Narrated by A'ishah (May Allah be pleased with her)
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَمِرٍ، أَنَّهُ سَأَلَ الزُّهْرِيَّ فَقَالَ الزُّهْرِيُّ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُسِفَتِ الشَّمْسُ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً فَنَادَى أَنَّ الصَّلاَةَ جَامِعَةٌ .
Narrated A'ishah (May Allah be pleased with her):There was an eclipse of the sun. The Messenger of Allah (ﷺ) commanded a man who summoned: "The prayer will be held in congregation
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا تو اس نے اعلان کیا کہ نماز ( کسوف ) جماعت سے ہو گی۔
Narrated by Jabir ibn Abdullah
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، - قَالَ - بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَاجَةٍ قَالَ فَجِئْتُ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ وَالسُّجُودُ أَخْفَضُ مِنَ الرُّكُوعِ .
Narrated Jabir ibn Abdullah: The Messenger of Allah (ﷺ) sent me on some business, and when I came to him he was praying on (the back of) his riding beast (moving) towards the east and making the prostration lower than the bowing
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی ضرورت سے بھیجا، میں ( واپس ) آیا تو دیکھا کہ آپ اپنی سواری پر مشرق کی جانب رخ کر کے نماز پڑھ رہے ہیں ( آپ کا ) سجدہ رکوع کی بہ نسبت زیادہ جھک کر ہوتا تھا
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ، وَمَسْرُوقٍ، قَالاَ نَشْهَدُ عَلَى عَائِشَةَ - رضى الله عنها - أَنَّهَا قَالَتْ مَا مِنْ يَوْمٍ يَأْتِي عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ صَلَّى بَعْدَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ .
Al-Aswad and Masruq said:We bear witness that 'Aishah said: Not a day passed but the Prophet (ﷺ) prayed two rak'ahs after the 'Asr prayer
اسود اور مسروق کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کوئی دن ایسا نہیں ہوتا تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے بعد دو رکعت نہ پڑھتے رہے ہوں ۱؎۔
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ، عَنْ عَبَّاسٍ الْجُشَمِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " سُورَةٌ مِنَ الْقُرْآنِ ثَلاَثُونَ آيَةً تَشْفَعُ لِصَاحِبِهَا حَتَّى يُغْفَرَ لَهُ { تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ } " .
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: A surah of the Qur'an containing thirty verses will intercede its reader till he will be forgiven. That is: "Blessed is He in Whose Hand is the sovereignty" (Surah)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن کی ایک سورۃ جو تیس آیتوں والی ہے اپنے پڑھنے والے کی سفارش کرے گی یہاں تک کہ اس کی مغفرت ہو جائے اور وہ «تبارك الذي بيده الملك» ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَنَتَ شَهْرًا ثُمَّ تَرَكَهُ .
Anas b. Malik said:The Prophet (ﷺ) recited the supplication for a month (in prayer) and then gave it up
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ تک قنوت پڑھی پھر اسے ترک کر دیا۔
Narrated by Anas ibn Malik
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْمُعْتَدِي فِي الصَّدَقَةِ كَمَانِعِهَا " .
Narrated Anas ibn Malik: The Prophet (ﷺ) said: He who collects more sadaqah than is due is like him who refuses to pay it
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زکاۃ لینے میں زیادتی کرنے والا، زکاۃ نہ دینے والے کی طرح ہے ۱؎ ۔
Narrated by Aisha, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَحَرَ عَنْ آلِ مُحَمَّدٍ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بَقَرَةً وَاحِدَةً .
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: The Messenger of Allah (ﷺ) sacrificed a cow for his wives at the Farewell Pilgrimage
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آل ۱؎ کی طرف سے ایک گائے کی قربانی کی ۲؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هُرْمُزَ الأَعْرَجُ، أَنَّ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَبَّاسِ، أَنْكَحَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحَكَمِ ابْنَتَهُ وَأَنْكَحَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ابْنَتَهُ وَكَانَا جَعَلاَ صَدَاقًا فَكَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى مَرْوَانَ يَأْمُرُهُ بِالتَّفْرِيقِ بَيْنَهُمَا وَقَالَ فِي كِتَابِهِ هَذَا الشِّغَارُ الَّذِي نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
Abdur Rahman ibn Hurmuz al-A'raj said:Al-Abbas ibn Abdullah ibn al-Abbas married his daughter to Abdur Rahman ibn al-Hakam, and AbdurRahman married his daughter to him. And they made this (exchange) their dower. Mu'awiyah wrote to Marwan commanding him to separate them. He wrote in his letter: This is the shighar which the Messenger of Allah (ﷺ) has forbidden
ابن اسحاق سے روایت ہے کہ عبدالرحمٰن بن ہرمزاعرج نے مجھ سے بیان کیا کہ عباس بن عبداللہ بن عباس نے اپنی بیٹی کا نکاح عبدالرحمٰن بن حکم سے کر دیا اور عبدالرحمٰن نے اپنی بیٹی کا نکاح عباس سے کر دیا اور ان دونوں میں سے ہر ایک نے دوسرے سے اپنی بیٹی کے شادی کرنے کو اپنی بیوی کا مہر قرار دیا تو معاویہ نے مروان کو ان کے درمیان جدائی کا حکم لکھ کر بھیجا اور اپنے خط میں یہ بھی لکھا کہ یہی وہ نکاح شغار ہے جس سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ قُلْتُ لأَيُّوبَ هَلْ تَعْلَمُ أَحَدًا قَالَ بِقَوْلِ الْحَسَنِ فِي أَمْرُكِ بِيَدِكِ . قَالَ لاَ إِلاَّ شَىْءٌ حَدَّثَنَاهُ قَتَادَةُ عَنْ كَثِيرٍ مَوْلَى ابْنِ سَمُرَةَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِنَحْوِهِ قَالَ أَيُّوبُ فَقَدِمَ عَلَيْنَا كَثِيرٌ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ مَا حَدَّثْتُ بِهَذَا قَطُّ فَذَكَرْتُهُ لِقَتَادَةَ فَقَالَ بَلَى وَلَكِنَّهُ نَسِيَ .
