Narrated by Aisha, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ كُنْتُ أُحِبُّ أَنْ أَدْخُلَ الْبَيْتَ فَأُصَلِّيَ فِيهِ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدِي فَأَدْخَلَنِي فِي الْحِجْرِ فَقَالَ " صَلِّي فِي الْحِجْرِ إِذَا أَرَدْتِ دُخُولَ الْبَيْتِ فَإِنَّمَا هُوَ قِطْعَةٌ مِنَ الْبَيْتِ فَإِنَّ قَوْمَكِ اقْتَصَرُوا حِينَ بَنَوُا الْكَعْبَةَ فَأَخْرَجُوهُ مِنَ الْبَيْتِ " .
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: I liked to enter the House (the Ka'bah) and pray therein. The Messenger of Allah (ﷺ) caught me by hand and admitted me to al-Hijr. He then said: Pray in al-Hijr when you intend to enter the House (the Ka'bah), for it is a part of the House (the Ka'bah). Your people shortened it when they built the Ka'bah, and they took it out of the House
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میری خواہش تھی کہ میں بیت اللہ میں داخل ہو کر اس میں نماز پڑھوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے حطیم میں داخل کر دیا، اور فرمایا: جب تم بیت اللہ میں داخل ہونا چاہو تو حطیم کے اندر نماز پڑھ لیا کرو کیونکہ یہ بھی بیت اللہ ہی کا ایک ٹکڑا ہے، تمہاری قوم کے لوگوں نے جب کعبہ تعمیر کیا تو اسی پر اکتفا کیا تو لوگوں نے اسے بیت اللہ سے خارج ہی کر دیا ۱؎ ۔
Narrated by Ata' ibn Yasar
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ - عَنْ شَرِيكٍ، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي نَمِرٍ - عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ . قَالَ " الرَّجُلُ يَكُونُ عَلَى الْفِئَامِ مِنَ النَّاسِ فَيَأْخُذُ مِنْ حَظِّ هَذَا وَحَظِّ هَذَا " .
Narrated Ata' ibn Yasar: Ata' reported a similar tradition (to No 2777) from the Prophet (ﷺ). This version adds: a man is appointed on groups of people, and takes (wages) from the share of this, and from the share of this
عطاء بن یسار نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے، اس میں ہے کہ آپ نے فرمایا: ایک شخص لوگوں کی مختلف جماعتوں پر مقرر ہوتا ہے تو وہ اس کے حصہ سے بھی لیتا ہے اور اس کے حصہ سے بھی لیتا ہے ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، بِمِثْلِهِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ أُمُّ الْهُذَيْلِ هِيَ حَفْصَةُ بِنْتُ سِيرِينَ كَانَ ابْنُهَا اسْمُهُ هُذَيْلٌ وَاسْمُ زَوْجِهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ .
Umm 'Atiyyah has narrated this tradition through a different chain of transmitters. Abu DAwud said:The name of Umm al-Hudhail is Hafsah daughter os Sirin. The name of her son was Hudhail and his husband 'Abd al-Rahman
اس سند سے بھی ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے اسی کے مثل مروی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ام ہذیل حفصہ بنت سیرین ہیں، ان کے لڑکے کا نام ہذیل اور شوہر کا نام عبدالرحمٰن ہے ۱؎۔
Narrated by Muslim ibn al-Harith ibn Muslim at-Tamimi
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ، وَمُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ، قَالُوا حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَسَّانَ الْكِنَانِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ مُسْلِمٍ التَّمِيمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ نَحْوَهُ إِلَى قَوْلِهِ " جِوَارٌ مِنْهَا " . إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ فِيهِمَا " قَبْلَ أَنْ تُكَلِّمَ أَحَدًا " . قَالَ عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ فِيهِ إِنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ وَقَالَ عَلِيٌّ وَابْنُ الْمُصَفَّى بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سَرِيَّةٍ فَلَمَّا بَلَغْنَا الْمُغَارَ اسْتَحْثَثْتُ فَرَسِي فَسَبَقْتُ أَصْحَابِي وَتَلَقَّانِي الْحَىُّ بِالرَّنِينِ فَقُلْتُ لَهُمْ قُولُوا لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ تُحْرَزُوا فَقَالُوهَا فَلاَمَنِي أَصْحَابِي وَقَالُوا حَرَمْتَنَا الْغَنِيمَةَ فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرُوهُ بِالَّذِي صَنَعْتُ فَدَعَانِي فَحَسَّنَ لِي مَا صَنَعْتُ وَقَالَ " أَمَا إِنَّ اللَّهَ قَدْ كَتَبَ لَكَ مِنْ كُلِّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ كَذَا وَكَذَا " . قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَأَنَا نَسِيتُ الثَّوَابَ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَمَا إِنِّي سَأَكْتُبُ لَكَ بِالْوَصَاةِ بَعْدِي " . قَالَ فَفَعَلَ وَخَتَمَ عَلَيْهِ فَدَفَعَهُ إِلَىَّ وَقَالَ لِي ثُمَّ ذَكَرَ مَعْنَاهُمْ وَقَالَ ابْنُ الْمُصَفَّى قَالَ سَمِعْتُ الْحَارِثَ بْنَ مُسْلِمِ بْنِ الْحَارِثِ التَّمِيمِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ .
Narrated Muslim ibn al-Harith ibn Muslim at-Tamimi: A similar tradition (to No. 5061) has been transmitted by Muslim ibn al-Harith ibn Muslim at-Tamimi on the authority of his father from the Prophet (ﷺ) through a different chain of narrators, up to "protection from it". But this version says: "before speaking to anyone". In this version Ali ibn Sahl said that his father told him. Ali and Ibn al-Musaffa said: The Messenger of Allah (ﷺ) sent us on an expedition. When we reached the place of attack, I galloped my horse and outstripped my companions, and the people of that locality received me with a great noise. I said to them: Say "There is no god but Allah," and you will be protected. They said this. My companions blamed me, saying: You deprived us of the booty. When we came to the Messenger of Allah (ﷺ), they told him what I had done. So he called me, appreciating what I had done, and said: Allah has recorded for you so and so (a reward) for every man of them. AbdurRahman said: I forgot the reward. The Messenger of Allah (ﷺ) then said: I shall write a will for you after me. He did this and stamped it, and gave it to me, saying....He then mentioned the rest of the tradition to the same effect. Ibn al-Musaffa said: I heard al-Harith ibn Muslim ibn al-Harith at-Tamimi transmitting it from his father
حارث بن مسلم تمیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح فرمایا جیسے اوپر گزرا «كتب لك جوار منها» تک مگر اس میں دونوں میں اتنا اضافہ ہے کہ: یہ دعا کسی سے بات کرنے سے پہلے پڑھے۔ اور علی اور ابن مصفٰی کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک سریہ میں بھیجا پھر جب ہم اس جگہ کے قریب پہنچے جہاں ہمیں چھاپہ مارنا اور حملہ کرنا تھا، تو میں نے اپنے گھوڑے کو تیزی سے آگے بڑھایا اور اپنے ساتھیوں سے آگے نکل گیا، بستی والے ( ہمیں دیکھ کر ) چیخنے چلانے لگے، میں نے ان سے کہا: «لا إله إلا الله» کہہ دو ( ایمان لے آؤ ) تو بچ جاؤ گے، تو انہوں نے «لا إله إلا الله» کہہ دیا، میرے ساتھی مجھے ملامت کرنے لگے اور کہنے لگے: تو نے ہمیں غنیمت سے محروم کر دیا، جب وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، تو ان لوگوں نے میں نے جو کیا تھا اس سے آپ کو باخبر کیا، تو آپ نے مجھے بلایا اور میرے کام کی تعریف کی اور فرمایا: سن! اللہ نے تمہیں اس بستی کے ہر ہر فرد کے بدلے اتنا اتنا ثواب دیا ہے ( عبدالرحمٰن کہتے ہیں: میں ثواب بھول گیا ) ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تیرے لیے ایک وصیت نامہ لکھ دیتا ہوں ( وہ میرے بعد تیرے کام آئے گا ) ، پھر آپ نے لکھا، اس پر اپنی مہر ثبت کی اور مجھے دے دیا اور فرمایا، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيُصَلِّ إِلَى سُتْرَةٍ وَلْيَدْنُ مِنْهَا " . ثُمَّ سَاقَ مَعْنَاهُ .
Abu Sa'id al-Khudri reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:When one of you prays, he should pray facing the sutrah (screen or covering) and he should keep himself close to it. He then narrated the tradition to the same effect
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے تو کسی سترے کی طرف منہ کر کے پڑھے، اور اس سے قریب رہے ۔ پھر ابن عجلان نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی۔