حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، قَالَ قَرَأْتُ فِي كِتَابِ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ - يَعْنِي الْحِمْصِيَّ - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ بِإِسْنَادِهِ لَمْ يَذْكُرِ الصَّلاَةَ قَالَ وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ فَجَعَلَ عِطَافَهُ الأَيْمَنَ عَلَى عَاتِقِهِ الأَيْسَرِ وَجَعَلَ عِطَافَهُ الأَيْسَرَ عَلَى عَاتِقِهِ الأَيْمَنِ ثُمَّ دَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ .
The above-mentioned tradition has also been transmitted by Muhammad b. Muslim through a different chain of narrators. But there is no mention of prayer in this version. The version adds:"He turned around his cloak, putting its right side on his left shoulder and its left side on his right shoulder. Thereafter he made supplication to Allah
اس طریق سے بھی محمد بن مسلم (ابن شہاب زہری) سے سابقہ سند سے یہی حدیث مروی ہے اس میں راوی نے نماز کا ذکر نہیں کیا ہے اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر پلٹی تو چادر کا داہنا کنارہ اپنے بائیں کندھے پر اور بایاں کنارہ اپنے داہنے کندھے پر کر لیا، پھر اللہ عزوجل سے دعا کی۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي عَمَّارٍ، يُحَدِّثُ فَذَكَرَهُ نَحْوَهُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ أَبُو عَاصِمٍ وَحَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ كَمَا رَوَاهُ ابْنُ بَكْرٍ .
The above mentioned tradition has also been narrated through a different chain of transmitters by 'Abd Allah b. Abi 'Ammar who narrated it in like manner. Abu Dawud said:This has been transmitted by Abu 'Asim and Hammad b. Mas'adah as transmitted by Ibn Bakr
ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی عمار کو بیان کرتے ہوئے سنا، پھر انہوں نے اسی طرح کی روایت ذکر کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو ابوعاصم اور حماد بن مسعدہ نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے جیسے اسے ابن بکر نے کیا ہے۔
Narrated by Abd Allah b. 'Umar
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ رَكْعَتَيْنِ وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ - وَبَعْدَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ - فِي بَيْتِهِ وَبَعْدَ صَلاَةِ الْعِشَاءِ رَكْعَتَيْنِ وَكَانَ لاَ يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ حَتَّى يَنْصَرِفَ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ .
Narrated Abd Allah b. 'Umar:The Messenger of Allah (ﷺ) would pray two rak'ahs before and two after the noon prayer, two after the sunset prayer in his house, and two after the night prayer. He would not pray after the Friday prayer till he departed. He would then pray two rak'ahs
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے، اور اس کے بعد دو رکعتیں، مغرب کے بعد دو رکعتیں اپنے گھر میں پڑھتے تھے اور عشاء کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے، اور جمعہ کے بعد کچھ نہیں پڑھتے تھے یہاں تک کہ فارغ ہو کر گھر واپس آ جاتے پھر دو رکعتیں پڑھتے۔
Narrated by Aishah, wife of Prophet (ﷺ)
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى فِي الْمَسْجِدِ فَصَلَّى بِصَلاَتِهِ نَاسٌ ثُمَّ صَلَّى مِنَ الْقَابِلَةِ فَكَثُرَ النَّاسُ ثُمَّ اجْتَمَعُوا مِنَ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ " قَدْ رَأَيْتُ الَّذِي صَنَعْتُمْ فَلَمْ يَمْنَعْنِي مِنَ الْخُرُوجِ إِلَيْكُمْ إِلاَّ أَنِّي خَشِيتُ أَنْ يُفْرَضَ عَلَيْكُمْ " . وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ .
Narrated 'Aishah, wife of Prophet (ﷺ):That the Prophet (ﷺ) once offered (tarawih) prayer in the mosque and the people also prayed along with him. He then prayed on the following night, and the people gathered in large numbers. They gathered on the third night too, but the Messenger of Allah (ﷺ) did not come out to them. When the morning came, he said: I witnessed what you did, and nothing prevented me from coming out to you except that I feared that this (prayer) might be prescribed to you. That was in Ramadan
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں نماز پڑھی تو آپ کے ساتھ کچھ اور لوگوں نے بھی پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگلی رات کو بھی پڑھی تو لوگوں کی تعداد بڑھ گئی پھر تیسری رات کو بھی لوگ جمع ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے ہی نہیں، جب صبح ہوئی تو فرمایا: میں نے تمہارے عمل کو دیکھا، لیکن مجھے سوائے اس اندیشے کے کسی اور چیز نے نکلنے سے نہیں روکا کہ کہیں وہ تم پر فرض نہ کر دی جائے ۱؎ اور یہ بات رمضان کی ہے۔
Narrated by Abdullah ibn Abbas
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ، - قَالَ مُحَمَّدٌ رَأَيْتُهُ بِمَكَّةَ - حَدَّثَنَا أَبُو قُدَامَةَ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَسْجُدْ فِي شَىْءٍ مِنَ الْمُفَصَّلِ مُنْذُ تَحَوَّلَ إِلَى الْمَدِينَةِ .
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Messenger of Allah (ﷺ) did not make a prostration at any verse in al-Mufassal from the time he moved to Medina
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مکہ سے مدینہ آ جانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مفصل ( سورتوں ) میں سے کسی سورۃ میں سجدہ نہیں کیا ۱؎۔
Narrated by Kharijah ibn Hudhafah al-Adawi
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَاشِدٍ الزَّوْفِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُرَّةَ الزَّوْفِيِّ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ حُذَافَةَ، - قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ الْعَدَوِيُّ - قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَمَدَّكُمْ بِصَلاَةٍ وَهِيَ خَيْرٌ لَكُمْ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ وَهِيَ الْوِتْرُ فَجَعَلَهَا لَكُمْ فِيمَا بَيْنَ الْعِشَاءِ إِلَى طُلُوعِ الْفَجْرِ " .
Narrated Kharijah ibn Hudhafah al-Adawi: The Messenger of Allah (ﷺ) came out to us and said: Allah the Exalted has given you an extra prayer which is better for you then the red camels (i.e. high breed camels). This is the witr which Allah has appointed for you between the night prayer and the daybreak
خارجہ بن حذافہ عدوی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اللہ نے ایک ایسی نماز کے ذریعے تمہاری مدد کی ہے جو سرخ اونٹوں سے بھی تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے اور وہ وتر ہے، اس کا وقت اس نے تمہارے لیے عشاء سے طلوع فجر تک مقرر کیا ہے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ " .
Abu Sa’id Al Khudri reported:That the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying No sadaqah(zakat) is payable on less than five camels, on less than five ounces of silver and on less than five camel loads(wasq)
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ اونٹوں سے کم میں زکاۃ نہیں ہے ۱؎، پانچ اوقیہ ۲؎سے کم ( چاندی ) میں زکاۃ نہیں ہے اور نہ پانچ وسق ۳؎ سے کم ( غلے اور پھلوں ) میں زکاۃ ہے ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ قَالَ فِي التَّعْرِيفِ قَالَ عَامَيْنِ أَوْ ثَلاَثَةً . وَقَالَ " اعْرِفْ عَدَدَهَا وَوِعَاءَهَا وَوِكَاءَهَا " . زَادَ " فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَعَرَفَ عَدَدَهَا وَوِكَاءَهَا فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ لَيْسَ يَقُولُ هَذِهِ الْكَلِمَةَ إِلاَّ حَمَّادٌ فِي هَذَا الْحَدِيثِ يَعْنِي " فَعَرَفَ عَدَدَهَا " .
The above mentioned tradition has also been transmitted by Salamah. Bin Kuhail through a different chain to the same effect. The version has ; about making the matter known he said ; “ two years or three.” He said :Remember its number, its container and its string. The version adds : If its owner comes, and tells its number and its string, then give it to him. Abu Dawud said : None of the narrators said this word in this tradition except Hammad ; That is, “ If he tells its number.”
حماد کہتے ہیں سلمہ بن کہیل نے ہم سے اسی سند سے اور اسی مفہوم کی حدیث بیان کی کی اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( لقطہٰ کی ) پہچان کرانے کے سلسلے میں فرمایا: دو یا تین سال تک ( اس کی پہچان کراؤ ) ، اور فرمایا: اس کی تعداد جان لو اور اس کی تھیلی اور اس کے سر بندھن کی پہچان کر لو ، اس میں اتنا مزید ہے: اگر اس کا مالک آ جائے اور اس کی تعداد اور سر بندھن بتا دے تو اسے اس کے حوالے کر دو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «فعرف عددها» کا کلمہ اس حدیث میں سوائے حماد کے کسی اور نے نہیں ذکر کیا ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ تُسَافِرُ مَسِيرَةَ لَيْلَةٍ إِلاَّ وَمَعَهَا رَجُلٌ ذُو حُرْمَةٍ مِنْهَا " .
