Narrated by Aisha, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اعْتَمَرَ عُمْرَتَيْنِ عُمْرَةً فِي ذِي الْقَعْدَةِ وَعُمْرَةً فِي شَوَّالٍ .
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: The Messenger of Allah (ﷺ) performed two umrahs: one umrah in Dhul-Qa'dah, and the other in Shawwal
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو عمرے کئے: ایک ذی قعدہ میں اور دوسرا شوال میں ۱؎۔
Narrated by Aisha, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ - عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، عَنْ أُمِّ ذَرَّةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ كُنْتُ إِذَا حِضْتُ نَزَلْتُ عَنِ الْمِثَالِ عَلَى الْحَصِيرِ فَلَمْ نَقْرُبْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَمْ نَدْنُ مِنْهُ حَتَّى نَطْهُرَ .
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: When I menstruated, I left the bed and lay on the reed-mat and did not approach or come near the Messenger of Allah (ﷺ) until we were purified
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں جب حائضہ ہوتی تو بچھونے سے چٹائی پر چلی آتی، اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب نہ ہوتے، جب تک کہ ہم پاک نہ ہو جاتے۔
Narrated by Abdullah ibn Umar
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا حُيَىٌّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ يَوْمَ بَدْرٍ فِي ثَلاَثِمِائَةٍ وَخَمْسَةَ عَشَرَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اللَّهُمَّ إِنَّهُمْ حُفَاةٌ فَاحْمِلْهُمُ اللَّهُمَّ إِنَّهُمْ عُرَاةٌ فَاكْسُهُمُ اللَّهُمَّ إِنَّهُمْ جِيَاعٌ فَأَشْبِعْهُمْ " . فَفَتَحَ اللَّهُ لَهُ يَوْمَ بَدْرٍ فَانْقَلَبُوا حِينَ انْقَلَبُوا وَمَا مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلاَّ وَقَدْ رَجَعَ بِجَمَلٍ أَوْ جَمَلَيْنِ وَاكْتَسَوْا وَشَبِعُوا .
Narrated Abdullah ibn Umar: The Messenger of Allah (ﷺ) went out on the day of Badr along with three hundred and fifteen (men). The Messenger of Allah (ﷺ) said: O Allah, they are on foot, provide mount for them; O Allah , they are naked, clothe them; O Allah, they are hungry, provide food for them. Allah then bestowed victory on them. They returned when they were clothed. There was no man of them but he returned with one or two camels; they were clothed and ate to their fill
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے دن تین سو پندرہ افراد کے ہم راہ نکلے تو آپ نے یہ دعا فرمائی: «اللهم إنهم حفاة فاحملهم اللهم إنهم عراة فاكسهم اللهم إنهم جياع فأشبعهم» اے اللہ! یہ لوگ پیدل ہیں تو ان کو سوار کر دے، اے اللہ! یہ لوگ ننگے ہیں ان کو کپڑا دیدے، اے اللہ! یہ لوگ بھوکے ہیں ان کو آسودہ کر دے ، پھر اللہ نے بدر کے دن انہیں فتح دی، جب وہ لوٹے تو کوئی بھی آدمی ان میں سے ایسا نہ تھا جو ایک یا دو اونٹ لے کر نہ آیا ہو، اور ان کے پاس کپڑے بھی ہو گئے اور وہ آسودہ بھی ہو گئے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَقَضَى حَاجَتَهُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ثُمَّ نَامَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ يَعْنِي بَالَ .
Ibn ‘Abbas said:The Messenger of Allah (May peace be upon him) got up at night, fulfilled his need and washed his face and hand and then slept. Abu Dawud said: that is to say, he urinated
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں بیدار ہوئے پھر اپنی ضرورت سے فارغ ہوئے، پھر اپنا ہاتھ منہ دھویا، پھر سو گئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اپنی ضرورت سے فارغ ہونے کا مطلب ہے پیشاب کیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ سَأَلْتُ سُلَيْمَانَ الأَعْمَشَ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، فِي الصُّفُوفِ الْمُقَدَّمَةِ فَحَدَّثَنَا عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرْفَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَلاَ تَصُفُّونَ كَمَا تَصُفُّ الْمَلاَئِكَةُ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَلَّ وَعَزَّ " . قُلْنَا وَكَيْفَ تَصُفُّ الْمَلاَئِكَةُ عِنْدَ رَبِّهِمْ قَالَ " يُتِمُّونَ الصُّفُوفَ الْمُقَدَّمَةَ وَيَتَرَاصُّونَ فِي الصَّفِّ " .
jabir b. Samurah reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:Why do you stand in rows as the angels do in the presence of their Lord? We asked: how do the angles stand in rows in the presence of their Lord? He replied: they make the first row complete and keep close together in the row
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اس طرح صف بندی کیوں نہیں کرتے جس طرح فرشتے اپنے رب کے پاس کرتے ہیں؟ ، ہم نے عرض کیا: فرشتے اپنے رب کے پاس کس طرح صف بندی کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلے اگلی صف پوری کرتے ہیں اور صف میں ایک دوسرے سے خوب مل کر کھڑے ہوتے ہیں ۔