Hammad ibn Zayd said:I asked Ayyub: Do you know anyone who narrates the tradition narrated by Al-Hasan about uttering the words (addressing wife). "Your matter is in your hand"? He replied: No, except something similar transmitted by Qatadah from Kathir, the client of Samurah, from AbuSalamah on the authority of AbuHurayrah from the Prophet (ﷺ). Ayyub said: Kathir then came to us; so I asked him (about this matter). He replied: I never narrated it. I mentioned it to Qatadah who said: Yes (he narrated it) but he forgot
حماد بن زید کہتے ہیں کہ میں نے ایوب سے پوچھا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ کسی اور نے بھی «أمرك بيدك» کے سلسلہ میں وہی بات کہی ہے جو حسن نے کہی تو انہوں نے کہا: نہیں، مگر وہی روایت ہے جسے ہم سے قتادہ نے بیان کیا، قتادہ نے کثیر مولی ابن سبرہ سے کثیر نے ابوسلمہ سے ابوسلمہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ ایوب کہتے ہیں: تو کثیر ہمارے پاس آئے تو میں نے ان سے دریافت کیا، وہ بولے: میں نے تو کبھی یہ حدیث بیان نہیں کی، پھر میں نے قتادہ سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: ہاں کیوں نہیں انہوں نے اسے بیان کیا تھا لیکن وہ بھول گئے۔
Narrated by Abdullah ibn Umar
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّمَرْقَنْدِيُّ، - وَأَنَا لِحَدِيثِهِ، أَتْقَنُ - قَالاَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، - هُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ تَرَاءَى النَّاسُ الْهِلاَلَ فَأَخْبَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنِّي رَأَيْتُهُ فَصَامَهُ وَأَمَرَ النَّاسَ بِصِيَامِهِ .
Narrated Abdullah ibn Umar: The people looked for the moon, so I informed the Messenger of Allah (ﷺ) that I had sighted it. He fasted and commanded the people to fast
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ لوگوں نے چاند دیکھنے کی کوشش کی ( لیکن انہیں نظر نہ آیا ) اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ میں نے اسے دیکھا ہے، چنانچہ آپ نے خود بھی روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ بْنِ خَالِدٍ الْحَنَفِيِّ، حَدَّثَنِي نَجْدَةُ بْنُ نُفَيْعٍ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ هَذِهِ الآيَةِ، { إِلاَّ تَنْفِرُوا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا } قَالَ : فَأُمْسِكَ عَنْهُمُ الْمَطَرُ وَكَانَ عَذَابَهُمْ .
Najdah bin Nufai’ said “I asked Ibn ‘Abbas about the verse. “Unless you go forth, He will punish you with a grievous penalty.” He replied “The rain stopped from them. This was their punishment.”
نجدہ بن نفیع کہتے ہیں کہ میں نے آیت کریمہ «إلا تنفروا يعذبكم عذابا أليما» اگر تم جہاد کے لیے نہیں نکلو گے تو اللہ تمہیں عذاب دے گا ( سورۃ التوبہ: ۳۹ ) کے سلسلہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے کہا: عذاب یہی تھا کہ بارش ان سے روک لی گئی ( اور وہ مبتلائے قحط ہو گئے ) ۔
Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ { فَكُلُوا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ } { وَلاَ تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ } فَنُسِخَ وَاسْتَثْنَى مِنْ ذَلِكَ فَقَالَ { وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَهُمْ } .
Narrated Ibn 'Abbas:The verse: "So eat of (meats) on which Allah's name hath been pronounced" and the verse: "Eat not of (meats) on which Allah's name hath not been pronounced" were abrogated, meaning an exception was made therein by the verse: "The food of the people of the Book is lawful unto you and yours is lawful unto them
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا ہے کہ «فكلوا مما ذكر اسم الله عليه» سو جس جانور پر اللہ کا نام لیا جائے اس میں سے کھاؤ ( سورۃ الانعام: ۱۱۸ ) «ولا تأكلوا مما لم يذكر اسم الله عليه» اور ایسے جانوروں میں سے مت کھاؤ جن پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو ( سورۃ الانعام: ۱۲۱ ) تو یہ آیت منسوخ ہو چکی ہے، اس میں سے اہل کتاب کے ذبیحے مستثنیٰ ہو گئے ہیں ( یعنی ان کے ذبیحے درست ہیں ) ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وطَعام الذين أوتوا الكتاب حل لكم وطعامكم حل لهم» اہل کتاب کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کے لیے حلال ہے ( سورۃ المائدہ: ۵ ) ۔
Narrated by Abdullah ibn Abbas
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " كُلُّ قَسْمٍ قُسِمَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَهُوَ عَلَى مَا قُسِمَ لَهُ وَكُلُّ قَسْمٍ أَدْرَكَهُ الإِسْلاَمُ فَهُوَ عَلَى قَسْمِ الإِسْلاَمِ " .
