بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Abu Dawood
11
5 hadith
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَأَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِالْبَطْحَاءِ ثُمَّ هَجَعَ هَجْعَةً ثُمَّ دَخَلَ مَكَّةَ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ ‏.‏
Ibn ‘Umar said “The Prophet(ﷺ) offered noon, afternoon, evening and night prayers at Al Batha(i.e, Al Muhassab). He then napped for a short while and then entered Makkah. Ibn ‘Umar also used to do so
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر، عصر، مغرب اور عشاء بطحاء میں پڑھی پھر ایک نیند سوئے، پھر مکہ میں داخل ہوئے اور ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کرتے تھے۔
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُزَابَةَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، - يَعْنِي ابْنَ مَنْصُورٍ - حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ الْهَمْدَانِيُّ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الإِيمَانُ قَيَّدَ الْفَتْكَ لاَ يَفْتِكُ مُؤْمِنٌ ‏"‏ ‏.‏
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: Faith prevented assassination. A believer should not assassinate
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان نے کسی کو دھوکہ سے قتل کرنے کو روک دیا، کوئی مومن دھوکہ سے قتل نہیں کرتا ۱؎ ۔
Narrated by Zaynab daughter of AbuSalamah
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ أَخْبَرَتْنِي زَيْنَبُ بِنْتُ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ امْرَأَةً، كَانَتْ تُهَرَاقُ الدَّمَ - وَكَانَتْ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ عِنْدَ كُلِّ صَلاَةٍ وَتُصَلِّيَ وَأَخْبَرَنِي أَنَّ أُمَّ بَكْرٍ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فِي الْمَرْأَةِ تَرَى مَا يَرِيبُهَا بَعْدَ الطُّهْرِ ‏"‏ إِنَّمَا هِيَ - أَوْ قَالَ إِنَّمَا هُوَ - عِرْقٌ أَوْ قَالَ عُرُوقٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ عَقِيلٍ الأَمْرَانِ جَمِيعًا وَقَالَ ‏"‏ إِنْ قَوِيتِ فَاغْتَسِلِي لِكُلِّ صَلاَةٍ وَإِلاَّ فَاجْمَعِي ‏"‏ ‏.‏ كَمَا قَالَ الْقَاسِمُ فِي حَدِيثِهِ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْقَوْلُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ عَلِيٍّ وَابْنِ عَبَّاسٍ رضى الله عنهما ‏.‏
Narrated Zaynab daughter of AbuSalamah: AbuSalamah said: Zaynab daughter of AbuSalamah reported to me that a woman had a copious flow of blood. She was the wife of AbdurRahman ibn Awf. The Messenger of Allah (ﷺ) commanded her to take a bath at the time of every prayer, and then to pray. He reported to me that Umm Bakr told him that Aisha said: The Messenger of Allah (ﷺ) said about a woman who was doubtful of her menstruation after purification that it was a vein or veins. Abu Dawud said: The two commands (of which the Prophet gave option) were as follows in the version reported by Ibn 'Aqil: He said: If you are strong enough, then take a bath for every prayer; otherwise combine the (two prayers), as al-Qasim reported in his version. This statement was also narrated by Sa'id b. Jubair from 'Ali and Ibn 'Abbas
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا نے مجھے خبر دی کہ ایک عورت کو استحاضہ کی شکایت تھی اور وہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے عقد میں تھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہر نماز کے لیے غسل کرنے اور نماز پڑھنے کا حکم دیا۔ ( یحییٰ بن ابی کثیر کہتے ہیں کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن ) نے مجھے خبر دی کہ ام بکر نے انہیں خبر دی ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے متعلق جو طہر کے بعد ایسی چیز دیکھے جو اسے شک میں ڈال دے، فرمایا: یہ تو بس ایک رگ ہے ، یا فرمایا: یہ تو بس رگیں ہیں ، راوی کو شک ہے کہ «إنما هي عرق» کہا یا «إنما هو عروق» کہا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن عقیل کی حدیث میں دونوں امر ایک ساتھ ہیں، اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر ہو سکے تو تم ہر نماز کے لیے غسل کرو، ورنہ دو دو نماز کو جمع کر لو ، جیسا کہ قاسم نے اپنی حدیث میں کہا ہے، نیز یہ قول سعید بن جبیر سے بھی مروی ہے، وہ علی اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں۔
Narrated by Abdullah ibn Amr
