو۔