بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Abu Dawood
11
4 hadith
Narrated by Ali ibn AbuTalib
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ، عَنْ عَلِيٍّ، - رضى الله عنه - فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يُخْتَلَى خَلاَهَا وَلاَ يُنَفَّرُ صَيْدُهَا وَلاَ تُلْتَقَطُ لُقَطَتُهَا إِلاَّ لِمَنْ أَشَادَ بِهَا وَلاَ يَصْلُحُ لِرَجُلٍ أَنْ يَحْمِلَ فِيهَا السِّلاَحَ لِقِتَالٍ وَلاَ يَصْلُحُ أَنْ يُقْطَعَ مِنْهَا شَجَرَةٌ إِلاَّ أَنْ يَعْلِفَ رَجُلٌ بَعِيرَهُ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Ali ibn AbuTalib: The Prophet (ﷺ) said: Its (Medina's) fresh grass is not to be cut, its game is not to be driven away, and things dropped in it are to be picked up by one who publicly announces it, and it is not permissible for any man to carry weapons in it for fighting, and it is not advisable that its trees are cut except what a man cuts for the fodder of his camel
علی رضی اللہ عنہ سے اس قصے میں روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ( یعنی مدینہ ) کی نہ گھاس کاٹی جائے، نہ اس کا شکار بھگایا جائے، اور نہ وہاں کی گری پڑی چیزوں کو اٹھایا جائے، سوائے اس شخص کے جو اس کی پہچان کرائے، کسی شخص کے لیے درست نہیں کہ وہ وہاں لڑائی کے لیے ہتھیار لے جائے، اور نہ یہ درست ہے کہ وہاں کا کوئی درخت کاٹا جائے سوائے اس کے کہ کوئی آدمی اپنے اونٹ کو چارہ کھلائے ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا ذَكَرَتْ نِسَاءَ الأَنْصَارِ فَأَثْنَتْ عَلَيْهِنَّ وَقَالَتْ لَهُنَّ مَعْرُوفًا وَقَالَتْ دَخَلَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ مَعْنَاهُ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ فِرْصَةً مُمَسَّكَةً ‏"‏ ‏.‏ قَالَ مُسَدَّدٌ كَانَ أَبُو عَوَانَةَ يَقُولُ فِرْصَةً وَكَانَ أَبُو الأَحْوَصِ يَقُولُ قَرْصَةً ‏.‏
Aishah made a mention of the women of the Ansar and admired them stating that they had obliged (all Muslims). She then said:One of their women came upon the Messenger of Allah (ﷺ). She then reported the rest of the tradition to the same effect; but this version she said the words: "a musk-scented piece of cloth." Musaddad said: Abu 'Awanah used the word firsah (i.e. a piece of cloth), but Abu Al-Ahwas used the word qasrah (i.e. a small piece of cloth)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے انصار کی عورتوں کا ذکر کیا تو ان کی تعریف کی اور ان کے حق میں بھلی بات کہی اور بولیں: ان میں سے ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی ، پھر راوی نے سابقہ مفہوم کی حدیث بیان کی، مگر اس میں انہوں نے«فرصة ممسكة» ( مشک میں بسا ہوا پھاہا ) کہا۔ مسدد کا بیان ہے کہ ابوعوانہ «فرصة» ( پھاہا ) کہتے تھے اور ابوالاحوص «قرصة» ( روئی کا ٹکڑا ) کہتے تھے۔
Narrated by AbuDharr
حَدَّثَنَا ابْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ، قَالَ كَانَ أَبُو ذَرٍّ يَقُولُ مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ اللَّهُمَّ مَا حَلَفْتُ مِنْ حَلِفٍ أَوْ قُلْتُ مِنْ قَوْلٍ أَوْ نَذَرْتُ مِنْ نَذْرٍ فَمَشِيئَتُكَ بَيْنَ يَدَىْ ذَلِكَ كُلِّهِ مَا شِئْتَ كَانَ وَمَا لَمْ تَشَأْ لَمْ يَكُنِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَتَجَاوَزْ لِي عَنْهُ اللَّهُمَّ فَمَنْ صَلَّيْتَ عَلَيْهِ فَعَلَيْهِ صَلاَتِي وَمَنْ لَعَنْتَ فَعَلَيْهِ لَعْنَتِي كَانَ فِي اسْتِثْنَاءٍ يَوْمَهُ ذَلِكَ أَوْ قَالَ ذَلِكَ الْيَوْمَ ‏.‏
Narrated AbuDharr: If anyone says in the morning: "O Allah! whatever oath I take, whatever word I speak, and whatever vow I take, Thine will precedes all that: whatever Thou willeth, occurs, and whatever Thou dost not will, dost not occur. O Allah! pardon me and disregard me for it. O Allah! whomsoever Thou sendest thine blessing, to him my blessing is due, and whomsoever thou cursest, to him my curse is due, " exemption from it will be granted to him that day
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے تھے جو شخص صبح کرتے وقت کہے «اللهم ما حلفت من حلف أو قلت من قول أو نذرت من نذر فمشيئتك بين يدى ذلك كله ما شئت كان وما لم تشأ لم يكن اللهم اغفر لي وتجاوز لي عنه اللهم فمن صليت عليه فعليه صلاتي ومن لعنت فعليه لعنتي» اے اللہ! میں جو بھی قسم کھاؤں یا جو بھی بات کہوں یا جو بھی نذر مانوں ان تمام میں تیری مشیت ہی میری نظروں میں مقدم ہے، جو تو، چاہے گا ہو گا، جو تو نہیں چاہے گا نہیں ہو گا، اے اللہ! تو مجھے بخش دے، اور مجھ سے درگزر فرما، اے اللہ! جس پر تیری رحمت ہو تو اسے میری دعا بھی شامل حال رہے اور جس پر تو لعنت فرمائے اس پر میری طرف سے بھی لعنت ہو ۔ تو وہ اس دن کے ( فتنوں ) سے محفوظ و مستثنٰی رہے گا، راوی کو شک ہے «يومه ذلك» کہا یا «ذلك اليوم» کہا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ مَوْلًى، لِيَزِيدَ بْنِ نِمْرَانَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ نِمْرَانَ، قَالَ رَأَيْتُ رَجُلاً بِتَبُوكَ مُقْعَدًا فَقَالَ مَرَرْتُ بَيْنَ يَدَىِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا عَلَى حِمَارٍ وَهُوَ يُصَلِّي فَقَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ اقْطَعْ أَثَرَهُ ‏"‏ ‏.‏ فَمَا مَشَيْتُ عَلَيْهَا بَعْدُ ‏.‏
Yazid b. Namran said:I saw a crippled man at Tabuk. He (the man) said: I passed riding a donkey in front of the Prophet(ﷺ) who was praying. He said (cursing him): O Allah, cut off his walking. Thenceforth I could not walk
یزید بن نمران کہتے ہیں کہ میں نے تبوک میں ایک اپاہج کو دیکھا، اس نے کہا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گدھے پر سوار ہو کر گزرا اور آپ نماز پڑھ رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اس کی چال کاٹ دے ، تو میں اس دن کے بعد سے گدھے پر سوار ہو کر چل نہیں سکا۔