Narrated by Aisha, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا وَهُوَ مَسْرُورٌ ثُمَّ رَجَعَ إِلَىَّ وَهُوَ كَئِيبٌ فَقَالَ " إِنِّي دَخَلْتُ الْكَعْبَةَ وَلَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا دَخَلْتُهَا إِنِّي أَخَافُ أَنْ أَكُونَ قَدْ شَقَقْتُ عَلَى أُمَّتِي " .
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: The Prophet (ﷺ) went out from me, while he was happy, but he returned to me while he was sad. He said: I entered the Ka'bah, I know beforehand about my affair what I have come to know later I would not have entered it. I am afraid I have put my community to hardship
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے نکلے اور آپ خوش تھے پھر میرے پاس آئے اور آپ غمگین تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں کعبے کے اندر گیا اگر مجھے وہ بات پہلے معلوم ہو جاتی جو بعد میں معلوم ہوئی ۱؎ تو میں اس میں داخل نہ ہوتا، مجھے اندیشہ ہے کہ میں نے اپنی امت کو زحمت میں ڈال دیا ہے ۲؎ ۔
Narrated by A man from the Companions of the Prophet
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، - يَعْنِي ابْنَ سَلاَّمٍ - عَنْ زَيْدٍ، - يَعْنِي ابْنَ سَلاَّمٍ - أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلاَّمٍ، يَقُولُ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَلْمَانَ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حَدَّثَهُ قَالَ لَمَّا فَتَحْنَا خَيْبَرَ أَخْرَجُوا غَنَائِمَهُمْ مِنَ الْمَتَاعِ وَالسَّبْىِ فَجَعَلَ النَّاسُ يَتَبَايَعُونَ غَنَائِمَهُمْ فَجَاءَ رَجُلٌ حِينَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ رَبِحْتُ رِبْحًا مَا رَبِحَ الْيَوْمَ مِثْلَهُ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ هَذَا الْوَادِي قَالَ " وَيْحَكَ وَمَا رَبِحْتَ " . قَالَ مَا زِلْتُ أَبِيعُ وَأَبْتَاعُ حَتَّى رَبِحْتُ ثَلاَثَمِائَةِ أُوقِيَّةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَنَا أُنَبِّئُكَ بِخَيْرِ رَجُلٍ رَبِحَ " . قَالَ مَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الصَّلاَةِ " .
Narrated A man from the Companions of the Prophet: Ubaydullah ibn Salman reported on the authority of a man from the Companions of the Prophet (ﷺ): When we conquered Khaybar, they (the people) took out their spoils which contained equipment and captives. The people began to buy and sell their spoils. When the Messenger of Allah (ﷺ) prayed, a man came to him and said: Messenger of Allah, I have gained today so much so that no one gained from this valley. He asked: Woe unto you, how much did you gain? He replied: I kept on selling and buying until I gained three hundred uqiyahs. The Messenger of Allah (ﷺ) said: I tell you a man who gained better than you. He asked: What is that, Messenger of Allah? He replied! Two rak'ahs (of supererogatory prayer) after the (obligatory) prayer
عبیداللہ بن سلمان نے بیان کیا ہے کہ ایک صحابی نے ان سے کہا کہ جب ہم نے خیبر فتح کیا تو لوگوں نے اپنے اپنے غنیمت کے سامان اور قیدی نکالے اور ان کی خرید و فروخت کرنے لگے، اتنے میں ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جس وقت آپ نماز سے فارغ ہوئے آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! آج میں نے اس وادی میں جتنا نفع کمایا ہے اتنا کسی نے نہ کمایا ہو گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تباہی ہو تیرے لیے، کیا نفع کمایا تو نے؟ بولا: میں برابر بیچتا اور خریدتا رہا، یہاں تک کہ میں نے تین سو اوقیہ نفع کمائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تجھے ایک ایسے شخص کے بارے میں بتاتا ہوں جس نے ( تجھ سے ) زیادہ نفع کمایا ہے اس نے پوچھا: وہ کون ہے؟ اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جس نے فرض نماز کے بعد دو رکعت ( سنت کی ) پڑھی ۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ كَانَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ تُسْتَحَاضُ فَكَانَ زَوْجُهَا يَغْشَاهَا . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ مُعَلَّى ثِقَةٌ . وَكَانَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ لاَ يَرْوِي عَنْهُ لأَنَّهُ كَانَ يَنْظُرُ فِي الرَّأْىِ .