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Prophet (ﷺ) said: An estate which was divided in pre-Islamic period may follow the division in force then, but any estate in Islamic times must follow the division laid down by Islam
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زمانہ جاہلیت میں جو ترکہ تقسیم ہو گیا ہو وہ زمانہ اسلام میں بھی اسی حال پر باقی رہے گا، اور جو ترکہ اسلام کے زمانہ تک تقسیم نہیں ہوا تو اب اسلام کے آ جانے کے بعد اسلام کے قاعدہ و قانون کے مطابق تقسیم کیا جائے گا ۔
Narrated by Nafi
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عُرِضَهُ يَوْمَ أُحُدٍ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ فَلَمْ يُجِزْهُ وَعُرِضَهُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَهُوَ ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً فَأَجَازَهُ .
Narrated Nafi':That Ibn 'Umar was presented before the Prophet (ﷺ) on the day of Uhud, when he was fourteen years old, but he did not allow him. He was again presented to him on the day of Khandaq (the battle of Trench) when he was fifteen years old, he allowed him
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ وہ غزوہ احد کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کئے گئے اس وقت ان کی عمر ( ۱۴ ) سال تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں غزوہ میں شرکت کی اجازت نہیں دی، پھر وہ غزوہ خندق کے موقع پر پیش کئے گئے اس وقت وہ پندرہ سال کے ہو گئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں غزوہ میں شرکت کی اجازت دے دی۔
Narrated by Aisha, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ، رضى الله عنها أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا خَرَجَ مِنَ الْغَائِطِ قَالَ " غُفْرَانَكَ " .
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: When the Prophet (ﷺ) came out of the privy, he used to say: "Grant me Thy forgiveness
ابوبردہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء ( پاخانہ ) سے نکلتے تو فرماتے تھے: «غفرانك» اے اللہ! میں تیری بخشش چاہتا ہوں ۔
Narrated by Umm Salamah
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ حَبِيبٍ أَبُو مَرْوَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، - يَعْنِي الْفَزَارِيَّ - عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى أَبِي سَلَمَةَ وَقَدْ شَقَّ بَصَرُهُ فَأَغْمَضَهُ فَصَيَّحَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِهِ فَقَالَ " لاَ تَدْعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ إِلاَّ بِخَيْرٍ فَإِنَّ الْمَلاَئِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ " . ثُمَّ قَالَ " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لأَبِي سَلَمَةَ وَارْفَعْ دَرَجَتَهُ فِي الْمَهْدِيِّينَ وَاخْلُفْهُ فِي عَقِبِهِ فِي الْغَابِرِينَ وَاغْفِرْ لَنَا وَلَهُ رَبَّ الْعَالَمِينَ اللَّهُمَّ افْسَحْ لَهُ فِي قَبْرِهِ وَنَوِّرْ لَهُ فِيهِ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَتَغْمِيضُ الْمَيِّتِ بَعْدَ خُرُوجِ الرُّوحِ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ الْمُقْرِئَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا مَيْسَرَةَ رَجُلاً عَابِدًا يَقُولُ غَمَّضْتُ جَعْفَرًا الْمُعَلِّمَ وَكَانَ رَجُلاً عَابِدًا فِي حَالَةِ الْمَوْتِ فَرَأَيْتُهُ فِي مَنَامِي لَيْلَةَ مَاتَ يَقُولُ أَعْظَمُ مَا كَانَ عَلَىَّ تَغْمِيضُكَ لِي قَبْلَ أَنْ أَمُوتَ .
Narrated Umm Salamah: When the Messenger of Allah (ﷺ) entered upon Abu Salamah, his eyes were fixedly open. So he closed them. The members of his family cried. He said: Do not pray for yourself anything but good, for the angels utter Amin to what you say. He then said: O Allah, forgive Abu Salamah, raise his rank among those who are guided, and grant him a succession in his descendants who remain. Forgive both us and him, Lord of the universe. O Allah,make his grave spacious for him, and grant him light in it. Abu Dawud said: The eyes of the deceased should be closed after his expiry. I heard Muhammad b. al-Nu'man al-Muqri say: I heard a man who was devoted to Allah say: I closed the eyes of Ja'far al-Mu'allim when he was dying. He was a man devoted to Allah. I saw him in a dream on the night he died. He said: The biggest thing for me was closing the eyes by you before I died
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ان کی آنکھیں کھلی رہ گئی تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بند کر دیا ( یہ دیکھ کر ) ان کے خاندان کے کچھ لوگ رونے پیٹنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سب اپنے حق میں صرف خیر کی دعا کرو کیونکہ جو کچھ تم کہتے ہو، فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «اللهم اغفر لأبي سلمة وارفع درجته في المهديين واخلفه في عقبه في الغابرين واغفر لنا وله رب العالمين اللهم افسح له في قبره ونور له فيه» اے اللہ! ابوسلمہ کو بخش دے، انہیں ہدایت یافتہ لوگوں میں شامل فرما کر ان کے درجات بلند فرما اور باقی ماندہ لوگوں میں ان کا اچھا جانشین بنا، اے سارے جہان کے پالنہار! ہمیں اور انہیں ( سبھی کو ) بخش دے، ان کے لیے قبر میں کشادگی فرما اور ان کی قبر میں روشنی کر دے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «تغميض الميت» ( آنکھ بند کرنے کا عمل ) روح نکلنے کے بعد ہو گا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے محمد بن محمد بن نعمان مقری سے سنا وہ کہتے ہیں: میں نے ابومیسرہ سے جو ایک عابد شخص تھے سنا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے جعفر معلم کی آنکھ جو ایک عابد آدمی تھے مرتے وقت ڈھانپ دی تو ان کے انتقال والی رات میں خواب میں دیکھا وہ کہہ رہے تھے کہ تمہارا میرے مرنے سے پہلے میری آنکھ کو بند کر دینا میرے لیے باعث مشقت و تکلیف رہی ( یعنی آنکھ مرنے سے پہلے بند نہیں کرنی چاہیئے ) ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، وَعَبْدُ الأَعْلَى، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ نَحْوَهُ زَادَ عَنْ سَالِمٍ، فِي حَدِيثِهِ قَالَ : وَلَمْ يَبْلُغْنِي كَفَّارَةً .
