بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Abu Dawood
11
5 hadith
Narrated by Abdullah ibn Abbas
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، وَعَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَقَامَ فِي عُمْرَةِ الْقَضَاءِ ثَلاَثًا ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Messenger of Allah (ﷺ) stayed (at Mecca) for three days during umrah for atonement ('Umrat al-Qada)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ قضاء میں تین دن قیام فرمایا۔
Narrated by Ma'an ibn Yazid
حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ، مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِي الْجُوَيْرِيَةِ الْجَرْمِيِّ، قَالَ أَصَبْتُ بِأَرْضِ الرُّومِ جَرَّةً حَمْرَاءَ فِيهَا دَنَانِيرُ فِي إِمْرَةِ مُعَاوِيَةَ وَعَلَيْنَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ يُقَالُ لَهُ مَعْنُ بْنُ يَزِيدَ فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَقَسَمَهَا بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ وَأَعْطَانِي مِنْهَا مِثْلَ مَا أَعْطَى رَجُلاً مِنْهُمْ ثُمَّ قَالَ لَوْلاَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ لاَ نَفْلَ إِلاَّ بَعْدَ الْخُمُسِ ‏"‏ ‏.‏ لأَعْطَيْتُكَ ‏.‏ ثُمَّ أَخَذَ يَعْرِضُ عَلَىَّ مِنْ نَصِيبِهِ فَأَبَيْتُ ‏.‏
Narrated Ma'an ibn Yazid: AbulJuwayriyyah al-Jarmi said: I found a red pitcher containing dinars in Byzantine territory during the reign of Mu'awiyah. A man from the Companions of the Prophet (ﷺ) belonging to Banu Sulaym was our ruler. He was called Ma'an ibn Yazid. I brought it to him. He apportioned it among the Muslims. He gave me the same portion which he gave to one of them. He then said: Had I not heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: There is no reward except after taking the fifth (from the booty), I would have given you (the reward). He then presented his own share to me, but I refused
ابو جویریہ جرمی کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں روم کی سر زمین میں مجھے ایک سرخ رنگ کا گھڑا ملا جس میں دینار تھے ۱؎، اس وقت قبیلہ بنو سلیم کے ایک شخص جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے، ہمارے اوپر حاکم تھے، ان کو معن بن یزید کہا جاتا تھا، میں اسے ان کے پاس لایا، انہوں نے ان دیناروں کو مسلمانوں میں بانٹ دیا اور مجھ کو اس میں سے اتنا ہی دیا جتنا ہر شخص کو دیا، پھر کہا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہتے سنا نہ ہوتا کہ نفل خمس ۲؎ نکالنے کے بعد ہی ہے تو میں تمہیں اوروں سے زیادہ دیتا، پھر وہ اپنے حصہ سے مجھے دینے لگے تو میں نے لینے سے انکار کیا۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، عَنْ نَافِعٍ، بِإِسْنَادِ اللَّيْثِ وَبِمَعْنَاهُ قَالَ ‏ "‏ فَلْتَتْرُكِ الصَّلاَةَ قَدْرَ ذَلِكَ ثُمَّ إِذَا حَضَرَتِ الصَّلاَةُ فَلْتَغْتِسِلْ وَلْتَسْتَثْفِرْ بِثَوْبٍ ثُمَّ تُصَلِّي ‏"‏ ‏.‏
This tradition has been transmitted through the chain of narrators like that of al-Laith to the same effect. It says; She should abandon prayer considering that period (she used to menstruate). When the time of prayer approaches, she should take a bath, tie a cloth over her private parts and offer prayer
اس طریق سے بھی لیث والی سند سے اسی کے ہم معنی حدیث مروی ہے، اس میں ہے پھر چاہیئے کہ وہ اس کے بقدر نماز چھوڑ دے، پھر جب نماز کا وقت آ جائے تو غسل کرے، اور کپڑے کا لنگوٹ باندھ لے، پھر نماز پڑھے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا نَامَ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَحْيَا وَأَمُوتُ ‏"‏ ‏.‏ وَإِذَا اسْتَيْقَظَ قَالَ ‏"‏ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ ‏"‏ ‏.‏
Hudhaifah said :when the prophet (May peace be upon him) lay down on his bed (at night), he would say: O Allah! In Thy name I die and live. When he awoke, he said: praise be to Allah who has given us life after causing us to die and to whom we shall be resurrected
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سونے کے وقت فرماتے: «اللهم باسمك أحيا وأموت» اے اللہ میں تیرے ہی نام پر جیتا اور مرتا ہوں اور جب بیدار ہوتے تو فرماتے «الحمد لله الذي أحيانا بعد ما أماتنا وإليه النشور» شکر ہے اللہ کا جس نے ہمیں زندگی بخشی ( ایک طرح سے ) موت طاری کر دینے کے بعد اور اسی کی طرف اٹھ کر جانا ہے ۔
Narrated by Anas ibn Malik
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ رُصُّوا صُفُوفَكُمْ وَقَارِبُوا بَيْنَهَا وَحَاذُوا بِالأَعْنَاقِ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لأَرَى الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ مِنْ خَلَلِ الصَّفِّ كَأَنَّهَا الْحَذَفُ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Anas ibn Malik: The Prophet (ﷺ) said: Stand close together in your rows, bring them near one another, and stand neck to neck, for by Him in Whose hand my soul is, I see the devil coming in through openings in the row just like a small black sheep
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ صفوں میں خوب مل کر کھڑے ہو، اور ایک صف دوسری صف سے نزدیک رکھو، اور گردنوں کو بھی ایک دوسرے کے مقابل میں رکھو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں شیطان کو دیکھتا ہوں وہ صفوں کے بیچ میں سے گھس آتا ہے، گویا وہ بکری کا بچہ ہے ۔