بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Abu Dawood
11
5 hadith
Narrated by Aishah
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَكَرَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَىٍّ فَقِيلَ إِنَّهَا قَدْ حَاضَتْ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَعَلَّهَا حَابِسَتُنَا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا قَدْ أَفَاضَتْ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ فَلاَ إِذًا ‏"‏ ‏.‏
Narrated 'Aishah:The Messenger of Allah (ﷺ) mentioned about Safiyyah, daughter of Huyayy. He was told that she had menstruated. The Messenger of Allah (ﷺ) said: She may probably detain us. They (the people) said: She has performed the obligatory circumambulation (Tawaf al-Ziyarah). He said: If so, there is no need (of staying any longer)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ بنت حیي رضی اللہ عنہا کا ذکر کیا تو لوگوں نے عرض کیا: انہیں حیض آ گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لگتا ہے وہ ہم کو روک لیں گی ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ طواف افاضہ کر چکی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تو کوئی بات نہیں ۔
Narrated by Amr ibn Abasah
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي الْفَيْضِ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ، - رَجُلٍ مِنْ حِمْيَرَ - قَالَ كَانَ بَيْنَ مُعَاوِيَةَ وَبَيْنَ الرُّومِ عَهْدٌ وَكَانَ يَسِيرُ نَحْوَ بِلاَدِهِمْ حَتَّى إِذَا انْقَضَى الْعَهْدُ غَزَاهُمْ فَجَاءَ رَجُلٌ عَلَى فَرَسٍ أَوْ بِرْذَوْنٍ وَهُوَ يَقُولُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ وَفَاءٌ لاَ غَدْرٌ فَنَظَرُوا فَإِذَا عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ مُعَاوِيَةُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَوْمٍ عَهْدٌ فَلاَ يَشُدُّ عُقْدَةً وَلاَ يَحُلُّهَا حَتَّى يَنْقَضِيَ أَمَدُهَا أَوْ يَنْبِذَ إِلَيْهِمْ عَلَى سَوَاءٍ ‏"‏ ‏.‏ فَرَجَعَ مُعَاوِيَةُ ‏.‏
Narrated Amr ibn Abasah: Sulaym ibn Amir, a man of Himyar, said: There was a covenant between Mu'awiyah and the Byzantines, and he was going towards their country, and when the covenant came to an end, he attacked them. A man came on a horse, or a packhorse saying, Allah is Most Great, Allah is Most Great; let there be faithfulness and not treachery. And when they looked they found that he was Amr ibn Abasah. Mu'awiyah sent for him and questioned him (about that). He said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: When one has covenant with people he must not strengthen or loosen it till its term comes to an end or he brings it to an end in agreement with them (to make both the parties equal). So Mu'awiyah returned
سلیم بن عامر سے روایت ہے، وہ قبیلہ حمیر کے ایک فرد تھے، وہ کہتے ہیں معاویہ رضی اللہ عنہ اور رومیوں کے درمیان ایک متعین وقت تک کے لیے یہ معاہدہ تھا کہ وہ آپس میں لڑائی نہیں کریں گے، ( اس مدت میں ) معاویہ رضی اللہ عنہ ان کے شہروں میں جاتے تھے، یہاں تک کہ جب معاہدہ کی مدت گزر گئی، تو انہوں نے ان سے جنگ کی، ایک شخص عربی یا ترکی گھوڑے پر سوار ہو کر آیا، وہ کہہ رہا تھا: اللہ اکبر، اللہ اکبر، وعدہ کا پاس و لحاظ ہو بدعہدی نہ ہو ۱؎ لوگوں نے اس کو بغور دیکھا تو وہ عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ تھے۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو ان کے پاس بھیجا، اس نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جس شخص کا کسی قوم سے معاہدہ ہو تو معاہدہ نہ توڑے اور نہ نیا معاہدہ کرے جب تک کہ اس معاہدہ کی مدت پوری نہ ہو جائے، یا برابری پر عہد ان کی طرف واپس نہ کر دے ، تو یہ سن کر معاویہ رضی اللہ عنہ واپس آ گئے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامٍ، بِإِسْنَادِ زُهَيْرٍ وَمَعْنَاهُ وَقَالَ ‏ "‏ فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَاتْرُكِي الصَّلاَةَ فَإِذَا ذَهَبَ قَدْرُهَا فَاغْسِلِي الدَّمَ عَنْكِ وَصَلِّي ‏"‏ ‏.‏
This tradition has also been transmitted by Zuhair through a different chain of narrators, to the same effect. He said:When the menstruation begins, you should abandon prayer; when the period equal to its length of time passes, you should wash away the blood and pray
اس طریق سے بھی ہشام نے زہیر کی سند سے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی ہے، اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دو، پھر جب اس کے بقدر ( دن ) گزر جائیں تو اپنے سے خون دھو ڈالو، اور ( غسل کر کے ) نماز پڑھ لو ۔
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِنَوْفَلٍ ‏"‏ اقْرَأْ ‏{‏ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ‏}‏ ثُمَّ نَمْ عَلَى خَاتِمَتِهَا فَإِنَّهَا بَرَاءَةٌ مِنَ الشِّرْكِ ‏"‏ ‏.‏
Farwah b. Nawfal quoted his father as saying that the Prophet (ﷺ) said to Nawfal (his father):Recite (the Surah) 'Say, O you disbelievers!' and then go to sleep at its end, for it is a declaration of freedom from polytheism
نوفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: «قل يا أيها الكافرون» پڑھو ( یعنی پوری سورۃ ) اور پھر اسے ختم کر کے سو جاؤ، کیونکہ یہ سورۃ شرک سے براءت ہے ۔
Narrated by AbdulHamid ibn Mahmud
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ هَانِئٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ مَحْمُودٍ، قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَدُفِعْنَا إِلَى السَّوَارِي فَتَقَدَّمْنَا وَتَأَخَّرْنَا فَقَالَ أَنَسٌ كُنَّا نَتَّقِي هَذَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
Narrated AbdulHamid ibn Mahmud: I offered the Friday prayer along with Anas ibn Malik. We were pushed to the pillars (due to the crowd of people). We, therefore, stopped forward and backward. Anas then said: We used to avoid it (setting a row between the pillars) during the time of the Messenger of Allah (ﷺ)
عبدالحمید بن محمود کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمعہ کے دن نماز پڑھی ( جگہ کی تنگی اور ہجوم کے سبب سے ) ہم ستونوں کے بیچ میں کھڑے ہونے پر مجبور کر دیئے گئے، تو ہم آگے پیچھے ہونے لگے، اس پر انس نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اس سے بچتے تھے ۱؎۔