A similar tradition has also been transmitted by 'Abd al-Rahman b. Abi Bakr through a different chain of narrators. This version adds on the authority of Salim:"Expiation (for breaking the oath) has not reached me
اس سند سے بھی عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما سے یہ حدیث اسی طرح مروی ہے اور اس میں مزید یہ ہے کہ سالم نے اپنی حدیث میں کہا کہ مجھے یہ معلوم نہ ہو سکا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس قسم کا کفارہ دیا ہو ( کیونکہ یہ قسم لغو ہے ) ۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ الأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكٍ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ وَالأَوَّلُ أَتَمُّ لَمْ يَذْكُرْ " بِسِعْرِ يَوْمِهَا " .
The tradition mentioned above has also been transmitted by Simak (b. Harb) with a different chain of narrators and to the same effect. The first version is more perfect. It does not mention the words "at the current rate
اس سند سے بھی سماک سے اسی مفہوم کی حدیث اسی طریق سے مروی ہے لیکن پہلی روایت زیادہ مکمل ہے اس میں اس دن کے بھاؤ کا ذکر نہیں ہے۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَخْلَدٍ التَّمِيمِيُّ، حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ، - يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ - حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي زِيَادٌ، أَنَّ ثَابِتًا، مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنِ اشْتَرَى غَنَمًا مُصَرَّاةً احْتَلَبَهَا فَإِنْ رَضِيَهَا أَمْسَكَهَا وَإِنْ سَخِطَهَا فَفِي حَلْبَتِهَا صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ " .
Narrated Abu Hurairah:The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: If anyone buys sheep or goat whose udders have been tied up and he milked it, he may keep it if he is pleased with it, or he may return it if he is displeased with it. There is one sa' of dates (which he must give to the seller) for milking it
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے تھن میں دودھ جمع کی ہوئی بکری خریدی اسے دوہا، تو اگر اسے پسند ہو تو روک لے اور اگر ناپسند ہو تو دوہنے کے عوض ایک صاع کھجور دے کر اسے واپس پھیر دے۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَدَّ شَهَادَةَ الْخَائِنِ وَالْخَائِنَةِ وَذِي الْغِمْرِ عَلَى أَخِيهِ وَرَدَّ شَهَادَةَ الْقَانِعِ لأَهْلِ الْبَيْتِ وَأَجَازَهَا لِغَيْرِهِمْ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ الْغِمْرُ الْحِنَةُ وَالشَّحْنَاءُ وَالْقَانِعُ الأَجِيرُ التَّابِعُ مِثْلُ الأَجِيرِ الْخَاصِّ .
Amr bin Shu'aib on his father's authority told that his grandfather said:The Messenger of Allah (ﷺ) rejected the testimony of a deceitful man and woman, of one who harbours rancour against his brother, and he rejected the testimony of one who is dependent on a family, and he allowed his testimony for other. Abu Dawud said: Ghimr means malice and enimity ; qani (dependant), a subordinate servant like a special servant
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیانت کرنے والے مرد، خیانت کرنے والی عورت اور اپنے بھائی سے بغض و کینہ رکھنے والے شخص کی شہادت رد فرما دی ہے، اور خادم کی گواہی کو جو اس کے گھر والوں ( مالکوں ) کے حق میں ہو رد کر دیا ہے اور دوسروں کے لیے جائز رکھا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «غمر» کے معنیٰ: کینہ اور بغض کے ہیں، اور «قانع» سے مراد پرانا ملازم مثلاً خادم خاص ہے۔
Narrated by Buraydah ibn al-Hasib
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا مُعَرِّفُ بْنُ وَاصِلٍ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " نَهَيْتُكُمْ عَنْ ثَلاَثٍ وَأَنَا آمُرُكُمْ بِهِنَّ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا فَإِنَّ فِي زِيَارَتِهَا تَذْكِرَةً وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ الأَشْرِبَةِ أَنْ تَشْرَبُوا إِلاَّ فِي ظُرُوفِ الأَدَمِ فَاشْرَبُوا فِي كُلِّ وِعَاءٍ غَيْرَ أَنْ لاَ تَشْرَبُوا مُسْكِرًا وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الأَضَاحِي أَنْ تَأْكُلُوهَا بَعْدَ ثَلاَثٍ فَكُلُوا وَاسْتَمْتِعُوا بِهَا فِي أَسْفَارِكُمْ " .
