حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ، عَنْ بَعْضِ، أَهْلِي عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي مِمَّا يَلِي بَابَ بَنِي سَهْمٍ وَالنَّاسُ يَمُرُّونَ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا سُتْرَةٌ . قَالَ سُفْيَانُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَةِ سُتْرَةٌ . قَالَ سُفْيَانُ كَانَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنَا عَنْهُ قَالَ أَخْبَرَنَا كَثِيرٌ عَنْ أَبِيهِ قَالَ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ لَيْسَ مِنْ أَبِي سَمِعْتُهُ وَلَكِنْ مِنْ بَعْضِ أَهْلِي عَنْ جَدِّي .
Narrated Kathir b. Kathir b. al-Muttalib b. Abi Wida'ah From his people on the authority of his grandfather:He saw that the Prophet (ﷺ) was praying at the place adjacent to the gate of Banu Sahm and the people were passing before him, and there was no covering (sutrah) between them. The narrator Sufyan said: There was no covering between him and the Ka'bah. Sufyan said: Ibn Juraij reported us stating that Kathir reported on the authority of his father saying: I did not hear my father say, but I heard some of my people on the authority of my grandfather
مطلب بن ابی وداعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو باب بنی سہم کے پاس نماز پڑھتے دیکھا، لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گزر رہے تھے بیچ میں کوئی سترہ نہ تھا ۱؎۔ سفیان کے الفاظ یوں ہیں: ان کے اور کعبہ کے درمیان کوئی سترہ نہ تھا۔ سفیان کہتے ہیں: ابن جریج نے ان کے بارے میں ہمیں بتایا کہ کثیر نے اپنے والد سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا میں نے اسے اپنے والد سے نہیں سنا، بلکہ گھر کے کسی فرد سے سنا اور انہوں نے میرے دادا سے روایت کی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَلاَ تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ " . فَأَتَاهَا فَحَرَّقَهَا ثُمَّ بَعَثَ رَجُلاً مِنْ أَحْمَسَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يُبَشِّرُهُ يُكْنَى أَبَا أَرْطَاةَ .
Jarir (bin ‘Abd Allaah) said “The Apostle of Allaah(ﷺ) said to me “Why do you not give me rest from Dhu Al Khulasah? He went there and burned it. He then sent a man from Ahmas to the Prophet (ﷺ) to give him good tidings. His surname was Artah
جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم مجھے ذو الخلصہ ۱؎ سے آرام نہیں پہنچاؤ گے؟ ۲؎، یہ سن کر جریر رضی اللہ عنہ وہاں آئے اور اسے جلا دیا پھر انہوں نے قبیلہ احمس کے ایک آدمی کو جس کی کنیت ابوارطاۃ تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا کہ وہ آپ کو اس کی خوشخبری دیدے۔
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي صَالِحٍ - عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ، قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ اسْتُحِيضَتْ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا فَلَمْ تُصَلِّ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " سُبْحَانَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا مِنَ الشَّيْطَانِ لِتَجْلِسْ فِي مِرْكَنٍ فَإِذَا رَأَتْ صُفْرَةً فَوْقَ الْمَاءِ فَلْتَغْتَسِلْ لِلظُّهْرِ وَالْعَصْرِ غُسْلاً وَاحِدًا وَتَغْتَسِلْ لِلْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ غُسْلاً وَاحِدًا وَتَغْتَسِلْ لِلْفَجْرِ غُسْلاً وَاحِدًا وَتَتَوَضَّأْ فِيمَا بَيْنَ ذَلِكَ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ مُجَاهِدٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ لَمَّا اشْتَدَّ عَلَيْهَا الْغُسْلُ أَمَرَهَا أَنْ تَجْمَعَ بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَهُوَ قَوْلُ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ .
Asma' daughter of 'Unais said:I said: Messenger of Allah, Fatimah daughter of Abu Hubaish had a flow of blood for a certain period and did not pray. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Glory be to Allah! This comes from the devil. She should sit in a tub, and when she sees yellowness of the top of the water, she would take a bath once for the Zuhr and 'Asr prayer, and take another bath for the Maghrib and 'Isha prayers, and take a bath once for the fajr prayer, and in between times she would perform ablution. Abu Dawud said: Mujahid reported on the authority of Ibn 'Abbas: When bathing became hard for her, he commanded her to combine the two prayers. Abu Dawud said: Ibrahim reported it from Ibn 'Abbas. This is also the view of Ibrahim al-Nakha'i and 'Abd Allah b. Shaddad
اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! فاطمہ بنت ابی حبیش کو اتنے اتنے دنوں سے ( خون ) استحاضہ آ رہا ہے تو وہ نماز نہیں پڑھ سکی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ! یہ تو شیطان کی طرف سے ہے، وہ ایک لگن میں بیٹھ جائیں، جب پانی پر زردی دیکھیں تو ظہر و عصر کے لیے ایک غسل، مغرب و عشاء کے لیے ایک غسل، اور فجر کے لیے ایک غسل کریں، اور اس کے درمیان میں وضو کرتی رہیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے مجاہد نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے، اس میں ہے کہ جب ان پر غسل کرنا دشوار ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک غسل سے دو نمازیں جمع کرنے کا حکم دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نیز اسے ابراہیم نے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے اور یہی قول ابراہیم نخعی اور عبداللہ بن شداد کا بھی ہے۔
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ " اللَّهُمَّ بِكَ أَصْبَحْنَا وَبِكَ أَمْسَيْنَا وَبِكَ نَحْيَا وَبِكَ نَمُوتُ وَإِلَيْكَ النُّشُورُ " . وَإِذَا أَمْسَى قَالَ " اللَّهُمَّ بِكَ أَمْسَيْنَا وَبِكَ نَحْيَا وَبِكَ نَمُوتُ وَإِلَيْكَ النُّشُورُ " .
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) used to say in the morning: "O Allah, by Thee we come to the morning, by Thee we come to the evening, by Thee are we resurrected." In the evening he would say: "O Allah, by Thee we come to the evening, by Thee we die, and to Thee are we resurrected
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کرتے تو فرماتے: «اللهم بك أصبحنا وبك أمسينا وبك نحيا وبك نموت وإليك النشور» اے اللہ ہم نے صبح کی تیرے نام پر اور شام کی تیرے نام پر، جیتے ہیں تیرے نام پر، مرتے ہیں تیرے نام پر، اور مر کر تیرے ہی پاس ہمیں پلٹ کر جانا ہے اور جب شام کرتے تو فرماتے: «اللهم بك أمسينا وبك نحيا وبك نموت وإليك النشور» اے اللہ! ہم نے تیرے ہی نام پر شام کی، اور تیرے ہی نام پر ہم جیتے ہیں، تیرے ہی نام پر مرتے ہیں اور تیری ہی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے ۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ آخِرَةُ الرَّحْلِ ذِرَاعٌ فَمَا فَوْقَهُ .
Ata said:The back of the saddle is (about) one cubit (in height) or more than that
عطاء (عطاء بن ابی رباح) کہتے ہیں کجاوہ کی پچھلی لکڑی ایک ہاتھ کی یا اس سے کچھ بڑی ہوتی ہے۔