حَدَّثَنَا مُوسَى أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ يَهْجَعُ هَجْعَةً بِالْبَطْحَاءِ ثُمَّ يَدْخُلُ مَكَّةَ وَيَزْعُمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ .
Nafi’ said “Ibn ‘Umar used to nap for a short while at Batha’ (i.e, Al Muhassab) and then enter Makkah.” He thought that Apostle of Allaah(ﷺ) used to do so
نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما بطحاء میں نیند کی ایک جھپکی لے لیتے پھر مکہ میں داخل ہوتے اور بتاتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا ہی کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ لِكَعْبِ بْنِ الأَشْرَفِ فَإِنَّهُ قَدْ آذَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ " . فَقَامَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ فَقَالَ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُحِبُّ أَنْ أَقْتُلَهُ قَالَ " نَعَمْ " . قَالَ فَأْذَنْ لِي أَنْ أَقُولَ شَيْئًا . قَالَ " نَعَمْ قُلْ " . فَأَتَاهُ فَقَالَ إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ قَدْ سَأَلَنَا الصَّدَقَةَ وَقَدْ عَنَّانَا قَالَ وَأَيْضًا لَتَمَلُّنَّهُ . قَالَ اتَّبَعْنَاهُ فَنَحْنُ نَكْرَهُ أَنْ نَدَعَهُ حَتَّى نَنْظُرَ إِلَى أَىِّ شَىْءٍ يَصِيرُ أَمْرُهُ وَقَدْ أَرَدْنَا أَنْ تُسْلِفَنَا وَسْقًا أَوْ وَسْقَيْنِ . قَالَ كَعْبٌ أَىَّ شَىْءٍ تَرْهَنُونِي قَالَ وَمَا تُرِيدُ مِنَّا قَالَ نِسَاءَكُمْ قَالُوا سُبْحَانَ اللَّهِ أَنْتَ أَجْمَلُ الْعَرَبِ نَرْهَنُكَ نِسَاءَنَا فَيَكُونُ ذَلِكَ عَارًا عَلَيْنَا . قَالَ فَتَرْهَنُونِي أَوْلاَدَكُمْ . قَالُوا سُبْحَانَ اللَّهِ يُسَبُّ ابْنُ أَحَدِنَا فَيُقَالُ رُهِنْتَ بِوَسْقٍ أَوْ وَسْقَيْنِ . قَالُوا نَرْهَنُكَ اللأْمَةَ يُرِيدُ السِّلاَحَ قَالَ نَعَمْ . فَلَمَّا أَتَاهُ نَادَاهُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ وَهُوَ مُتَطَيِّبٌ يَنْضَخُ رَأْسُهُ فَلَمَّا أَنْ جَلَسَ إِلَيْهِ وَقَدْ كَانَ جَاءَ مَعَهُ بِنَفَرٍ ثَلاَثَةٍ أَوْ أَرْبَعَةٍ فَذَكَرُوا لَهُ قَالَ عِنْدِي فُلاَنَةُ وَهِيَ أَعْطَرُ نِسَاءِ النَّاسِ . قَالَ تَأْذَنُ لِي فَأَشُمُّ قَالَ نَعَمْ . فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِي رَأْسِهِ فَشَمَّهُ قَالَ أَعُودُ قَالَ نَعَمْ فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِي رَأْسِهِ فَلَمَّا اسْتَمْكَنَ مِنْهُ قَالَ دُونَكُمْ . فَضَرَبُوهُ حَتَّى قَتَلُوهُ .