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ خَصْلَتَانِ أَوْ خَلَّتَانِ لاَ يُحَافِظُ عَلَيْهِمَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ إِلاَّ دَخَلَ الْجَنَّةَ هُمَا يَسِيرٌ وَمَنْ يَعْمَلُ بِهِمَا قَلِيلٌ يُسَبِّحُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلاَةٍ عَشْرًا وَيَحْمَدُ عَشْرًا وَيُكَبِّرُ عَشْرًا فَذَلِكَ خَمْسُونَ وَمِائَةٌ بِاللِّسَانِ وَأَلْفٌ وَخَمْسُمِائَةٍ فِي الْمِيزَانِ وَيُكَبِّرُ أَرْبَعًا وَثَلاَثِينَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ وَيَحْمَدُ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ وَيُسَبِّحُ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ فَذَلِكَ مِائَةٌ بِاللِّسَانِ وَأَلْفٌ فِي الْمِيزَانِ ‏"‏ ‏.‏ فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَعْقِدُهَا بِيَدِهِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ هُمَا يَسِيرٌ وَمَنْ يَعْمَلُ بِهِمَا قَلِيلٌ قَالَ ‏"‏ يَأْتِي أَحَدَكُمْ - يَعْنِي الشَّيْطَانَ - فِي مَنَامِهِ فَيُنَوِّمُهُ قَبْلَ أَنْ يَقُولَهُ وَيَأْتِيهِ فِي صَلاَتِهِ فَيُذَكِّرُهُ حَاجَةً قَبْلَ أَنْ يَقُولَهَا ‏"‏ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Amr: The Prophet (ﷺ) said: There are two qualities or characteristics which will not be returned by any Muslim without his entering Paradise. While they are easy, those who act upon them are few. One should say: "Glory be to Allah" ten times after every prayer, "Praise be to Allah" ten times and "Allah is Most Great" ten times. That is a hundred and fifty on the tongue, but one thousand and five hundred on the scale. When he goes to bed, he should say: "Allah is Most Great" thirty-four times, "Praise be to Allah" thirty-three times, and Glory be to Allah thirty-three times, for that is a hundred on the tongue and a thousand on the scale. (He said:) I saw the Messenger of Allah (ﷺ) counting them on his hand. The people asked: Messenger of Allah! How is it that while they are easy, those who act upon them are few? He replied: The Devil comes to one of you when he goes to bed and he makes him sleep, before he utters them, and he comes to him while he is engaged in prayer and calls a need to his mind before he utters them
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو خصلتیں یا دو عادتیں ایسی ہیں جو کوئی مسلم بندہ پابندی سے انہیں ( برابر ) کرتا رہے گا تو وہ ضرور جنت میں داخل ہو گا، یہ دونوں آسان ہیں اور ان پر عمل کرنے والے لوگ تھوڑے ہیں ( ۱ ) ہر نماز کے بعد دس بار «سبحان الله» اور دس بار «الحمد الله» اور دس بار «الله اكبر» کہنا، اس طرح یہ زبان سے دن اور رات میں ایک سو پچاس بار ہوئے، اور قیامت میں میزان میں ایک ہزار پانچ سو بار ہوں گے، ( کیونکہ ہر نیکی کا ثواب دس گنا ہوتا ہے ) اور سونے کے وقت چونتیس بار «الله اكبر» ، تینتیس بار «الحمد الله» ، تینتیس بار «سبحان الله» کہنا، اس طرح یہ زبان سے کہنے میں سو بار ہوئے اور میزان میں یہ ہزار بار ہوں گے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہاتھ ( کی انگلیوں ) میں اسے شمار کرتے ہوئے دیکھا ہے، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! یہ دونوں کام تو آسان ہیں، پھر ان پر عمل کرنے والے تھوڑے کیسے ہوں گے؟ تو آپ نے فرمایا: ( اس طرح کہ ) تم میں ہر ایک کے پاس شیطان اس کی نیند میں آئے گا، اور ان کلمات کے کہنے سے پہلے ہی اسے سلا دے گا، ایسے ہی شیطان تمہارے نماز پڑھنے والے کے پاس نماز کی حالت میں آئے گا، اور ان کلمات کے ادا کرنے سے پہلے اسے اس کا کوئی ( ضروری ) کام یاد دلا دے گا، ( اور وہ ان تسبیحات کو ادا کئے بغیر اٹھ کر چل دے گا ) ۔
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ زُرَيْعٍ، حَدَّثَهُمْ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ زِيَادٍ الأَعْلَمِ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ، حَدَّثَ أَنَّهُ، دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَنَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَاكِعٌ - قَالَ - فَرَكَعْتُ دُونَ الصَّفِّ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا وَلاَ تَعُدْ ‏"‏ ‏.‏
Abu Bakrah said that he came to the mosque when the prophet (ﷺ) was bowing. So I bowed outside the row (before joining it). The prophet (ﷺ) said; May Allah increase your eagerness! But do not do it again
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ وہ مسجد میں آئے اور اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں تھے، وہ کہتے ہیں: تو میں نے صف میں پہنچنے سے پہلے ہی رکوع کر لیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( نماز سے فارغ ہونے کے بعد ) فرمایا: اللہ تمہارے شوق کو بڑھائے، آئندہ ایسا نہ کرنا ۔