حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيْنَ تَنْزِلُ غَدًا فِي حَجَّتِهِ قَالَ " هَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مَنْزِلاً " . ثُمَّ قَالَ " نَحْنُ نَازِلُونَ بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ حَيْثُ قَاسَمَتْ قُرَيْشٌ عَلَى الْكُفْرِ " . يَعْنِي الْمُحَصَّبَ وَذَلِكَ أَنَّ بَنِي كِنَانَةَ حَالَفَتْ قُرَيْشًا عَلَى بَنِي هَاشِمٍ أَنْ لاَ يُنَاكِحُوهُمْ وَلاَ يُبَايِعُوهُمْ وَلاَ يُئْوُوهُمْ . قَالَ الزُّهْرِيُّ وَالْخَيْفُ الْوَادِي .
Usamah bin Zaid said I asked Apostle of Allaah(ﷺ) where will you encamp tomorrow? (This is asked on the occasion of his Hajj). He replied “Did ‘Aqil leave any house for us?” He again said “We shall encamp in the valley (Khaif) of Banu Kinanah where the Quraish took an oath upon disbelief, that is, Al Muhassab.” The oath was that Banu Kinanah concluded a pact with the Quraish against Banu Hashim “they would have no marital relationship with them, nor would give them accommodation nor would have any commercial ties with them.” Al Zuhri said Al Khaif means valley
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کل حج میں کہاں اتریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا عقیل نے کوئی گھر ہمارے لیے ( مکہ میں ) چھوڑا ہے؟ ، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم خیف بنو کنانہ میں اتریں گے جہاں قریش نے کفر پر عہد کیا تھا ( یعنی وادی محصب میں ) ۱؎ ، اور وہ یہ کہ بنو کنانہ نے قریش سے بنی ہاشم کے خلاف قسم کھائی تھی کہ وہ ان سے نہ شادی بیاہ کریں گے، نہ خرید و فروخت، اور نہ انہیں پناہ دیں گے۔ زہری کہتے ہیں: خیف وادی کا نام ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، أَنَّهُمُ اصْطَلَحُوا عَلَى وَضْعِ الْحَرْبِ عَشْرَ سِنِينَ يَأْمَنُ فِيهِنَّ النَّاسُ وَعَلَى أَنَّ بَيْنَنَا عَيْبَةً مَكْفُوفَةً وَأَنَّهُ لاَ إِسْلاَلَ وَلاَ إِغْلاَلَ .
Al Miswar bin Makhramah and Marwan bin Al Hakam said “They agreed to abandon war for ten years during which the people which have security on the basis that there should be sincerity between them and that there should be not theft or treachery
عروہ بن زیبر سے روایت ہے کہ مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور مروان بن حکم نے اس بات پر صلح کی کہ دس برس تک لڑائی بند رہے گی، اس مدت میں لوگ امن سے رہیں گے، طرفین کے دل ایک دوسرے کے بارے میں صاف رہیں گے ۱؎ اور نہ اعلانیہ لوٹ مار ہو گی نہ چوری چھپے ۲؎۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ فِيهِ فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلاَةٍ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ الْقَاسِمُ بْنُ مَبْرُورٍ عَنْ يُونُسَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ جَحْشٍ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ وَرُبَّمَا قَالَ مَعْمَرٌ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِمَعْنَاهُ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ وَابْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ فِي حَدِيثِهِ وَلَمْ يَقُلْ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَمَرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ . وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الأَوْزَاعِيُّ أَيْضًا قَالَ فِيهِ قَالَتْ عَائِشَةُ فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلاَةٍ .
This has bee n narrated though a different chain of narrators by 'Aishah. This version has the words:"She used to take a bath for every prayer." Abu Dawud said: Al-Qasim b. Mabrur reported from Yunus from Ibn Shihab from 'Amrah from 'Aishah from Umm Habibah daughter of Jahsh. Similarly, it was reported by Ma'mar from al-Zuhri from 'Amrah from 'Aishah. Ma'mar sometimes reported from 'Amrah on the authority of Umm Habibah to the same effect. Similarly, it was reported by Ibrahim b. Sa'd and Ibn 'Uyainah from al-Zuhri from 'Amrah from 'Aishah. Ibn 'Uyainah said in his version: He (al-Zuhri) did not say that the Prophet (ﷺ) commanded her to take bath. It has also been transmitted by al-Awza'i in a similar way. In this version he said: 'Aishah said: She used to take bath for very prayer
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے، اس میں ہے وہ ( ام حبیبہ رضی اللہ عنہا ) ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے قاسم بن مبرور نے یونس سے، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے عمرہ سے، انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے، اور انہوں نے ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے، اور اسی طرح اسے معمر نے زہری سے، انہوں نے عمرہ سے، اور انہوں نے ام المؤمنین عائشہ سے روایت کی ہے، اور کبھی کبھی معمر نے عمرہ سے، انہوں نے ام حبیبہ سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے، اور اسی طرح اسے ابراہیم بن سعد اور ابن عیینہ نے زہری سے، انہوں نے عمرہ سے، انہوں نے عائشہ سے روایت کی ہے، اور ابن عیینہ نے اپنی روایت میں کہا ہے کہ انہوں ( زہری ) نے یہ نہیں کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ( ام حبیبہ کو ) غسل کرنے کا حکم دیا، نیز اسی طرح اسے اوزاعی نے بھی روایت کی ہے اس میں ہے کہ عائشہ نے کہا: وہ ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، - الْمَعْنَى - عَنِ الْحَكَمِ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، - قَالَ مُسَدَّدٌ - قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، قَالَ شَكَتْ فَاطِمَةُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَا تَلْقَى فِي يَدِهَا مِنَ الرَّحَى فَأُتِيَ بِسَبْىٍ فَأَتَتْهُ تَسْأَلُهُ فَلَمْ تَرَهُ فَأَخْبَرَتْ بِذَلِكَ عَائِشَةَ فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهُ فَأَتَانَا وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا فَذَهَبْنَا لِنَقُومَ فَقَالَ " عَلَى مَكَانِكُمَا " . فَجَاءَ فَقَعَدَ بَيْنَنَا حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمَيْهِ عَلَى صَدْرِي فَقَالَ " أَلاَ أَدُلُّكُمَا عَلَى خَيْرٍ مِمَّا سَأَلْتُمَا إِذَا أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَكُمَا فَسَبِّحَا ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ وَاحْمَدَا ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ وَكَبِّرَا أَرْبَعًا وَثَلاَثِينَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ " .
Ali said :Fatimah complained to the Prophet (May peace be upon him) of the effect of the grinding stone on her hand. Then some slaves (prisoners of war) were brought to him. So she went to him to ask for (one of) them, but she did not find him. She mentioned the matter to ‘A’ishah. When the prophet (May peace be upon him) came, she informed him. He (the prophet) visited us (Ali) when we had gone to bed, and when we were about to get up, he said: stay where you are. He then came and sat down between us (her and me), and I felt the coldness of his feet on my chest. He then said; “Let me guide to something better than what you have asked. When you go bed, say: Glory be to Allah” thirty-three times.”Praise be to Allah” thirty-three times, and “ Allah is most Great” thirty-four times. That will be better for you than a servant
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چکی پیسنے سے اپنے ہاتھ میں پہنچنے والی تکلیف کی شکایت لے کر گئیں، اسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی لائے گئے تو وہ آپ کے پاس لونڈی مانگنے آئیں، لیکن آپ نہ ملے تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتا کر چلی آئیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو بتایا ( کہ فاطمہ آئی تھیں ایک خادمہ مانگ رہی تھیں ) یہ سن کر آپ ہمارے پاس تشریف لائے، ہم سونے کے لیے اپنی خواب گاہ میں لیٹ چکے تھے، ہم اٹھنے لگے تو آپ نے فرمایا: اپنی اپنی جگہ پر رہو ( اٹھنا ضروری نہیں ) چنانچہ آپ آ کر ہمارے بیچ میں بیٹھ گئے، یہاں تک کہ میں نے آپ کے قدموں کی ٹھنڈک اپنے سینے میں محسوس کی، آپ نے فرمایا: کیا میں تم دونوں کو اس سے بہتر چیز نہ بتاؤں جو تم نے مانگی ہے، جب تم سونے چلو تو ( ۳۳ ) بار سبحان اللہ کہو، ( ۳۳ ) بار الحمدللہ کہو، اور ( ۳۴ ) بار اللہ اکبر کہو، یہ تم دونوں کے لیے خادم سے بہتر ہے ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَشْهَبِ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَى فِي أَصْحَابِهِ تَأَخُّرًا فَقَالَ لَهُمْ " تَقَدَّمُوا فَائْتَمُّوا بِي وَلْيَأْتَمَّ بِكُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ وَلاَ يَزَالُ قَوْمٌ يَتَأَخَّرُونَ حَتَّى يُؤَخِّرَهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " .
Abu Sa’Id al-Khudri said; The Messenger of Allah (ﷺ) saw a tendency among his companions to go to the back. He said to them; come forward and follow my lead, and let those who come after you follow your lead people will continue to keep to the back till Allah would put them at the back
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو پہلی صف سے پیچھے رہتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: آگے آؤ اور میری پیروی کرو، اور تمہارے پیچھے جو لوگ ہیں وہ تمہاری پیروی کریں، کچھ لوگ ہمیشہ پیچھے رہا کریں گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ بھی انہیں پیچھے ڈال دے گا ۱؎ ۔