Abu Huraira reported :The Messenger of Allah (SWAS) as saying : A muslim woman must not make a journey of a night unless she is accompanied by a man who is within the prohibited degrees
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان عورت کے لیے یہ حلال نہیں کہ وہ ایک رات کی مسافت کا سفر کرے مگر اس حال میں کہ اس کے ساتھ اس کا کوئی محرم ہو ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، أَخْبَرَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَتَزَوَّجْتَ " . قُلْتُ نَعَمْ . قَالَ " بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا " . فَقُلْتُ ثَيِّبًا . قَالَ " أَفَلاَ بِكْرٌ تُلاَعِبُهَا وَتُلاَعِبُكَ " .
Jabir bin ‘Abd Allah said “The Apostle of Allaah(ﷺ) said to me “Did you marry?” I said “Yes”. He again said “Virgin or Non Virgin (woman previously married)?” I said “Non Virgin”. He said “Why (did you) not (marry) a virgin with whom you could sport and she could sport with you
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا تم نے شادی کر لی؟ میں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کنواری سے یا غیر کنواری سے؟ میں نے کہا غیر کنواری سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کنواری سے کیوں نہیں کی تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی ۔
Narrated by Muharib
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا مُعَرِّفٌ، عَنْ مُحَارِبٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا أَحَلَّ اللَّهُ شَيْئًا أَبْغَضَ إِلَيْهِ مِنَ الطَّلاَقِ " .
Narrated Muharib: The Prophet (ﷺ) said: Allah did not make anything lawful more abominable to Him than divorce
محارب کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک حلال چیزوں میں طلاق سے زیادہ ناپسندیدہ کوئی چیز نہیں ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا بَكْرٌ، - يَعْنِي ابْنَ مُضَرَ - عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ يَزِيدَ، مَوْلَى سَلَمَةَ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ { وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ } كَانَ مَنْ أَرَادَ مِنَّا أَنْ يُفْطِرَ وَيَفْتَدِيَ فَعَلَ حَتَّى نَزَلَتِ الآيَةُ الَّتِي بَعْدَهَا فَنَسَخَتْهَا .
Salamah bin Al Akwa said “After the revelation of the verse “For those who can do it(with hardship) is a ransom, the feeding of one, that is indigent, is one of us intended to leave fast and pay ransom, he could do so.” until the verse following it was revealed and abrogated the (previous) verse.”
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتی ہیں کہ جب یہ آیت «وعلى الذين يطيقونه فدية طعام مسكين» اور جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہیں وہ ایک مسکین کا کھانا فدیہ دے دیں ( سورۃ البقرہ: ۱۸۳ ) نازل ہوئی تو جو شخص ہم میں سے روزے نہیں رکھنا چاہتا وہ فدیہ ادا کر دیتا پھر اس کے بعد والی آیت نازل ہوئی تو اس نے اس حکم کو منسوخ کر دیا۔
Narrated by Mu'awiyah
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنْ حَرِيزِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَوْفٍ، عَنْ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ تَنْقَطِعُ الْهِجْرَةُ حَتَّى تَنْقَطِعَ التَّوْبَةُ وَلاَ تَنْقَطِعُ التَّوْبَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا " .
Narrated Mu'awiyah: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Migration will not end until repentance ends, and repentance will not end until the sun rises in the west
معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ہجرت ختم نہیں ہو گی یہاں تک کہ توبہ کا سلسلہ ختم ہو جائے، اور توبہ ختم نہیں ہو گی یہاں تک کہ سورج پچھم سے نکل آئے ۱؎ ۔
Narrated by Hanash
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي الْحَسْنَاءِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ حَنَشٍ، قَالَ رَأَيْتُ عَلِيًّا يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ فَقُلْتُ مَا هَذَا فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَوْصَانِي أَنْ أُضَحِّيَ عَنْهُ فَأَنَا أُضَحِّي عَنْهُ .
Narrated Hanash: I saw Ali sacrificing two rams; so I asked him: What is this? He replied. The Messenger of Allah (ﷺ) enjoined upon me to sacrifice on his behalf, so that is what I am doing
حنش کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دو دنبے قربانی کرتے دیکھا تو میں نے ان سے پوچھا: یہ کیا ہے؟ ( یعنی قربانی میں ایک دنبہ کفایت کرتا ہے آپ دو کیوں کرتے ہیں ) تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت فرمائی ہے کہ میں آپ کی طرف سے قربانی کیا کروں، تو میں آپ کی طرف سے ( بھی ) قربانی کرتا ہوں۔
Narrated by Jabir ibn Abdullah
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ أَمَرَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِقَتْلِ الْكِلاَبِ حَتَّى إِنْ كَانَتِ الْمَرْأَةُ تَقْدَمُ مِنَ الْبَادِيَةِ - يَعْنِي بِالْكَلْبِ - فَنَقْتُلُهُ ثُمَّ نَهَانَا عَنْ قَتْلِهَا وَقَالَ " عَلَيْكُمْ بِالأَسْوَدِ " .
Narrated Jabir ibn Abdullah: The Prophet of Allah (ﷺ) ordered to kill dogs, and we were even killing a dog which a woman brought with her from the desert. Afterwards he forbade to kill them, saying: Confine yourselves to the type which is black
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کے مارنے کا حکم دیا یہاں تک کہ کوئی عورت دیہات سے اپنے ساتھ کتا لے کر آتی تو ہم اسے بھی مار ڈالتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو مارنے سے منع فرما دیا اور فرمایا کہ صرف کالے کتوں کو مارو۔
Narrated by Amir b. Sa'd
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ مَرِضَ مَرَضًا - قَالَ ابْنُ أَبِي خَلَفٍ - بِمَكَّةَ - ثُمَّ اتَّفَقَا - أَشْفَى فِيهِ فَعَادَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي مَالاً كَثِيرًا وَلَيْسَ يَرِثُنِي إِلاَّ ابْنَتِي أَفَأَتَصَدَّقُ بِالثُّلُثَيْنِ قَالَ " لاَ " . قَالَ فَبِالشَّطْرِ قَالَ " لاَ " . قَالَ فَبِالثُّلُثِ قَالَ " الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ إِنَّكَ أَنْ تَتْرُكَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَدَعَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ وَإِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً إِلاَّ أُجِرْتَ بِهَا حَتَّى اللُّقْمَةَ تَرْفَعُهَا إِلَى فِي امْرَأَتِكَ " . قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَخَلَّفُ عَنْ هِجْرَتِي قَالَ " إِنَّكَ إِنْ تُخَلَّفْ بَعْدِي فَتَعْمَلْ عَمَلاً صَالِحًا تُرِيدُ بِهِ وَجْهَ اللَّهِ لاَ تَزْدَادُ بِهِ إِلاَّ رِفْعَةً وَدَرَجَةً لَعَلَّكَ أَنْ تُخَلَّفَ حَتَّى يَنْتَفِعَ بِكَ أَقْوَامٌ وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ " . ثُمَّ قَالَ " اللَّهُمَّ أَمْضِ لأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ وَلاَ تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ لَكِنِ الْبَائِسُ سَعْدُ ابْنُ خَوْلَةَ يَرْثِي لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ مَاتَ بِمَكَّةَ " .