Narrated Buraydah ibn al-Hasib: The Prophet (ﷺ) said: I forbade you three things, and now I command (permit) you for them. I forbade you to visit graves, now you may visit them, for in visiting them there is admonition. I forbade you drinks except from skin vessels, but now you may drink from any kind of vessels, but do not drink an intoxicant. I forbade you to eat the meat of sacrificial animals after three days, but now you may eat and enjoy it during your journeys
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں تین چیزوں سے روک دیا تھا، اب میں تمہیں ان کا حکم دیتا ہوں: میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے روکا تھا اب تم ان کی زیارت کرو کیونکہ یہ آخرت کو یاد دلاتی ہے ۱؎ اور میں نے تمہیں چمڑے کے علاوہ برتنوں میں پینے سے منع کیا تھا، لیکن اب تم ہر برتن میں پیو، البتہ کوئی نشہ آور چیز نہ پیو، اور میں نے تمہیں تین روز کے بعد قربانی کے گوشت کھانے سے منع کر دیا تھا، لیکن اب اسے بھی ( جب تک چاہو ) کھاؤ اور اپنے سفروں میں اس سے فائدہ اٹھاؤ ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ بَيْتَهُ فَذَكَرَ اللَّهَ عِنْدَ دُخُولِهِ وَعِنْدَ طَعَامِهِ قَالَ الشَّيْطَانُ لاَ مَبِيتَ لَكُمْ وَلاَ عَشَاءَ وَإِذَا دَخَلَ فَلَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ عِنْدَ دُخُولِهِ قَالَ الشَّيْطَانُ أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ فَإِذَا لَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ عِنْدَ طَعَامِهِ قَالَ أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ وَالْعَشَاءَ " .
Jabir bin ‘Abd Allah said that he heard the Prophet(ﷺ) say:When a man enters his house and mention Allah’s name on entering and on his food, the devil says: You have no place to spend the night and no evening meal; but when he enters without mentioning Allah’s name on entering, the devil says: You have found a place to spend the night, and when he does not mention Allah’s name at his food, he says: You have found a place to spend the night and an evening meal
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جب کوئی آدمی اپنے گھر میں داخل ہوتا ہے اور گھر میں داخل ہوتے اور کھانا شروع کرتے وقت اللہ کا ذکر کرتا ہے تو شیطان ( اپنے چیلوں سے ) کہتا ہے: نہ یہاں تمہارے لیے سونے کی کوئی جگہ رہی، اور نہ کھانے کی کوئی چیز رہی، اور جب کوئی شخص اپنے گھر میں داخل ہوتے وقت اللہ کا ذکر نہیں کرتا تو شیطان کہتا ہے: چلو تمہیں سونے کا ٹھکانہ مل گیا، اور جب کھانا شروع کرتے وقت اللہ کا نام نہیں لیتا تو شیطان کہتا ہے: تمہیں سونے کی جگہ اور کھانا دونوں مل گیا ۔
Narrated by Imran ibn Husayn
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ رُقْيَةَ إِلاَّ مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ " .
Narrated Imran ibn Husayn: The Prophet (ﷺ) said: No spell is to be used except for the evil eye or a scorpion sting
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جھاڑ پھونک، نظر بد یا زہریلے ڈنک کے علاوہ کسی اور چیز کے لیے نہیں ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، وَإِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَجُلاً، أَعْتَقَ غُلاَمًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ مِنْهُ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَبِيعَ بِسَبْعِمِائَةٍ أَوْ بِتِسْعِمِائَةٍ .
Jabir b. 'Abd Allah said:A man declared that his slave would be free after his death, but he had no other property. So the Prophet (ﷺ) ordered (to sell him). He was then sold for seven hundred or nine hundred (dirhams)
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنے غلام کو اپنے مرنے کے بعد آزاد کر دیا اور اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور مال نہ تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بیچنے کا حکم دیا تو وہ سات سویا نو سو میں بیچا گیا۔
Narrated by AbuSa'id al-Khudri
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي عُبَيْدَةَ، حَدَّثَهُمْ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدٍ الطَّائِيِّ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَدِيثًا ذَكَرَ فِيهِ " جِبْرِيلَ وَمِيكَالَ " . فَقَرَأَ { جِبْرَائِلَ وَمِيكَائِلَ } . قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ خَلَفٌ مُنْذُ أَرْبَعِينَ سَنَةً لَمْ أَرْفَعِ الْقَلَمَ عَنْ كِتَابَةِ الْحُرُوفِ مَا أَعْيَانِي شَىْءٌ مَا أَعْيَانِي جِبْرَائِلُ وَمِيكَائِلُ .
Narrated AbuSa'id al-Khudri: The Messenger of Allah (ﷺ) related a tradition in which he mentioned the words "Jibril and Mikal" and he pronounced them "Jibra'ila wa Mika'ila." Abu Dawud said: Khalaf said: I did not put the pen aside from writing letters (huruf) for forty years: nothing tired me (or made me incapable of writing), even Jibril and Mika'il did not tire me
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث بیان فرمائی جس میں جبرائیل و میکال کا ذکر تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائل و میکائل پڑھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: خلف کا بیان ہے میں چالیس سال سے برابر لکھ رہا ہوں لیکن جبرائل و میکائل لکھنے میں مجھے جتنی دشواری ہوئی ہے کسی اور چیز میں نہیں۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ الْهَمْدَانِيُّ، أَخْبَرَنَا الْمُفَضَّلُ، - يَعْنِي ابْنَ فَضَالَةَ - عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي الْحُصَيْنِ، - يَعْنِي الْهَيْثَمَ بْنَ شَفِيٍّ - قَالَ خَرَجْتُ أَنَا وَصَاحِبٌ، لِي يُكْنَى أَبَا عَامِرٍ - رَجُلٌ مِنَ الْمَعَافِرِ - لِنُصَلِّيَ بِإِيلْيَاءَ وَكَانَ قَاصَّهُمْ رَجُلٌ مِنَ الأَزْدِ يُقَالُ لَهُ أَبُو رَيْحَانَةَ مِنَ الصَّحَابَةِ قَالَ أَبُو الْحُصَيْنِ فَسَبَقَنِي صَاحِبِي إِلَى الْمَسْجِدِ ثُمَّ رَدِفْتُهُ فَجَلَسْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَسَأَلَنِي هَلْ أَدْرَكْتَ قَصَصَ أَبِي رَيْحَانَةَ قُلْتُ لاَ . قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ عَشْرٍ عَنِ الْوَشْرِ وَالْوَشْمِ وَالنَّتْفِ وَعَنْ مُكَامَعَةِ الرَّجُلِ الرَّجُلَ بِغَيْرِ شِعَارٍ وَعَنْ مُكَامَعَةِ الْمَرْأَةِ الْمَرْأَةَ بِغَيْرِ شِعَارٍ وَأَنْ يَجْعَلَ الرَّجُلُ فِي أَسْفَلِ ثِيَابِهِ حَرِيرًا مِثْلَ الأَعَاجِمِ أَوْ يَجْعَلَ عَلَى مَنْكِبَيْهِ حَرِيرًا مِثْلَ الأَعَاجِمِ وَعَنِ النُّهْبَى وَرُكُوبِ النُّمُورِ وَلُبُوسِ الْخَاتَمِ إِلاَّ لِذِي سُلْطَانٍ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ الَّذِي تَفَرَّدَ بِهِ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ ذِكْرُ الْخَاتَمِ .