Jabir reported:The Messenger of Allah ( may peace be upon him) said : Who will pursue Ka’b bin Al-Ashraf, for he has caused trouble to Allah and His Apostle? Muhammad bin Maslamah stood up and said: I (shall do), Messenger of Allah. Do you want that I should kill him? He said: Yes. He said: So permit me to say something (against you). He said: Yes say. He then came to him (Ka’b b. al-Ashraf) and said to him: This man has asked us for sadaqah (alms) and has put us into trouble. He (Ka’b) said: You will be more grieved. He (Muhammad bin Maslamah) said: We have followed him and we do not like to forsake him until we see what will be the consequences of his matter. We wished if you could lend us one or two wasqs. Ka’b said: What will you mortgage with me? He asked: what do you want from us? He replied : your Women. They said: Glory be to Allah: You are the most beautiful of the Arabs. If we mortgage our women with you, that will be a disgrace for us. He said “The mortgage your children.” They said “Glory be to Allaah, a son of us may abuse saying “You were mortgaged for one or two wasqs.” They said “We shall mortgage or coat of mail with you. By this he meant arms”. He said “Yes, when he came to him, he called him and he came out while he used perfume and his head was spreading fragrance. When he at with him and he came there accompanied by three or four persons who mentioned his perfume. He said “I have such and such woman with me. She is most fragrant of the women among the people. He (Muhammad bin Maslamah) asked “Do you permit me so that I may smell? He said “Yes. He then entered his hand through his hair and smell it.” He said “May I repeat?” He said “Yes. He again entered his hand through his hair. When he got his complete control, he said “Take him. So he struck him until they killed him.”
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون ہے جو کعب بن اشرف ۱؎ کے قتل کا بیڑا اٹھائے؟ کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچائی ہے ، یہ سن کر محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور بولے: اللہ کے رسول! میں، کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اس کو قتل کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ، محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر آپ مجھے اجازت دیجئیے کہ میں کچھ کہہ سکوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، کہہ سکتے ہو ، پھر انہوں نے کعب کے پاس آ کر کہا: اس شخص ( یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) نے ہم سے صدقے مانگ مانگ کر ہماری ناک میں دم کر رکھا ہے، کعب نے کہا: ابھی کیا ہے؟ تم اور اکتا جاؤ گے، اس پر انہوں نے کہا: ہم اس کی پیروی کر چکے ہیں اب یہ بھی اچھا نہیں لگتا کہ اس کا ساتھ چھوڑ دیں جب تک کہ اس کا انجام نہ دیکھ لیں کہ کیا ہوتا ہے؟ ہم تم سے یہ چاہتے ہیں کہ ایک وسق یا دو وسق اناج ہمیں بطور قرض دے دو، کعب نے کہا: تم اس کے عوض رہن میں میرے پاس کیا رکھو گے؟ محمد بن مسلمہ نے کہا: تم کیا چاہتے ہو؟ کعب نے کہا: اپنی عورتوں کو رہن رکھ دو، انہوں نے کہا: سبحان الله! تم عربوں میں خوبصورت ترین آدمی ہو، اگر ہم اپنی عورتوں کو تمہارے پاس گروی رکھ دیں تو یہ ہمارے لیے عار کا سبب ہو گا، اس نے کہا: اپنی اولاد کو رکھ دو، انہوں نے کہا: سبحان الله! جب ہمارا بیٹا بڑا ہو گا تو لوگ اس کو طعنہ دیں گے کہ تو ایک وسق یا دو وسق کے بدلے گروی رکھ دیا گیا تھا، البتہ ہم اپنا ہتھیار تمہارے پاس گروی رکھ دیں گے، کعب نے کہا ٹھیک ہے۔ پھر جب محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کعب کے پاس گئے اور اس کو آواز دی تو وہ خوشبو لگائے ہوئے نکلا، اس کا سر مہک رہا تھا، محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ ابھی بیٹھے ہی تھے کہ ان کے ساتھ تین چار آدمی جو اور تھے سبھوں نے اس کی خوشبو کا ذکر شروع کر دیا، کعب کہنے لگا کہ میرے پاس فلاں عورت ہے جو سب سے زیادہ معطر رہتی ہے، محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم اجازت دیتے ہو کہ میں ( تمہارے بال ) سونگھوں؟ اس نے کہا: ہاں، تو محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ اس کے سر میں ڈال کر سونگھا، پھر دوبارہ اجازت چاہی اس نے کہا: ہاں، پھر انہوں نے اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھا، پھر جب اسے مضبوطی سے پکڑ لیا تو ( اپنے ساتھیوں سے ) کہا: پکڑو اسے، پھر ان لوگوں نے اس پر وار کیا یہاں تک کہ اسے مار ڈالا۔
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ، اسْتُحِيضَتْ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَهَا بِالْغُسْلِ لِكُلِّ صَلاَةٍ وَسَاقَ الْحَدِيثَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَاهُ أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْهُ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ كَثِيرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتِ اسْتُحِيضَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اغْتَسِلِي لِكُلِّ صَلاَةٍ " . وَسَاقَ الْحَدِيثَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَاهُ عَبْدُ الصَّمَدِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ كَثِيرٍ قَالَ " تَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلاَةٍ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَذَا وَهَمٌ مِنْ عَبْدِ الصَّمَدِ وَالْقَوْلُ فِيهِ قَوْلُ أَبِي الْوَلِيدِ .