Narrated 'Amir b. Sa'd:On the authority of his father (Sa'd b. Abi Waqqas): When he (Sa'd) fell ill at Mecca (according to the version of Ibn Abi Kkalaf) - then the agreed version has: which brought him near to death - the Messenger of Allah (ﷺ) went to visit him. He said: Messenger of Allah, I have a large amount of property, and my daughter is my only heir. May I give two-thirds (of my property) as a sadaqah (charity)? He said: No. He asked: Then a half ? He replied: No. He asked: Then one-third ? He replied: (You may will away) a third and third is a lot. To leave your heirs rich is better than to leave them poor begging from people. You will not spend anything, seeking thereby to please Allah, without being rewarded for it, even the mouthful you give your wife. I said: Messenger of Allah, shall I be left behind form immigration (to Medina)? He said: If you remain behind after me and do good works seeking the pleasure of Allah, your rank will be raised and degree increased. Perhaps you will not remain behind, and some people will benefit from you and others will be harmed by you. He then said: O Allah, complete the immigration of my Companions and do not turn them back. But miserable was Sa'd b. Khawlah. The Messenger of Allah (ﷺ) lamented on him as he died at Mecca
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ بیمار ہوئے ( ابن ابی خلف کی روایت میں ہے: مکہ میں، آگے دونوں راوی متفق ہیں کہ ) اس بیماری میں وہ مرنے کے قریب پہنچ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی عیادت فرمائی، تو میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں بہت مالدار ہوں اور میری بیٹی کے سوا میرا کوئی وارث نہیں، کیا میں اپنے مال کا دو تہائی صدقہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ، پوچھا: کیا آدھا مال صدقہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ، پھر پوچھا: تہائی مال خیرات کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تہائی مال ( دے سکتے ہو ) اور تہائی مال بھی بہت ہے، تمہارا اپنے ورثاء کو مالدار چھوڑنا اس سے بہتر ہے کہ تم انہیں محتاج چھوڑ کر جاؤ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں، اور جو چیز بھی تم اللہ کی رضا مندی کے لیے خرچ کرو گے اس کا ثواب تمہیں ملے گا، یہاں تک کہ تم اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ اٹھا کر دو گے تو اس کا ثواب بھی پاؤ گے ۱؎، میں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا میں ہجرت سے پیچھے رہ جاؤں گا؟ ( یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے چلے جائیں گے، اور میں اپنی بیماری کی وجہ سے مکہ ہی میں رہ جاؤں گا، جب کہ صحابہ مکہ چھوڑ کر ہجرت کر چکے تھے ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم پیچھے رہ گئے، اور میرے بعد میرے غائبانہ میں بھی نیک عمل اللہ کی رضا مندی کے لیے کرتے رہے تو تمہارا درجہ بلند رہے گا، امید ہے کہ تم زندہ رہو گے، یہاں تک کہ تمہاری ذات سے کچھ اقوام کو فائدہ پہنچے گا اور کچھ کو نقصان و تکلیف ۲؎ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی کہ: اے اللہ! میرے اصحاب کی ہجرت مکمل فرما، اور انہیں ان کے ایڑیوں کے بل پیچھے کی طرف نہ پلٹا ، لیکن بیچارے سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ ان کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رنج و افسوس کا اظہار فرماتے تھے کہ وہ مکہ ہی میں انتقال فرما گئے ۳؎۔
Narrated by Jabir ibn Abdullah
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، - يَعْنِي الدَّسْتَوَائِيَّ - عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ اشْتَكَيْتُ وَعِنْدِي سَبْعُ أَخَوَاتٍ فَدَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَنَفَخَ فِي وَجْهِي فَأَفَقْتُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلاَ أُوصِي لأَخَوَاتِي بِالثُّلُثِ قَالَ " أَحْسِنْ " . قُلْتُ الشَّطْرَ قَالَ " أَحْسِنْ " . ثُمَّ خَرَجَ وَتَرَكَنِي فَقَالَ " يَا جَابِرُ لاَ أُرَاكَ مَيِّتًا مِنْ وَجَعِكَ هَذَا وَإِنَّ اللَّهَ قَدْ أَنْزَلَ فَبَيَّنَ الَّذِي لأَخَوَاتِكَ فَجَعَلَ لَهُنَّ الثُّلُثَيْنِ " . قَالَ فَكَانَ جَابِرٌ يَقُولُ أُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ فِيَّ { يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلاَلَةِ } .
Narrated Jabir ibn Abdullah: I fell ill, and I had seven sisters. The Messenger of Allah (ﷺ) came to me and blew on my face. So I became conscious. I said: Messenger of Allah, may I not bequeath one-third of my property to my sisters? He replied: Do good. I asked: Half? He replied: Do good. He then went out and left me, and said: I do not think, Jabir, you will die of this disease. Allah has revealed (verses) and described the share of your sisters. He appointed two-thirds for them. Jabir used to say: This verse was revealed about me: "They ask thee for a legal decision. Say: Allah directs (thus) about those who leave no descendants or ascendants as heirs
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں بیمار ہوا اور میرے پاس سات بہنیں تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور میرے چہرے پر پھونک ماری تو مجھے ہوش آ گیا، میں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا میں اپنی بہنوں کے لیے ثلث مال کی وصیت نہ کر دوں؟ آپ نے فرمایا: نیکی کرو ، میں نے کہا آدھے مال کی وصیت کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نیکی کرو ، پھر آپ مجھے چھوڑ کر چلے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جابر! میرا خیال ہے تم اس بیماری سے نہیں مرو گے، اور اللہ تعالیٰ نے اپنا کلام اتارا ہے اور تمہاری بہنوں کا حصہ بیان کر دیا ہے، ان کے لیے دو ثلث مقرر فرمایا ہے ۔ جابر کہا کرتے تھے کہ یہ آیت «يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة» میرے ہی متعلق نازل ہوئی ہے۔
Narrated by Abu Musa
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَخِيهِ، عَنْ بِشْرِ بْنِ قُرَّةَ الْكَلْبِيِّ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ انْطَلَقْتُ مَعَ رَجُلَيْنِ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَتَشَهَّدَ أَحَدُهُمَا ثُمَّ قَالَ جِئْنَا لِتَسْتَعِينَ بِنَا عَلَى عَمَلِكَ . وَقَالَ الآخَرُ مِثْلَ قَوْلِ صَاحِبِهِ . فَقَالَ " إِنَّ أَخْوَنَكُمْ عِنْدَنَا مَنْ طَلَبَهُ " . فَاعْتَذَرَ أَبُو مُوسَى إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ لَمْ أَعْلَمْ لِمَا جَاءَا لَهُ . فَلَمْ يَسْتَعِنْ بِهِمَا عَلَى شَىْءٍ حَتَّى مَاتَ .
Narrated Abu Musa:I went along with two men to see the Prophet (ﷺ). One of them recited tashahhud and said: We have come to you so that you may employ us for your work. The other also said the same thing. He (the Prophet) replied: The most faithless of you in our eyes is the one who asked for it (responsible post). Abu Musa then apologized to the Prophet (ﷺ) and said: I did not know why they came to you. He did not employ them for anything until he died
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں دو آدمیوں کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، ان میں سے ایک نے ( اللہ کی وحدانیت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی ) گواہی دی پھر کہا کہ ہم آپ کے پاس اس غرض سے آئے ہیں کہ آپ ہم سے اپنی حکومت کے کام میں مدد لیجئے ۱؎ دوسرے نے بھی اپنے ساتھی ہی جیسی بات کہی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارے نزدیک تم میں وہ شخص سب سے بڑا خائن ہے جو حکومت طلب کرے ۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے معذرت پیش کی، اور کہا کہ مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ دونوں آدمی اس غرض سے آئے ہیں پھر انہوں نے ان سے زندگی بھر کسی کام میں مدد نہیں لی۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو التَّيَّاحِ، حَدَّثَنِي شَيْخٌ، قَالَ لَمَّا قَدِمَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ الْبَصْرَةَ فَكَانَ يُحَدَّثُ عَنْ أَبِي مُوسَى، فَكَتَبَ عَبْدُ اللَّهِ إِلَى أَبِي مُوسَى يَسْأَلُهُ عَنْ أَشْيَاءَ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ أَبُو مُوسَى إِنِّي كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ يَوْمٍ فَأَرَادَ أَنْ يَبُولَ فَأَتَى دَمِثًا فِي أَصْلِ جِدَارٍ فَبَالَ ثُمَّ قَالَ صلى الله عليه وسلم " إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَبُولَ فَلْيَرْتَدْ لِبَوْلِهِ مَوْضِعًا " .
Abu al-Tayyah reported on the authority of a shaykh (an old man):When Abdullah ibn Abbas came to Basrah, people narrated to him traditions from AbuMusa. Therefore Ibn Abbas wrote to him asking him about certain things. In reply AbuMusa wrote to him saying: One day I was in the company of the Messenger of Allah (ﷺ). He wanted to urinate. Then he came to a soft ground at the foot of a wall and urinated. He (the Prophet) then said: If any of you wants to urinate, he should look for a place (like this) for his urination
ابوالتیاح کہتے ہیں کہ مجھے ایک شیخ نے بتایا کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا جب بصرہ میں ( بحثیت گورنر ) تشریف لائے تو لوگ انہیں سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے سنی ہوئی احادیث بیان کرتے تھے ۔ ( تو اس ضمن میں ) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا نے سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے نام ایک خط لکھا : جس میں ان سے کچھ مسائل دریافت کیے چنانچہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے انہیں جواب میں لکھا : میں ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کرنے کا ارادہ کیا ، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دیوار کی جڑ میں نرم مٹی کے پاس آئے اور پیشاب کیا ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” تم میں سے جب کوئی پیشاب کرنا چاہے تو اس کے لیے ( مناسب نرم ) جگہ تلاش کر لیا کرے ۔ “
Narrated by Abu Musa
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، وَمُسَدَّدٌ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّكْسَكِيِّ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم غَيْرَ مَرَّةٍ وَلاَ مَرَّتَيْنِ يَقُولُ " إِذَا كَانَ الْعَبْدُ يَعْمَلُ عَمَلاً صَالِحًا فَشَغَلَهُ عَنْهُ مَرَضٌ أَوْ سَفَرٌ كُتِبَ لَهُ كَصَالِحِ مَا كَانَ يَعْمَلُ وَهُوَ صَحِيحٌ مُقِيمٌ " .
