Narrated by Ya'la ibn Umayyah
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ يَحْيَى بْنِ ثَوْبَانَ، أَخْبَرَنِي عُمَارَةُ بْنُ ثَوْبَانَ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ بَاذَانَ، قَالَ أَتَيْتُ يَعْلَى بْنَ أُمَيَّةَ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " احْتِكَارُ الطَّعَامِ فِي الْحَرَمِ إِلْحَادٌ فِيهِ " .
Narrated Ya'la ibn Umayyah: The Prophet (ﷺ) said: Hoarding up food (to sell it at a high price) in the sacred territory is a deviation (from right to wrong)
یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حرم میں غلہ روک کر رکھنا اس میں الحاد ( کج روی ) ہے ۔
Narrated by Jabir ibn Abdullah
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَكْرَهُ أَنْ يَأْتِيَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ طُرُوقًا .
Narrated Jabir ibn Abdullah: The Messenger of Allah (ﷺ) disapproved that a man should come to his family during the night (after returning from a journey)
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ناپسند فرماتے تھے کہ آدمی سفر سے رات میں اپنے گھر واپس آئے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَطَّانُ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، عَنْ أَيُّوبَ أَبِي الْعَلاَءِ، عَنِ ابْنِ شُبْرُمَةَ، عَنِ امْرَأَةِ، مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَحَدِيثُ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ وَالأَعْمَشِ عَنْ حَبِيبٍ وَأَيُّوبَ أَبِي الْعَلاَءِ كُلُّهَا ضَعِيفَةٌ لاَ تَصِحُّ وَدَلَّ عَلَى ضَعْفِ حَدِيثِ الأَعْمَشِ عَنْ حَبِيبٍ هَذَا الْحَدِيثُ أَوْقَفَهُ حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنِ الأَعْمَشِ وَأَنْكَرَ حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ أَنْ يَكُونَ حَدِيثُ حَبِيبٍ مَرْفُوعًا وَأَوْقَفَهُ أَيْضًا أَسْبَاطٌ عَنِ الأَعْمَشِ مَوْقُوفٌ عَنْ عَائِشَةَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَاهُ ابْنُ دَاوُدَ عَنِ الأَعْمَشِ مَرْفُوعًا أَوَّلُهُ وَأَنْكَرَ أَنْ يَكُونَ فِيهِ الْوُضُوءُ عِنْدَ كُلِّ صَلاَةٍ وَدَلَّ عَلَى ضَعْفِ حَدِيثِ حَبِيبٍ هَذَا أَنَّ رِوَايَةَ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلاَةٍ . فِي حَدِيثِ الْمُسْتَحَاضَةِ وَرَوَى أَبُو الْيَقْظَانِ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَعَمَّارٌ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَرَوَى عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ وَبَيَانٌ وَالْمُغِيرَةُ وَفِرَاسٌ وَمُجَالِدٌ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ حَدِيثِ قَمِيرَ عَنْ عَائِشَةَ " تَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلاَةٍ " . وَرِوَايَةُ دَاوُدَ وَعَاصِمٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ قَمِيرَ عَنْ عَائِشَةَ " تَغْتَسِلُ كُلَّ يَوْمٍ مَرَّةً " . وَرَوَى هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ الْمُسْتَحَاضَةُ تَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلاَةٍ . وَهَذِهِ الأَحَادِيثُ كُلُّهَا ضَعِيفَةٌ إِلاَّ حَدِيثَ قَمِيرَ وَحَدِيثَ عَمَّارٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ وَحَدِيثَ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ وَالْمَعْرُوفُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ الْغُسْلُ .