Narrated Abul Husayn, that is al-Haytham ibn Shafi I and a companion of mine called Abu 'Amir, a man from al-Ma'afir went to perform prayer in Bayt al-Maqdis (Jerusalem). Their preacher was a man of Azd called AbuRayhanah, who was a companion of the Prophet (ﷺ). Abul Husayn said:my companion went to the mosque before me. I went there after him and sat beside him. He asked me: Did you hear the preaching of AbuRayhanah? I said: No. He said: I heard him say: The Messenger of Allah (ﷺ) forbade ten things: Sharpening the ends of the teeth, tattooing, plucking hair, men sleeping together without an under garment, women sleeping together without an under-garment, men putting silk at the hem of their garments like the Persians, or putting silk on their shoulders like the Persians, plundering, riding on panther skins, wearing signet rings, except in the case of one in authority. Abu Dawud said: The solitary point in this tradition (not supported by other traditions) is the report about the signet-ring
ابوالحصین ہیثم بن شفی کہتے ہیں کہ میں اور میرا ایک ساتھی جس کی کنیت ابوعامر تھی اور وہ قبیلہ معافر کے تھے دونوں بیت المقدس میں نماز پڑھنے کے لیے نکلے، بیت المقدس میں لوگوں کے واعظ و خطیب قبیلہ ازد کے ابوریحانہ نامی ایک صحابی تھے۔ میرے ساتھی مسجد میں مجھ سے پہلے پہنچے پھر ان کے پیچھے میں آیا اور آ کر ان کے بغل میں بیٹھ گیا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تم نے ابوریحانہ کا کچھ وعظ سنا؟ میں نے کہا: نہیں، وہ بولے: میں نے انہیں کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس باتوں سے منع فرمایا ہے: دانت باریک کرنے سے، گودنا گودنے سے، بال اکھیڑنے سے، اور دو مردوں کے ایک ساتھ ایک کپڑے میں سونے سے، اور دو عورتوں کے ایک ساتھ ایک ہی کپڑے میں سونے سے، اور مرد کے اپنے کپڑوں کے نیچے عجمیوں کی طرح ریشمی کپڑا لگانے سے، یا عجمیوں کی طرح اپنے مونڈھوں پر ریشم لگانے سے، اور دوسروں کے مال لوٹنے سے اور درندوں کی کھالوں پر سوار ہونے سے، اور انگوٹھی پہننے سے سوائے بادشاہ کے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث میں انگوٹھی کا ذکر منفرد ہے۔
Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ أَهْلُ الْكِتَابِ - يَعْنِي - يَسْدِلُونَ أَشْعَارَهُمْ وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَفْرُقُونَ رُءُوسَهُمْ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تُعْجِبُهُ مُوَافَقَةُ أَهْلِ الْكِتَابِ فِيمَا لَمْ يُؤْمَرْ بِهِ فَسَدَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَاصِيَتَهُ ثُمَّ فَرَقَ بَعْدُ .
Narrated Ibn 'Abbas:The people of the Book used to let their hair hand down, and the polytheists used to part their hair. The Messenger of Allah (ﷺ) like to confirm with the People of the Book in the matters about which he had received no command. Hence he Messenger of Allah (ﷺ) let his forelock hang down but afterwards he parted it
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اہل کتاب اپنے بالوں کا «سدل» کرتے یعنی انہیں لٹکا ہوا چھوڑ دیتے تھے، اور مشرکین اپنے سروں میں مانگ نکالتے تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جن باتوں میں کوئی حکم نہ ملتا اہل کتاب کی موافقت پسند فرماتے تھے اسی لیے آپ اپنی پیشانی کے بالوں کو لٹکا چھوڑ دیتے تھے پھر بعد میں آپ مانگ نکالنے لگے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ مَكَثْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِصَلاَةِ الْعِشَاءِ فَخَرَجَ إِلَيْنَا حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ أَوْ بَعْدَهُ فَلاَ نَدْرِي أَشَىْءٌ شَغَلَهُ أَمْ غَيْرُ ذَلِكَ فَقَالَ حِينَ خَرَجَ " أَتَنْتَظِرُونَ هَذِهِ الصَّلاَةَ لَوْلاَ أَنْ تَثْقُلَ عَلَى أُمَّتِي لَصَلَّيْتُ بِهِمْ هَذِهِ السَّاعَةَ " . ثُمَّ أَمَرَ الْمُؤَذِّنَ فَأَقَامَ الصَّلاَةَ .