Narrated Abu Musa:I heard the Prophet (ﷺ) many times say: When a servant of Allah is accustomed to do a good work, then becomes ill or goes on journey, what was accustomed to do when he was well and staying at home will be recorded for him
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک یا دو بار ہی نہیں بلکہ متعدد بار یہ کہتے ہوئے سنا: جب بندہ کوئی نیک عمل ( پابندی سے ) کر رہا ہو، پھر کوئی مرض، یا سفر اسے مشغول کر دے جس کی وجہ سے اسے وہ نہ کر سکے، تو بھی اس کے لیے اتنا ہی ثواب لکھا جاتا ہے جتنا کہ اس کے تندرست اور مقیم ہونے کی صورت میں عمل کرنے پر اس کے لیے لکھا جاتا تھا ۔
Narrated by Al-Ash'ath ibn Qays
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي كُرْدُوسٌ، عَنِ الأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ كِنْدَةَ وَرَجُلاً مِنْ حَضْرَمَوْتَ اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي أَرْضٍ مِنَ الْيَمَنِ فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَرْضِي اغْتَصَبَنِيهَا أَبُو هَذَا وَهِيَ فِي يَدِهِ . قَالَ " هَلْ لَكَ بَيِّنَةٌ " . قَالَ لاَ وَلَكِنْ أُحَلِّفُهُ وَاللَّهِ مَا يَعْلَمُ أَنَّهَا أَرْضِي اغْتَصَبَنِيهَا أَبُوهُ فَتَهَيَّأَ الْكِنْدِيُّ لِلْيَمِينِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَقْتَطِعُ أَحَدٌ مَالاً بِيَمِينٍ إِلاَّ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ أَجْذَمُ " . فَقَالَ الْكِنْدِيُّ هِيَ أَرْضُهُ .
Narrated Al-Ash'ath ibn Qays: A man of Kindah and a man of Hadramawt brought their dispute to the Prophet (ﷺ) about a land in the Yemen. Al-Hadrami said: Messenger of Allah, the father of this (man) usurped my land and it is in his possession. The Prophet asked: Have you any evidence? Al-Hadrami replied: No, but I make him swear (that he should say) that he does not know that it is my land which his father usurped from me. Al-Kindi became ready to take the oath. The Messenger of Allah (ﷺ) said: If anyone usurps the property by taking an oath, he will meet Allah while his hand is mutilated. Al-Kindi then said: It is his land
اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یمن کی ایک زمین کے سلسلے میں کندہ کے ایک آدمی اور حضر موت کے ایک آدمی نے جھگڑا کیا اور دونوں اپنا مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے، حضرمی نے کہا: اللہ کے رسول! میری زمین کو اس شخص کے باپ نے مجھ سے چھین لی تھی اور اب وہ زمین اس شخص کے قبضہ میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: تمہارے پاس «بیّنہ» ( ثبوت اور دلیل ) ہے؟ اس نے کہا: نہیں، لیکن میں اسے قسم دلانا چاہوں گا، اور اللہ کو خوب معلوم ہے کہ یہ میری زمین ہے جسے اس کے باپ نے مجھ سے غصب کر لی تھی، ( یہ سن کر ) کندی قسم کھانے کے لیے تیار ہو گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس وقت ) فرمایا: جو شخص کسی کا مال قسم کھا کر ہڑپ کر لے گا تو قیامت کے دن وہ اللہ سے کوڑھی ہو کر ملے گا ( یہ سنا تو ) کندی نے کہا: یہ اسی کی زمین ہے۔
Narrated by Abdullah ibn Abbas
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ - عَنْ عَمْرٍو، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرٍو - عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلاً، لَزِمَ غَرِيمًا لَهُ بِعَشْرَةِ دَنَانِيرَ فَقَالَ وَاللَّهِ لاَ أُفَارِقُكَ حَتَّى تَقْضِيَنِي أَوْ تَأْتِيَنِي بِحَمِيلٍ فَتَحَمَّلَ بِهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَأَتَاهُ بِقَدْرِ مَا وَعَدَهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مِنْ أَيْنَ أَصَبْتَ هَذَا الذَّهَبَ " . قَالَ مِنْ مَعْدِنٍ . قَالَ " لاَ حَاجَةَ لَنَا فِيهَا وَلَيْسَ فِيهَا خَيْرٌ " . فَقَضَاهَا عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
Narrated Abdullah ibn Abbas: A man seized his debtor who owed ten dinars to him. He said to him: I swear by Allah, I shall not leave you until you pay off (my debt) to me or bring a surety. The Prophet (ﷺ) stood as a surety for him. He then brought as much (money) as he promised. The Prophet (ﷺ) asked: From where did you acquire this gold? He replied: From a mine. He said: We have no need of it; there is no good in it. Then the Messenger of Allah (ﷺ) paid (the debt) on his behalf
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص اپنے قرض دار کے ساتھ لگا رہا جس کے ذمہ اس کے دس دینار تھے اس نے کہا: میں تجھ سے جدا نہ ہوں گا جب تک کہ تو قرض نہ ادا کر دے، یا ضامن نہ لے آ، یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرض دار کی ضمانت لے لی، پھر وہ اپنے وعدے کے مطابق لے کر آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: یہ سونا تجھے کہاں سے ملا؟ اس نے کہا: میں نے کان سے نکالا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے ( لے جاؤ ) اس میں بھلائی نہیں ہے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف سے ( قرض کو ) خود ادا کر دیا۔
Narrated by Abu Sa’id Al Khudri
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَهْطًا، مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم انْطَلَقُوا فِي سَفْرَةٍ سَافَرُوهَا فَنَزَلُوا بِحَىٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ فَاسْتَضَافُوهُمْ فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمْ - قَالَ - فَلُدِغَ سَيِّدُ ذَلِكَ الْحَىِّ فَشَفَوْا لَهُ بِكُلِّ شَىْءٍ لاَ يَنْفَعُهُ شَىْءٌ . فَقَالَ بَعْضُهُمْ لَوْ أَتَيْتُمْ هَؤُلاَءِ الرَّهْطَ الَّذِينَ نَزَلُوا بِكُمْ لَعَلَّ أَنْ يَكُونَ عِنْدَ بَعْضِهِمْ شَىْءٌ يَنْفَعُ صَاحِبَكُمْ فَقَالَ بَعْضُهُمْ إِنَّ سَيِّدَنَا لُدِغَ فَشَفَيْنَا لَهُ بِكُلِّ شَىْءٍ فَلاَ يَنْفَعُهُ شَىْءٌ فَهَلْ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْكُمْ شَىْءٌ يَشْفِي صَاحِبَنَا يَعْنِي رُقْيَةً . فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ إِنِّي لأَرْقِي وَلَكِنِ اسْتَضَفْنَاكُمْ فَأَبَيْتُمْ أَنْ تُضَيِّفُونَا مَا أَنَا بِرَاقٍ حَتَّى تَجْعَلُوا لِي جُعْلاً . فَجَعَلُوا لَهُ قَطِيعًا مِنَ الشَّاءِ فَأَتَاهُ فَقَرَأَ عَلَيْهِ بِأُمِّ الْكِتَابِ وَيَتْفُلُ حَتَّى بَرِئَ كَأَنَّمَا أُنْشِطَ مِنْ عِقَالٍ فَأَوْفَاهُمْ جُعْلَهُمُ الَّذِي صَالَحُوهُ عَلَيْهِ . فَقَالُوا اقْتَسِمُوا فَقَالَ الَّذِي رَقَى لاَ تَفْعَلُوا حَتَّى نَأْتِيَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَنَسْتَأْمِرَهُ . فَغَدَوْا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرُوا لَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مِنْ أَيْنَ عَلِمْتُمْ أَنَّهَا رُقْيَةٌ أَحْسَنْتُمْ وَاضْرِبُوا لِي مَعَكُمْ بِسَهْمٍ " .