This tradition has also been narrated by 'Aishah through a different chain of transmitters. Abu Dawud said:All the traditions (on this subject) transmitted by 'Adi b. Thabit and A'mash on the authority of Habib and Ayyub al-'Ala, all of them are weak; none of them is sound. This tradition indicates the tradition reported by al-A'mash a a statement of Companion, i.e. 'Aishah. Hafs b. Ghayath has rejected the tradition transmitted by Habib as the statement (of the Prophet). And Asbat also reported it as a statement of 'Aishah. Abu Dawud said: Ibn Dawud has narrated the first part of this tradition as a statement (of the Prophet), and denied that there was any mention of performing ablution for every prayer. The weakness of the tradition reported by Habib is also indicated by the fact that the version transmuted by al-Zuhri from 'Urwah on the authority of 'Aishah says that she used to wash herself for every prayer; (these words occur) in the tradition about the woman who has a flow of blood. This tradition has been reported by Abu al-Yaqzan from 'Adi b. Thabit from his father from 'Ali, and narrated by 'Ammar, the freed salve of Banu Hashim, from Ibn 'Abbas, and transmitted by 'Abd al-Malik b. Maisarah, Bayan, al-Mughirah, Firas, on the authority of al-Sha'bi, from Qumair from 'Aishah, stating: You should perform ablution for every prayer. The version transmitted by Dawud, and 'Asim from al-Sha'bi from Qumair from 'Aishah has the words: She should take bath only once every day. The version reported by Hisham b. 'Urwah from his father has the words: The woman having a flow of blood should perform ablution for every prayer. All these traditions are weak except the tradition reported by Qumair and the tradition reported by 'Ammar, the freed slave of Banu Hashim, and the tradition narrated by Hisham b. 'Urwah on the authority of his father. What is commonly known from Ibn 'Abbas is bathing (for every prayer)
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں عدی بن ثابت اور اعمش کی حدیث جو انہوں نے حبیب سے روایت کیا ہے، اور ایوب ابوالعلاء کی حدیث یہ سب کی سب ضعیف ہیں، صحیح نہیں ہیں، اور اعمش کی حدیث جسے انہوں نے حبیب سے روایت کیا ہے، اس کے ضعف پر یہی حدیث دلیل ہے، جسے حفص بن غیاث نے اعمش سے موقوفاً روایت کیا ہے، اور حفص بن غیاث نے حبیب کی حدیث کے مرفوعاً ہونے کا انکار کیا ہے، نیز اسے اسباط نے بھی اعمش سے، اور اعمش نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے موقوفاً روایت کیا ہے ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس کے ابتدائی حصہ کو ابن داود نے اعمش سے مرفوعاً روایت کیا ہے اور اس میں ہر نماز کے وقت وضو کے ہونے کا انکار کیا ہے۔ حبیب کی حدیث کے ضعف کی دلیل یہ بھی ہے کہ زہری کی روایت بواسطہ عروہ، عائشہ رضی اللہ عنہا سے مستحاضہ کے متعلق مروی ہے، اس میں یہ ہے کہ وہ ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں۔ ابوالیقظان نے عدی بن ثابت سے، عدی نے اپنے والد ثابت سے، ثابت نے علی رضی اللہ عنہ سے، اور بنو ہاشم کے غلام عمار نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے، اور عبدالملک بن میسرہ، بیان، مغیرہ، فراس اور مجالد نے شعبی سے اور شعبی نے قمیر کی حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ: تم ہر نماز کے لیے وضو کرو ۔ اور داود اور عاصم کی روایت میں جسے انہوں نے شعبی سے، شعبی نے قمیر سے، اور قمیر نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ وہ روزانہ ایک بار غسل کرے۔ ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ: مستحاضہ عورت ہر نماز کے لیے وضو کرے ۔ یہ ساری حدیثیں ضعیف ہیں سوائے تین حدیثوں کے: ایک قمیر کی حدیث ( جو عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے ) ، دوسری عمار مولی بنی ہاشم کی حدیث ( جو ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے ) ، اور تیسری ہشام بن عروہ کی حدیث جو ان کے والد سے مروی ہے، ابن عباس سے مشہور ہر نماز کے لیے غسل ہے ۲؎۔
Narrated by A man
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عَقِيلٍ، عَنْ سَابِقِ بْنِ نَاجِيَةَ، عَنْ أَبِي سَلاَّمٍ، أَنَّهُ كَانَ فِي مَسْجِدِ حِمْصٍ فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ فَقَالُوا هَذَا خَدَمَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَامَ إِلَيْهِ فَقَالَ حَدِّثْنِي بِحَدِيثٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَتَدَاوَلْهُ بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ الرِّجَالُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ قَالَ إِذَا أَصْبَحَ وَإِذَا أَمْسَى رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالإِسْلاَمِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولاً إِلاَّ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُرْضِيَهُ " .
