حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ " يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَرْدِفْ أُخْتَكَ عَائِشَةَ فَأَعْمِرْهَا مِنَ التَّنْعِيمِ فَإِذَا هَبَطْتَ بِهَا مِنَ الأَكَمَةِ فَلْتُحْرِمْ فَإِنَّهَا عُمْرَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ " .
Hafsah, daughter of AbdurRahman ibn AbuBakr, reported on the authority of her father:The Messenger of Allah (ﷺ) said to AbdurRahman: AbdurRahman, put your sister Aisha on the back of the camel behind you and make her perform umrah from at-Tan'im. When you come down from the hillock (in at-Tan'im), she must wear (ihram for umrah), for this is an umrah accepted (by Allah)
عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ سے فرمایا: عبدالرحمٰن! اپنی بہن عائشہ کو بٹھا کر لے جاؤ اور انہیں تنعیم ۱؎ سے عمرہ کرا لاؤ، جب تم ٹیلوں سے تنعیم میں اترو تو چاہیئے کہ وہ احرام باندھے ہو، کیونکہ یہ مقبول عمرہ ہے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَيَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَجُلاً، أَخْبَرَهُ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ امْرَأَةً، كَانَتْ تُهَرَاقُ الدَّمَ . فَذَكَرَ مَعْنَاهُ قَالَ " فَإِذَا خَلَّفَتْ ذَلِكَ وَحَضَرَتِ الصَّلاَةُ فَلْتَغْتَسِلْ " . بِمَعْنَاهُ .
Sulaiman b. Yasar said that a man reported to him from Umm Salamah; There was a woman who had an issue of blood. And he narrated the rest of the tradition to the same effect saying; when the menstruation period is over and the time of prayer arrives, she should take a bath, as mentioned in the previous tradition
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک عورت کو ( استحاضہ کا ) خون آتا تھا، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی، اس میں ہے کہ: پھر جب یہ ایام گزر جائیں اور نماز کا وقت آ جائے تو غسل کرے …. الخ۔
Narrated by Abdullah ibn Amr ibn al-'As
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، - هُوَ مُحَمَّدٌ - بِبَعْضِ هَذَا ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنِي هُشَيْمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، جَمِيعًا عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْمُسْلِمُونَ تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ يَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ وَيُجِيرُ عَلَيْهِمْ أَقْصَاهُمْ وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ يَرُدُّ مُشِدُّهُمْ عَلَى مُضْعِفِهِمْ وَمُتَسَرِّعُهُمْ عَلَى قَاعِدِهِمْ لاَ يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ وَلاَ ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ " . وَلَمْ يَذْكُرِ ابْنُ إِسْحَاقَ الْقَوَدَ وَالتَّكَافُؤَ .
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-'As: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Muslims are equal in respect of blood. The lowest of them is entitled to give protection on behalf of them, and the one residing far away may give protection on behalf of them. They are like one hand over against all those who are outside the community. Those who have quick mounts should return to those who have slow mounts, and those who got out along with a detachment (should return) to those who are stationed. A believer shall not be killed for an unbeliever, nor a confederate within the term of confederation with him. Ibn Ishaq did not mention retaliation and equality in respect of blood
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں کے خون برابر ہیں ۱؎ ان میں سے ادنیٰ شخص بھی کسی کو امان دے سکتا ہے، اور سب کو اس کی امان قبول کرنی ہو گی، اسی طرح دور مقام کا مسلمان پناہ دے سکتا ہے ( گرچہ اس سے نزدیک والا موجود ہو ) اور وہ اپنے مخالفوں کے لیے ایک ہاتھ کی طرح ہیں ۲؎ جس کی سواریاں زور آور اور تیز رو ہوں وہ ( غنیمت کے مال میں ) اس کے برابر ہو گا جس کی سواریاں کمزور ہیں، اور لشکر میں سے کوئی سریہ نکل کر مال غنیمت حاصل کرے تو لشکر کے باقی لوگوں کو بھی اس میں شریک کرے، کسی مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے اور نہ ہی کسی ذمی کو ۔ ابن اسحاق نے «القود» ۳؎ اور«التكافؤ» کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ فِطْرِ بْنِ خَلِيفَةَ، قَالَ سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَ، قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ وَأَنْتَ طَاهِرٌ فَتَوَسَّدْ يَمِينَكَ " . ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ .
Al-Bara b. Azib said :The Messenger of Allah (May peace be upon him) said to me: when you go to bed while you are in the state of purification, lay your head on your right hand. He then mentioned the rest of the tradition in a similar manner as above
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جب تم پاک و صاف ( باوضو ) ہو کر اپنے بستر پر ( سونے کے لیے ) آؤ تو اپنے داہنے ہاتھ کا تکیہ بناؤ پھر انہوں نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی۔
Narrated by An-Nu'man ibn Bashir
حَدَّثَنَا ابْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي صَغِيرَةَ - عَنْ سِمَاكٍ، قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُسَوِّي صُفُوفَنَا إِذَا قُمْنَا لِلصَّلاَةِ فَإِذَا اسْتَوَيْنَا كَبَّرَ .
Narrated An-Nu'man ibn Bashir: The Messenger of Allah (ﷺ) used to straighten our rows when we stood up to pray, and when we were straight, he said: Allah is most great (takbir)
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب ہم نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری صفیں درست فرماتے، پھر جب ہم لوگ سیدھے ہو جاتے تو آپ «الله أكبر» کہتے۔