بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Abu Dawood
11
5 hadith
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَهُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ كُلُّهُنَّ فِي ذِي الْقَعْدَةِ إِلاَّ الَّتِي مَعَ حَجَّتِهِ - قَالَ أَبُو دَاوُدَ أَتْقَنْتُ مِنْ هَا هُنَا مِنْ هُدْبَةَ وَسَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي الْوَلِيدِ وَلَمْ أَضْبِطْهُ - عُمْرَةً زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ أَوْ مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ وَعُمْرَةَ الْقَضَاءِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ وَعُمْرَةً مِنَ الْجِعْرَانَةِ حَيْثُ قَسَمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ فِي ذِي الْقَعْدَةِ وَعُمْرَةً مَعَ حَجَّتِهِ ‏.‏
Narrated Anas: The Messenger of Allah (ﷺ) performed four 'Umrahs all in Dhu al-Qa'dah except the one which he performed along with Hajj. Abu Dawud said: From here the narrator Hudbah (b. Khalid) became certain. I heard it from Abu al-Walid , but I did nor retain: An 'Umrah, during the treaty of al-Hudaibiyyah, or from al-Hudaibiyyah ; and 'Umrat al-Qada' in Dhu al-Qa'dah, and an 'Umrah from al-Ji'ranah where he (the Prophet) distributed the booty of Hunain in Dhu al-Qa'dah, and an 'Umrah along with his Hajj
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کئے اور وہ تمام ذی قعدہ میں تھے سوائے اس کے جسے آپ نے اپنے حج کے ساتھ ملایا تھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہاں سے آگے کے الفاظ میں نے ابوالولید سے بھی سنے لیکن انہیں یاد نہیں رکھ سکا، البتہ ہدبہ کے الفاظ اچھی طرح یاد ہیں کہ: ایک حدیبیہ کے زمانے کا، یا حدیبیہ کا عمرہ، دوسرا ذی قعدہ میں قضاء کا عمرہ، تیسرا عمرہ ذی قعدہ میں جعرانہ کا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کا مال غنیمت تقسیم فرمایا، اور چوتھا وہ عمرہ جسے آپ نے اپنے حج کے ساتھ ملایا۔
Narrated by Umm Salamah, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تُهَرَاقُ الدِّمَاءَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَفْتَتْ لَهَا أُمُّ سَلَمَةَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ لِتَنْظُرْ عِدَّةَ اللَّيَالِي وَالأَيَّامِ الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُهُنَّ مِنَ الشَّهْرِ قَبْلَ أَنْ يُصِيبَهَا الَّذِي أَصَابَهَا فَلْتَتْرُكِ الصَّلاَةَ قَدْرَ ذَلِكَ مِنَ الشَّهْرِ فَإِذَا خَلَّفَتْ ذَلِكَ فَلْتَغْتَسِلْ ثُمَّ لْتَسْتَثْفِرْ بِثَوْبٍ ثُمَّ لْتُصَلِّ فِيهِ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Umm Salamah, Ummul Mu'minin: In the time of the Messenger of Allah (ﷺ) there was a woman who had an issue of blood. So Umm Salamah asked the Messenger of Allah (ﷺ) to give a decision about her. He said: She should consider the number of nights and days during which she used to menstruate each month before she was afflicted with this trouble and abandon prayer during that period each month. When those days and nights are over, she should take a bath, tie a cloth over her private parts and pray
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک عورت کو استحاضہ کا خون آتا تھا، تو ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس عورت کو چاہیئے کہ اس بیماری کے لاحق ہونے سے پہلے مہینے کی ان راتوں اور دنوں کی تعداد کو جن میں اسے حیض آتا تھا ذہن میں رکھ لے اور ( ہر ) ماہ اسی کے بقدر نماز چھوڑ دے، پھر جب یہ دن گزر جائیں تو غسل کرے، پھر کپڑے کا لنگوٹ باندھ لے پھر اس میں نماز پڑھے ۔
Narrated by Habib ibn Maslamah al-Fihri