Aishah said:Umm Habibah had a prolonged flow of blood during the time of Messenger of Allah (ﷺ). He commanded her to take bath for every prayer. The narrator then transmitted the tradition (in full). Abu Dawud said: It has also been narrated by Abu al-Walid al-Tayalisi, but I did not hear him. He reported it from 'Aishah through a different chain of narrators. 'Aishah said: Zainab daughter of Jahsh had a prolonged flow of blood. The Prophet (ﷺ) said to her: Take bath for every prayer. The narrator then reported the tradition (in full). Abu Dawud said: The version transmitted by 'Abd al-Samad from Sulaiman b. Kathir has: "Perform ablution for every prayer." This is a misunderstanding on the part of 'Abd al-Samad. The correct version is the one narrated by Abu al-Walid
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ام حبیبہ بنت حجش رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں استحاضہ کی شکایت ہوئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہر نماز کے لیے غسل کرنے کا حکم دیا، اور پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابوالولید طیالسی نے روایت کیا ہے لیکن اسے میں نے ان سے نہیں سنا ہے، انہوں نے سلیمان بن کثیر سے، سلیمان نے زہری سے، زہری نے عروہ سے اور عروہ نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے، وہ کہتی ہیں: ام المؤمنین زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کو استحاضہ ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم ہر نماز کے لیے غسل کر لیا کرو ، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نیز اسے عبدالصمد نے سلیمان بن کثیر سے روایت کیا ہے، اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ہر نماز کے لیے وضو کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ عبدالصمد کا وہم ہے اور اس سلسلے میں ابوالولید کا قول ہی صحیح ہے۔
Narrated by Ali ibn AbuTalib
حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، عَنْ شَبَثِ بْنِ رِبْعِيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ، عَلَيْهِ السَّلاَمُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْخَبَرِ قَالَ فِيهِ قَالَ عَلِيٌّ فَمَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ لَيْلَةَ صِفِّينَ فَإِنِّي ذَكَرْتُهَا مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَقُلْتُهَا .
Narrated Ali ibn AbuTalib: The tradition (No 5045, about Tasbih Fatimah) has been transmitted by Ali to the same effect through a different chain of narrators. This version adds: Ali said: I did not leave them (Tasbih Fatimah) since I heard them from the Messenger of Allah (ﷺ) except on the night of Siffin, for I remembered them towards the end of the night and then I uttered them
اس سند سے بھی علی رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے میں نے یہ تسبیح جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی پڑھنے میں کبھی ناغہ نہیں کیا سوائے جنگ صفین والی رات کے، مجھے اخیر رات میں یاد آئی تو میں نے اسے اسی وقت پڑھ لیا ۔
Narrated by Wabisah
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَحَفْصُ بْنُ عُمَرَ، قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ يِسَافٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ وَابِصَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَى رَجُلاً يُصَلِّي خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ فَأَمَرَهُ أَنْ يُعِيدَ - قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ - الصَّلاَةَ .
Narrated Wabisah: The Messenger of Allah (ﷺ) saw a man praying alone behind the row. He ordered him to repeat. Sulayman ibn Harb said: The prayer
وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو صف کے پیچھے اکیلے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، تو آپ نے اسے ( نماز ) لوٹانے کا حکم دیا۔ سلیمان بن حرب کی روایت میں ہے نماز کو لوٹانے کا حکم دیا ۱؎۔