Narrated Abu Sa’id Al Khudri :Some of the Companions of Prophet (ﷺ) went on a journey. They encamped with a clan of the Arabs and sought hospitality from them, but they refused to provide them with any hospitality. The chief of the clan was stung by a scorpion or bitten by a snake. They gave him all sorts of treatment, but nothing gave him relied. One of them said: Would that you had gone to those people who encamped with you ; some of them might have something which could give you relief to your companion. (So they went and) one of them said: Our chief has been stung by a scorpion or bitten by a snake. We administered all sorts of medicine but nothing gave him relief. Has any of you anything, i.e. charm, which gives healing to our companion. One of those people said: I shall apply charm; we sought hospitality from you, but you refused to entertain us. I am not going to apply charm until you give me some wages. So they offered them a number of sheep. He then came to and recited Faithat-al-Kitab and spat until he was cured as if he were set free from a bond. Thereafter they made payment of the wages as agreed by them. They said: Apportion (the wages). The man who applied the charm said: Do not do until we come to the Messenger of Allah (ﷺ) and consult him. So they came to the Messenger of Allah (ﷺ) next morning and mentioned it to him. The Messenger of Allah (ﷺ) said: From where did you learn that it was a charm ? You have done right. Give me a share along with you
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی ایک جماعت ایک سفر پر نکلی اور عرب کے قبائل میں سے کسی قبیلے کے پاس وہ لوگ جا کر ٹھہرے اور ان سے مہمان نوازی طلب کی تو انہوں نے مہمان نوازی سے انکار کر دیا وہ پھر اس قبیلے کے سردار کو سانپ یا بچھو نے کاٹ ( ڈنک مار دیا ) کھایا، انہوں نے ہر چیز سے علاج کیا لیکن اسے کسی چیز سے فائدہ نہیں ہو رہا تھا، تب ان میں سے ایک نے کہا: اگر تم ان لوگوں کے پاس آتے جو تمہارے یہاں آ کر قیام پذیر ہیں، ممکن ہے ان میں سے کسی کے پاس کوئی چیز ہو جو تمہارے ساتھی کو فائدہ پہنچائے ( وہ آئے ) اور ان میں سے ایک نے کہا: ہمارا سردار ڈس لیا گیا ہے ہم نے اس کی شفایابی کے لیے ہر طرح کی دوا دارو کر لی لیکن کوئی چیز اسے فائدہ نہیں دے رہی ہے، تو کیا تم میں سے کسی کے پاس جھاڑ پھونک قسم کی کوئی چیز ہے جو ہمارے ( ساتھی کو شفاء دے ) ؟ تو اس جماعت میں سے ایک شخص نے کہا: ہاں، میں جھاڑ پھونک کرتا ہوں، لیکن بھائی بات یہ ہے کہ ہم نے چاہا کہ تم ہمیں اپنا مہمان بنا لو لیکن تم نے ہمیں اپنا مہمان بنانے سے انکار کر دیا، تو اب جب تک اس کا معاوضہ طے نہ کر دو میں جھاڑ پھونک کرنے والا نہیں، انہوں نے بکریوں کا ایک گلہ دینے کا وعدہ کیا تو وہ ( صحابی ) سردار کے پاس آئے اور سورۃ فاتحہ پڑھ کر تھوتھو کرتے رہے یہاں تک کہ وہ شفایاب ہو گیا، گویا وہ رسی کی گرہ سے آزاد ہو گیا، تو ان لوگوں نے جو اجرت ٹھہرائی تھی وہ پوری پوری دے دی، تو صحابہ نے کہا: لاؤ اسے تقسیم کر لیں، تو اس شخص نے جس نے منتر پڑھا تھا کہا: نہیں ابھی نہ کرو یہاں تک کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے پوچھ لیں تو وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے پورا واقعہ ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: تم نے کیسے جانا کہ یہ جھاڑ پھونک ہے؟ تم نے اچھا کیا، اپنے ساتھ تم میرا بھی ایک حصہ لگانا ۔
Narrated by Buraydah ibn al-Hasib
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ السَّمْتِيُّ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْقُضَاةُ ثَلاَثَةٌ وَاحِدٌ فِي الْجَنَّةِ وَاثْنَانِ فِي النَّارِ فَأَمَّا الَّذِي فِي الْجَنَّةِ فَرَجُلٌ عَرَفَ الْحَقَّ فَقَضَى بِهِ وَرَجُلٌ عَرَفَ الْحَقَّ فَجَارَ فِي الْحُكْمِ فَهُوَ فِي النَّارِ وَرَجُلٌ قَضَى لِلنَّاسِ عَلَى جَهْلٍ فَهُوَ فِي النَّارِ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَذَا أَصَحُّ شَىْءٍ فِيهِ يَعْنِي حَدِيثَ ابْنِ بُرَيْدَةَ " الْقُضَاةُ ثَلاَثَةٌ " .
Narrated Buraydah ibn al-Hasib: The Prophet (ﷺ) said: Judges are of three types, one of whom will go to Paradise and two to Hell. The one who will go to Paradise is a man who knows what is right and gives judgment accordingly; but a man who knows what is right and acts tyrannically in his judgment will go to Hell; and a man who gives judgment for people when he is ignorant will go to Hell. Abu Dawud said: On this subject this is the soundest tradition, that is, the tradition of Ibn Buraidah: Judges are of three types
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قاضی تین طرح کے ہوتے ہیں: ایک جنتی اور دو جہنمی، رہا جنتی تو وہ ایسا شخص ہو گا جس نے حق کو جانا اور اسی کے موافق فیصلہ کیا، اور وہ شخص جس نے حق کو جانا اور اپنے فیصلے میں ظلم کیا تو وہ جہنمی ہے ۔ اور وہ شخص جس نے نادانی سے لوگوں کا فیصلہ کیا وہ بھی جہنمی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ یعنی ابن بریدہ کی تین قاضیوں والی حدیث اس باب میں سب سے صحیح روایت ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا مِنْ رَجُلٍ يَسْلُكُ طَرِيقًا يَطْلُبُ فِيهِ عِلْمًا إِلاَّ سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ بِهِ طَرِيقَ الْجَنَّةِ وَمَنْ أَبْطَأَ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ " .
Abu Hurairah reported the Prophet (ﷺ) as saying:If anyone pursues a path in search of knowledge, Allah will thereby make easy for him a path to paradise; and he who is made slow by his actions will not be speeded by his genealogy
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص حصول علم کے لیے کوئی راستہ طے کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے، اور جس کو اس کے عمل نے پیچھے کر دیا تو اسے اس کا نسب آگے نہیں کر سکے گا ۔
Narrated by Ali ibn AbuTalib
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَلَيْهِ السَّلاَمُ أَنَّ رَجُلاً، مِنَ الأَنْصَارِ دَعَاهُ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ فَسَقَاهُمَا قَبْلَ أَنْ تُحَرَّمَ الْخَمْرُ فَأَمَّهُمْ عَلِيٌّ فِي الْمَغْرِبِ فَقَرَأَ { قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ } فَخَلَطَ فِيهَا فَنَزَلَتْ { لاَ تَقْرَبُوا الصَّلاَةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ } .
Narrated Ali ibn AbuTalib: A man of the Ansar called him and AbdurRahman ibn Awf and supplied them wine before it was prohibited. Ali then led them in the evening prayer, and he recited; "Say: O ye who reject faith." He was confused in it. Then the following verse came down: "O ye who believe! approach not prayers with a mind befogged until you can understand all that ye say
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہیں اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو ایک انصاری نے بلایا اور انہیں شراب پلائی اس وقت تک شراب حرام نہیں ہوئی تھی پھر علی رضی اللہ عنہ نے مغرب پڑھائی اور سورۃ «قل يا أيها الكافرون» کی تلاوت کی اور اس میں کچھ گڈ مڈ کر دیا تو آیت: «لا تقربوا الصلاة وأنتم سكارى حتى تعلموا ما تقولون» نشے کی حالت میں نماز کے قریب تک مت جاؤ یہاں تک کہ تم سمجھنے لگو جو تم پڑھو نازل ہوئی۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُجِبْ عُرْسًا كَانَ أَوْ نَحْوَهُ " .
Ibn ‘Umar reported the Messenger of Allah(ﷺ) as saying:if one of you invites his brother, he should accept(the invitation), whether it is a wedding feast or something of that nature
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں کوئی اپنے بھائی کو ولیمے کی یا اسی طرح کی کوئی دعوت دے تو وہ اسے قبول کرے ۔
Narrated by Abu Hurayrah
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنْ كَانَ فِي شَىْءٍ مِمَّا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ خَيْرٌ فَالْحِجَامَةُ " .
Narrated Abu Hurayrah: The Prophet (ﷺ) said: The best medical treatment you apply is cupping
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جن دواؤں سے تم علاج کرتے ہو اگر ان میں سے کسی میں خیر ( بھلائی ) ہے تو وہ سینگی ( پچھنے ) لگوانا ہے ۔
Narrated by Zaid bin Khalid Al-Juhani
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُ قَالَ صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلاَةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةِ فِي إِثْرِ سَمَاءٍ كَانَتْ مِنَ اللَّيْلِ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ " هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ " . قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ " قَالَ أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ فَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَذَلِكَ مُؤْمِنٌ بِي كَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ وَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا فَذَلِكَ كَافِرٌ بِي مُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ " .
Narrated Zaid bin Khalid Al-Juhani:The Messenger of Allah (ﷺ) led us in the morning prayer at al-Hudaibiyyah after rain which has fallen during the night, and when he finished, he turned to the people and said: Do you know what your Lord has said ? They said: Allah and His Apostle know best. He said: This morning there were among mt servants one who believes in me and one who disbelieves. The one who said: "We have been given rain by Allah's grace and mercy" is the one who believes in me and disbelieves in the star ; but the one who said: "We have been given rain by such and such a rain star," is the one who disbelieves in me and believes in the star
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ میں ہمیں نماز فجر بارش کے بعد پڑھائی جو رات میں ہوئی تھی تو جب آپ فارغ ہو گئے اور لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے تو فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا کہا؟ لوگوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے کہا: میرے بندوں میں سے کچھ نے آج مومن ہو کر صبح کی، اور کچھ نے کافر ہو کر، جس نے یہ کہا کہ بارش اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہوئی وہ میرے اوپر ایمان رکھنے والا ہوا اور ستاروں کا منکر ہوا، اور جس نے کہا کہ ہم فلاں اور فلاں نچھتر کے سبب برسائے گئے تو وہ میرا منکر ہوا اور ستاروں پر یقین کرنے والا ہوا ۔
Narrated by Umm Salamah, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ نَبْهَانَ، مُكَاتَبِ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَ سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ، تَقُولُ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنْ كَانَ لإِحْدَاكُنَّ مُكَاتَبٌ فَكَانَ عِنْدَهُ مَا يُؤَدِّي فَلْتَحْتَجِبْ مِنْهُ " .
Narrated Umm Salamah, Ummul Mu'minin: The Messenger of Allah (ﷺ) said to us: If one of you has a slave, and he enters into an agreement to purchase his freedom, and can pay the full price, she must veil herself from him
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے مکاتب غلام نبھان کہتے ہیں کہ میں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: جب تم عورتوں میں سے کسی کا کوئی مکاتب ہو اور اس کے پاس اتنا مال ہو جس سے وہ اپنا بدل کتابت ادا کر لے جائے تو تمہیں اس سے پردہ کرنا چاہیئے ( کیونکہ اب وہ آزاد کی طرح ہے ) ۔
Narrated by Abdullah Ibn Abbas
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ فُلاَنِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، - قَالَ أَبُو دَاوُدَ هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ - عَنْ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَمَّنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ عِنْدَ الْبَيْتِ مَرَّتَيْنِ فَصَلَّى بِيَ الظُّهْرَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ وَكَانَتْ قَدْرَ الشِّرَاكِ وَصَلَّى بِيَ الْعَصْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّهُ مِثْلَهُ وَصَلَّى بِيَ - يَعْنِي الْمَغْرِبَ - حِينَ أَفْطَرَ الصَّائِمُ وَصَلَّى بِيَ الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ وَصَلَّى بِيَ الْفَجْرَ حِينَ حَرُمَ الطَّعَامُ وَالشَّرَابُ عَلَى الصَّائِمِ فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ صَلَّى بِيَ الظُّهْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّهُ مِثْلَهُ وَصَلَّى بِيَ الْعَصْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّهُ مِثْلَيْهِ وَصَلَّى بِيَ الْمَغْرِبَ حِينَ أَفْطَرَ الصَّائِمُ وَصَلَّى بِيَ الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ وَصَلَّى بِيَ الْفَجْرَ فَأَسْفَرَ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَىَّ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ هَذَا وَقْتُ الأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِكَ وَالْوَقْتُ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ " .
Narrated Abdullah Ibn Abbas: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Gabriel (ﷺ) led me in prayer at the House (i.e. the Ka'bah). He prayed the noon prayer with me when the sun had passed the meridian to the extent of the thong of a sandal; he prayed the afternoon prayer with me when the shadow of everything was as long as itself; he prayed the sunset prayer with me when one who is fasting breaks the fast; he prayed the night prayer with me when the twilight had ended; and he prayed the dawn prayer with me when food and drink become forbidden to one who is keeping the fast. On the following day he prayed the noon prayer with me when his shadow was as long as himself; he prayed the afternoon prayer with me when his shadow was twice as long as himself; he prayed the sunset prayer at the time when one who is fasting breaks the fast; he prayed the night prayer with me when about the third of the night had passed; and he prayed the dawn prayer with me when there was a fair amount of light. Then turning to me he said: Muhammad, this is the time observed by the prophets before you, and the time is anywhere between two times
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبرائیل علیہ السلام نے خانہ کعبہ کے پاس دو بار میری امامت کی، ظہر مجھے اس وقت پڑھائی جب سورج ڈھل گیا اور سایہ جوتے کے تسمے کے برابر ہو گیا، عصر اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے مثل ۱؎ ہو گیا، مغرب اس وقت پڑھائی جب روزے دار روزہ کھولتا ہے ( سورج ڈوبتے ہی ) ، عشاء اس وقت پڑھائی جب شفق ۲؎ غائب ہو گئی، اور فجر اس وقت پڑھائی جب صائم پر کھانا پینا حرام ہو جاتا ہے یعنی جب صبح صادق طلوع ہوتی ہے۔ دوسرے دن ظہر مجھے اس وقت پڑھائی، جب ہر چیز کا سایہ اس کے مثل ۳؎ ہو گیا، عصر اس وقت پڑھائی، جب ہر چیز کا سایہ اس کے دو مثل ہو گیا، مغرب اس وقت پڑھائی جب روزے دار روزہ کھولتا ہے، عشاء تہائی رات میں پڑھائی، اور فجر اجالے میں پڑھائی، پھر جبرائیل علیہ السلام میری جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! یہی وقت آپ سے پہلے انبیاء کا بھی رہا ہے، اور نماز کا وقت ان دونوں وقتوں کے درمیان ہے ۴؎ ۔
Narrated by Abdullah ibn Abbas
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا خُصَيْفٌ، حَدَّثَنَا مِقْسَمٌ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رضى الله عنهما نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ { وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَغُلَّ } فِي قَطِيفَةٍ حَمْرَاءَ فُقِدَتْ يَوْمَ بَدْرٍ فَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ لَعَلَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَخَذَهَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَغُلَّ } إِلَى آخِرِ الآيَةِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ يَغُلَّ مَفْتُوحَةُ الْيَاءِ .
Narrated Abdullah ibn Abbas: The verse "And no Prophet could (ever) be false to his trust" was revealed about a red velvet. When it was found missing on the day of Badr, some people said; Perhaps the Messenger of Allah (ﷺ) has taken it. So Allah, the Exalted, sent down "And no prophet could (ever) be false to his trust" to the end of the verse. Abu Dawud said: In the word yaghulla the letter ya has a short vowel a
مقسم مولیٰ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ہے کہ آیت: «وما كان لنبي أن يغل» نبی کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ خیانت کرے۔۔۔ ( سورۃ آل عمران: ۱۶۱ ) ایک سرخ چادر کے متعلق نازل ہوئی جو بدر کے دن گم ہو گئی تھی تو کچھ لوگوں نے کہا: شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے لیا ہو تب اللہ تعالیٰ نے: «وما كان لنبي أن يغل» نازل کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «يغل» یا کے فتحہ کے ساتھ ہے۔
Narrated by Abdullah ibn Amr ibn al-'As
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّهَا سَتُفْتَحُ لَكُمْ أَرْضُ الْعَجَمِ وَسَتَجِدُونَ فِيهَا بُيُوتًا يُقَالُ لَهَا الْحَمَّامَاتُ فَلاَ يَدْخُلَنَّهَا الرِّجَالُ إِلاَّ بِالأُزُرِ وَامْنَعُوهَا النِّسَاءَ إِلاَّ مَرِيضَةً أَوْ نُفَسَاءَ " .
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-'As: The Prophet (ﷺ) said: After some time the lands of the non-Arabs will be conquered for you, and there you will find houses called hammamat (hot baths). so men should not enter them (to wash) except in lower garments, and forbid the women to enter them except a sick or one who is in a child-bed
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب عجم کی سر زمین تمہارے لیے فتح کر دی جائے گی اور اس میں تمہیں ایسے گھر ملیں گے جنہیں حمام کہا جائے گا تو اس میں مرد بغیر تہ بند کے داخل نہ ہوں اور عورتوں کو ان میں جانے سے روکو سوائے بیمار یا زچہ کے ۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ أَبَا سَعِيدٍ وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي الْعَلاَءِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . قَالَ أَبُو دَاوُدَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ وَالثَّقَفِيُّ سَمَاعُهُمَا وَاحِدٌ .