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَشِيرِ بْنِ ذَكْوَانَ، وَمَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيَّانِ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَهْبٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ مَكْحُولاً، يَقُولُ كُنْتُ عَبْدًا بِمِصْرَ لاِمْرَأَةٍ مِنْ بَنِي هُذَيْلٍ فَأَعْتَقَتْنِي فَمَا خَرَجْتُ مِنْ مِصْرَ وَبِهَا عِلْمٌ إِلاَّ حَوَيْتُ عَلَيْهِ فِيمَا أُرَى ثُمَّ أَتَيْتُ الْحِجَازَ فَمَا خَرَجْتُ مِنْهَا وَبِهَا عِلْمٌ إِلاَّ حَوَيْتُ عَلَيْهِ فِيمَا أُرَى ثُمَّ أَتَيْتُ الْعِرَاقَ فَمَا خَرَجْتُ مِنْهَا وَبِهَا عِلْمٌ إِلاَّ حَوَيْتُ عَلَيْهِ فِيمَا أُرَى ثُمَّ أَتَيْتُ الشَّامَ فَغَرْبَلْتُهَا كُلُّ ذَلِكَ أَسْأَلُ عَنِ النَّفْلِ فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا يُخْبِرُنِي فِيهِ بِشَىْءٍ حَتَّى أَتَيْتُ شَيْخًا يُقَالُ لَهُ زِيَادُ بْنُ جَارِيَةَ التَّمِيمِيُّ فَقُلْتُ لَهُ هَلْ سَمِعْتَ فِي النَّفْلِ شَيْئًا قَالَ نَعَمْ سَمِعْتُ حَبِيبَ بْنَ مَسْلَمَةَ الْفِهْرِيَّ يَقُولُ شَهِدْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَفَّلَ الرُّبُعَ فِي الْبَدْأَةِ وَالثُّلُثَ فِي الرَّجْعَةِ ‏.‏
Narrated Habib ibn Maslamah al-Fihri: Makhul said: I was the slave of a woman of Banu Hudhayl; afterwards she emancipated me. I did not leave Egypt until I had acquired all the knowledge that seemed to me to exist there. I then came to al-Hijaz and I did not leave it until I had acquired all the knowledge that seemed to be available. Then I came to al-Iraq, and I did not leave it until I had acquired all the knowledge that seemed to be available. I then came to Syria, and besieged it. I asked everyone about giving rewards from the booty. I did not find anyone who could tell me anything about it. I then met an old man called Ziyad ibn Jariyah at-Tamimi. I asked him: Have you heard anything about giving rewards from the booty? He replied: Yes. I heard Maslamah al-Fihri say: I was present with the Prophet (ﷺ). He gave a quarter of the spoils on the outward journey and a third on the return journey
مکحول کہتے ہیں میں مصر میں قبیلہ بنو ہذیل کی ایک عورت کا غلام تھا، اس نے مجھے آزاد کر دیا، تو میں مصر سے اس وقت تک نہیں نکلا جب تک کہ اپنے خیال کے مطابق جتنا علم وہاں تھا اسے حاصل نہ کر لیا، پھر میں حجاز آیا تو وہاں سے بھی اس وقت تک نہیں نکلا جب تک کہ جتنا علم وہاں تھا اپنے خیال کے مطابق حاصل نہیں کر لیا، پھر عراق آیا تو وہاں سے بھی اس وقت تک نہیں نکلا جب تک کہ اپنے خیال کے مطابق جتنا علم وہاں تھا اسے حاصل نہ کر لیا، پھر میں شام آیا تو اسے بھی اچھی طرح چھان مارا، ہر شخص سے میں نفل کا حال پوچھتا تھا، میں نے کسی کو نہیں پایا جو اس سلسلہ میں کوئی حدیث بیان کرے، یہاں تک کہ میں ایک شیخ سے ملا جن کا نام زیاد بن جاریہ تمیمی تھا، میں نے ان سے پوچھا: کیا آپ نے نفل کے بارے میں کچھ سنا ہے؟ کہا: ہاں! میں نے حبیب بن مسلمہ فہری رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاضر تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتداء میں ایک چوتھائی بطور نفل دیا اور لوٹ آنے کے بعد ( پھر حملہ کرنے پر ) ۱؎ ایک تہائی بطور نفل دیا۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ سَمِعْتُ مَنْصُورًا، يُحَدِّثُ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِذَا أَتَيْتَ مَضْجَعَكَ فَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلاَةِ ثُمَّ اضْطَجِعْ عَلَى شِقِّكَ الأَيْمَنِ وَقُلِ اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ رَهْبَةً وَرَغْبَةً إِلَيْكَ لاَ مَلْجَأَ وَلاَ مَنْجَى مِنْكَ إِلاَّ إِلَيْكَ آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنْ مِتَّ مِتَّ عَلَى الْفِطْرَةِ وَاجْعَلْهُنَّ آخِرَ مَا تَقُولُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ الْبَرَاءُ فَقُلْتُ أَسْتَذْكِرُهُنَّ فَقُلْتُ وَبِرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لاَ وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ ‏"‏ ‏.‏