Narrated A man: AbuSallam told that he was in the mosque of Hims. A man passed him and the people said about him that he served the Prophet (ﷺ). He (AbuSallam) went to him and said: Tell me any tradition which you heard from the Messenger of Allah (ﷺ) and there were no man between him and you. He said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: If anyone says in the morning and in the evening: "I am pleased with Allah as Lord, with Islam as religion, with Muhammad as Prophet," Allah will certainly please him
ابو سلام کہتے ہیں کہ وہ حمص کی مسجد میں تھے کہ ایک شخص کا وہاں سے گزر ہوا، لوگوں نے کہا، یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم رہے ہیں، راوی کہتے ہیں: تو ابو سلام اٹھ کر ان کے پاس گئے، اور ان سے عرض کیا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی کوئی ایسی حدیث ہم سے بیان فرمائیے، جس میں آپ کے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کسی اور شخص کا واسطہ نہ ہو، تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جس نے جب صبح کے وقت اور شام کے وقت یہ دعا پڑھی «رضينا بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد رسولا» ہم اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے سے راضی و خوش ہیں تو اللہ پر اس کا یہ حق بن گیا کہ وہ بھی اس سے راضی و خوش ہو جائے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، - يَعْنِي ابْنَ الْمَدِينِيِّ - عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ جَدِّهِ، حُرَيْثٍ - رَجُلٍ مِنْ بَنِي عُذْرَةَ - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ أَبِي الْقَاسِمِ، صلى الله عليه وسلم قَالَ فَذَكَرَ حَدِيثَ الْخَطِّ . قَالَ سُفْيَانُ لَمْ نَجِدْ شَيْئًا نَشُدُّ بِهِ هَذَا الْحَدِيثَ وَلَمْ يَجِئْ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . قَالَ قُلْتُ لِسُفْيَانَ إِنَّهُمْ يَخْتَلِفُونُ فِيهِ فَتَفَكَّرَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ مَا أَحْفَظُ إِلاَّ أَبَا مُحَمَّدِ بْنَ عَمْرٍو قَالَ سُفْيَانُ قَدِمَ هَا هُنَا رَجُلٌ بَعْدَ مَا مَاتَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ فَطَلَبَ هَذَا الشَّيْخَ أَبَا مُحَمَّدٍ حَتَّى وَجَدَهُ فَسَأَلَهُ عَنْهُ فَخَلَطَ عَلَيْهِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَسَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ سُئِلَ عَنْ وَصْفِ الْخَطِّ غَيْرَ مَرَّةٍ فَقَالَ هَكَذَا عَرْضًا مِثْلَ الْهِلاَلِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَسَمِعْتُ مُسَدَّدًا قَالَ قَالَ ابْنُ دَاوُدَ الْخَطُّ بِالطُّولِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَسَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ وَصَفَ الْخَطَّ غَيْرَ مَرَّةٍ فَقَالَ هَكَذَا - يَعْنِي - بِالْعَرْضِ حَوْرًا دَوْرًا مِثْلَ الْهِلاَلِ يَعْنِي مُنْعَطِفًا .
This tradition has also been reported by Abu Hurairah through a different chain of narrators. Abu Hurairah reported:The Prophet (ﷺ) said: ...... He then narrated the tradition about drawing the line. Sufyan said: We did not find anything by which we could reinforce this tradition, and this has been narrated only through this chain. He ('Ali b. al-Madini, a narrator) said: I said to Sufyan: There is a difference of opinion of the name (Abu Muhammad b. 'Amr). He pondered for a moment and then said: I do not remember except Abu Muhammad b. 'Amr Sufyan said: A man had come to Kufah after the death of Isma'il b. Umayyah ; he was seeking Abu Muhammad until he found him. He asked him (about this tradition) but he became confused. Abu Dawud said: I heard Ahmad b. Hanbal who was questioned many times how the line should be drawn. He replied: In this way. horizontally like crescent. Abu Dawud said: I heard Musaddad say: Ibn Dawud said: The line should be drawn perpendicularly. Abu Dawud said: I heard Ahmad b. Hanbal describing many times how the line should be drawn. He said: In this way horizontally in the round semi-circular form like the crescent, that is (the line should be) a curve
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، پھر سفیان نے لکیر کھینچنے کی حدیث بیان کی۔ سفیان کہتے ہیں: ہمیں کوئی ایسی دلیل نہیں ملی جس سے اس حدیث کو تقویت مل سکے، اور یہ حدیث صرف اسی سند سے مروی ہے۔ علی بن مدینی کہتے ہیں: میں نے سفیان سے پوچھا: لوگ تو ابو محمد بن عمرو بن حریث کے نام میں اختلاف کرتے ہیں؟ تو سفیان نے تھوڑی دیر غور کرنے کے بعد کہا: مجھے تو ان کا نام ابو محمد بن عمرو ہی یاد ہے۔ سفیان کہتے ہیں: اسماعیل بن امیہ کی وفات کے بعد ایک شخص یہاں ( کوفہ ) آیا، اور اس نے ابو محمد کو تلاش کیا یہاں تک کہ وہ اسے ملے، تو اس نے ان سے اس ( حدیث خط ) کے متعلق سوال کیا، تو ان کو اشتباہ ہو گیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل سے سنا، آپ سے متعدد بار لکیر کھینچنے کی کیفیت کے بارے میں پوچھا گیا: تو آپ نے کہا: وہ اس طرح ہلال کی طرح چوڑائی میں ہو گی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور میں نے مسدد کو کہتے سنا کہ ابن داود کا بیان ہے کہ لکیر لمبائی میں ہو گی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے لکیر کی کیفیت کے بارے میں متعدد بار سنا، انہوں نے کہا: اس طرح یعنی چوڑائی میں چاند کی طرح محور اور مدور یعنی مڑا ہوا۔