Abd Allah b. 'Umar said:We remained one night waiting for the Messenger of Allah (ﷺ) to offer the Isha prayer. He came out to us when one-third of the night has passed or even after it. We did not know whether anything kept him occupied or there was some other matter. When he came out, he said: Are you waiting for this prayer ? Were it not that it would impose a burden on my people, I would normally pray with them at this time. He then gave orders to the mu'adhdhin who declared that the time of the prayer had come
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک رات ہم عشاء کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا انتظار کرتے رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تشریف لائے جب تہائی رات یا اس سے زیادہ گزر گئی، ہم نہیں جانتے کہ کسی چیز نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشغول کر رکھا تھا یا کوئی اور بات تھی، جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر آئے تو فرمایا: کیا تم لوگ اس نماز کا انتظار کر رہے ہو؟ اگر میری امت پر گراں نہ گزرتا تو میں انہیں یہ نماز اسی وقت پڑھاتا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مؤذن کو حکم دیا، اس نے نماز کے لیے تکبیر کہی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْعَسْقَلاَنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ الْحَسَنِ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ مُخْتَصَرًا . قَالَ أَبُو دَاوُدَ لِمُحَمَّدٍ - يَعْنِي ابْنَ الْمُتَوَكِّلِ - أَخٌ ضَعِيفٌ يُقَالُ لَهُ الْحُسَيْنُ .
The tradition mentioned above has also been transmitted briefly by al-Hasan through a different chain of narrators to the same effect
اس سند سے بھی حسن سے اسی مفہوم کی حدیث مختصراً مروی ہے۔
Narrated by Ubadah ibn as-Samit
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنِي بَحِيرٌ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الأَسْوَدِ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنِّي قَدْ حَدَّثْتُكُمْ عَنِ الدَّجَّالِ حَتَّى خَشِيتُ أَنْ لاَ تَعْقِلُوا إِنَّ مَسِيحَ الدَّجَّالِ رَجُلٌ قَصِيرٌ أَفْحَجُ جَعْدٌ أَعْوَرُ مَطْمُوسُ الْعَيْنِ لَيْسَ بِنَاتِئَةٍ وَلاَ جَحْرَاءَ فَإِنْ أُلْبِسَ عَلَيْكُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ عَمْرُو بْنُ الأَسْوَدِ وَلِيَ الْقَضَاءَ .
Narrated Ubadah ibn as-Samit: The Prophet (ﷺ) said: I have told you so much about the Dajjal (Antichrist) that I am afraid you may not understand. The Antichrist is short, hen-toed, woolly-haired, one-eyed, an eye-sightless, and neither protruding nor deep-seated. If you are confused about him, know that your Lord is not one-eyed. Abu Dawud said: 'Amr bin Al-Aswad was appointed a judge
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں دجال کے متعلق تمہیں اتنی باتیں بتا چکا ہوں کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ تم اسے یاد نہ رکھ سکو گے ( تو یاد رکھو ) مسیح دجال پستہ قد ہو گا، چلنے میں اس کے دونوں پاؤں کے بیچ فاصلہ رہے گا، اس کے بال گھونگھریالے ہوں گے، کانا ہو گا، آنکھ مٹی ہوئی ہو گی، نہ ابھری ہوئی اور نہ اندر گھسی ہوئی، پھر اس پر بھی اگر تمہیں اشتباہ ہو جائے تو یاد رکھو تمہارا رب کانا نہیں ہے ۔
Narrated by AbuUmayyah al-Makhzumi
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي الْمُنْذِرِ، مَوْلَى أَبِي ذَرٍّ عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أُتِيَ بِلِصٍّ قَدِ اعْتَرَفَ اعْتِرَافًا وَلَمْ يُوجَدْ مَعَهُ مَتَاعٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا إِخَالُكَ سَرَقْتَ " . قَالَ بَلَى . فَأَعَادَ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا فَأَمَرَ بِهِ فَقُطِعَ وَجِيءَ بِهِ فَقَالَ " اسْتَغْفِرِ اللَّهَ وَتُبْ إِلَيْهِ " . فَقَالَ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ فَقَالَ " اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ " . ثَلاَثًا . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ عَنْ هَمَّامٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
Narrated AbuUmayyah al-Makhzumi: A thief who had accepted (having committed theft) was brought to the Prophet (ﷺ), but no good were found with him. The Messenger of Allah (ﷺ), said to him: I do not think you have stolen. He said: Yes, I have. He repeated it twice or thrice. So he gave orders. His hand was cut off and he was then brought to him. He said: Ask Allah's pardon and turn to Him in repentance. He said: I ask Allah's pardon and turn to Him in repentance. He (the Prophet) then said: O Allah, accept his repentance. Abu Dawud said: It has been transmitted by 'Amr b. Asim, from Hammam, from Ishaq b. 'Abd Allah from Abu Ummayyah, a man of the Ansar from the Prophet (ﷺ)