The tradition mentioned above has also been transmitted by al-Jariri to the same effect though a different chain of narrators. Abu Dawud said:'Abd al-Wahhab al-Thaqafi did not mention the name of Abu Sa'id. Hammad b. Salamah said: From al-Jariri, from Abu al-'Ala', from the Prophet (ﷺ). Abu Dawud said: The hearing of this tradition by Hammad b. Salamah and Thaqafi is of the same nature
اس سند سے بھی جریری سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالوہاب ثقفی نے اس میں ابوسعید کا ذکر نہیں کیا ہے اور حماد بنطسلمہ نے جریری سے جریری نے ابوالعلاء سے ابوالعلاء نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حماد بن سلمہ اور ثقفی دونوں کا سماع ایک ہی ہے
Narrated by AbuUmamah Ilyas ibn Tha'labah
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ ذَكَرَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا عِنْدَهُ الدُّنْيَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَلاَ تَسْمَعُونَ أَلاَ تَسْمَعُونَ إِنَّ الْبَذَاذَةَ مِنَ الإِيمَانِ إِنَّ الْبَذَاذَةَ مِنَ الإِيمَانِ " . يَعْنِي التَّقَحُّلَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ هُوَ أَبُو أُمَامَةَ بْنُ ثَعْلَبَةَ الأَنْصَارِيُّ .
Narrated AbuUmamah Ilyas ibn Tha'labah: The Companions of the Messenger of Allah (ﷺ) mentioned this word before him. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Listen, listen! Wearing old clothes is a part of faith, wearing old clothes is a part of faith. Abu Dawud said: He is Abu Umamah b. Tha'labat al-Ansari
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ نے ایک روز آپ کے پاس دنیا کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: کیا تم سن نہیں رہے ہو؟ کیا تم سن نہیں رہے ہو؟ بیشک سادگی و پراگندہ حالی ایمان کی دلیل ہے، بیشک سادگی و پراگندہ حالی ایمان کی دلیل ہے اس سے مراد ترک زینت و آرائش اور خستہ حالی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: وہ ابوامامہ بن ثعلبہ انصاری ہیں۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَنَسٌ، قَالَ كَانَ خَاتَمُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ وَرِقٍ فَصُّهُ حَبَشِيٌّ .
Narrated Anas:The signet-ring of the Prophet (ﷺ) was of silver with an Abyssinian stone
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی چاندی کی تھی، اس کا نگینہ حبشی تھا۔
Narrated by Abdullah ibn Umar
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ، حَدَّثَنِي الْعَلاَءُ بْنُ عُتْبَةَ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ هَانِئٍ الْعَنْسِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ كُنَّا قُعُودًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ الْفِتَنَ فَأَكْثَرَ فِي ذِكْرِهَا حَتَّى ذَكَرَ فِتْنَةَ الأَحْلاَسِ فَقَالَ قَائِلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا فِتْنَةُ الأَحْلاَسِ قَالَ " هِيَ هَرَبٌ وَحَرْبٌ ثُمَّ فِتْنَةُ السَّرَّاءِ دَخَنُهَا مِنْ تَحْتِ قَدَمَىْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يَزْعُمُ أَنَّهُ مِنِّي وَلَيْسَ مِنِّي وَإِنَّمَا أَوْلِيَائِيَ الْمُتَّقُونَ ثُمَّ يَصْطَلِحُ النَّاسُ عَلَى رَجُلٍ كَوَرِكٍ عَلَى ضِلَعٍ ثُمَّ فِتْنَةُ الدُّهَيْمَاءِ لاَ تَدَعُ أَحَدًا مِنْ هَذِهِ الأُمَّةِ إِلاَّ لَطَمَتْهُ لَطْمَةً فَإِذَا قِيلَ انْقَضَتْ تَمَادَتْ يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا حَتَّى يَصِيرَ النَّاسُ إِلَى فُسْطَاطَيْنِ فُسْطَاطِ إِيمَانٍ لاَ نِفَاقَ فِيهِ وَفُسْطَاطِ نِفَاقٍ لاَ إِيمَانَ فِيهِ فَإِذَا كَانَ ذَاكُمْ فَانْتَظِرُوا الدَّجَّالَ مِنْ يَوْمِهِ أَوْ مِنْ غَدِهِ " .
Narrated Abdullah ibn Umar: When we were sitting with the Messenger of Allah (ﷺ), he talked about periods of trial (fitnahs), mentioning many of them. When he mentioned the one when people should stay in their houses, some asked him: Messenger of Allah, what is the trial (fitnah) of staying at home? He replied: It will be flight and plunder. Then will come a test which is pleasant. Its murkiness is due to the fact that it is produced by a man from the people of my house, who will assert that he belongs to me, whereas he does not, for my friends are only the God-fearing. Then the people will unite under a man who will be like a hip-bone on a rib. Then there will be the little black trial which will leave none of this community without giving him a slap, and when people say that it is finished, it will be extended. During it a man will be a believer in the morning and an infidel in the evening, so that the people will be in two camps: the camp of faith which will contain no hypocrisy, and the camp of hypocrisy which will contain no faith. When that happens, expect the Antichrist (Dajjal) that day or the next
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے آپ نے فتنوں کے تذکرہ میں بہت سے فتنوں کا تذکرہ کیا یہاں تک کہ فتنہ احلاس کا بھی ذکر فرمایا تو ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! فتنہ احلاس کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ایسی نفرت و عداوت اور قتل و غارت گری ہے کہ انسان ایک دوسرے سے بھاگے گا، اور باہم برسر پیکار رہے گا، پھر اس کے بعد فتنہ سراء ہے جس کا فساد میرے اہل بیت کے ایک شخص کے پیروں کے نیچے سے رونما ہو گا، وہ گمان کرے گا کہ وہ مجھ سے ہے حالانکہ وہ مجھ سے نہ ہو گا، میرے اولیاء تو وہی ہیں جو متقی ہوں، پھر لوگ ایک شخص پر اتفاق کر لیں گے جیسے سرین ایک پسلی پر ( یعنی ایسے شخص پر اتفاق ہو گا جس میں استقامت نہ ہو گی جیسے سرین پہلو کی ہڈی پر سیدھی نہیں ہوتی ) ، پھر «دھیماء» ( اندھیرے ) کا فتنہ ہو گا جو اس امت کے ہر فرد کو پہنچ کر رہے گا، جب کہا جائے گا کہ فساد ختم ہو گیا تو وہ اور بھڑک اٹھے گا جس میں صبح کو آدمی مومن ہو گا، اور شام کو کافر ہو جائے گا، یہاں تک کہ لوگ دو خیموں میں بٹ جائیں گے، ایک خیمہ اہل ایمان کا ہو گا جس میں کوئی منافق نہ ہو گا، اور ایک خیمہ اہل نفاق کا جس میں کوئی ایماندار نہ ہو گا، تو جب ایسا فتنہ رونما ہو تو اسی روز، یا اس کے دو سرے روز سے دجال کا انتظار کرنے لگ جاؤ ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُفَيْلٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ زَادَ فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى مَنْزِلِهِ أَتَتْهُ قُرَيْشٌ فَقَالُوا ثُمَّ يَكُونُ مَاذَا قَالَ " ثُمَّ يَكُونُ الْهَرْجُ " .
The tradition mentioned above has also been transmitted by Jabir b. Samurah through a different chain of narrators. This version adds:When he came back to his home. the Quraish came to him and said: Then what will happen ? He said: Then turmoil will prevail
اس سند سے بھی جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں اتنا اضافہ ہے: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر واپس گئے تو قریش کے لوگ آپ کے پاس آئے اور انہوں نے عرض کیا: پھر کیا ہو گا؟ آپ نے فرمایا: پھر قتل ہو گا ۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ زَادَ فِيهِ " وَيَثُورُ الْمُسْلِمُونَ إِلَى أَسْلِحَتِهِمْ فَيَقْتَتِلُونَ فَيُكْرِمُ اللَّهُ تِلْكَ الْعِصَابَةَ بِالشَّهَادَةِ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ إِلاَّ أَنَّ الْوَلِيدَ جَعَلَ الْحَدِيثَ عَنْ جُبَيْرٍ عَنْ ذِي مِخْبَرٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَاهُ رَوْحٌ وَيَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ وَبِشْرُ بْنُ بَكْرٍ عَنِ الأَوْزَاعِيِّ كَمَا قَالَ عِيسَى .
The tradition mentioned above has also been transmitted by Hassan b. ’Atiyyah through a different chain of narrators. This version add:The Muslims will then make for their weapons and will fight, and Allah will honor that body with martryrdom. Abu Dawud said: But al-Walid has narrated this tradition from Dhu Mikhbar from the Prophet (ﷺ). Abu Dawud said: Rawh, Yahya bin Hamzah and Bishr bin Bakr has also transmitted it from al-Awza'i as mentioned by 'Isa
اس سند سے بھی حسان بن عطیہ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں یہ اضافہ ہے: پھر جلدی سے مسلمان اپنے ہتھیاروں کی طرف بڑھیں گے، اور لڑنے لگیں گے، تو اللہ تعالیٰ اس جماعت کو شہادت سے نوازے گا ۔
Narrated by Aisha, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ إِلاَّ بِإِحْدَى ثَلاَثٍ رَجُلٌ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانٍ فَإِنَّهُ يُرْجَمُ وَرَجُلٌ خَرَجَ مُحَارِبًا لِلَّهِ وَرَسُولِهِ فَإِنَّهُ يُقْتَلُ أَوْ يُصْلَبُ أَوْ يُنْفَى مِنَ الأَرْضِ أَوْ يَقْتُلُ نَفْسًا فَيُقْتَلُ بِهَا " .