Ikrimah said:Umm Habibah had a prolonged flow of blood ; her husband used to cohabit with her. Abu Dawud said: Yahya b. Ma'in has pronounced Mu'alla (a narrator of this tradition) as trustworthy. But Ahmad b. Hanbal would not report (traditions) from him because he exercised personal opinion
عکرمہ کہتے ہیں کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو استحاضہ کا خون آتا تھا اور ان کے شوہر ان سے صحبت کرتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ یحییٰ بن معین نے کہا ہے کہ معلی ثقہ ہیں اور احمد بن حنبل ان سے اس لیے روایت نہیں کرتے تھے کہ وہ قیاس و رائے میں دخل رکھتے تھے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ مُسْلِمٍ الدِّمَشْقِيُّ، - وَكَانَ مِنْ ثِقَاتِ الْمُسْلِمِينَ مِنَ الْمُتَعَبِّدِينَ - قَالَ حَدَّثَنَا مُدْرِكُ بْنُ سَعْدٍ - قَالَ يَزِيدُ شَيْخٌ ثِقَةٌ - عَنْ يُونُسَ بْنِ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رضى الله عنه قَالَ مَنْ قَالَ إِذَا أَصْبَحَ وَإِذَا أَمْسَى حَسْبِيَ اللَّهُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ سَبْعَ مَرَّاتٍ كَفَاهُ اللَّهُ مَا أَهَمَّهُ صَادِقًا كَانَ بِهَا أَوْ كَاذِبًا .
Abu al-Darda’ said:if anyone says seven times morning and evening; “Allah sufficeth me: there is no god but He; on him is my trust- he, the Lord of the Throne (of glory) Supreme”, Allah will be sufficient for him against anything which grieves him, whether he is true or false in (repeating) them
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جو شخص صبح کے وقت اور شام کے وقت سات مرتبہ «حسبي الله لا إله إلا هو عليه توكلت وهو رب العرش العظيم» کافی ہے مجھے اللہ، صرف وہی معبود برحق ہے، اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے، وہی عرش عظیم کا رب ہے کہے تو اللہ اس کی پریشانیوں سے اسے کافی ہو گا چاہے ان کے کہنے میں وہ سچا ہو یا جھوٹا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، أَخْبَرَنَا مَسَرَّةُ بْنُ مَعْبَدٍ اللَّخْمِيُّ، - لَقِيتُهُ بِالْكُوفَةِ - قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدٍ، حَاجِبُ سُلَيْمَانَ قَالَ رَأَيْتُ عَطَاءَ بْنَ يَزِيدَ اللَّيْثِيَّ قَائِمًا يُصَلِّي فَذَهَبْتُ أَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ فَرَدَّنِي ثُمَّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ لاَ يَحُولَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قِبْلَتِهِ أَحَدٌ فَلْيَفْعَلْ " .
Abu 'Ubaid said:I saw 'Ata b. Yazid al-Laithi praying in a standing posture. So I went to him passing in front of him; he, therefore, turned me away. He then said to me: Abu Sa'id al-Khudri reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying: If anyone of you can do that he should not let anyone pass between him and the qiblah, he should do it
سلیمان بن عبدالملک کے دربان ابو عبید بیان کرتے ہیں کہ میں نے عطاء بن زید لیثی کو کھڑے ہو کر نماز پڑھتے دیکھا، تو میں ان کے سامنے سے گزرنے لگا، تو انہوں نے مجھے واپس کر دیا، پھر ( نماز سے فارغ ہونے کے بعد ) کہا: ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو شخص طاقت رکھے کہ کوئی شخص اس کے اور قبیلہ کے بیچ میں حائل نہ ہو تو وہ ایسا کرے ( یعنی سامنے سے گزرنے والے کو روکے ) ۔