ابوامیہ مخزومی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا جس نے چوری کا اعتراف کر لیا تھا، لیکن اس کے پاس کوئی سامان نہیں پایا گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: میں نہیں سمجھتا کہ تم نے چوری کی ہے اس نے کہا: کیوں نہیں، ضرور چرایا ہے، اسی طرح اس نے آپ سے دو یا تین بار دہرایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر حد جاری کرنے کا حکم فرمایا، تو اس کا ہاتھ کاٹ لیا گیا، اور اسے لایا گیا، تو آپ نے فرمایا: اللہ سے مغفرت طلب کرو، اور اس سے توبہ کرو اس نے کہا: میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں، اور اس سے توبہ کرتا ہوں، تو آپ نے تین بار فرمایا: اے اللہ اس کی توبہ قبول فرما ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عمرو بن عاصم نے اسے ہمام سے، ہمام نے اسحاق بن عبداللہ سے، اسحاق نے ابوامیہ انصاری سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کی ہے۔
Narrated by Bashir b. Yasar
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّائِيُّ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، زَعَمَ أَنَّ رَجُلاً، مِنَ الأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ نَفَرًا مِنْ قَوْمِهِ انْطَلَقُوا إِلَى خَيْبَرَ فَتَفَرَّقُوا فِيهَا فَوَجَدُوا أَحَدَهُمْ قَتِيلاً فَقَالُوا لِلَّذِينَ وَجَدُوهُ عِنْدَهُمْ قَتَلْتُمْ صَاحِبَنَا فَقَالُوا مَا قَتَلْنَاهُ وَلاَ عَلِمْنَا قَاتِلاً . فَانْطَلَقْنَا إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَقَالَ لَهُمْ " تَأْتُونِي بِالْبَيِّنَةِ عَلَى مَنْ قَتَلَ هَذَا " . قَالُوا مَا لَنَا بَيِّنَةٌ . قَالَ " فَيَحْلِفُونَ لَكُمْ " . قَالُوا لاَ نَرْضَى بِأَيْمَانِ الْيَهُودِ . فَكَرِهَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُبْطِلَ دَمَهُ فَوَدَاهُ مِائَةً مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ .
Narrated Bashir b. Yasar:That a man of the Ansar called Sahl b. Abi Hathmah told him that some people of his tribe went to Khaibar and separated there. They found one of them slain. They said to those with whom they had found him: You have killed our friend. They replied: We did not kill him, nor do we know the slayer. We (the people of the slain) then went to the Prophet of Allah (ﷺ). He said to them: Bring proof against the one who has slain him. They replied: We have no proof. He said: Then they will take an oath for you. They said: We do not accept the oaths of the Jews. The Messenger of Allah (ﷺ) did not like no responsibility should be fixed for his blood. So he himself paid his bloodwit consisting of one hundred camels of sadaqah (i.e. camels sent to the Prophet as zakat)
بشیر بن یسار سے روایت ہے کہ سہل بن ابی حثمہ نامی ایک انصاری ان سے بیان کیا کہ ان کی قوم کے چند آدمی خیبر گئے، وہاں پہنچ کر وہ جدا ہو گئے، پھر اپنے میں سے ایک شخص کو مقتول پایا تو جن کے پاس اسے پایا ان سے ان لوگوں نے کہا: تم لوگوں نے ہی ہمارے ساتھی کو قتل کیا ہے، وہ کہنے لگے: ہم نے قتل نہیں کیا ہے اور نہ ہی ہمیں قاتل کا پتا ہے چنانچہ ہم لوگ اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، تو آپ نے ان سے فرمایا: تم اس پر گواہ لے کر آؤ کہ کس نے اسے مارا ہے؟ انہوں نے کہا: ہمارے پاس گواہ نہیں ہے، اس پر آپ نے فرمایا: پھر وہ یعنی یہود تمہارے لیے قسم کھائیں گے وہ کہنے لگے: ہم یہودیوں کی قسموں پر راضی نہیں ہوں گے، پھر آپ کو یہ بات اچھی نہیں لگی کہ اس کا خون ضائع ہو جائے چنانچہ آپ نے اس کی دیت زکوٰۃ کے اونٹوں میں سے سو اونٹ خود دے دی۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ قَالَ لِيَ الْحَسَنُ مَا أَنَا بِعَائِدٍ، إِلَى شَىْءٍ مِنْهُ أَبَدًا .
Ayyub said:Al-Hasan said: I will never return to it
ایوب کہتے ہیں کہ مجھ سے حسن بصری نے کہا: میں اب دوبارہ کبھی اس میں سے کوئی بات نہیں کہوں گا، ( جس سے تقدیر کی نفی کا گمان ہوتا ) ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَتِ الْعَضْبَاءُ لاَ تُسْبَقُ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ عَلَى قَعُودٍ لَهُ فَسَابَقَهَا فَسَبَقَهَا الأَعْرَابِيُّ فَكَأَنَّ ذَلِكَ شَقَّ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " حَقٌّ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لاَ يَرْفَعَ شَيْئًا مِنَ الدُّنْيَا إِلاَّ وَضَعَهُ " .
Anas said:The she-camel of the Messenger of Allah (ﷺ) called al-Adba’ had not been outstripped by another, but an A`rabi (a nomadic Arab) came on a young riding camel of his and it outstripped it. That distressed the companions of the Messenger of Allah (ﷺ), but he said: It is Allah’s right that nothing should become exalted in the world but he lowers it
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی ) عضباء مقابلے میں کبھی پیچھے نہیں رہی تھی ( ایک بار ) ایک اعرابی اپنے ایک نوعمر اونٹ پر سوار ہو کر آیا، اور اس نے اس سے مقابلہ کیا تو اعرابی اس سے آگے نکل گیا تو ایسا لگا کہ یہ چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب پر گراں گزری ہے تو آپ نے فرمایا: اللہ کا یہ دستور ہے کہ جو چیز بھی اوپر اٹھے اسے نیچا کر دے ۔