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: The Messenger of Allah (ﷺ) Said: The blood of a Muslim man who testifies that there is no god but Allah and that Muhammad is Allah's Apostle should not lawfully be shed except only for one of three reasons: a man who committed fornication after marriage, in which case he should be stoned; one who goes forth to fight with Allah and His Apostle, in which case he should be killed or crucified or exiled from the land; or one who commits murder for which he is killed
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان شخص کا خون جو صرف اللہ کے معبود ہونے اور میرے اللہ کے رسول ہونے کی گواہی دیتا ہو حلال نہیں سوائے تین صورتوں کے ایک وہ شخص جو شادی شدہ ہو اور اس کے بعد زنا کا ارتکاب کرے تو وہ رجم کیا جائے گا، دوسرے وہ شخص جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑنے نکلا ہو تو وہ قتل کیا جائے گا، یا اسے سولی دے دی جائے گی، یا وہ جلا وطن کر دیا جائے گا، تیسرے جس نے کسی کو قتل کیا ہو تو اس کے بدلے وہ قتل کیا جائے گا ۔
Narrated by AbuShurayh al-Khuza'i
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ فُضَيْلٍ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي الْعَوْجَاءِ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ أُصِيبَ بِقَتْلٍ أَوْ خَبْلٍ فَإِنَّهُ يَخْتَارُ إِحْدَى ثَلاَثٍ إِمَّا أَنْ يَقْتَصَّ وَإِمَّا أَنْ يَعْفُوَ وَإِمَّا أَنْ يَأْخُذَ الدِّيَةَ فَإِنْ أَرَادَ الرَّابِعَةَ فَخُذُوا عَلَى يَدَيْهِ وَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ " .
Narrated AbuShurayh al-Khuza'i: The Prophet (ﷺ) said: If a relative of anyone is killed, or if he suffers khabl, which means a wound, he may choose one of the three things: he may retaliate, or forgive, or receive compensation. But if he wishes a fourth (i.e. something more), hold his hands. After this whoever exceeds the limits shall be in grave penalty
ابوشریح خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو ( اپنے کسی رشتہ دار کے ) قتل ہونے، یا زخمی ہونے کی تکلیف پہنچی ہو اسے تین میں سے ایک چیز کا اختیار ہو گا: یا تو قصاص لے لے، یا معاف کر دے، یا دیت لے لے، اگر وہ ان کے علاوہ کوئی چوتھی بات کرنا چاہے تو اس کا ہاتھ پکڑ لو، اور جس نے ان ( اختیارات ) میں زیادتی کی تو اس کے لیے درد ناک عذاب ہے ۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التُّسْتَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها قَالَتْ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هَذِهِ الآيَةَ { هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ } إِلَى { أُولُو الأَلْبَابِ } قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَإِذَا رَأَيْتُمُ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ فَأُولَئِكَ الَّذِينَ سَمَّى اللَّهُ فَاحْذَرُوهُمْ " .
‘A’ishah said:The Messenger of Allah (ﷺ) recited this verse: “He it is who has sent down to thee the Book: in it are verses basic or fundamental . . . .” Up to “men of understanding”. She said: The Messenger of Allah (ﷺ) then said: When you see those people who follow that which is allegorical in the Quran, those are the people whom Allah has named (in the Quran). So avoid them
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ «هو الذي أنزل عليك الكتاب منه آيات محكمات» سے لے کر «أولو الألباب» ۱؎ تک تلاوت کی اور فرمایا: جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو متشابہ آیات کے پیچھے پڑتے ہوں تو جان لو کہ یہی لوگ ہیں جن کا اللہ نے نام لیا ہے تو ان سے بچو ۲؎ ۔
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِلاَلٍ، سَمِعَ أَبَاهُ، يُحَدِّثُ قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَهُوَ يُحَدِّثُنَا كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَجْلِسُ مَعَنَا فِي الْمَجْلِسِ يُحَدِّثُنَا فَإِذَا قَامَ قُمْنَا قِيَامًا حَتَّى نَرَاهُ قَدْ دَخَلَ بَعْضَ بُيُوتِ أَزْوَاجِهِ فَحَدَّثَنَا يَوْمًا فَقُمْنَا حِينَ قَامَ فَنَظَرْنَا إِلَى أَعْرَابِيٍّ قَدْ أَدْرَكَهُ فَجَبَذَهُ بِرِدَائِهِ فَحَمَّرَ رَقَبَتَهُ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَكَانَ رِدَاءً خَشِنًا فَالْتَفَتَ فَقَالَ لَهُ الأَعْرَابِيُّ احْمِلْ لِي عَلَى بَعِيرَىَّ هَذَيْنِ فَإِنَّكَ لاَ تَحْمِلُ لِي مِنْ مَالِكَ وَلاَ مِنْ مَالِ أَبِيكَ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ لاَ وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ لاَ وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ لاَ أَحْمِلُ لَكَ حَتَّى تُقِيدَنِي مِنْ جَبْذَتِكَ الَّتِي جَبَذْتَنِي " . فَكُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ لَهُ الأَعْرَابِيُّ وَاللَّهِ لاَ أَقِيدُكَهَا . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ ثُمَّ دَعَا رَجُلاً فَقَالَ لَهُ " احْمِلْ لَهُ عَلَى بَعِيرَيْهِ هَذَيْنِ عَلَى بَعِيرٍ شَعِيرًا وَعَلَى الآخَرِ تَمْرًا " . ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْنَا فَقَالَ " انْصَرِفُوا عَلَى بَرَكَةِ اللَّهِ تَعَالَى " .
Narrated AbuHurayrah: The Messenger of Allah (ﷺ) used to sit with us in meetings and talk to us. When he stood up we also used to stand up and see him entering the house of one of his wives. One day he talked to us and we stood up as he stood up and we saw that an Arabi (a nomadic Arab) caught hold of him and gave his cloak a violent tug making his neck red. AbuHurayrah said: The cloak was coarse. He turned to him and the Arabi said to him: Load these two camels of mine, for you do not give me anything from your property or from your father's property. The Prophet (ﷺ) said to him: No, I ask Allah's forgiveness; no, I ask Allah's forgiveness; no, I ask Allah's forgiveness. I shall not give you the camel-load until you make amends for the way in which you tugged at me. Each time the Arabi said to him: I swear by Allah, I shall not do so. He then mentioned the rest of the tradition. He (the Prophet), then called a man and said to him: Load these two camels of his: one camel with barley and the other with dates. He then turned to us and said: Go on your way with the blessing of Allah
ہلال بیان کرتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہم سے بیان کرتے ہوئے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ مجلس میں بیٹھا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے باتیں کرتے تھے تو جب آپ اٹھ کھڑے ہوتے تو ہم بھی اٹھ کھڑے ہوتے یہاں تک کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے کہ آپ اپنی ازواج میں سے کسی کے گھر میں داخل ہو گئے ہیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ایک دن گفتگو کی، تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ہم بھی کھڑے ہو گئے، تو ہم نے ایک اعرابی کو دیکھا کہ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑ کر اور آپ کے اوپر چادر ڈال کر آپ کو کھینچ رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن لال ہو گئی ہے، ابوہریرہ کہتے ہیں: وہ ایک کھردری چادر تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف مڑے تو اعرابی نے آپ سے کہا: میرے لیے میرے ان دونوں اونٹوں کو ( غلے سے ) لاد دو، اس لیے کہ نہ تو تم اپنے مال سے لادو گے اور نہ اپنے باپ کے مال سے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ۱؎ اور میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں، نہیں اور میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں، نہیں اور میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں ۲؎ میں تمہیں نہیں دوں گا یہاں تک کہ تم مجھے اپنے اس کھینچنے کا بدلہ نہ دے دو لیکن اعرابی ہر بار یہی کہتا رہا: اللہ کی قسم میں تمہیں اس کا بدلہ نہ دوں گا۔ پھر راوی نے حدیث ذکر کی، اور کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو بلایا اور اس سے فرمایا: اس کے لیے اس کے دونوں اونٹوں پر لاد دو: ایک اونٹ پر جو اور دوسرے پر کھجور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: واپس جاؤ اللہ کی برکت پر بھروسہ کر کے ۳؎ ۔