Al-Bara b. ‘Azib said :The Messenger of Allah (May peace be upon him) said to me: When you go to your bed, perform ablution like the ablution for prayer, and then lie on your right side and say: O Allah I have handed over my face to thee, entrusted my affairs to thee, and committed my back to thee out of desire for and fear to thee. There is no refuge and no place of safety from thee except by having recource to thee. I believe in Thy Book which Thou hast sent down and in Thy prophet whom thou hast sent down. He said : If you die (that night), you would die in the true religion, and utter these words in the last of that you utter (other prayers). Al-Bara said : I said: I memorise them, and then I repeated, saying “and in Thy Apostle whom Thou hast sent”. He said : No, say : “and in Thy Prophet whom Thou hast sent
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جب تم اپنی خواب گاہ میں آؤ ( یعنی سونے چلو ) تو وضو کرو جیسے اپنے نماز کے لیے وضو کرتے ہو، پھر اپنی داہنی کروٹ پر لیٹو، اور کہو «اللهم أسلمت وجهي إليك وفوضت أمري إليك وألجأت ظهري إليك رهبة ورغبة إليك لا ملجأ ولا منجى منك إلا إليك آمنت بكتابك الذي أنزلت وبنبيك الذي أرسلت» اے اللہ میں نے اپنی ذات کو تیری تابعداری میں دے دیا، میں نے اپنا معاملہ تیرے سپرد کر دیا، میں نے امید وبیم کے ساتھ تیری ذات پر بھروسہ کیا، تجھ سے بھاگ کر تیرے سوا کہیں اور جائے پناہ نہیں، میں ایمان لایا اس کتاب پر جو تو نے نازل فرمائی ہے، اور میں ایمان لایا تیرے اس نبی پر جسے تو نے بھیجا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم ( یہ دعا پڑھ کر ) انتقال کر گئے تو فطرت ( یعنی دین اسلام ) پر انتقال ہوا اور اس دعا کو اپنی دیگر دعاؤں کے آخر میں پڑھو براء کہتے ہیں: اس پر میں نے کہا کہ میں انہیں یاد کر لوں گا، تو میں نے ( یاد کرتے ہوئے ) کہا «وبرسولك الذي أرسلت» تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا نہیں بلکہ«وبنبيك الذي أرسلت» ( جیسا دعا میں ہے ویسے ہی کہو ) ۔
Narrated by Al-Bara' ibn Azib
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، وَأَبُو عَاصِمِ بْنِ جَوَّاسٍ الْحَنَفِيُّ عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ طَلْحَةَ الْيَامِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَخَلَّلُ الصَّفَّ مِنْ نَاحِيَةٍ إِلَى نَاحِيَةٍ يَمْسَحُ صُدُورَنَا وَمَنَاكِبَنَا وَيَقُولُ ‏"‏ لاَ تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ ‏"‏ ‏.‏ وَكَانَ يَقُولُ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ وَمَلاَئِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصُّفُوفِ الأُوَلِ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Al-Bara' ibn Azib: The Messenger of Allah (ﷺ) used to pass through the row from one side to the other; he used to set out chests and shoulders in order, and say: Do not be irregular. And he would say: Allah and His angels bless those who are near the first rows
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفوں کے اندر ایک طرف سے دوسری طرف جاتے اور ہمارے سینوں اور مونڈھوں پر ہاتھ پھیرتے تھے ( یعنی ہمارے سینوں اور مونڈھوں کو برابر کرتے تھے ) ، اور فرماتے تھے: ( صفوں سے ) آگے پیچھے مت ہونا، ورنہ تمہارے دل مختلف ہو جائیں گے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: اللہ تعالیٰ اگلی صفوں پر اپنی رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے دعا کرتے ہیں ۔